چھر سر ناگ کا سفر (حصہ اول)

0

 

جیسے ہی بہار کی آمد ہوتی ہے اور کشمیر کی سرسبز وادیاں برف کا سفید لباس اتار کر ہری چادر اوڑھ لیتی ہیں تو دل بےاختیار ان مقامات کی طرف کھنچنے لگتا ہے جہاں قدرت نے اپنے حسن کی سب سے قیمتی دولت لٹا رکھی ہو؛ جہاں پہاڑ سب سے زیادہ سرسبز لباس پہنے کھڑے ہوں اور وادیاں اپنی پوری رعنائی کے ساتھ انسان کا استقبال کرتی ہوں۔

ہماری ہمیشہ سے یہی کوشش رہی ہے کہ صرف ان مقامات تک نہ جائیں جہاں گاڑیاں پہنچ جاتی ہیں، کیونکہ اصل حسن تو وہاں سے شروع ہوتا ہے جہاں سڑک ختم ہوتی ہے اور انسان کے قدم اپنا سفر آغاز کرتے ہیں۔ اس سے پہلے ہم دودھ پتھری، پیر پنجال کی بلند چوٹیاں، کوثر ناگ، کونگ وٹن اور کئی دوسرے دشوار گزار مگر دلکش مقامات کی سیر کر چکے تھے۔

اس سال ارادہ "ہون ہنگ (Dog's Horn)" جانے کا تھا۔ یہ جگہ اپنی دورافتادگی کی وجہ سے اتنی مشہور ہے کہ کشمیر میں جب کسی انتہائی دور مقام کا ذکر کرنا ہو تو لوگ محاورۃً کہتے ہیں: "ایسے بات کر رہے ہو جیسے ہون ہنگ میں رہتے ہو۔" مگر اللہ تعالیٰ کو کچھ اور ہی منظور تھا، اس لیے کسی مجبوری کے باعث یہ منصوبہ نہ بن سکا۔

چند دن بعد ایک ساتھی نے تجویز دی کہ کیوں نہ چھر سر ناگ کا سفر کیا جائے۔ بات آئی گئی ہوتی رہی، مگر ایک رات ہم کیمپنگ ٹینٹ میں بیٹھے تھے کہ اچانک فیصلہ ہو گیا: "چلتے ہیں!" بس پھر کیا تھا، جو کچھ کھانے پینے کا سامان میسر تھا جمع کیا گیا، بستے باندھے گئے اور سفر کا آغاز ہو گیا۔

کچھ دوست کولگام کے ایک علاقے میں موجود تھے، انہیں ساتھ لیا اور مختلف دیہات سے گزرتے ہوئے دمحال پہنچے۔ وہاں سے بائیکوں پر ورڑن تک سفر کیا، جہاں گاڑیاں پارک کر کے اصل امتحان، یعنی پیدل سفر، شروع ہوا۔

ابھی ایک دو کلومیٹر ہی چلے تھے کہ قدرت کی خوبصورتی نے ہمیں اپنا گرویدہ بنانا شروع کر دیا، مگر ہمارے ایک ساتھی، جن کا یہ پہلا پہاڑی پیدل سفر تھا، جلد ہی تھکن محسوس کرنے لگے۔ کبھی بیٹھ جاتے، کبھی لیٹ جاتے اور بار بار آرام کی خواہش ظاہر کرتے۔

ہم نے بھی کچھ دیر آرام کیا، ساتھ لایا ہوا ہلکا پھلکا کھانا کھایا اور دوبارہ سفر شروع کر دیا۔ سامنے ایک بلند پہاڑ تھا، جسے مقامی لوگ گامی مال کہتے ہیں۔ ہمیں بتایا گیا کہ بس یہ پہاڑ عبور کر لیں، اس کے بعد راستہ نسبتاً آسان ہے۔

اگرچہ اس پہاڑ نے ہماری طاقت کا خوب امتحان لیا، مگر اس نے ہمارے دلوں کو ایک عجیب سکون بھی عطا کیا، کیونکہ اس مقام پر پہنچتے ہی موبائل فون کا رابطہ مکمل طور پر منقطع ہو گیا۔ کبھی کبھی انسان دنیا سے کٹ کر ہی اپنے آپ سے جڑتا ہے، اور شاید یہی حقیقی سکون ہوتا ہے۔

