من عرف نفسہ فقد عرف ربہ : جس نے اپنے نفس کو پہچانا اس نے اپنے رب کو پہچانا ۔

0

السلام علیکم ورحمت وبرکاتہ

سلسلہ تخریج الاحادیث نمبر_٢

من عرف نفسہ فقد عرف ربہ


ترجمہ: جس نے اپنے نفس کو پہچانا اس نے اپنے رب کو پہچانا ۔


اس روایت کے بارے میں حافظ سخاوی رحمہ اللہ علیہ ،ابن السمعانی رحمہ اللہ علیہ کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ یہ روایت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث نہیں ہے ۔بلکہ یہ درحقیقت یحییٰ بن معاذرازی کا قول ہے۔[ المقصد الحسنہ رقم:١١٤٩،ص ٤٦٦]


اسی طرح مشہور محدث ملا علی قاری رحمہ اللہ عليہ،علامہ نووی رحمۃ اللہ علیہ کے حوالے سے لکھتے ہیں۔


انه ليس بثابت -يعني النبي صلى الله عليه وسلم [الموضوعات الكبيري  ص ٢٣٨،رقم ٩٣٧]


یعنی یہ روایت نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ہے۔


اس کے علاوہ دیگر محدثین مثلاً علامہ عجلونی رحمہ اللہ علیہ، علامہ جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ علیہ  اور شیخ القاو قجی رحمہ اللہ علیہ نے بھی اس حدیث کو موضوع قرار دیا ہے۔


[بالترتیب دیکھیں۔
کشف الحفاء جلد:٢ رقم ٢٥٣٢،ص ٣٠٩
لترربب الراوی ھاد ٢/١٧٥
اللؤالؤالمرصوع، رقم ٧٥٩٤ ص ١٩١]


يحيى بن شرف الدين النووي المحقق رحمة الله عليه لکھتے:۔

ليس هو بثابت ( المنثورات وعيون المسائل المهمات: ٢٨٦)

محمد بن الحسن رحمة الله عليه( أبو الفضائل الصغاني، الفقيه الحنفي الشيخ الإمام العلامة المحدث إمام اللغة) لکھتے ہیں یہ حدیث موضوع ہے۔[موضوعات الصغاني ٣٥ ]

المحدث الزرقاني رحمة الله عليه (محمد بن عبدالباقي بن يوسف، أبو عبدالله الزرقاني المالكي) لکھتے ہیں:-


لیس بحدیث یعنی یہ حدیث نہیں ہے۔[مختصر المقاصد الحسنة في بيان الأحاديث المشتهرة على الألسنة ١٠٥٢)


محمد ناصر الدين الألباني رحمة الله عليه لکھتے ہیں:-
لا اصل له


[سلسلة الأحاديث الضعيفة والموضوعة وأثرها السيء في الأمة: ٦٦]

لکتمیل بحث 

القول الأشبہ فی حدیث من عرف نفسہ فقد عرف ربہ للسیوطی


جمع و ترتیب :خادم الاسلام ماجد ابن فاروق غفرلہ

اگلا سلسلۂ تخریج 

کاف اور نون کے آپس میں ملنے سے پہلے وہ کام ہوجاتا ہے ۔

0

السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ 


سلسلہ تخریج الاحادیث نمبر ١


سمعت الله من فوق العرش يقول للشيء ” كن فيكون ، فلا تبلغ الكاف النون إلا يكون الذي يكون ۔

 جب اللہ تعالی کسی چیز کا حکم  ہو جا تو لفظ ” کن“ کے کاف اور نون کے آپس میں ملنے سے پہلے وہ کام ہوجاتا ہے ۔

یہ روایت موضوع اور من گھڑت ہے،اس روایت کے بارے میں مشہور محدث ملا علی قاری رحمہ اللہ لکھتے ہیں ۔

موضوع بلا شک (یعنی یہ روایت بلاشک و شبہ من گھڑت ہے)

[المصنوع فی معرفۃ الحدیث الموضوع ، ص ۱۴۰ ، رقم : ۲۰۲]

اس کے علاوہ حافظ جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ، علامہ اسماعیل عجلونی رحمہ اللہ اور علامہ شوکانی رحمہ اللہ نے بھی اس حدیث کو موضوع قرار دیا ہے [بالترتیب دیکھیں: ذیل اللالی المصنوعۃ،ص:٣

کشف الخفاء ومزیل الالباس،رقم: ١/٥١٨،١٤٨٥

الفوائد المجموعۃ فی الاحادیث الصعیفۃ والموضوعۃ ،رقم ٢٠\١٢٨٣]

علامہ ذہنی رحمہ اللہ اس حدیث کو سند کے ساتھ ہاتھ نکل کرنے کے بعد لکھتے ہیں۔

هذا حديث باطل،واحمد المکی کذاب،رؤیتہ للتذیرمنہ.[تنزیہ الشریعہ المرفوعہ۔١/١٤٨]

محمد بن أحمد بن عثمان الذھبی المحقق رحمہ الله اپنی کتاب میں اس میں اس سند کے ساتھ لکھتے ہیں یہ حدیث باطل ہے ہیں ۔

حدثني رسول الله صلى الله عليه وسلم - ويده على كتفي – قال : حدثني عن الصادق الناطق رسول رب العالمين وأمينه على وحيه جبرائيل – ويده على كتفي – سمعت إسرافيل سمعت القلم سمعت اللوح يقول سمعت الله من فوق العرش يقول للشيء كن فيكون فلا يبلغ الكاف النون حتى يكون ما يكون (العلو للعلي الغفار في صحيح الأخبار وسقيمها (ص 54)



جمع و ترتیب :  ماجد کشمیری 


سلسلہ تخریج الاحادیث نمر 2

رات تمہاری ہے تو کیا صبح ہماری ہوگی | مسلمانانِ ہند کی حالت حاضرہ

0

رات تمہاری ہے تو کیا صبح ہماری ہوگی

قسط اول


ہمارے وطن عزیز کی تازہ ترین صورت حال کے پیش نظر ہمیں اپنے اند ر حوصلہ پیدا کرنا ہوگا،اپنے اندرعزم تازہ پیدا کرناہوگا کہ ہمیں اسی ملک میں رہنا ہے،اپنے دین وایمان کے ساتھ،توحید کی امانت کے ساتھ، ملک کی حفاظت اور سالمیت کی کوششوں کے ساتھ،سخت سے سخت ترین حالات میں بھی ہمیں امید کی شمع جلائے رکھنی ہے اور اس حقیقت کو ذہن میں رکھناہے کہ ؂


دل ناامید تو نہیں ناکام ہی تو ہے

لمبی ہےغم کی شام مگر شام ہی توہے


مسلمانان ہند کواپنا احتساب کرتے ہوئے،اعمال صالحہ کے راستے پرآگے بڑھتے ہوئے٬صبر واستقامت کے ہتھیار سے لیس ہو کر ملک وملت کی تعمیر وترقی کے لیے آگے آنا چاہئے،اور خوف اوربزدلی کی ہر رمق کو دل سے نکال کر زبردست غالب اور طاقت و قوت کے مالک ﷲ پربھروسہ کرناچاہئے کہ وہی ظلمت شب کے پردوں کوچاک کر کے صبح روشن طلوع کرتاہے اور جو چاہے جب چاہے کرنے کی قدرت رکھتاہے۔؂

نورکی یہ ایک کرن ظلمات پہ بھاری ہوگی

رات تمہاری ہے تو کیا صبح ہماری ہوگی


✍🏻 حضرت مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی صاحب دامت برکاتہم

      (سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ)


پیشکش: اسلامی زندگی 

Evaluation status of BG 5th semester

0








Evaluation status of BG 5th semester: Regular and Backlog batches of 2019/18 & 16. Check the details below. 



It's predicted that the evaluation status of the BG 5th semester will be announced tonight or tomorrow before 5 pm. stay connected, we will share the evaluation status link where you can check your evaluation status.


After the Declaration of the Result of BG 3rd semester regular and backlog batch 2020/18/19. it is hoped that the evaluation status of BG 5th semester regular and backlog batch 2019/18/&16 will be asserted within a few days as for as sources are concerned. stay connected with the Islami Zindagi online platform we will update you on time.

Click the link below, some students are checked. Try and stay connected. 
 



یونیورسٹی آف کشمیر کی درسی کتاب میں موضوع حدیث: چلیں کریں اسے اجتناب

0

السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ۔ کشمیر یونی ورسٹی : اسلامک اسٹیڈیز (6th semester) کی نصابی کتاب میں درج کی گئی ایک حدیث (روایت) ، جو نظر سے گزری تو معلوم ہوا کہ یہ حدیث موضوع ہے ۔۔لہذا اس کو بیان کرنے سے اجتناب و پرہیز کریں۔ اور مستقل میں اس موضوع سے متعلق مستند و صحیح احادیث کا انتخاب کیا جائیں۔ چوں کہ درس نظامی کا مسئلہ، اس میں زیادہ مستند ہونا چاہیے اور ضروری بھی، طلبہ اس کو ازبر کرتے ہیں، پھر اشاعت تو کرنی ہے، تو ہوگی اس کی جو موضوع حدیث ہے۔ ان جیسے غیر مستند روایات کو بیان کرنے کی سزا حدیثِ نبوی میں: اپنا گھر جہنم میں بنوانے کے جیسا ہے۔ جو کہ کوئی نہ چاہیں گا۔ 

إن کذبا علی لیس ککذب علی أحد من کذب علی متعمدا فلیتبوَّأ مقعَدہ من النار (بخاری شریف: ۱۲۰۹)




أريد أن أعرف صحة هذا الحديث والذي يستدل به كثير من المؤلفين اليوم لإثبات العلم الحديث: عن ابن عباس أن النبي صلى الله عليه وسلم سُئل: أين تغرب الشمس ومن أين تطلع؟ فأجاب النبي صلى الله عليه وسلم " إنها في دوران دائم، لا تتوقف ولا تختفي. فإذا غربت في مكان أشرقت في مكان أخر ، وإذا أشرقت في مكان غابت في مكان آخر وهكذا... " حتى إن أناساً في مكان ما يقولون: إنها للتو أشرقت ويقول آخرون في مكان آخر في نفس الوقت إنها للتو غربت. رواه أبو إسحاق الهمداني في مسنده.

الجواب

الحمد لله.


هذا الحديث لا يعرف من كلام النبي صلى الله عليه وسلم ، لا بسند صحيح ولا ضعيف ، ولا يشبه كلام النبوة ، بل ولا السلف السابقين .


قال ابن القيم رحمه الله :


" الأحاديث الموضوعة عليها ظلمة وركاكة ومجازفات باردة تنادي على وضعها واختلاقها على رسول الله صلى الله عليه وسلم " انتهى .


"المنار المنيف" (ص 50)


 وقد ذكر رحمه الله أمورا كلية يعرف بها كون الحديث موضوعا ، فذكر منها مناقضة الحديث لما جاءت به السنة الصريحة ، ومنها : أن يكون كلامه لا يشبه كلام الأنبياء فضلا عن كلام رسول الله صلى الله عليه وسلم الذي هو وحي يوحى ، فيكون الحديث مما لا يشبه الوحي بل لا يشبه كلام الصحابة .


راجع : "المنار المنيف" (ص 56- 62)


وهذا الحديث من ذاك عند التأمل ، وهو بقول الفلكيين والجغرافيين أشبه .


ثم إن قوله فيه " إنها للتو أشرقت .." يدل على أنه وضع متأخراً ، فلا يعرف في مشهور اللغة ، ولا فصيح الكلام استعمال " للتو " في هذا السياق ، بل هي أشبه بكلام العوام .


قال الزبيدي رحمه الله : " والتوة – بهاء - : الساعة من الزمان ، يقال مضت تَوّة من الليل والنهار ، أي : ساعة ..


ومنه قول العامة : توّةَ قام ، أي : الساعة .


ثم إنه لا يعرف أحد من العلماء الذين صنفوا كتباً في السنة ممن يسمى : " أبو إسحاق الهمداني".


والله تعالى أعلم


ماجد کشمیری 

مؤمن کا عوضِ اخروی و ملحدین کی غارتِ دنیاوی| ملحدین کی سزا

0

 ایمان اسلام کا مترادف ہے۔ اسلام مذہبِ منتخب اللہ ہے۔ اس کے ورے کوئی درخور اعتنا بھی نہیں ہے۔ محلدین کی غارتِ دنیاوی، فاصدِ نکاح و محرومِ استحقاقِ میراث اور اخروی سزا ابدی دوزخی ہے۔ ایمانِ مجمل و مفصل کے متواتر و منافقانہ منکرین کو مہرِ خدا لگ جاتی ہے۔ انہیں کے لیے جنہم مشتعل ہے اور مسلمانون کے لیے ابدی جائے بہشت اور گنجان سائے ہیں۔


ارضی تکالیف پر جو قانع ثابت ہوؤ وہی عیش و چین کا حامل ہوگا اور خدا نخواستہ جو منکرِ اسلام ہو وہ عالمی عیش و عشرت بھول جائیگا جب عنفوانِ تکالیفِ ابدی ہوگی۔ جو عاقل ہوں گیں وہ ہرگز ایسا نہ کریں گیں، چاہیں انہیں بادشاہی کیوں نہ چھوڑنی پڑے۔ وہ اموراتِ الہی کے منکر نہ ہوں گیں۔ اللہ ہمیں ہدایت دیں اور عقل سلیم عطا کریں۔


ماجد کشمیری 

ہم مطالعہ کیسے کریں| غیر عالم مطالعہ کیسے کریں

0

 تحصیل و تعلیمِ علم دین کی افادیت سے کون آشنا نہیں ہے۔ جہاں اس کی فرضیت کا ثبوت وہی صدقہ جاریہ ہونے کے آثار ،انمول رتن دیا جائے تو علم و ادب، وہی سببِ وجوب جنت۔ اصل تحصیل و تعلیم مستند عالم بنا ہی ہے پر ہر شخص کو ہمت و فرصت نہیں ۔ اس لیے مندرج طرق مذکور ہیں۔

 خواندہ: متعبر کتب کو سبقاً پڑھیں، نہ ملیں موقع تو شبہات پر معتبر عالم سے رجوع کریں۔

ناخواندہ: ولی اللہ سے مشورہ لیں کر تنخواہ پر ہی کیوں نہ کسی واعظ کو مقرر کریں۔

کسلان: مشہد و جمعہ پر ہی بغور وعظ سماعت فرمائیں۔

 بطور پرہیز: کافروں کے اور گمراہوں کے جلسوں میں ہرگز نہ جاویں۔ کفر و ضلالت کی باتیں اذن میں پڑنے سے ہی دل میں اندھیرا پیدا ہوتا ہے۔ بحث و مباحثہ نہ کریں نہ سنیں، ان میں اکثر کفر و ضلال کی باتیں کان میں پڑ جاتی ہے۔ جس سے خود میں بھی شائبہ پیدا ہوتا ہے اور ہمارے پاس اتنا علم نہیں جو اس شبہ کو دور کریں۔ اس لیئے اس سے اجتناب کریں اور پرہیز میں ہمیشہ دین کے تندرست رہوگے۔

ماجد کشمیری 

مدرسے اور ہم | مدرسے کی اہمیت و فضیلت| مدراس و عامۃ الناس کی ذمہ داریاں

0



 وہ خطۂِ زمین آباد ہوتی ہے، آغوش میں مدرسہ ہو جس سے۔ ہماری سر زمین پر اللہ کی عاطفت ہوئی ایسی، ملا مکین مدرسے کو یہی۔ گرچہ عنفوان میں ہے مگر قلیل مدت میں توسیع ہونا، اس کے عزم آوری کا ثبوت ہے۔ اللہ کی عاطفت و عافیت سے وہ صحیح معنوں میں اسلام کے خدمات انجام دے گا۔ 

