MCQs of HAL :6

0

پریکٹس کوئز — MCQs

عثمانی دور: سقوطِ ممالیک اور علمی و ادبی زوال
یہ پریکٹس کوئز **20 سوالات** پر مشتمل ہے جو موضوع “عثمانی دور: سقوطِ ممالیک اور علمی و ادبی زوال” کے اہم تاریخی، علمی اور ادبی پہلوؤں پر مبنی ہیں۔ آپ اس کوئز کے ذریعے اپنے مطالعے کو مضبوط کر سکتے ہیں اور امتحانی تیاری کو بہتر بنا سکتے ہیں۔
MCQs پریکٹس شروع کریں

MCQ of today's lecture uslob e manfuloti

0

أسئلة اختيار من متعدد (MCQs)

خصائص أسلوب المنفلوطي والنقد الموجَّه إليه

المنفلوطي: خصائص الأسلوب والتنقیدات

تهدف هذه الأسئلة إلى بيان خصائص أسلوب مصطفى صادق المنفلوطي، مع التعرف على أبرز الملاحظات النقدية التي تناولها النقاد حول أسلوبه الأدبي، وذلك بما يخدم الدراسة الأكاديمية والتحضير للامتحانات.

عرض أسئلة MCQs

Mcqs of Modern Prose

0

أسئلة اختيار من متعدد (MCQs)

النثر العربي • القصة

قصة: حكاية وتحليلها

تتناول هذه الأسئلة الجوانب الأساسية للقصة من حيث الفكرة، والبناء الفني، والأسلوب، مع التركيز على عناصر التحليل الأدبي، وذلك بأسلوب يخدم الفهم والتحضير للامتحانات الأكاديمية.

ابدا أسئلة MCQs

Frist Sem MA Arabic Class

0

MK Arabic Academy

First Semester • Live Online Class

صرف و نحو — فرسٹ سمسٹر

یہ فرسٹ سمسٹر کی آن لائن لائیو کلاس ہے جس میں صرف و نحو کے بنیادی اور اہم قواعد کو سادہ اور تدریسی انداز میں سمجھایا جائے گا۔ یہ درس ابتدائی طلبہ کے لیے نہایت مفید ہے۔

MA Arabic third sem MCQs

0

MK Arabic Academy

Arabic • Third Semester • MCQs

سقوط الخلافة العباسية في بغداد

یہ معروضی سوالات (MCQs) عربی ادب کی تاریخ کے اہم موضوع سقوط الخلافة العباسية في بغداد سے متعلق ہیں۔ یہ سوالات امتحانی نقطۂ نظر سے نہایت مفید اور نصابی معیار کے مطابق تیار کیے گئے ہیں۔

📌 نمونہ سوالات:

  • سقوطِ بغداد کا بنیادی سبب کیا تھا؟
  • عباسی خلافت کے زوال میں کس خارجی طاقت کا کردار تھا؟
  • اس سانحے کے ادبی اثرات کن پہلوؤں سے نمایاں ہوئے؟

قبرستان عبرت کی سرزمین یا اخلاقی زوال کا آئینہ؟

0

 


قبرستان وہ مقام ہے جہاں قدم رکھتے ہی دل پر ایک خاموش ہیبت طاری ہو جایا کرتی تھی۔ یہ وہ جگہ تھی جہاں یا تو خوف انسان کو اپنی گرفت میں لے لیتا، یا عقل مند اس منظر سے عبرت کشید کر کے اپنی اصلاح کی طرف لوٹ آتا۔ قبریں بولتی نہیں، مگر بہت کچھ کہہ جاتی ہیں؛ وہ انسان کو اس کے انجام کی یاد دلاتی ہیں، اس کے غرور کو توڑتی ہیں اور اسے یہ احساس دلاتی ہیں کہ طاقت، دولت، حسن اور خواہشات سب یہیں آ کر مٹی میں مل جاتے ہیں۔

مگر افسوس! کچھ عرصے سے قبرستان، جو احترام، خاموشی اور عبرت کی علامت تھا، ہمارے بعض ناجائز اور غیر شرعی اعمال کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔ آئے دن قبروں میں تعویذ ملنا، جادو ٹونے کے آثار پائے جانا، یہ صرف ایک غلط عمل نہیں، بلکہ انسانی اخلاق کی بدترین گراوٹ ہے۔ یہ قبروں کے احترام کے منافی بھی ہے اور مردوں کی حرمت پامال کرنے کے مترادف بھی۔