چوٹی پر پہنچے تو ہمارے ایک ساتھی کے چند عزیز اور دوست وہاں موجود تھے۔ انہوں نے نہایت محبت سے دیسی گھی میں چپڑی ہوئی گرم گرم روٹیاں اور خوشبودار گرم چائے ہمارے سامنے رکھ دی۔ یقین مانیے! اس وقت دنیا کی سب سے میٹھی نعمت وہی روٹی اور وہی چائے محسوس ہو رہی تھی۔ سخت تھکن کے بعد جب خلوص سے پیش کیا گیا کھانا نصیب ہو تو اس کا ذائقہ صرف زبان ہی نہیں بلکہ روح بھی محسوس کرتی ہے۔

ہم نے ان کا شکریہ ادا کیا اور اپنی استطاعت کے مطابق چند معمولی تحفے پیش کیے، حالانکہ ہم جانتے تھے کہ ان کے خلوص کا بدلہ کسی چیز سے ادا نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے دور ایک سفید سی لکیر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: "جہاں تمہیں دودھ جیسی سفیدی نظر آ رہی ہے، تمہیں اس سے بھی آگے جانا ہے۔"

یہ سن کر اگرچہ تھکے ہوئے جسم نے ہمت ہارنے کی کوشش کی، مگر حسین مناظر اور چند لمحوں کے آرام نے ہمارے اندر نئی جان ڈال دی، اور ہم دوبارہ روانہ ہو گئے

راستہ زیادہ دشوار نہ تھا، لیکن ایک مقام پر ہم راستہ بھٹک گئے، یا یوں کہیے کہ ہم نے ایک شارٹ کٹ اختیار کر لیا، جو ہمیں کافی مہنگا پڑا۔ ڈھلوان اتنی خطرناک تھی کہ قدم رکھنے کے لیے بھی مناسب جگہ نہیں مل رہی تھی۔

آخرکار نیچے ایک برفانی ندی تک پہنچے۔ اس کا پانی اس قدر ٹھنڈا تھا کہ جیسے برف بھی اس کے سامنے گرم محسوس ہو۔ ہم نے جب وہ پانی پیا تو یوں لگا جیسے جسم میں نئی زندگی دوڑ گئی ہو۔


پھر جب نگاہیں بلند کیں تو محسوس ہوا جیسے بلند پہاڑ ایک دوسرے سے سرگوشیاں کر رہے ہوں اور ہمیں اپنی طرف بلا رہے ہوں۔ دل میں خیال آیا کہ اگر انسان کے پر ہوتے تو ان پہاڑوں کی آغوش میں ایک رات ضرور گزارتا۔


راستے میں جو کچھ کھانے کو مل جاتا، وہی کھا لیتے۔ اوپر سے دیکھنے پر میدان بہت وسیع دکھائی دیتے تھے، لیکن جب ان میں اترتے تو معلوم ہوتا کہ وہ بھی پہاڑوں کی ہی ایک شکل ہیں۔


ان مناظر کی خوبصورتی ایسی تھی کہ دنیا و مافیہا سب کچھ نگاہوں سے اوجھل ہو جاتا تھا۔ انسان کو صرف اپنے رب کی قدرت یاد رہ جاتی تھی، اور زبان پر بےاختیار یہ آیت جاری ہو جاتی: ﴿وَلَا تَمْشِ فِي الْأَرْضِ مَرَحًا ۖ إِنَّكَ لَن تَخْرِقَ الْأَرْضَ وَلَن تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُولًا


ترجمہ: "اور زمین میں اکڑ کر مت چلو، یقیناً نہ تم زمین کو پھاڑ سکتے ہو اور نہ ہی بلندی میں پہاڑوں کو پہنچ سکتے ہو۔" (سورۃ الإسراء: 37)


واقعی، پہاڑ انسان کو عاجزی سکھاتے ہیں۔ جتنا وہ بلند ہوتے ہیں، اتنا ہی انسان کو اپنی حیثیت کا احساس دلاتے ہیں۔

