تقویمِ ہند
ہجری و عیسوی تاریخیں — ہندوستان کے مقامی وقت کے مطابق
آجہجری تاریخ مقامی رؤیتِ ہلال کے مطابق ایک دن آگے یا پیچھے ہو سکتی ہے۔
ہجری تاریخ ہندوستان کے مقامی وقت (Asia/Kolkata) کے ساتھ ایک روزہ مقامی فرق کو ترجیح دیتی ہے؛ مقامی شرعی رؤیت کی صورت میں تاریخ ±۱ دن مختلف ہو سکتی ہے۔

نیٹ ورک مارکیٹنگ کے متعلق چند سوالات کے جوابات| نیٹ ورک مارکیٹنگ حرام یا حلال

0

نیٹ ورک مارکیٹنگ کے متعلق چند سوالات کے جوابات۔

سوال ۱: نیٹ ورک مارکیٹنگ حلال ہے یا حرام؟


جواب: نیٹ ورک مارکیٹنگ اپنے اندر منفی اور مضر اثرات کی وجہ سے حرام قرار دیا گیا ہے نیز اس میں استحصال سے پیسہ آ جاتا ہے۔ قرآن میں واضح ہیں ولا تأکلوا اموالکم بینکم بالباطل: یعنی استحصال سے آپس میں مال مت کھاؤ۔ 


سوال۲: نیٹ ورک مارکیٹنگ کیسے حلال بن (ہو) سکتی ہے۔


جواب: اگر آپ نیٹ ورک مارکیٹنگ کے طرزِ عمل سے واقف ہوں گے۔اس میں مصنوعات (پروڈکٹس) کی قیمت حد سے زیادہ ہوتی ہیں۔ جس کے باعث کمپنی کو بہت سارا استحصال کردہ پیسہ بچ جاتا ہے۔ جس کا قلیل حصہ یہ اپنے ڈسٹری بیوٹرس (دالالوں) میں ناجائز طریقے سے تقسیم کرتے ہے۔ اس لئے مصنوعات کی قیمت زیادہ نہ ہو گئی اور لوگوں سے پیسے سے پیسہ لینا نہ پایا جائے تو قلیل رقم بھی تقسیم نہیں ہوگی۔ جس کے باعث لوگ نہیں جھوڑیں گے ظاہرہے کمپنی بند، نیٹ ورک مارکیٹنگ کاروبار نا مکمل بیلنس ماڈل ہیں۔ جس کی وجہ سے اس کی کوئی بھی شکل حلال نہیں ہو سکتی۔ واللہ اعلم۔


سوال ۳: کن وجوہات سے نیٹ ورک مارکیٹنگ حرام ہے۔

جواب: جن وجوہ سے کاروبار حرام کے دائرے میں داخل ہوتا ہے اُن سے نیٹ ورک مارکیٹنگ لبریز ہے۔ جیسے استحصال سے پیسہ آ جانا، پیسے سے پیسہ سرقہ کرنا، اور ان گنت  وجوہ ہے جن کی وجہ سے یہ حرام میں داخل ہوتی ہے۔ مزید معلومات کے لیے بندے کے مضامین کا مطالعہ کریں۔ 