اگر آج تم کسی اور کی قبر میں تعویذ رکھ رہے ہو، تو یہ سمجھ لو کہ تم گویا اپنے ہی لیے وہاں عذاب کی آگ بھرتے جا رہے ہو۔ آج تم کسی مدفون شخص کی قبر کو اپنی خباثت کا میدان بنا رہے ہو، تو بعید نہیں کہ کل تمہاری قبر بھی اسی بے حرمتی کا نشانہ بنے۔ آج اگر قبروں میں تعویذ رکھے جا رہے ہیں، تو کل ان ہی قبروں کے پاس بے حیائی، گندگی اور بدکاری کا دروازہ کھل جانا کوئی بعید بات نہیں—کیونکہ گناہ ایک حد پر نہیں رکتا، وہ بڑھتا ہے، پھیلتا ہے، اور معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔

سحر و جادو کرنا خود صریح حرام ہے، اور پھر اس حرام کو قبرستان جیسی مقدس اور عبرت ناک جگہ تک لے جانا—کیا ہمیں اپنی جنازے کی ڈولی نظر نہیں آتی؟ جس قبرستان میں آج تم اپنے ہاتھوں سے تعویذ پہنچا رہے ہو، کل تم خود کسی کے کندھوں پر سوار ہو کر وہیں پہنچائے جاؤ گے۔ آج تمہارے ہاتھ زندہ ہیں، کل وہی ہاتھ مٹی تلے بے جان ہوں گے۔ آج تمہارے قدم چل رہے ہیں، کل وہی قدم قبر کی تنگی میں سمٹ جائیں گے۔

">يا من يغره طول الأمل
أمامك القبر فانتبه واعتبر
یعنی اے بندہ الٰہی طویل امیدیں دھوکے میں ڈال رہ رہی ہیں تیرے سامنے قبر ہے ہوش میں آ، اور اس سے عبرت حاصل کر.

ہم روز انہی ہاتھوں اور انہی قدموں سے جنازے اٹھاتے ہیں، قبرستان کی طرف چلتے ہیں، مردوں کو دفن کر کے لوٹ آتے ہیں۔ پھر انہی فنا ہونے والے ہاتھوں اور قدموں سے ہم کیسے یہ جرات کر لیتے ہیں کہ اسی جگہ کسی کے لیے برائی، نقصان اور قہر کے منصوبے دفن کریں؟ کیا یہ شعور کی موت نہیں؟

کبھی اس سب کو نام نہاد “محبت” کا لبادہ پہنا دیا جاتا ہے۔ مگر ذرا سوچو! وہ محبت کیسی محبت ہے جو تعویذ، جادو اور دوسروں کے گھروں کو توڑ کر حاصل کی جائے؟ وہ محبت نہیں، نفس کی غلامی ہے۔ وہ محبت نہیں، بلکہ اپنے ہی والدین، اپنے ہی گھر والوں کے سکون پر وار ہے۔

باز آ جائیں خدا کے لیے باز آ جائیں، اس سے پہلے کہ قبرستان بھی ہمیں قبول کرنے سے انکار کر دے۔ ایک باہوش، با ایمان مسلمان اس طرح کے اعمال کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ ذرا اپنے آپ کو پرکھو: کیا ہم واقعی ایمان والوں کی اس فہرست میں باقی ہیں؟

ہم  دلی کی گہرائیوں سے التماس کرتے ہیں ایسے کاموں سے اجتناب کیجیے ورنہ وہاں عذاب ہم سے اجتناب نہیں ہوگا۔

شیخ عبد الماجد الکشمیری 
29 دیسمبر 2024


پروفیشنل استاد کیسے بنیں

0


پروفیشنل استاد کیسے بنیں 

تعلیم محض الفاظ کی منتقلی نہیں، بل کہ دلوں کی آبادکاری کا نام ہے۔ دل وہیں ٹھہرتے ہیں جہاں اخلاص کی خوشبو بسی ہو۔ جو ہاتھ تختۂ سیاہ پر لکھتا ہے، اگر اس کی نیت بھی روشن ہو تو وہ تحریر خود چراغ بن جاتی ہے۔ اسی لیے کامیاب معلم وہ ہے جو علم سے پہلے نیت کو سنوارتا ہے؛ کیوں کہ نیت کا اخلاص ہی عمل کو وزن دیتا ہے۔

اسی اخلاصِ نیت پر کامیاب تدریس کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔ جب معلم تعلیم کو محض ذریعۂ معاش نہیں بل کہ ایک امانت سمجھ کر انجام دیتا ہے، تو اس کا ہر لفظ اثر رکھتا ہے۔ اخلاص وہ پوشیدہ طاقت ہے جو معمولی بات کو بھی دل نشیں بنا دیتی ہے، اور یہی طاقت معلم کے عمل میں دوام پیدا کرتی ہے.

