تقویمِ ہند
ہجری و عیسوی تاریخیں — ہندوستان کے مقامی وقت کے مطابق
آجہجری تاریخ مقامی رؤیتِ ہلال کے مطابق ایک دن آگے یا پیچھے ہو سکتی ہے۔
ہجری تاریخ ہندوستان کے مقامی وقت (Asia/Kolkata) کے ساتھ ایک روزہ مقامی فرق کو ترجیح دیتی ہے؛ مقامی شرعی رؤیت کی صورت میں تاریخ ±۱ دن مختلف ہو سکتی ہے۔

مسلمانوں کے دلوں میں رعب کہاں سے آیا!؟

0

شام کو دھوپ کمرے میں ختم ہونے کو آ رہی تھی۔ کلامِ الٰہی کی تلاوت جاری تھی۔ ہر آیت دل کو سہلاتی، کبھی جھنجھوڑتی، کبھی تسلی دیتی۔ یکایک زبان رُک گئی۔ نگاہ اس مقامِ جلال پر ٹھہر گئی:


 "سَنُلْقِي فِي قُلُوبِ الَّذِينَ كَفَرُوا الرُّعْبَ..."

(عنقریب ہم انکار کرنے والوں کے دلوں میں رعب ڈال دیں گے۔

خاموشی طاری ہو گئی۔ آواز رُک گئی، مگر قلبہو زبان آئی۔

مشامِ جاں نے کچھ محسوس کیا — کچھ لرز سا گیا۔

"رعب...؟"

"یہ کس کے دلوں میں ڈالا جائے گا؟"

زبان نے دل سے سوال کیا،

دل نے عقل کی منعطف کیا ،

اور عقل نے ضمیر کو پکارا۔


ایک مہیب سوال ابھرا:

"کیا صرف وہی منکر ہیں جو کہتے ہیں کہ کوئی خالق ہی نہیں؟"

"کیا انکار صرف زبان سے انکار کرنے کا نام ہے؟"

"اور ہم...؟"


ہم نے تو زبان سے رب کو مانا،

اس کے نبی ﷺ کو مانا،

کتاب کو بھی پڑھا،

تسبیح بھی کرتا رہا،

مگر جب رب نے جھکنے کو کہا، ہم اکڑ گئے۔

جب دینے کو کہا، ہم چھپ گئے۔

جب برائی سے روکنے کا حکم ہوا، ہم خاموش ہو گئے۔

جب نگاہیں نیچی رکھنے کو کہا، ہم نے آنکھیں اٹھا لیں۔

جب وعدے نبھانے کا کہا، ہم مکر گئے۔

جب صبر کا حکم دیا، ہم بے قابو ہو گئے۔


تو پھر بتاؤ...!

کیا یہ انکار نہیں؟

کیا ہم عملاً انکار کرنے والوں میں شمار نہیں ہو چکے؟

زبان بے آواز ہو گئی۔

دل نے چپ چاپ سر جھکا لیا۔

اور روح کے دروازے پر "رعب" نے دستک دی۔

کسی نے سرگوشی کی:

"تم مریعب ہو چکے ہو — تمہارے دل میں وہی رعب اُتر چکا ہے، جس کا وعدہ منکرین کے لیے کیا گیا تھا۔"


کیونکہ تم نے خالق کا انکار نہیں کیا،

مگر حکم خالق کا انکار کر بیٹھے۔

اور یہی انکار اصل رعب کی دہلیز ہے۔


ماجد کشمیری 

شرمگاہ کو ہاتھ لگانے سے وضو نہیں ٹوٹتا

0

شرمگاہ کو ہاتھ لگانے سے وضو نہیں ٹوٹتا۔ اس موقف کے دلائل یہ ہیں:

[1]: عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ عَنْ أَبِيْهِ قَالَ قَدِمْنَا عَلٰى نَبِىِّ اللهِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ رَجُلٌ كَاَنَّهُ بَدَوِىٌّ ، فَقَالَ: يَا نَبِىَّ اللهِ! مَا تَرٰى فِىْ مَسِّ الرَّجُلِ ذَكَرَهُ بَعْدَ مَا يَتَوَضَّأُ فَقَالَ: “هَلْ هُوَ إِلَّا مُضْغَةٌ مِنْهُ “. أَوْ قَالَ : “بَضْعَةٌ مِنْهُ .”

