تقویمِ ہند
ہجری و عیسوی تاریخیں — ہندوستان کے مقامی وقت کے مطابق
آجہجری تاریخ مقامی رؤیتِ ہلال کے مطابق ایک دن آگے یا پیچھے ہو سکتی ہے۔
ہجری تاریخ ہندوستان کے مقامی وقت (Asia/Kolkata) کے ساتھ ایک روزہ مقامی فرق کو ترجیح دیتی ہے؛ مقامی شرعی رؤیت کی صورت میں تاریخ ±۱ دن مختلف ہو سکتی ہے۔

سلسلہ اسلامی عقائد و معلومات

0

سلسلہِ اسلامی عقائد و معلومات

قسط 3 

سوال ۱۰۔ رسول و نبی کسے کہتے ہیں؟

 جواب۔ انسانوں میں سے اللہ تعالیٰ کے وہ خاص بندے جن کو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں تک اپنے احکامات پہنچانے کے لیے بھیجتا ہے ان کو نبی اور رسول کہا جاتا ہے۔


سوال ۱۱. مسلمان کو کن چیزوں پر ایمان رکھنا ضروری ہے؟ جواب۔ ہر مسلمان کو سات چیزوں پر ایمان لانا ضروری ہے (۱) خدا پر (۲) اس کے فرشتوں پر (۳) اس کی کتابوں پر (۴) اس کے تمام رسولوں پر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری نبی ہونے پر اس حیثیت سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی پیدا نہ ہو گا (۵) آخرت کے دن پر (۶) اور اس بات پر کہ بھلی یا بری تقدیر اللہ کی طرف سے ہے۔ (۷) مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے پر۔


سوال ۱۲۔ تقدیر کے کہتے ہیں؟


جواب۔ ہر بات اور اچھی بری چیز کے لیے اللہ تعالیٰ کے علم میں ایک اندازہ مقرر ہے اور ہر چیز کے پیدا کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ اس سے جانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اس مقرر کیے ہوئے اندازہ کو تقدیر کہتے ہیں۔


 سوال ۱۳۔ دنیا میں سب سے پہلے اور سب سے آخری نبی کون ہیں؟


جواب۔ سب سے پہلے حضرت آدم علیہ السلام نبی بن کر آئے اور سب سے آخری نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ 

سلسلہِ اسلامی عقائد و معلومات

0

سلسلہِ اسلامی عقائد و معلومات

قسط 2 از اسلامی زندگی / Majid Kashmiri 

سوال ۵. اللہ تعالی کے بارے میں اسلامی عقیدہ کیا ہے؟

جواب۔ اللہ تعالی اس تنہا ویکتا پاک و بے عیب ہستی کا نام ہے جو ہمیشہ سے ہیں اور ہمیشہ رہے گا، اس کا کوئی مثل و شریک نہیں، وہ تمام صفاتِ کمالیہ کا جامع ہے۔ 


سوال ۶. اللہ تعالی کی صفات کمالیہ کیا کیا ہیں؟جن پر ایمان لانا ضروری ہے۔

جواب۔ حیات، علم، سمع، بصر، قدرت، ارداہ، کلام اور خلق و تکوین۔ 

سوال۷. خدا تعالیٰ کے لیے بیٹا یا بیٹی ہونا ممکن ہے؟

جواب۔ خدا تعالیٰ نہ کسی کا باپ ہو سکتا ہے اور نہ بیٹا کیونکہ توالد و تناسل خاصہِ جسمانیت ہے اور اللہ تعالیٰ جسمانیت سے پاک ہے۔


سوال ۸: فرشتوں کے بارے میں اسلامی عقیدہ کیا ہے؟

 جواب۔ اسلامی عقیدہ یہ ہے کہ فرشتے اللہ کے معصوم و مکرم بندے ہیں۔ جن کو اللہ تعالیٰ نے نور سے پیدا کیا اور ہماری نگاہوں سے ان کو پوشیدہ رکھا، ان کی تعداد صرف خدا کو معلوم ہے۔


 سوال ۹۔ مشہور اور مقرب فرشتے کون ہیں؟ اور ان کی ذمہ داریاں کیا ہیں؟

 جواب۔ چار فرشتے مشہور و مقرب ہے (۱) جبرئیل علیہ السلام جو خدا تعالیٰ کی کتابیں اور احکام پیغمبروں تک لاتے تھے۔ (۲) اسرافیل علیہ السلام جو قیامت میں صور پھونکیں گے۔ (۳) میکائیل علیہ السلام جو بارش کا انتظام کرنے اور مخلوق کو روزی پہنچانے پر مقرر ہیں. (۴) عزرائیل علیہ السلام جو مخلوق کی روح نکالنے پر مقرر ہیں۔


قسط سوم 

اسلامی عقائد و معلومات

0

سلسلہِ اسلامی عقائد و معلومات 

قسم 1 از اسلامی زندگی/ ماجد کشمیری 


سوال ۱. ایمان کیا ہے؟ 

جواب: خدا اور اس کے بھیجے ہوئے رسول پر دل سے یقین اور زبان سے اقرار کرنے کا نام ہے۔ 


سوال ۲. اسلام کیا یے؟

جواب: اسلام ایک سچا دین ہے جو یہ سکھاتا ہے کہ خدا ایک ہے حضرت محمد ﷺ اس کے بندے اور آخری رسول ہیں قرآن شریف خدا کی آخری کتاب ہے دنیا و آخرت اخرت کی تمام بھلی باتیں اسلام میں ہیں۔ 

سوال ۳. اسلام کی بنیاد کن چیزوں پر ہے؟

جواب: اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے ان میں سے اول نمبر پر ایمان ہے یقیہ بر چیزیں اعمال ہیں۔ نماز، روزہ ، حج ، زکات۔

سوال ۴. عقیدہ اور عمل کا باہم کیا تعلق ہے؟۔

جواب: ایمان کہ دو اجزا ہیں : (۱) عقیدہ جس کا تعلق دل سے ہیں (۲) عمل جس کا تعلق ظاہری اعضا سے ہیں ایمان میں عقیدہ اصل اور بنیاد کی حیثیت رکھتا ہے جبکہ عمل کی حیثیت اس کے بعد ہے. صحیح عقیدہ کے بغیر کوئی عمل مقبول نہیں۔

قسط دوم

کشمیر میں پاسپورٹ بنانے کا طریقہ| What is the procedure for making a passport in Kashmir?

0

پاسپورٹ کیا ہے؟



پاسپورٹ ایک ایسی دستاویز ہے جو اپ کو بیرون ملک جانے کے لیے درکار ہوتی ہے۔ اس کی اہمیت تبھی اشکار ہوتی ہے جب اس کی ضرورت ہوتی ہے۔

کشمیر میں پاسپورٹ بنانے کا طریقہ کار کیا ہے؟

کسی بھی کامن سروس سینٹر یا خود آن لائن پاسپورٹ کے لیے آپلائی کریں۔ جس کی فِی گر چہ 1500 ہے، مگر سروس چارجوں سمیت 1600 سے 1700 کا خرچہ ہوگا۔ 

اسی فائل میں آپ کا اپوائمنٹ ڈیٹ ہوگی۔ یاد رہیں کہ اس کی ہاڈ کاپی نکالنے کی ضرورت نہیں ہے۔ موبائل میں جو محفوظ ہوگی وہ آپ کے لیے کافی ہوگی۔ 


جس دن آپ کو پاسپورٹ آفس جانا ہوگا: جو ڈل لیک (جھیل ڈل سری نگر) کے بغل میں واقع ہے۔ اس وقت آپ اپنے ساتھ :

1۔ آدھار کارڑ، 

2۔کوالیفیکیشن سرٹیفکیٹ( یعنی اگر اپ 12ویں میں پڑھ رہے ہیں تو دسویں کی یا اگر گریجویشن کر رہے ہیں تو بارویں کی۔ بلکہ ساتھ رکھیں تمام مناسب ہوگا۔

3 ڈی او بی 

ڈی او بی، دسویں کی مارسک شیٹ کا زراکس (فوٹو سٹیٹ) ساتھ رکھیں نیز ان پر اپنے دستخط بھی کریں۔

جیسے ہی آپ پاسپورٹ آفس میں داخل ہوں گے اگر آپ کو انتظار کرنا پڑے تو آپ کو انتظار گاہ کی طرف اشارہ کیا جائے گا، اگر نہیں تو آپ سیدھے جائیں گے، آگے دریا نہیں کنٹین ملے گا: وہ فوٹو سٹیٹ بھی کرتا ہے، وہاں پر بھی آپ یہ سب کام کر سکتے ہیں مگر وقت لیتا ہے۔


آگے سے بائیں طرف، جب آپ پہنچیں گے، تو دفترِ تصدیقچی میں داخل ہوگے۔ وہاں ان کو آئی ڈی نمبر (جو آپ کے ریسپٹ پر ہوگی، وہ) دیکھائیں گے اور دستاویزات جن کا ذکر بالا میں ہوا۔ ۔۔۔ بعد از توثیق وہ آپ کو دائیں طرف جانے کا اشارہ کریں گے۔ اب وہاں پر آپ کو ایک اور صاحبہ ملیں گی جو سیریل نمبر دیں گی۔ 


جب آپ کا نمبر آئے گا تو آپ دوسری منزل پر تشریف لیجئے، وہاں پر پھر سے آئی ڈی اور دستاویزات کو دیکھائیں گے۔ ۔۔۔وہ تصدیق اور آپ کا ایک فوٹو لیں گے اور آخر میں آپ کو ایک پرچی تھما دیں گے، وہ لے کر گھر آئیں اور انتظار کرنا ہے کہ کب مجھے تھانے (پولیس ٹیشن) کی طرف سے ایک کال آئی گی۔۔۔ 


ایڈمنسٹریشن کی جتنی رفتار ہوگی، اسی کے موافق سمے لگتا ہے کم از کم دس سے پندرہ دن۔۔۔ ان دونوں میں آپ ایک اور کام مکمل کریں کہ نمبردار (مگدم ) کا تصدیق نامہ لیئے کر رکھیں۔

جیسے آپ کو تھانہ سے کال آئی، آپ تصدیق نامہ لیئے کر وہاں پہنچ جائیں۔۔۔۔ روکیں! 60 روپے کا خرچہ اور کرنا ۔۔۔۔کسی سروس سینٹر سے پاسپورٹ فائل ساتھ لیے کر تھانے میں داخل ہو جائے جیسے کہ اپ کوئی مایہ ناز شخصیت ہیں۔ 

کلیرک کی دفتر میں جائیں گے، وہ اپنی کارؤائی کریں گے، پھر سی آئی ڈی کی کال کا منتظر ہونا ہوگا۔ ۔۔۔۔ ۔۔۔ 


آپ پڑھتے پڑھتے بور ہو گئے ہوں گے اور آپ نے تھان لی ہوگی کہ میں تو بناؤں گا ہی نہیں پرنتو سن لیجیے، تب تک ایک اور کام کر کے رکھ لیجئے والد صاحب سے کہیں کہ عدالت میں جائیں، ایفی ڈیوٹ بنام پاسپورٹ ویری فکیشن بتصدیقِ جج لائیں۔ ذرا دیکھو ان کی جانب! والدہ کو بول رہیں ہیں! خیر احتراما ان کو بولیں، ایک فوٹو گرافر ساتھ لی جائیں۔ اور اگر ہو سکے تو 150 فی دیں۔ ارے ارے کنجوسی کیوں کر رہیں ہوں کچھ اور بھی دیں۔ 

یہ ضروری نہیں ہے شکل دیکھ کے وہ بتلاتے ہیں کہ لانا ہے یا نہیں سمجھ گئے نا۔ 


جب سی ائی ڈی کی طرف سے کال آئی گی تو وہ لے کر آپ وہاں جائیں گے تو یوں آپ کی تمام کاروائی مکمل ہو جائے گی پرنتو  پھر بھی راقب ہونا ہوگا۔ مگر یہ انتظار بے وفا بیوی کی پیار کی مانند ہوتا ہے۔ جو آخر کار آپ کے پاس ہی لوٹ کے آتا ہے، یعنی پاسپورٹ آپ گھر میں پہنچ جائے گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ۔ 


دنیا کی پہلی استانی والدہ

0

والدین مربی ہوتیں ہیں، ایسے مربی کہ ہر فن کو سیکھنے کے لئے ان کی ضرورت ہے۔ آپ کی لنکتی زبان میں تیزی لاتیں ہیں۔ چھوٹے جسم کو توانائی عطا کرتیں ہیں۔ آپ جو باہر کی دنیا سے سیکھتے ہیں وہ ٹہنیاں پر پھل آنا ہے مگر والدین زمین ہیں۔

والدہ سے آپ نے کیا سیکھا جو آپ انہوں استانی کہتیں ہیں؟

سنیں: چپ چاپ ایک ہی جگہ پر اعنی مطبخ میں اپنا کام کرتے رہنا سکھایا یعنی خاموشی کے ساتھ لائبری میں مطالعہ کرتے رہنا۔ 


باورچی خانے میں سب کے لیے کھانا تیار کرنا اعنی مطالعہ کر کے سب کے لیے مواد جمع کرنا۔


ضرورت محسوس کرتے ہی نظم الطعام کرنا اعنی جس مسئلے کی ضرورت محسوس ہو اس کی تفسیر کرنا۔


کھانے میں نمک زیادہ ہو تو ہر ایک کا طنز سہ لیتی ہے اور پھر اسے ٹھیک کرنے کی پوری کوشش کرنا اعنی مواد میں جامعیت نہ ہو اس کو جامع بنانے کی کوشش کرنا۔

اس کا نام ہے معرفتِ الہٰی جو علم کی انتہا ہے۔ 

                  من ھو علم ھذا الا امی

لاپتہ فوجی جاوید احمد وانی کی فائل فوٹو

0

معدوم فوجی جاوید احمد وانی کی فائل فوٹو







سری نگر- جموں و کشمیر پولیس نے متعدد افراد سے پرسش کی اور ساپہی جاوید احمد وانی کی کال کی تفصیلات کی جانچ پڑتال کی، جو کچھ دن قبل اپنے آبائی ضلع کولگام سے چھٹی کے دوران لاپتہ ہو گئے تھے، ذرائع سے ہہی خبر ملی۔

لداخ کے علاقے میں تعینات سپاہی کو اتوار کو حاضری دینی تھی ۔ اس کی گاڑی استھل میں لاوارث پائی گئی۔

حکام نے بتایا کہ درجن سے زائد افراد سے استفسار کیا گیا اور کال ریکارڈوں کی جانچ کی جا رہی ہے کیوں کہ معدوم فوجی کی تتبع کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔

سپاہی کے والد نے ان لوگوں سے اپیل کی ہے جنہوں نے ان کے بیٹے کو اغوا کیا ہیں، وہ انہیں زندہ رہا  کردیں گر چہ وہ اس شرط سے مشروط کر دیں کہ یہ فوجی اہل کاری چھوڑ دیں ۔۔۔ وہ خاندان کا واحد فعال ہے

