کھیر بھوانی یاترا اور غیر مسلموں کی مذہبی تقریبات میں شرکت
اسلام نے غیر مسلموں کے ساتھ عدل، حسنِ سلوک، خیر خواہی اور باہمی احترام کو ہمیشہ فروغ دیا ہے۔ قرآنِ کریم نے مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے ساتھ انصاف، حسنِ معاشرت اور پرامن بقائے باہمی کا حکم دیا ہے، اور اسلامی تاریخ اس نوع کے بے شمار روشن نمونوں سے بھری ہوئی ہے۔ تاہم اسلامی تعلیمات میں جس طرح حسنِ تعلق، رواداری اور باہمی احترام کی تعلیم دی گئی ہے، اسی طرح عقائد، عبادات اور مذہبی شعائر کے باب میں ایک واضح امتیاز، مستقل تشخص اور اعتقادی حدود کی حفاظت کا بھی اہتمام کیا گیا ہے۔ چنانچہ حسنِ معاشرت اور مذہبی مشارکت دو جداگانہ امور ہیں؛ ایک کا تعلق انسانی روابط، سماجی معاملات اور اخلاقی برتاؤ سے ہے، جبکہ دوسرے کا تعلق عقیدہ، عبادت اور مذہبی شعائر سے ہے۔
اسی اصولی تناظر میں غیر مسلموں کی مذہبی یاتراؤں، میلوں اور تہواروں میں مسلمانوں کی شرکت کا مسئلہ قابلِ غور ہے۔ کھیر بھوانی یاترا بھی ایک مذہبی تقریب ہے جس کی بنیاد مخصوص مذہبی عقائد، رسوم اور عبادات پر قائم ہے، لہٰذا اس کا حکم محض ایک ثقافتی یا تجارتی اجتماع کا نہیں بلکہ ایک مذہبی اجتماع کا ہے، اور اسی حیثیت سے اس کا شرعی جائزہ لیا جانا چاہیے۔
اگر کوئی میلہ محض تجارتی نوعیت کا ہو، جیسے کتابوں کی نمائش، صنعت و حرفت کی نمائش، جانوروں کی خرید و فروخت کا بازار یا دیگر معاشی سرگرمیاں، تو اصل کے اعتبار سے ان میں شرکت اور تجارت کی گنجائش ہے، بشرطیکہ وہاں پائے جانے والے منکرات سے اجتناب کیا جائے۔ لیکن اگر کوئی میلہ یا یاترا مذہبی بنیادوں پر قائم ہو، جہاں غیر اللہ کی عبادت کی جاتی ہو، مذہبی رسوم ادا کی جاتی ہوں اور شرکیہ شعائر کا اظہار کیا جاتا ہو، تو اس کا حکم مختلف ہوگا۔
قرآنِ کریم میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ﴾ (المائدة: 90)
ترجمہ: ’’اے ایمان والو! بے شک شراب، جوا، بت اور فال کے تیر شیطانی اعمال میں سے ناپاک چیزیں ہیں، لہٰذا ان سے بچو تاکہ تم فلاح پاؤ۔‘‘
اس آیتِ کریمہ میں صرف شرک سے منع نہیں کیا گیا بلکہ اس کے مظاہر، اسباب اور متعلقہ امور سے بھی اجتناب کا حکم دیا گیا ہے۔ اسی بنا پر اہلِ علم نے ان مقامات اور اجتماعات سے دور رہنے کی تلقین کی ہے جہاں شرک اور باطل مذہبی رسوم کا اظہار کیا جاتا ہو۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿وَإِمَّا يُنْسِيَنَّكَ الشَّيْطَانُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرَى مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ﴾ (الأنعام: 68)
ترجمہ: ’’اور اگر شیطان تمہیں بھلا دے تو یاد آنے کے بعد ظالم لوگوں کے ساتھ نہ بیٹھو۔‘‘
امام جصاصؒ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں: «وَذَلِكَ عُمُومٌ فِي النَّهْيِ عَنْ مُجَالَسَةِ سَائِرِ الظَّالِمِينَ مِنْ أَهْلِ الشِّرْكِ وَأَهْلِ الْمِلَّةِ ... فَغَيْرُ جَائِزٍ لِأَحَدٍ مُجَالَسَتُهُمْ مَعَ تَرْكِ النَّكِيرِ ... لِأَنَّ فِي مُجَالَسَتِهِمْ مُخْتَارًا مَعَ تَرْكِ النَّكِيرِ دَلَالَةً عَلَى الرِّضَا بِفِعْلِهِمْ»
یعنی یہ آیت اہلِ شرک اور دیگر ظالم لوگوں کی مجالست سے عمومی ممانعت پر دلالت کرتی ہے؛ کیونکہ ان کے باطل پر نکیر کیے بغیر ان کے ساتھ بیٹھنا ان کے عمل پر رضامندی کی علامت بن جاتا ہے۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ﴾ (المائدة: 2)
ترجمہ: ’’نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور زیادتی کے کاموں میں مدد نہ کرو۔‘‘
اس آیت کی روشنی میں فقہاء نے یہ اصول بیان کیا ہے کہ اگر کسی مذہبی میلے یا یاترا میں شرکت اس کی رونق، تقویت یا فروغ کا سبب بنے تو یہ تعاون علی الإثم کے مفہوم میں داخل ہوسکتی ہے۔
صحیح بخاری میں حضرت عائشہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس لشکر کے بارے میں فرمایا جو بیت اللہ پر حملے کے ارادے سے نکلے گا: «يُخْسَفُ بِأَوَّلِهِمْ وَآخِرِهِمْ»
حضرت عائشہؓ نے عرض کیا: ان میں تو بازار والے اور دوسرے لوگ بھی ہوں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: «يُبْعَثُونَ عَلَى نِيَّاتِهِمْ»
علامہ بدر الدین عینیؒ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں: «ومما يستفاد منه: أن من كثر سواد قوم في معصية وفتنة أن العقوبة تلزمه معهم ... ومن ذلك وجوب التحذير من مصاحبة أهل الظلم ومجالستهم وتكثير سوادهم إلا لمن اضطر.»
