بیوہ : زکات کا مصرف نہیں نکاح کا شرف ہے

0

 

 معاشروں کی نبض کبھی الفاظ سے نہیں، بلکہ اُن کی ترجیحات سے پہچانی جاتی ہے۔ کہیں ہمدردی کے چراغ روشن ہوتے ہیں مگر اُن کی روشنی راستہ نہیں دکھاتی، اور کہیں علاج کے نام پر مرہم تو رکھا جاتا ہے مگر زخم کی جڑ کو چھیڑا ہی نہیں جاتا۔ بعض اوقات رحم کے عنوان سے جو تدابیر اختیار کی جاتی ہیں، وہ دراصل ایک خاموش انحراف کی صورت ہوتی ہیں—ایسا انحراف جو مسئلے کو حل نہیں کرتا بلکہ اسے ایک نئے قالب میں برقرار رکھتا ہے۔

بیواؤں کے مسئلے کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی معاملہ درپیش ہے: ایک طرف شفقت کے نام پر سہارا دینے کی کوششیں، اور دوسری طرف اُن اصولی راستوں سے تغافل جو شریعت نے ان کے لیے مقرر کیے۔ سوال یہ نہیں کہ ہم کیا کر رہے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم کیا چھوڑ رہے ہیں—اور یہی وہ سوال ہے جو اس مضمون کے دروازے کھولتا ہے۔

بیوہ: ہمدردی نہیں، وقار کا عنوان

آج بیواؤں کے لیے مراکز قائم کرنے، وظائف جاری کرنے اور امدادی اسکیمیں چلانے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ بظاہر یہ اقدامات خیر خواہی کے آئینہ دار ہیں، مگر اگر ان کا تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ اکثر اصل حل سے توجہ ہٹا دیتے ہیں۔ اسلام نے بیوہ کو ایک مستقل محتاج طبقہ بنا کر پیش نہیں کیا، بلکہ اسے عزت و وقار کے ساتھ زندگی گزارنے کا حق دیا ہے۔

نکاح، جو انسانی زندگی کا فطری اور سماجی تقاضا ہے، بیوہ کے لیے بھی اسی طرح مشروع اور مطلوب ہے جیسے غیر شادی شدہ کے لیے۔ بلکہ اس کی ترغیب دی گئی، تاکہ وہ تنہائی، عدمِ تحفظ اور معاشی دباؤ سے نکل کر ایک متوازن زندگی کی طرف لوٹ آئے۔ یہی وہ راستہ ہے جس میں عفت بھی ہے، استحکام بھی اور معاشرتی وقار بھی۔

زکوٰۃ: استحقاق کا معیار بیوگی نہیں، احتیاج ہے

یہ تصور کہ ہر بیوہ لازماً زکات کی مستحق ہے، نہ نصوصِ شرعیہ سے ثابت ہے اور نہ فقہی اصولوں سے۔ قرآنِ کریم نے زکات کے مصارف کو “الفقراء والمساكين” کے عنوان سے بیان کیا ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ اصل معیار “حاجت” ہے، نہ کہ “محض بیوگی”۔

اگر کوئی بیوہ مالی طور پر مستحکم ہو، یا اس کے پاس کفایت کے اسباب موجود ہوں، تو وہ زکات کی مستحق نہیں رہتی۔ اس کے برعکس، اگر کوئی محتاج ہو تو وہ زکات کا مستحق ہوگا، خواہ وہ بیوہ ہو یا نہ ہو۔ اس سے معلوم ہوا کہ شریعت نے زکات کو ایک عارضی سہارا بنایا ہے، نہ کہ کسی طبقے کے لیے مستقل سہارا۔

وراثت: حق جو بھلا دیا گیا

بیوہ کے حقوق میں سب سے اہم حق “وراثت” ہے۔ شوہر کی وفات کے بعد اسے اس کا مقررہ حصہ دینا محض ایک قانونی تقاضا نہیں بلکہ ایک شرعی فریضہ ہے۔ افسوس کہ ہمارے معاشرے میں یہی حق اکثر پامال ہو جاتا ہے—کبھی رسم و رواج کے نام پر، کبھی خاندانی دباؤ کے تحت۔