"میں تمام بھائیوں سے اپیل کرتا ہوں کہ اسے زندہ چھوڑ دیں۔ اگر اس نے کسی کو تکلیف پہنچائی ہے تو میں اس کے لیے معذرت خواہ ہوں۔ محمد ایوب وانی نے اتوار کو نامہ نگاروں کو بتایا کہ اگر وہ چاہیں تو میں اسے بھی نوکری چھوڑ دوں گا۔ 

مدرسہ میں جرمانہ ظلم کثیرہ ہے خصوصاً فقرا سے جن کی کثرت ہوتی ہے مدرسہ میں

0

 


بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان10/07/2023

دارالافتاء

 

مدرسے کا غیر حاضری پر طلبہ سے جرمانہ لینا


سوال

میں ایک مدرسے کا طالب علم ہوں، ہمارے مدرسے کے ناظم صاحب تعلیمی سال کی افتتاحی تقریب میں اعلان کرتے ہیں کہ ہمارے مدرسے میں تعلیم مفت نہیں بلکہ اس کی فیس مقرر ہے اور وہ ہر گھنٹے کی 20 روپیہ ہے تاہم یہ فیس ہر طالب علم سے نہیں لی جاتی بلکہ ان طلبہ سے لی جاتی ہے جو اصول اور ضابطے کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور ان سے بھی ساری فیس نہیں لی جاتی  بلکہ جزوی لی جاتی ہے ۔مثلا  جو طالب علم ایک دن غیر حاضر ہو اس سے 100 روپیہ فیس لی جاتی ہے ، یا ایک نماز کی حاضری میں موجود نہ ہو تو 20 روپیہ فیس لی جاتی ہےاسی طرح اگر طالب علم سنگین جرم کا ارتکاب کرے تو اس کو خارج کر دیا جاتا ہے پس اگر وہ طالب علم دوبارہ داخلے پر اصرار کرے تو داخلہ فیس لی جاتی ہے ۔ناظم صاحب سے کسی نے کہا کہ یہ تعزیر مالی ہے جو کہ ناجائز ہےتو انہوں نے جواب دیا کہ یہ تعلیمی فیس ہے مالی جرمانہ نہیں۔ کیوں کہ ایک تو ہم سال کے شروع میں طلبہ پر یہ معاملہ واضح کرتے ہیں دوسرا یہ مالی جرمانہ گزشتہ غلطی کی سزا  نہیں ہوتی ھے بلکہ آئندہ  تعلیم جاری رکھنے کی فیس ہوتی ہے، یہی وجہ ہے کہ اگر کوئی طالب علم مدرسے میں مزید تعلیم جاری نہیں رکھتا تو اس سے کوئی فیس نہیں لی جاتی ۔ سوال یہ ہے کہ  مدرسہ  والوں کا اس طرح طلبہ سے فیس لینا جائز ہے یا ناجائز ؟

جواب

         واضح رہے کہ  تعزیر بالمال (مالی جرمانے)کے جواز میں فقہاے کرام کا اختلاف ہے  فقہاےاحناف میں سے اکثر فقہاےکرام کے ہاں تعزیر بالمال جائز نہیں البتہ امام ابویوسفؒ سےاس کا جواز منقول ہےاورموجودہ حالات کا تقاضا بھی یہی ہے کہ بعض انتظامی امور میں مالی جرمانہ مقرر کیا جائے کیونکہ ہر مجرم پر بدنی سزا سے لوگ مشقت میں پڑ جائیں گے جو تنفیر کا سبب بنے گا۔اور بسا اوقات بدنی سزا سےکسی جرم کی روک تھام نہیں ہوسکتی  لیکن مالی سزا کی بدولت روک تھام ہوجاتی ہے،لہذا ان حالات میں امام ابویوسفؒ کے قول سے استفادہ کرتے  ہوئے اس کے جواز کی گنجائش دینا مناسب معلوم ہوتا ہے۔علامہ ابن عابدینؒ نے بزازیہ سے یہ بھی نقل کیا ہے کہ امام تعزیر میں مال لے سکتا ہے،لیکن خود استعمال نہیں کر سکتا،بلکہ مجرم کی توبہ اور اصلاح کے بعد اس کوواپس لوٹادے گا۔ایک قول یہ بھی نقل کیا ہے کہ امام اگر مجرم کی توبہ سے ناامید ہوجائے توخیر کے کام میں اس کو استعمال کرے۔

           صورتِ مسئولہ میں مدرسہ سے غیر حاضری  کرنا جرم ہے ، اسی طرح نماز با جماعت میں سستی کرنا بھی  مدرسہ کے قانون کے مطابق جرم ہے اس لیے مدرسہ کے منتظم  کےلیے زجر اورتادیب کی خاطر  غیر حاضری وغیرہ  پر جرمانہ لینا جائز ہے چاہے  نام اس کو فیس کا ہی  دیا جائے ،لیکن استاداس کوخود استعمال نہیں کرسکتا،بلکہ طالب علم کی توبہ اور اصلاح کےبعداس کو واپس لوٹادےگا۔یا اگراستاد طالب علم کی اصلاح سے ناامید ہو یاجرمانہ واپس لوٹانے سے طلباکویہ تاثر ہو کہ جرم کرتے رہیں گےجرمانہ ہم کوویسے بھی واپس کیاجارہاہےتو ایسی صورت میں اس رقم کو  ر فاہِ عامہ میں خرچ کرنے کی گنجائش ہے۔

 

عن عمر : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال: من وجدتموه غل فى سبيل الله فأحرقوا متاعه قال صالح :فدخلت على مسلمة ومعه سالم بن عبد الله فوجد رجلاقدغل فحدث سالم بهذا الحديث فأمر به فأحرق متاعه فوجد فى متاعه مصحف فقال سالم :بع هذا المصحف وتصدق بثمنه.(الجامع الترمذى، أبواب الحدود، باب ماجآء فى الغال مايصنع به، ج:4، ص:61)

ويجوز التعزير بأخذالمال،وهومذهب أبى يوسف وبه قال مالك،ومن قال:إن العقوبة المالية منسوخة فقد غلط على مذاهب الأئمة نقلاواستدالا،وليس بسهل دعوى نسخها،وفعل الخلفاء الراشدين وأكابرالصحابةلهابعدموتهﷺ مبطل لدعوى نسخها والمدعون للنسخ ليس معهم سنة ولاإجماع يصح دعواهم. (معين الحكام، ص:231)

 وأفاد فى البزازية أن معنى التعزير بأخذ المال على القول به إمساك شيء من ماله عند مدة لينزجر ثم يعيده الحاكم إليه لا أن يأخذه الحاكم لنفسه أو لبيت المال كما يتوهمه الظلمة إذ لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي .وفى المجتبى لم يذكر كيفية الأخذ ورأى أن يأخذها فيمسكها فإن أيس من توبته يصرفها إلى ما يرى(ردالمحتارعلى الدرالمختار، كتاب الحدود، باب التعزير، مطلب فى التعزير بأخذ المال، ج:4، ص:61)

کونگ وٹن: خوبصورتی کا پھول

0

 کونگ وٹن: خوبصورتی کا پھول

کونگ وٹن ایک خوبصورت جگہ ہے جو اہربل سے صرف ایک گھنٹے کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہ جگہ اپنی فراوانیت اور دلکشی کے لئے مشہور ہے۔ واقعیت میں، کونگ وٹن محیطی تنوع اور خوبصورت طبیعت کا ایک خوبصورت مظہر ہے۔ اس جگہ میں پیدا ہونے والے مناظر اور طبیعی چشمے دل کو بہلا دیتے ہیں۔ (لیجئے اپ بھی مظاہرہ کیجئے)


 

وقت گزارے جب آپ کونگ وٹن تک پہنچتے ہیں، آپ کو بہت سی دلچسپیاں نظر آتی ہیں۔ اہربل سے راستے پر چلتے ہوئے، آپ پانی کے جھرنوں کا لطف اٹھا سکتے ہیں جو چشمہ جیسی آوازوں کے ساتھ بہتے ہیں۔ یہ نظریں محیطی تنوع کو ظاہر کرتی ہیں اور آپ کو پر امن ماحول میں لے جاتی ہیں۔

ہیں



وادی میں چلتے ہوئے، آپ ایک مختلف دنیا میں داخل ہوتے ہیں۔ کونگ وٹن کی لمبی وادی میں چھوٹی چھوٹی گھاس میں پھولوں کی بھرپور تشکیلات نظر آتی ہیں جو پھولوں کی مہک سے محفوظ ہیں۔ اس وادی میں کوثر ناگ بھی واقع ہے، جو کونگ وٹن سے چار گھنٹے کے فاصلے پر ہے۔ یہ مقام گرمیوں کے موسم میں لوگوں کے درجہ حرارت بڑھانے سے بچنے کے لئے مشہور ہے۔ اس میناری پانی کے تقاضوں کو پورا کرتا ہے۔

جو پانی کوثر ناگ سے آتا ہے جس سے کونگ وٹن، اہربل جیسے مقامات سیراب ہوتے ہیں۔ اس کی تاریخ یوں رقم ہوئی کہ ایک زمانہ میں زین العابدین رحمہ اللہ نے اس کی کھدائی کی تھی۔ اس کا پانی جھیل ڈل تک پہنچا تھا۔۔۔زین العابدین وہی شخصیت ہے جو کوثر ناگ میں شکارا میں تفریح کرتے تھے۔

کونگ وٹن کی جمیل وادی اور اس کے قریبی حصوں کا دورہ کرتے ہوئے، آپ کو عمدہ تفریحی مواقع حاصل ہوں گے۔ طبیعی مناظر کے علاوہ، آپ فعالیتوں میں بھی شامل ہو سکتے ہیں مثلاً پھولوں سر سبز وادیوں میں چہل قدمی کرتیں کرتیں اپ ٹھنڈی ہَوا کا لطف اس طرح محسوس کرتیں جیسے آپ جنت میں ہوں۔

 جہاں آپ طبیعت کے نزدیک ہوتے ہیں اور اپنے آپ کو دنیا کی شور و غل میں سے دور محسوس کرتے ہیں۔ یہاں آنے سے، آپ کو طبیعت کی خوبصورتی اور اس کی نرمی کا احساس ہوتا ہے جو آپ کے دل کو بہت پسند آتا ہے۔ کونگ وٹن ایک پھول کی طرح ہے جو چشمہ سے بہتے ہوئے پانی کی مسیر پر رہتا ہے۔ اس کی خوبصورتی، شاندار مناظر اور آرام دہ ماحول کا یہ مشاہدہ آپ کو یادگار رہے گا۔۔۔۔۔



سرکاری کیمپ کی طرف سے منتخب قسم کے گھاس اور سبزیاں کا اگائی جانا، یہاں کی رونق کو بڑھاتا ہے۔ گھاس اور سبزیوں کی مختلف قسموں کی اگائش سے، مناظر اور حیاتیاتی خوبصورتی کا مزید وسیع انداز حاصل ہوتا ہے

و گھاس اور سبزیوں کی اہلیت کو مزید بہتر بناتا ہے اور کونگ وٹن کی خوبصورتی کو بہتر دکھاتا ہے۔ اس سے یہ علاقہ مزید مسرت بخش اور دلکش بنتا ہے جو لوگوں کو کھینچنے کا مقصد پورا کرتا ہے

سرکار کی طرف سے  ایک اور اقدام بھی محسوس ہوا کہ جہاں، جہاں جنگلی درختوں کی کمی نظر آتی ہے وہاں انہیں نئے نئے جنگلی درختوں کی اگائی کی ہے۔

یہ حسین وادی اکثر کوثر ناگ کے سفیروں کے لیے ماوی بنتا ہے یہاں رات گزارنے کے بعد صبح کو آرام سے کوثر ناگ کی طرف روان۔ ہوتیں ہیں۔ ۔۔۔چلیں ہم بھی کوثر کی طرف ہی رجوع کرتیں ہیں۔۔۔ اس کے متعلق تفصیلی بحث کے لیے پروانے سفرنامہ ضروری پڑھیں۔( پورانہ سفرنامہ) ۔۔۔ تب تلک چشمہ آ جائیں گا۔۔۔۔ 


ماجد کشمیری 





بے وفائی نا کروں | لا یدخل الجنۃ قاطع۔

0
وفا ایک بہت اہمہ اور نایاب خصوصیت ہے جو ہر رشتے کو مضبوط بناتی ہے۔ وفاداری ایک ایسی صفت ہے جو ایک شخص کو دوسرے شخص سے جوڑتی ہے اور محبت، احترام اور توجہ کا اظہار کرتی ہے۔ یہ رشتے کو برقرار رکھتی ہے اور توازن اور استحکام کا باعث بنتی ہے۔ لیکن اس دنیا میں کچھ لوگ اپنے رشتوں میں بے وفا ہوتے ہیں۔ وہ اپنے وعدوں کو نہیں نبھاتے اور دوسروں کی خوشیوں کا خیال نہیں رکھتے۔ بے وفائی سب کچھ کھو دیتی ہے، یہ دلوں کو توڑتی ہے اور دوسروں کے لئے غم و دریغا کا باعث بنتی ہے۔ بے وفائی ایک منفی صفت ہے جو اخلاقیت کے خلاف ہوتی ہے۔

 وفاداری اور اعتماد: دو اہم اصول ہیں جو ہر رشتے کی بنیاد ہوتی ہیں، لیکن جب کوئی شخص بے وفا ہوتا ہے تو یہ اصول کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور عملی زندگی میں تنگیاں پیدا کرتے ہیں۔ بے وفائی کی وجوہات مختلف ہو سکتی ہیں۔ کچھ لوگ مصلحتیں پیش کرتے ہیں اور دوسروں کی مدد کے بجائے اپنے فوائد کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔

 بے وفائی ایک اجتماعی اور روحانی مسئلہ بنتی ہے جو انسان کے دل کو تکلیف میں ڈالتا ہے۔ وفاداری اور تکیہ انسانی تعلقات کی اہمیت کو بڑھاتے ہیں، لیکن بے وفائی کے باعث، رشتے میں دھچکا پیدا ہوتا ہے۔ بے وفا افراد کئی طرح سے نقصان پہنچاتے ہیں۔ وہ اپنے احباب،اقارب یا محبوبہ سے وعدے کرتے ہیں، لیکن وقت آنے پر ان وعدوں کو توڑ دیتے ہیں۔ ایسا کرنے سے نہ صرف دوسرے شخص کا دل دُکھتا ہے بلکہ خود کو بھی انتہائی محسوس کرنے کا باعث بنتا ہے۔ بے وفا دوستی اور رشتے کو بھی اپنے پہلو میں لے لیتی ہے۔ وہ لوگ جو بے وفا ہوتے ہیں، دوسروں کو دھوکا دیتے ہیں اور ان کی اہمیت کو نظر انداز کرتے ہیں۔ انسان کے دل کو چھوڑ کر ان کی قیمت کم کر دیتے ہیں اور ان کے ساتھ روزمرہ کے حسین لمحوں کو تباہ کرتے ہیں۔ بے وفائی کی صورت میں انسان کو دوسروں سے دور رہنا پڑتا ہے کیونکہ وہ چاہتا ہے کہ اس کا دل اچھے اور وفادار لوگوں کے ساتھ ہو، جن کے ساتھ وہ احساسِ تعلق کر سکے۔ یہ ایک دل کو تکلیف دہ صورتِحال ہوتی ہے جب کوئی شخص اس پر بے وفائی کرتا ہے جس کے ساتھ اس نے بہت ساری محبت اور وفا کی توقع کی تھی۔

 بے وفائی ایک منفی صفت ہے جو معاشرتی تعلقات کو متاثر کرتی ہے۔ ہمیں ہرگز بے وفا نہیں ہونا چاہیے بلکہ ہمیں وفادار اور اعتماد کے اصولوں پر عمل کرنا چاہیے تاکہ ہم ایک دوسرے کے لئے معنی خیز اور قیمتی رشتے بنا سکیں۔

 لا یدخل الجنۃ قاطع او کما قال: لیس الواصل بالمکافی ولکن الواصل الذین اذا قطعت رحمہٗ وصلھا.