نیٹ ورک مارکیٹنگ حرام کیوں ہے

نیٹ ورک مارکیٹنگ اور عظیم شخصیات اور دارالافتاؤں کے فتویٰ


Is Network Marketing halah in Islam

ماں کی لازوال محبت| والدین کے حقوق |ماں کی اہمیت

0


ماں: کا لفظ جب تلفظ و تصور میں آ جاتا ہے، تو محبت کی لہریں، آپ کے ذہن کو لبریز کرتی ہے۔ ماں انسان کی شکل میں وہ فرشتہ ہے۔ جو انسان کیلئے عیاں ہے۔ لبرل ازم (مغربیت) کو چھوڑ کر باقیہ تمام مذاہب و مکاتبِ فکر میں ماں کی عظمت کا اعتراف کیا ہے۔ ماں اُن عظیم نعمتوں میں سے ہیں۔ جس کا احترام کر کے، جنت کی مفتاح حاصل کر سکتے ہیں۔ ماں وہ شخصیت ہے، جو اپنا دورِ زرین  کو بچے کی تربیت و پرورش پر نچھاور کرتی ہیں۔ اِن کا رتبہ اتنا سرفراز ہیں، خود مالکِ کائنات نے اس کا اعتراف کروایا ہیں۔ جیسے اللہ تبارک و تعالی کا ارشاد ہے ۔ وَقَضَی رَبُّکَ أَلاَّ تَعْبُدُواْ إِلاَّ إِیَّاہُ وَبِالْوَالِدَیْْنِ إِحْسَاناً إِمَّا یَبْلُغَنَّ عِندَکَ الْکِبَرَ أَحَدُہُمَا أَوْ کِلاَہُمَا فَلاَ تَقُل لَّہُمَا أُفٍّ وَلاَ تَنْہَرْہُمَا وَقُل لَّہُمَا قَوْلاً کَرِیْما وَاخْفِضْ لَہُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَۃ وَقُل رَّبِّ ارْحَمْہُمَا کَمَا رَبَّیَانِیْ صَغِیْراً رَّبُّکُمْ أَعْلَمُ بِمَا فِیْ نُفُوسِکُمْ إِن تَکُونُواْ صَالِحِیْنَ فَانَّہُ کَانَ لِلأَوَّابِیْنَ غَفُوراً․


ترجمہ : اور تیرے رب نے یہ حکم دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت مت کرو اور اپنے ماں باپ کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آو ، اگر وہ یعنی ماں، باپ تیری زندگی میں بڑھاپے کو پہنچ جائیں ، چاہے ان میں ایک پہنچے یا دونوں (اور ان کی کوئی بات تجھے ناگوار گزرے تو ) ان سے کبھی ”ہوں “ بھی مت کہنا اور نہ انھیں جھڑکنا اور ان سے خوب ادب سے بات کر نا ، اور ان کے سامنے شفقت سے انکساری کے ساتھ جھکے رہنا اور یوں دعا کر تے رہنا :اے ہمارے پروردگار ! تو ان پر رحمت فرما، جیسا کہ انھوں نے بچپن میں مجھے پالا ہے(صرف ظاہر داری نہیں، دل سے ان کا احترام کرنا ) تمھارا رب تمھارے دل کی بات خوب جانتا ہے اور اگر تم سعادت مند ہو تو وہ توبہ کرنے والے کی خطائیں کثرت سے معاف کرنے والا ہے۔

قرآن مجید کی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت یہ ہیں کہ جب اللہ تعالا حکمِ عبادت کے ساتھ کسی اور امر کی تاکید کرتا ہے، تو مؤیَد حکم کسی توثیق کا مستمد نہیں رہتا ہے۔ اس کا اندازہ آپ بلا آیات سے لگا سکتے ہیں کہ اللہ تعالٰی نے اپنی عبادت کے حکم کے بعد صراحت کے ساتھ نقشہ کھینچا ہے۔

ماں کی تکلیفات: ہمارے حروف کتنے ہی وسیع و بسیط کیوں نہ ہو ہم ماں کے اٹھائے ہوئے تکلیفات کا نقشہ نہیں کھینچ سکتے ہیں۔ اس کا اندازہ آپ اس سے لگا سکتے ہیں کہ دور نبوت میں،  نبی صلی اللہ علیہ اور صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کو کتنے تکلیفات سہنے پڑے ہیں۔ واحد شخصیت ماں ہے، جس کی تکلیفات کی صراحت قرآن مجید میں ملتی ہیں۔


ماں کے تکلیفات کا ذکر قرآن میں: وَوَصَّیْْنَا الْإِنسَانَ بِوَالِدَیْْہِ إِحْسَاناً حَمَلَتْہُ أُمُّہُ کُرْہاً وَوَضَعَتْہُ کُرْہاً

ترجمہ : اس ماں نے تکلیف جھیل کر اسے پیٹ میں رکھا اور تکلیف برداشت کر کے اسے جنا ۔حمل کے نوماہ کی تکلیف اور اس سے بڑھ کر وضع حمل کی تکلیف، یہ سب ماں برداشت کرتی ہے۔