مدارس کی اہمیت و فضیلت کا تذکرہ ہی نہیں۔ کیوں کہ یہ تاباں ہے کہ مدارس ریڈ کی ہڈی ہے۔ یہ بھی درخشاں ہے مدارس کے نصاب سے آج کی مترقی یونیورسٹیاں ہم سری نہیں کر سکتیں ہیں۔ یہ الفاظ میں ہیجانی نہیں بل کہ تحقیقی طور پر نوشت کیا ہیں۔ نہ صرف علومِ دینیہ اور اس کی تحصیل کے لیے استعمال شدہ زبانوں میں بل کہ انگریزی میں فاغلین وہ کمال حاصل کر چکیں ہیں جس کی مثال باقیہ یونیورسٹیوں میں ملانا عدم کے برابر ہے۔ زبان گرچہ ہر فن کے اکتساب کے لیے واجب ہے، ان کے ورے ہر ہنر میں مفلح نظر آنے والے طلبۂ مدارس ہوتیں ہیں۔ یہاں یہ وضاحت کرنی بھی رو سمجھتے ہوں، کہ کچھ مدارس میں نصاب و نظام میں، وہ اضحلال آشنا ہوتی ہے جس سے وہ عصر حاضر کے تقاضوں اور اس سے مساوات نہیں کر سکتے ہیں۔ ان میں تغیر لانے کی اشد ضرورت ہے ( پر ہر کلیہ کے لیے تنوع تخصصات ہونے بھی لازم ہیں۔)

عصرِ حاضر جن کا متقاضی ہے، ان کو پورا کرنے مدارس کی ثقافت اور اسلاف کی میراث ہے۔ اگر ہم اس میں اضمحلال کا مظاہرہ کریں گے تو اسلام کو خاصا نقصان ہو سکتا ہے۔ یہ جمود بھی نظر آنے لگا ہے کہ علومِ قرآنیہ اور علومِ حدیث کو ہی علوم شرعیہ تصور کیا جاتا ہے جب کہ دینِ فطرت ہر پہلو میں رہنمائی کرتا ہے جو کہ اس کی خصوصیت ہے۔ اس لیے تمام علوم نافع علوم شرعیہ کہلائے گیں۔

 مدارس اسلامیہ جمار، فروغ دین کے لیے اعیان کے ساتھ ساتھ تبلیغ و تفہیمِ شریعت کے لیے مواد بھی تیار کرتے رہتے ہیں۔ اسی کام کو عہدِ نبوت میں، ہر چیز پر ترجیح دی جاتی تھی۔ پر اب کیوں نہیں؟ بسببِ بُعدِ عہدِ نبوت ہم ہر طرح سے دانشکدۂ اسلام سے دوری اختیار کرتے رہیتے ہیں، جب کہ تعلیمِ نبی برحق صلی اللہ علیہ وسلم یوں تھی؛ 

حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے یہاں جب حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی ولادت ہوئی تو اس موقع سے انھوں نے آپ میں سے فرمایا کہ کیا میں اپنے بیٹے کا عقیقہ کر لوں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ نہیں ؛ بلکہ تم یہ کام کرو کہ اس کے سر کے بال کاٹ لو اور اس کے وزن کے برابر چاندی غرباء اور اوفاض (وہ صحابہ کرام مراد ہیں جو تعلیم کے لئے بے سروسامانی کی حالت میں مسجد نبوی میں پناہ گزیں تھے ، یعنی اصحاب صفہ ) پر صدقہ کرلو؛ چنانچہ حضرت فاطمہ نے اس موقع سے اور حضرت حسین کی ولادت کے موقع پر بھی یہی کام کیا۔

عقیقہ کی خوشی کے موقع پر ہر انسان کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ اپنے اعزاوا قارب اور دوست و احباب کو اس مسرت کے حوالے سے مدعو کرے اور رسم دنیا بھی یہی ہے ، لیکن اس کے باوجود آپ کسی کا یہ مال اصحاب صفہ پر صدقہ کرنے کی ترغیب دینا یہ اس بات کا غماز ہے کہ طالبان علوم نبوت پر خرچ کرنا عام مسلمانوں پر صدقہ کرنے سے بدر جہاں بہتر ہیں ( مولانا محمد فرقان پالن پوری دامت برکاتہم العالیہ)

انہیں طالبان علوم نبوت کے بارے میں قرآن میں اشارہ ہیں، بل کہ اکثر مفسرین کے نزدیک ہے کہ انہیں ہی متعلق نازل ہوئی ہے مندرجہ آیت:  

اصل حق ان ضرورت مندوں کا ہے جو اللہ کے راستے میں گھرے ہوئے ہیں ، وہ زمین میں چل پھر نہیں سکتے ، دست سوال نہ پھیلانے کی وجہ سے ناواقف لوگ ان کو مالدار سمجھتے ہیں، تم ان کو ان کے چہرے سے پہچان سکتے ہو ، وہ لوگوں سے نرمی کے ساتھ مانگا نہیں کرتے ، تم جو بھی مال خرچ کرو گے، اللہ تعالی اس سے واقف ہیں ۔( آسان ترجمہ قرآن: مولانا خالد سیف اللہ حفظہ اللہ تعالیٰ)

اب قرآن و حدیث و فقہاءِ اسلام نے ان کے لیے متعین مصارف رکھیں ہے۔ 

جیسے حضرت ابن نجیم مصری البحر الرائق میں فرماتے ہیں :


التصدق علی العالم الفقیر أفضل۔ 

محتاج عالم دین پر خرچ کرنا اور اسے زکوۃ کا مال دینا عام لوگوں پر صدقہ کرنے سے اور ان کو زکوۃ کا مال دینے سے بہتر ہے۔

اسی طرح علامہ ابن عابدین شامی نے رد المحتار میں یہ بات نقل فرمائی ہے : أن من مصارف بیت المال کفایۃ العلماء ، وطلاب العلم المتفرغین للعلم الشرعی

بیت المال کے مصارف میں سے ایک مصرف علماء کی مالی اعانت کرنا ہے اور ان لوگوں کی جنھوں نے اپنے آپ کو علوم شرعیہ کے حصول کے لئے فارغ کر رکھا ہے۔

احتصارا، باہم، طالبان علوم شرعیہ و عامۃ الناس اپنی ذمہ داریاں سمجھیں اور ان فرائضہ کو ادا کرنے میں جد و جہد کریں، تاکہ وہ علمی میراث زندہ جاوداں رہیں۔ وہ عدہ پورا ہو جس کی بشارت رب العالمین نے دی تھی: کہ تم ہی غالب رہو گے!





بیوی کی پرایویسی

0



حضرت مولانا مفتی طارق مسعود صاحب مدظلہ 

  ایک بات خوب سمجھ لو کہ شرعی اعتبار سے نہ بیوی اپنے کسی رشتہ دار کو شوہر کی اجازت کے بغیر گھر میں رکھ سکتی ہے۔ اور نہ شوہر اپنے کسی رشتہ دار کو بیوی کی اجازت کے بغیر اسکے گھر میں رکھ سکتا ہے۔

کسی بھی اعتبار سے آپکی بیوی کی پرائویسی میں دخل اندازی ہورہی ہے تو شوہر بیوی کی اجازت کے بغیر کسی بھی رشتہ دار کو گھر میں نہیں رکھ سکتے۔ والدین ساتھ رہیں گے لیکن والدین اُس صورت میں ساتھ رہیں گے کہ آپکی بیوی کا مکمل الگ ایک کمرہ ہو اور اسکے لیے باقاعدہ ایک ایسا انتظام ہو کہ اسکی پرایئویسی میں آپکے والدین بھی ذبردستی کی مداخلت نہ کرسکیں۔

والدین بھی بہو کے ساتھ اس صورت میں رہ سکتے ہیں کہ اگر والدین اپنی بہو کو بلاوجہ ٹارچر نہ کرتے ہوں۔ اگر شوہر کو یہ اندازہ ہوگیا کہ میں نے بیوی کو گھر میں الگ کمرہ لیکر دیا ہوا ہے اسکے باوجود میری اماں بار بار میری بیوی کو ٹینشن دیتی ہے تو پھر شوہر پر لازم ہے کہ آپ اپنی بیوی کو اپنی اماں سے الگ رکھیں۔

کیوں کہ عورت جب شادی کرکے آئی ہے تو وہ ٹینشن لینے کے لیے نہیں آئی وہ لائف کو انجواۓ کرنے کے لیے آئی ہے۔ اللہ نے نکاح خوشیوں کے لیے رکھا ہے۔ ٹینشنوں کے لیۓ اللہ نے نکاح نہیں رکھا۔

مسئلہ درحقیقت یہی ہے کہ بیوی کو الگ گھر میں رکھا جاۓ اور والدین کو الگ گھر میں رکھا جاۓ۔ جوائنٹ فیملی کے جو فائدے ہیں وہ بہت زیادہ ہیں۔ اکٹھے رہنے میں جو برکتیں ہوتی ہیں وہ الگ رہنے سے نہیں ملتیں۔ لیکن یاد رکھو کہ اکٹھے رہنے کے بھی کچھ اصول ہیں۔ دل کو بڑا کرنا پڑتا ہے برداشت پیدا کرنی پڑتی ہے۔ اور یہ برداشت آج کل مارکیٹ میں شارٹ چل رہی ہے۔

اس لیے ہم لوگوں کو آج کل یہی مشورہ دیتے ہیں کہ جب تم شادی کرو تو بیوی کو الگ گھر میں لیکر آؤ۔ اماں ابا کے گھر میں مت لیکر آؤ۔ میں ہمیشہ لوگوں کو مشورہ دیتا ہوں کہ شادی سے پہلے الگ گھر کا انتظام کرو پھر شادی کرو۔

پھر کبھی اماں ابا کو بہو سے ملوانے لے آؤ اور کبھی بہو کو اماں ابا سے ملوانے لے جاؤ اور اپنی بیوی کے سر پر ہاتھ رکھواؤ۔

والدین غصہ کرتے ہیں کہ ہم نے پال پوس کر بچے کو جوان کیا اور ہم سے ہمارا بیٹا الگ ہوگیا۔ ارے بھئی وہ قیامت تک کے لیے الگ نہیں ہورہا وہ روزانہ آۓ گا اور آپ سے ملاقات کرے گا آپکی خدمت بھی کرے گا۔ اگر سب اکٹھے رہتے تو ہم سب وہیں رہتے جہاں حضرت آدم علیہ السلام اور اماں حوا رہا کرتے تھے۔ اب وہ تو پتہ نہیں دنیا میں کہاں آۓ تھے۔ لیکن پوری دنیا اللہ نے بھردی۔ اسی لیے تو بھری ہے کہ شادی کر کرکے الگ ہوتے گۓ۔ اگر انہی کے گھر میں رہ رہے ہوتے تو آج کتنا بڑا بنگلہ ہوتا حضرت آدم علیہ السلام کا۔

تو اس لیے میرے بھائی افضل یہی ہے بہتر یہی ہے کہ اگر فساد سے بچنا چاہتے ہو تو الگ گھر کا انتظام پہلے کرو اور شادی بعد میں کرو۔ اس میں اگر اماں ابا غیرت کے طعنے دیتے ہیں تو اماں ابا کا دل سے احترام کرو لیکن بعد میں جب لڑ کر نکلو گے نا تو اس وقت جو بیغیرتی کے طعنے ملیں گے اس سے بہتر ہے کہ تھوڑے سے طعنے برداشت کرکے الگ ہوجاؤ۔

ہاں اگر اپکا بہت ہی اچھا اعلی اخلاق والا خاندان ہے آپکی اماں بڑی برداشت والی ہیں بہت پیاری اماں ہیں نیک اماں جو بہو کو اپنی سگی بیٹیوں سے بھی زیادہ عزیز سمجھتی ہو اور بہو بھی ایسی مل جاۓ جو زبان پر ایلفی لگا کر رکھتی ہو تو پھر ساتھ رہنا چاہیے ساتھ رہنے کی برکتیں بہت زیادہ ہیں۔

انتخاب و پیشکش : اسلامی زندگی (ماجد کشمیری)

قربانی: بت شکن کے اٹھائے ہوئیں تکلیفات کا ثمر ہے ۔

0


لفظِ قربان میں تارید کر کے جو کلمہ قربانی مؤخذ ہے اس کے معنی وہی ہے جس کی کمی آج ہماری قربانیوں میں پائی جاتی ہے یعنی وہ عمل جس سے للہ کا قرب حاصل کیا جاتا ہے۔ اس میں "ی" کا اضافہ دیکھ کر کے اس سے خود کی قربانی (تناولِ گوشت کا عمل) سمجھنے لگیں گویا کہ اس میں خدا کا قرب ہی نہیں رہا۔ جب کہ یہ وہ قربانی تھی جس سے ابوت کی فطرت میں تغیر آیا تھا۔ اس کا احتمام و احترام علامتِ زہد و تقویٰ ہے۔ اس کی ادائگی ہر نذر و نیاز و قول و عمل و محبت و نفرت، الٰہی کے لئے ہونے کا ثبوت دینا ہے.


 نسک (قربانی)، قتنۂ مال سے محفوظ رکھتا ہے۔ خوفِ باطل کے لیے مزیل ہے۔ اسلاف کی سقافت کی حفاظت کی ذکریٰ( یاد) ہے۔ بت شکن کے اٹھائے ہوئیں تکلیفات کا ثمر ہے۔ ولدِ عنفوان کے صبر کا ثمر ہے۔ سہارے کا مستمد ( ضرورت مند) کی محبت کی آزمائش کا ثمر ہے، اک اشارے پر مر مٹنے والے شخص کے عمل کا ثمر ہے۔ اس کردار کی عکاسی کا طلب گار، کی عمل ہے۔ والدین کی فرماں برداری کا ثمر ہے۔

اس کی افادیت کا تذکرہ حدیث میں یوں وارد ہوا ہے: خون کا پہلا قطرہ گرنے سے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔ پر ہم اخلاص سے محروم بھی تو ہیں، پر لاتعداد قطرات پر کسی ایک پر بھی اخلاص محتقق ( ثابت) ہوا تو ہم سرفراز ہوئیں اور اگر ہر قطرے پر اخلاض ہوا تو؟ ہر بوند پر اہل خانہ کو ایصال ثواب کیا!، تو ہم ان کے حق میں بھی صحیح ثابت ہوگیں۔

 اس کو مختصر الفاظ میں بیان کرنا چاہیں تو یوں کہا جاسکتا ہے: جانور کا ذبح کرنا صرف زاویہ ہے، اس کی حقیقت اِیثارِ نفس کا جذبہ پیدا کرنا ہے اور تقرب الٰہی ہے۔ بس یہ جذبات حاصل ہوگئیں وہ رافع ہوا دنیا و آخرت میں، اس کی مالیاتی زندگی میں مال کی کمی ہوگی اور نہ اخروی زندگی میں مکافاتوں کی۔ ان شاءاللہ تعالیٰ۔

 اللہ ہمیں ان کے حصول کی تڑپ پیدا کریں اور کونین میں کامیاب بنائیں۔ امین 


ماجد کشمیری 

کالجوں میں عربی، فارسی، کشمیری اور اردو واسلامیات سے بے رغبتی کیوں| کالج میں سبجیکٹ معین کیسے کریں

0

الحمد للہ الذی وحدہ والصلاہ والسلام علی قادہ الدنیا والاخرہ. 