نیت کے بعد جو چیز سب سے پہلے شاگرد کے دل تک پہنچتی ہے، وہ استاد کی خاموش زبان ہے۔کلاس روم میں معلم کی پہلی زبان اس کی مسکراہٹ، اس کی بشاشت اور اس کا نرم لہجہ ہوتا ہے۔ جب چہرہ کشادہ ہو تو ذہن کھلتے ہیں، اور جب لہجہ ہلکا ہو تو بوجھل دل ہلکے ہو جاتے ہیں۔ سختی ذہن کے دروازے بند کر دیتی ہے، جب کہ نرمی علم کے لیے راستے کھول دیتی ہے۔

اسی نرمی کا فطری نتیجہ تواضع ہے، جو معلم کی عظمت کا ایک مضبوط ستون ہے۔ وہ جھکتا ہے تو قد بڑھتا ہے، وہ نرم ہوتا ہے تو اثر گہرا ہوتا ہے۔ جب شاگرد یہ دیکھتے ہیں کہ استاد علم کے باوجود انکسار کا پیکر ہے، تو ان کے دلوں میں احترام خود بخود جاگ اٹھتا ہے، اور یہی احترام سیکھنے کی فضا کو قائم اور زندہ رکھتا ہے۔

یہ احترام اس وقت مضبوط اعتماد میں بدل جاتا ہے جب استاد شاگرد کی بات غور سے سنتا ہے، اس کے سوال کو اہم سمجھتا ہے اور اس کی رائے کو وقعت دیتا ہے۔ احترام اعتماد کو جنم دیتا ہے، اور اعتماد علم کو زندگی بخشتا ہے۔ اس کے برعکس جو استاد طلبہ کو کمتر سمجھے، وہ دراصل علم کی توہین کرتا ہے۔

اسی اعتماد کی فضا میں نصیحت بھی مؤثر بنتی ہے۔ نصیحت اگر حکم بن جائے تو دل بند ہو جاتے ہیں، اور اگر محبت میں ڈھل جائے تو دل راستہ دے دیتے ہیں۔ کامیاب معلم نصیحت کو سختی نہیں بناتا بل کہ رہنمائی میں بدل دیتا ہے۔ وہ شاگرد کی لغزش میں بھی اصلاح کا پہلو تلاش کرتا ہے، اور کمزوری میں امکان کی شمع روشن کرتا ہے۔

یہی حکمت استاد کو عدل و مساوات کی طرف لے جاتی ہے۔ اور یہ عدل وہ میزان ہے جس پر معلم کا کردار تولا جاتا ہے۔ یکساں توجہ، منصفانہ رویہ اور علم کی منصفانہ ترسیل: یہ سب وہ اقدار ہیں جو کلاس روم کو اعتماد کا مرکز بناتی ہیں۔ امتیاز بدگمانی کو جنم دیتا ہے، جب کہ انصاف محنت اور صلاحیت کو بیدار کرتا ہے۔

کیوں کہ ہر طالب ایک الگ دنیا ہے؛ کسی کی قوت یادداشت میں، کسی کی بصیرت عمل میں، اور کسی کی پرواز تخلیق میں ہوتی ہے تو معلم کا کمال یہ ہے کہ وہ ہر متعلم کی صلاحیت پہچان لے اور اسی سمت اس کی رہنمائی کرے۔

زبردستی کی یکسانیت ذہن کو توڑتی ہے،جب کہ فہم و حکمت شخصیت کو نکھارتی ہے۔

یہ ساری خوبیاں حسنِ اخلاق کے بغیر ادھوری رہتی ہیں۔ سلام میں پہل، اچھے نام سے پکارنا، ہلکی سی مسکراہٹ اور شفقت بھرا رویہ۔ یہ سب وہ چھوٹے اعمال ہیں جو بڑے اثرات چھوڑتے ہیں۔ یہی اخلاقی حسن استاد اور شاگرد کے درمیان وہ پل بناتا ہے جس پر علم آسانی سے منتقل ہوتا ہے۔

اسی اخلاق کا تسلسل صبر و درگزر میں ظاہر ہوتا ہے۔ طلبہ کی لغزشیں، کمزوریاں اور ناپختگیاں تربیت کا فطری حصہ ہیں۔ کامیاب معلم وہ ہے جو جلد مشتعل نہ ہو بل کہ صبر کو اپنا ہتھیار بنائے۔ درگزر دلوں کو قریب کرتا ہے، اور یہی قربت اصلاح کی بنیاد بنتی ہے۔

آخرکار کامیاب معلم اپنی آنکھیں سیرت کے آئینے میں رکھتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ بہترین تربیت وہی ہے جو مثال بن کر بولے۔ جب استاد وہی جیتا ہے جو پڑھاتا ہے، تو اس کا علم محض الفاظ نہیں رہتا بل کہ کردار میں ڈھل جاتا ہے اور یہی حقیقی کامیابی ہے۔

شیخ عبد الماجد الکشمیری

24 دسمبر 2025 

© 2023 جملہ حقوق بحق | اسلامی زندگی | محفوظ ہیں