اگر وراثت کے اس حق کو دیانت داری سے ادا کیا جائے تو بہت سی بیوائیں زکات کی محتاج ہی نہ رہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہم نے وراثت کے دروازے بند کر کے زکات کے دریچے کھول دیے ہیں، جبکہ شریعت کا منشا اس کے برعکس ہے۔

نکاح: اصل علاج، جسے نظر انداز کیا جا رہا ہے

بیوہ کے مسئلے کا سب سے مؤثر اور بنیادی حل نکاح ہے۔ یہ وہ راستہ ہے جسے اسلام نے نہ صرف جائز رکھا بلکہ اس کی حوصلہ افزائی کی۔ مگر ہمارے معاشرے میں نکاحِ بیوہ کو مختلف سماجی رکاوٹوں، غیر ضروری رسموں اور ذہنی تعصبات کی نذر کر دیا گیا ہے۔

نتیجہ یہ ہے کہ ہم بیوہ کو سہارا دینے کے نام پر اسے ایک مستقل محتاجی کے دائرے میں رکھتے ہیں، جبکہ نکاح اسے اس دائرے سے نکال کر ایک باوقار اور متوازن زندگی کی طرف لے جا سکتا ہے۔

اسلام کا مقصد محض پیٹ بھرنا نہیں، بلکہ انسان کو وقار کے ساتھ جینے کا حق دینا ہے۔ اسی لیے صدقہ کرنے میں بھی یہ تعلیم دی گئی کہ اسے اس انداز سے دیا جائے کہ لینے والے کی عزتِ نفس مجروح نہ ہو؛ حتیٰ کہ پوشیدہ طور پر دینا افضل قرار دیا گیا۔

اور جب کوئی واجب صدقہ یا زکات ادا کی جاتی ہے تو یہ تصور نہیں ہوتا کہ ہم کسی پر احسان کر رہے ہیں، بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے جس کی تعمیل کی جا رہی ہے۔ درحقیقت یہ لینے والے پر احسان نہیں، بلکہ دینے والے کے لیے ایک موقعِ خیر ہے کہ اسے اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی توفیق ملی۔

اسلام انسان کو یہ شعور دیتا ہے کہ وہ ضرورت پوری کرے، مگر عزت کے ساتھ؛ وہ کسی کا محتاج ہو تو بھی اپنی خودی نہ کھوئے، اور اگر دینے والا ہو تو اپنے اندر احسان کا غرور پیدا نہ ہونے دے۔ یہی وہ توازن ہے جس میں انسان جیتا بھی ہے اور اپنی عزتِ نفس کو بھی محفوظ رکھتا ہے—اور یہی وہ روح ہے جسے اسلام اپنے ماننے والوں میں پیدا کرنا چاہتا ہے۔

الشیخ عبد الماجد الکشمیری 

2 شوال 1447

23 مارچ 2026

معتکف و متاع

0

 مقامۂ معتکف و متاع


 ایک بار ایک جلیلُ القدر بادشاہ نے اپنے دو خاص ندیموں کو طلب کیا؛ وہ دونوں قربِ دربار کے خوگر، مگر مزاج میں ایک مشرق و مغرب تھے: ایک دور اندیش، دوسرا لذت اندیش؛ ایک کی نگاہ انجام پر، دوسرے کی زبان ہر وقت ذائقے کے تعاقب میں۔


بادشاہ نے کہا:

“میرے ایک نہایت وسیع خزانے کا دروازہ تمہارے لیے کھول دیا جاتا ہے۔ مدت بس چند روز کی ہے۔ جو شخص اندر جا کر جتنا سمیٹ سکتا ہو، سمیٹ لے؛ جو چاہے ہاتھ سے اُٹھائے، جو چاہے گاڑیوں پر لدوائے، جو چاہے اپنے گھر منتقل کرے۔ شرط فقط یہ ہے کہ مدت محدود ہے؛ ساعت گزری تو فرصت بھی گزری۔ پھر نہ در کھلے گا، نہ عرض سنی جائے گی، نہ حسرت کی فریاد کا کوئی مصرف ہوگا۔”


