پروفیشنل استاد کیسے بنیں

0


پروفیشنل استاد کیسے بنیں 

تعلیم محض الفاظ کی منتقلی نہیں، بل کہ دلوں کی آبادکاری کا نام ہے۔ دل وہیں ٹھہرتے ہیں جہاں اخلاص کی خوشبو بسی ہو۔ جو ہاتھ تختۂ سیاہ پر لکھتا ہے، اگر اس کی نیت بھی روشن ہو تو وہ تحریر خود چراغ بن جاتی ہے۔ اسی لیے کامیاب معلم وہ ہے جو علم سے پہلے نیت کو سنوارتا ہے؛ کیوں کہ نیت کا اخلاص ہی عمل کو وزن دیتا ہے۔

اسی اخلاصِ نیت پر کامیاب تدریس کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔ جب معلم تعلیم کو محض ذریعۂ معاش نہیں بل کہ ایک امانت سمجھ کر انجام دیتا ہے، تو اس کا ہر لفظ اثر رکھتا ہے۔ اخلاص وہ پوشیدہ طاقت ہے جو معمولی بات کو بھی دل نشیں بنا دیتی ہے، اور یہی طاقت معلم کے عمل میں دوام پیدا کرتی ہے.

نیت کے بعد جو چیز سب سے پہلے شاگرد کے دل تک پہنچتی ہے، وہ استاد کی خاموش زبان ہے۔کلاس روم میں معلم کی پہلی زبان اس کی مسکراہٹ، اس کی بشاشت اور اس کا نرم لہجہ ہوتا ہے۔ جب چہرہ کشادہ ہو تو ذہن کھلتے ہیں، اور جب لہجہ ہلکا ہو تو بوجھل دل ہلکے ہو جاتے ہیں۔ سختی ذہن کے دروازے بند کر دیتی ہے، جب کہ نرمی علم کے لیے راستے کھول دیتی ہے۔

اسی نرمی کا فطری نتیجہ تواضع ہے، جو معلم کی عظمت کا ایک مضبوط ستون ہے۔ وہ جھکتا ہے تو قد بڑھتا ہے، وہ نرم ہوتا ہے تو اثر گہرا ہوتا ہے۔ جب شاگرد یہ دیکھتے ہیں کہ استاد علم کے باوجود انکسار کا پیکر ہے، تو ان کے دلوں میں احترام خود بخود جاگ اٹھتا ہے، اور یہی احترام سیکھنے کی فضا کو قائم اور زندہ رکھتا ہے۔

یہ احترام اس وقت مضبوط اعتماد میں بدل جاتا ہے جب استاد شاگرد کی بات غور سے سنتا ہے، اس کے سوال کو اہم سمجھتا ہے اور اس کی رائے کو وقعت دیتا ہے۔ احترام اعتماد کو جنم دیتا ہے، اور اعتماد علم کو زندگی بخشتا ہے۔ اس کے برعکس جو استاد طلبہ کو کمتر سمجھے، وہ دراصل علم کی توہین کرتا ہے۔

اسی اعتماد کی فضا میں نصیحت بھی مؤثر بنتی ہے۔ نصیحت اگر حکم بن جائے تو دل بند ہو جاتے ہیں، اور اگر محبت میں ڈھل جائے تو دل راستہ دے دیتے ہیں۔ کامیاب معلم نصیحت کو سختی نہیں بناتا بل کہ رہنمائی میں بدل دیتا ہے۔ وہ شاگرد کی لغزش میں بھی اصلاح کا پہلو تلاش کرتا ہے، اور کمزوری میں امکان کی شمع روشن کرتا ہے۔

یہی حکمت استاد کو عدل و مساوات کی طرف لے جاتی ہے۔ اور یہ عدل وہ میزان ہے جس پر معلم کا کردار تولا جاتا ہے۔ یکساں توجہ، منصفانہ رویہ اور علم کی منصفانہ ترسیل: یہ سب وہ اقدار ہیں جو کلاس روم کو اعتماد کا مرکز بناتی ہیں۔ امتیاز بدگمانی کو جنم دیتا ہے، جب کہ انصاف محنت اور صلاحیت کو بیدار کرتا ہے۔

کیوں کہ ہر طالب ایک الگ دنیا ہے؛ کسی کی قوت یادداشت میں، کسی کی بصیرت عمل میں، اور کسی کی پرواز تخلیق میں ہوتی ہے تو معلم کا کمال یہ ہے کہ وہ ہر متعلم کی صلاحیت پہچان لے اور اسی سمت اس کی رہنمائی کرے۔

زبردستی کی یکسانیت ذہن کو توڑتی ہے،جب کہ فہم و حکمت شخصیت کو نکھارتی ہے۔

یہ ساری خوبیاں حسنِ اخلاق کے بغیر ادھوری رہتی ہیں۔ سلام میں پہل، اچھے نام سے پکارنا، ہلکی سی مسکراہٹ اور شفقت بھرا رویہ۔ یہ سب وہ چھوٹے اعمال ہیں جو بڑے اثرات چھوڑتے ہیں۔ یہی اخلاقی حسن استاد اور شاگرد کے درمیان وہ پل بناتا ہے جس پر علم آسانی سے منتقل ہوتا ہے۔

اسی اخلاق کا تسلسل صبر و درگزر میں ظاہر ہوتا ہے۔ طلبہ کی لغزشیں، کمزوریاں اور ناپختگیاں تربیت کا فطری حصہ ہیں۔ کامیاب معلم وہ ہے جو جلد مشتعل نہ ہو بل کہ صبر کو اپنا ہتھیار بنائے۔ درگزر دلوں کو قریب کرتا ہے، اور یہی قربت اصلاح کی بنیاد بنتی ہے۔

آخرکار کامیاب معلم اپنی آنکھیں سیرت کے آئینے میں رکھتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ بہترین تربیت وہی ہے جو مثال بن کر بولے۔ جب استاد وہی جیتا ہے جو پڑھاتا ہے، تو اس کا علم محض الفاظ نہیں رہتا بل کہ کردار میں ڈھل جاتا ہے اور یہی حقیقی کامیابی ہے۔

شیخ عبد الماجد الکشمیری

24 دسمبر 2025 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

ویب گاہ کی بہتری کے لیے آپ کی قیمتی رائے ہمارے لیے اہم اور اثاثہ ہے۔

© 2023 جملہ حقوق بحق | اسلامی زندگی | محفوظ ہیں