ماجد کشمیری 

منافقت کی تعریف | میں منافق تو نہیں ہوں

0

میں منافق تو نہیں؟!


عام تعریف جو ”منافقت“ کی، کی جاتی ہے : ظاہر اور باطن میں یکسانیت نہ ہونا۔ پر یہ جامع تعریف نہیں ہے، کیوں ہمارے ید کے طرفین متخالف ہے اور یہ فطرت ہے۔اور ایسا ہونا فطری ہے، تو تعریف ہوگی: اندر کی حقیقت کو جھٹلانا اور باہر کو مزین کر کے دکھلانا ”منافقت“ ہے۔


 ظاہر داری کے قرائن: ایۃ المنافق ثلاث: اذا حدث کذب، واذا وعد اخلف ،واذا اؤتمن خان. 


یہ علامتیں اس لیے نہیں ہیں کہ آپ ان کو دوسروں میں تتبع کر کے، ان پر منافقت کی لیبل یعنی فتویٰ دیں۔ بل کہ اپنا محاسبہ کرنے کے لیے ہیں۔ ، تاکہ مقبل وعید ہمارے لیئے متحقق نہ ہو جائیں۔ ان المنافقین فی الدرک الاسفل النار


علامتِ ثلاثہ: 1: کذاب، 2: مخالف اور 3: خائن۔ اب ان کو سمجھتیں ہیں۔


تشریحِ کذاب: اذان ہو رہی ہے، مؤذن ”اللہ اکبر ، اللہ اکبر، اللہ اکبر ، اللہ اکبر “ کہ رہیں ہیں۔ ہم نے جواباً عرض کیا۔ میں صلات کے لیے نہیں آؤ گا۔ تو میں نے جھٹلایا خداوند کی کبریائی کو تو ہم سے بڑا کو دروغ گو ہے ہی نہیں۔ 


تفسیرِ مخالف: اللہ وعدہ لیں رہیں ہیں : کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں۔ ہم جواب دیں رہیں ہیں: بلا کیوں نہیں۔، مگر ہم آستانوں پر ماتھا رگڑتیں ہیں، منسٹروں کے سامنے جھکتیں ہیں، تعظیمی سجدہ کرتیں ہیں۔ کوئی ہے جو ہم سے عظیم بر خلاف ہے۔ 


صراحتِ خائن: ہماری روح و جسد کا ہر حصہ، اللہ کی امانت ہے۔ حقوق و حدود اللہ کے موافق عمل نا کرنا خیانت ہے : جیسے : اپنی بیوی کے ورے کسی دوسری کی طرف دیکھنا۔ قوتِ یدین اور نطق کو حق کو مغلوب کرنے کے لیئے مستعمل کرنا، فریبی ہونا کا ثبوت ہے۔ 


ہم حساب کرنے میں ماہر ہے۔ دکان دار سے ایک درہم کی کمی کی بھی تفہیم رکھتیں ہیں۔ تو امروز بل کہ ہر روز محاسبی چھوڑ کر متحاسب بن کر ان کا جائزہ لیتے ہیں کہ یہ روح و جسم میں متضمن تو نہیں ہے۔ گر ایقان ہو جائیں تو برخواست کریں نہیں تو خائف و مفکر بنیں کہ کہیں شامل نہ ہو جاؤں ۔


✍️: ماجد کشمیری

دوسروں کی تباہی کا ذریعہ مت بنیں

0

دوسروں کی تباہی کا ذریعہ مت بنیں




امابعد! لوگوں کی باتوں کی پرواہ نہ کریں، اپنی بنیاد اتنی مضبوط کریں کہ کوئی اسے تباہ نہ کرسکے۔ اپنی زندگی کو دوسروں کے اثرات سے آزاد رکھیں۔ لوگ آپ سے کہیں گے کہ پیچھے ہٹ جاؤ، ہمارا ساتھ دو، ہم اہلِ حق ہیں۔ لیکن آپ تحقیق کریں، ثبوت کے پیچھے جائیں اور حق کے متلاشی بنیں۔ جنہیں معیارِ الٰہی پر پرکھا گیا ہو، ان کی پیروی کریں۔ اپنے آپ کو دوسروں کی تباہی کا ذریعہ نہ بنائیں اور نہ دوسروں کو اپنی تباہی کا سبب بننے دیں۔ ڈریں اس قہرِ الٰہی سے، جس کی پناہ زمین و آسمان مانگتے ہیں، اور اس عذاب سے جس کے آگے قارون بھی سرِ تسلیم خم کر گیا تھا۔


جب ہم اپنی شرم و حیا کھو دیتے ہیں تو اپنی بربادی کے ساتھ دوسروں کی تباہی کا باعث بھی بن جاتے ہیں۔ جیسے اگر کسی دریا یا نہر کے پانی کو روک دیا جائے تو وہ زرخیز زمینوں تک نہیں پہنچ سکے گا، جس سے فصلیں خراب ہو جائیں گی، کھانے کی قلت ہو جائے گی، اور معیشت پر برا اثر پڑے گا۔ بعینہ، جب گناہ کیا جاتا ہے تو اس کا اثر صرف فرد تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب گناہ اجتماعی صورت اختیار کر لیتے ہیں تو ان کی سزا بھی شدت اختیار کر جاتی ہے۔


جہالت میں رہنا بہتر ہے بنسبت اس کے کہ انسان خود کو اَجہل بنا لے، کیونکہ کم از کم جہالت کا نقصان خود تک محدود رہتا ہے۔ لیکن اگر آپ اچھے معاشرے کی خواہش رکھتے ہیں جہاں اخلاقی، فلاحی، سیاسی، اور معاشی ترقی ممکن ہو، تو ہمیں تنہائی اور خفیہ طور پر گناہوں سے بچنا ہوگا۔ اور دوسروں کو بھی گناہوں سے بچنے کی نصیحت کرنی ہوگی۔


وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين۔

اسوہِ نبوی کی ذمہ داریاں

0
اسوہِ نبوی کی ذمہ داریاں
استاذ: وہ شخص ہے جس کی پوری زندگی متعلم کے لیئے صرف ہوتی ہے۔ گر ان کا متعلم فراغت حاصل کر بھی لے تب بھی تلمذیت سے کوسوں نہیں ہوتا۔ علوم سمندر کی مانند ہے، غوطہ زن زیادہ دیر تک پانی میں نہیں رہ سکتا لیکن استاذ سمندر کا بادشاہ ہوتا ہیں۔ وہ اٹھیں تو پورا پانی ابھر کر آتا ہے۔ وہ خاموش ہو جائیں تو یہ نہ سمجھیں کہ پانی کے بہاؤ میں تغیر نہیں آسکتا، بل کہ خاموشی کے بعد کے طوفان کے آنے کی راقبیت کا موجب بنتا ہے۔ اب اس بات کو ازبر کر لیں کہ آپ استاذ کے سامنے تادیب کی جو صورت اختیار کر سکتے ہے، اس میں قالب کو ڈھالنا چاہیے۔۔۔۔
جس کا جنتا بڑا فریضہ، اس کی اتنی بڑی ذمہ داری ہوتی ہے۔ اس اسوہِ نبوی کے حاملین میں اخلاقی، علمی اور حکمتی اضمحلال آیا ہے، اس کا انکار نہیں کیا جاسکتا ، کریں تو ہر فرد کا دعویٰ اہلِ منصبِ استاذ ہونے کا عنفوان ہوگا، یہ ایسا قہر ہے، جس سے نظامی ، نصابی ،علمی اور اخلاقی اضمحلالوں کا مقابلہ کرنا ہوگا، اس جنگِ جمیل سے رعایا کو پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جو تقاضائے معلمیت نہیں ہے، بل کہ آثارِ جھل ہے۔ چوں کہ یہ ساری واردات اس جھل سے شروع ہوتی ہے، تو اولاً اس کو ختم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے اور ترتیبِ صحیح پر منصب بندی کرنی چاہیے۔
یہ ہی تقاضائے تعلیماتِ نبوی ہے۔ اگر برعکس ہوا تو مذکورہ مخطورات سے دوچار ہونا ہی پڑے گا۔جو معلمین منصوب ہوئے ہیں۔ وہ اس کو قابلیتِ من نہ سمجھیں بل کہ مرتِب کا عطف سمجھیں۔
اب ان کا تذکرہ کرتے ہیں، جن سے اساتذہ کرام آمیز ہوتے ہیں شعوری یا غیر شعوری طور پر، وہ مندرجہ ذیل ہے۔
یہ نہ صرف اتالیق کی کوتاہی ہے، بلکہ نظامتِ مراکز کی بھی ہے، جو نصاب اسلاف سے تواتراً رواں تھا، اس میں اتنی کمی آئی ہے۔ جس میں کچھ کا تغیر بربنائے مصلحتِ زمن ہے اور کچھ فقدانِ اہلِ مدرس ہے۔ اب جو نصاب متضمن ہے بھی، اس میں بھی اتمام نہیں ہوتا، جس سے وہ کمزوری رہتی ہے، جس کی بھرپائی ذاتی مطالعہ سے بھی رفع نہیں ہوتی ہے۔
2۔ اگر چہ وقت، جو صرف ہوتا ہے تدریس میں اس کی تنخواہ لینا جائز ہے، پر اسی کو ذریعۂ ماش بنانا اور صرف اسی غرض سے تعلیم دینا، جس کی وجہ سے روحِ علم یعنی عمل منتقل نہیں ہوتا ہے۔ اس کو اصلاح کی حاجت ہے (بل کہ سابقہ شیخ الحدیث دارالعلوم رحمہ اللہ نے اپنی زندگی کی پوری تنخواہ کی مراجعت کو یقنی بنایا)
3۔ خیر استاذ کا کسی طالب علم کو ذہنی دباؤ ڈالنا یا تدریس میں نا تجربہ کار ہونے کی وجہ سے طلبہ کو محروم از تعلیم کرنا، نہ صرف نا اہلیت ہے بل کہ کسی نہ کسی حد تک گناہ بھی ہے۔
کمزور تلامیذ کا خیال نہ کرنا، یہ جان کر کہ وہ ناقابل ہے اور صرف ذہین شاگردوں کو درخورِ اعتنا رکھنا۔۔۔۔۔۔ متکلم اسلام کا اس حوالے سے فقرہ یاد آیا، فرماتے ہیں: کمزور طلبہ کو قابل بنانا ہی استاذیت کا اصل ہنر ہے۔ جس کی کمی آج پائی جاتی ہے۔( روایتِ معنوی) اصلاح کی ضرورت ہے!
سب سے زیادہ خطرہ جو تدریسی نظام کو ہوتا ہے، وہ نا اہل کا فائزِ منصب ہونا ہے، جس کے نقصانات کا تذکرہ بالا میں ہوا۔
اس نوعیت کا حامل خطرہ یہ بھی ہے کہ متعلمین، اساتذہ کی تلمذ کی قدر نہیں کرتے ہیں۔ جس کی وجہ سے روحِ علم منتقل نہیں ہوتا اور یہ عیاں ہے کہ روح کے بغیر جسم مردہ کہلاتا ہے۔ اس لیئے طلبہ کو چاہیے کہ وہ عمل کرنے کی نیت کے ساتھ اسباق کو ازبر کریں اور فہمِ مضامین کو بھی، ورنہ جن اضمحلالوں کا نوشت کردہ میں تذکرہ ہوا وہ سرایت کرے گا۔
اب حلِ مشکل یہ ہے کہ دونوں طرف سے نیک نیتی سے حصول علم اور استاذیت کا فریضہ انجام دیں تو اسلافوں والا علم باعمل سرایت کریں گا۔ ان شاءاللہ تعالا۔
اللہ تعالا ہمیں فہمِ تقاضائے تعلیم و تعلم کی توفیق دیے۔ اور ہم سے دیں کا کام لے۔ آمین

محرر: ماجد کشمیری

حجاب حکمِ الہیٰ ہے تو بس کر لو عمل

0

 

حجاب حکمِ الہیٰ ہے تو بس کر لو عمل



حجاب خواتین کے لیئے مخصوص نہیں ہے، بل کہ حجاب اپنے آپ کو خطرات سے اور دوسروں کو بھی مخطورات سے بچانے کا نام ہے، اور خطرہ دونوں پر لائق ہوتا ہے۔ بلا تمیز الجنس، عورت کے حجاب کو مقدم اس لیئے کیا جاتا ہے کیوں کہ یہ مرد کے باحجاب رہنے کے باوجود بھی اس سے بے حجاب کرتا ہے۔ اس لیئے جب بھی پردے کا تذکرہ ہوتا ہے، تب ذہن منعطف ہوتا ہے عورت کے پردے کی طرف، پر صرف اس کی طرف ذہن کا جانا اور یہ سمجھنا کہ فقط حجاب عورت کے لیئے ہے تو یہ غلط فہمی کے ورے کچھ نہیں، گر عورت کے ستر کو حجب کرنا لازم ہے، وہیں مرد کے لیے متعین جسم کا اخفا بھی لازم ہے۔ گویا نگاہوں کو نیچے کرنے کا حکم مشترک ہے، کلام میں اجنبی کے لیے مٹھاس نہ رکھنا مشترکہ طور پر حکم ہے۔ ناورا تعلقات کے سدِباب سے بھی خود کو محفوظ کرنا امرِ یکساں ہے۔عرض حجاب کرنا دونوں کے لئے لازمی ہے۔ جس سے یہ اعتراض بھی رفع ہوتا ہے کہ صرف خواتین کو حجاب کیوں ہے، جب ہے ہی نہیں مختص، بل کہ ہے مشترک، اعتراض کبھی من میں ہوتا، کبھی غیر قوم کے افراد کرتے ہے، پر بنتا نہیں ہے۔

