غیر مقلد اور سنی کے درمیان گفتگو| اہل حدیث کی تحریفات| فاتحہ خلف الامام کا مسئلہ

0

 سلسلہ رد غیر مقلدیت نمبر ۲۰

سنی: ۔۔۔نماز نہیں ہوگی ۔ اس کی دلیل میں صحابی رسول حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی روایت ذکر کی ہے۔کہ من صلی رکعۃ لم یقرأ فیھابامّ القرآن فلم یصل الا أن یکون وراء الامام جس نے ایک رکعت میں بھی سورۃ فاتحہ نہیں پڑھی اس کی نماز نہیں ہوگی إلا یہ کہ وہ امام کے پیچھے ہو ۔( امام ترمذی نے حدیث نمبر ۳۱۳ میں اسے حسن صحیح کہا ہے ) امام بخاری کے استاذ امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کے ارشاد کا یہ مفہوم وہ ہے جو ایک جلیل القدر صحابی نے سمجھا ہے کہ لا صلاۃ لمن یقرأ بفاتحۃ الکتاب والی حدیث اکیلے نمازی کے بارے میں ہے۔


ثانیا: حدیث کے بارے میں آپ لوگوں کی معلومات بڑی سطحی ہوتی ہی ۔ یہی وجہ ہے کہ آپ ایک آدھ حدیث کا ترجمہ پڑھ کر اس کی صحیح مراد تعین کیے بغیر اپنے فہم و ذوق کے مطابق اس پر عمل کرنے لگتے ہو اور پھر اس خوش فہمی کا شکار ہو جاتے ہو کہ ہم حدیث پرعمل پیرا ہیں اور اہل حدیث ہیں ۔ آپ کے لیے شاید نیا انکشاف ہو کہ صحیح مسلم کی حدیث نمبر ۸۷۲ میں لا صلاة لمن لم یقر أیام القرآن کے ساتھ فصاعداً کا لفظ بھی وارد ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ سورۃ فاتحہ کے ساتھ پورے قرآن میں سے بھی کچھ پڑھے بغیر نمازنہیں ہوتی ۔ تعجب ہے کہ غیر مقلدین سورۃ فاتحہ پڑھنے کو لازمی سمجھتے ہیں اور بقیہ قرآن کو لازمی نہیں قرار دیتے آخر صحیح مسلم کی ایک ہی حدیث میں یہ تفریق کیوں ہے؟ آدھی حدیث کا اقرار اور آدھی حدیث کا انکار ۔ آخر کیوں ؟ بلکہ ان کو دوسرے حصہ فصاعداً سے ایسی چڑ ہے کہ وہ اسے اپنے عوام سے چھپا کر رکھتے ہیں انہیں لا صلاۃ لمن یقرأ بفاتحۃ الکتاب تو یاد کراتے ہیں لیکن فصاعداً یاد نہیں کراتے ۔ چونکہ اس ایک لفظ سے ان کے مسلک کی عمارت دھڑام سے نیچے آ گرتی ہے ۔ جبکہ قرآن کریم کی تمام آیتیں اور سورتیں فصاعداً کے مفہوم میں داخل ہیں۔ گویا تم نے صرف سورۃ فاتحہ پڑھ کر حدیث پر عمل کر لیا ، اور فصاعداً کی رو سے بقیہ پورا قرآن چھوڑ دینے سے کچھ فرق نہیں پڑا۔ واضح رہے کہ دیگر مختلف احادیث میں سورۃ فاتحہ کے ساتھ فصاعداً کے علاوہ بعض روایات میں فَمَازَادَ اور وماتبشر بھی آیا ہے ملاحظہ ہو: لاصلاة الا بقراءۃ فاتحہ الکتاب فمازاد (ابوداؤد حدیث ۸۱۸) یعنی سورۃ فاتحہ اور کچھ زیادہ یا جو یاد ہو۔


غیر مقلد: حدیث پر آپ کی نظر بڑی گہری اور وسیع ہے ۔ واقعی اس طرف ہماری توجہ نہیں دلائی گئی ، اور ہمارے سیالکوٹی صاحب نے تو صحیح مسلم کی اس روایت کا حوالہ تک نہیں دیا جس میں فصاعداً کا لفظ بھی ہے۔


سنی: میرے پیارے میرا دل خون کے آنسو روتا ہے جب میں تمہارے علمأ کے تعصب کو دیکھتا ہوں کہ وہ اپنے کمزور مسلک کو عوام کی نظروں سے چھپانے کے لیے حدیث کے مفہوم کو بدل دیتے ہیں لیکن خود نہیں بدلتے ۔ ملاحظہ ہو:

تحریف مفہوم کا نمونہ: آپ کے شیخ الحدیث مولانا اسماعیل سلفی اپنی کتاب ( جس کا نام انہوں نے رسول اکرم ﷺ کی نماز رکھا ہے ) میں لکھتے ہیں عن ابی سعید أمرنا أن نقرأ بفاتحۃ الکتاب وماتیسر ابوسعید فرماتے ہیں کہ فاتحہ اور کچھ زیادہ پڑھنے کا ہمیں حکم دیا گیا، یعنی اگر فاتحہ الکتاب سے کچھ زیادہ بھی پڑھا جائے تو کوئی حرج نہیں (ص ۲۸) 

  محترم دل پر ہاتھ رکھ کر سوچیئے کہ یعنی کے بعد حدیث کا جو مفہوم بیان کیا گیا ہے کیا الفاظ حدیث اس کی اجازت دیتے ہیں ؟ سورۃ فاتحہ اور کچھ زیادہ کا حکم ایک اور مفہوم دو؟!!