یہ سننا تھا کہ پہلا شخص، جو عقل کو زادِ راہ اور فرصت کو غنیمت جانتا تھا، ادب سے جھکا، اندر گیا، ایک نگاہ دائیں ڈالی، ایک بائیں، اور سمجھ گیا کہ یہاں اصل متاع کیا ہے: صندوق ہائے زر، سبیکۂ سیم، جواہرِ آبدار، اور وہ نادر اشیا جن سے بعد کی زندگی سنور سکتی تھی۔ چنانچہ اس نے نہ دیواروں کے نقش میں وقت کھپایا، نہ خوشبوؤں کے تعاقب میں سانس گنوائے، نہ نازک بحثوں میں عقل اٹکائی۔ فوراً باہر نکلا، مزدور بلائے، گاڑیاں منگوائیں، بوریاں کھلوائیں، صندوق اٹھوائے، اور پھر بھر بھر کر وہی متاع منتقل کرنے لگا جس سے گھر بھی آباد ہو اور کل بھی۔


مگر دوسرا صاحب!

اللہ اللہ، کیا طبعِ رنگیں پائی تھی! اندر داخل ہوئے تو دیکھا کہ ایک گوشے میں نایاب پھل سجے ہیں؛ کہیں انجیر ایسی کہ جیسے شکر نے صورت باندھ لی ہو، کہیں انگور ایسے کہ گویا موتی شاخوں پر آگئے ہوں، کہیں انار کہ دانے نہیں، یاقوت کے ٹکڑے ہوں۔

بس حضور وہیں جم گئے!

کہیں چکھا، کہیں چبایا، کہیں دانت آزمائے، کہیں زبان کو مصروفِ شکر گزاری کیا۔

اور اس شکر گزاری کا حال یہ تھا کہ پیٹ کی راہ کھلی رہی، مگر صندوقوں کی راہ بند!


پھر آگے بڑھے تو چند خدام و کنیزکان سے سامنا ہوا۔ اب اصل کام تو تھا متاع سمیٹنا، مگر موصوف نے وہاں ایک اور دریا بہا دیا:

کس تھال میں پھل زیادہ شیریں ہے؟

کس کمرے کی روشنی زیادہ دلکش ہے؟

کس پردے کا رنگ شاہانہ ہے؟

کس نے پہلے کس کی طرف دیکھا؟

کس جملے میں تعریض تھی اور کس میں تلویح؟

اور پھر ایسی بحث چھیڑی کہ نہ اس کا سرا ہاتھ آئے، نہ کنارا۔

ایک کہتا: “یہ تو محض آرائش ہے۔”

وہ فرماتے: “جناب، آرائش بھی متاع ہی کی ایک شاخ ہے!”

دوسرا عرض کرتا: “مگر اصل خزانہ تو ادھر ہے۔”

تو جواب آتا: “بھئی، حسنِ ترتیب کو بھی کچھ سمجھیے، یہ بھی کم سرمایہ نہیں!”


یوں وہ موصوف قشر کو مغز اور سایہ کو آفتاب سمجھتے رہے۔

ادھر گھڑی کی سوئیاں اپنا فرض نبھاتی رہیں، اُدھر حضرت ہر بے فائدہ مشغلے کو فائدہ ثابت کرنے میں لگے رہے۔

جب کبھی کسی نے کہا: “حضور! سونا چاندی بھی کچھ اٹھا لیجیے!”

تو بولے: “ارے ابھی کیا جلدی ہے؟ پہلے ذرا یہ طعامِ لطیف ختم ہو، پھر ان مسائلِ دقیقہ کا فیصلہ ہوجائے، پھر دیکھیں گے!”


اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ ساعت آپہنچی جس کے بعد “کاش” کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آتا۔


مدت ختم ہوئی۔ دروازے بند ہوئے۔

ایک باہر نکلا تو اس کے پیچھے گاڑیوں کی قطار تھی؛

دوسرا نکلا تو اس کے ساتھ صرف ڈکار، چند بے نتیجہ بحثوں کی گرد، اور ہاتھ میں ایک آدھ پھل کا چھلکا!


پہلے شخص نے کچھ دنوں بعد انہی خزانوں سے اپنا گھر سنوارا، مہینوں کا خرچ نکالا، آسودگی پائی، اور لوگوں نے کہا: “یہ وہ شخص ہے جس نے فرصت کی نبض پہچانی اور موقع کی زلف پکڑ لی۔”


اور دوسرا؟

سو پہلے دن تو پیٹ بھرے ہونے کا غرور رہا، مگر جب وہ عارضی لذت ہضم ہو گئی اور بحثوں کی بھاپ بھی ہوا ہو گئی، تب معلوم ہوا کہ جسے سرمایہ سمجھا تھا وہ تو ناشتۂ احساس بھی نہ تھا۔

بھوک نے دروازہ کھٹکھٹایا، حاجت نے آستین پکڑی، اور حسرت نے کان میں کہا:

“اے حضرتِ ذوق! اگر اس وقت ایک گاڑی بھی اصل خزانے کی بھر لیتے، تو آج زبان کو اپنے فیصلوں کی وکالت نہ کرنی پڑتی!”


یہ حکایت سن کر ایک صاحبِ دل نے فرمایا:

“اعتکاف بھی کچھ ایسا ہی شاہی اعلان ہے۔

چند دن کا درِ خاص کھلتا ہے؛

سامانِ قربت، خزائنِ مغفرت، جواہرِ دعا، سکّۂ ذکر، اور سونے چاندی سے بڑھ کر قبولیت کی دولت سامنے رکھی جاتی ہے۔

اب کوئی تو وہ ہے جو اندر جا کر تلاوت، دعا، استغفار، محاسبہ، ذکر، گریہ، توجہ اور اصلاحِ باطن کے صندوق بھر لیتا ہے؛

اور کوئی وہ بھی ہے جو مسجد میں آ کر کبھی افطار کے ذائقوں میں، کبھی تکیے کی نرمی میں، کبھی اِدھر کی بات اُدھر اور اُدھر کی اِدھر میں، کبھی ایسی بحثوں میں جن کا نہ دنیا میں وزن نہ آخرت میں نرخ، اپنا وقت یوں صرف کرتا ہے جیسے مدت لامحدود ہو اور فرصت ہمیشگی کی لونڈی!”


حالاں کہ اعتکاف کے یہ دن کھجوروں کے ذائقے ناپنے کے لیے نہیں،

بلکہ تقدیر کے خزانے سمیٹنے کے لیے ہیں۔

یہ ساعتیں اس لیے نہیں ملتیں کہ آدمی مسجد کی دیواروں کے اندر دنیا کی محفل دوبارہ آباد کر لے؛

بلکہ اس لیے کہ کچھ دیر کے لیے دنیا کو دروازے پر بٹھا کر دل کو رب کے حضور تنہا کر دے۔


ہاں، کھانا کھائیے، آرام بھی کیجیے، ضرورت کی بات بھی کہیے؛ شریعت نے رہبانیت نہیں سکھائی۔

مگر صاحب!

کہیں ایسا نہ ہو کہ دسترخوان یاد رہ جائے اور دستِ دعا بھول جائے،

نیند پوری ہو جائے اور ندامت ادھوری رہ جائے،

گفتگو کے پھول تو بہت چن لیے جائیں مگر مغفرت کے پھل شاخ ہی پر رہ جائیں۔


پس معتکف کے لیے دانائی یہی ہے کہ جب بادشاہِ حقیقی نے فرمایا ہے:

“آؤ، چند روز میرے گھر میں ٹھہرو، اور جتنا سمیٹ سکتے ہو سمیٹ لو”

تو پھر عقل مند وہی ہے جو اصل پنجی لے،

یعنی: توبہ، ذکر، دعا، قرآن، فکرِ آخرت، اصلاحِ نفس، اور شبِ قدر کی تلاش۔

ورنہ مدت گزر جائے گی، چاند رات آجائے گی، لوگ مبارک باد دیں گے،

اور کوئی دل ہی دل میں کہہ رہا ہوگا:

“ہم تو مسجد میں رہے، مگر شاید اعتکاف ہم میں نہ رہا!”