تعلیم کی افادیت کا ذکر ہی نہیں۔ اور یہ فقرہ مشہور و معروف ہے کہ تعلیم سے مقصود کردار نویسی ہے۔ اولیں درجات میں ہمیں ادب کے ساتھ ساتھ علوم و معلومات سے بھی آشنا کیا جاتا ہے۔ جیسے ہی ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹس میں ہم قدم رکھتیں ہیں تو ہمیں تنوع ہدفِ مخصوصہ (اسٹی مز) ملتے ہیں۔ ہر ڈپارٹمنٹ اپنی مستقل و مفارق حیثیت رکھتا ہے۔ کسی بھی محمکہ کو درخورِ اعتنا نہ سمجھنا ملک و ملت کو خصارے کے سوا کچھ نہیں ہے۔ پر وہیں کچھ سبجیکٹس ہیں، جنہیں مغرب اپنے مقاصد کو پورا کرنے کے لیے تو دل و جان لگا کر تحصیل و تعلیم کراتے ہے پر اس کے استحقاقیوں کو مستعبد (بعید) کر رہا ہیں۔ 

بقول اقبال رحمہ اللہ” مغربی تہذیب کا خالص اندورن قرآن ہے۔“

“The inner core of western civilization is Quran” 

اس لیے آپ دیکھتے ہوگئیں کہ کالج، و یونی ورسٹی میں اسلامی و ادبی زبانیں کی طرف ہماری رغبت بہت کم ہوچکی ہے۔ سبب ہے کہ ہم کہیں نہ کہیں مغرب سے متاثر ہے، پر ہمیشہ ہمیش مغرب کو ہی دوش کیوں دیا جاتا ہے۔


 کبھی اپنے اضمحلال کا تعاقب کیا ہے؟ کیا تفکر و تدبر کیا ہے کہ وجوہ کیا ہیں؟۔ ہم اس سے متاثر ہوتیں ہی کیوں ہے؟۔ ایک اہمہ وجہ ہے کہ ہم اپنی اکمل دین کو ناقص گردانتے ہیں۔ اور دین سے دوری کی اہمہ وجہ اضمحلالِ علم ہے۔ حصولِ علم تحصیل و تعلیم سے ہوتی ہے، وہ زبان کے بغیر ممکن ہی نہیں۔ یہی وہ دیوارِ اول ہے۔ جس پر حملہ مع فریب کیا جارہا ہے۔ اس لیے ہم عربی، فارسی، کشمیری،  اسلامک اسٹیڈی اور اردو سے محروم و محسود ہوتیں جا رہیں ہیں۔


للہ تعالا نے اسلام کے موادات کو علی الترتیب عربی، فارسی و اردو و کشمیری میں محفوظ و مامون کیا ہیں پر شقاوت سے ایسا شوشہ ہمارے ذہنوں میں چھوڑا گیا ہے کہ مذکورہ زبانیں (عربی و فارسی و اردو اور اسلامیات) بطورِ ہدف معین کرنا اپنے پیروں پر کلہاڑی مارنا کے مترادف ہے۔ بخدا ایسا مغرب کی فریب کاریوں میں سے ہیں۔ ہوش کے ناخن لینے ہوگئیں! 


المختصر اس پر  ہمیں بقدرِ ظرف و استطاعت انفرادی و اجتماعی کام کرنا ہوگا۔ جو کہ ہمارا دینی فریضہ بھی ہے۔ دیانِ یونیورسٹی جو اس کی طرف بہت کم منعطف ہوتے ہیں وہ اس سے مرکز جاذبہ و موہوم و عروج بنائیں و اساتذہ و طلبا اپنی پوری قابلیت سے تحصیل و تعلیم و تدریس کو انجام دیں۔ وقتاً فوقتاً فہمائش ( کاونسلنگ) کو یقینی بنانا جائیں۔ ان میں ہر سبجیکٹ کا سکل ہونا چاہیے تاکہ کسی بھی محمکہ سے تعلق رکھنے والے طلبا اس سکل سبجیکٹ میں ان کی افادیت سے آشنا ہوں۔ جس سے بتدریج رغبت میں اضافہ ہوگا۔۔۔


 آپ کے متعلقین جو سمیسٹر اول یا ہائر ایجوکیشن میں قدم رکھنے جا رہیں ہیں، انہیں پیشتر داخلہ ان کی افادیت سے آشنا کریں اور اگر تامل کیا جائیں تو ان سبجیکٹس میں افادہ دین و دنیا بمقابلِ باقیہ زیادہ ہیں۔ جیسے آج کل کے مقصد تعلیم کو پوری طرح تکمیل کی طاقت رکھتیں ہیں و دین و دنیا و رضاءِ خداوند جو علمِ اموراتِ الٰہی سے حاصل ہوتی ہے۔  اُن میں ان سے فلاح کی تکمیل کی جاسکتی ہے۔ اس لےان کے تحفظات کے لیے ہمیں مجتہد و مستعد (کوشاں) رہنا ہوگا۔ نصر من اللہ و فتح قریب کے لیے شرط وہی ہے۔ 

ماجد کشمیری 

۲۵ جون ۲۰۲۲

Check out in English


خانہ جنگی کا تنقیدی مطالعہ

0

بحکم دانشکدہ کلگام ہمیں دو مختلف موضوع پر نوشت کرنے کا حکم ملا تھا پر ہمیں آخر میں معلوم ہونے کے سبب دونوں موضوع میں ربط ظاہر کرنے میں ناکام رہے تاہم ان میں ربط تلاشی سے ملتا ہے مضمونِ مقدم میں اس کا خیال رکھے بغیر کوئی چارا نہ رہا۔ حیر باعثِ قلتِ وقت ہمیں ڈرامہ خانہ جنگی کا مطالعہ کا موقع نہ ملا اس لئے راہِ مستقیم پر چل کر شرافت اللہ کی کتابچہ ڈرامہ خانہ جنگی کا تنقیدی مطالعہ کرنے کا شرف حاصل ہوا اس لئے اس میں کسی حد تک مقلدانہ رویہ بھی مل سکتا ہے۔

کالج کے منتخب کردہ مضامین گرچہ عدداً پانچ ہے پر طے شدہ طور پر ان میں خاصا ربط پایا جاتا ہے جس کے سبب اگر کسی موضوع پر محققانہ تحریر کیا جائے تو تمام کا خلاصہ نویسی ہوگا اس کو پیش نظر رکھ کر مقالہ لکھا جا رہا ہے۔ (اس لیے ہمیں خلاصہ نویس لقب مل سکتا نہ کہ مضمون نگار کا) 

کشمیر میں اردو اگرچہ ہندوستان کے مقابلے میں بعد میں پہونچا  کیوں کہ تاریخاً ملکِ کشمیر تہذیبِ ہندوستان کا حصہ نہ تھا پھر بھی بھارت کے پس ازاں نہیں ہے۔

کھانا جنگی کا عنوان شاہجہان کے دعوے حکومت 16 فروری ۱۶۲۷ٕ سے ہوتا ہے جب موصوف کے اِمارت میں غم و الم سے لبریز تھا اور شاہ جہاں اپنے اخلاف کی خانہ جنگی سے سخت پریشان تھے۔ اسی خانہ جنگی میں اورنگزیب جو ملہوف القلب اور چالاکِ مطلق مراد کو اپنے ساتھ ملا لیتا ہے اور یہ طے ہو جاتا ہے کہ دارالشکوہ سے مقابلہ کرتے ہیں جس میں اورنگزیب فاتحِ بن جاتا ہے۔ داراشکوہ محراب سے بھاگ کر دہلی چلا گیا اورنگزیب نے دلی فتح کر لی اور دارا شکوہ لاہور کی طرف بھاگ گیا ۳۱ جولائی ۱۶۵۷ میں اورنگزیب نے خود کو شاہنشا کا خطاب دیا۔

ڈرامہ کی پہلی ایکٹ میں شاہجہان کی کردار سے صلح و صفائی کا اظہار ہے دارا شکوہ کی زندگی آزاد مزاج کی جھلکیاں کے موجود ہے۔ پرجا کی رائے اورنگزیب کے متعلق کیا ہے ان کا اظہار ہوتا ہے دور شاہجہانی میں عوام شریعت اور طریقت کی جنگ میں الجھے ہوئے تھے۔ 

عنفوان ایکٹ دوجا کردارِ شاہ  شیخ سر مد سے شروع ہوتا ہے ۔ جو دور شاہجہان کے معروف صوفی تھے ان کے اردگرد متعلقین کا اژدحام ہوتا ہے۔ سپاہی خوان لے کر آتا ہے۔ دسترخوان میںوہ دیکھ کر داراشکوہ کی ہار کے متعلق جان جاتے ہیں۔ لڑکے کے ٹال دینے کے بعد ابرہم بد خشانی آتا ہے۔ یہ شیخ کا مرید تھا۔ شیخ ان سے ناراض لہجے میں گفتگو کرتے ہیں درمیان میں دو لڑکے ظاہر ہوکر ۔۔۔ دارا شکوہ کے آنے کی اطلاع دی جاتی ہے اس پر جاہلانہ مباحثہ ہوتا ہے ۔۔۔۔ ایکٹ کی ڈرامائی اہمیت میں اعتماد خان سپاہی ایک سپاہی عالم و محتسب کی حیثیت سے۔  شیخ شاہ سرمد رحمہ اللہ کے سوانحی حالات کی جھلکیاں ملتے ہیں۔ عالموں کا مصلحتی اندازہ عالمگیر کا شخصی تعارف اور وکیلِ شیخ سرمد رحمہ اللہ کی بے باک زندگی کی جھلکی ملتی ہے 


وکیل شیخ کی نخیف وزار دکھائی دیتے ہیں پانچویں ایکٹ میں ملتا ہے شیخ سے قلبی یگانگت اور ان کی اضطرابی شاگردوں کو گھر واپسی کے حکم سے ہوتی ہے ۔ وہ لطف اللہ سعد الدین اور حفظ الرحمن کو جواب تو دیتے ہیں پر خود سکونِ قلب سے محروم ہوتے ہیں۔ شیخ صاحب کے جام شہادت کی برتری کا احساس دلاتے ہیں اور ملا کی خود کلامی سے پلاٹ کو سنجید اور متاتر بناتے ہے۔ 

اب لکھتے لکھتے جب ہم متاثر ہوئے تو ڈراما خانہ جنگی کا سرسری مطالعہ کرنے پر بھی مجبور ہوئیں


شاہجہان پہلے ایکٹ میں نمودار ہوتے ہیں اس کے بعد واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ دارا شکوہ کی شکست کے بعد عنانِ حکومت اورنگزیب عالمگیر کے ہاتھ میں رہا 


 تاریخی ثبوت اس بات کی شاہد ہے کہ موصوف کی شخصیت بہت پر کشش تھی اور آخری عمر میں چہرے پر خوبصورت داڑھی بہت دیدہ زیب لگتی تھی پر ڈرامہ میں شخصیت کی طرف کوئی اشارہ نہیں ہے اگر چہرے کی اداسی کا ذکر ہے جو کہ ملکی و سیاسی کشمکش غمازی کرتا ہے۔ 

شاہجہاں جہاں اپنے اخلاف میں دارہ شکوہ سے محبت کرتے تھے وہیں ملکی امور کے معاملے میں وہ اورنگ زیب کے معترف تھے۔ پہلے علم ان کی عزت کرتے تھے سپاہی ان پر جان دیتے تھے۔  داراشکوہ طریقت کا حامی تھا اور اورنگزیب شریعت کا دونوں کے اختلاف نے خانہ جنگی کرائی اور شاہجہان اپنی نونمانوں خاک و خون میں تڑپتے دیکھتا رہا۔ ان کی انسانی سیرت کردار کی روشن مثال نے ان کے دور کو دور ذرین بنا دیا۔ 

ان کے بعد ڈرامہ میں بالترتیب مرکزی کرداروں میں دارا شکوہ ہے۔ وہ شاہجہان کی چہتی اولاد تھا داراشکوہ گیر مادے سے زندگی گزارتا تھا وہاں علم و صوفیوں کی صحبت میں گزارنا پسند کرتا تھا مزاج میں فرق تو عجلت پسندی کی ان کے والد ان کو کہتے تھے” دارا مجھے حیرت ہوتی ہے کہ تم میں اتنا تکبر کہاں سے آ گیا تمہارے مددح کو صوفی بلکہ ولی کہتے ہیں ۔تم تو نہیں چاہتے کہ اپنے خیر خواہوں کی بلاوجہ دل آزاری کرو“

حیرت انگیز بات یہ تھی کہ دارا، شجاع ، مراد اور اورنگزیب سب حقیقی بھائی تھے مگر سب کی طبیعتوں میں بلا کا بعد تھا۔ دارا سب سے بڑا تھا اس لئے ولی عہد سلطنت منتخب ہوا پس باقیوں کو راس نہ آئی اورنگزیب نے چالاکی سے دھارا کی پوزیشن اس بنیاد پر نازک کر دیں کہ وہ مذہب اسلام سے متنفر ہے۔ جنگ میں نااہلیت کا اظہار بھی ہوتا ہے جب شمن کو آرام کرنے کا موقع دیتا ہے۔

دارا شیخ سرمد سے عقیدت تھی وہ برابر ان کو نان و نفقہ بھیجتا تھا ہاتھی سے اتر کر شیخ کی تعظیم کرتا تھا جو اس بات کی دلیل ہے کہ سرمد سے خاص ارادت ہے۔ 

اورنگزیب

اورنگزیب المقلب ابو المنطر محی الدین محمد ۔ اورنگزیب بہادر عالمگیر بادشاہ غازی کہلوایا۔ اپنے دورِ امارت میں چند اہم تبدیلیاں کیں تمثیلا: سکوں پر کلمہ ختم کروا دیا ،قبروں پر کلمہ کندہ کرنے کی ممانعت تھی۔ پانچ وقت کی نماز کا سخت حکم تھا ۔ نشیلی اشیاء کی فروخت ممنوع تھی۔ زنا قطعہ غیر قانونی تھا۔ تقریباً ۴۳ سال کی حکومت کرنے کے بعد ۳ مئی ۱۷۰۷ میں رحلت کر گئی پر ڈرامہ میں اورنگ زیب کے متعلق کوئی باقاعدہ تعارف نہیں ہے۔ 

ڈراما کے خصوصی کردار: شاہجہان جس کا مختصر پر باقاعدگی کے ساتھ تعارف نہیں ہے داراشکوہ کا مفصل تعارف اورنگزیب کا تعارف مع باقاعدگی نہیں ہے۔ مولانا ابو القاسم کا تعارف متاثر آمیز ہوا ہے شاید اس لیے کیونکہ ان کی تعارف المیہ آمیز ہے شیخ جو پہلے یہودی تھے پھر مسلمان ہوئے تھے پر ان کا مکمل تعارف نہیں ۔


المختصر اگر خانہ جنگی کو بطور تاریخی ثبوت بھی یا حقیقی پس منظر میں تولا جائے تو بے وزنی پر ادبی ڈراموں میں متضمن کر سکتے ہے بلکہ کیا گیا ہے

ماجد کشمیری 

ڈراما کا تحقیقی جائزہ

0

 ڈراما جہاں الفاظوں کا مجموعہ ہوتا تھا وہاں اس کی شناخت اور اس کے عناصر سے تعریفِ مجموعۂ الفاظ پر صادق نہیں آتا ہے۔ اس لیے مجموعۂ الفاظ کا ایسا ہونا جس کی مصوری ہو سکتی ہے اسے ڈرامہ کہا جاتا ہے۔ اگر لفظِ جدید میں اس کی ترجمانی کی جائے تو فلم کے نام سے موسوم کرنے میں مضائقہ نہ ہوگا۔ ڈرامہ فنی نقطۂ نظر سے واقعات کی کہانی ہونے کے بجائے کرداروں کی کہانی بن جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ناوِل اور ڈرامے کا فرق بتلاتے وقت ڈرامہ کرداروں کی حکایت بن جاتی ہے۔ وجہ یہی ہے کہ ڈرامے کو کردار کی عظمت سے یاد رکھا جاتا ہے اور کردار کی نفسِ انفرادی سے مرغوب کیا جاتا ہے۔ جس سے عامیانہ اس تمثیل سے اخذ کر سکتے ہے کہ ڈرامے میں مرکزی کردار (ہیرو) سے ہمیں فطری یگانگت و شیفتگی ہو جاتی ہے۔