کھیر بھوانی یاترا اور غیر مسلموں کی مذہبی تقریبات میں شرکت

0

کھیر بھوانی یاترا اور غیر مسلموں کی مذہبی تقریبات میں شرکت


اسلام نے غیر مسلموں کے ساتھ عدل، حسنِ سلوک، خیر خواہی اور باہمی احترام کو ہمیشہ فروغ دیا ہے۔ قرآنِ کریم نے مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے ساتھ انصاف، حسنِ معاشرت اور پرامن بقائے باہمی کا حکم دیا ہے، اور اسلامی تاریخ اس نوع کے بے شمار روشن نمونوں سے بھری ہوئی ہے۔ تاہم اسلامی تعلیمات میں جس طرح حسنِ تعلق، رواداری اور باہمی احترام کی تعلیم دی گئی ہے، اسی طرح عقائد، عبادات اور مذہبی شعائر کے باب میں ایک واضح امتیاز، مستقل تشخص اور اعتقادی حدود کی حفاظت کا بھی اہتمام کیا گیا ہے۔ چنانچہ حسنِ معاشرت اور مذہبی مشارکت دو جداگانہ امور ہیں؛ ایک کا تعلق انسانی روابط، سماجی معاملات اور اخلاقی برتاؤ سے ہے، جبکہ دوسرے کا تعلق عقیدہ، عبادت اور مذہبی شعائر سے ہے۔


اسی اصولی تناظر میں غیر مسلموں کی مذہبی یاتراؤں، میلوں اور تہواروں میں مسلمانوں کی شرکت کا مسئلہ قابلِ غور ہے۔ کھیر بھوانی یاترا بھی ایک مذہبی تقریب ہے جس کی بنیاد مخصوص مذہبی عقائد، رسوم اور عبادات پر قائم ہے، لہٰذا اس کا حکم محض ایک ثقافتی یا تجارتی اجتماع کا نہیں بلکہ ایک مذہبی اجتماع کا ہے، اور اسی حیثیت سے اس کا شرعی جائزہ لیا جانا چاہیے۔


اگر کوئی میلہ محض تجارتی نوعیت کا ہو، جیسے کتابوں کی نمائش، صنعت و حرفت کی نمائش، جانوروں کی خرید و فروخت کا بازار یا دیگر معاشی سرگرمیاں، تو اصل کے اعتبار سے ان میں شرکت اور تجارت کی گنجائش ہے، بشرطیکہ وہاں پائے جانے والے منکرات سے اجتناب کیا جائے۔ لیکن اگر کوئی میلہ یا یاترا مذہبی بنیادوں پر قائم ہو، جہاں غیر اللہ کی عبادت کی جاتی ہو، مذہبی رسوم ادا کی جاتی ہوں اور شرکیہ شعائر کا اظہار کیا جاتا ہو، تو اس کا حکم مختلف ہوگا۔

قرآنِ کریم میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ﴾ (المائدة: 90)


ترجمہ: ’’اے ایمان والو! بے شک شراب، جوا، بت اور فال کے تیر شیطانی اعمال میں سے ناپاک چیزیں ہیں، لہٰذا ان سے بچو تاکہ تم فلاح پاؤ۔‘‘


اس آیتِ کریمہ میں صرف شرک سے منع نہیں کیا گیا بلکہ اس کے مظاہر، اسباب اور متعلقہ امور سے بھی اجتناب کا حکم دیا گیا ہے۔ اسی بنا پر اہلِ علم نے ان مقامات اور اجتماعات سے دور رہنے کی تلقین کی ہے جہاں شرک اور باطل مذہبی رسوم کا اظہار کیا جاتا ہو۔


اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿وَإِمَّا يُنْسِيَنَّكَ الشَّيْطَانُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرَى مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ﴾ (الأنعام: 68)


ترجمہ: ’’اور اگر شیطان تمہیں بھلا دے تو یاد آنے کے بعد ظالم لوگوں کے ساتھ نہ بیٹھو۔‘‘


امام جصاصؒ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں: «وَذَلِكَ عُمُومٌ فِي النَّهْيِ عَنْ مُجَالَسَةِ سَائِرِ الظَّالِمِينَ مِنْ أَهْلِ الشِّرْكِ وَأَهْلِ الْمِلَّةِ ... فَغَيْرُ جَائِزٍ لِأَحَدٍ مُجَالَسَتُهُمْ مَعَ تَرْكِ النَّكِيرِ ... لِأَنَّ فِي مُجَالَسَتِهِمْ مُخْتَارًا مَعَ تَرْكِ النَّكِيرِ دَلَالَةً عَلَى الرِّضَا بِفِعْلِهِمْ»


یعنی یہ آیت اہلِ شرک اور دیگر ظالم لوگوں کی مجالست سے عمومی ممانعت پر دلالت کرتی ہے؛ کیونکہ ان کے باطل پر نکیر کیے بغیر ان کے ساتھ بیٹھنا ان کے عمل پر رضامندی کی علامت بن جاتا ہے۔


اسی طرح اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ﴾ (المائدة: 2)


ترجمہ: ’’نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور زیادتی کے کاموں میں مدد نہ کرو۔‘‘