الشیخ عبد الماجد الکشمیری 

25 رمضان المبارک 1447

صدقة الفطر

0


تحميل ملف PDF

مواد دراسية للطلاب
يمكنكم تحميل ملف PDF من خلال الزر أدناه. يحتوي هذا الملف على مادة علمية مفيدة تساعدكم في الدراسة والمراجعة الأكاديمية.
تحميل PDF

صدقۂ فطر کے احکام

0

✦ تعریف: صدقۂ فطر

صدقۂ فطر اسلام کی ایک اہم مالی عبادت ہے جو عیدالفطر کے موقع پر ادا کی جاتی ہے۔ اس کا مقصد روزہ دار کی کوتاہیوں کی تلافی اور ضرورت مندوں کی مدد کرنا ہے تاکہ وہ بھی عید کی خوشیوں میں شریک ہوسکیں۔

✦ نصاب صدقۂ فطر

شریعت کی رو سے ہر اس مسلمان مرد و عورت پر صدقۂ فطر واجب ہے جس کے پاس قرض اور ضروری اسباب سے زائد اتنی مالیت کا مال یا سامان موجود ہو جو ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر یا اس سے زیادہ ہو۔ یہ مال خواہ تجارت کا ہو یا غیر تجارت کا، اور اس پر سال گزرنا بھی ضروری نہیں (یہی فرق ہے نصاب زکات اور نصاب صدقہ فطر میں)۔ ایسی صورت میں اس شخص پر عیدالفطر کے دن صدقۂ فطر ادا کرنا واجب ہوجاتا ہے۔ اس سے پہلے بھی ادا کر سکتا مگر ضروری نہیں، ہاں عید سے پہلے ادا نہیں کیا تو بھی اس کے ذمہ ادائیگیِ صدقۂ فطر باقی اور اس کو ادا کرنا ہی ہوگا بعدِ عید ہی سہی۔

جس طرح مال داری کی صورت میں مرد پر صدقۂ فطر واجب ہوتا ہے، اسی طرح اگر عورت صاحبِ نصاب ہو تو اس پر بھی اپنی طرف سے صدقۂ فطر ادا کرنا واجب ہے۔ تاہم مال دار عورت پر صرف اپنا صدقۂ فطر ادا کرنا واجب ہے، اس پر کسی اور کی طرف سے صدقۂ فطر ادا کرنا لازم نہیں، نہ بچوں کی طرف سے، نہ والدین کی طرف سے اور نہ شوہر کی طرف سے۔

البتہ مال دار مرد کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنی طرف سے بھی صدقۂ فطر ادا کرے اور اپنی نابالغ اولاد کی طرف سے بھی۔ اگر نابالغ اولاد خود صاحبِ نصاب ہو تو ان کے مال سے صدقۂ فطر ادا کیا جائے گا، اور اگر وہ صاحبِ نصاب نہ ہوں تو باپ اپنے مال سے ادا کرے گا۔ بالغ اولاد اگر صاحبِ نصاب ہو تو ان کی طرف سے صدقۂ فطر ادا کرنا باپ پر واجب نہیں، البتہ اگر وہ اپنی خوشی سے ادا کردے تو ادا ہوجائے گا۔