 ڈراما (سوانگ) کا تجزیہ کرنے سے پہلے ڈرامے کا اساس و ارتقا کی شناسائی کرتے ہے۔ ڈرامہ یونانی زبان کا لفظ ہے اس کا مصدر اسپا (سپا،spaw) ہے۔ جس کے معنی کرکے دکھانا ہے جس کی بالا میں تفسیر ہوئی ہے۔ ڈرامہ پہلے شاعری کا جزو سمجھا جاتا تھا اور منظومیت شرط تھی۔اب یہ مستقل ادبی صنف و شرطِ منظوم سے جدا ہے بلکہ اب تو منظومی ڈرامے بہت کم لکھے جاتے ہیں۔


اگر اب شرطِ ڈراما ہے تو ڈراما دل پذیر و مقناطیس ہے۔ یعنی ہر شے کی عکاسی ہو اور ڈراما ٹسٹ کے الفاظ مبین ہو (جس میں کسی تفسیر کی حاجت نہ ہو)۔

سوانگ کے دو اہمہ قسمیں ہے۔ المیہ: مشاہدۂ نفس سے معلوم ہوتا ہے کہ الم کا جذبہ راحت سے زیادہ قوی، گہرا اور دیرپا ہوتا ہے راحت و مسرت سے انسان کے جسم و روح پر نشہ سا مسلط ہو جاتا ہے اس لئے اس کا احساس کسی قدر کند ہوتا ہے بہ خلاف اس کے الم حس اور ادراک کو اس قدر تیز کر دیتا ہے کہ انسان کی ہر خلش، ہر کسک صاف محسوس ہوتی ہے۔ آپ خوب واقف ہوں گے کہ ڈرامے(فلموں) میں منظرِ المیہ ہم دل کی آنکھ کھول کر اور تاثیر کے ساتھ دیکھتے ہیں۔ (کیونکہ المیہ سے فرحیہ بہت زیادہ بڑھا ہوا ہے) پہلے پہل تو المیہ کو ظاہر کرنے کے لیے ڈرامہ نوشت کیا جاتا تھا تخمینا شکسپیر کے فرحیوں کے دیکھنے کے بعد اہلِ نظر اسے مبدل کرنے پر آمادہ و مجبور ہوئے لیکن اس میں اب بھی شائبہ نہیں ہو سکتا کہ دنیا کی ہر زبان میں بہترین ناٹک تقریباً سب کے سب المیئے ہے۔


دوسرا فرحیہ: اس کا اندازہ ہوگیا ہے کہ ڈرامہ میں جذبات کا عمیق اثر ہوتا ہے اس لیے فرحیہ ڈراموں میں وہ کسی قدر کم ہوتا ہے۔ اس سبب موصوف قسم کے ڈرامے بے اثر، کم دیکھے اور ناپسند کیا جاتے ہیں۔ دور حاضر میں گر چہ فرحیہ ڈراموں کو بھی  نا پسند نھیں کیا جاتا ہے جیسے کشمیری کل خراب پر آپ محسوس کرتے ہوگئیں عین وقت پر مزاخ کا رخ ناصحانہ ہو جاتا ہے۔ جس سے قارئین اس کی داد دیتا ہے۔ اطوال کا خوف نہ ہوتا اس کے طویل کرتے، اب قارئین کے فہم پر موقوف رکھتا ہوں۔

ڈرامے کے اجزاء ترکیبی: منصفِ بوطیقا کے مطابق اس کے چھ جزو ہے: پِلاٹ: عملی مشق اور باہمی ربط کو پلاٹ کہا جاتا ہے ۔ 

دوجا کردار: اشخاص کی افادیت کا تخمینہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ صوت ہے بغیر کرداروں کی نقل و حرکت سے ناٹک سمجھا جا سکتا ہے۔ جیسے، ناقل کے اشک جوئی سے منظرِ نا خوش آئندہ کا قیاس ہوسکتا ہے۔ اور خوش وخرم سے تقریبِ فرحان کی اٹکل کی جاسکتی ہے۔

تیجا مکالمہ: سوانگ کی حکایت کو آگے بڑھنا، پہلو کی توضیح ، فضا میں معاونت کرنا موصوف سے مقصود ہوتا ہے۔  

چوتھا زبان: زبان سے ڈرامے کی معدویت تو نھیں ہے پر ضروری الظاہر ہے۔ اور زبان عامیانہ ہونا بھی کسے سے کم ہے۔ 

پانچواں و چھٹا: موسیقی و آرائش: درو معشوق میں اب ان کی بھی اہمیت کا انکار نھیں کیا جاسکتا ہے۔ 

ضمیمہ نوٹ: سر والے گانے اور سر والی موسیقی چاہے صوفی کا لیبل ہی کیوں نہ ہو دین فطرت( اسلام) میں حرام ہے۔ 

الحاصل ڈراما نگاری کا صحیح استعمال افادہ سے خالی نھیں پر جدید اشکال فحاشت کے اسباب بھی ہیں۔ جن سے اجتناب از حد ضروری ہے۔

ڈراما خانہ جنگی کا تنقیدی جائزہ

ماجد کشمیری

30 May 2022

کولگام سے کونگ وٹن تک

0

 سفر کا آغاز ہو والدین کی دعا نہ ہو ممکن نہیں۔ ہمارے سفرِ کنگ واٹن کا آغاز بھی دعائے مقبول سے ہوئی۔ ہم برادری میں عین وقت پر متضمن ہوا، اس لیے والدین کو خاصی اطلاع نہ تھی۔ خیر فجر سے پہلے پہل غسل کیا اور نماز ادا کرنے کی توفیق ملی اور ہم برادری کے راقب ہوئیں۔ ۔۔۔۔۔۔ ریستوران سے توشۂ سفر لینے کے بعد ہم اھربل تک نظموں و نعتوں کے سہارے سفرِ سیارہ زائل کر رہے تھے۔ اضطرابیت اور مسروریت سے ہم منزل مقصود کی رسائی کے منتظر تھیں۔۔۔اھربل پہنچتے ہی عمیم کی دوش آبشار کی طرف منعطف ہوئی۔۔۔۔ اتفاقاً ہمارے استاذ پرکٹ ہوئے اور ہم مودب ہو کے سلام و دعا کرنے لگے، جیسے ہی وہ ہم سے اوجھل ہوہے تو دوڑ پھر پرواز چڑھ گئی اور وہی رک گئی جہاں پر جھرنے نے ششدر کردیا۔


یہ کیسی بہتی ہے پہاڑوں سے ندی

 برسوں سے دیکھتی خدا کی عالی 

 وہ جھرنا وہ جھرنے کا پانی 

آقا کی نعمت اور بھی کہانی 

 


شقاوت سے اعتراف کرنا پڑ رہا ہے برادری بے لوث مصوری میں مبتلا ہوئی جو کہ اسلام کے اصل کے خلاف تھی۔۔۔۔۔ خیر خدا کی نعمتوں کا اعتراف کر کے، چائے کی چسکی لینے کے لیے ڈھابے کی طرف نکلے۔ اب سفر پاپیادہ تھا، ڈھابے سے ضمیمہ اشیا لے کر کمربستہ ہو کر چلنے کی تیاری کرنے لگے۔

 ع   سبزار مائل کر رہا تھا

ظاہری غم زائل کر رہا تھا۔

 ہماری مسروریت کچھ زیادہ ہی تھی ہم آگے چلے گے اور گم راہ ہوئے، راہِ باطلہ پر ایک گامی ملا سلام و دعا کی اور بولیں آپ کو کہاں جانا ہے؟ جی! کونگ واٹن۔ اچھا، وہاں کا راستہ وہ ہے۔ جٓی شکریہ ۔۔۔ آپ کی عاطفت۔۔۔ اور میرے شبھ چنتک بھائی بندی میں انتشار ہوا تھا جس پر ہمیں تربیتی ڈانٹ بھی تسلیم کرنی پڑی۔۔۔۔۔ آہ آہ ۔۔۔۔ہاہا۔۔


سچ کہوں تو برادری سست تھی۔۔۔۔۔، ہم سے ایک ہم  قوت فرد ملیں وہ عرب امارات میں رہتے ہے جس کے باعث وہ عربی سے آشنا ہے۔ عربی میں باتیں کرنے لگیں اور چلتے بنے۔۔۔ برادری بکری کے ساتھ قبیحہ مصوری کرنے لگے، اس پر وہ کہنے لگے ۔


کل ھم مشغول بالماعز نذھب، سرعہ سرعہ۔ 

ایوہ مدیر لنذھب سرعہ سرعہ الی تنغ واتن

خیر بہت باتیں ہوہی عربی میں، ہم اہل عرب نہیں، چلتے چلتے آپ ہم تھک گے اور اب توشۂ سفر بھی بوجھ و بوجھل لگنے لگا۔ ذہن کو منتشر کرنے کے لیے آپس میں سامان تبدیل کیا تاکہ دماغ یہ سمجھیں کی وزن کم ہوا ورنہ وزن سب میں  برابر تھا،۔۔۔۔ ہمیں چھوڑ کر۔۔۔۔ جس کی بھرپائی مراجعت کے سمے ہوئی۔ ۔۔۔ بوجھل ہی سہی، آپہنچنا نصیب ہوا ۔۔۔۔۔ خیر! مادیت پرستی انسان کو کہاں چھوڑتی، پیٹ پوجا شروع ہوئی۔۔۔ ہر سمت صعود ہی صعود تھی، قیام پزیر ہوئے تو کہاں! اُدھر ادھر، نہیں وہاں۔۔۔۔ اب یہاں۔۔۔۔ طعام کے بعد مقابلہ مابین ہوئی جس میں ہمیں۔۔۔۔۔ ہوئی۔۔۔ سب وضو کرنے لگے اور بارش شروع ہوئی ہم نے حکومتی پنڈال میں بانگِ ظہر دیکر نماز ادا کی اور جانا تو اونچائیوں پر تھا، کھیلنے لگے عملہ چروا : ارے وہی کرکٹ نا۔ جس کے باعث گھومنے میں خاصا فرق پڑ گیا، اور وقتاً فوقتاً گہوارش کا آنا سیر وتفریح کے لئے مانع بن رہا تھا۔ برف سے لبا لب پہاڑیاں جو احساس دلا رہی تھی کہ اصل خوبصورتی سے مستعبد ہو۔ جب تک ہم منعطف ہوتے مہلت ختم ہوئی تھی اور مصوری کی دنیاوی سزا بھی مل گئی۔ اور ژالے گرنے لگے اور وہیں پنڈال میں تھم جانا کا انتظار کر رہے تھے۔ ۔۔۔ ۔۔ معاودت پر وہی مکافات لیا ۔۔۔۔۔ مراجعت کے سمے ہمارا پالا جاموس سے پڑا۔ برجستہ احدھما بولیں کہ یوں ہی علما کو ان میں اختلاف نہیں! سب نے واہ واہ کی۔۔۔۔  اصلاً ان کی حلت و حرمت میں کس بھی فرد کو اختلاف تو نہیں۔ ہاں ایک منڈل اپنی مفارقت دیکھنے کے لیے ان کی قربانی مشکوک سمجھتے ہے، اصلیت یہ کہ جب ساڑھے گیارہ مہینے ۲۸ یوم حلال ہے، پھر دو دن میں مشکوک کیوں؟۔۔۔۔۔۔۔ ( لحمہْ فکریہ)۔۔۔    ایک لمبی وادی میں طعام کے لیے رکیں اور پھر قیام ابدی کی طرف متوجہ ہوئے اور ۔۔۔۔ سیکھنے سمجھنے کے لئے بہت کچھ تھا، پر ہم میں شاید وہ لیاقت نہ تھی کہ ادراک کر سکیں۔ پر دن ضائع بھی نہیں ہوا۔۔۔ آخر آغوشِ ماں نے لیل ونہار کو بیش بہا بنا کر، ہمیں آسود بنا دیا۔ الحمدللہ علی کل نمعہ


ماجد کشمیری

۱۹/مئی /۲۰۲۲


قوال حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کا انسائیکلوپیڈیا کتاب کا تحقیقی جائزہ

0

قوال حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کا انسائیکلوپیڈیا ..... کتاب کا تحقیقی جائزہ


(اقوال حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کا انسائیکلوپیڈیا) اس کتاب کا پڑھنا کیسا ہے ؟ اور اس میں حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی طرف منسوب کرکے جو سیکڑوں اقوال بیان کئے گئے ہیں ان کا کیا حکم ہے ؟ 

----------------------------------------------------

الجواب وباللہ التوفیق

1) مذکورہ کتاب جسے مغفور الحق اور حافظ ناصر محمود ان دونوں حضرات نے ترتیب دیا ہے اور اس میں حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی طرف منسوب کرکے بغیر کسی سند اور حوالے کے سیکڑوں اقوال کو عنوانات کے تحت ذکر کیا ہے .

جس کاچوتھا ایڈیشن 

ادارہ (بک کارنر شو روم جہلم) نے سن 2012 میں شائع کیا ہے .


2) مذکورہ کتاب میں حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے جتنے بھی اقوال ذکر کیے گئے ہیں کتاب کے متعدد مقامات پر میں نے انہیں دیکھا تو وہاں پر اقوال کا نہ کوئی حوالہ ہے نہ کوئی سند اور نہ ہی کسی مستند کتاب کا کوئی ذکر ہے لہذا سوال میں ذکر کردہ کتاب کا پڑھنا اور اس میں ذکر کردہ اقوال کو حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی طرف منسوب کرنا درست نہیں ہے اور یہ ایک نہایت ہی غیر مستند اور ناقابل اعتماد کتاب ہے .


3) یاد رہے کہ صحابہ کرام کے اقوال عام بزرگوں کے اقوال کی طرح نہیں ہوتے کہ اس کے لئے کسی سند کی ضرورت نہ پڑے کیونکہ صحابہ کرام کے اقوال جو کہ (غیر مُدرَک بالقیاس) ہوتے ہیں یعنی جن کو قیاس کے ذریعہ سے اخذ نہیں کیا جاتا وہ بارہامحدثین کے یہاں حدیث مرفوع کے حکم میں شمار کر لیے جاتے ہیں .

 اسی طرح صحابہ کرام کے وہ اقوال جن کا تعلق شرعی مسائل سے ہوتا ہے اگر کوئی حدیث مرفوع اس سلسلے میں موجود نہ ہو تو بعض مرتبہ صحابہ کرام کے اقوال کو ہی حجت مان کر اس پر فتویٰ دے دیا جاتا ہے .


 لہذا کسی صحابی کا قول جب تک کسی معتبر کتاب میں مسند حوالہ جات کے ساتھ نہ مل جائے تب تک اس قول پر اعتماد کرنا درست نہیں ہے .


4) اور شیعہ لوگوں نے بہت زیادہ من گھڑت روایات حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ اور اہل بیت کی طرف منسوب کرکے بیان کی ہیں جو کہ ان سے آگے بڑھ کر اب اہل سنت والجماعت کی عوام میں بھی بہت حد تک یہ قوال رائج ہو چکے ہیں جن کی کوئی اصل نہیں ہوتی لہذا اس سلسلے میں بہت احتیاط کی ضرورت ہے کہ مبادا ہم صحابہ کرام کی طرف خصوصا حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی طرف ایسی اقوال کو منسوب کر دیں جو انہوں نے حقیقت میں اپنی زبان سے کہا ہی نہیں ہو اور ہم خدا کی گرفت کا (معاذاللہ ) شکار ہو جائیں.


