موضوع حدیث لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
موضوع حدیث لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

فرشتوں کا حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مشاورت میں ٹاٹ کا لباس پہنا کی حقیقت و تحقیق

1




السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ 

سلسلہ تخریج الاحادیث نمبر 18


ہبط علی جبریل علیہ السلام وعلیہ طنفسۃ وہو متخلل بہا فقلت : یا جبریل ! ما نزلت الی فی مثل ہذا الزی ؟ قال : ان اللہ تعالی امر الملائکۃ ان تتخلل فی السماء کتخلل ابی بکر فی الارض

ترجمہ : آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے ) مجھ پر جبرائیل علیہ السلام اس حال میں اترے کہ وہ ٹاٹ کالباس اوڑھے ہوئے تھے ، تو میں نے کہا : ” اے جبرائیل ! تم تو پہلے بھی اس حلیہ میں نہیں اترے ؟ “ اس قسم کے لباس پہنے کی کیا خاص وجہ ہے ؟ ) تو حضرت جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا بے شک اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا ہے کہ وہ آسان میں وہ لباس پہنیں جو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے زمین میں پہنا ہوا ہے ۔


یہ حدیث بھی زبان زد عام ہے ، حالانکہ اس حدیث کو علامہ جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ ، امام این عراق رحمۃ اللہ علیہ اور دیگر محدثین نے موضوع اور من گھڑت قرار دیا ہے ۔ 

[بالتریب دیکھیں: 

الآلی المؤضوعہ ١/٢٩٣

تنزیۃ الشریہ المرفوعۃ ١/٣٤٣

الفوائد المجموعۃ ص ٤١٩ : رقم الحدیث ٦/١٠٤٣]

علامہ ابن الجوزی رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث کے بارے میں لکھتے ہیں :۔

 یہ حدیث ثابت آشنانی نے اپنی طرف سے گھڑی ہوئی ہے اور اس حدیث گھڑنے کے ساتھ ساتھ نقلِ حدیث اور معرفتِ حدیث سے بھی جاہل تھا۔

[کتاب الموضوعات ٢/٥٥]


یہاں قارئین کے سامنے یہ وضاحت ضروری ہے کہ احادیث پر علم لگانے میں علامہ ابن جوزی رحمۃ اللہ علیہ وسلم کا تشدد مشہور ہے ، تاہم اس میں اس حدیث پر ان کے علم کو اصولی اور بنیادی حیثیت سے ذکر نہیں کیا گیا بلکہ ان کا قول کی تائیدی طور پر ذکر کیا گیا ہے ۔ دیگر معتدل ائمہ حدیث و  اہل تحقیق کی رائے کوئی بنیاد بنا کر احادیث پر حکم لگایا گیا ہے۔

لہذا یہ حدیث موضوع ہے، حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کے مستند مناقب و فضائل اتنے زیادہ ہیں کہ جن میں انبیا کے علاوہ کوئی ان میں شریک نہیں۔ لہٰذا ان کے مناقب و فضائل بیان کرنے میں مستند روایات کو ہی بیان کیا جائے۔

برقی جمع و ترتیب : ماجد کشمیری 

قافلے کو دین کی دعوت دینے کے لیے سخت بارش میں جانا

0

 آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک قافلے کو دین کی دعوت دینے کے لیے جانا کی تحقیق۔

السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ 

سلسلہ تخریج الاحادیث نمبر 18




یہ روایت بھی عموماً بیان کی جاتی ہے کہ ایک مرتبہ سخت آندھی اور گرج چمک والی رات میں ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو کہیں تشریف لے جاتے ہوئے دیکھا تو اس صحابی رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ آپ اتنی سخت رات میں کہاں تشریف لے جار ہے ہیں ؟ آپ نے فرمایا کہ پہاڑ کے اس پار ایک قافلہ رات کے لیے ٹھہرا ہوا ہے ، اسے اپنی دعوت دینے کے لیے جا رہا ہوں ۔ اس صحابی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اتنی سخت رات میں جانے کی کیا ضرورت ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صبح تشریف لے جائیں ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مجھے ڈر ہے کہ کہیں صبح ہونے سے پہلے یہ قافلہ چلا جائے اس لیے ابھی جارہا ہوں۔

یہ روایت تلاش بسیار کے باوجود کہیں نہیں مل سکی۔

(چند مشہور لیکن غیر مستند احادیث: از مفتی صداقت علی)

ابوجہل کو دین اسلام کی دعوت سو بار دی گئی

0

 آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ابوجہل کو دین اسلام کی دعوت دینا کی تحقیق۔

السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ 

سلسلۃ تخریج الاحادیث نمبر ١٦



اس بارے میں دو روایتیں عموماً گردش کرتی ہیں۔

 ایک یہ کہ آپ نے ابوجہل کو ننانوے یا سو مرتبہ دین کی دعوت دی۔

 دوسری یہ کہ آپ نے ایک مرتبہ سخت بارش اور سردی میں ابوجہل کے گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا تو ابوجہل نے کہا کہ اتنی سخت بارش اور سردی میں ضرور کوئی بہت ہی حاجت مند شخص میرے گھر کادروازہ کھٹکھٹا ہے، میں ضرور اس کی حاجت پوری کروں گا ۔ چنانچہ جب اس نے دروازہ کھولا تو آپ صلی اللہ علیہ کو سامنے کھڑا تھے لیکن ابوجہل نے پھر بھی آپ کی دعوت کوٹھکرا دیا

یہ دونوں روایتیں ذخیرۂ احادیث میں بہت تلاش کے باوجود کہیں نہیں ملی، حدیث کی انسائیکلوپیڈیا میں بھی یہ حدیث نہیں مل پائے۔اور جب تک اس کی کوئی معتبر سند نہ ملے، اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتساب سے بیان کرنا موقوف رکھا جائے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ کی جانب صرف ایسا کلام و واقعہ ہی منسوب کیا جاسکتا ہے، جو معتبر سند سے ثابت ہو۔

ذیل میں زیر بحث واقعہ سے ملتی جلتی دو روایات لکھی جائیں گی،

 علامہ ابن عراق نے ”تنزیہ الشریعۃ“ میں حافظ ذہبی کے حوالے سے ٭رتن ہندی کذاب٭ کی سند سے کیا ہے، آپ لکھتے ہیں:

حدثنا رتن بن نصر بن کربال الہندی........... "قال صلی اللہ علیہ وسلم: لو ان للیہودی حاجۃ الی ابی جہل وطلب منی قضاء ہا، لترددت الی باب ابی جہل مائۃ مرۃ"[ تنزیۃ الشریہ المرفوعۃ :ص ٣٩]

       آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر کسی یہودی کا بھی حق ابو جہل پر ہو اور وہ میرے ذریعے سے طلب کرے، تو میں ابو جہل کے دروازے پر حصول حق کے لئے سو مرتبہ بھی جاؤں گا۔


        آگے علامہ ابن عراق [لابی الحسن علی بن محمد بن عراق الکنانی] مذکورہ روایت اور اس جیسی دوسری روایت کے متعلق حافظ ذھبی کا کلام لکھتے ہیں: 

"قال الذہبی: فاظن ان ہذہ الخرافات من وضع موسی ہذا الجاہل، او وضعہا لہ من اختلق ذکر رتن، وہو شیء لم یخلق، ولئن صححنا وجودہ و ظہورہ بعد سنۃ ستمائۃ، فہو اما شیطان تبدی فی صورۃ بشر، فادعی الصحبۃ وطول العمر المفرط، وافتری ہذہ الطامات، او شیخ ضال اسس لنفسہ بیتا فی جہنم بکذبہ علی النبی صلی اللہ علیہ وسلم"[ تنزیۃ الشریہ المرفوعۃ:ص، ٣٩]

حافظ ذہبی بیان فرماتے ہیں: میرا گمان یہ ہے کہ یہ خرافات اس جاہل موسی [سند میں موجود راوی] نے گھڑی ہیں، یا اس شخص نے گھٹری ہے جس نے رتن کا نام ایجاد کیا ہے، اور رتن ایسی چیز ہے جو پیدا ہی نہیں ہوئی [ اس نام کے شخص کی طرف منسوب روایات خود ساختہ ہونے کے ساتھ ساتھ، یہ رتن بھی خود ساختہ فرد ہے جس کا کوئی وجود حقیقت میں نہیں ہے] اگر اس کا وجود اور چھ سو سال کے بعد اس کا ظاہر ہونا مان لیا جائے، پھر یا تو وہ شیطان تھا جو انسانی صورت میں ظاہر ہوا، اور صحابیت ، طویل عمر کا دعوی کیا اور ان بے اصل باتوں کو گھڑا، یا وہ گمراہ سٹیایا ہوا شخص تھا جس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ بول کر اپنے لیے جہنم میں گھر بنایا۔

[سلیمان بن موسی الدمشقی الاموی پر امام بخاری کی جرح میں کفایت اللہ صاحب کا تعاقب :

امام بخاری رحمۃ اللہ نے کہا:

عندہ مناکیر (الضعفاء للبخاری: ۱۴۸)]

ان کے حوالے سے منکر روایات منقول ہیں۔

علامہ ابن ہشام نے ”السیرۃ النبویۃ" میں "محمد بن اسحاق عن عبد الملک بن عبد اللہ ثقفی" کی سند سے ایک واقعہ نقل کیا ہے: 

 ایک اراشی شخص نے ابو جہل کے ہاتھ اپنا مال فروخت کیا ابوجہل اس کا حق دینے میں ٹال مٹول کرنے لگا، وہ شخص قریش کے سرداروں کے پاس گیا اور ابو جہل کی شکایت کی، انہوں نے استہزاء آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اشارہ کیا اور کہا یہ تمہارا حق دلوائے گا، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور حق دلوانے کا کہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے لے کر ابو جہل کے دروازے پر گئے، ابو جہل باہر آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اراشی کا حق دینے کے لئے کہا، وہ فور اندر گیا اور اراشی کا حق دے دیا، سرداران قریش نے ابو جہل کو اس پر ملامت کیا، تو اس نے کہا: اللہ کی قسم !جب انہوں نے میرا دروازہ کھٹکھٹایا تو ایک رعب دار آواز آئی، جب میں باہر آیا تو سامنے ایک بڑا اونٹ کھڑا تھا، اگر میں حق دینے سے انکار کر دیتا تو وہ اونٹ مجھے کھا جاتا۔

علامہ ابن ہشام کی مذکورہ سند میں موجود راوی محمد بن اسحاق کے بارے میں حافظ ذہبی "دیوان الضعفاء“ میں لکھتے ہیں: 


”ثقۃ - ان شاء اللہ - صدوق، احتج بہ خلف من الائمۃ، ولاسیما فی المغازی..


       ان شاء اللہ ثقہ ہیں، صدوق ہیں، متقدمین ائمہ نے ان کی روایات سے استدلال کیا ہے، خاص طور پر مغاری کے باب میں ....“۔

  البتہ واضح رہے کہ بعض محدثین نے محمد بن اسحاق پر خاص جہت سے جرح بھی کی ہے.

 سند میں مذکور "عبد الملک بن عبد اللہ بن ابی سفیان ثقفی" کو حافظ ابن حبان نے '’ثقات “ میں لکھا ہے، البتہ سند منقطع ہے،


جمع و ترتیب: ماجد ابن فاروق کشمیری 

بچے کا نام محمد رکھنا کی نیت کرنے سے لڑکا پیدا ہونے کی تحقیق۔

0

 بچے کا نام محمد رکھنا کی نیت کرنے سے لڑکا پیدا ہونے کی تحقیق۔

    السلام  علیکم  ورحمۃ  وبرکاتہ

    سلسلۃ تخریج الاحادیث نمبر  ١٠

ما من مسلم دنا من زوجتہ وہو ینوی ان حبلت منہ ان یسمی محمدا الا رزقہ اللہ ولدا ذکرا۔۔۔

ترجمہ : جو مسلمان اپنی بیوی سے صحبت کرے اور یہ نیت کرے کہ اگر اس محبت سے حمل ٹہر گیا ، تو اس کا نام محمد رکھے گا ، تو اللہ تعالی اس کو نرینہ اولاد عطا فرمائیں گے ۔

اس روایت کو ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ اور علامہ محمد بن خلیل القاء قجی الطرابلسی رحمۃ اللہ علیہ  نے موضوع قرار دیا ہے.

[ بالترتیب دیکھیں:

 الموضوع  الکبیری:ص ٣١، رقم ١١٩٣ 

اللؤلؤ المرصوع : ص ١٦٤ رقم ٤٨٨]

حافظ ذہنی  رحمۃ اللہ علیہ  اس روایت کے بارے میں لکھتے ہیں :۔ 

حدیث موضوع وسندہ مظلم [ تنزیۃ الشریہ الموفوعۃ، ١/١٧٤]


 نیز علامہ جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ اس روایت کو نقل کرنے کے بعد

 لا یصح [اللالی المصنوعۃ ١/١٠٦]

 یعنی یہ حدیث  نہیں ہے.