✦ مصارف صدقۂ فطر

صدقۂ فطر کے مصارف وہی ہیں جو زکات کے مصارف ہیں۔ یعنی جہاں زکات دی جاسکتی ہے وہاں صدقۂ فطر بھی دیا جاسکتا ہے اور جہاں زکوٰۃ دینا جائز نہیں وہاں صدقۂ فطر دینا بھی درست نہیں۔ اس لیے صدقۂ فطر کے اصل مستحق فقرا اور مساکین ہیں۔ صدقۂ فطر کی رقم سے مسجد، مدرسہ یا ہسپتال تعمیر کرنا درست نہیں، بلکہ اسے کسی مستحق شخص کو مالک بنا کر دینا ضروری ہے۔ اسی طرح سادات کو صدقۂ فطر دینا بھی درست نہیں اور مفتیٰ بہ قول کے مطابق غریب غیر مسلموں کو بھی صدقۂ فطر دینا جائز نہیں ہے۔

✦ جن کو صدقۂ فطر نہیں دے سکتے

یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ انسان اپنے ماں باپ، دادا دادی، نانا نانی اور اپنی اولاد یعنی بیٹوں، بیٹیوں، پوتوں، پوتیوں، نواسوں اور نواسیوں کو زکات یا صدقۂ فطر نہیں دے سکتا۔ اسی طرح میاں بیوی بھی ایک دوسرے کو زکات اور صدقۂ فطر نہیں دے سکتے۔ البتہ ان کے علاوہ خاندان کے وہ افراد جو مستحقِ ٰزکات ہوں انہیں صدقۂ فطر دینا نہ صرف جائز بلکہ افضل ہے، کیونکہ اس میں دوہرا اجر حاصل ہوتا ہے: ایک صدقۂ فطر ادا کرنے کا اور دوسرا صلہ رحمی کا۔

مستحق سے مراد وہ شخص ہے جس کے پاس ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی قیمت کے برابر مال موجود نہ ہو، یا اس کے پاس ضرورت سے زائد ایسا سامان نہ ہو جس کی مالیت اس مقدار تک پہنچتی ہو، اور وہ سید بھی نہ ہو۔ ایسا شخص زکات اور صدقۂ فطر دونوں کا مستحق ہوتا ہے۔


مزید متعلقہ مسائل کے لیے 9149525943 پر رابطہ کریں بہتر ہے سوال نوشت کیا جائے واٹس ایپ پر بایں وجہ کہ مجیب معتکف ہے۔


کتبہ : الشیخ عبد الماجد الکشمیری

الجواب الصحیح ( حضرت مولانامفتی ) طاہر مقبول الرحیمی

الجواب صحیح (۔حضرت مولانا مفتی  محمد عارف (قاسمی) عفی عنہ



چراغِ خاموش کی داستان: حاجی غلام حسن بن خلیل بٹؒ

0

 ایک چراغِ خاموش کی داستان: حاجی غلام حسن بن خلیل بٹؒ 



زندگی کے وسیع افق پر کچھ انسان ایسے بھی ہوتے ہیں جو شور و غوغا کے میناروں پر نہیں چڑھتے، مگر خاموشی کے دیے بن کر زمانے کے دلوں کو روشن کرتے رہتے ہیں۔ وہ نہ تاریخ کے بڑے عنوان بنتے ہیں اور نہ شہرت کے بازاروں میں ان کا چرچا ہوتا ہے، لیکن جن دلوں کو ان کی قربت نصیب ہو، وہاں ان کی یاد ایک ایسے چراغ کی طرح جلتی رہتی ہے جس کی لو کبھی مدھم نہیں پڑتی۔ میرے دادا حاجی غلام حسن بن خلیل بٹؒ بھی انہی خاموش چراغوں میں سے ایک تھے—وہ چراغ جو مٹی کے گھر میں جلتا ہے مگر روشنی آسمان تک پہنچ جاتی ہے۔

