ایک چراغِ خاموش کی داستان: حاجی غلام حسن بن خلیل بٹؒ
زندگی کے وسیع افق پر کچھ انسان ایسے بھی ہوتے ہیں جو شور و غوغا کے میناروں پر نہیں چڑھتے، مگر خاموشی کے دیے بن کر زمانے کے دلوں کو روشن کرتے رہتے ہیں۔ وہ نہ تاریخ کے بڑے عنوان بنتے ہیں اور نہ شہرت کے بازاروں میں ان کا چرچا ہوتا ہے، لیکن جن دلوں کو ان کی قربت نصیب ہو، وہاں ان کی یاد ایک ایسے چراغ کی طرح جلتی رہتی ہے جس کی لو کبھی مدھم نہیں پڑتی۔ میرے دادا حاجی غلام حسن بن خلیل بٹؒ بھی انہی خاموش چراغوں میں سے ایک تھے—وہ چراغ جو مٹی کے گھر میں جلتا ہے مگر روشنی آسمان تک پہنچ جاتی ہے۔
ان کی زندگی کی صبحیں عام انسانوں کی طرح فجر سے نہیں بلکہ تہجد کی خاموش ساعتوں سے طلوع ہوتی تھیں۔ جب رات کی سیاہ چادر ابھی پوری طرح لپٹی ہوتی اور ستارے آسمان پر بکھرے ہوئے موتیوں کی طرح جھلملا رہے ہوتے، وہ بیدار ہو جاتے۔ وضو کی ٹھنڈی بوندیں ان کے چہرے پر پڑتیں تو یوں لگتا جیسے شبنم کسی پرانے درخت کے پتوں کو تازگی بخش رہی ہو۔ پھر وہ اپنے رب کے حضور کھڑے ہوتے۔ ان کی نماز گویا ایک خاموش مکالمہ تھی—بندے کی عاجزی اور رب کی رحمت کے درمیان۔
دن نکلتا تو ان کی زندگی کا دوسرا منظر شروع ہو جاتا۔ زمین ان کے لیے محض کھیتی نہ تھی بلکہ ماں کی طرح تھی جس کی گود میں وہ اپنی محنت کے بیج بوتے تھے۔ وہ مویشی پالنے والے ایک تجربہ کار کسان تھے۔ کھیتوں کی مٹی ان کے ہاتھوں کو پہچانتی تھی اور مویشیوں کی آنکھیں ان کی شفقت سے مانوس تھیں۔ بٹ محلے کے لوگ جب کسی مشکل میں پڑتے تو ان کے دروازے کی دہلیز پر دستک دیتے۔ ان کا تجربہ کسی کتاب کی طرح تھا جس کے صفحات پر برسوں کی محنت کے حرف لکھے ہوئے تھے۔
سادگی ان کی زندگی کا لباس تھی۔ وہ دواؤں کی بوتلوں کے محتاج نہ تھے۔ معمولی بیماریوں کے لیے وہ پہاڑوں اور میدانوں کی جڑی بوٹیوں کو ہی اپنا طبیب سمجھتے۔ گویا فطرت ان کے لیے ایک کھلا ہوا دوا خانہ تھی۔ شہد کی مکھیاں پالنا ان کا ایک دل پسند مشغلہ تھا۔ ان کے گھر میں شہد کی خوشبو یوں بکھری رہتی جیسے بہار کی ہوا میں پھولوں کی مہک۔ وہ خود بھی شہد شوق سے کھاتے اور دوسروں کو بھی اس نعمت سے مستفید کرتے۔ شاید اسی مٹھاس نے ان کی صحت کو آخری عمر تک مضبوط رکھا۔
عبادت کے معاملے میں وہ نہایت محتاط تھے۔ اگرچہ دن بھر کام کی گرد ان کے کپڑوں پر جم جاتی، مگر نماز کے وقت وہ اس گرد کو جھاڑ دیتے۔ کپڑے بدلتے اور مسجد کا رخ کرتے۔ یہ گویا اس بات کا کنایہ تھا کہ بندہ دنیا کی مٹی میں جتنا بھی الجھ جائے، رب کے دربار میں حاضر ہوتے وقت خود کو پاکیزہ بنا کر ہی پیش ہونا چاہیے۔ اکثر وہ میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے بھی مسجد لے جاتے۔ اس وقت مجھے محسوس نہیں ہوتا تھا کہ وہ صرف مجھے مسجد تک نہیں بلکہ زندگی کے راستے تک لے جا رہے ہیں۔
خود داری ان کی شخصیت کا ایک روشن وصف تھا۔ اگرچہ ان کی اولاد اللہ کے فضل سے آسودہ حال تھی، مگر انہوں نے کبھی اپنے ہاتھ کو کسی کے آگے پھیلنے نہ دیا۔ وہ اپنے بازوؤں کی کمائی کو عزت کا تاج سمجھتے تھے۔ ان کی زندگی گویا اس بات کی زندہ مثال تھی کہ وقار ہمیشہ خود کفالت کے سائے میں پروان چڑھتا ہے۔