ھذا ما ظہر لی و اللہ اعلم بالصواب والیہ المرجع والمآب 

 *وکتبہ ابواسامہ حنفی ملی غفرلہ* 

10/شوال/1443ھ

12/مئی/2022ء

مساجد کے حمام میں نماز و تلاوت کامسئلہ سوال:

0

 

سوال:-عموماً لوگ حمام کے غسل خانوں میں بغیر طہارت کے داخل ہوتے ہیں۔ کیا اس جگہ نماز یا کلمات پڑھنا جائز ہوگا؟  

منظور احمد قریشی۔سرینگر

جواب: -کشمیر میں مساجد میں غسل خانوں سے ملحق پتھر کی سلوں کا وہ حصہ جس کو حمام کہا جاتاہے ،دراصل اس کو حمام کہنا ہی غلط ہے او ریہ غلط العوام کی وہ قسم ہے جس سے شرعی مسائل تک متاثر ہو جاتے ہیں ۔ حمام کے معنی غسل خانے کے ہیں ۔ چنانچہ جہاں گرم پانی سے نہانے کا انتظام ہو اور ایک بڑے ہال کو چاروں طرف سے بند کردیا گیا ہو پھر چاروں طرف گرم پانی کے نلکے ہوںیا گرم پانی کا حوض ہو اُس ہال میں داخل ہوکر نہانے کا ،بدن کوگرم کرنے کا کام لیا جاتاہے ۔ اسی کو حمام کہا جاتا ہے۔ حمام دراصل صرف نہانے کا ہوٹل ہے ۔ شرح ترمذی۔ احادیث میں جس حمام میں نماز پڑھنے کی ممانعت ہے وہ یہی حمام ہے ۔ یہاں کشمیر میں مساجد یا گھروں میں جو حصہ پتھر کی سلوں سے تیار شدہ ہوتا ہے اس کا اصلی نام صفّہ ہے جس کو یہاں کے شرفاء ’’صوفہ ‘‘کہا کرتے تھے ، جو مسجد نبوی کے صفّہ سے ماخوذ ہے ۔ اُس صوفہ پر نماز ، تلاوت ، تسبیح وغیرہ سب جائز ہے ۔ مساجد میں جو صفہ یعنی یہاں کے عرف میں حمام ہے اُس میں یقینا بے وضو وغسل آدمی داخل ہوتا ہے مگر اُس کی وجہ سے وہاں نماز پڑھنا ممنوع قرار نہیں پائے گا۔ جیسے کہ اپنے گھروں میں میاں بیوی کے مخصوص کمرے میں بھی انسان بے وضو وبے غسل ہوتا ہے تو اُس وجوہ سے وہاں نماز پڑھنا ممنوع نہیں ہوتا ۔اسی طرح مساجد کے صفہ(حمام)کا معاملہ ہے کہ یہ مسجد کا حصہ بھی ہے مگر مسجد کے حکم میں نہیں ۔اُس گرم حصہ پر اگر صف بچھائی جائے اور اس صف پر سنتیں ، نوافل ،تلاوت ،تسبیح ، ذکر وغیرہ کیا جائے تو یقینا یہ جائز ہے ۔ بلکہ اس کی وجہ سے وہ لغو باتوں کے بجائے محل عبادت بن سکتا ہے ۔ ورنہ یہ صفہ طرح طرح کی لغویات کا مرکز بن جاتاہے ۔

صدر مفتی نذیر احمد قاسمی دامت برکاتہم العالیہ

ماخذ: کشمیری عظمیٰ


سنت مؤکدہ کا اصرار کے ساتھ ترک کرنا باعث گناہ ہے|

0

 سنت مؤکدہ کا اصرار کے ساتھ ترک کرنا باعث گناہ ہے


مفتی امانت علی قاسمیؔ

استاذ ومفتی دار العلوم وقف دیوبند


شریعت میں دو قسم کے احکام ہیں کچھ کا تعلق کرنے سے ہے اور کچھ کا تعلق نہ کرنے سے ہے۔


پہلی قسم کے احکام کے مختلف درجات ہیں ، فرض ، واجب ، سنت مؤکدہ ، سنت غیر مؤکدہ اور مستحب ،اسی طرح دوسری قسم کے احکام کے مختلف درجات ہیں ، حرام ، مکروہ تحریمی ، مکروہ تنزیہی ، اور خلاف اولی وغیرہ ۔ یہ درجہ بندی نصوص کے ثبوت اور دلائل کے اعتبار سے کی گئی ہے،

چنانچہ وہ دلائل جو ثبوت و دلالت دونوں اعتبار سے قطعی ہوں جیسے قرآن کی وہ آیات جو محکم اور واضح الدلالت ہیں ،اسی طرح وہ احادیث جو تواتر کے ساتھ منقول ہیں اوران کے مفاہیم بھی قطعی ہیں ان سے ثابت ہونے والا حکم جانب امر میں فرض ہوتا ہے اور جانب نہی میں حرام ۔

اور وہ دلائل جو ثبوت کے اعتبار سے تو قطعی ہوں لیکن مفہوم کے عتبار سے ظنی ہو جیسے وہ آیت جو موؤل ہیں ،اسی طرح وہ دلائل جو ثبوت کے اعتبار سے ظنی ہوں البتہ مفہوم کے اعتبار سے قطعی و یقینی ہوں جیسے اخبار آحاد کے ثبوت میں ایک گونہ شبہ ہوتا ہے البتہ دلالت کے اعتبار سے قطعی ہوتے ہیں ان دونوں سے جانب امر میں ثابت ہونے والا حکم واجب اور جانب نہی میں ثابت ہونے والا حکم مکروہ تحریمی کہلاتا ہے


اور وہ دلائل جو ثبوت اور دلالت دونوں کے اعتبار سے ظنی ہوں جیسے اخبار آحاد جو اپنے مفہوم پر دلالت کرنے میں بھی ظنی ہیں اس سے جانب امر میں سنت اور مستحب اور جانب نہی میں کراہت تنزیہی کا حکم ثابت ہوتا ہے ۔علامہ شامی لکھتے ہیں : ان الادلۃ السمعیۃ اربعۃ : الاول قطعی الثبوت و الدلالۃ کنصوص القرآن المفسرۃ أو المحکمۃ و السنۃ المتواترۃ التی مفہومہا قطعی الثانی : قطعی الثبوت ظنی الدلالۃ کلآیات الموؤلۃ الثالث : عکسہ کاخبار لآحاد التی مفہومہا قطعی الرابع ظنیہما کأخبار الآحاد التی مفہومہا ظنی فبألاول یثتب الافتراض و التحریم و بالثانی و الثالث الایجاب و کراہۃ التحریم و بالرابع تثبت السنیۃ و الاستحباب (رد المحتار : ۹/۴۰۹)

خلاصہ یہ کہ یہ بات بالکل واضح ہے کہ چاروں ںقسم کے دلائل سے ایک ہی طرح کے ا حکام ثابت نہیں ہوں گے ، بلکہ جس طرح دلائل میں تفاوت ہے اسی طرح احکام میں بھی تفاوت ہوتا ہے ۔


وہ کام جس کو نبی کریم ﷺ نے اور صحابہ کرام نے کیا ہو اور اس کی تاکید کی ہو یا ترغیب دی ہو اس کو سنت سے تعبیر کیا جاتا ہے سنت مؤکدہ وہ ہے جس کو حضور ﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علہیم اجمعین نے ہمیشہ کیا ہو یا کرنے کی تاکید کی ہو اور بلا عذر کبھی ترک نہ کیا ہو یہ حکم میں عملا واجب کی طرح ہے اس کا بلا عذر کے ترک پر اصرار کرنا یہ گناہ کا باعث اور شفاعت سے محرومی کا سبب ہے ۔

اور سنت غیر مؤکدہ وہ ہے جس پر آپ ﷺ نے پابندی نہ فرمائی ہو کبھی کیا اور کبھی ترک کردیا ہو، یا یہ کہ آپ نے اس کو بطور عادت کے کیا ہو اس کا کرنا ثواب کا باعث ہے ترک کرنا گنا ہ کا باعث نہیں ہے ۔

البحرالرائق میں ہے : سنۃ مؤکدۃ قریبۃ من الواجب حتی اطلق بعضہم علیہ الوجوب و لہذا قال محمد لو اجتمع اہل بلد علی ترکہ قاتلناہم علیہ و عند ابی یوسف یحسبون و یضربون و ہو یدل علی تاکدہ لا وجوبہ ( البحرالرائق ۳/۶)


🍂 علامہ شامی لکھتے ہیں :

 لہذا کانت السنۃ قریبۃ من الواجب فی لحوق الاثم کما فی البحر و یستوجب تارکہا التضلیل و اللوم کما فی التحریر ای علی سبیل الاصرار بلا عذر ( ( فتاوی شامی ۲/ ۱۲)علامہ شامی نے صاحب بحر کاقول نقل کیا ہے : والذی ظہر للعبد الضعیف ان السنۃ ما واظب علیہ النبی ﷺ لکن ان کانت لا مع الترک فہی دلیل السنۃ المؤکدۃ وان کانت مع الترک احیانا فہی دلیل غیر المؤکدۃ وان اقترنت بالانکار علی من یفعلہ فہی دلیل الوجوب فافہم فان بہ یحصل التوفیق ( فتاوی شامی ۱/ ۲۲۲)


🍂 سنت مؤکدہ کا بلا عذر ترک کرنا اور ترک پر اصرار کرنا یہ باعث گنا ہ ہونے کے ساتھ ساتھ شفاعت سے محرومی کا باعث ہے اس لیے کہ جس کا کو آپ ﷺ اہتمام سے کیا ہو، اوراس کے کرنے کی تاکید ہو پھر بلا عذر کے اس کو ترک کرنا بہت بڑی محرومی اور شقاوت کی بات ہے ، حضرات فقہاء نے تصریح کی ہے کہ سنت مؤکدہ کے ترک پر اصرار یہ گناہ کا باعث ہے؛ اس لیے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : من ترک سنتی لم تنلہ شفاعتی ( فتح القدیر ، کتاب الضحیۃ :۹/۵۰۹)

 جس نے میری سنت کو ترک کردیا وہ میری شفاعت نہیں پائے گا۔

 ایک حدیث میں ہے آپ نے فرمایا : 

من رغب عن سنتی فلیس منی(صحیح ابن خزیمۃ حدیث نمبر : ۱۹۷) جو میری سنت سے اعراض کرے وہ میرے طریقہ پر نہیں ہے۔

امام مکحول حدیث کے بڑے امام گزے ہیں وہ لکھتے ہیں : 

السنۃ سنتان :سنۃ اخذہا ہدی و ترکہا ضلالۃ و سنۃ اخذدہا حسن و ترکہا لا بأس بہ (اصول السرخسی ۱/۱۱۴))

🍂سنت کی دو قسمیں ہیں

 ایک وہ سنت ہے جس پر عمل کرنا ہدایت اور ترک کرنا گمراہی ہے

 اور ایک وہ ہے جس پر عمل کرنا ہدایت ہے اور ترک کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

 الاحکام التکلیفی فی الشریعۃ الاسلامیۃ کے مصنف نے سنت مؤکدہ کے تارک کے لیے گنا ہ گار ہونے کو مختلف دلائل سے ثابت کیا ہے ۔

چنانچہ وہ عبد اللہ بن مسعود کا قول نقل کرتے ہیں : عبد اللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ :

 جس کو اس سے خوشی ہو کہ کل قیامت میں وہ اللہ تعالی سے مسلمان ہونے کی حالت میں ملاقات کرے ان کو چاہیے کہ وہ ان نمازوں پر پابندی کرے کیوں کہ اللہ تعالی نے تمہارے نبی کریم کے لیے کچھ سنن ہدی کو مشروع کیا ہے اور یہ نمازیں سنن ہدی میں سے ہیں -آگے ابن مسعود فرماتے ہیں کہ اگر تم نے اپنے نبی کی ان سنتوں کو ترک کردیا تو تم راہ راست سے ہٹ گئے ۔ دیکھئے ابن مسعود نے سنت کے ترک کرنے کو ضلالت سے تعبیر کیا ہے۔ اسی طرح حضور ﷺ نے سنت کے ترک پر وعید بیان کی ہے ایک حدیث میں ہے کہ نماز میں صفوں سیدھی رکھو ورنہ اللہ تعالی تمہارے درمیان اختلاف ڈال دے گا ۔اسی طرح ایک اعرابی بائیں ہاتھ سے کھانا کھاتا تھا اور سنت کے ترک پر اصرار کرتا تھا آپ نے فرمایا کہ دائیں ہاتھ سے کھأنا کھاؤ اس نے کہا میں نہیں کھا سکتاتو آپ نے اس کے لیے بددعا کی کہ تم نہیں کھاسکو گے اس کے بعد اس شخص کا دایاں ہاتھ کبھی اس کے منھ تک نہیں پہونچ سکا ۔ 

اس کو نقل کرنے کے بعد وہ لکھتے ہیں اگر سنت پر عمل کرنے کی اتنی اہمیت نہ ہو تی تو آپ ﷺ جو کہ بڑے شفیق و مہربان تھے کبھی اس کے لیے بد دعا نہ کرتے (الاحکام التکلیفی ص: ۱۷۴)


🍂علامہ شاطبی الموافقات میں لکھتے ہیں :

 مندوبات ( سنن) کا بالجملہ ترک کرنا دین کے ضائع ہونے میں مؤثر ہے جب کہ یہ ترک دائمی ہو ہاں اگر کسی وقت ترک کردیا جائے تو اس کے ترک کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے اذا کان الفعل مندوبا بالجزء کان واجبا بالکل کالاذان فی المساجد الجوامع وصلاۃ الجماعۃ و صلاۃ العیدین صدقۃ التطوع و النکاح والوتر و سائر النوافل الرواتب۔فالترک لہا جملۃ مؤثر فی أوضاع الدین اذا کان دائما أما اذا کان فی بعض الأوقات فلا تأثیر لہ فلا محظور فی الترک ( کتاب ا لموافقات ۲/ ۲۶۸وزارۃ الاوقاف قطر )


🍂مذکورہ تفصیل سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ سنت مؤکدہ کا ترک کسی عذر کی ووجہ سے یا کبھی کبھا کیا جاسکتا ہے لیکن اس کے ترک کا معمول بنانا درست نہیں ہے ایسا کرنے والا والا گنہ گا ر ہوگا ۔

اصول فقہ کی کتابوں میں احکام کی دو قسمیں بیان کی جاتی ہیں فرض اور نفل، یہاں پر نفل ،فرض کے مقابلہ میں ہوتا ہے جس کا مطلب ہوتا ہے زائد یعنی یہ فرض سے زائد ہے لیکن فقہاء پھر اس نفل کی تقسیم کرتے ہیں واجب ، سنت مؤکدہ ،سنت غیر موکدہ اور مستحب کے ذریعہ سے۔ پھر ہر ایک کا الگ الگ حکم بیان کیا جاتا ہے جیسا کہ ماقبل میں مامعلوم ہوگیا کہ واجب کا ترک کرنا بھی گنا ہ ہے اسی طرح سنت مؤکدہ کا ترک کرنے کو معمول بنانا گنا ہ ہے تاہم دونوں کے فرق ہے سنت کے ترک کا گنا ہ واجب سے کم تر درجہ کا ہے اور یہ ایک عقلی اور بدیہی بات ہے اللہ کا حکم نہ ماننا ، یہ بھی برا ہے اور رسول اللہ کا حکم نہ ماننا یہ بھی برا ہے اسی طرح باپ اور بڑے بھائی کا حکم نہ مامنا یہ بھی برا ہے ہاں لیکن نسبت کے اعتبار سے درجہ میں فرق ہے ۔


🍂حال میں ایک تحریر شائع ہوئی جس کا عنوان تھا'' نوافل پڑھنا بہتر ہے لیکن نہ پڑھنے کا گناہ نہیں'' ۔

 اس میں یہ ثابت کیا گیا ہے کہ فرض کے علاوہ تمام نمازیں نفل ہیں چاہے وہ سنت مؤکدہ ہو یا غیر مؤکدہ ہو اس پر عمل کرنا باعث ثواب ہے لیکن عمل نہ کرنا گنا ہ نہیں ہے ۔