اس آیت کی روشنی میں فقہاء نے یہ اصول بیان کیا ہے کہ اگر کسی مذہبی میلے یا یاترا میں شرکت اس کی رونق، تقویت یا فروغ کا سبب بنے تو یہ تعاون علی الإثم کے مفہوم میں داخل ہوسکتی ہے۔


صحیح بخاری میں حضرت عائشہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس لشکر کے بارے میں فرمایا جو بیت اللہ پر حملے کے ارادے سے نکلے گا: «يُخْسَفُ بِأَوَّلِهِمْ وَآخِرِهِمْ» 

حضرت عائشہؓ نے عرض کیا: ان میں تو بازار والے اور دوسرے لوگ بھی ہوں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: «يُبْعَثُونَ عَلَى نِيَّاتِهِمْ»


علامہ بدر الدین عینیؒ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں: «ومما يستفاد منه: أن من كثر سواد قوم في معصية وفتنة أن العقوبة تلزمه معهم ... ومن ذلك وجوب التحذير من مصاحبة أهل الظلم ومجالستهم وتكثير سوادهم إلا لمن اضطر.»

یعنی اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص اہلِ معصیت اور اہلِ فتنہ کے مجمع کو بڑھاتا ہے وہ بھی ان کے ساتھ عقوبت کی لپیٹ میں آسکتا ہے، اسی لیے ان کی مجالس اور مجمع کو بڑھانے سے بچنے کی تاکید کی گئی ہے۔

فقہی ذخیرے میں بھی یہی اصول ملتا ہے: «ہندوؤں کا میلہ اگر مذہبی ہو تو اس میں شرکت جائز نہیں اور نہ مسلمانوں کو ان کے ایسے میلے میں اپنی دکان لے جانی چاہیے ... احتیاط اسی میں ہے کہ ان کے مذہبی میلہ میں سے کچھ بھی نہ خریدے؛ کیوں کہ خریداروں سے بھی میلہ کی رونق بڑھتی ہے اور کفار کے مذہبی میلہ کی رونق کو بڑھانا مناسب نہیں۔»

نیز «غیر مسلموں کے مذہبی میلے میں بہ غرضِ تجارت بھی نہیں جانا چاہیے؛ کیونکہ خرید و فروخت کرنے والوں سے بھی میلے کی رونق بڑھتی ہے۔»

اسی طرح فقہی کتب میں یہ بھی مذکور ہے کہ اگر میلہ مذہبی نہ ہو بلکہ خالص تجارتی ہو تو اس میں شرکت اور خرید و فروخت کی گنجائش ہے، بشرطیکہ منکرات اور معاصی سے بچا جائے۔

منکرات سے اجتناب کے سلسلے میں نبی کریم ﷺ کا اسوہ بھی ہمارے سامنے ہے۔ حضرت علیؓ فرماتے ہیں: «صَنَعْتُ طَعَامًا فَدَعَوْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ فَجَاءَ، فَرَأَى فِي الْبَيْتِ تَصَاوِيرَ فَرَجَعَ» (صحيح ابن ماجه)

یعنی میں نے کھانا تیار کیا اور رسول اللہ ﷺ کو دعوت دی، آپ تشریف لائے، لیکن گھر میں تصویریں دیکھ کر واپس لوٹ گئے۔

یہ روایت اس بات کی دلیل ہے کہ جہاں منکر اور خلافِ شرع امور پائے جائیں وہاں سے اجتناب اہلِ ایمان کا شیوہ ہے، خواہ انسان خود اس عمل میں شریک نہ بھی ہو۔


امام احمد رضا خان رحمہ اللہ نے بھی فتاویٰ رضویہ میں لکھا ہے: «اگر وہ میلہ اُن کا مذہبی ہے جس میں جمع ہو کر اعلانِ کفر و ادائے رسومِ شرک کریں گے تو بقصدِ تجارت بھی جانا ناجائز و مکروہِ تحریمی ہے، اور ہر مکروہِ تحریمی صغیرہ، اور ہر صغیرہ اصرار سے کبیرہ۔»


المختصر فقہی مراجع میں یہ تصریح ملتی ہے کہ اگر کوئی میلہ یا یاترا شعائرِ کفر و شرک پر مشتمل ہو تو وہاں جانا حرام و ناجائز ہے، البتہ اگر اجتماع مذہبی نہ ہو بلکہ خالص تجارتی یا معاشرتی نوعیت کا ہو تو اصل جواز برقرار رہتا ہے، اگرچہ احتیاط، دینی غیرت اور منکرات سے اجتناب ہر حال میں مطلوب اور پسندیدہ ہے۔


الشیخ عبد الماجد الکشمیری

21 جون 2026

Weakly mock test

0

Academic Test

MK Arabic Academy

This academic content has been specially prepared for students to strengthen their understanding, improve examination preparation, and enhance academic performance. Students are encouraged to attempt all questions carefully and sincerely.