حکمِ حجاب اور ہم: مرد کا ستر ناف کے متصل نیچے سے لے کر گھٹنے تک ہے، گھٹنے ستر میں شامل ہیں، پر اگر اسے ہی رجل ڈھانپ لیں تو عرف میں وہ ننگا ہی سمجھا جاتا ہے۔ کیوں کہ تقاضائے تلبیس ہے پورے، جسم کی پوشیدنی۔ بعینہ عورت کی تلبیس کا مسئلہ ہے، عورت کا پورا بدن سوائے تین اعضا کے ستر ہے، ان ہی اعضاء ثلاثہ کا حجاب ہے اجنبیوں سے ۔ ہم اس سے ہی غفلت بھرتے ہیں جو کہ صحیح نہیں ہے۔

حکمِ قرآن ،اعضاء ثلاثہ پر: حجاب ہے اجانب سے ( جس میں متضمن ہے بسسبِ عافیت محارم سے بھی حجب) تو کیوں ہم اکتفا کریں ستر پر ہی، جب کہ وارد ہوا ہے قرآن مجید میں: یدنین علیهن من جلابیبهن۔ ہم سے زیادہ بہتر سمجھتے ہے قرآن مجید کو، اس کے اولین مخاطبین رضوان اللہ علیہم اجمعین، تو روایت ملتی :

 ’’ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہ جب عورتیں کسی ضرورت کے تحت اپنے گھروں سے نکلیں تو انہیں اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا ہے کہ وہ بڑی چادروں کے ذریعہ اپنے سروں کے اوپر سے اپنے چہروں کو ڈھانپ لیں اور صرف ایک آنکھ کھلی رکھیں اور محمد بن سیرین ؒ فرماتے ہیں کہ میں نے عبیدۃ السلمانی سے اللہ تعالیٰ کے ارشاد : {یدنین علیهن من جلابیبهن} کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے اپنے سر اور چہرہ کو ڈھانپ کر اور بائیں آنکھ کھول کر ا س کا مطلب بتلایا‘

یہ عہدِ صحاب کا زمانہ تھا جس میں فتنہ کا اندیشہ بہت کم ہوتا تھا، اس کے برعکس آج کے پر فتنہ درو میں خواتین اس پر عمل کرنا کی کوشش کرنی چاہیے: کہ وہ اپنی گھروں میں ہی رہیں صرف ضروریات کے لیئے مع حجاب نکالیں۔

حجاب کی ضرورت کیا ہے؟ کوہِ نور کو چھپانے کی کیا ضرورت ؟ وہیں عورت کو چھپانے کی حاجت ہے۔ میٹھائی پر احاطہ (کاور) نہ ہو تو مکھیاں اس پر حصار کر لیتی ہے۔ بعینہ عورت پردہ نہ کریں تو عریاں مرد کی خبیث نظروں کا شکار ہوتی ہے۔ شیطانی وسوسہ آ سکتا ہے کہ رجال اپنی نگاہوں کو پاک کریں تو پردے کی حاج نہیں۔ مٹھائی نہ خود اور نہ اس کا مالک اس پر مکھیاں برداشت کرسکتا ہے نہ مناسب سمجھتا ہے۔ پر برہنہ ہوگئی تو مکھیاں بیٹھ ہی جاتی ہے۔ اس سے حصارِ ناساز کے تحفظ کے لیے۔

 اسلام کی ثقافت میں مندرجہ ذیل واقعات کی نظیریں بہتات ملتی ہے جیسے: ابودائود۱ کی روایت میں ہے: ایک عورت کا لڑکا جنگ میں شہید ہوگیا، تو تحقیق کے لیے اس کی والدہ برقع کے ساتھ پورے پردے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، مجلس میں موجود صحابۂ کرام تعجب سے کہنے لگے کہ اس پریشانی میں بھی نقاب نہیں چھوڑا، صحابیہ عورت (رضی اللہ عنہا )نے جواب دیا کہ میرا بیٹا گم ہوگیا میری شرم وحیا تو نہیں گم ہوئی۔ (ابودائود۱/۳۳۷)

ان عظیم الشان ماں کی عظَمت پر فجر ہے اور سبق ہے کہ کوئی بھی حالت ہو حکمِ خداوندی کو پال نہیں کیا جاسکتا ہے۔ یہ فکر تھی انہیں اپنی آخرت کی، فکر تھی انہیں کہ کہیں میں سماج کی تباہی کا سبب نہ بن جاؤ۔ جس ماحول میں میرے اولاد پناہ گزین ہے، جس سوسائٹی میں میری بیٹی کل ان نجس و مہلک نظروں سے آتش زدہ ہوگئی۔ 

م بھی فکر و عزم کریں کہ ہم باحیا والدین اور اخلاف بنے۔ اول خویش بعد درویش، آپ حجاب کریں آپ کے ساتھ آپ کی سہیلی اور اس سے،اس کی دوشیزہ، ضرب کے عمل کے ساتھ، یہ سلسلہ کاروان بنتا چلا جائے گا۔ اور اس کے مصدر یعنی آپ کو اس کا اجر و ثواب کونین میں ملتا رہے گا، فقط آپ آغاز کریں عزمِ مصمم سے کہ اب صرف مجھے کرنا اس کارِ خیر کا عنفوان اور بن جائیں حضرت سیدہ فاطمتہ الزہرا رضی اللہ عنہا کے ساتھ جنت کے باشندوں میں سے۔ بس عمل کے لیئے الفاظ کی ضرورت نہیں عشقِ الہیٰ اور توفیق من جانب اللہ ہونی چاہئے، چہ جائے کہ نعمت و عافیت عامیانہ حاصل نہیں ہوتی ہے۔ اللہ، اس بات کو اعنی حکمِ ربی کو سمجھنے کی صلاحیت دیں، پھر اس پر مع دوام عمل کرنے کی توفیق دیں۔ آمین یا رب العالمین۔

ماجد ابن فاروق کشمیری


پی ڈی ایف میں حاصل کریں


فرشتے کی دو پلکوں کی مابین پانچ سو سال کی مسافت

0

 فرشتے کی دو پلکوں کی مابین پانچ سو سال کی مسافت کی حقیقت و تحقیق

السلام_علیکم_ورحمۃ_وبرکاتہ

سلسلۃ_تخریج_الاحادیث_نمبر_١٩


بسم_اللہ_الرحمن_الرحیم


أن ألله ملكأ مأبين شفري عينيه مسيرة خمس مأئة عأم۔

ترجمہ: اللہ تعالیٰ کا ایک فرشتہ اتنا بڑا ہے کہ اس کی دونوں آنکھوں کے پلکوں کے مابین سو سال کی مسافت کے برابر فاصلہ ہے۔ 

اس حدیث کے بارے میں ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں :-

لم یوجد لہ اصل 

[المصنوع فی معرفۃ الحدیث الموضوع: ص:٦٧،رقم:٦٣] 

نیز امام عجلونی رحمۃ اللہ علیہ اور علامہ قاو قجی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اس روایت کو موضوع قرار دیا ہے ہیں۔

 [بالترتیب دیکھیں:

(کشف الخفاء ١/٢٢٨،رقم:٧٧٣.)

(اللؤلؤالمرصوع:رقم:١١١)

 ألشيخ عثمأن أبن ألمكي ألتوزري ألزبيدي يكتب في كتأبه[ ألقلأئد ألعنبرية  علي ألمنظومة ألبقونية]  


 مثأله : أن لله ملكأ مأ بين شفري عينيه مسيرة خمس مأئة عأم . قأل ألقأري : لم يوجد له أصل . ومنه : أن شيطأنأ بين ألسمأء وألأرض ، يقأل له : ألولهأن ، معه ثمأنية أمثأل ولد آدم من ألجنود وله خليفة يقأل له : خنزب ، قأل أبن ألجوزي : موضوع . أنظر : ألمصنوع في معرفة ألحديث ألموضوع ، ص 65 و 67

اسی طرح امام الغزالی نے اس روایت کو نقل کرکے فرمایا۔

لم ارہ بھذا اللفظ۔

[احیاء علوم الدین ص ٥٠١]

الامام ابی عبد اللہ  الحارث بن اسد المحاسبی اپنی کتاب میں اس سند کے ساتھ لکھتے ہیں:- سبق تخریجہ


حدثني يحيي بن غيلأن قأل : حدثنأ رشدين بن ألسمع ، عن أبن عبأس بن ميمون أللخمي ، عن أبي قبيل ، عن عبد ألله بن عمرو بن ألعأص ، عن ألنبي  أنه قأل : ألله عز وجل ملك مأ بين شفري عينيه مأئة عأمة .

عبد الرحیم بن الحسین العراقی المحقق نے  بھی اس روایت کو من گھڑت قرار دیا ہے، لکھتے ہیں ۔لم ارہ بھذا اللفظ (  فی تخریج الاحیاء  ٢٧٦/٥)


لہذا اس روایت کو بطور حدیث اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نسبت کرکے بیان کرنا درست نہیں ہے۔


جمع و ترتیب : ماجد ابن فاروق کشمیری 

سجدہ سہو کا طریقہ اور اس کے دلائل

0

سجدہ سہو کا طریقہ اور اس کے دلائل  

باب ما جاء فی سجدتی السہو  قبل السلام




عن عبد اللہ ابن بحینہ الاسدی بحینہ ان کے والد کا نام ہے (قبل اسم ابیہ) اور والد کا نام مالک ہے، لہذا عبداللہ ابن بحینہ (رضی اللہ عنہ) میں ابن کا ہمزہ لکھنا ضروری ہے، کیونکہ الف صرف اس صورت میں ساقط ہوتا ہے جبکہ علمین متناسلین کے درمیان ہو،


فلما اتم صلوتہ سجد سجدتین یکبر فی کل سجدۃ وہو جالس قبل ان یستم،  اس مسئلہ میں اختلاف ہے کہ سجدہ سہو سلام سے پہلے ہونا چاہئے یا بعد میں، حنفیہ کے نزدیک سجدہ سہو مطلقاً بعد السلام ہے، اور امام شافعی (رحمہ اللہ) کے نزدیک مطلقا قبل السلام،


جبکہ امام مالک ( رحمہ اللہ) کے نزدیک یہ تفصیل ہو کہ اگر سجدہ سہو نماز میں کسی نقصان کی وجہ سے واجب ہوا ہے تو سجدۂ سہو قبل السلام ہو گا، اور اگر کسی زیادتی کی وجہ سے واجب ہوا ہے تو بعد السلام ہو گا۔ ان کے مسلک کو یاد رکھنے کے لئے اس طرح تعبیر کیا جاتا ہے کہ ”القاف بالقاف والدال بالدال“ یعنی ”القبل بالنقصان والبعد بالزیادۃ " امام احمد ( رحمہ اللہ) کا مسلک یہ ہو کہ آنحضرت صلی علیہ وسلم سے سہو کی جن صورتوں میں سجود قبل السلام ثابت ہے وہاں قبل السلام پر عمل کیا جائے گا، مثلاً حدیثِ باب میں قعدہ اولیٰ کے ترک پر، اور جہاں آپ سے بعد السلام ثابت ہے، ان صورتوں میں بعد السلام پر عمل ہوگا، مثلاً چار رکعت والی نماز میں دو رکعت پر سلام پھیر دینے کی صورت میں کما فی حدیث ذی الیدین ( جامع ترمذی ( ج ۱،ص ۷۸) باب ما جاء فی الرجل یسلم فی الرکعتین الظہر و العصر)  اور جن صورتوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ ثابت نہیں وہاں امام شافعی ( رحمہ اللہ) کے مسلک کے مطابق قبل السلام سجود ہو گا، امام اسحق (رحمہ اللہ) کا مسلک بھی یہی ہے، البتہ جس صورت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ ثابت نہ ہو وہاں وہ امام مالک ( رحمہ اللہ کے مسلک کے مطابق ”القاف بالقاف و الدال بالدال“ پر عمل کرتے ہیں ، بہر حال ائمہ ثلاثہ کسی نہ کسی صورت میں سجدہ سہو قبل السلام کے قائل ہیں، جبکہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ ہر صورت میں بعد السلام پر عمل کرتے ہیں، یہاں یہ ذہن میں رہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل السلام اور بعد السلام دونوں طریقے ثابت ہیں، اور یہ اختلاف محض افضلیت میں ہے، ائمہ ثلاثہ کا استدلال حضرت عبداللہ ابن بحینہ رضی اللہ عنہ کی حدیثِ باب سے ہے، جس میں آپ نے قعدہ اولیٰ چھوٹ جانے کی وجہ سے قبل اسلام سجدہ فرمایا،


اس کے برخلاف حنفیہ کے دلائل مندرجہ ذیل ہیں:-

۱۔  اگلے باب (باب ماجاء فی سجدتی السہو بعد السلام والکلام) میں حضرت عبد اللہ بن مسعود کی حدیث آرہی ہے، ”ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم صلی الظہر خمسا فقیل لہ ازید فی الصلوۃ ام نسیت فسجد سجدتین بعد ما سلم “ قال ابو عیسی ہذا حدیث حسن صحیح، 

٢.  ترمذی کے سوا تمام صحاح میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے: 

 

واذا شک احدکم فی صلاتہ فلیتحرّ الصواب فلیتم علیہ ثم یسلم ثم یسجد سجدتین {( اللفظ للبخاری)  انظر الصحیح البخاری ج ۱ ص ۵۷و ۵۸ ،  کتاب الصلاۃ باب التوجہ نحو القبلۃ حیث کان، والصحیح مسلم (ج ۱ ص (۲۱۱و۲۱۲) باب السہو فی الصلوۃ والسجود لہ و السنن للنسائی (ج ۱ (ص ۱۸۴) کتاب السہو باب التحری، سنن  لابی داؤد ( ج ۱،  ۱۴۶) باب اذا اصلے خمسا و سنن لابن ماجہ (ص۸۵) باب ماجاء فیمن سجد ہما بعد السلام ۱۲رشید اشرف نفعہ اللہ بما  علمہ و علمہ ما ینفعہ،}



(۳) ابو داؤد {(ج ۱ ص۱۴۸ و ۱۴۹) باب من نسی ان یتشہد و ہو جالس} اور ابن ماجہ {(ص۸۵) باب ما جاء فیمن سجدھا بعد السلام} میں حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے :-  ” لکل سہو سجدتان بعد ما یسلم“ اس پر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ اس حدیث کا مدار اسمٰعیل بن عیاش پر ہے، جو ضعیف ہے، 



اس کا جواب یہ ہے کہ اسماعیل بن عیاش حفاظِ شام میں سے ہیں، اور ان کے بارے میں پیچھے یہ قول فیصل گزر چکا ہے کہ ان کی روایات اہلِ شام سے مقبول ہیں، غیر اہلِ شام سے نہیں، اور یہ حدیث انھوں نے عبداللہ بن عبید اللہ الکلاعی سے روایت کی ہے ، جو اہلِ شام سے ہیں، لہذا یہ حدیث مقبول ہے،


(۴)  سنن نسائی {(ج ۱ ص۱ ۸۵)، باب التحری ، کتاب السہو و سنن ابو داؤد {( ج ۱ ص ۱۴۸) باب من قال بعد التسلیم)  میں حضرت عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ علیہ وسلم کی روایت مروی ہیں: ” قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من شک فی صلاتہ فلیسجد سجدتین بعد ما یسلم،