اللہ تعالی نے جب ”اف“ کرنے سے گریز کرنے کا حکم بھی وارد کیا۔ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے اس کے بارے میں فرمایا اگر والدین کی بے ادبی میں ”اف“ سے کم درجہ ہوتا تو اللہ جلہ شانہ اسے بھی حرام فرما دیتے۔(الدالمنثور: ۵/ ۲۲۴)


والدین کا ادب واحترام کا تذکرہ: حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے مروی ہے، وہ فرماتی ہیں: رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں شخص حاضر ہوا، ان کے ساتھ ایک بوڑھا آدمی تھا، نبی برحق صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا یہ بوڑھا کون ہے؟ اس شخص نے جواب عرض کیا یہ میرے والد ہے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا: لا تمش امامہ، ولاتقعد قبلہ، ولاتدعہ باسمہ ولاتستب لہ (معجم الأوسط، للطبرانی:۴/۲۶۷) یعنی ان کے آگے مت چلو، مجلس میں ان سے پہلے مت بیٹھنا، ان کا نام لے کر مت پکارنا، ان کو گالی مت دینا۔


ادب سے بات کرنا، انسان کی پہچان ہیں، پر اللہ تعالیٰ قرآن میں خصوصاً ذکر فرمایا ہے وقل لہما قولاً کریما یعنی ان کا ساتھ ادب و احترام سے بات کرنا۔ قول کریم کے بارے میں حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے فرمایا: خطا کار اور زر خرید غلام سخت مزاج اور ترش روی آقا سے جس طرح با ت کر تا ہے، اس طرح بات کر نا قول کریم ہے (الدر المنثور: ۵/۲۲۵)




اختصار کے ساتھ، دور حاضر میں امت رشتوں کے ساتھ، رشتوں کے حقوق کو فقدان کر کے پر سکون زندگی سے عاری ہے۔ اس لیے انسانیت خصوصاً اہلِ اسلام کو رشتوں کے واجبات کو بھولنا نہیں چاہیے۔ اللہ سبحانہ و تعالی ہم سب کو رشتوں کے ساتھ، رشتوں کے حقوق خصوصاََ ماں، باپ کے حقوق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین یا رب العالمین۔


ماجد کشمیری

ایک مزدور کی کہانی - آخر رب کی ہی نافرمانی کیوں؟

0

     قارئین کرام! ایک مزدور کا واقعہ اس کے زبان سے ملاحظہ ہوکہ: میں کام پر گیا میرے ساتھ ہم عمر کے کچھ افراد بھی شامل تھے۔ میں نے وہاں پر عجیب اور انوکھا منظر دیکھا کہ مالک کی کتنی فرمابرداری کی جا رہی ہے۔ میرے ساتھی گانے سننے والوں میں سے تھے، پر جوہی مالک آ جاتے تھے تو وہ گانے بند کر دیتے تھے۔ مالک جو کام کرنے کو بولتیں تھیں، ہم اس کام کو جرح کرے بغیر کرنے کے لئے آمادہ ہوتے تھے۔ وہ کام کے بیچوں بیچ اگر یہ کہتے کہ اب اس کام کو چھوڑ دو یہ کام کروں تو ہم اسے انجام دیتے۔ الغرض جو بھی وہ کہتے تھے ہم اس کے لیے تیار رہتے تھے۔ پر کیوں؟ میرے ذہن میں یہ بات گردش کر رہی تھیں کہ مالک کی بات تو ماننی چاہیے ہم پر فرض ہے۔ پر ایک سوچ مجھے ستا رہی تھی کہ ہماری سرگزشت اتنی فرمانبردار تو نہیں ہے پھر کیوں ہم اسے اتنے خوف سے تسلیم کرتے ہیں۔ آخر کیوں؟ میں نے ساتھیوں سے سوال پوچھا، حیرت انگیز جواب ملا یہ ہمیں دن کا معاوضہ 600 دیتے ہیں اس لیے۔ 

    بس پھر کیا میں سوچ میں ڈوب گیا۔ صرف 600 روپے کے لیے ہم مالک اتنی فرمانبرداری کرتے ہیں۔ ہمارا رب اللہ تعالی ہمیں دن کا کتنا دیں رہیں ہیں پر کیا ہم اس کی اتباع کرتے ہیں؟ میں حساب کرنے لگا۔

