مسلمانوں کے دلوں میں رعب کہاں سے آیا!؟

0

شام کو دھوپ کمرے میں ختم ہونے کو آ رہی تھی۔ کلامِ الٰہی کی تلاوت جاری تھی۔ ہر آیت دل کو سہلاتی، کبھی جھنجھوڑتی، کبھی تسلی دیتی۔ یکایک زبان رُک گئی۔ نگاہ اس مقامِ جلال پر ٹھہر گئی:


 "سَنُلْقِي فِي قُلُوبِ الَّذِينَ كَفَرُوا الرُّعْبَ..."

(عنقریب ہم انکار کرنے والوں کے دلوں میں رعب ڈال دیں گے۔

خاموشی طاری ہو گئی۔ آواز رُک گئی، مگر قلبہو زبان آئی۔

مشامِ جاں نے کچھ محسوس کیا — کچھ لرز سا گیا۔

"رعب...؟"

"یہ کس کے دلوں میں ڈالا جائے گا؟"

زبان نے دل سے سوال کیا،

دل نے عقل کی منعطف کیا ،

اور عقل نے ضمیر کو پکارا۔


ایک مہیب سوال ابھرا:

"کیا صرف وہی منکر ہیں جو کہتے ہیں کہ کوئی خالق ہی نہیں؟"

"کیا انکار صرف زبان سے انکار کرنے کا نام ہے؟"

"اور ہم...؟"


ہم نے تو زبان سے رب کو مانا،

اس کے نبی ﷺ کو مانا،

کتاب کو بھی پڑھا،

تسبیح بھی کرتا رہا،

مگر جب رب نے جھکنے کو کہا، ہم اکڑ گئے۔

جب دینے کو کہا، ہم چھپ گئے۔

جب برائی سے روکنے کا حکم ہوا، ہم خاموش ہو گئے۔

جب نگاہیں نیچی رکھنے کو کہا، ہم نے آنکھیں اٹھا لیں۔

جب وعدے نبھانے کا کہا، ہم مکر گئے۔

جب صبر کا حکم دیا، ہم بے قابو ہو گئے۔


تو پھر بتاؤ...!

کیا یہ انکار نہیں؟

کیا ہم عملاً انکار کرنے والوں میں شمار نہیں ہو چکے؟

زبان بے آواز ہو گئی۔

دل نے چپ چاپ سر جھکا لیا۔

اور روح کے دروازے پر "رعب" نے دستک دی۔

کسی نے سرگوشی کی:

"تم مریعب ہو چکے ہو — تمہارے دل میں وہی رعب اُتر چکا ہے، جس کا وعدہ منکرین کے لیے کیا گیا تھا۔"


کیونکہ تم نے خالق کا انکار نہیں کیا،

مگر حکم خالق کا انکار کر بیٹھے۔

اور یہی انکار اصل رعب کی دہلیز ہے۔


ماجد کشمیری 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

ویب گاہ کی بہتری کے لیے آپ کی قیمتی رائے ہمارے لیے اہم اور اثاثہ ہے۔

© 2023 جملہ حقوق بحق | اسلامی زندگی | محفوظ ہیں