واضح رہے  کہ ایسی کتب جن میں مصنفین نے صرف موضوع یا ضعیف روایات جمع کرنے کا التزام کیا ہو ، ان میں جب کسی حدیث پر لا یصح کا حکم لگایا جاتا ہے ، تو ہاں  صحیح سے مراد اصطلاحی صحیح نہیں ہوتا ، جو کہ حسن اور ضیف کے مقابلے میں آتا ہے ، بلکہ اس کا مطلب یہ ہوا کرتا ہے کہ اس حدیث کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ کی طرف صحیح نہیں اور یہ حدیث موضوع ہے ۔ اور عصر حاضر کے محقق عالم و محدث شیخ عبد الفتاح ابو غدہ رحمۃ اللہ علیہ لکھتے  ہیں :۔

فقولہم فی الحدیث ”لا یصح “ او " لایثبت “ او ” لم یصح او لم یثبت “ او ” او  یثبت “ او  لیس  بصحیح  او لیس الثابت"  غیر ثابت او لا یثبت فیہ شی ونحو ہذہ التعابیر ، اذا قالوہ فی کتب الضعفاء او الموضوعات فالمراد بہ ان الحدیث المذکور موضوع ، لا یتصف بشیء من الصحۃ ( مقدمۃ ، المصنوع فی معرفۃ الحدیث الموضوع ، رقم : ۲۷ ، ص : ۳۵)

 ترجمہ : محدثین کا کسی حدیث کے بارے میں یہ کہنا کہ " یہ صحیح نہیں ہے یا ثابت نہیں ہے " ( اس سے کتے جلتے الفاظ ) جب کسی حدیث کے بارے میں محدثین یہ الفاظ ضعیف یا موضوع روایات پر مشتمل کتابوں میں استعمال کریں ، تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ یہ حدیث من گھڑت ہے اور اس میں صحت کی کوئی چیز نہیں ہے ۔ 

لہذا علامہ سیوطی رحمۃ اللہ علیہ کا مندرجہ بالا حدیث پر ’ لا یصح کا حکم لگانا اس حدیث کے موضوع اور من گھڑت ہونے کی دلیل ہے ۔

جمع و ترتیب : ماجد ابن فاروق کشمیری 


عقل کے سو حصوں میں سے ننانوے حصے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیئے گئے ہیں والی روایت کی تحقیق

0

 السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ 

سلسلۃ تخریج الاحادیث نمبر: ٩

عقل کے سو حصوں میں سے ننانوے حصے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیئے گئے۔

 خلق اللہ العقل ، فقال لہ ادبر “ فادبر ثم قال لہ : اقبل فاقبل ، ثم قال : ما خلقت خلقا احب الی منک ، فاعطی اللہ محمدا تسعۃ وتسعین جزءا ، ثم قسم بین العباد جزءا واحدا۔

ترجمہ : اللہ تعالی نے عقل کی تخلیق کی ، پھر اس کو حکم دیا کہ پیچھے ہوجا ، وہ پیچھے ہوگئی ، پھر اس کو حکم دیا : اگے ہو جاؤ وہ آگے ہوگئی ، پھر اللہ تعالی نے اس میں سے ننانوے حصے حضرت محمد صلی اللہ علیہ کو عطا کیے اور ایک حصہ باقی بندوں میں تقسیم کیا ۔

اس حدیث کے بارے میں مشہور محدث ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ  لکھتے ہیں:-


 انہ کذب موضوع اتفاقا [ المصنوع فی معرفۃ الحدیث الموضوع،رقم:٤٨،ص:٦٢]


یعنی یہ حدیث بلا اتفاق موضوع اور من گھڑت ہے۔

ان کے علاوہ حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ اور ان کے شاگرد علامہ سخاوی رحمۃ اللہ علیہ نیز حافظ جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ،حافظ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ اور علامہ عجلونی جیسے بلند پایہ محدثین نے بھی اس حدیث کو موضوع قرار دیا ہے۔

[بالترتیب دیکھیں:فتح الباری :٦/۳٣٤ 

المقاصد الحسنۃ ، رقم : ۲۳۳ ، ص : ١٢٥ 

اللالی المصنوعۃ : ۱/۱۲۹ ، المنار المنیف ، رقم : ١٢٠ ، ص : ٦٦ ، کشف الخفاء ، رقم : ٧٢٣ ، ص : ۲۷۱]


یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ مندرجہ بالا ائمہ حدیث نے اس روایت کا پہلا حصہ یعنی ” لماخلق اللہ العقل “ سے لے کر ” احب الی منک نقل کر کے اس حصے کو موضوع قرار دیا ہے ، جبکہ روایت مذکورہ کا وہ حصہ جو زیادہ مشہور ہے ( یعنی عقل کے سو حصوں میں سے نانوے ھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کو دیئے گئے اور ایک حصہ باقی لوگوں پر تقسیم کیا گیا ) حدیث کے اس ٹکڑے کو مندرجہ بالا ائمہ میں سے کسی نے بھی ذکر نہیں کیا ۔ حتی کہ علامہ سیوطی نے اس روایت کے تمام طریق ذکر کیے ہیں ، لیکن کی طریق میں بھی یہ دوسرا حصہ مذکور نہیں ہے ، روایت کا یہ حصہ صرف مشہور شیعہ مصنف باقر علی نے اپنی سند کے ساتھ نقل کیا ہے  اس کی سند کو ملاحظہ فرمائیں: 