(۵) ترمزی (ص(۷۳) میں پیچھے باب ماجاء فی الامام ینہض فی الرکعتین ناسیا“ کے تحت حضرت شعبی کی روایت گزر چکی ہے ، ”قال صلی بنا المغیرۃ بن شعبۃ فنہض فی الرکعتین فسبخ بہ القوم وسبح بہم فلما قضی صلوٰتہ ملم ثم سجد سجدتی السہو، وہو جالس ثم حدثہم ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فعل بہم مثل الذی فعل .....  اس روایت میں بھی سجدہ سہو بعد السلام کی تصریح ہے، 

(۶) حضرت ذوالیدین کے واقعہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ سلم کا عمل سجدۂ سہو بعد السلام بتلایا گیا ہے، چناں چہ اس واقعہ میں یہ الفاظ مروی ہے: فصلی اثنتین اخریین ثم سلم ثم کبر فسجد الخ { ترمذی (ج ۱ ص ۷۸) باب ما جاء فی الرجل یسلم فی الرکعتین من الظہر و العصر}

حنفیہ کے ان دلائل میں قولی احادیث بھی ہیں اور فعلی احادیث بھی، اس کے بر خلاف  ائمۂ  ثلاثہ کے پاس صرت فعلی احادیث ہیں، (جو جواز پر محمول ہیں) لہذا حنفیہ کے دلائل راجع ہوں گے ، اور حضرت عبداللہ ابن بحینہ کی حدیثِ باب کا جواب یہ ہے کہ وہ بیانِ جواز محمول ہے، نیز یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس میں قبل السلام سے مراد وہ سلام ہو جو سجدہ سہو کے بعد تشہد پڑھ کر آخر میں کیا جاتا ہے،


”ویقول (ای الشافعی) ہذا الناسخ لغیرہ من الاحادیث و یذکر ان آخر فعل النبی صلی اللہ علیہ وسلم کان علی ہذا “ اس کا مطلب یہ ہے کہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک بعد السلام کی روایات منسوخ ہیں، اور وہ اُن کے لئے حضرت عبداللہ ابن بحینہ رضی اللہ عنہ کی حدیثِ باب کو ناسخ مانتے ہیں،


لیکن نسخ کا دعویٰ صحیح نہیں اور محتاجِ دلیل ہے جبکہ یہاں کوئی دلیل نہیں، اگر چہ امام شافعی رحمہ اللہ نے نسخ کی دلیل میں امام زہری کا قول¹ نقل کیا ہے کہ سجود قبل السلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری عمل تھا“ ، لیکن امام زہری کا یہ قول منقطع ہے ، علاوہ ازیں یحییٰ ابن سعید قطان کے بیان کے مطابق امام زہری کی مراسیل شبہ لاشی²“ ہیں، لہذا اس سے نسخ پر استدلال نہیں کیا جا سکتا،

 

¹ عن الزہری قال سجد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سجدتی السہو قبل السلام وبعدہ و آخر الامرین قبل السلام، لیکن خود علامہ ابوبکر حازمی شافعی ” کتاب الاعتبار فی بیان الناسخ والمنسوخ من الآثار“ (ص ۱۱۵) باب سجود السہو بعد السلام والاختلاف فیہ کے تحت امام زہری کے مذکورہ قول کو نقل کرنے کے بعد آگے چل کر فرماتے ہیں ”طریق الانصاف ان نقول اما حدیث الذی فیہ دلالۃ علی النسخ ففیہ انقطاع فلا یقع معارض اللاحادیث الثابتۃ واما بقیۃ الاحادیث فی الجود قبل السلام و بعدہ قولاً وفعلاً فی ان کانت ثابتۃ صحتہ فیہا نوع تعارض غیر ان تقدیم بعضہا علی بعض غیر معلوم بروایۃ موصولۃ مسحۃ والاشیہ جمل الاحادیث علی التوسع وحواز الامرین “ احقر الورٰی رشید اشرف غفر اللہ ۔۔۔۔ 


² کذا فی معارف السنن (ج ۳ ص (۴۹۱) نقد من الخطیب فی الکفایۃ ۱۲ مرتب عفی عنہ


درس ترمذی: ص۱۴۳و۱۴۶ 

للتفصيل رجوع للكتاب المذكوره

برقی جمع و ترتیب ماجد ابن فاروق کشمیری 

فرشتوں کا حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مشاورت میں ٹاٹ کا لباس پہنا کی حقیقت و تحقیق

1




السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ 

سلسلہ تخریج الاحادیث نمبر 18


ہبط علی جبریل علیہ السلام وعلیہ طنفسۃ وہو متخلل بہا فقلت : یا جبریل ! ما نزلت الی فی مثل ہذا الزی ؟ قال : ان اللہ تعالی امر الملائکۃ ان تتخلل فی السماء کتخلل ابی بکر فی الارض

ترجمہ : آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے ) مجھ پر جبرائیل علیہ السلام اس حال میں اترے کہ وہ ٹاٹ کالباس اوڑھے ہوئے تھے ، تو میں نے کہا : ” اے جبرائیل ! تم تو پہلے بھی اس حلیہ میں نہیں اترے ؟ “ اس قسم کے لباس پہنے کی کیا خاص وجہ ہے ؟ ) تو حضرت جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا بے شک اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا ہے کہ وہ آسان میں وہ لباس پہنیں جو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے زمین میں پہنا ہوا ہے ۔


یہ حدیث بھی زبان زد عام ہے ، حالانکہ اس حدیث کو علامہ جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ ، امام این عراق رحمۃ اللہ علیہ اور دیگر محدثین نے موضوع اور من گھڑت قرار دیا ہے ۔ 

[بالتریب دیکھیں: 

الآلی المؤضوعہ ١/٢٩٣

تنزیۃ الشریہ المرفوعۃ ١/٣٤٣

الفوائد المجموعۃ ص ٤١٩ : رقم الحدیث ٦/١٠٤٣]

علامہ ابن الجوزی رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث کے بارے میں لکھتے ہیں :۔

 یہ حدیث ثابت آشنانی نے اپنی طرف سے گھڑی ہوئی ہے اور اس حدیث گھڑنے کے ساتھ ساتھ نقلِ حدیث اور معرفتِ حدیث سے بھی جاہل تھا۔

[کتاب الموضوعات ٢/٥٥]


یہاں قارئین کے سامنے یہ وضاحت ضروری ہے کہ احادیث پر علم لگانے میں علامہ ابن جوزی رحمۃ اللہ علیہ وسلم کا تشدد مشہور ہے ، تاہم اس میں اس حدیث پر ان کے علم کو اصولی اور بنیادی حیثیت سے ذکر نہیں کیا گیا بلکہ ان کا قول کی تائیدی طور پر ذکر کیا گیا ہے ۔ دیگر معتدل ائمہ حدیث و  اہل تحقیق کی رائے کوئی بنیاد بنا کر احادیث پر حکم لگایا گیا ہے۔

لہذا یہ حدیث موضوع ہے، حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کے مستند مناقب و فضائل اتنے زیادہ ہیں کہ جن میں انبیا کے علاوہ کوئی ان میں شریک نہیں۔ لہٰذا ان کے مناقب و فضائل بیان کرنے میں مستند روایات کو ہی بیان کیا جائے۔

برقی جمع و ترتیب : ماجد کشمیری 

قافلے کو دین کی دعوت دینے کے لیے سخت بارش میں جانا

0

 آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک قافلے کو دین کی دعوت دینے کے لیے جانا کی تحقیق۔

السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ 

سلسلہ تخریج الاحادیث نمبر 18




یہ روایت بھی عموماً بیان کی جاتی ہے کہ ایک مرتبہ سخت آندھی اور گرج چمک والی رات میں ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو کہیں تشریف لے جاتے ہوئے دیکھا تو اس صحابی رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ آپ اتنی سخت رات میں کہاں تشریف لے جار ہے ہیں ؟ آپ نے فرمایا کہ پہاڑ کے اس پار ایک قافلہ رات کے لیے ٹھہرا ہوا ہے ، اسے اپنی دعوت دینے کے لیے جا رہا ہوں ۔ اس صحابی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اتنی سخت رات میں جانے کی کیا ضرورت ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صبح تشریف لے جائیں ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مجھے ڈر ہے کہ کہیں صبح ہونے سے پہلے یہ قافلہ چلا جائے اس لیے ابھی جارہا ہوں۔

یہ روایت تلاش بسیار کے باوجود کہیں نہیں مل سکی۔

(چند مشہور لیکن غیر مستند احادیث: از مفتی صداقت علی)

ابوجہل کو دین اسلام کی دعوت سو بار دی گئی

0

 آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ابوجہل کو دین اسلام کی دعوت دینا کی تحقیق۔

السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ 

سلسلۃ تخریج الاحادیث نمبر ١٦



اس بارے میں دو روایتیں عموماً گردش کرتی ہیں۔

 ایک یہ کہ آپ نے ابوجہل کو ننانوے یا سو مرتبہ دین کی دعوت دی۔

 دوسری یہ کہ آپ نے ایک مرتبہ سخت بارش اور سردی میں ابوجہل کے گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا تو ابوجہل نے کہا کہ اتنی سخت بارش اور سردی میں ضرور کوئی بہت ہی حاجت مند شخص میرے گھر کادروازہ کھٹکھٹا ہے، میں ضرور اس کی حاجت پوری کروں گا ۔ چنانچہ جب اس نے دروازہ کھولا تو آپ صلی اللہ علیہ کو سامنے کھڑا تھے لیکن ابوجہل نے پھر بھی آپ کی دعوت کوٹھکرا دیا

یہ دونوں روایتیں ذخیرۂ احادیث میں بہت تلاش کے باوجود کہیں نہیں ملی، حدیث کی انسائیکلوپیڈیا میں بھی یہ حدیث نہیں مل پائے۔اور جب تک اس کی کوئی معتبر سند نہ ملے، اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتساب سے بیان کرنا موقوف رکھا جائے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ کی جانب صرف ایسا کلام و واقعہ ہی منسوب کیا جاسکتا ہے، جو معتبر سند سے ثابت ہو۔

ذیل میں زیر بحث واقعہ سے ملتی جلتی دو روایات لکھی جائیں گی،

 علامہ ابن عراق نے ”تنزیہ الشریعۃ“ میں حافظ ذہبی کے حوالے سے ٭رتن ہندی کذاب٭ کی سند سے کیا ہے، آپ لکھتے ہیں:

حدثنا رتن بن نصر بن کربال الہندی........... "قال صلی اللہ علیہ وسلم: لو ان للیہودی حاجۃ الی ابی جہل وطلب منی قضاء ہا، لترددت الی باب ابی جہل مائۃ مرۃ"[ تنزیۃ الشریہ المرفوعۃ :ص ٣٩]

       آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر کسی یہودی کا بھی حق ابو جہل پر ہو اور وہ میرے ذریعے سے طلب کرے، تو میں ابو جہل کے دروازے پر حصول حق کے لئے سو مرتبہ بھی جاؤں گا۔


        آگے علامہ ابن عراق [لابی الحسن علی بن محمد بن عراق الکنانی] مذکورہ روایت اور اس جیسی دوسری روایت کے متعلق حافظ ذھبی کا کلام لکھتے ہیں: 

"قال الذہبی: فاظن ان ہذہ الخرافات من وضع موسی ہذا الجاہل، او وضعہا لہ من اختلق ذکر رتن، وہو شیء لم یخلق، ولئن صححنا وجودہ و ظہورہ بعد سنۃ ستمائۃ، فہو اما شیطان تبدی فی صورۃ بشر، فادعی الصحبۃ وطول العمر المفرط، وافتری ہذہ الطامات، او شیخ ضال اسس لنفسہ بیتا فی جہنم بکذبہ علی النبی صلی اللہ علیہ وسلم"[ تنزیۃ الشریہ المرفوعۃ:ص، ٣٩]

حافظ ذہبی بیان فرماتے ہیں: میرا گمان یہ ہے کہ یہ خرافات اس جاہل موسی [سند میں موجود راوی] نے گھڑی ہیں، یا اس شخص نے گھٹری ہے جس نے رتن کا نام ایجاد کیا ہے، اور رتن ایسی چیز ہے جو پیدا ہی نہیں ہوئی [ اس نام کے شخص کی طرف منسوب روایات خود ساختہ ہونے کے ساتھ ساتھ، یہ رتن بھی خود ساختہ فرد ہے جس کا کوئی وجود حقیقت میں نہیں ہے] اگر اس کا وجود اور چھ سو سال کے بعد اس کا ظاہر ہونا مان لیا جائے، پھر یا تو وہ شیطان تھا جو انسانی صورت میں ظاہر ہوا، اور صحابیت ، طویل عمر کا دعوی کیا اور ان بے اصل باتوں کو گھڑا، یا وہ گمراہ سٹیایا ہوا شخص تھا جس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ بول کر اپنے لیے جہنم میں گھر بنایا۔

[سلیمان بن موسی الدمشقی الاموی پر امام بخاری کی جرح میں کفایت اللہ صاحب کا تعاقب :

امام بخاری رحمۃ اللہ نے کہا:

عندہ مناکیر (الضعفاء للبخاری: ۱۴۸)]

ان کے حوالے سے منکر روایات منقول ہیں۔

علامہ ابن ہشام نے ”السیرۃ النبویۃ" میں "محمد بن اسحاق عن عبد الملک بن عبد اللہ ثقفی" کی سند سے ایک واقعہ نقل کیا ہے: 

 ایک اراشی شخص نے ابو جہل کے ہاتھ اپنا مال فروخت کیا ابوجہل اس کا حق دینے میں ٹال مٹول کرنے لگا، وہ شخص قریش کے سرداروں کے پاس گیا اور ابو جہل کی شکایت کی، انہوں نے استہزاء آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اشارہ کیا اور کہا یہ تمہارا حق دلوائے گا، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور حق دلوانے کا کہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے لے کر ابو جہل کے دروازے پر گئے، ابو جہل باہر آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اراشی کا حق دینے کے لئے کہا، وہ فور اندر گیا اور اراشی کا حق دے دیا، سرداران قریش نے ابو جہل کو اس پر ملامت کیا، تو اس نے کہا: اللہ کی قسم !جب انہوں نے میرا دروازہ کھٹکھٹایا تو ایک رعب دار آواز آئی، جب میں باہر آیا تو سامنے ایک بڑا اونٹ کھڑا تھا، اگر میں حق دینے سے انکار کر دیتا تو وہ اونٹ مجھے کھا جاتا۔

علامہ ابن ہشام کی مذکورہ سند میں موجود راوی محمد بن اسحاق کے بارے میں حافظ ذہبی "دیوان الضعفاء“ میں لکھتے ہیں: 


”ثقۃ - ان شاء اللہ - صدوق، احتج بہ خلف من الائمۃ، ولاسیما فی المغازی..


       ان شاء اللہ ثقہ ہیں، صدوق ہیں، متقدمین ائمہ نے ان کی روایات سے استدلال کیا ہے، خاص طور پر مغاری کے باب میں ....“۔

  البتہ واضح رہے کہ بعض محدثین نے محمد بن اسحاق پر خاص جہت سے جرح بھی کی ہے.