یعنی اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص اہلِ معصیت اور اہلِ فتنہ کے مجمع کو بڑھاتا ہے وہ بھی ان کے ساتھ عقوبت کی لپیٹ میں آسکتا ہے، اسی لیے ان کی مجالس اور مجمع کو بڑھانے سے بچنے کی تاکید کی گئی ہے۔
فقہی ذخیرے میں بھی یہی اصول ملتا ہے: «ہندوؤں کا میلہ اگر مذہبی ہو تو اس میں شرکت جائز نہیں اور نہ مسلمانوں کو ان کے ایسے میلے میں اپنی دکان لے جانی چاہیے ... احتیاط اسی میں ہے کہ ان کے مذہبی میلہ میں سے کچھ بھی نہ خریدے؛ کیوں کہ خریداروں سے بھی میلہ کی رونق بڑھتی ہے اور کفار کے مذہبی میلہ کی رونق کو بڑھانا مناسب نہیں۔»
اسی کتاب میں مزید صراحت ہے: «غیر مسلموں کے مذہبی میلے میں بہ غرضِ تجارت بھی نہیں جانا چاہیے؛ کیونکہ خرید و فروخت کرنے والوں سے بھی میلے کی رونق بڑھتی ہے۔»
اسی طرح فقہی کتب میں یہ بھی مذکور ہے کہ اگر میلہ مذہبی نہ ہو بلکہ خالص تجارتی ہو تو اس میں شرکت اور خرید و فروخت کی گنجائش ہے، بشرطیکہ منکرات اور معاصی سے بچا جائے۔
منکرات سے اجتناب کے سلسلے میں نبی کریم ﷺ کا اسوہ بھی ہمارے سامنے ہے۔ حضرت علیؓ فرماتے ہیں: «صَنَعْتُ طَعَامًا فَدَعَوْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ فَجَاءَ، فَرَأَى فِي الْبَيْتِ تَصَاوِيرَ فَرَجَعَ» (صحيح ابن ماجه)
یعنی میں نے کھانا تیار کیا اور رسول اللہ ﷺ کو دعوت دی، آپ تشریف لائے، لیکن گھر میں تصویریں دیکھ کر واپس لوٹ گئے۔
یہ روایت اس بات کی دلیل ہے کہ جہاں منکر اور خلافِ شرع امور پائے جائیں وہاں سے اجتناب اہلِ ایمان کا شیوہ ہے، خواہ انسان خود اس عمل میں شریک نہ بھی ہو۔
امام احمد رضا خان رحمہ اللہ نے بھی فتاویٰ رضویہ میں لکھا ہے: «اگر وہ میلہ اُن کا مذہبی ہے جس میں جمع ہو کر اعلانِ کفر و ادائے رسومِ شرک کریں گے تو بقصدِ تجارت بھی جانا ناجائز و مکروہِ تحریمی ہے، اور ہر مکروہِ تحریمی صغیرہ، اور ہر صغیرہ اصرار سے کبیرہ۔»
المختصر فقہی مراجع میں یہ تصریح ملتی ہے کہ اگر کوئی میلہ یا یاترا شعائرِ کفر و شرک پر مشتمل ہو تو اس میں شرکت، یا ایسی حاضری جو اس کی رونق اور تقویت کا سبب بنے، محلِّ احتراز ہے۔ البتہ اگر اجتماع مذہبی نہ ہو بلکہ خالص تجارتی یا معاشرتی نوعیت کا ہو تو اصل جواز برقرار رہتا ہے، اگرچہ احتیاط، دینی غیرت اور منکرات سے اجتناب ہر حال میں مطلوب اور پسندیدہ ہے۔
الشیخ عبد الماجد الکشمیری
21 جون 2026