⚠️ Important Instructions:

• Do not copy answers from others.
• Attempt the test honestly using your own understanding.
• Read every question carefully before answering.
• Maintain academic discipline and sincerity throughout the test.
Open Test

Weakly mock test

0

Weekly Test

MK Arabic Academy

Welcome to this week's academic test prepared for the students of MK Arabic Academy. This test is designed to strengthen your understanding, improve your preparation, and evaluate your learning progress honestly and academically.
⚠️ Students are strictly advised not to copy answers from others or use unfair means during the test. Please answer sincerely by your own understanding and effort.
Start Weekly Test

بیوہ : زکات کا مصرف نہیں نکاح کا شرف ہے

0

 

 معاشروں کی نبض کبھی الفاظ سے نہیں، بلکہ اُن کی ترجیحات سے پہچانی جاتی ہے۔ کہیں ہمدردی کے چراغ روشن ہوتے ہیں مگر اُن کی روشنی راستہ نہیں دکھاتی، اور کہیں علاج کے نام پر مرہم تو رکھا جاتا ہے مگر زخم کی جڑ کو چھیڑا ہی نہیں جاتا۔ بعض اوقات رحم کے عنوان سے جو تدابیر اختیار کی جاتی ہیں، وہ دراصل ایک خاموش انحراف کی صورت ہوتی ہیں—ایسا انحراف جو مسئلے کو حل نہیں کرتا بلکہ اسے ایک نئے قالب میں برقرار رکھتا ہے۔

بیواؤں کے مسئلے کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی معاملہ درپیش ہے: ایک طرف شفقت کے نام پر سہارا دینے کی کوششیں، اور دوسری طرف اُن اصولی راستوں سے تغافل جو شریعت نے ان کے لیے مقرر کیے۔ سوال یہ نہیں کہ ہم کیا کر رہے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم کیا چھوڑ رہے ہیں—اور یہی وہ سوال ہے جو اس مضمون کے دروازے کھولتا ہے۔

بیوہ: ہمدردی نہیں، وقار کا عنوان

آج بیواؤں کے لیے مراکز قائم کرنے، وظائف جاری کرنے اور امدادی اسکیمیں چلانے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ بظاہر یہ اقدامات خیر خواہی کے آئینہ دار ہیں، مگر اگر ان کا تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ اکثر اصل حل سے توجہ ہٹا دیتے ہیں۔ اسلام نے بیوہ کو ایک مستقل محتاج طبقہ بنا کر پیش نہیں کیا، بلکہ اسے عزت و وقار کے ساتھ زندگی گزارنے کا حق دیا ہے۔

نکاح، جو انسانی زندگی کا فطری اور سماجی تقاضا ہے، بیوہ کے لیے بھی اسی طرح مشروع اور مطلوب ہے جیسے غیر شادی شدہ کے لیے۔ بلکہ اس کی ترغیب دی گئی، تاکہ وہ تنہائی، عدمِ تحفظ اور معاشی دباؤ سے نکل کر ایک متوازن زندگی کی طرف لوٹ آئے۔ یہی وہ راستہ ہے جس میں عفت بھی ہے، استحکام بھی اور معاشرتی وقار بھی۔

زکوٰۃ: استحقاق کا معیار بیوگی نہیں، احتیاج ہے

یہ تصور کہ ہر بیوہ لازماً زکات کی مستحق ہے، نہ نصوصِ شرعیہ سے ثابت ہے اور نہ فقہی اصولوں سے۔ قرآنِ کریم نے زکات کے مصارف کو “الفقراء والمساكين” کے عنوان سے بیان کیا ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ اصل معیار “حاجت” ہے، نہ کہ “محض بیوگی”۔

اگر کوئی بیوہ مالی طور پر مستحکم ہو، یا اس کے پاس کفایت کے اسباب موجود ہوں، تو وہ زکات کی مستحق نہیں رہتی۔ اس کے برعکس، اگر کوئی محتاج ہو تو وہ زکات کا مستحق ہوگا، خواہ وہ بیوہ ہو یا نہ ہو۔ اس سے معلوم ہوا کہ شریعت نے زکات کو ایک عارضی سہارا بنایا ہے، نہ کہ کسی طبقے کے لیے مستقل سہارا۔