 سند میں مذکور "عبد الملک بن عبد اللہ بن ابی سفیان ثقفی" کو حافظ ابن حبان نے '’ثقات “ میں لکھا ہے، البتہ سند منقطع ہے،


جمع و ترتیب: ماجد ابن فاروق کشمیری 

بے نمازی کی نحوست کا واقعہ، من گھڑت ہے۔

0

 بے نمازی کی نحوست کے واقعہ کی تحقیق


السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ 

 سلسلۃ تخریج الاحادیث نمبر 16





 یہ روایت بھی مشہور ہے کہ ایک صحابی  ؓ  نے حضور ﷺ گھر کی بے برکتی کی شکایت کی آپ ﷺ نے اس کو اپنے گھر پر پردہ لٹکانے  کا حکم دیا تعمیل ارشاد کے کچھ دن بعد وہ  صحابی ؓ  تشریف لائے اور انہوں نے حضور ﷺ سے فرمائے کی اس پردہ لٹکانے کے بعد میرے گھر کی بے برکتی ختم ہوگئی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس راستے سے ایک بے نمازی گزرا تھا اور تمہارے گھر پر پردہ نہ ہونے کی وجہ سے اس کی نظر تمہارے گھر کے اندر پڑجاتی تھی جس کی وجہ سے تمہارے گھر میں بے برکتی تھی۔ اب پردے کی وجہ سے اس کی نظر تمہارے گھر کے اندر پڑھنے سے رک گئی۔اس لیے بے برکتی ختم ہوگئی۔


یہ روایت بھی خود ساختہ اور من گھڑت ہے۔اس لے کہ اس مبارک اور پاکیزہ زمانے میں اس قسم کی بے نمازیوں کا کوئی تصور نہیں تھا۔ 


چنانچہ حضرت عبداللہ بن مسعود  ؓ فرماتے ہیں:۔


 وَلَقَدْ رَاَیْتُنَا وَمَا یَتَخَلَّفُ عَنْہَا ( ای الجماعۃ) اِلَّا مُنَافِقٌ مَعْلُومُ النِّفَاقِ۔


[ (صحیح مسلم بحوالہ فضائل نماز ص ٥١)

(صحیح مسلم:رقم الحدیث: ٦٥٤)

( سنن النسائی : رقم الحدیث: ٨٥٠)

( سنن ابن ماجہ :  رقم الحدیث:٧٧٧)


کہ ہم تو اپنا حال یہ دیکھتے  تھے کہ جو شخص کھلم کھلا منافق ہوتا تو وہ جماعت کی نماز سے رہ جاتا ورنہ کسی کو جماعت چھوڑنے کی ہمت بھی نہ ہوتی۔

لہذا اس روایت کو بیان کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔

(نوٹ: موضوع حدیث کی نشان دہی، اس سے ہوتی کہ وہ عقائدِ صحیحہ و صریح احادیث کے خلاف ہوتی، پش جو ہو، موضوع ہے)

جمع و ترتیب : ماجد ابن فاروق کشمیری 


آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک بوڑھی عورت کی گھٹڑی اٹھانا والا واقعہ

0

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک بوڑھی عورت کی گھٹڑی اٹھانا والے واقعہ کی تحقیق۔




 السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ 

سلسلۃ تخریج الاحادیث نمبر 15


یہ واقعہ مشہور ہے کہ ایک مرتبہ ایک بوڑھی یہودی عورت سر پر گھٹڑی اٹھا کر ”مکہ مکرمہ“ سے جاری تھی ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے اس کو دیکھا تو اس سے گھٹڑی لے کر خود اپنے سر پر رکھ لیا ۔ جب اسے منزل پر پہونچایا تو اس بڑھیا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نصیحت کی کہ ”مکہ“ میں ایک شخص ہے جو لوگوں کو ان کے کوئی دین سے پھیر کر ایک نئے دین کی دعوت دیتا ہے اور اسی کا نام محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ہے ۔ تم اس سے بچے رہنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ میں ہی ہوں، تو وہ بڑھیا آپ کے حسنِ اخلاق سے متاثر ہو کر ایمان لے آئیں ۔


 یہ واقعہ بھی خود ساختہ ہے ۔ تخریج حدیث کے جدید مکتبہ ” الدرر السنیۃ " نے اس واقعہ کو بے بنیاد اور من گھڑت قرار دیا ہے۔


 نیز اس قصے کے من گھڑت ہونے کی وجہ یہ بھی ہے کہ اس قصے میں یہودی عورت کا واقعہ ”مکہ“ میں بیان کیا گیا ہے، حالانکہ ”مکہ مکرمہ“ میں یہود نہیں تھے وہ تو مدینہ منورہ میں آباد تھے ۔ 

(نبی کریم صلی اللہ علیہ پر بوڑھی کا کوڑا پھینکنے واقعہ) 

اس کے ساتھ ایک اور واقعہ بھی بیان کیا جاتا ہے۔ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر کوڑا پھینکتی تھی ۔۔۔۔۔۔الخ ۔اس واقعے کے تو بہت سارے طریقے مشہور ہیں۔ جو کہ من گھڑت ہے۔

اور ان دونوں واقعات کو دارالعلوم دیوبند، جامعۃ علوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن نے بھی من گھڑت قرار دیا ہے۔


[بالترتیب دیکھیں:

Fatwa:134-136/B=3/1439)


یہ دونوں واقعات کسی حدیث میں ہماری نظر سے نہیں گذرے کسی اچھے مورخ کی طرف رجوع فرمائیں۔)


(صورتِ مسئولہ میں جو واقعہ تعلیمی نصاب کی کتب میں منقول ہے وہ بے اصل قصہ ہے، مستند کتبِ احادیث میں ایسا کوئی واقعہ نہیں ملتا، لہذا رسولِ اَکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاقِ کریمہ بیان کرنے کے لیے ایسے من گھڑت واقعات کا سہارہ لینے کی چنداں ضرورت نہیں، اور مذکورہ قصہ کی نسبت رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کرنا جائز نہیں۔)


(فتویٰ نمبر : 144004201397

دار الافتاء: جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن)


جمع و ترتیب : ماجد ابن فاروق کشمیری  

لڑکی کو پیغام کیسے بھیجیں

0




اب مستر نہیں ہے یہ دینا سے کہ ہر کام کے پیچھے کرنے کا مقصد عورت کی طلب ہے۔ طلب گرچہ تھی فطرتی پر اختراعیت اور تجاوز ہر شئی کا زوال ہے اور اس سی زوال نے ہمیں پسماندگی میں دھکیل دیا جو کہ ہماری ثقافت نہ تھی۔ جب کہ ہر کام حدود کے اندر کرنا بجا ہے، تو کیوں نا طلبِ نسا کو حدود کے اندر مظہر کیا جائیں۔ 


مطلوب کی حد : انسان جب اس قابل ہو جائیں کہ تفریق مرد و زن میں کمال کو پہنچ جائیں تو جو پہلا اظہارِ محبت ہو انہیں پیغامِ نکاح بھیجیں، گر نعم ہوا، تو تکمیل از حود ہوگی، گر ناگوار انکار سنے کو مل جائیں، تو دل کو دلاسا دیں کر اللہ کہ وسیع مخلوق نسا پر پھر طبع آزمائی کریں گئیں۔ ان شاءاللہ جب تک اقرار نہ آئیں تب تلک کوشاں رہیں۔ ہاں! اسی اثنا میں جان جوان راہِ مستقیم سے ہٹ کر راہِ باطلہ کو اختیار کرتے ہیں، اعنی وہ ریلیشن شپ میں وقت ضائع کرتے ہیں، نہ صرف لمحاتِ غالی بل کہ وہ تجوید ہنر، سرمایہ کاری سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ جن کے بغیر وہ نہیں ملتی۔


نفس کو درخورِ اعتنا بنائیں تاکہ انکار سننا ہی نہ پڑے، اس کے لیئے سیرت و صورت اخلاق و کردار اور حلال سرمایہ سے خود کو تزئین کریں۔ بعد ازاں آپ ایک برینڈ بن جائیں گئیں، جس کے شائقین ہوتے ہیں۔ بس پیشترِ وقت مرسل نہ بنے بل کہ بلوغ کا انتظار کریں۔ 


یہی وہ سر ہے، جس سے مفلح (کامیاب) شخصیات اپنے مستقبل کو محفوظ کرتے ہیں۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آگ پہ پانی ڈالنے والا پرندے کا نام

2

 حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آگ پہ پرندے کا پانی ڈالنا کی تحقیق۔


السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ 

سلسلۃ تخریج الاحادیث نمبر ١٤



یہ روایت مشہور ہے کہ جب نمرود نے سیدنا ابراہیم علیہ السلا کو آگ میں ڈالا تو ایک پرندہ  ابابیل  اپنی  چونچ میں پانی بھر کر ان پر ڈالتا رہا تاکہ آگ بجھ جائے جبکہ گرگٹ اس آگ پر پھونک مارتا رہا تاکہ وہ آگ مزید بھڑک اٹھے ۔

 یہ روایت درست نہیں نہ ہی کسی حدیث میں اس کا ذکر ہے ۔اس کی جگہ آپ صلی اللہ سلم کی حدیث میں ابابیل کی بجائے مینڈک کا ذکر ہے اور گرگٹ کی بجائے چھپکلی کا ذکر ہے ۔

وفی مصنف عبد الرزاق: عن معمر، عن الزہری، عن عروۃ، عن عائشۃ، ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: کانت الضفدع تطفئ النار عن ابراہیم، وکان الوزغ ینفخ فیہ، فنہی عن قتل ہذا، وامر بقتل ہذا ( رقم الحدیث ٨٣٩٢)


ترجمہ : حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ مینڈک حضرت ابراہیم علیے السلام کی آگ کو بجھاتارہ اور چھپکلی اس آگ میں پھونک پارتی رہی ۔ چنانچہ آپ نے مینڈک کومارنے سے منع فرمایا اور چھپکلی کو مارنے کاحکم دیا ۔

اس طرح بخاری شریف ، مسلم ،ترمزی،ابو داؤد، اور نسائی  میں بھی چھپکلی کا لفظ آیا ہے ۔

 النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ :  لِلْوَزَغِ الْفُوَیْسِقُ وَلَمْ اَسْمَعْہُ اَمَرَ بِقَتْلِہِ وَزَعَمَ سَعْدُ بْنُ اَبِی وَقَّاصٍ اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَمَرَ بِقَتْلِہِ ( بخاری :رقم الحدیث ٣٣٠٦)


عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ اَبِیہِ، اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ «اَمَرَ بِقَتْلِ الْوَزَغِ وَسَمَّاہُ فُوَیْسِقًا( مسلم :٥٨٤٤ )

عَنْ اَبِی ہُرَیْرَۃَ،‌‌‌‏ اَنَّ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:‌‌‌‏    مَنْ قَتَلَ وَزَغَۃً بِالضَّرْبَۃِ الْاُولَی،‌‌‌‏ کَانَ لَہُ کَذَا وَکَذَا حَسَنَۃً،‌‌‌‏ فَاِنْ قَتَلَہَا فِی الضَّرْبَۃِ الثَّانِیَۃِ،‌‌‌‏ کَانَ لَہُ کَذَا وَکَذَا حَسَنَۃً،‌‌‌‏ فَاِنْ قَتَلَہَا فِی الضَّرْبَۃِ الثَّالِثَۃِ،‌‌‌‏ کَانَ لَہُ کَذَا وَکَذَا حَسَنَۃً  ( ترمزی ١٤٨٢)


حَدَّثَنَا اَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ،‌‌‌‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ،‌‌‌‏ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ،‌‌‌‏ عَنْ الزُّہْرِیِّ،‌‌‌‏ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ،‌‌‌‏ عَنْ اَبِیہِ،‌‌‌‏ قَالَ:‌‌‌‏   اَمَرَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِ الْوَزَغِ،‌‌‌‏ وَسَمَّاہُ فُوَیْسِقًا۔( سنن ابی داؤد رقم الحدیث ٥٢٦٢)


 عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ عَنْ اُمِّ شَرِیکٍ قَالَتْ اَمَرَنِی رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِ الْاَوْزَاغِ (سنن النسائی رقم الحدیث ٢٨٨٨)


لہذا اس روایت میں ابابیل اور گرگٹ کو ذکر کرنا درست نہیں ۔


جمع و ترتیب : ماجد ابن فاروق کشمیری 

حضرت نوح علیہ السلام سے منسوب مٹی کے کھلونے کا واقعہ

0

 حضرت نوح علیہ السلام کو طوفان کے بعد اللہ تعالی کی طرف سے مٹی کے کھلونے بنانے اور بعد ازاں توڑنے کا حکم دینا کی تحقیق۔






السلام علیکم ورحمت اللہ

سلسلہ تخریج الاحادیث نمبر 13


” جب حضرت نوح علیہ السلام نے اپنے قوم کے لیے بد دعا فرمائی ، جس کے نتیجے میں اللہ تعالی نے طوفان بھیج کر سارے نافرمانوں کو ہلاک کر دیا تو کچھ عرصہ بعد اللہ تعالی نے حضرت نوح علیہ السلام کو حکم دیا کہ مٹی کے چند کھلونے بناؤ ، حضرت نوح علیہ السلام نے تعمیل ارشاد میں مٹی کے چند کھلونے بنا لیے ، پھر اللہ تعالی نے حکم دیا کہ اس کو توڑ دو تو حضرت نوح علیہ السلام نے علم خداوندی کو بجا لاتے ہوئے ان کو توڑ ڈالا ، لیکن ان کھلونوں کو توڑتے ہوئے حضرت نوح علیہ السلام رنجیدہ ہوئے کہ میں نے کتنی مشقت سے ان کھلونوں کو بنایا تھا اور اب ان کو توڑنے کا حکم دیا جارہا ہے ۔ ان کی اس دلی کیفیت پر اللہ تعالی نے ان کو مخاطب کر کے ارشاد فرمایا کہ اے نوح ! ان معمولی بے جان کھلونوں کو توڑنے سے آپ کے دل کو آئی ٹھیس پہنچی ہے تو آپ کی پر بددعا کی وجہ سے نے جن لوگوں کو ہلاک کر ڈالا کیا مجھے اپنے ان بندوں سے محبت نہیں تھی کہ آپ نے ان کی ہلاکت کی بد دعا کی کی ؟ “

 یہ قصہ مواعظ اور بیانات میں عام طور پر بیان کیا جاتا ہے ، لیکن یہ واقعہ بھی انبیاء کرام علیہم السلام کی شان کے خلاف ہے ، کیونکہ حضرات انبیا کرام علیہم السلام نے اپنی امت کے لیے بھی جذبات سے مغلوب ہو کر کوئی بددعا نہیں کی بلکہ عظیم ہستیاں ہر لحظہ انسانیت کی ہدایت حریص اور ان پر مشفق اور مہربان ہوا کرتی تھیں ۔