(5 - المحاسن: علی بن الحکم، عن ہشام، قال: قال ابو عبد اللہ (علیہ السلام): لما خلق اللہ العقل قال لہ اقبل فاقبل، ثم قال لہ ادبر فادبر، ثم قال: وعزتی وجلالی ما خلقت خلقا ہو احب الی منک، بک آخذ، وبک اعطی، وعلیک اثیب.

6 - المحاسن: ابی، عن عبد اللہ بن الفضل النوفلی، عن ابیہ، عن ابی عبد اللہ (علیہ السلام) قال قال رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ): خلق اللہ العقل فقال لہ ادبر فادبر، ثم قال لہ اقبل فاقبل، ثم قال: ما خلقت خلقا احب الی منک، فاعطی اللہ محمدا (صلی اللہ علیہ وآلہ) تسعۃ وتسعین جزءا، ثم قسم بین العباد جزءا واحدا.

7 - غوالی اللئالی: قال النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ): اول ما خلق اللہ نوری.

8 - وفی حدیث آخر انہ (صلی اللہ علیہ وآلہ) قال: اول ما خلق اللہ العقل.

9 - وروی بطریق آخر ان اللہ عز وجل لما خلق العقل قال لہ اقبل فاقبل، ثم قال لہ ادبر فادبر، فقال تعالی: وعزتی وجلالی ما خلقت خلقا ہو اکرم علی منک، بک اثیب وبک اعاقب، وبک آخذ وبک اعطی**  [بحار الانوار - العلامۃ المجلسی - ج ١ - الصفحۃ ٩٧] 

 تاہم روایت کا یہ حصہ بھی پہلے حصے کی طرح موضوع اور من گھڑت ہے کیوں کہ عقل کے بارے میں جتنی بھی روایات ہے  ان جملہ روایت کے بارے میں ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:- 

احادیث العقل کلہا کذب [الموضوعات الکبیری،ص:١٧]

یعنی عقل والے تمام روایات جھوٹی ہیں ۔

نیز اگر چہ باقر مجلسی نے اس ٹکڑے کو اپنی سند کے ساتھ نقل بھی کیا ہے۔لیکن باقر مجلسی کاغو پر مبنی رفض و تشیع بھی قطعاً ان سے روایت لینے کی اجازت نہیں دیتا۔چناچہ علامہ شبیر احمد عثمانی رحمۃ اللہ علیہ روافض کی روایت کے بارے میں حافظ سیوطی رحمۃ اللہ علیہ کے حوالے سے لکھتے ہیں :- 

واما البدعۃ الکبری کالرفض الکامل ، والغلو فیہ والحط عن الشیخین . ابی بکر وعمر رضی اللہ عنہما- فلا . ولا کرامۃ . لا سیما ولست استحضر الآن من ہذا الضرب رجلا صادقا ولا مامونا ، بل الکذب شعارہم والنفاق والتقیۃ دثارہم فکیف یقبل من ہذا حالہ 

[(مقدمۃ فی فتح الملہم روایت اہل المبدع والاہواء ص ١٧٢) 

فتح المعیث ج ٢،ص:٦٣ بحوالہ: المیزان ٤/١ ،ولسانہ٩/١ ]


ترجمہ: اگر کسی راوی میں بدعتِ کبریٰ پائی جائے جیسے کوئی راوی غالی رافضی اور شیعہ ہو اور حضرات شیخین بین حضرت ابوبکر صدی اور حضرت عمر فاروق کو ان کے مقام سے نچے دکھانے کی کوشش کرتا ہوں تو ان کی روایت قابل قبول نہیں ، کیونکہ ابھی تک میں نے اس قبیل کے لوگوں میں کسی کو صادق اور امین نہیں پایا جبکہ جھوٹ،منافقت اور تقیہ ان کا اوڑھنا بچھونا ہے تو ایسے شخص کی روایت کیونکر قبول کی جاسکتی ہے ؟ 

لہذا محض اس سند سے مروی اس روایت کو بیان کرنا درست نہیں بالخصوص جب کہ دیگر محدثین اس کو موضوع بھی قرار دے چکے ہیں۔