وراثت: حق جو بھلا دیا گیا

بیوہ کے حقوق میں سب سے اہم حق “وراثت” ہے۔ شوہر کی وفات کے بعد اسے اس کا مقررہ حصہ دینا محض ایک قانونی تقاضا نہیں بلکہ ایک شرعی فریضہ ہے۔ افسوس کہ ہمارے معاشرے میں یہی حق اکثر پامال ہو جاتا ہے—کبھی رسم و رواج کے نام پر، کبھی خاندانی دباؤ کے تحت۔

اگر وراثت کے اس حق کو دیانت داری سے ادا کیا جائے تو بہت سی بیوائیں زکات کی محتاج ہی نہ رہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہم نے وراثت کے دروازے بند کر کے زکات کے دریچے کھول دیے ہیں، جبکہ شریعت کا منشا اس کے برعکس ہے۔

نکاح: اصل علاج، جسے نظر انداز کیا جا رہا ہے

بیوہ کے مسئلے کا سب سے مؤثر اور بنیادی حل نکاح ہے۔ یہ وہ راستہ ہے جسے اسلام نے نہ صرف جائز رکھا بلکہ اس کی حوصلہ افزائی کی۔ مگر ہمارے معاشرے میں نکاحِ بیوہ کو مختلف سماجی رکاوٹوں، غیر ضروری رسموں اور ذہنی تعصبات کی نذر کر دیا گیا ہے۔

نتیجہ یہ ہے کہ ہم بیوہ کو سہارا دینے کے نام پر اسے ایک مستقل محتاجی کے دائرے میں رکھتے ہیں، جبکہ نکاح اسے اس دائرے سے نکال کر ایک باوقار اور متوازن زندگی کی طرف لے جا سکتا ہے۔

اسلام کا مقصد محض پیٹ بھرنا نہیں، بلکہ انسان کو وقار کے ساتھ جینے کا حق دینا ہے۔ اسی لیے صدقہ کرنے میں بھی یہ تعلیم دی گئی کہ اسے اس انداز سے دیا جائے کہ لینے والے کی عزتِ نفس مجروح نہ ہو؛ حتیٰ کہ پوشیدہ طور پر دینا افضل قرار دیا گیا۔

اور جب کوئی واجب صدقہ یا زکات ادا کی جاتی ہے تو یہ تصور نہیں ہوتا کہ ہم کسی پر احسان کر رہے ہیں، بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے جس کی تعمیل کی جا رہی ہے۔ درحقیقت یہ لینے والے پر احسان نہیں، بلکہ دینے والے کے لیے ایک موقعِ خیر ہے کہ اسے اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی توفیق ملی۔

اسلام انسان کو یہ شعور دیتا ہے کہ وہ ضرورت پوری کرے، مگر عزت کے ساتھ؛ وہ کسی کا محتاج ہو تو بھی اپنی خودی نہ کھوئے، اور اگر دینے والا ہو تو اپنے اندر احسان کا غرور پیدا نہ ہونے دے۔ یہی وہ توازن ہے جس میں انسان جیتا بھی ہے اور اپنی عزتِ نفس کو بھی محفوظ رکھتا ہے—اور یہی وہ روح ہے جسے اسلام اپنے ماننے والوں میں پیدا کرنا چاہتا ہے۔

الشیخ عبد الماجد الکشمیری 

2 شوال 1447

23 مارچ 2026

معتکف و متاع

0

 مقامۂ معتکف و متاع


 ایک بار ایک جلیلُ القدر بادشاہ نے اپنے دو خاص ندیموں کو طلب کیا؛ وہ دونوں قربِ دربار کے خوگر، مگر مزاج میں ایک مشرق و مغرب تھے: ایک دور اندیش، دوسرا لذت اندیش؛ ایک کی نگاہ انجام پر، دوسرے کی زبان ہر وقت ذائقے کے تعاقب میں۔


بادشاہ نے کہا:

“میرے ایک نہایت وسیع خزانے کا دروازہ تمہارے لیے کھول دیا جاتا ہے۔ مدت بس چند روز کی ہے۔ جو شخص اندر جا کر جتنا سمیٹ سکتا ہو، سمیٹ لے؛ جو چاہے ہاتھ سے اُٹھائے، جو چاہے گاڑیوں پر لدوائے، جو چاہے اپنے گھر منتقل کرے۔ شرط فقط یہ ہے کہ مدت محدود ہے؛ ساعت گزری تو فرصت بھی گزری۔ پھر نہ در کھلے گا، نہ عرض سنی جائے گی، نہ حسرت کی فریاد کا کوئی مصرف ہوگا۔”


