قبرستان وہ مقام ہے جہاں قدم رکھتے ہی دل پر ایک خاموش ہیبت طاری ہو جایا کرتی تھی۔ یہ وہ جگہ تھی جہاں یا تو خوف انسان کو اپنی گرفت میں لے لیتا، یا عقل مند اس منظر سے عبرت کشید کر کے اپنی اصلاح کی طرف لوٹ آتا۔ قبریں بولتی نہیں، مگر بہت کچھ کہہ جاتی ہیں؛ وہ انسان کو اس کے انجام کی یاد دلاتی ہیں، اس کے غرور کو توڑتی ہیں اور اسے یہ احساس دلاتی ہیں کہ طاقت، دولت، حسن اور خواہشات سب یہیں آ کر مٹی میں مل جاتے ہیں۔
مگر افسوس! کچھ عرصے سے قبرستان، جو احترام، خاموشی اور عبرت کی علامت تھا، ہمارے بعض ناجائز اور غیر شرعی اعمال کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔ آئے دن قبروں میں تعویذ ملنا، جادو ٹونے کے آثار پائے جانا، یہ صرف ایک غلط عمل نہیں، بلکہ انسانی اخلاق کی بدترین گراوٹ ہے۔ یہ قبروں کے احترام کے منافی بھی ہے اور مردوں کی حرمت پامال کرنے کے مترادف بھی۔
اگر آج تم کسی اور کی قبر میں تعویذ رکھ رہے ہو، تو یہ سمجھ لو کہ تم گویا اپنے ہی لیے وہاں عذاب کی آگ بھرتے جا رہے ہو۔ آج تم کسی مدفون شخص کی قبر کو اپنی خباثت کا میدان بنا رہے ہو، تو بعید نہیں کہ کل تمہاری قبر بھی اسی بے حرمتی کا نشانہ بنے۔ آج اگر قبروں میں تعویذ رکھے جا رہے ہیں، تو کل ان ہی قبروں کے پاس بے حیائی، گندگی اور بدکاری کا دروازہ کھل جانا کوئی بعید بات نہیں—کیونکہ گناہ ایک حد پر نہیں رکتا، وہ بڑھتا ہے، پھیلتا ہے، اور معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔
سحر و جادو کرنا خود صریح حرام ہے، اور پھر اس حرام کو قبرستان جیسی مقدس اور عبرت ناک جگہ تک لے جانا—کیا ہمیں اپنی جنازے کی ڈولی نظر نہیں آتی؟ جس قبرستان میں آج تم اپنے ہاتھوں سے تعویذ پہنچا رہے ہو، کل تم خود کسی کے کندھوں پر سوار ہو کر وہیں پہنچائے جاؤ گے۔ آج تمہارے ہاتھ زندہ ہیں، کل وہی ہاتھ مٹی تلے بے جان ہوں گے۔ آج تمہارے قدم چل رہے ہیں، کل وہی قدم قبر کی تنگی میں سمٹ جائیں گے۔
">يا من يغره طول الأمل
أمامك القبر فانتبه واعتبر
یعنی اے بندہ الٰہی طویل امیدیں دھوکے میں ڈال رہ رہی ہیں تیرے سامنے قبر ہے ہوش میں آ، اور اس سے عبرت حاصل کر.
ہم روز انہی ہاتھوں اور انہی قدموں سے جنازے اٹھاتے ہیں، قبرستان کی طرف چلتے ہیں، مردوں کو دفن کر کے لوٹ آتے ہیں۔ پھر انہی فنا ہونے والے ہاتھوں اور قدموں سے ہم کیسے یہ جرات کر لیتے ہیں کہ اسی جگہ کسی کے لیے برائی، نقصان اور قہر کے منصوبے دفن کریں؟ کیا یہ شعور کی موت نہیں؟
کبھی اس سب کو نام نہاد “محبت” کا لبادہ پہنا دیا جاتا ہے۔ مگر ذرا سوچو! وہ محبت کیسی محبت ہے جو تعویذ، جادو اور دوسروں کے گھروں کو توڑ کر حاصل کی جائے؟ وہ محبت نہیں، نفس کی غلامی ہے۔ وہ محبت نہیں، بلکہ اپنے ہی والدین، اپنے ہی گھر والوں کے سکون پر وار ہے۔
باز آ جائیں خدا کے لیے باز آ جائیں، اس سے پہلے کہ قبرستان بھی ہمیں قبول کرنے سے انکار کر دے۔ ایک باہوش، با ایمان مسلمان اس طرح کے اعمال کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ ذرا اپنے آپ کو پرکھو: کیا ہم واقعی ایمان والوں کی اس فہرست میں باقی ہیں؟
ہم دلی کی گہرائیوں سے التماس کرتے ہیں ایسے کاموں سے اجتناب کیجیے ورنہ وہاں عذاب ہم سے اجتناب نہیں ہوگا۔
شیخ عبد الماجد الکشمیری
29 دیسمبر 2024

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
ویب گاہ کی بہتری کے لیے آپ کی قیمتی رائے ہمارے لیے اہم اور اثاثہ ہے۔