جمع و ترتیب : ماجد ابن فاروق کشمیری 

ہر نبی کو چالیس برس میں نبوت ملنے کی تحقیق : | ما من نبی نبی الا بعد الاربعین

0

 ہر نبی کو چالیس برس میں نبوت ملنے کی تحقیق


سلسلۃ تخریج الاحادیث نمبر: ٨


ما من نبی نبی الا بعد الاربعین 


[ (علی حسن علی الحبی مکتوب بہذہ المراجع فی موسوعۃ الحادیث والاثار الضعیفۃ والموضوعۃ) الاسرار المرفوعۃ  (٤٢١) ، اسنی المطالب ( ۱۲۸۹ ) ، التمییز ( ۱٥۰ ) ، الفوائد الموضوعۃ ( ۹۸ ) ، الدرر المنتشرۃ ( ۳۰۹ ) ، الشفرۃ (٨٤٤ ) ، الغماز ( ۲۰۰ ) ، الکشف الالہی ( ۸۷۰ ) ، کشف الخفاء ( ۲۲۹۸ ) ، اللؤلؤ المرصوع ( ٤٩٠) ، مختصر المقاصد (٩١١ ) ، المصنوع ( ۲۹۱ ) ، المقاصد الحسنۃ (۹۸٥ ) ، النخبۃ ( ۳۰٤)]



ترجمہ ہر نبی کو چالیس برس کے بعد نبوت ملی ہے۔

 اس حدیث کا معنی و مفہوم بھی لوگوں میں مشہور و معروف ہے کہ: ہر نبی کو چالیس برس کے بعد نبوت  عطا کی گئی ہے، حالانکہ محدثین نے اس کو موضوع اور نفس الامر کے خلاف قرار دیا ہے،

 چنانچہ علامہ سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کو موضوع قرار دیا ہے۔ [ الدرر المتثرۃ ،رقم:٣٦]

حافظ سخاوی رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث کے متعلق علامہ ابن الجوزی رحمۃ اللہ علیہ کے حوالے سے لکھتے  ہیں:

انہ موضوع ،الان عیسی علیہ السلام نبی ورفع الی السماء وہو ابن ثلاثۃ وثلاثین سنۃ، فاشتراط الاربعین فی حق الانبیاء لیس بشیء [المقاصد الحسنۃ رقم،٩٨٥،ص ٣٧٨]

ترجمہ: یہ روایت من گھڑت ہے،کیونکہ سیدنا عیسی علیہ السلام کو تینتیس برس کی عمر میں آسمان پر اٹھا لیا گیا تھا،جب کہ اس واقعے سے پہلے ان کو نبوت مل چکی تھی۔لہذا انبیاء کرام کی نبوت کے لئے چالیس برس کو شرط قرار دینا درست نہیں ۔


اس طرح ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ  نے بھی اس حدیث کو موضوع قرار دیا ہے اور اس کی وجہ یہ ذکر کی ہے کہ یہ حدیث قرآن کریم کی ان آیات کے خلاف ہے جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ سیدنا یحییٰ علیہ السلام کو بچپن ہی میں نبوت مل گئی تھی۔ [ الموضوعات الکبیری: رقم ٨٠٨،ص: ٢٠٥]

جیسے حضرت یوسف علیہ السلام، حضرت یحیی علیہ السلام، حضرت عیسی علیہ السلام .


 قال انی عبد اللہ آتانی الکتاب وجعلنی نبیا ۔

 (سورۃ مریم ) 

قال جل جلالہ : اِذ قالَتِ المَلائِکَۃُ یا مَریَمُ اِنَّ اللَّہَ یُبَشِّرُکِ بِکَلِمَۃٍ مِنہُ اسمُہُ المَسیحُ عیسَی ابنُ مَریَمَ وَجیہًا فِی الدُّنیا وَالآخِرَۃِ وَمِنَ المُقَرَّبینَ۔  وَیُکَلِّمُ النّاسَ فِی المَہدِ وَکَہلًا وَمِنَ الصّالِحینَ۔ (ال عمران٤٥-٤٦)

 قال جل شانہ :  اِذ قالَ اللَّہُ یا عیسَی ابنَ مَریَمَ اذکُر نِعمَتی عَلَیکَ وَعَلی والِدَتِکَ اِذ اَیَّدتُکَ بِروحِ القُدُسِ تُکَلِّمُ النّاسَ فِی المَہدِ وَکَہلًا (المائدہ.١١٠)