یہ سننا تھا کہ پہلا شخص، جو عقل کو زادِ راہ اور فرصت کو غنیمت جانتا تھا، ادب سے جھکا، اندر گیا، ایک نگاہ دائیں ڈالی، ایک بائیں، اور سمجھ گیا کہ یہاں اصل متاع کیا ہے: صندوق ہائے زر، سبیکۂ سیم، جواہرِ آبدار، اور وہ نادر اشیا جن سے بعد کی زندگی سنور سکتی تھی۔ چنانچہ اس نے نہ دیواروں کے نقش میں وقت کھپایا، نہ خوشبوؤں کے تعاقب میں سانس گنوائے، نہ نازک بحثوں میں عقل اٹکائی۔ فوراً باہر نکلا، مزدور بلائے، گاڑیاں منگوائیں، بوریاں کھلوائیں، صندوق اٹھوائے، اور پھر بھر بھر کر وہی متاع منتقل کرنے لگا جس سے گھر بھی آباد ہو اور کل بھی۔


مگر دوسرا صاحب!

اللہ اللہ، کیا طبعِ رنگیں پائی تھی! اندر داخل ہوئے تو دیکھا کہ ایک گوشے میں نایاب پھل سجے ہیں؛ کہیں انجیر ایسی کہ جیسے شکر نے صورت باندھ لی ہو، کہیں انگور ایسے کہ گویا موتی شاخوں پر آگئے ہوں، کہیں انار کہ دانے نہیں، یاقوت کے ٹکڑے ہوں۔

بس حضور وہیں جم گئے!

کہیں چکھا، کہیں چبایا، کہیں دانت آزمائے، کہیں زبان کو مصروفِ شکر گزاری کیا۔

اور اس شکر گزاری کا حال یہ تھا کہ پیٹ کی راہ کھلی رہی، مگر صندوقوں کی راہ بند!


پھر آگے بڑھے تو چند خدام و کنیزکان سے سامنا ہوا۔ اب اصل کام تو تھا متاع سمیٹنا، مگر موصوف نے وہاں ایک اور دریا بہا دیا:

کس تھال میں پھل زیادہ شیریں ہے؟

کس کمرے کی روشنی زیادہ دلکش ہے؟

کس پردے کا رنگ شاہانہ ہے؟

کس نے پہلے کس کی طرف دیکھا؟

کس جملے میں تعریض تھی اور کس میں تلویح؟

اور پھر ایسی بحث چھیڑی کہ نہ اس کا سرا ہاتھ آئے، نہ کنارا۔

ایک کہتا: “یہ تو محض آرائش ہے۔”

وہ فرماتے: “جناب، آرائش بھی متاع ہی کی ایک شاخ ہے!”

دوسرا عرض کرتا: “مگر اصل خزانہ تو ادھر ہے۔”

تو جواب آتا: “بھئی، حسنِ ترتیب کو بھی کچھ سمجھیے، یہ بھی کم سرمایہ نہیں!”


یوں وہ موصوف قشر کو مغز اور سایہ کو آفتاب سمجھتے رہے۔

ادھر گھڑی کی سوئیاں اپنا فرض نبھاتی رہیں، اُدھر حضرت ہر بے فائدہ مشغلے کو فائدہ ثابت کرنے میں لگے رہے۔

جب کبھی کسی نے کہا: “حضور! سونا چاندی بھی کچھ اٹھا لیجیے!”

تو بولے: “ارے ابھی کیا جلدی ہے؟ پہلے ذرا یہ طعامِ لطیف ختم ہو، پھر ان مسائلِ دقیقہ کا فیصلہ ہوجائے، پھر دیکھیں گے!”


اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ ساعت آپہنچی جس کے بعد “کاش” کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آتا۔


مدت ختم ہوئی۔ دروازے بند ہوئے۔

ایک باہر نکلا تو اس کے پیچھے گاڑیوں کی قطار تھی؛

دوسرا نکلا تو اس کے ساتھ صرف ڈکار، چند بے نتیجہ بحثوں کی گرد، اور ہاتھ میں ایک آدھ پھل کا چھلکا!


