بے وفائی نا کروں | لا یدخل الجنۃ قاطع۔

0
وفا ایک بہت اہمہ اور نایاب خصوصیت ہے جو ہر رشتے کو مضبوط بناتی ہے۔ وفاداری ایک ایسی صفت ہے جو ایک شخص کو دوسرے شخص سے جوڑتی ہے اور محبت، احترام اور توجہ کا اظہار کرتی ہے۔ یہ رشتے کو برقرار رکھتی ہے اور توازن اور استحکام کا باعث بنتی ہے۔ لیکن اس دنیا میں کچھ لوگ اپنے رشتوں میں بے وفا ہوتے ہیں۔ وہ اپنے وعدوں کو نہیں نبھاتے اور دوسروں کی خوشیوں کا خیال نہیں رکھتے۔ بے وفائی سب کچھ کھو دیتی ہے، یہ دلوں کو توڑتی ہے اور دوسروں کے لئے غم و دریغا کا باعث بنتی ہے۔ بے وفائی ایک منفی صفت ہے جو اخلاقیت کے خلاف ہوتی ہے۔

 وفاداری اور اعتماد: دو اہم اصول ہیں جو ہر رشتے کی بنیاد ہوتی ہیں، لیکن جب کوئی شخص بے وفا ہوتا ہے تو یہ اصول کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور عملی زندگی میں تنگیاں پیدا کرتے ہیں۔ بے وفائی کی وجوہات مختلف ہو سکتی ہیں۔ کچھ لوگ مصلحتیں پیش کرتے ہیں اور دوسروں کی مدد کے بجائے اپنے فوائد کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔

 بے وفائی ایک اجتماعی اور روحانی مسئلہ بنتی ہے جو انسان کے دل کو تکلیف میں ڈالتا ہے۔ وفاداری اور تکیہ انسانی تعلقات کی اہمیت کو بڑھاتے ہیں، لیکن بے وفائی کے باعث، رشتے میں دھچکا پیدا ہوتا ہے۔ بے وفا افراد کئی طرح سے نقصان پہنچاتے ہیں۔ وہ اپنے احباب،اقارب یا محبوبہ سے وعدے کرتے ہیں، لیکن وقت آنے پر ان وعدوں کو توڑ دیتے ہیں۔ ایسا کرنے سے نہ صرف دوسرے شخص کا دل دُکھتا ہے بلکہ خود کو بھی انتہائی محسوس کرنے کا باعث بنتا ہے۔ بے وفا دوستی اور رشتے کو بھی اپنے پہلو میں لے لیتی ہے۔ وہ لوگ جو بے وفا ہوتے ہیں، دوسروں کو دھوکا دیتے ہیں اور ان کی اہمیت کو نظر انداز کرتے ہیں۔ انسان کے دل کو چھوڑ کر ان کی قیمت کم کر دیتے ہیں اور ان کے ساتھ روزمرہ کے حسین لمحوں کو تباہ کرتے ہیں۔ بے وفائی کی صورت میں انسان کو دوسروں سے دور رہنا پڑتا ہے کیونکہ وہ چاہتا ہے کہ اس کا دل اچھے اور وفادار لوگوں کے ساتھ ہو، جن کے ساتھ وہ احساسِ تعلق کر سکے۔ یہ ایک دل کو تکلیف دہ صورتِحال ہوتی ہے جب کوئی شخص اس پر بے وفائی کرتا ہے جس کے ساتھ اس نے بہت ساری محبت اور وفا کی توقع کی تھی۔

 بے وفائی ایک منفی صفت ہے جو معاشرتی تعلقات کو متاثر کرتی ہے۔ ہمیں ہرگز بے وفا نہیں ہونا چاہیے بلکہ ہمیں وفادار اور اعتماد کے اصولوں پر عمل کرنا چاہیے تاکہ ہم ایک دوسرے کے لئے معنی خیز اور قیمتی رشتے بنا سکیں۔

 لا یدخل الجنۃ قاطع او کما قال: لیس الواصل بالمکافی ولکن الواصل الذین اذا قطعت رحمہٗ وصلھا.



ماجد کشمیری 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

ویب گاہ کی بہتری کے لیے آپ کی قیمتی رائے ہمارے لیے اہم اور اثاثہ ہے۔

© 2023 جملہ حقوق بحق | اسلامی زندگی | محفوظ ہیں