    جب میں صبح اٹھتا ہوں اللہ تعالی روح پھونک کر پھر سے مجھے زندہ کرتا ہے۔ ارے اس روح کی تو کوئی قیمت ہی نہیں ہے؟۔۔۔ ہے کیا؟ نہیں!۔ اس کا حساب لگانا ہمارے بس میں نہیں، چلیں چھوڑے آگے حساب کرتے ہیں، دن بھر اللہ تعالی کا آکسیجن استعمال کرتے ہیں، تحقیق سے پتا چلا کہ انسان ایک منٹ میں 8 لیٹر آکسیجن استعمال کرتا ہے۔ وہ چوبیس گھنٹوں کا 11500 ہو جاتا ہے۔ وہ لگ بھگ 13 لاکھ کے اوپر اوپر ہے۔ کہاں چھے سو میں مالک کی فرمانبرداری اور کہاں تیرہ لاکھ میں رب کی نا فرمانی! 

    اگر ہوا، پانی،زمین، ہفت خلیفہ، خوب صورت قالب، لقبِ اشرف المخلوقات، عنایتِ منصبِ خلیفۃ اللہ، اور شرفِ امتِ محمدی وغیرہ ہیں۔ جامع الفاظ وہیں: فبای الاء ربکما تکذبان، جس کا حساب کیا جائیں، اگر تمام نعمتوں کا حساب کیا جائے جن کا استعمال دن بر انسان کرتا ہے۔ یہ تو لاتعداد ہے۔

پھر للہ کی نافرمانی کیوں؟۔۔۔العاقل تکفیہ الاشارہ. 

    لہذا اہلِ اسلام سے ہماری دردمندانہ درخواست ہے کہ اپنے فرائض سے ایسی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ نہ کریں، ہوش کے ناخن لیں، اپنے آپ کو پہچانیں کہ آپ کسی مقصد کے لیے مبعوث کیے گئے ہیں۔ اللہ تعالی ہمیں عقل سلیم عطا فرمائیں اور اپنے حفظ و امان میں رکھیں آمین یا رب العالمین۔


ماجد کشمیری

ہندوؤں کی دیوالی سے پہلے مسلمانوں کی دیوالی

0

قارئین کرام ! کچھ دیر پہلے یکے بعد دیگرے کئی مرتبہ کانوں میں پٹاخوں کی تیز آواز گونجی تو حیرت ہوئی کہ ابھی کیا بات ہوگئی کہ نیاپورہ جیسے مسلم علاقے میں پٹاخوں کی آواز آرہی ہے؟ روڈ پر نکلا تو چند نوجوانوں سے پوچھنے پر معلوم ہوا کہ آئی پی ایل کا آج فائنل تھا جس میں چنئی نامی ٹیم فتحیاب ہوئی ہے۔ چونکہ بندے کو کرکٹ میں ذرا بھی دلچسپی نہیں ہے اس لیے ذہن اس طرف گیا ہی نہیں۔

خیر جیسے ہی معلوم ہوا کہ ہمارے نوجوان کرکٹ ٹیم کی فتح کا جشن پٹاخے جلا کر منا رہے ہیں تو دل بالکل بیٹھ سا گیا کہ یہ سب کیا ہورہا ہے؟ اگر بات ورلڈ کپ میں ہندوستان کی جیت کی ہوتی تو کچھ سمجھا بھی جاسکتا تھا، اگرچہ اس وقت بھی آتش بازی ناجائز ہی تھی، لیکن یہ کیا بات ہوئی کہ آئی پی ایل جیسی انتہائی فضول سیریز جو سراسر فضول خرچی اور فحاشی کا اڈا بنی ہوئی ہے، اس میں ہمارے نوجوانوں کی دلچسپی وہ بھی اس حد تک کہ اس میں اپنی پسندیدہ ٹیم کی جیت پر یوں ناجائز اور حرام طریقے پر اس کا جشن منایا جائے؟ وہ بھی ایسے حالات میں جبکہ مسلمان معاشی، سماجی اور سیاسی ہر اعتبار سے کمزور ہوتے جارہے ہیں۔ کیا انہیں اس بات کا علم نہیں کہ پٹاخے  پھوڑنا اور آتش بازی کرنا درج ذیل وجوہات کی بنا پر ناجائز اور حرام ہے۔

اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا ۔

قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں :

وَاَنۡفِقُوۡا فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَلَا تُلۡقُوۡا بِاَيۡدِيۡكُمۡ اِلَى التَّهۡلُةِ ۖ  ۛۚ وَاَحۡسِنُوۡا  ۛۚ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الۡمُحۡسِنِيۡنَ‏  ۔(سورہ بقرہ، آیت : 195)

ترجمہ : اللہ کے راستے میں مال خرچ کرو، اور اپنے آپ کو خود اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ ڈالو اور نیکی اختیار کرو، بیشک اللہ نیکی کرنے والوں سے محبت کرتا ہے ۔  (سورہ بقرہ، آیت : 195)

آتش بازی میں اکثر جان کی ہلاکت و زخمی ہونے کے واقعات پیش آتے ہیں۔

فضول خرچی، اور وقت کا ضیاع ۔

دوسری جگہ اللہ تعالٰی ارشاد فرماتے ہیں :

إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيَاطِينِ وَكَانَ الشَّيْطَانُ لِرَبِّهِ كَفُورًا۔ (سورہ بنی اسرائیل، آیت : 27)

ترجمہ : بلاشبہ جو لوگ بےہودہ کاموں میں مال اڑاتے ہیں، وہ شیطان کے بھائی ہیں، اور شیطان اپنے پروردگار کا بڑا ناشکرا ہے۔ 


اسی طرح آتش بازی میں غیروں سے مشابَہت پائی جاتی ہے جس کے بارے میں حدیث شریف میں آیا ہے کہ جو جس قوم کی مشابہت اختیار کرے گا اس کا حشر اسی کے ساتھ ہوگا، نیز اس میں دوسروں کو تکلیف دینا بھی پایا جاتا ہے جو ایک الگ اور مستقل ناجائز اور حرام کام ہے۔


لہٰذا ہماری اپنے نوجوانوں سے انتہائی دردمندانہ درخواست ہے کہ اللہ کے لیے ایسی غیرذمہ داری کا مظاہرہ نہ کریں، حالات کے رُخ کو دیکھیں، ہوش کے ناخن لیں، اپنے آپ کو پہچانیں کہ آپ قوم وملت کا قیمتی سرمایہ ہیں، اپنی جوانی اور اپنے حلال مال کو یوں ان بت پرستوں اور پیسے کے پجاریوں کے پیچھے ضائع نہ کریں۔ اور یہ بات اچھی طرح سے سمجھ لیں کہ آپ کی اس غیرشرعی حرکت کا کسی کا کوئی فائدہ نہیں ہونے والا ہے بلکہ صرف اور صرف آپ کی آخرت برباد ہونے والی ہے، اس لیے ابھی سچی پکی توبہ کریں اور پختہ عزم کرلیں کہ آئندہ ایسی چیزوں سے مکمل طور پر دور رہیں گے۔


اللہ تعالٰی ہمارے نوجوانوں کو عقل سلیم عطا فرمائے، فضولیات اور منکرات سے ان کی حفاظت فرمائے اور انہیں قوم وملت کے لیے نفع بخش بنائے۔ آمین یا رب العالمین


 محمد عامرعثمانی ملی 

(امام وخطیب کوہ نور مسجد) 


سیرة النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مختصر خلاصہ 3

0

 سیرة النبی ﷺ کا مختصر خلاصہ 


آقائے مدنی آنحضرت ﷺ کی حیات مبارکہ کو مؤرخین نے تین ادوار میں تقسیم کیا ہے۔ پہلا دور پیدائش سے نبوت تک، دوسرا دور دعوی نبوت سے ہجرت تک اور تیسرا دور ہجرت سے وصال تک۔


قسط نمبر 3


بعثت سے ہجرت تک


بعثت کے پہلے دوسرے اور تیسرے سال: غار حرا میں آپ ﷺ پر پہلی وحی نازل ہوئی۔

حضرت خدیجہ آپ کو ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئی،ورقہ بن نوفل نے نبوت کی خبر دی،اس وقت آپ کی عمر مبارک 40 برس تھی۔