پہلے شخص نے کچھ دنوں بعد انہی خزانوں سے اپنا گھر سنوارا، مہینوں کا خرچ نکالا، آسودگی پائی، اور لوگوں نے کہا: “یہ وہ شخص ہے جس نے فرصت کی نبض پہچانی اور موقع کی زلف پکڑ لی۔”


اور دوسرا؟

سو پہلے دن تو پیٹ بھرے ہونے کا غرور رہا، مگر جب وہ عارضی لذت ہضم ہو گئی اور بحثوں کی بھاپ بھی ہوا ہو گئی، تب معلوم ہوا کہ جسے سرمایہ سمجھا تھا وہ تو ناشتۂ احساس بھی نہ تھا۔

بھوک نے دروازہ کھٹکھٹایا، حاجت نے آستین پکڑی، اور حسرت نے کان میں کہا:

“اے حضرتِ ذوق! اگر اس وقت ایک گاڑی بھی اصل خزانے کی بھر لیتے، تو آج زبان کو اپنے فیصلوں کی وکالت نہ کرنی پڑتی!”


یہ حکایت سن کر ایک صاحبِ دل نے فرمایا:

“اعتکاف بھی کچھ ایسا ہی شاہی اعلان ہے۔

چند دن کا درِ خاص کھلتا ہے؛

سامانِ قربت، خزائنِ مغفرت، جواہرِ دعا، سکّۂ ذکر، اور سونے چاندی سے بڑھ کر قبولیت کی دولت سامنے رکھی جاتی ہے۔

اب کوئی تو وہ ہے جو اندر جا کر تلاوت، دعا، استغفار، محاسبہ، ذکر، گریہ، توجہ اور اصلاحِ باطن کے صندوق بھر لیتا ہے؛

اور کوئی وہ بھی ہے جو مسجد میں آ کر کبھی افطار کے ذائقوں میں، کبھی تکیے کی نرمی میں، کبھی اِدھر کی بات اُدھر اور اُدھر کی اِدھر میں، کبھی ایسی بحثوں میں جن کا نہ دنیا میں وزن نہ آخرت میں نرخ، اپنا وقت یوں صرف کرتا ہے جیسے مدت لامحدود ہو اور فرصت ہمیشگی کی لونڈی!”


حالاں کہ اعتکاف کے یہ دن کھجوروں کے ذائقے ناپنے کے لیے نہیں،

بلکہ تقدیر کے خزانے سمیٹنے کے لیے ہیں۔

یہ ساعتیں اس لیے نہیں ملتیں کہ آدمی مسجد کی دیواروں کے اندر دنیا کی محفل دوبارہ آباد کر لے؛

بلکہ اس لیے کہ کچھ دیر کے لیے دنیا کو دروازے پر بٹھا کر دل کو رب کے حضور تنہا کر دے۔


ہاں، کھانا کھائیے، آرام بھی کیجیے، ضرورت کی بات بھی کہیے؛ شریعت نے رہبانیت نہیں سکھائی۔

مگر صاحب!

کہیں ایسا نہ ہو کہ دسترخوان یاد رہ جائے اور دستِ دعا بھول جائے،

نیند پوری ہو جائے اور ندامت ادھوری رہ جائے،

گفتگو کے پھول تو بہت چن لیے جائیں مگر مغفرت کے پھل شاخ ہی پر رہ جائیں۔


پس معتکف کے لیے دانائی یہی ہے کہ جب بادشاہِ حقیقی نے فرمایا ہے:

“آؤ، چند روز میرے گھر میں ٹھہرو، اور جتنا سمیٹ سکتے ہو سمیٹ لو”

تو پھر عقل مند وہی ہے جو اصل پنجی لے،

یعنی: توبہ، ذکر، دعا، قرآن، فکرِ آخرت، اصلاحِ نفس، اور شبِ قدر کی تلاش۔

ورنہ مدت گزر جائے گی، چاند رات آجائے گی، لوگ مبارک باد دیں گے،

اور کوئی دل ہی دل میں کہہ رہا ہوگا:

“ہم تو مسجد میں رہے، مگر شاید اعتکاف ہم میں نہ رہا!”


الشیخ عبد الماجد الکشمیری 

25 رمضان المبارک 1447

صدقة الفطر

0


تحميل ملف PDF

مواد دراسية للطلاب
يمكنكم تحميل ملف PDF من خلال الزر أدناه. يحتوي هذا الملف على مادة علمية مفيدة تساعدكم في الدراسة والمراجعة الأكاديمية.
تحميل PDF

© 2023 جملہ حقوق بحق | اسلامی زندگی | محفوظ ہیں