 حضرت نوح علیہ السلام کا اپنی امت کے لیے بد دعا کرنا بھی کسی قسم کی جذباتیت کی بنا پر نہیں تھا اور نہ ہی اپنے امت کے سینکڑوں سالوں کے اعراض و تکذیب اور مسلسل انکار سے تنگ آ کر اگر انہوں نے بد دعا کی تھی ، بلکہ ان کی بددعا کے پیچھے بھی ان لوگوں کے لیے شفقت اور مہربانی کا جذبہ کار فرما تھا جو ایمان قبول کر چکے تھے ، کہ یا الہ ! یہ کفار اگر زندہ رہیں گے تو یہ ان لوگوں کو گمراہ کر دیں گے جو ایمان قبول کر چکے ہیں ۔

چنانچہ قرآن کریم میں حضرت نوح علیہ السلام کی بد دعا کی یہ غرض مذکور ہے ۔ اللہ تعالی حضرت نوح علیہ السلام کے واقعہ کی حکایت کے طور پر ارشاد فرماتے ہیں :۔

وَقالَ نوحٌ رَبِّ لا تَذَر عَلَى الأَرضِ مِنَ الكافِرينَ دَيّارًا . إِنَّكَ إِن تَذَرْهُمْ يُضِلُّوا عِبَادَكَ وَلَا يَلِدُوا إِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًا .[٢٧/٢٦]

ترجمہ:اور نوح نے کہا اے میرے رب ! زمین پر ان کافروں میں سے کوئی رہنے والا نہ چھوڑ۔


صاحب معارف القرآن اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں ۔

وقال نوح رب لاتذر…: یہاں سے نوح ؑ کی دعا کا بقیہ حصہ ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ نوح ؑ کو کیسے سے معلوم ہوا کہ اگر یہ لوگ زندہ رہے تو ان کی پشت سے کافر ہی پیدا ہوں گے ؟ جواب یہ ہے کہ یہ بات ؓ نے خود نوح ؑ کو بتا ید تھی کہ آپ کی قوم میں سے جو لوگ ایمان لا چکے ہیں ان کے علاوہ اب کوئی شخص ایمان قبول نہیں کرے گا۔ 

(دیکھیے ہود : ٣٦ اس آیت کریمہ کو بھی ملاحظہ فرمائیں:)

وأوحِيَ إِلى نوحٍ أَنَّهُ لَن يُؤمِنَ مِن قَومِكَ إِلّا مَن قَد آمَنَ فَلا تَبتَئِس بِما كانوا يَفعَلونَ۔

ترجمہ:اور نوح کی طرف وحی کی گئی کہ بیشک حقیقت یہ ہے کہ تیری قوم میں سے کوئی ہرگز ایمان نہیں لائے گا مگر جو ایمان لا چکا، پس تو اس پر غمگین نہ ہو جو وہ کرتے رہے ہیں۔)

  یہ بات معلوم ہونے کے بعد نوح ؑ نے دعا کی کہ یا اللہ ! زمین پر ان کافروں میں سے ایک ”’ یار“ بھی باقی نہ چھوڑو۔ ”’ یارا“ ’ فیعال“ کے وزن پر ہے، یہ ”’ دار یدور دوراً“ (گھومنا) سے ہو تو معنی ہوگا، ایک پھرنے والا بھی نہ چھوڑ اور اگر ”’ دار“ (گھر) سے مشتق ہو تو معنی ہے، گھر میں بسنے والا ایک فرد بھی باقی نہ چھوڑ۔

 بلکہ مشہور مفسر علامہ قرطبی رحمہ اللہ علیہ نے تو یہاں تک لکھا ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام کی بددعا کرنے کی وجہ یہ تھی کہ ان کو اللہ تعالی کی طرف سے حکم دیا گیا تھا چنانچہ وہ لکھتے ہیں:

قلت: وإن كان لم يؤمر بالدعاء نصا فقد قيل له: أنه لن يؤمن من قومك إلا من قد آمن. فأعلم عواقبهم فدعا عليهم بالهلاك؛ كما دعا نبينا ﷺ على شيبة وعتبة ونظرائهم فقال: " اللهم عليك بهم " لما أعلم عواقبهم؛ وعلى هذا يكون فيه معنى الأمر بالدعاء. والله أعلم.([71:26] - نوح - القرطبي)

ترجمہ : ” اگر چہ نوح علیہ السلام کو اپنی قوم کے لیے بددعا کا علم صراحتا تو نہیں دیا گیا تھا ، البتہ ان سے یہ کہا گیا کہ آپ کی قوم میں سے اب کوئی بھی ہرگز ایمان نہیں لائے گا سوائے ان کے جو ایمان لا چکے ہیں ۔ تو اس آیت سے ان کو اپنی قوم کا انجام معلوم ہو چکا تھا تب انہوں نے ان کے لیے ہلاکت کی بددعا کی ۔ جیسا کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ نے عقبہ و شیبہ کا انجام معلوم ہو جانے پر ان کے لیے بددعا فرمائی تھی،

تو اس طرح ( اگر چہ حضرت نوح علیہ السلام کو صراحتا تو دعا کرنے کا حکم نہیں دیا گیا تھا لیکن ) معنوی طور پر ان کو دعا کرنا کا حکم دیا گیا تھا ۔ “

 لہذا اسی روایات بیان کری کی طرح سے بھی درست نہیں ، جن سے یہ ظاہر ہوتا ہو کہ اللہ تعالی نے نوح علیہ السلام کی بددعا پر کسی قسم کی ناراضگی کا اظہار کیا تھا ۔ (چند معروف لیکن غیر مستند احادیث) 

جمع و ترتیب : ماجد ابن فاروق کشمیری 

حضرت ایوب علیہ السلام کے بیماری کی روایت کی تحقیق .

0

حضرت ایوب علیہ السلام کے بیماری کی روایت کی تحقیق .



السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ 

سلسلہ تخریج الاحادیث نمبر ١٢


حضرت ایوب علیہ السلام اللہ تعالی کے برگزیدہ پیغمبر تھے ، جن کے اوپر بطور آزمائش ایک لمبے عرصے تک پیاری آئی تھی ۔ ان کی بیماری کے واقعے میں عموماً یہ بات بیان کی جاتی ہے کہ اس بیماری سے ان کا بدن گل سڑ گیا تھا اور ان کے مبارک جسم میں کیڑے پڑ گئے تھے کہ یہ بھی بیان کیا جاتا ہے۔ کہ اگر کوئی کیڑا ان کے بدن سے گر جاتا تو وہ ان کو اٹھا کر دوبارہ اپنی جگہ پر رکھ دیتے۔

انبیاء کرام علیہم السلام کے متعلق اس قسم کی روایات سے قبل یہ اصول زہن نشین کر لینا چاہیے کہ انبیاء کرام علیہم السلام پر صحت و مرض کے حالات آتے رہے ہیں ، تاہم اللہ تعالی نے انبیاء کرام علیھم السلام کو ہراس بیماری اور عیب سے محفوظ رکھا ہے جس سے لوگ کین یا کراہت محسوس کریں ، اور اس کی وجہ ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام کا مقصد بعثت لوگوں کو اللہ تعالی کی طرف بلانا اور ان میں رہتے ہوئے ، ان کو حق بات کی تلقین کرتے رہتا تھا ، جب کہ اس قسم کی باریاں لوگوں کے تنفر اور دوری کا باعث ہیں ، نیز اس قسم کی بیماریاں لوگوں میں تنفر اور دوری کا باعث ہیں نیز اس قسم کی بیماری شانِ  نبوت منصبِ نبوت  کے بھی منافی ہے ۔چنانچہ حضرت مفتی شفیع صاحب نور اللہ مرقدہ لکھتے ہیں :۔

 بعض آثار سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے جسم کے ہر حصے پر پھوڑے نکل آئے تھے یہاں تک کہ لوگوں نے گھن کی وجہ سے آپ کو ایک کوڑی پر ڈال دیا تھا لیکن بعض محققین مفسرین نے ان آثار کو درست تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے ، ان کا کہنا ہے کہ انبیاء کرام علیھم السّلام پر بیماریاں تو سکتی ہیں ، لیکن انہیں ایسی بیماری میں مبتلا نہیں کیا جاتا ، جن سے لوگ گھن کرنے  لگیں ۔ حضرت ایوب علیہ السلام کی بماری بھی اسی نہیں ہوسکتی ، بلکہ یہ کوئی عام قسم کی پیاری تھی ، لہذا وہ آثار جن میں حضرت ایوب علیہ السلام کی طرف پھوڑے پھنسیوں کی نسبت کی گئی ہے یا جن میں کہا گیا ہے کہ آپ کو کوڑی پر ڈال دیا گیا تھا۔

 روایۃ اور درایۃ قابلِ اعتماد نہیں ہیں ۔ [معارف القرآن جلد ٧/٥٢٢ ] 

نیز جمہور متعلقین مثلاً حافظ ابن حجر، علامہ آلوسی نے بھی حضرت ایوب علیہ السلام کی باری کی تفصیل والی روایت کی صحت سے انکا کیا ہے اور اس کو انبیاء کا علیھم السّلام اکی وجاہت (جو کہ بہت کا خاصہ ہے ) کے منافی قرار دی اہے ۔

تفصیل کے لیے دیکھیں:


 فتح الباری : جلد ٦/٢٢٦

 ۔ روح المعانی : جلد ٢٣/٢٠٨) ۔

 الاسرائیلیات واثرہا فی کتب الحدیث : ص ۳۳۳۰ ، ۳۳٤ -

 تفسیر المراغی : ۲۳ / ١٢٥

 ۔ فتاوی حقانیہ : ۲/۱٥۳ 

۔

الغرض امراض کا عارض ہوتا ہے بیشک انبیاء کرام علیہم السلام کے ساتھ بھی پیش آتا رہا ہے لیکن صرف اس حد تک کہ وہ لوگوں کے لیے باعثِ نفرت اور سببِ تکدر نہ ہو اور نہ ہی وہ عیب کے درجے میں ہو ، لہذا حضرت ایوب علیہ السلام پر اللہ تعالی کی طرف سے بیماری یا تکلیف تو یقیناً آئی تھی ، لیکن اس کی تفصیل بیان کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے ۔


مزید اس کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کےلیے نیچے والے مسیج کو مطالعہ فرما لیں ۔


وَاَیّوبَ اِذ نادی رَبَّہُ اَنّی مَسَّنِیَ الضُّرُّ وَاَنتَ اَرحَمُ الرّاحِمینَ ﴾ [21:83] - الانبیاء

ترجمہ:

اور ایوب کو جس وقت پکارا اس نے اپنے رب کو کہ مجھ پر پڑی ہے تکلیف اور تو ہے سب رحم والوں سے رحم والا

تفسیر:

خلاصہ تفسیر 

اور ایوب (علیہ السلام کے قصے کا تذکرہ کیجئے جب کہ انہوں نے (مرض شدید میں مبتلا ہونے کے بعد) اپنے رب کو پکارا کہ مجھ کو یہ تکلیف پہنچ رہی ہے اور آپ سب مہربانوں سے زیادہ مہربان ہیں (تو اپنی مہربانی سے میری یہ تکلیف دور کر دیجئے) تو ہم نے ان کی دعا قبول کی اور ان کو جو تکلیف تھی اس کو دور کردیا اور (بغیر ان کی درخواست کے) ہم نے ان کا کنبہ (یعنی اولاد جو ان سے غائب ہوگئے تھے (قالہ الحسن کذا فی الدار المنثور) یا مر گئے تھے (کما قال غیرہ) عطا فرمایا (اس طرح سے کہ وہ اس کے پاس آگئے یا بایں معنی کہ اتنے ہی اور پیدا ہوگئے، قالہ عکرمہ کما فی فتح المنان) اور ان کے ساتھ (گنتی میں) ان کے برابر اور بھی (دیئے، یعنی جتنی اولاد پہلے تھی اس کے برابر اور بھی دے دیے خواہ خود اپنی صلب سے یا اولاد کی اولاد ہونے کی حیثیت سے) (کذا فی فتح المنان من کتاب ایوب) اپنی رحمت خاصہ کے سبب سے اور عبادت کرنے والوں کے لئے ایک یادگار رہنے کے سبب سے۔

معارف و مسائل 

قصہ ایوب ؑ

حضرت ایوب ؑ کے قصہ میں اسرائیلی روایات بڑی طویل ہیں، ان میں سے جن کو حضرات محدثین نے تاریخی درجہ میں قابل اعتماد سمجھا ہے وہ نقل کی جاتی ہیں۔ قرآن کریم سے تو صرف اتنی بات ثابت ہے کہ ان کو کوئی شدید مرض پیش آیا جس پر وہ صبر کرتے رہے بالآخر اللہ تعالیٰ سے دعا کی تو اس سے نجات ملی اور یہ کہ اس بیماری کے زمانے میں ان کی اولاد اور احباب سب غائب ہوگئے خواہ موت کی وجہ سے یا کسی دوسری وجہ سے، پھر حق تعالیٰ نے ان کو صحت و عافیت دی اور جتنی اولاد تھی وہ سب ان کو دے دی بلکہ اتنی ہی اور بھی زیادہ دیدی، باقی حصے کے اجزاء بعض تو مستند احادیث میں موجود ہیں اور زیادہ تر تاریخی روایات ہیں حافظ ابن کثیر نے اس قصے کی تفصیل یہ لکھی ہے کہ

