معاشروں کی نبض کبھی الفاظ سے نہیں، بلکہ اُن کی ترجیحات سے پہچانی جاتی ہے۔ کہیں ہمدردی کے چراغ روشن ہوتے ہیں مگر اُن کی روشنی راستہ نہیں دکھاتی، اور کہیں علاج کے نام پر مرہم تو رکھا جاتا ہے مگر زخم کی جڑ کو چھیڑا ہی نہیں جاتا۔ بعض اوقات رحم کے عنوان سے جو تدابیر اختیار کی جاتی ہیں، وہ دراصل ایک خاموش انحراف کی صورت ہوتی ہیں—ایسا انحراف جو مسئلے کو حل نہیں کرتا بلکہ اسے ایک نئے قالب میں برقرار رکھتا ہے۔
بیواؤں کے مسئلے کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی معاملہ درپیش ہے: ایک طرف شفقت کے نام پر سہارا دینے کی کوششیں، اور دوسری طرف اُن اصولی راستوں سے تغافل جو شریعت نے ان کے لیے مقرر کیے۔ سوال یہ نہیں کہ ہم کیا کر رہے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم کیا چھوڑ رہے ہیں—اور یہی وہ سوال ہے جو اس مضمون کے دروازے کھولتا ہے۔
بیوہ: ہمدردی نہیں، وقار کا عنوان
آج بیواؤں کے لیے مراکز قائم کرنے، وظائف جاری کرنے اور امدادی اسکیمیں چلانے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ بظاہر یہ اقدامات خیر خواہی کے آئینہ دار ہیں، مگر اگر ان کا تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ اکثر اصل حل سے توجہ ہٹا دیتے ہیں۔ اسلام نے بیوہ کو ایک مستقل محتاج طبقہ بنا کر پیش نہیں کیا، بلکہ اسے عزت و وقار کے ساتھ زندگی گزارنے کا حق دیا ہے۔
نکاح، جو انسانی زندگی کا فطری اور سماجی تقاضا ہے، بیوہ کے لیے بھی اسی طرح مشروع اور مطلوب ہے جیسے غیر شادی شدہ کے لیے۔ بلکہ اس کی ترغیب دی گئی، تاکہ وہ تنہائی، عدمِ تحفظ اور معاشی دباؤ سے نکل کر ایک متوازن زندگی کی طرف لوٹ آئے۔ یہی وہ راستہ ہے جس میں عفت بھی ہے، استحکام بھی اور معاشرتی وقار بھی۔
زکوٰۃ: استحقاق کا معیار بیوگی نہیں، احتیاج ہے
یہ تصور کہ ہر بیوہ لازماً زکات کی مستحق ہے، نہ نصوصِ شرعیہ سے ثابت ہے اور نہ فقہی اصولوں سے۔ قرآنِ کریم نے زکات کے مصارف کو “الفقراء والمساكين” کے عنوان سے بیان کیا ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ اصل معیار “حاجت” ہے، نہ کہ “محض بیوگی”۔
اگر کوئی بیوہ مالی طور پر مستحکم ہو، یا اس کے پاس کفایت کے اسباب موجود ہوں، تو وہ زکات کی مستحق نہیں رہتی۔ اس کے برعکس، اگر کوئی محتاج ہو تو وہ زکات کا مستحق ہوگا، خواہ وہ بیوہ ہو یا نہ ہو۔ اس سے معلوم ہوا کہ شریعت نے زکات کو ایک عارضی سہارا بنایا ہے، نہ کہ کسی طبقے کے لیے مستقل سہارا۔
وراثت: حق جو بھلا دیا گیا
بیوہ کے حقوق میں سب سے اہم حق “وراثت” ہے۔ شوہر کی وفات کے بعد اسے اس کا مقررہ حصہ دینا محض ایک قانونی تقاضا نہیں بلکہ ایک شرعی فریضہ ہے۔ افسوس کہ ہمارے معاشرے میں یہی حق اکثر پامال ہو جاتا ہے—کبھی رسم و رواج کے نام پر، کبھی خاندانی دباؤ کے تحت۔
اگر وراثت کے اس حق کو دیانت داری سے ادا کیا جائے تو بہت سی بیوائیں زکات کی محتاج ہی نہ رہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہم نے وراثت کے دروازے بند کر کے زکات کے دریچے کھول دیے ہیں، جبکہ شریعت کا منشا اس کے برعکس ہے۔
نکاح: اصل علاج، جسے نظر انداز کیا جا رہا ہے
بیوہ کے مسئلے کا سب سے مؤثر اور بنیادی حل نکاح ہے۔ یہ وہ راستہ ہے جسے اسلام نے نہ صرف جائز رکھا بلکہ اس کی حوصلہ افزائی کی۔ مگر ہمارے معاشرے میں نکاحِ بیوہ کو مختلف سماجی رکاوٹوں، غیر ضروری رسموں اور ذہنی تعصبات کی نذر کر دیا گیا ہے۔
نتیجہ یہ ہے کہ ہم بیوہ کو سہارا دینے کے نام پر اسے ایک مستقل محتاجی کے دائرے میں رکھتے ہیں، جبکہ نکاح اسے اس دائرے سے نکال کر ایک باوقار اور متوازن زندگی کی طرف لے جا سکتا ہے۔
اسلام کا مقصد محض پیٹ بھرنا نہیں، بلکہ انسان کو وقار کے ساتھ جینے کا حق دینا ہے۔ اسی لیے صدقہ کرنے میں بھی یہ تعلیم دی گئی کہ اسے اس انداز سے دیا جائے کہ لینے والے کی عزتِ نفس مجروح نہ ہو؛ حتیٰ کہ پوشیدہ طور پر دینا افضل قرار دیا گیا۔
اور جب کوئی واجب صدقہ یا زکات ادا کی جاتی ہے تو یہ تصور نہیں ہوتا کہ ہم کسی پر احسان کر رہے ہیں، بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے جس کی تعمیل کی جا رہی ہے۔ درحقیقت یہ لینے والے پر احسان نہیں، بلکہ دینے والے کے لیے ایک موقعِ خیر ہے کہ اسے اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی توفیق ملی۔
اسلام انسان کو یہ شعور دیتا ہے کہ وہ ضرورت پوری کرے، مگر عزت کے ساتھ؛ وہ کسی کا محتاج ہو تو بھی اپنی خودی نہ کھوئے، اور اگر دینے والا ہو تو اپنے اندر احسان کا غرور پیدا نہ ہونے دے۔ یہی وہ توازن ہے جس میں انسان جیتا بھی ہے اور اپنی عزتِ نفس کو بھی محفوظ رکھتا ہے—اور یہی وہ روح ہے جسے اسلام اپنے ماننے والوں میں پیدا کرنا چاہتا ہے۔
الشیخ عبد الماجد الکشمیری
2 شوال 1447
23 مارچ 2026
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
ویب گاہ کی بہتری کے لیے آپ کی قیمتی رائے ہمارے لیے اہم اور اثاثہ ہے۔