 تراویح پڑھ لیں تو بہت اچھاہے نہ پڑھیں تو کوئی حرج نہیں ہے ۔

یہ تحریر ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی صاحب کی ہے ، موصوف جماعت اسلامی کے مؤقر لوگوں میں ہیں اورجماعت اسلامی کے شریعہ اکیڈمی کے ذمہ دار ہیں ، کثرت سے لکھتے ہیں اور سہل نگار واقع ہیں ان کی تحریریں پڑھی جاتی ہیں ، ادھر چند دنوں سے مولانا محترم کی بعض فقہی تحریریں ایسی آرہی ہیں جن سے راقم کو اختلاف ہے ، مولانا موصوف جس رائے کو بہتر سمجھتے ہیں اسے آزادی سے لکھتے ہیں اس لیے میں بھی اپنا فریضہ سمجھتا ہوں کہ آزادی کے ساتھ اپنی رائے رکھوں ، آراء کا اختلاف پہلے بھی رہا ہے ، لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ قارئین کے سامنے تصویر کا دوسرا رخ بھی واضح ہوجائے ۔

مولانا موصوف نے جو لکھا بعد میں ان کے بعض دوستوں نے ان سے رابطہ کیا اور معلوم کیا ہے کہ کیا فجر کی سنت کے ترک پر بھی کوئی گنا ہ نہیں ہوگا تو آپ کا جواب تھا کہ فرض کے علاوہ سب نفل ہے ،کسی نے یہ معلوم کیا کہ یہ تقسیم کہاں سے کی ہے تو جواب تھا کہ اصول فقہ کی کوئی کتاب اٹھا کر دیکھ لیں ، خوشی ہوئی کہ موصوف اصول فقہ کی کتاب کے مطالعہ کا مشورہ دے رہے ہیں ، یہ نہیں کہا کہ حدیث میں دیکھ لیں ، واقعہ یہ ہے کہ جیسا کہ میں نے اوپر بھی لکھا کہ احکام کی دو قسم فرض اور نفل ہے لیکن ہمارے معاشرے میں جو نفل استعمال ہوتا ہے

 وہ اصطلاحی نفل استعمال نہیں ہوتا ہے بلکہ ہمارے درمیان جو نفل رائج ہے وہ سنت غیر مؤکدہ ہے ، اس طرح مولانا نے فقہاء کے نفل کی تشریح نہیں کی ہے کہ فقہاء کے یہاں نفل کے ضمن میں واجب ، سنت مؤکدہ بھی داخل ہے اور اس کا حکم الگ ہے بلکہ انہوں نے معاشرے میں رائج نفل اور اصول فقہ کے نفل کو خلط ملط کرکے لوگوں کو مغالطہ میں ڈالاہے


 🍂مولانا نے سنت مؤکدہ کے جواب میں بھی یہی کہا کہ اس کے ترک پر کوئی گناہ نہیں ہوتا ہے حالاں کہ اوپر علامہ شاطبی ، علامہ شامی ، ابن الہمام ، امام مکحول وغیرہ کے علاوہ عبد اللہ بن مسعود کے اقوال پر اگر نظر ڈالیں تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ سنت مؤکدہ کے ترک کا معمول بنانا درست نہیں ہے اس سے آدمی گنہ گار ہوتا ہے ۔

حدیث سے اس کی تائید بھی ہوتی ہے جماعت میں شریک ہونا زیادہ تر فقہاء کے یہاں سنت ہے لیکن اس میں شریک ہونے والے کے لیے آپ نے اظہار ناراضگی کے طور پر فرمایا : میرا جی چاہتا ہے کہ ان کے گھروں کو آگ لگادوں ۔


🍂میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ ایک ایسے معاشرے میں جہاں لوگ فجر کی سنت یا ظہر کی سنت کو سنت مؤکدہ سمجھتے ہیں اور سنت مؤکدہ کا بہت زیادہ اہتمام کرتے ہیں ایسے ماحول میں یہ تشریح کرکے کہ فرض کے علاوہ تمام نمازیں بشمول وتر کے نفل ہیں اسے پڑھ لیا جائے تو بہت اچھاہے قرب خداوندی کا ذریعہ ،

 فرض کی تکمیل ہوتی ہے لیکن اگر نہ پڑھے تو کوئی گناہ نہیں ہوگا اس کے ذریعہ مولانا نے لوگوں کو تراویح یا دوسری سنت مؤکدہ کے اہتمام پر ابھارا ہے یا ترک پرابھارا ہے؟ 

جو لوگ مولانا کی تحریر پڑھیں گے وہ یہی سمجھیںگے کہ اب تک ہم اس کو ضروری سمجھتے تھے اب معلوم ہوگیا کہ ضروری نہیں ہے پڑھ لیں تو اچھا ہے نہ پڑھیں تو کوئی حرج نہیں ہے ۔ظاہر ہے ایسی صورت میں عمل کی رغبت کم ہوگی اور دوسری طرف معاشرے میں انتشار بھی پیدا ہوگا۔ حالاں کہ قرآن و حدیث کا اسلوب یہ بتاتا ہے کہ بعض مرتبہ اصل حکم سے ہٹ کر تہدید کے لیے اور ڈرانے کے لیے سخت حکم بیان کیا جاتا ہے اگر چہ وہ مقصود نہ ہو ، 


🍂آپ ﷺ نے فرمایا :

من ترک الصلاۃ متعمدا فقد کفرجس نے جان بوجھ کر نماز چھوڑ دیا وہ کافر ہوگیا ، مسلمان جھوٹ نہیں بولتا ہے، جو دھوکہ دے وہ ہم میں سے نہیں ہے ، ان تمام احادیث میں حدیث کا ظاہر مراد نہیں ہے بلکہ محدثین کہتے ہیں کہ یہ تشدید اور تہدید کے طور پر ہے ۔

رمضان المبارک میں وتر جماعت سے پڑھنا افضل ہے یا تنہا رات کے آخری پہر میں پڑھنا افضل ہے ؟

 حضرات صحابہ کا عمل یہی تھا کہ رمضان میں وتر کی نماز جماعت سے پڑھتے تھے ،

 حضرت علی وتر کی جماعت کی امامت کرتے تھے اس لیے جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا افضل ہے ،

 لیکن مولانا رضی الاسلام صاحب نے اپنی ایک دوسری تحریر میں لکھتے ہیں کہ اگر کسی کو رات کے اخیر میں بیدار ہونے کا یقین ہو تو رات میں تنہا وتر پڑھنا افضل ہے ، اس لیے کہ حدیث میں حضور نے فرمایا ہے کہ اپنی آخری نماز وتر کو بناؤ اس حدیث کی بنا پر رات کے اخیر میں تنہا پڑھنا افضل ہے ۔ان کی اس تحریرسے بھی بہت سے لوگوں میں تشویش پیدا ہوئی ہے جہاں تک اس حدیث کا تعلق ہے تو ظاہر ہے کہ حضرات صحابہ کرام کے سامنے بھی یہ حدیث تھی ، اور حضرات صحابہ کرام سے زیادہ نہ کوئی دین سمجھ سکتا ہے اور نہ ہی کوئی دین پر عمل کرسکتا ہے ، اور نہ ہی حضرات صحابہ کرام سے زیادہ کوئی دین دار ہوسکتاہے اور نہ ہی نبی ﷺ کے مزاج سے واقف اور نہ ہی کوئی صحابہ کرام سے زیادہ نبی کا عاشق ہوسکتا ہے اگر صحابہ میں کسی کا انفرادی عمل ہوتا تو یہ گنجائش ضرور ہوتی لیکن صحابہ کا اجماع ہو اس کو چھوڑ کرحدیث کی ایسی تشریح کرنا جس سے یہ ثابت ہو کہ صحابہ کرام کا عمل حدیث کے خلاف تھا اعلی درجہ کی جرأت اور بددیانتی ہے ؟ 

جن صحابہ کرام نے وہ حدیث بیان کی ان کی حدیث تو لیتے ہیں لیکن صحابہ کرام کے اجماعی عمل کا انکار کردیتے ہیں ،

 کیا حضرات صحابہ کرام نبی ﷺکے اس عمل سے واقف نہیں تھے ، پھر تو تراویح کو یہ کہہ کر چھوڑ دینا چاہیے کہ حضورﷺ سے پورے رمضان جماعت کے ساتھ تراویح کا اہتمام ثابت نہیں ہے اورصحابہ کا عمل ہمارے لیے حجت نہیں ہے ۔

حقیقت یہ ہے کہ صحابہ کرام، ہمارے اور نبیﷺ کے درمیان واسطہ ہیں ، دین کے سلسلے میں ان کی پیروی کا حکم دیا گیا ہے اور حضرات خلفاء راشدین کے عمل کو آپ ﷺ نے سنت سے تعبیر کیا ہے ؛اس لیے صحابہ کرام کا عمل نبی کے عمل کی تشریح و توضیح کہلائے گا نبیﷺ کے عمل کے خلاف نہیں کہلائے گے۔  

علم کی صحیح پہچان ترقی و بلندی

1

         علم کی صحیح پہچان ترقی و بلندی

علم کی فضیلت و افادیت کا انکار کیسے ہو سکتا ہے! علم انسان (وجود) کی ان ضرورتوں میں سے ہے جس کی عدمیت سے آگے بڑھنا ممکن نہیں۔ علم اللہ کی وراثت ہے جس کے مقتسم انبیا ہوتے ہیں اور ختمیت کے ازیں ورثۂ انبیا۔ جو قوم باعتبار حالات اپنے آپ کو نہ ڈھلے تو وہ مترقی قطعی نہیں کہلائی جاسکتی۔ ایک المیہ یہ ہے کہ کچھ اشخاص یہ جتلانے کی کوشش کرتے ہیں کہ سائنسی علوم،ماڈرن ٹیکنالوجی کے علوم کو اسلام کے ساتھ کوئی واسطہ نہیں ہے۔ جس چیز سے یہ ذہن بن چکا ہے اصل میں اس کی تاریخ یوں ہے۔ ہزاروں سال پہلے جب سائنس کی ترقی اقوام باطلہ کے ہاتھ لگی تو  ابتداء میں ناقص تحقیقات اور غلط مشورے دینے کی وجہ سے قرون وسطیٰ(بلکہ قرون اولیٰ، کہہ سکتے ہیں جب سے دنیا وجود پذیر ہوئی ہے تب سے سائنس بھی موجود ہے۔ کیونکہ سائنس ہر چیز کے متعلق بات کرتی ہیں اور ہر ایک چیز میں سائنس ہے) کے اسلاف نے اس سے انحراف کیا پر تعاون دیتے رہے اور مستفید ہوتے رہے۔ کیونکہ وجودِ سائنس اسلام کی حقانیت کو ثابت کرنے کے لیے رونما ہوا ہے۔  جس یورپ کی ہم یہ دیں سمجھتے ہیں اُس سے اس کا کوئی تعلق نہیں تھا۔ جیسے جی بی ٹرینیڈ میں بڑی صاف گوئی سے لکھا ہے کہ ” دور حاضر کے ہسپانوی مورخین کے علی الرغم یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ یورپ جن دنوں مادی اور روحانی طور پر تنزل کا شکار تھا اس وقت ہسپانیہ کے مسلمان فاتحین ایک عظیم الشان تہذیب کی عمارت قائم کر چکے تھے۔ انہوں نے ایک منظم اقتصادی زندگی کی بنیاد رکھ دی تھی اور وہ علوم و فنون،فلسفہ اور تعمیرات کے میدان میں نئی نئی مثالیں قائم کر رہے تھے۔ ہسپانیہ کے مسلمان فاتحین کی بلندیٔ فکر کے اثرات  یورپ پر ہر حیثیت سے پڑے اور اگلے برسوں تک پڑھتے رہیں گے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مسلم اسپین نے یورپ کو ہر میدان میں روشنی دکھائی ہے ہے۔“ اور اب ہمارا رسمی اور باقی ان کا تعلق رہا ہے۔ 


ماڈرن علوم کو اسلام سے جدا سمجھنا میرے خیال سے الحاد ہے (ان کے بغیر جو انسانیت کے لیے مضر ثابت ہو) اسلام میں بڑے بڑے مشاہیر علم و سائنس پیدا کیے جن کی ایک لمبی فہرست ہے ان میں سے چند ایک جو آفتاب علم وسائنس پر چمکے وہ ہیں شاطبی، قرطبی، ابن عربی، ابن طعیل، ابن خرم ،ابن جیر ، ابن زہر، ابن بیطار ، ابن ماجہ، ابن رشد، الکندی ،الفارابی ، الغزالی جماعت اخوان الصفا وغیرہ وغیرہ ۔ ان میں سے اگر صرف ایک قاضی ابو الید محمد بن احمد بن محمد بن احمد بن احمد بن رشد الاندلسی(۵۲۰ھ) کوہی اگر لیا جائے تو ہم جانتے ہیں کہ صرف ان کے نقش قدم پر یورپ نے نشاۃ ثانیہ کی ایک ایسی عظیم الشان عمارت تعمیر کی جو آج بھی عقل و مشاہدہ کے مضبوط ستون پر قائم ہے۔


تاریخ کی طرف جانا مقصود نہیں ہے ورنہ وہ ضرورتِ وقت کی کون سی شیٔ تھی جو مسلمان نے ایجاد نہ کی تھی۔


ع   ضرورت ہی ایجاد کی ماں ہوتی ہے


 جیسے ہوائی جہاز،قطب نما، گڑھی، پیپر،پانی کا جہاز، بارود، وغیرہ وغیرہ۔ 

صد افسوس کہ اگر یہ میراث بھی ہم نے منتقل کی ہوتی تو آج وہ علمی ترقی میں یورپ سے کہیں آگے ہوتے اور وہ انقلاب جو یورپ میں رونما ہوا ہمارے گھروں سے جگمگاتے۔

اب بھی مستبعد نہیں، ہمیں اس کی طرف منعطف ہونا چاہیے پر ہمیشہ معیار قرآن کو رکھنا ضروری ہیں کیونکہ وہ کلام ہیں عالم العلوم  کا، جس سے عمیم علوم کی اصول صادر ہوئے ہیں۔


ابن رشد قرآنِ کریم کے بارے میں کہتے ہیں کہ اس کتاب محترم پر نظر ڈالنے سے تین طرح کی آیتوں کا پتہ چلے گا۔ایک خطاطی یعنی وہ آیتیں جن کا مقصد عامۃ الناس کی تعلیم و تفہیم ہے۔ دوسرا جدلی یعنی وہ آیتیں جو مشترکہ طور پر اکثر انسان کے لیے پیش کی گئی ہیں۔ اور تیسری برہانی، یعنی وہ خاص طریقے جو اعلیٰ علم والوں کے لیے پیش کی گئی ہے۔ ان کے نزدیک قرون اولیٰ کے لوگ زیادہ دانش مند تھے جنہوں نے مذکورہ بالا طریقہ پر پوری طرح عمل کیا۔


جس طرح محدث اور فقہی الگ ہے پر جدا نہیں، اسی طرح علوم دینیہ، علم  سائنس سے الگ ہے پر جدا نہیں۔  علما جس قدر علوم دینیہ کو سیکھنے کی مشقیں کرتے ہیں۔ اور ان کا ذہن اور دماغ اس قدر ذہین اور بلندی پر فائز ہوتا ہے کہ کسی سائنسدان سے کم نہیں۔ ان کو بس راستہ اور اسباب دیجئے یہ دنیا کو آپ کے قدموں کے نیچے لا کر رکھ دیں گے۔اس کے تمثیلات ہمارے روبرو ہے۔


پس اگر ضرورت ہے کسی چیز کی تو فکر و تفکر کی، جس طرح قرآنِ کریم میں صادر ہوا ہے کہ تم عقل سے کیوں کام نہیں لیتی ہو، کیوں تم غور و فکر نہیں کرتے ہو۔