دعوت اسلام کے لیے پہلے ہی روز حضرت خدیجہ،حضرت ابوبکر صدیق،حضرت علی اور حضرت زید بن حارث رضی اللہ عنہم اجمعین آپ ﷺ پر ایمان لائے۔

حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کی ولادت ہوئی۔


بعثت کے چوتھے سوال: فَاصدَع بِما تُؤمَرُ وَأَعرِض عَنِ المُشرِكينَ ( الحجر ٩٤)

اس آیت کے نازل ہونے کے بعد آپ ﷺ نے علانیہ اسلام کی دعوت شروع کردی


بعثت کے پانچویں سال: حبشہ کے جانی پہلی ہجرت ہوئی، جس نے ١١ مرد اور ٤ عورتیں تھیں۔

حبشہ کی جانب دوسری ہجرت ہوئی،جس میں ٨٢ مرد اور ١٨ عورتيں تھیں۔

قسط نمبر 2

قسط نمبر 1

بے دینی کا ایک عبرت انگیز واقعہ | اولادوں کی تربیت کیوں ضروری ہے؟

0

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
بے دینی کا ایک عبرت انگیز واقعہ


بے دین اولاد کو باپ کی عزت بھی نہیں کرتی ۔ ناظم آباد میں میرے ایک دوست نے اپنی زمینیں بیچ بیچ کر اور بہت مصیبت اٹھا کر اپنے بیٹے کو امریکا سے بہت بڑی ڈگری دلوائی اور اس لالچ میں اس نے بیوی کے انتقال کے بعد دوسری شادی بھی نہیں کی کیونکہ سوچا کہ اگر شادی ہو جائے گی تو لڑکے کی تعلیم میں خلل آجائے گا، جب وہ لڑکا پڑھ کر بہت بڑی ڈگری لے کر آیا تو اس کی شادی کر دی ۔ ایک دن میں نے خیریت معلوم کرنے کے لیے ٹیلی فون کیا میں نے کہا کہ کیا کر رہے ہو؟ انہوں نے کہا کہ چولہا جھونک رہا ہوں روٹی پکار ہا ہوں ۔
میں نے کہا: بہو کہاں ہے؟ کہا: وہ دونوں مجھ سے لڑ کر بھاگ گئے۔
مرے تھے جن کے لئے وہ رہے وضو کرتے
مری    نماز   جنازہ    پڑھائی    غیروں    نے
 
بیٹا اور بہو دونوں لڑ کر چلے گئے اور بوڑھا باپ آخر عمر میں چولسے میں لکڑیاں جھونک رہا ہے اور روٹی پکار ہا ہے۔

اولاد کو دین نہ سکھانے کا وبال ص :(۲۲)

عارف باللہ حضرت مولاناشاہ حکیم محد اختر صاحب رحمہ اللہ

سیرة النبی ﷺ کا مختصر خلاصہ 2

2

 سیرة النبی ﷺ کا مختصر خلاصہ 


آقائے مدنی آنحضرت ﷺ کی حیات مبارکہ کو مؤرخین نے تین ادوار میں تقسیم کیا ہے۔ پہلا دور پیدائش سے نبوت تک، دوسرا دور دعوی نبوت سے ہجرت تک اور تیسرا دور ہجرت سے وصال تک۔


قسط نمبر 2


پیدائش سے بعثت تک


 ولادت کے بارویں سال: اپنے چچا ابو طالب کے ہمراہ ملک شام کا پہلا تجارتی سفر فرمایا۔

سفر میں آپ ﷺ مال کو بحیر اراہب نے دیکھا، نبوت کی پیشینگوئی کی کہ یہ سید العالمین ہیں ،رب العالمین کے رسول ہیں جن کو اللہ نے تمام عالم کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔


ولادت کے بیسویں سال: آپ ﷺ نے اپنے چچا کیساتھ حرب فجار میں شرکت کی مگر قتال نہیں کیا۔

آپ ﷺ نے اپنے چچاؤں کیساتھ حرب فجار کے چار ماہ بعد حلف الفضول میں شریک ہوئے۔


ولادت کے پچیسویں سال: حضرت خدیجہ کا مال لے کر آپ ﷺ نے شام کا سفر فرمایا۔ آپ ﷺ کا یہ دو سرا ملک شام کا سفر تھا۔