ان کی زندگی کی صبحیں عام انسانوں کی طرح فجر سے نہیں بلکہ تہجد کی خاموش ساعتوں سے طلوع ہوتی تھیں۔ جب رات کی سیاہ چادر ابھی پوری طرح لپٹی ہوتی اور ستارے آسمان پر بکھرے ہوئے موتیوں کی طرح جھلملا رہے ہوتے، وہ بیدار ہو جاتے۔ وضو کی ٹھنڈی بوندیں ان کے چہرے پر پڑتیں تو یوں لگتا جیسے شبنم کسی پرانے درخت کے پتوں کو تازگی بخش رہی ہو۔ پھر وہ اپنے رب کے حضور کھڑے ہوتے۔ ان کی نماز گویا ایک خاموش مکالمہ تھی—بندے کی عاجزی اور رب کی رحمت کے درمیان۔

دن نکلتا تو ان کی زندگی کا دوسرا منظر شروع ہو جاتا۔ زمین ان کے لیے محض کھیتی نہ تھی بلکہ ماں کی طرح تھی جس کی گود میں وہ اپنی محنت کے بیج بوتے تھے۔ وہ مویشی پالنے والے ایک تجربہ کار کسان تھے۔ کھیتوں کی مٹی ان کے ہاتھوں کو پہچانتی تھی اور مویشیوں کی آنکھیں ان کی شفقت سے مانوس تھیں۔ بٹ محلے کے لوگ جب کسی مشکل میں پڑتے تو ان کے دروازے کی دہلیز پر دستک دیتے۔ ان کا تجربہ کسی کتاب کی طرح تھا جس کے صفحات پر برسوں کی محنت کے حرف لکھے ہوئے تھے۔

سادگی ان کی زندگی کا لباس تھی۔ وہ دواؤں کی بوتلوں کے محتاج نہ تھے۔ معمولی بیماریوں کے لیے وہ پہاڑوں اور میدانوں کی جڑی بوٹیوں کو ہی اپنا طبیب سمجھتے۔ گویا فطرت ان کے لیے ایک کھلا ہوا دوا خانہ تھی۔ شہد کی مکھیاں پالنا ان کا ایک دل پسند مشغلہ تھا۔ ان کے گھر میں شہد کی خوشبو یوں بکھری رہتی جیسے بہار کی ہوا میں پھولوں کی مہک۔ وہ خود بھی شہد شوق سے کھاتے اور دوسروں کو بھی اس نعمت سے مستفید کرتے۔ شاید اسی مٹھاس نے ان کی صحت کو آخری عمر تک مضبوط رکھا۔

عبادت کے معاملے میں وہ نہایت محتاط تھے۔ اگرچہ دن بھر کام کی گرد ان کے کپڑوں پر جم جاتی، مگر نماز کے وقت وہ اس گرد کو جھاڑ دیتے۔ کپڑے بدلتے اور مسجد کا رخ کرتے۔ یہ گویا اس بات کا کنایہ تھا کہ بندہ دنیا کی مٹی میں جتنا بھی الجھ جائے، رب کے دربار میں حاضر ہوتے وقت خود کو پاکیزہ بنا کر ہی پیش ہونا چاہیے۔ اکثر وہ میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے بھی مسجد لے جاتے۔ اس وقت مجھے محسوس نہیں ہوتا تھا کہ وہ صرف مجھے مسجد تک نہیں بلکہ زندگی کے راستے تک لے جا رہے ہیں۔

خود داری ان کی شخصیت کا ایک روشن وصف تھا۔ اگرچہ ان کی اولاد اللہ کے فضل سے آسودہ حال تھی، مگر انہوں نے کبھی اپنے ہاتھ کو کسی کے آگے پھیلنے نہ دیا۔ وہ اپنے بازوؤں کی کمائی کو عزت کا تاج سمجھتے تھے۔ ان کی زندگی گویا اس بات کی زندہ مثال تھی کہ وقار ہمیشہ خود کفالت کے سائے میں پروان چڑھتا ہے۔