(سنن ابی داؤد: ج1 ص24 باب الرخصۃ فی ذلک)

ترجمہ: حضرت طلق بن علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ایک آدمی جو دیہاتی لگتا تھا اس نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم سے سوال کیا کہ اے اللہ کے نبی! اگر کوئی شخص وضو کرنے کے بعد اپنے عضو تناسل کو چھوئے تو کیا اسے دوبارہ وضو کرنا پڑے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: یہ اس کے جسم کا ایک ٹکڑا ہی تو ہے۔

 

یعنی جب یہ تمہارے جسم کا محض ایک ٹکڑا ہی ہے تو اس کو چھونا ایسا ہی جیسے بقیہ اعضائے جسم کو چھونا۔ انسان کا اپنے ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ کو چھونا ہے یا پھر اپنی ٹانگ، سر، ناک یا کسی بھی حصہ کو چھونا ایسا ہی ہے جیسے جسم کے کسی ایک حصہ کو چھو لینا ہو۔ تو جس طرح جسم کے کسی اور عضو کو چھونے سے وضو نہیں ٹوٹتا اسی طرح شرم گاہ کو چھونے سے بھی وضو نہیں ٹوٹتا۔

٭ یہ حدیث صحیح ہے۔

(الطحاوی- شرح معانی الآثار: ج1 ص 61 باب مس الفرج هل يجب فیہ الوضوء ام لا؟)

٭ ناصر الدین البانی صاحب نے اس روایت کو ”صحیح“ کہا ہے۔

(الالبانی- سنن النسائی باحکام الالبانی: تحت رقم الحدیث 165)

 

[2]: عَنْ أَرْقَمَ بْنِ شُرَحْبِيْلَ، قَالَ: حَكَكْتُ جَسَدِيْ ، وَأَنَا فِي الصَّلَاةِ، فَأَفْضَيْتُ إِلٰى ذَكَرِيْ ، فَقُلْتُ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ، فَقَالَ لِيْ:اِقْطَعْهُ وَهُوَ يَضْحَكُ ، أَيْنَ تَعْزِلُهُ مِنْكَ؟ إِنَّمَا هُوَ بَضْعَةٌ مِنْكَ.

(المعجم الکبیر للطبرانی: ج4 ص557 رقم الحدیث 9112)

ترجمہ: حضرت ارقم بن شرحبیل کہتے ہیں کہ میں نماز میں ہوتے ہوئے اپنے جسم میں خارش کرتا ہوں اور کبھی کبھی شرم گاہ کی خارش بھی کر لیتا ہوں۔ اس بات کاتذکرہ میں نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے کیا تو انہوں نے مسکرا کر مجھے فرمایا: (اگر یہ اتنا ہی نجس ہے تو) اسے کاٹ ہی ڈالو، اس کو اپنے آپ سے کہاں دور کرو گے؟ ارے یہ تمہارے جسم کا ایک ٹکڑا ہی تو ہے۔

٭ اس روایت کے راوی ثقہ ہیں۔ (نور الدین الہیثمی- مجمع الزوائد: ج1 ص244)


 وضو کا حکم ہے تو اس وضو سے مراد وضو لغوی ہے یعنی ”ہاتھ کا دھونا“، اس سے اصطلاحی وضو (نماز والا وضو) مراد نہیں۔ امام ابو جعفر احمد بن محمد بن سلامۃ الطحاوی (ت321ھ) نے اس توجیہہ پر صحابی رسول حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی یہ روایت بطور دلیل پیش کی ہے:

عن مصعب بن سعد قال : كنت آخذ على أبي المصحف فاحتككت فأصبت فرجي ، فقال: أصبت فرجك؟ قلت: نعم ، احتككت فقال: إغمس يدك في التراب ، ولم يأمرني أن أتوضأ.

(شرح معانی الآثار: ج1 ص62 باب مس الفرج ھل یجب فیہ الوضوء ام لا؟)

ترجمہ: حضرت مصعب بن سعد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو مصحف پکڑایا، پھر میں نے اپنے جسم کی کھجلی کی تو میرا ہاتھ میری شرم گاہ کو لگ گیا۔ میرے والد صاحب نے مجھ سے پوچھا: کیا تمہارا ہاتھ شرم گاہ کو لگا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، لگا ہے۔ والد صاحب نے فرمایا: اپنے ہاتھ کو مٹی سے صاف کرو! میرے والد صاحب نے مجھے وضو کا حکم نہیں دیا۔

اور ایک طریق میں یہ الفاظ ہیں:

قال: قم فاغسل يدک! (شرح معانی الآثار: ج1 ص62)

ترجمہ: میرے والد نے فرمایا: اٹھو اور اپنے ہاتھ کو جا کے دھو لو!

اس سے معلوم ہوا کہ سنن ابی داؤد والی روایت میں بھی وضو سے مراد محض ہاتھ دھونا ہے، وضو اصطلاحی (نماز والا وضو) مراد نہیں ہے۔

 

توجیہ نمبر۳: سنن ابی داؤد کی اس روایت کا معنی یہ ہے کہ اگر شرمگاہ کو چھونے سے شہوت پیدا ہو اور مذی خارج ہو جائے تب وضو ٹوٹے گا۔ اس معنی کی رو سے یہ روایت حضرت طلق بن علی رضی اللہ عنہ کی روایت سے متعارض بھی نہیں ہو گی۔

واللہ اعلم بالصواب

(مولانا) محمد الیاس گھمن




© 2023 جملہ حقوق بحق | MK Arabic Accademy | محفوظ ہیں