 اشارت الآیتان الی نزولہ ، وذلک بذکرہما انہ یکلم الناس بالدعوۃ الی اللہ ، وہو کہل ، وقد رفع الی السماء وہو ابن . ثلاث وثلاثین سنۃ علی الصحیح ، والکہولۃ فوق ہذہ السن الکہل : من جاوز الثلاثین وخطہ الشیب . وقیل : من جاوز الاربعین 

روی الطبری فی تفسیرہ عن ابی زید قال : کلمہم عیسی علیہ السلام فی المہد ، وسیکلمہم اذا قتل الدجال ، وہو . یومئذ کھل

فالظاہر انہ رفع وہو ابن ثلاثین او ابن ثلاث وثلاثین علی الراجح

 وہو فی السماء الثانیۃ علی الراجح والصحیح ایضا کما فی . حادثۃ الاسراء والمعراج وغیرہا من السنۃ ، واللہ اعلم 

وستجد ایضا تحدید وتصریح سن رفعہ فی سیرتہ فبکتاب قصص الانبیاء لابن کثیر وغیرہ ممن سردوا الاحادیث والآثار . فی ہذا ، واللہ اعلم


 وقال الحسن البصری : کان عمر عیسی علیہ السلام یوم رفع اربعا وثلاثین سنۃ ، وفی الحدیث : « ان اہل الجنۃ یدخلونہا . « جردا مردا مکحلین ابناء ثلاث وثلاثین 


وفی الحدیث الآخر علی میلاد عیسی وحسن یوسف . وکذا قال حماد بن سلمۃ ، عن علی بن زید ، عن سعید بن المسیب انہ .قال : رفع عیسی وہو ابن ثلاث وثلاثین سنۃ


 فاما الحدیث الذی رواہ الحاکم فی ( مستدرکہ ) ویعقوب بن سفیان الفسوی فی (تاریخہ ) عن سعید بن ابی مریم ، عن نافع بن یزید ، عن عمارۃ بن غزیۃ ، عن محمد بن عبد اللہ بن عمرو بن عثمان ان امہ فاطمۃ بنت الحسین حدثتہ : ان عائشۃ کانت  تقول:


 اخبرتنی فاطمۃ ان رسول اللہ اخبرہا : انہ لم یکن نبی کان بعدہ نبی الا عاش الذی بعدہ نصف عمر الذی کان قبلہ ، وانہ اخبرنی ان عیسی بن مریم عاش عشرین ومائۃ سنۃ ، فلا ارانی الا ذاہب علی راس ستین . ہذا لفظ الفسوی فہو حدیث .غریب.


 قال الحافظ ابن عساکر : والصحیح ان عیسی لم یبلغ ہذا العمر ، وانما اراد بہ مدۃ مقامہ فی امتہ ، کما روی سفیان بن عیینۃ ، عن عمرو بن دینار ، عن یحیی بن جعدۃ قال : قالت فاطمۃ : قال لی رسول اللہ : ان عیسی بن مریم مکث فی بنی .اسرائیل اربعین سنۃ . وہذا منقطع


 وقال جریر ، والثوری ، عن الاعمش : ان ابراہیم مکث عیسی فی قومہ اربعین عاما . ویروی عن امیر المؤمنین علی : ان عیسی علیہ السلام رفع لیلۃ الثانی والعشرین من رمضان ، .وتلک اللیلۃ فی مثلہا توفی علی بعد طعنۃ بخمسۃ ایام البدایہ والنھایہ

چالیس سال میں نبوت سے سرفراز ہونے کی بات کلی نہیں ؛ بلکہ اکثری ہے ، سیدنا حضرت عیسی ویحین علیہما السلام کے متعلق قرآن کریم میں صراحت ہے کہ انہیں بچپن میں نبوت سے سرفراز کردیا گیا تھا ، حضرت یحین علیہ السلام کے بارے میں ارشاد ہے { وآتیتاۃ الحکم صبیا } مریم : ۱۲ ]

اور حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام نے پیدائش کے بعد جب پہلا کلام کیا اس میں یہ بھی فریاما : { وجعلنی نبیا } لہذا ان دونوں حضرات کی نبوت پر کوئی اشکال نہ ہونا. چاہئے ۔

وآتیناہ الحکم صبیا ، اعلم ان فی الحکم اقوالا : الاول : انہ الحکمۃ ،والثانی : انہ العقل . والثالث : انہ النبوۃ . فان اللہ تعالی احکم عقلہ فی صباہ واوحی الیہ ، وذلک لان اللہ تعالی بعث یحیی وعیسی علیہما السلام وہما صبیان ، لا کما بعث موسی ومحمدا علیہما السلام ، وقد بلغا الاشد . ( تفسیر رازی بیروت ( ۲۱۵ ، ۱۹۲ ٫ ۱۱ وقیل : النبوۃ وعلیہ کثیر . قالوا : اوتیہا وہو ابن سبع سنین ، ولم ینبا اکثر الانبیاء علیہم السلام قبل الاربعین . ( تفسیر روح المعانی ۱۰۵ ٫ ۹ ، معارف القرآن ۶ , ۲۴ ، جلالین شریف مع الہامش ۲۵۴ ) فقط واللہ تعالی اعلم.