ایوب ؑ کو حق تعالیٰ نے ابتداء میں مال و دولت اور جائیداد اور شاندار مکانات اور سواریاں اور اولاد اور حشم و خدم بہت کچھ عطا فرمایا تھا پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو پیغمبرانہ آزمائش میں مبتلا کیا یہ سب چیزیں ان کے ہاتھ سے نکل گئی اور بدن میں بھی ایسی سخت بیماری لگ گئی جیسے جذام ہوتا ہے کہ بدن کا کوئی حصہ بجز زبان اور قلب کے اس بیماری سے نہ بچا وہ اس حالت میں زبان و قلب کو اللہ کی یاد میں مشغول رکھتے اور شکر ادا کرتے رہتے تھے۔ اس شدید بیماری کی وجہ سے سب عزیزوں، دوستوں اور پڑوسیوں نے ان کو الگ کر کے آبادی سے باہر ایک کوڑا کچرہ ڈالنے کی جگہ پر ڈال دیا۔ کوئی ان کے پاس نہ جاتا تھا صرف ان کی بیوی ان کی خبر گیری کرتی تھی جو حضرت یوسف ؑ کی بیٹی یا پوتی تھی جس کا نام لیّا بنت میشا ابن یوسف ؑ بتلایا جاتا ہے (ابن کثیر) مال و جائیداد تو سب ختم ہوچکا تھا ان کی زوجہ محترمہ محنت مزدوری کر کے اپنے اور ان کے لئے رزق اور ضروریات فراہم کرتی اور ان کی خدمت کرتی تھیں۔ ایوب ؑ کا یہ ابتلاء و امتحان کوئی حیرت و تعجب کی چیز نہیں، نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ اشد الناس بلاء الانبیاء ثم الصالحون ثم الامثل فالامثل، یعنی سب سے زیادہ سخت بلائیں اور آزمائشیں انبیاء (علیہم السلام) کو پیش آتی ہیں ان کے بعد دوسرے صالحین کو درجہ بدرجہ۔ اور ایک روایت میں ہے کہ ہر انسان کا ابتلاء اور آزمائش اس کی دینی صلابت اور مضبوطی کے اندازے پر ہوتا ہے جو دین میں جتنا زیادہ مضبوط ہوتا ہے اتنی اس کی آزمائش و ابتلاء زیادہ ہوتی ہے (تاکہ اسی مقدار سے اس کے درجات اللہ کے نزدیک بلند ہوں) حضرت ایوب ؑ کو حق تعالیٰ نے زمرہ انبیاء (علیہم السلام) میں دینی صلابت اور صبر کا ایک امتیازی مقام عطا فرمایا تھا (جیسے داؤد ؑ کو شکر کا ایسا ہی امتیاز دیا گیا تھا) مصائب و شدائد پر صبر میں حضرت ایوب ؑ ضرب المثل ہیں۔ یزید بن میسرہ فرماتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے ایوب ؑ کو مال و اولاد وغیرہ سب دنیا کی نعمتوں سے خالی کر کے آزمائش فرمائی تو انہوں نے فارغ ہو کر اللہ کی یاد اور عبادت میں اور زیادہ محنت شروع کردی اور اللہ تعالیٰ سے عرض کیا کہ اے میرے پروردگار میں تیرا شکر ادا کرتا ہوں کہ تو نے مجھے مال جائیداد اور دولت دنیا اور اولاد عطا فرمائی جس کی محبت میرے دل کے ایک ایک جزء پر چھا گئی پھر اس پر بھی شکر ادا کرتا ہوں کہ تو نے مجھے ان سب چیزوں سے فارغ اور خالی کردیا اور اب میرے اور آپ کے درمیان حائل ہونے والی کوئی چیز باقی نہ رہی۔

حافظ ابن کثیر یہ مذکورہ روایات نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ وہب بن منبہ سے اس قصہ میں بڑی طویل روایات منقول ہیں جن میں غرابت پائی جاتی ہے اور طویل ہیں اس لئے ہم نے ان کو چھوڑ دیا ہے۔

حضرت ایوب ؑ کی دعا صبر کے خلاف نہیں

حضرت ایوب ؑ اس شدید بلاء میں کہ سب مال و جائیداد اور دولت و دنیا سے الگ ہو کر ایسی جسمانی بیماری میں مبتلا ہوئے کہ لوگ پاس آتے ہوئے گھبرائیں، بستی سے باہر ایک کوڑے کچرے کی جگہ پر سات سال چند ماہ پڑے رہے کبھی جزع و فزع یا شکایت کا کوئی کلمہ زبان پر نہیں آیا۔ نیک بی بی لیّا زوجہ محترمہ نے عرض بھی کیا کہ آپ کی تکلیف بہت بڑھ گئی ہے اللہ سے دعا کیجئے کہ یہ تکلیف دور ہوجائے تو فرمایا کہ میں نے ستر سال صحیح تندرست اللہ کی بیشمار نعمت و دولت میں گزارے ہیں کیا اس کے مقابلے میں سات سال بھی مصیبت کے گزرنے مشکل ہیں۔ پیغمبرانہ عزم و ضبط اور صبر و ثبات کا یہ عالم تھا کہ دعا کرنے کی بھی ہمت نہ کرتے تھے کہ کہیں صبر کے خلاف نہ ہوجائے (حالانکہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا اور اپنی احتیاج و تکلیف پیش کرنا بےصبری میں داخل نہیں) بالآخر کوئی ایسا سبب پیش آیا جس نے ان کو دعا کرنے پر مجبور کردیا اور جیسا کہ اوپر لکھا گیا ہے یہ دعا دعا ہی تھی کوئی بےصبری نہیں تھی حق تعالیٰ نے ان کے کمال صبر پر اپنے کلام میں مہر ثبت فرما دی ہے فرمایا اِنَّا وَجَدْنٰہُ صَابِرًا اس سبب کے بیان میں روایات بہت مختلف اور طویل ہیں اس لئے ان کو چھوڑا جاتا ہے۔

ابن ابی حاتم نے حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت کیا ہے کہ (جب ایوب ؑ کی دعا قبول ہوئی اور ان کو حکم ہوا کہ زمین پر ایڑ لگائیے یہاں سے صاف پانی کا چشمہ پھوٹے گا اس سے غسل کیجئے اور اس کا پانی پیجئے تو یہ سارا روگ چلا جائے گا۔ حضرت ایوب نے اس کے مطابق کیا تمام بدن جو زخموں سے چور تھا اور بجز ہڈیوں کے کچھ نہ رہا تھا اس چشمہ کے پانی سے غسل کرتے ہی سارا بدن کھال اور بال یکایک اپنی اصلی حالت پر آگئے تو) اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے جنت کا ایک لباس بھیج دیا وہ زیب تن فرمایا اور اس کوڑے کچرے سے الگ ہو کر ایک گوشہ میں بیٹھ گئے۔ زوجہ محترمہ حسب عادت ان کی خبر گیری کے لئے آئی تو ان کو اپنی جگہ پر نہ پا کر رونے لگی۔ ایوب ؑ جو ایک گوشہ میں بیٹھے ہوئے تھے ان کو نہیں پہچانا کہ حالت بدل چکی تھی، انہیں سے پوچھا کہ اے خدا کے بندے (کیا تمہیں معلوم ہے کہ) وہ بیمار مبتلا جو یہاں پڑا رہتا تھا کہاں چلا گیا، کیا کتوں یا بھیڑیوں نے اسے کھالیا ؟ اور کچھ دیر تک اس معاملے میں ان سے گفتگو کرتی رہی۔ یہ سب سن کر ایوب ؑ نے ان کو بتلایا کہ میں ہی ایوب ہوں مگر زوجہ محترمہ نے اب تک بھی نہیں پہچانا۔ کہنے لگی اللہ کے بندے کیا آپ میرے ساتھ تمسخر کرتے ہیں تو ایوب ؑ نے پھر فرمایا کہ غور کرو میں ہی ایوب ہوں اللہ تعالیٰ نے میری دعا قبول فرما لی اور میرا بدن ازسرنو درست فرما دیا۔ ابن عباس فرماتے ہیں کہ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کا مال و دولت بھی ان کو واپس دے دیا اور اولاد بھی، اور اولاد کی تعداد کے برابر مزید اولاد بھی دے دی (ابن کثیر)

ابن مسعود نے فرمایا کہ حضرت ایوب ؑ کے سات لڑکے سات لڑکیاں تھیں اس ابتلاء کے زمانے میں یہ سب مر گئے تھے، جب اللہ نے ان کو عافیت دی تو ان کو بھی دوبارہ زندہ کردیا اور ان کی اہلیہ سے نئی اولاد بھی اتنی ہی اور پیدا ہوگئی جس کو قرآن میں وَمِثْلَہُمْ مَّعَہُمْ فرمایا ہے۔ ثعلبی نے کہا کہ یہ قول ظاہر آیت قرآن کے ساتھ اقرب ہے۔ (قرطبی)


بعض حضرات نے فرمایا کہ نئی اولاد خود اپنے سے اتنی ہی مل گئی جتنی پہلے تھی اور ان کے مثل اولاد سے مراد اولاد کی اولاد ہے۔ واللہ اعلم

ترجمہ:اور یاد کر ہمارے بندے ایوب کو جب اس نے پکارا اپنے رب کو کہ مجھ کو لگا دی شیطان نے ایذا اور تکلیف۔

خلاصہ تفسیر 

اور آپ ہمارے بندہ ایوب ؑ کو یاد کیجئے جبکہ انہوں نے اپنے رب کو پکارا کہ شیطان نے مجھ کو رنج اور آزار پہنچایا ہے۔ اور یہ رنج و آزار بعض مفسرین کے مطابق وہ ہے جو امام احمد نے کتاب الزہد میں ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ حضرت ایوب ؑ کی بیماری کے زمانے میں ایک بار شیطان ایک طبیب کی شکل میں حضرت ایوب کی بیوی کو ملا تھا۔ اسے انہوں نے طبیب سمجھ کر علاج کی درخواست کی، اس نے کہا اس شرط سے کہ اگر ان کو شفا ہوجائے تو یوں کہہ دینا کہ تو نے ان کو شفا دی، میں اور کچھ نذرانہ نہیں چاہتا۔ انہوں نے ایوب ؑ سے ذکر کیا، انہوں نے فرمایا کہ بھلی مانس وہ تو شیطان تھا۔ میں عہد کرتا ہوں کہ اگر اللہ تعالیٰ مجھ کو شفا دے دے تو میں تجھ کو سو قمچیاں ماروں گا۔ پس آپ کو سخت رنج پہنچا اس سے کہ میری بیماری کی بدولت شیطان کا یہاں تک حوصلہ بڑھا کہ خاص میری بیوی سے ایسے کلمات کہلوانا چاہتا ہے۔ جو ظاہراً موجب شرک ہیں۔ گو تاویل سے شرک نہ ہوں اگرچہ حضرت ایوب ازالہ مرض کے لئے پہلے بھی دعا کرچکے تھے۔ مگر اس واقعہ سے اور زیادہ ابہال اور تضرع سے دعا کی، پس ہم نے ان کی دعا قبول کرلی اور حکم دیا کہ) اپنا پاؤں (زمین پر) مارو۔ (چنانچہ انہوں نے زمین پر پاؤں مارا تو وہاں سے ایک چشمہ پیدا ہوگیا۔ (رواہ احمد) 

پس ہم نے ان سے کہا کہ۔ یہ (تمہارے لئے) نہانے کا ٹھنڈا پانی ہے اور پینے کا۔ (یعنی اس میں غسل کرو اور پیو بھی۔ چناچہ نہائے اور پیا بھی، اور بالکل اچھے ہوگئے) اور ہم نے ان کو ان کا کنبہ عطا فرمایا اور ان کے ساتھ (گنتی میں) ان کے برابر اور بھی (دیئے) اپنی رحمت خاصہ کے سبب سے اور اہل عقل کے لئے یادگار رہنے کے سبب سے (یعنی اہل عقل یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ صابروں کو کیسی جزا دیتے ہیں اور اب ایوب ؑ نے اپنی قسم پوری کرنے کا ارادہ کیا۔ مگر چونکہ ان کی بیوی نے ایوب ؑ کی خدمت بہت کی تھی۔ اور ان سے کوئی گناہ بھی صادر نہ ہوا تھا۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے ان کے لئے ایک تخفیف فرمائی) اور (ارشاد فرمایا کہ اے ایوب) تم اپنے ہاتھ میں ایک مٹھا سینکوں کا لو (جس میں سو سینکیں ہوں) اور (اپنی بیوی کو) اس سے مار لو اور (اپنی) قسم نہ توڑو (چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ آگے ایوب ؑ کی تعریف کی ہے کہ) بیشک ہم نے ان کو (بڑا) صابر پایا، اچھے بندے تھے کہ (خدا کی طرف) بہت رجوع ہوتے تھے۔

معارف و مسائل 

حضرت ایوب ؑ کا واقعہ یہاں آنحضرت محمد ﷺ کو صبر کی تلقین کرنے کے لئے لایا گیا ہے یہ واقعہ تفصیل کے ساتھ سورۃ انبیاء میں گزر چکا ہے، یہاں چند باتیں قابل ذکر ہیں۔

مَسَّنِیَ الشَّیْطٰنُ بِنُصْبٍ وَّعَذَابٍ۔ (شیطان نے مجھ کو رنج اور آزار پہنچایا ہے) بعض حضرات نے شیطان کے رنج و آزار پہنچانے کی تفصیل یہ بیان کی ہے کہ حضرت ایوب ؑ جس بیماری میں مبتلا ہوئے وہ شیطان کے تسلط کی وجہ سے آئی تھی۔ اور ہوا یہ تھا کہ ایک مرتبہ فرشتوں نے حضرت ایوب ؑ کی بہت تعریف کی جس پر شیطان کو سخت حسد ہوا اور اس نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ مجھے ان کے جسم اور مال واولاد پر ایسا تسلط عطا کردیا جائے جس سے میں ان کے ساتھ جو چاہوں سو کروں، اللہ تعالیٰ کو بھی حضرت ایوب ؑ کی آزمائش مقصود تھی، اس لئے شیطان کو یہ حق دے دیا گیا اور اس نے آپ کو اس بیماری میں مبتلا کردیا۔

لیکن محقق مفسرین نے اس قصے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ قرآن کریم کی تصریح کے مطابق انبیاء ؑ پر شیطان کو تسلط حاصل نہیں ہو سکتا۔ اس لئے یہ ممکن نہیں ہے کہ اس نے آپ کو بیمار ڈال دیا ہو۔ 

بعض حضرات نے شیطان کے رنج وآزار پہنچانے کی یہ تشریح کی ہے کہ بیماری کی حالت میں شیطان حضرت ایوب ؑ کے دل میں طرح طرح کے وسوسے ڈالا کرتا تھا، اس سے آپ کو اور زیادہ تکلیف ہوتی تھی، یہاں آپ نے اسی کا ذکر فرمایا ہے۔ لیکن اس آیت کی سب سے بہتر تشریح وہ ہے جو حضرت تھانوی نے بیان القرآن میں اختیار کی ہے اور جو خلاصہ تفسیر میں اوپر لکھی گئی ہے۔ 


حضرت ایوب کے مرض کی نوعیت۔


قرآن کریم میں اتنا تو بتایا گیا ہے کہ حضرت ایوب ؑ کو ایک شدید قسم کا مرض لاحق ہوگیا تھا، لیکن اس مرض کی نوعیت نہیں بتائی گئی۔ احادیث میں بھی اس کی کوئی تفصیل آنحضرت محمد ﷺ سے منقول نہیں ہے۔ البتہ بعض آثار سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے جسم کے ہر حصے پر پھوڑے نکل آئے تھے۔ یہاں تک کہ لوگوں نے گھن کی وجہ سے آپ کو ایک کوڑی پر ڈال دیا تھا۔ لیکن بعض محقق مفسرین نے ان آثار کو درست تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) پر بیماریاں تو آسکتی ہیں، لیکن انہیں ایسی بیماریوں میں مبتلا نہیں کیا جاتا جن سے لوگ گھن کرنے لگیں۔ حضرت ایوب ؑ کی بیماری بھی ایسی نہیں ہو سکتی، بلکہ یہ کوئی عام قسم کی بیماری تھی، لہٰذا وہ آثار جن میں حضرت ایوب ؑ کی طرف پھوڑے پھنسیوں کی نسبت کی گئی ہے یا جن میں کہا گیا ہے کہ آپ کو کوڑی پر ڈال دیا گیا تھا، روایۃً ودرایۃً قابل اعتماد نہیں ہیں۔

(مخلص از روح المعانی و احکام القرآن)


جمع و ترتیب : ماجد ابن فاروق کشمیری 


© 2023 جملہ حقوق بحق | MK Arabic Accademy | محفوظ ہیں