میری بچپن کی تربیت میں بھی ان کا کردار ایک معلم کی طرح تھا۔ کبھی وہ شفقت کے سائے بن جاتے اور کبھی ڈانٹ کی بجلی گرا دیتے، مگر اس ڈانٹ میں بھی محبت کا دریا بہتا تھا۔ قرآن کی تعلیم کی طرف متوجہ کرنا ہو یا کشمیری زبان سکھانا—یہ سب انہی کی صحبت کا فیض تھا۔ اسی زبان میں انہوں نے مجھے نعت اور درودِ نبوی ﷺ کے کئی اشعار یاد کروائے۔ جب وہ درود پڑھتے تو یوں محسوس ہوتا جیسے عقیدت کے پھول فضا میں بکھر رہے ہوں۔
بٹ محلے میں جب قربانی کا موسم آتا تو اکثر لوگ انہیں ہی آواز دیتے۔ وہ اپنی ایک چھوٹی سی دستی کتاب نکالتے اور بڑے انہماک سے نیت پڑھتے۔ وہ منظر آج بھی میرے حافظے کے دریچے میں محفوظ ہے—ایک چھوٹی سی کتاب، ایک بوڑھی آواز اور اخلاص کا ایک روشن لمحہ۔
شاید انہی لمحوں کو دیکھ کر میرے دل میں مطالعے کا شوق پیدا ہوا۔ دادا کے ہاتھ میں کتاب دیکھنے کی جو عادت پڑی، وہ میرے دل میں ایسی شمع بن گئی جس کی لو آج تک روشن ہے۔
زندگی کے ایک مرحلے پر انہوں نے فشری ڈیپارٹمنٹ میں ملازمت بھی اختیار کی، مگر جلد ہی اسے چھوڑ دیا۔ دفتری زندگی ان کے مزاج کے مطابق نہ تھی۔ ان کا دل کھیتوں کی ہوا میں زیادہ سکون پاتا تھا۔ چنانچہ انہوں نے ملازمت کے بجائے زمین اور مویشیوں کی رفاقت کو ترجیح دی۔
وقت کا پہیہ گھومتا رہا اور آخرکار وہ دن بھی آیا جب بیماری نے ان کے جسم کو کمزور کر دیا۔ مگر ان دنوں میں بھی ان کی محبت کم نہ ہوئی بلکہ اور گہری ہو گئی۔ جب میں ان کے پاس بیٹھتا تو وہ محبت بھری نگاہوں سے دیکھتے اور میرے لیے دعائیں کرتے۔ ان کی دعائیں گویا میرے لیے سایہ دار درخت کی طرح تھیں جن کے سائے میں آج بھی میری زندگی کی راہیں ٹھنڈی محسوس ہوتی ہیں۔
آج جب میں ان کی زندگی کے اوراق پلٹتا ہوں تو مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ ایک ایسا چراغ تھے جو خاموشی سے جلتا رہا۔ اس چراغ نے نہ صرف ایک گھر بلکہ کئی دلوں کو روشنی دی۔
اور اب جب کبھی رات کے سناٹے میں تہجد کا وقت آتا ہے تو مجھے یوں لگتا ہے کہ جیسے فضا میں ایک مانوس دعا کی خوشبو اب بھی تیر رہی ہو—
گویا وہ خاموش چراغ بجھا نہیں، بلکہ ہماری نگاہوں سے اوجھل ہو کر کسی اور جہان میں روشنی بانٹنے لگا ہے۔
اللہ تعالیٰ ان کی قبر و لحد کو نور سے بھر دے، اسے رحمت کے باغوں میں سے ایک باغ بنا دے، اور حساب و کتاب کے مراحل کو ان کے لیے آسان فرما دے۔
اور میں اپنے آپ کو ان کے لیے ایک ادنیٰ سا صدقۂ جاریہ سمجھتے ہوئے یہ دعا کرتا ہوں کہ میرے یہ قلیل اعمالِ صالحہ—جو کسی نہ کسی طرح ان کی تربیت اور صحبت کا فیض ہیں—اللہ تعالیٰ انہیں قبول فرمائے اور ان کے سبب میرے دادا کے درجات کو مزید بلند فرما دے۔ آمین

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
ویب گاہ کی بہتری کے لیے آپ کی قیمتی رائے ہمارے لیے اہم اور اثاثہ ہے۔