 

جمع و ترتیب : ماجد ابن فاروق کشمیری


یونیورسٹی آف کشمیر کی درسی کتاب میں موضوع حدیث: چلیں کریں اسے اجتناب

0

السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ۔ کشمیر یونی ورسٹی : اسلامک اسٹیڈیز (6th semester) کی نصابی کتاب میں درج کی گئی ایک حدیث (روایت) ، جو نظر سے گزری تو معلوم ہوا کہ یہ حدیث موضوع ہے ۔۔لہذا اس کو بیان کرنے سے اجتناب و پرہیز کریں۔ اور مستقل میں اس موضوع سے متعلق مستند و صحیح احادیث کا انتخاب کیا جائیں۔ چوں کہ درس نظامی کا مسئلہ، اس میں زیادہ مستند ہونا چاہیے اور ضروری بھی، طلبہ اس کو ازبر کرتے ہیں، پھر اشاعت تو کرنی ہے، تو ہوگی اس کی جو موضوع حدیث ہے۔ ان جیسے غیر مستند روایات کو بیان کرنے کی سزا حدیثِ نبوی میں: اپنا گھر جہنم میں بنوانے کے جیسا ہے۔ جو کہ کوئی نہ چاہیں گا۔ 

إن کذبا علی لیس ککذب علی أحد من کذب علی متعمدا فلیتبوَّأ مقعَدہ من النار (بخاری شریف: ۱۲۰۹)




أريد أن أعرف صحة هذا الحديث والذي يستدل به كثير من المؤلفين اليوم لإثبات العلم الحديث: عن ابن عباس أن النبي صلى الله عليه وسلم سُئل: أين تغرب الشمس ومن أين تطلع؟ فأجاب النبي صلى الله عليه وسلم " إنها في دوران دائم، لا تتوقف ولا تختفي. فإذا غربت في مكان أشرقت في مكان أخر ، وإذا أشرقت في مكان غابت في مكان آخر وهكذا... " حتى إن أناساً في مكان ما يقولون: إنها للتو أشرقت ويقول آخرون في مكان آخر في نفس الوقت إنها للتو غربت. رواه أبو إسحاق الهمداني في مسنده.

الجواب

الحمد لله.


هذا الحديث لا يعرف من كلام النبي صلى الله عليه وسلم ، لا بسند صحيح ولا ضعيف ، ولا يشبه كلام النبوة ، بل ولا السلف السابقين .


قال ابن القيم رحمه الله :


" الأحاديث الموضوعة عليها ظلمة وركاكة ومجازفات باردة تنادي على وضعها واختلاقها على رسول الله صلى الله عليه وسلم " انتهى .


"المنار المنيف" (ص 50)


 وقد ذكر رحمه الله أمورا كلية يعرف بها كون الحديث موضوعا ، فذكر منها مناقضة الحديث لما جاءت به السنة الصريحة ، ومنها : أن يكون كلامه لا يشبه كلام الأنبياء فضلا عن كلام رسول الله صلى الله عليه وسلم الذي هو وحي يوحى ، فيكون الحديث مما لا يشبه الوحي بل لا يشبه كلام الصحابة .


راجع : "المنار المنيف" (ص 56- 62)


وهذا الحديث من ذاك عند التأمل ، وهو بقول الفلكيين والجغرافيين أشبه .


ثم إن قوله فيه " إنها للتو أشرقت .." يدل على أنه وضع متأخراً ، فلا يعرف في مشهور اللغة ، ولا فصيح الكلام استعمال " للتو " في هذا السياق ، بل هي أشبه بكلام العوام .


قال الزبيدي رحمه الله : " والتوة – بهاء - : الساعة من الزمان ، يقال مضت تَوّة من الليل والنهار ، أي : ساعة ..


ومنه قول العامة : توّةَ قام ، أي : الساعة .


ثم إنه لا يعرف أحد من العلماء الذين صنفوا كتباً في السنة ممن يسمى : " أبو إسحاق الهمداني".


والله تعالى أعلم


ماجد کشمیری 

© 2023 جملہ حقوق بحق | اسلامی زندگی | محفوظ ہیں