آپ ﷺ کا حضرت خدیجہ سے نکاح ہوا، آپ کی عمر ۴۰ سال تھی۔


ولادت کے اڑتیسویں سال: نبوت کے ابتدائی مراحل کا آغاز ہوا، آپ ﷺ نے غار حرا میں عبادت فرمانے لگے ۔ سچے خوابوں کے ذریعے نبوت کی بشارت ہوئی۔

اگلی قسط

پچھلی قسظ

سیرۃ النبی ﷺ کا مختصر خلاصہ 1

0

 سیرۃ النبیﷺ کا مختصر خلاصہ 


قسط نمبر 1


پیدائش سے بعثت تک

 آقائے مدنی آنحضرت ﷺ کی حیات مبارکہ کو مؤرخین نے تین ادوار میں تقسیم کیا ہے ۔ پہلا دور پیدائش سے نبوت تک، دوسر دور دعوی نبوت سے ہجرت تک اور تیسرا دور ہجرت سے وصال تک۔

ولادت والے سال: حضرت محمد ﷺ ان کے والد ماجد عبد اللہ بن عبد المطلب کا آپ کی پیدائش سے قبل انتقال ہو گیا ، وفات کے وقت ان کی عمر تقریباً ۲۵ برس تھی۔

(اراق الاول عام الفیل بمطابق ۱۳\اپریل ۵۷۱ء فجر کے وقت آپ کی ولادت ہوئی)

آپ کے دادا نے ساتویں دن عقیقہ کیا اور آپ کا نام محمد ﷺ کھا۔

ولادت کے چوتھے سال: قبیلہ بنی سعد کے محلے میں پہلا واقعہ شق صدر

ولادت کےچھٹے سال: آپ ﷺ نے اپنی والدہ ماجدہ حضرت آمنہ کیساتھ مدینہ کا پہلا سفر فرمایا۔
مدینہ سے واپسی پر مکہ ومدینہ کے درمیان ایک جگہ ابواء پر آپ کی والدہ کی وفات ہوئی۔

والدہ کی وفات کے بعد آپ کے دادا عبد المطلب نے آپ کی پرورش کی ۔

ولادت کے آٹھویں سال: آپ ﷺ کے دادا عبد المطلب کی وفات ہوئی۔

دادا کی وفات کے بعد اپنے چچا ابو طالب کی کفالت میں آئے۔

جب رشتہ ٹوٹتا ہے! | رشتے ٹوٹنے کی وجوہات اور ان سے کیسے بچا جائے

0




        ہمارے معاشرے میں مہینوں اور سالوں سے طے شدہ رشتوں کا اچانک ٹوٹ جانا عام بات ہے، رشتہ طے ہوجانے کے بعد نکاح کرنے میں تاخیر کی جاتی ہے، یہاں تک کہ مہینوں اور سالوں گزر جاتے ہیں، اس دوران دونوں خاندانوں کے درمیان باہمی ملاقات اور تحائف کے تبادلے کا سلسلہ جاری رہتا ہے، پھر اچانک کوئی غلط فہمی ہوتی ہے، یا کوئی بدخواہ ایسی بات کا انکشاف کرتا ہے، جس کے بعد آن کی آن میں طے شدہ رشتے ختم ہوجاتے ہیں، اور ایسی بدگمانی پیدا ہوتی ہے کہ دیے گئے تحائف تک لوٹا دیے جاتے ہیں۔

    پھر جب معاشرے میں بات پھیلتی ہے، تو دونوں ہی خاندانوں کی جانب سے صفائی اور وضاحت کی خاطر ہر صحیح اور غلط بات بیان کی جاتی ہے، اس کے بعد از سر نو رشتے کی تلاش کا عمل شروع ہوتا ہے، جو پہلے کی بہ نسبت زیادہ مشکل ثابت ہوتا ہے۔