میری بچپن کی تربیت میں بھی ان کا کردار ایک معلم کی طرح تھا۔ کبھی وہ شفقت کے سائے بن جاتے اور کبھی ڈانٹ کی بجلی گرا دیتے، مگر اس ڈانٹ میں بھی محبت کا دریا بہتا تھا۔ قرآن کی تعلیم کی طرف متوجہ کرنا ہو یا کشمیری زبان سکھانا—یہ سب انہی کی صحبت کا فیض تھا۔ اسی زبان میں انہوں نے مجھے نعت اور درودِ نبوی ﷺ کے کئی اشعار یاد کروائے۔ جب وہ درود پڑھتے تو یوں محسوس ہوتا جیسے عقیدت کے پھول فضا میں بکھر رہے ہوں۔

بٹ محلے میں جب قربانی کا موسم آتا تو اکثر لوگ انہیں ہی آواز دیتے۔ وہ اپنی ایک چھوٹی سی دستی کتاب نکالتے اور بڑے انہماک سے نیت پڑھتے۔ وہ منظر آج بھی میرے حافظے کے دریچے میں محفوظ ہے—ایک چھوٹی سی کتاب، ایک بوڑھی آواز اور اخلاص کا ایک روشن لمحہ۔

شاید انہی لمحوں کو دیکھ کر میرے دل میں مطالعے کا شوق پیدا ہوا۔ دادا کے ہاتھ میں کتاب دیکھنے کی جو عادت پڑی، وہ میرے دل میں ایسی شمع بن گئی جس کی لو آج تک روشن ہے۔

زندگی کے ایک مرحلے پر انہوں نے فشری ڈیپارٹمنٹ میں ملازمت بھی اختیار کی، مگر جلد ہی اسے چھوڑ دیا۔ دفتری زندگی ان کے مزاج کے مطابق نہ تھی۔ ان کا دل کھیتوں کی ہوا میں زیادہ سکون پاتا تھا۔ چنانچہ انہوں نے ملازمت کے بجائے زمین اور مویشیوں کی رفاقت کو ترجیح دی۔

وقت کا پہیہ گھومتا رہا اور آخرکار وہ دن بھی آیا جب بیماری نے ان کے جسم کو کمزور کر دیا۔ مگر ان دنوں میں بھی ان کی محبت کم نہ ہوئی بلکہ اور گہری ہو گئی۔ جب میں ان کے پاس بیٹھتا تو وہ محبت بھری نگاہوں سے دیکھتے اور میرے لیے دعائیں کرتے۔ ان کی دعائیں گویا میرے لیے سایہ دار درخت کی طرح تھیں جن کے سائے میں آج بھی میری زندگی کی راہیں ٹھنڈی محسوس ہوتی ہیں۔

آج جب میں ان کی زندگی کے اوراق پلٹتا ہوں تو مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ ایک ایسا چراغ تھے جو خاموشی سے جلتا رہا۔ اس چراغ نے نہ صرف ایک گھر بلکہ کئی دلوں کو روشنی دی۔

اور اب جب کبھی رات کے سناٹے میں تہجد کا وقت آتا ہے تو مجھے یوں لگتا ہے کہ جیسے فضا میں ایک مانوس دعا کی خوشبو اب بھی تیر رہی ہو—

گویا وہ خاموش چراغ بجھا نہیں، بلکہ ہماری نگاہوں سے اوجھل ہو کر کسی اور جہان میں روشنی بانٹنے لگا ہے۔

اللہ تعالیٰ ان کی قبر و لحد کو نور سے بھر دے، اسے رحمت کے باغوں میں سے ایک باغ بنا دے، اور حساب و کتاب کے مراحل کو ان کے لیے آسان فرما دے۔

اور میں اپنے آپ کو ان کے لیے ایک ادنیٰ سا صدقۂ جاریہ سمجھتے ہوئے یہ دعا کرتا ہوں کہ میرے یہ قلیل اعمالِ صالحہ—جو کسی نہ کسی طرح ان کی تربیت اور صحبت کا فیض ہیں—اللہ تعالیٰ انہیں قبول فرمائے اور ان کے سبب میرے دادا کے درجات کو مزید بلند فرما دے۔ آمین 

© 2023 جملہ حقوق بحق | اسلامی زندگی | محفوظ ہیں