خدا کرے اب ہمیں ہوش آئے اور عقل کے ناخن لیں، اپنی عظمتِ رفتہ کی بازیابی کی راہ کھو نہ دیں اور اپنے اسلاف کی طرح علم وسائنس خوب خوب محنت ومشقت کر کے امتِ مسلمہ کو پھر اس مقام پر لے جائیں جس کا قرآن و سنت نے وعدہ کیا ہے۔  غم نہ کھا، مت گھبرا ، تم ہی غالب رہو گے، اگر تم مومن ہو۔ آمین و کوشاں از تغیرِ حالت۔

ماجد کشمیری


دارالعلوم رحیمیہ کشمیر کا پہلا سفر

0

 ایک ایسا دن جب میری امیدیں رنگ لیتی ہوئی نظر آ رہی تھی۔ پانچ سالوں کی محنت رنگ لانے کو تھی، میرے عزائم میں سے ایک عزم پورا ہونے کو تھا۔ پہلی دفع جب اہل خانہ راضی ہوئیں۔۔وہ دن: جب میں دارالعلوم رحیمیہ کشمیر میں داخلہ کے لیے گیا، اس روز میں اپنے کمرے میں تشریف فرما تھا اور تدابیر اور تراکیب کو عملی جامہ پہنانے کی سعی کررہا تھا کہ اچانک دروازے پر دستک ہوئی: کون

: میں ہوں، امی، آئیں۔ بابا کہہ رہے ہیں آپ کو آنا ہے تو اٹھو، کہاں، مدرس: میں پھولے نہ سمایا، ایسا لگا کہ یہ ظریفانہ کہہ رہیں ہیں، پر سنجیدگی کے آثار نظر آ رہے تھیں، آخر، میں اٹھا اور نیچے گیا تو بابا جان بات کہہ رہیں ہیں بڑے بھائی سے: چلیں کوئی ڈرائیور دیکھ لیں، ہم اپنی گاڑی میں جائیں گے تاکہ تاخیر اور تھکاوٹ محسوس نہ ہو، لمبا سفر ہے۔ انکی نظر میں کوئی نہیں آیا پر راقم الحروف نے اپنے عزیز دوست مزمل کو فون گھمایا، اور انھیں عاجزانہ درخواست کی کیا آپ مصروف تو نہیں ہے آپ ہمارے ساتھ چل سکتے ہے سفرِ عظیم (ہمارے لیے تو سفر عظیم ہے)  پر، شقاوت سے انہیں مصروفیات تھی،انہیں، الفاظ زبان کا ساتھ نہیں دیں رہیں تھیں،۔۔۔۔ اور امی نے کہا کہ کیا بولیں۔۔۔ کچھ نہیں وہ مصروف ہے۔۔۔۔ بابا نکل گئیں اور مزمل بھائی کا فون آیا کہ چلیں ہم عملِ حال کو مؤخر کر رہے ہے ہم آپ کے ساتھ ہی چلیں گے۔ پر والد صاحب ابھی واپس نہیں آئیں تھیں اور میں نے ان سے کہا، روکیں! بابا یہاں نہیں وہ باہر نکلیں ہیں، ہم انتظار کرتے ہے، ۔۔۔۔۔کچھ دیر بعد ابو آئیں اور بولیں اٹھو! ہم نکلتے ہیں اب ہم ٹرین سے جاتے ہیں۔۔۔۔بڑے بھائی نے ٹرین اسٹیشن تک چھوڑا اور ہم نے ٹکٹ نکالی۔۔۔۔انت ناگ سے سوپورہ تک۔۔۔۔۔اسٹیشن پہ والد صاحب کے خالہ زادہ۔۔۔۔ ملیں۔ ان سے بابا نے گفتگو کی وہ مدارس سے واقف تھے اور۔۔۔۔ آخر میں والد سے بولیں: اب دیکھنا اور محسوس کرنا کہ کس قدر وسیع اور کیسا تعلیمی نظام ہے۔۔۔ 

 ٹرین میں بھیڑ کی وجہ سے ایک جگہ نشست نہ ملی تو میں تھوڑا دور بیٹھ گیا۔ میں خود تشویش میں مبتلا تھا اور والد محترم کا چہرہ بھی مایوس نظر آ رہا تھا جیسے کہ عمیق سوچ میں ڈوب گیا ہیں۔ ۔۔۔ پھر بھیڑ سری نگر میں کم ہوئی اور ابو میرے پاس آئیں۔۔۔میرے پاس ایک چاچا تھے ان سے بات کرنی شروع کی۔۔۔۔میں جس تشویش میں گیر تھا اس میں اضافہ ہوا اور دروازے پر بیٹھ گیا ہوا لینے کے لئے۔۔۔۔۔ اور مجھے محسوس ہوا میں والدین کا گناہگار اور مجرم ، گلٹی فیل ہوا ۔۔۔۔۔۔آخر۔۔۔ سوپورہ پہنچ گئے وہاں سے بانڈی پورہ کی گاڑی لی۔۔۔۔۔ اور اپنی منزل پر پہنچ گئیں یعنی دارالعلوم رحیمیہ، وقت نماز کا تھا ہم نے غسل خانے کی جانب رک کیا، وضو کرنے سے پہلے ایک سریلی آواز اپنی طرف مبذول کرنے لگی: مولانا صاحب طلبا کو بیدار کر رہے تھیں: اٹھو، اٹھو آپ ابھی بھی سو رہے ہو، ذرا اس کو دیکھو، ذرا اِس کو دیکھو ۔ کتنی سریلی اور جذبہ ایمان کو بڑھانے والی صدا تھیں۔۔۔۔ نماز ادا کرنے کے غرض سے عمیم طلبا اور ہم مسجد شریف کی طرف قدوم بڑھاتے ہوئے ۔۔۔۔ اور پھر سنتیں ادا کرنے کے بعد دبر کی طرف دیکھا تو علامات مسلمانی سے لبریز چہرے دیکھنے کو ملیں۔۔۔۔ اور دیر بعد وقتِ نماز آ پہنچا ادارے کے مہتممِ (دارالعلوم رحیمیہ کشمیر) کے بھائی جان جو موصوف کے چہرے کے ساتھ بہت مماثلت رکھتیں ہیں، انہوں نے نماز ادا کروائی اور انفرادی دعائیں مانگنے کے ازیں ہم العبد وسیم اکرم دامت برکاتہم العالیہ سے رابطہ کرنے کی کوشش کی۔۔۔۔  معمولاً میں کتب خانہ کی طرف منعطف ہوتا ہوں مجھے رحیمیہ کا کتب خانہ نظر آیا۔۔۔میں اس جانب مبذول ہوا تو ۔۔۔۔ اچانک ان کا فون آیا اور معلوم کر رہیں تھیں کہ کہاں آپ تشریف فرما ہے۔۔۔ میں واپس آیا۔۔۔ان سے ملاقات کے شرف سے مشرف ہوئے اور ہم مہمان خانے کی طرف بڑھنے لگے۔۔۔۔۔کچھ گونا گوں باتوں کے ازیں۔۔۔۔ کھانا لایا گیا اور ہم نے تناول کے لیے (تب سے مجھے بھوک سی لگ رہی ہیں)، جس کا میں تبرکاً فریفتہ ہوا ۔۔۔۔۔ پھر داخلہ کے کاروائی کا عنفوان ہوا.... محکمہ داخلہ کے منتظم سے تنوع باتوں کے ساتھ انہوں انگریزی میں محاورہ ارشاد فرمایا جس کا مطلب:” خدا مدد ان کی کرتا ہیں جو خود کی مدد کرتے ہیں“ ۔۔۔خیر داخلہ فارم دینا کے  بعد مفتی دامت برکاتہم العالیہ کے پاس امتحان دینے کے لیے جانا تھا۔۔۔ انہوں نے تعارف کے بعد سابقہ مطالعہ شدہ کتب کو نوشت کرنے کا حکم دیا ۔۔۔۔۔۔ اور ایسا ہی کیا گیا ۔۔۔پھر قرآن کی روانگی و ادائیگی کا جائزہ لیا ۔۔۔۔ آخر الحمد مشکلاً کامیابی حاصل ہوئی ۔۔۔۔ پھر بابا سے باتیں ہوئیں۔۔۔۔ اور دیر کے سبب ہم  روانہ ہوئے ۔۔۔۔ دلِ مسرور کی حالت ہی نہ پوچھئے۔۔۔۔ جاری 

معراج جسمانی ہوئی یا روحانی| نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات روحانی ہیں یا جسمانی۔

0

 معراج قسطہ ۵

ملفوظات گھمن ۵

معراج جسمانی ہوئی ہے!


بعض لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معراج جسمانی کا انکار کیا ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ معراج روحانی ہوئی ہے یعنی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا جسم اطہر نہیں گیا بلکہ فقط حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی روح مبارک گئی ہے ۔ جبکہ اہل السنۃ والجماعۃ کا نظریہ یہ ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو صرف روحانی معراج نہیں بلکہ جسمانی معراج ہوئی ہے، اس لئے کہ روحانی معراج حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا کمال نہیں ہے ۔ کوئی بندہ یہاں سویا ہوا ہو اور دیکھے کہ میں آسمان پر گیا ہوں ، میں عرش پر گیا ہوں ، میں مکہ گیا ہوں ، میں مدینہ گیا ہوں تو یہ کوئی کمال نہیں ہے کیوں کہ صرف روح تو عام بندے کی بھی جاسکتی ہے ۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اعزاز اور اعجاز یہ ہے کہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی صرف روح نہیں بلکہ جسم بھی ساتھ جائے ۔ اس لئے ہمارے علماء کہتے ہیں کہ آج کے دور میں جب کوئی کہے کہ ہم معراج مانتے ہیں تو ان سے یہ پوچھیں کہ معراج مانتے ہو یا معراج جسمانی مانتے ہو؟ کیوں کہ وہ کہے گا معراج اور نیت کرے گا روحانی کی ، روحانی پر اختلاف نہیں ہے اختلاف تو معراج جسمانی پر ہے۔


بالکل اسی طرح جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم موت کے بعد قبر مبارک میں زندہ ہیں ۔ اگر کوئی بندہ کہے کہ ہم حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کوزندہ مانتے ہیں تو آپ نے پوچھنا ہے کہ حیات روحانی مانتے ہو یا جسمانی مانتے ہو؟ ورنہ لوگ دھوکہ دیں گے حیات کہہ کر اور روحانی مان کر ڈنڈی مار جائیں گے ۔ معراج کہیں گے اور روحانی مان کر ڈنڈی مار لیں گے ۔


ہم وفات کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات بھی جسمانی مانتے ہیں اور مکہ سے عرش تک حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا معراج بھی جسمانی مانتے ہیں۔


کتبہ ماجد کشمیری

ماہ شعبان کی فضیلت|نصف شعبان کے بعد روزہ کی کراہیت کی وجہ کیا ہے ؟

0

 بسم اللہ الرحمن الرحیم

اللہ تعالی ہمارے  پورے شعبان میں برکتیں نصیب اور  رمضان تک پہنچائے۔

عن انس بن مالک رضی اللہ عنہ قال:  کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اذا دخل رجب قال : اللہم باریک لینا فی رجب وشعبان وبلغنا رمضان۔ 

المعجم الاوسط للطبرانی،رقم الحدیث:3939

ترجمہ: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رجب کا مہینہ آتا تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگا کرتے تھے: اے اللہ! ہمارے لیے رجب اور شعبان میں برکت عطا فرما اور ہمیں ماہِ رمضان تک پہنچا۔


ماہ شعبان کی فضیلت: 

آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے چاند اور اس کی تاریخ ہو کہ حساب کا بھی بہت اہتمام فرماتے تھے۔ 

عن ابی هریرۃ رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احصوا جلال شعبان لرمضان۔

جامعہ ترمذی: رقم الحدیث 687

ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شعبان کی چاند ( تاریخوں) کو خوب اچھی طرح محفوظ رکھو تاکہ رمضان کی آمد کا حساب لگانا آسان ہو سکے۔

یعنی رمضان کی صحیح حساب کے لئے شعبان کا چاند اور اس کی تاریخوں کو خصوصیت سے یاد رکھا جائے۔جب شعبان کی آخری تاریخ ہو تو رمضان کا چاند دیکھنے میں پوری کوشش کی جائے۔

رمضان کا مقدمہ: 

شعبان آٹھواں اسلامی مہینہ ہے جو رمضان المقدس سے پہلے آتا ہے۔اس مہینے کو اللہ تعالی نے بہت فضیلت عطا فرمائی ہے، جس کی عظیم وجہ تو یہ معلوم ہوتی ہے کہ اس مہینے میں ماہ رمضان کے روزوں،تواریخ اور دیگر عبادات کی تیاری کا موقع ملتا ہے،رمضان جو اپنے برکتوں،رحمت اور عنایات ربانی کا موسم بہار ہے اس کی تیاری کا ماہ شعبان سے شروع ہونا اس کی عظمت کو چار چاند لگا دیتا ہے۔گویا شعبان کو رمضان کا مقدمہ کہنا چاہیے۔


ماہِ شعبان کے روزے

آپ صلی اللہ علیہ وسلم شعبان میں کثرت سے روزے رکھا کرتے تھے،بلکہ رمضان کے بعد ماہ شعبان میں روزوں کا زیادہ اہتمام فرماتے تھے۔ 

1: عن عائشہ رضی اللہ عنہا  قالت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یصوم حتی نقول لا یفطر و یُفطر حتی نقول لا یصوم فما رایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم استکمل صیام شھر الا رمضان و مارایتہ اکثر صیاما منہ فی شعبان


صحیح البخاری: رقم الحدیث 1969

ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو (غیر رمضان میں) شعبان کے مہینے سے زیادہ کسی اور مہینے میں روزے رکھتے ہوئے نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ دونوں کے علاوہ پورے شعبان کے روزے رکھتے، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو پورے شعبان کے روزے رکھا تھے۔

یہاں پورے شعبان کے روزے رکھنے سے مراد یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر شعبان کے روزے رکھا  کرتے تھے، کیونکہ بعض مرتبہ اکثر پر کل کا اطلاق کردیا جاتا ہے۔

3: المسغوبات من الصیام انواع اولھا صوم المحرم والثانی صوم رجب والثالث صوم شعبان و صوم عاشوراء۔

فتاوی عالمگیری،ج:1،ص:202

ترجمہ: مستحب روزں کی کئی قسمیں ہیں: محرم کے روزے،رجب کے روزے،شعبان کے روزے اور عاشوراء کے (دو)روزے۔

نصف شعبان کے بعد روزے نہ رکھنے کی تحقیق: 

عن ابی ھریرہ رضی اللہ عنہ قال:قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اذابقی نصف من شعبان فلا تصوموا۔

جامع الترمذی،رقم الحدیث :738

ترجمہ: رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شعبان کا مہینہ آدھا رہ جائے تو روزی نہ رکھا کرو۔

اس ریوایت کے پیش نظر فقہاءِ کرام نے پندرہ شعبان کے بعد روزہ رکھنا مکروہ قرار دیا ہے،ساحل البتہ چند صورتوں کو متثنی فرمایا ہے کہ ان میںنے پندرہ شعبان کے بعد روزے رکھنے میں کوئی حرج نہیں۔ وہ صورتیں یہ ہیں:

1: کسی کے ذمہ قضائر روزہ ہو یا واجب (کفارہ وغیرہ کے) روزے ہوں اور وہ انہیں انعام رکھنا چاہتا ہو۔