    اس صورتحال کے پیش آنے کے مختلف اسباب ہوسکتے ہیں

    لڑکا یا لڑکی کی عمر، بیماری اور عیب کو چھپالینا ، جسے معاشرے میں معیوب سمجھا جاتا ہے، بعد میں کسی ذریعے سے جوں ہی فریق ثانی کو مذکورہ باتوں کا علم ہوتا ہے، وہ خود کو فریب زدہ محسوس کرتے ہیں اور ان کا اعتماد ختم ہو جاتا ہے، چنانچہ وہ رشتہ ختم کر لینا ہی بہتر سمجھتے ہیں۔ اس لئے ایسی باتوں کی اچھے انداز میں پہلے ہی وضاحت کردینا چاہیے۔

     کسی تیسرے فرد کا عاقدین یا ان کے اہل خانہ کو ایک دوسرے کے متعلق بد گمان کرنا، اور ایک فریق کے متعلق دوسرے فریق کے سامنے ایسی منفی باتیں کرنا کہ وہ خوفزدہ، پریشان یا مایوس ہوجائے اور رشتہ ختم کر دینے پر مجبور ہوجائے۔ بعض لوگوں کا یہ مشغلہ ہوتا ہے کہ وہ جہاں جاتے ہیں، کسی نہ کسی کی برائی ضرور بیان کرتے ہیں، کہاوت مشہور ہے: رشتہ بنانے والا ایک ہوتا ہے اور بگاڑنے والے بے شمار۔ اہلکار حضرات کا کہنا ہے کہ رشتوں کے طےہونے میں سب سے بڑی رکاوٹ ایسے کمینہ خصلت افراد کا یہ گھٹیا عمل ہے۔اللہ کی لعنت ہو ایسے جھوٹے اور کمینہ لوگوں پر یہ لوگ ہمارے دشمن بھی ہوسکتے ہیں اور رشتے دار اور پڑوسی بھی!اس لئے لڑکا اور لڑکی کے سرپرستوں کو چاہیے کہ رشتہ طے کرنے سے قبل اچھی طرح ایک دوسرے کے متعلق اطمینان کرلیں اور جب پوری طرح دل مطمئن ہوجائے اور ایک دوسرے پر اعتماد قائم ہوجائے، اس کے بعد ہی رشتے کی گفتگو کو حتمی شکل دیں۔اب اس کے بعد اپنے اعتماد کو برقرار رکھیں اور کسی بھی شخص کی بات سن کر اپنے اعتماد کو کمزور نہ ہونے دیں۔ اگر کسی کی بات میں حقیقت اور سچائی محسوس ہو تو حکمت کے ساتھ اس کی تحقیق کرلیں، تاکہ معلوم ہوسکےکہ بات کہنے والا ہمارا خیرخواہ ہے یا بد خواہ ؟

    افسوس کہ لوگوں کا مزاج یہ بن چکا ہے کہ اگر چار افراد کسی کی تعریف کریں تو ان کا دل مطمئن نہیں ہوتا، لیکن اگر ایک شخص بھی کسی کا عیب بیان کردے تو فورا اس پر یقین کر لیتے ہیں ۔یہ دراصل انسان کی منفی سوچ کا نتیجہ ہے ۔یاد رکھیں! ہر انسان کے دوست کے ساتھ کچھ دشمن بھی ہوتے ہیں، کسی شخص کو معاشرے کے سو فیصد افراد اچھا کہیں، یہ اعزاز تو خدا کے نیک اور برگزیدہ بندوں کو بھی نہیں مل سکا۔ بقول شاعر ؂

غالب برا نہ مان جو واعظ برا کہے

ایسا بھی کوئی ہے کہ سب اچھا کہیں جسے

    ایسے واقعات سے بچنے کا بہترین راستہ یہی ہے کہ رشتہ طے کرنے سے قبل مناسب طریقہ پر تحقیق کرلی جائے اور جب اطمینان ہوجائے تو رشتہ طے ہو جانے کے بعد نکاح میں اتنی تاخیر ہی نہ کی جائے کہ کسی کو بد خواہی اور شرارت کا موقع مل سکے، یوں بھی نکاح میں عجلت کا حکم دیا گیا ہے، جس میں بہت ساری حکمت و مصلحت پوشیدہ ہے۔ 

سوشل میڈیا ڈیسک آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

© 2023 جملہ حقوق بحق | MK Arabic Accademy | محفوظ ہیں