2: ایسا شخص جو شروع شعبان سے روزہ رکھتا چلا آرہا ہو۔

3: ایسا شخص کی جس کی عادت یہ ہے کہ مخصوص دنوں یا تاریخوں کے روزے رکھتا ہے،  اب وہ دنیا طاری شعبان کے آخری دن میں آ رہی ہوں تو روزہ رکھنے میں کوئی  حرج نہیں بشرطیکہ ایسی کمزوری کا خطرہ نہ ہو گی جس سے رمضان کے روزوں کا حرج ہونے کا اندیشہ ہو۔ ملخص: درسِ ترمذی: ج:2، ص:579


نصف شعبان کے بعد روزہ کی کراہیت کی وجہ کیا ہے ؟

 حکیم الامت ماہ مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”میرا تو ذوق یہ کہتا ہے کہ رمضان شریف میں جو جاگنا ہو گا اس شب کا جاگنا اس کا نمونہ ہے اور یہ صوم ایام رمضان شریف کا نمونہ ہے ۔ پس دونوں نمونے رمضان کے ہیں ، ان نمونوں سے اصل کی ہمت ہو جاوے گی۔ پھر اس صوم کے بعد جو صوم سے منع فرمایا اس میں حقیقت میں رمضان کی تیاری کے لیے فرمایا ہے کہ جب شعبان آدھا ہو جائے تو روزہ مت رکھو۔ مطلب یہ کہ سامان شروع کرو رمضان کا یعنی کھاؤ، پیو اور رمضان کے لیے تیار ہو جاؤ اور یہ امید رکھو کہ روزے آسان ہو جائیں گے “ 

خطبات حکیم الامت: ج:7،ص: 391

رد غیر مقلدیت| اہل حدیث کی تحریفات

0

 سلسلہ رد غیر مقلدیت نمر ۲۱

تحریف مفہوم کا دوسرا نمونہ: آپ کے مشہور مصنف محمد اقبال کیلانی صاحب اپنی کتاب الصلاۃ میں لکھتے ہیں عن ابی هریرۃ رض اللہ عنہ أن النبی ﷺ امره أن یخرج فینادی لاصلاۃ إلا بقراءۃ فاتحۃ الکتاب فما زاد . (ص۸۰)

حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہیں رسول اللہ ﷺ نے یہ اعلان کرنے کا حکم فرمایا کہ سورۃ فاتحہ پڑھنے کے بغیر نماز نہیں ہوتی اس سے زیادہ جتنا کوئی چاہے پڑھے۔(ص ۸۰)۔

حدیث میں سورۃ فاتحہ اور فمازاد کا ایک ہی حکم بیان کیا گیا ہے جبکہ مترجم نے ترجمہ میں تحریف کر کے فاتحہ اور فمازاد کا حکم علیحدہ علیحدہ کر دیا۔ کیا یہ تحریف کی بدترین مثال نہیں ہے؟ پھر بھی تمہیں اصرار ہے کہ تم اہل حدیث ہو ۔ آج امانت کے گھر میں صف ماتم بچھی ہوئی ہے دیانت کا جنازہ نکل چکا ہے ۔ ہم رور ہے میں چِلّا رہے ہیں لیکن ہماری آواز ہے کہ صدا بصحرا۔ 


    میرے بس میں ہو تو غیر مقلدوں کی آنکھوں سے تعصب کی عینک اتار کر انہیں تحریف کا یہ نمونہ دکھا دوں ۔ ان کے دماغوں سے مسلکی جمود کے پردے ہٹا کر انہیں حدیث کا صحیح ترجمہ سکھا دوں ۔ ان کے کانوں سے اندھی تقلید کی تھونسی ہوئی انگلیاں نکال کر انہیں آنحضور ﷺ کا اصلی اور سچا پیغام سنادوں۔


دیکھو خود تمہارے ہی مولانا اسماعیل سلفی اس کا ترجمہ یوں کرتے ہیں : سورہ فاتحہ و مازاد کے بغیر نماز نہیں ہوتی ۔( رسول اکرم کی نماز ۲۸ ) دونوں ترجموں میں کتنا واضح فرق ہے؟


چنگیاں لیتی ہے فطرت چیخ اٹھتا ہے ضمیر

 کوئی کتنا ہی حقیقت سے گریزاں کیوں نہ ہو


اس واضح تحریف اور دغا کے باوجود تم اپنی تحریروں میں یہ شعر لکھتے ہو  اور تقریروں جھوم جھوم کر پڑھتے ہو:

 ما اہل حدثیم دغا رانہ نشنا سیم 

با قول نبیﷺ قول فقہا رانہ نشنا سیم

 (ترجمہ ) ہم اہل حدیث ہیں جو دھوکہ فریب نہیں جانتے نبی ﷺ کے قول کے ساتھ فقہاء کے قول کو نہیں جانتے ۔اب خود ہی بتاؤ تم نے مندرجہ بالا حدیث کے ترجمہ و تشریح میں حدیث پر جو ہاتھ صاف کیا ہیں اس کا کیا عنوان دوں گے؟ اور آقائے مکی و مدنی علیہ الصلوۃ والسلام کو کیا جواب دو گے؟

غیر مقلد: آپ نے تو مجھے حیران ہوا پریشان کر دیا ہے۔یہ تو ہماری مرکزی دلیل ہے لیکن اس کے بہت سے پہلو ہم سے مخفی رکھے گئے تھے۔اور ہم طوطے کی طرح بغیر تفصیلات سمجھے اس کی رٹ لگاتے رہے۔

سنی: میں نے نہیں بلکہ آپ کے طریقہ کار نے آپ کو پریشان کیا ہے۔ جب تم صحابہ کے قول و فعل کو چھوڑ کر چودھویں پندرہویں صدی کے لوگوں پر اعتماد کرو گے تو وہ تمہارا علمی و فکری استحصال نہیں کریں گے تو اور کیا؟

    

جب تم احادیث کو صحابہ کے حوالے سے نہیں سمجھو گے اور ان کے فہم کو مسترد کرکے چودھویں صدی کے آپ نے ان لوگوں کے فہم پر اعتماد کرو گے تو پھر وہ تمہیں مندرجہ بالا طریقے سے ہی حدیث سمجھائیں گے۔ 

غلط بیانی کا نمونہ: آپ کو تعجب ہوگا کہ آپ کی عظیم شیخ الحدیث مولانا اسماعیل سلفی صاحب اپنے فرقے کے لوگوں کو بارو کرنا چاہتے ہیں کہ فاتحہ خلف الامام کے مصلے میں غیر مقلد حدیثوں پر عمل کرتے ہیں، جبکہ حنفی اس کے مقابلے میں امام کو بنیاد بناتے ہیں۔ جب کہ اصل صورت حال آپ دیکھ چکے ہیں۔ شیخ موصوف لکھتے ہیں۔ بزرگوں کا احترام اچھی بات ہے لیکن آنحضرت ﷺ کے اقوال گرامی میں سب سے زیادہ قابل احترام ہیں، اقوال ائمہ کی تاویل ہو سکے تو ہو جانے چاہیے احادیث نبویہ کے لئے ائمہ کے اقوال و مذاہب کو معیار نہیں کرا دینا چاہیے۔ ( رسول ﷺ کی نماز:ص ۷۲)

غلط بیانی کا دوسرا نمونہ: حکیم صادق سیالکوٹی صاحب نے ( سبیل الرسول ص:۵۰) پر لکھا ہے کہ ” فاتحہ نہ پڑھنے والے کو یو چھو تو کہتے ہیں: ابو حنیفہ نے روکا ہے“

اس عبارت میں موصوف نے سینہ زوری کرتے ہوئے اپنے ہی لوگوں کو غلط فہمی میں ڈالنے کی کوشش کی ہے کہ ہم تو حدیث پر عمل کرتے ہیں،جبکہ امام کے پیچھے فاتحہ نہ پڑھنے والوں کے پاس کوئی حدیث نہیں۔بلکہ وہ تو حدیث کے مقابلے میں اپنے امام کے قول کو بنیاد بناتے ہیں۔ نیز تمہارے مولانا عبداللہ روپڑی لکھتے ہیں کہ : ” حنفیہ کا مسئلہ بڑا خطرناک ہے کیوں کہ یہ صریح حدیث کے خلاف ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو فرماتے ہیں کہ فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی اور یہ کہتے ہیں کہ یہ ہوتی ہے “( امتیازی مسائل ص ۵۱) 

جب کہ آپ گزشتہ گفتگو میں سن چکے ہیں کہ ہماری دلیل کتنی مضبوط ہے اور۔۔۔۔جاری 


بین مذہبی شادی ،اسلام کی نظر میں| ارتداد کے بنیادی اسباب

0

جو وابستگان اسلام کے لیے لمحۂ فکریہ اور ہماری دینی حمیت کے لیے سوالیہ نشان ہیں۔


 بین مذہبی شادی ،اسلام کی نظر میں:


کسی بھی غیر مسلم کے ساتھ شادی کرنا اور ازدواجی تعلق قائم کرنا کیسا ہے؟ اس میں اسلامی قانون کی کیسی خلاف ورزی پائی جاتی ہے؟اور اس طرح کرنے والا دائرۂ اسلام میں رہتاہے یا خارج ہوجاتاہے ؟ آئیے ہم اس سلسلہ میں کتاب و سنت سے رہنمائی حاصل کرتے ہیں ۔چناں چہ غیرمسلم مرد سے نکاح کے بارے میں قرآن پاک کا صاف اور کھلا حکم موجود ہے: اور مشرک عورتوں سے اس وقت تک نکاح نہ کرو جب تک وہ ایمان نہ لے آئیں ۔ یقینا ایک مومن باندی کسی بھی مشرک عورت سے بہتر ہے، خواہ وہ مشرک عورت تمہیں پسند آرہی ہو، اور اپنی عورتوں کا نکاح مشرک مردوں سے نہ کراؤ جب تک وہ ایمان نہ لے آئیں ۔ اور یقینا ایک مومن غلام کسی بھی مشرک مرد سے بہتر ہے خواہ وہ مشرک مرد تمہیں پسند آرہا ہو۔ یہ سب دوزخ کی طرف بلاتے ہیں جبکہ اللہ اپنے حکم سے جنت اور مغفرت کی طرف بلاتا ہے، اور اپنے احکام لوگوں کے سامنے صاف صاف بیان کرتا ہے تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں ۔ ( سورۃ البقرۃ: ۲۲۱)


یہ حکم کس قدر اہميت کا حامل ہے اس کا اندازہ اس سے لگائیں کہ قرآن نے صرف حکم ہی بیان کرنے پر اکتفا نہیں کیا؛ بلکہ مومن مرد اور عورت کو جدا جدا خطاب کرکے منع کرنےکےساتھ اس کی حکمت اور وجہ بھی بیان کردی۔ اول تو مشرک مرد و عورت سے نکاح کو اس وقت تک منع قراردیاجب تک وہ ایمان قبول نہ کرلیں ۔ پھر فوراہی فیصلہ کن انداز میں اس صورت کو بھی بیان کردیا کہ کافر و مشرک جاہ و جلال حسن و جمال اور حسب و نسب کے اعتبار سے تمہیں کتنا ہی پسند کیوں نہ آئے، اس کے مقابلے میں دنیاوی اعتبار سے سے کم حیثیت والا مومن ہی تمہارے لیے ہزار درجہ بہتر ہے قرآن نے اپنے بلیغ اسلوب میں اس کو یوں بیان کیا: ”ایک مومن غلام اور باندی مشرک مرد و عورت سے بہتر ہے ” ۔ اس کی اصل حکمت یہ بیان کی کہ یہ کافر اور مشرک دوزخ اور جہنم میں لے جانے والے ہیں اور اللّٰہ تعالی اپنے ارشاد سے جنت اور مغفرت کی طرف بلاتا ہے ۔ اصل ناکامی اور کامیابی ہی یہی ہے؛اس لیے اخیر میں شفقت بھرے لہجے میں ارشاد فرمایا کہ یہ احکام صاف صاف اس لیے بیان کیے جاتے ہیں ، تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں ۔ اس اسلوب سے اس طرف بھی اشارہ ملتا ہے کہ مخاطب کے فائدے کے پیش نظر ہی مذکورہ حکم دیا گیا ہے۔


پتہ چلا کہ صدق دل سے اسلام قبول کرنے سے پہلے کسی غیر مسلم کا نکاح مسلمان خاتون کے ساتھ جائز نہیں، نکاح منعقد ہی نہیں ہوتا، ازدواجی تعلق حرام کاری کے زمرہ میں داخل ہوتا ہے، ایمان جیسی قیمتی دولت کو جنسی خواہش کی بھینٹ چڑھا دینا اور غیر مسلم کی ہمہ وقت صحبت و معیت اختیار کرکے اپنے دین و ایمان کو خطرہ میں ڈالنا کس قدر سنگین جرم ہے کہ ایسی بدکاری کی حالت میں دین و ایمان کا سلامت رہ جانا بھی دشوار ہے، اسی حالت میں موت آجانے کی صورت میں آخرت میں جو انجام ہوگا، اس کے تصور سے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں، ایک مسلمان بندی اپنے خالق و مالک کے روبرو کس طرح کھڑی ہوگی اور اپنے اعمال و ایمان کا کیا جواب اس کے پاس ہوگا؟حضرت محمدﷺ جن کے طفیل ہمیں دین وایمان کی دولت ملی، انہوں نے ایک ایک امتی کے لیے کیسی کیسی دعائیں کیں، مسلمان بندی ان کو کیا منہ دکھائے گی، اپنے دین و ایمان کوغارت کرنے کا کیا جواز وہ پیش کر سکے گی؟


ارتداد کے بنیادی اسباب :


غور کیاجائے اور سنجیدگی سے جائزہ لیاجائے تواس برائی؛بل کہ بےحیائی کےبہت سارے اسباب ہیں ؛جن میں فحش وناجائزتعلقات پرمبنی ٹی وی سیریل ،موبائیل کا غلط استعمال،مخلوط نظام تعلیم، ذاتی طورپردینداری کی کمی اور مسلم گھرانوں میں دینی ماحول کا فقدان وغیرہ سر فہرست ہیں،آج عفت وعصمت ،پاکیزگی وپاک دامنی کی کوئی فضیلت واہمیت دلوں میں باقی نہ رہی؛ بل کہ عفت وعصمت کی قدروں کو پامال کرنا، ایک فیشن بن گیا اور جو شرم وحیاء اور عصمت کی بات کرے وہ ان لو گوں کی نظرمیں دقیانوسی اور حالات زمانہ سے بے بہرہ اور تاریک خیال ٹھہرایا گیا۔اخلاق و شرافت، تہذیب وانسانیت کی جگہ حیوانیت و درندگی، دنائت و بدتہذیبی نے لے لی اور انسانیت واخلاق کی توہین کرنا ،ایک محبوب مشغلہ بن گیا۔

 آج ہمارے بچے یہ نہیں جانتے کہ ان کے مسلمان ہونے کا معنی کیا ہے ؟ ہم مسلمان کیوں ہیں ؟ ہم میں اور کافر میں کیا بنیادی فرق ہے؟ آج کی نسل طہارت کے موٹے موٹے مسائل بھی نہیں جانتی !ہمارے بچوں کو محرم ونامحرم کسے کہتے ہیں اس کی بھی تمیز نہیں !یہ کتنے افسوس بات ہے کہ کھانے کے لیے جینا اور جینے کے لیے کھانا ہمارا مقصد بن چکاہے ،ہمیں اپنے دین کی ترقی سے کوئی مطلب نہیں ،والدین کو اولاد کی تربیت کاکوئی احساس نہیں ،نوجوانوں کو اپنےدینی مستقبل کی کوئی فکر نہیں ہر شخص ذمہ داری کے احساس سے خالی ہے جب کہ سرکار دوعالم ﷺفرمارہے ہیں :تم میں سے ہر شخص ذمہ دار ہے اور اس سے اس کی ذمہ ادرای کے بارے میں پوچھا جائے گا ۔(متفق علیہ) 


ماخذ: آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

© 2023 جملہ حقوق بحق | اسلامی زندگی | محفوظ ہیں