تحریف مفہوم کا دوسرا نمونہ: آپ کے مشہور مصنف محمد اقبال کیلانی صاحب ۔۔۔۔۔۔جاری 

اگلا صفحہ

نیٹ ورک مارکیٹنگ کے متعلق چند سوالات کے جوابات| نیٹ ورک مارکیٹنگ حرام یا حلال

0

نیٹ ورک مارکیٹنگ کے متعلق چند سوالات کے جوابات۔

سوال ۱: نیٹ ورک مارکیٹنگ حلال ہے یا حرام؟


جواب: نیٹ ورک مارکیٹنگ اپنے اندر منفی اور مضر اثرات کی وجہ سے حرام قرار دیا گیا ہے نیز اس میں استحصال سے پیسہ آ جاتا ہے۔ قرآن میں واضح ہیں ولا تأکلوا اموالکم بینکم بالباطل: یعنی استحصال سے آپس میں مال مت کھاؤ۔ 


سوال۲: نیٹ ورک مارکیٹنگ کیسے حلال بن (ہو) سکتی ہے۔


جواب: اگر آپ نیٹ ورک مارکیٹنگ کے طرزِ عمل سے واقف ہوں گے۔اس میں مصنوعات (پروڈکٹس) کی قیمت حد سے زیادہ ہوتی ہیں۔ جس کے باعث کمپنی کو بہت سارا استحصال کردہ پیسہ بچ جاتا ہے۔ جس کا قلیل حصہ یہ اپنے ڈسٹری بیوٹرس (دالالوں) میں ناجائز طریقے سے تقسیم کرتے ہے۔ اس لئے مصنوعات کی قیمت زیادہ نہ ہو گئی اور لوگوں سے پیسے سے پیسہ لینا نہ پایا جائے تو قلیل رقم بھی تقسیم نہیں ہوگی۔ جس کے باعث لوگ نہیں جھوڑیں گے ظاہرہے کمپنی بند، نیٹ ورک مارکیٹنگ کاروبار نا مکمل بیلنس ماڈل ہیں۔ جس کی وجہ سے اس کی کوئی بھی شکل حلال نہیں ہو سکتی۔ واللہ اعلم۔


سوال ۳: کن وجوہات سے نیٹ ورک مارکیٹنگ حرام ہے۔

جواب: جن وجوہ سے کاروبار حرام کے دائرے میں داخل ہوتا ہے اُن سے نیٹ ورک مارکیٹنگ لبریز ہے۔ جیسے استحصال سے پیسہ آ جانا، پیسے سے پیسہ سرقہ کرنا، اور ان گنت  وجوہ ہے جن کی وجہ سے یہ حرام میں داخل ہوتی ہے۔ مزید معلومات کے لیے بندے کے مضامین کا مطالعہ کریں۔ 

نیٹ ورک مارکیٹنگ حرام کیوں ہے

نیٹ ورک مارکیٹنگ اور عظیم شخصیات اور دارالافتاؤں کے فتویٰ


Is Network Marketing halah in Islam

غیر مقلد اور سنی کے درمیان گفتگو| فاتحہ خلف الامام| رد غیر مقلدیت| غیر مقلد گمراہ کیوں

0

رد غیر مقلدیت نمبر ۱۹

غیر مقلد: عجیب معاملہ ہے ہمارے سیالکوٹی صاحب نے اپنی صلاۃ الرسول ؐ میں اس حدیث کو نہیں لکھا، نہ ہی ہمارے علما نے بھی اس حدیث کو اپنی تقریر میں بیان کیا۔


البتہ ہمارے علما نے اس حدیث کا مفہوم کچھ اور طرح بیان کیا ہے صلاۃ الرسول  ؐ کے حاشیہ میں لکھا ہے کہ وإذا قرأ فانصتوا سے مراد سورۃ فاتحہ کے بعد والی قرأت ہے ۔ (تسہیل الوصول ۱۷۵)

 نیز اقبال کیلانی نے کیا خوب ترجمہ کیا ہے ”اور جب امام(سورہ فاتحہ کے بعد ) قرآن پڑھے تو تم خاموش رہو“ ( کتاب الصلاۃ ص:۸۰)


نیز ہماری تفسیر میں اسکا یہ مطلب لکھا ہے:’’جہری نمازوں میں مقتدی سورۃ فاتحہ کے علاوہ باقی قراءت خاموشی سے سنیں‘‘ ۔ ( احسن البیان ص:۲)


سنی: ذرہ حدیث کے الفاظ دیکھیں کہ کیا وہ اس مفہوم اور کیلانی بریکٹ یا صحافی مطلب کے متحمل میں یانہیں؟ وإذا قرأ فانصتوا کے بعد ہے وإذا قال ولا الضالین فقولوا   آمین‘‘ جب امام ولا الضالین کہے تو تم آمین کہو گویا جس قرات کے وقت خاموش رہنے کا حکم ہے وہ ولاالضالین سے پہلے شروع ہو چکی ہے ۔الغرض حدیث کے مفہوم میں ولا الضالین سے پہلے والی قراءت کے وقت بھی خاموشی کا حکم ہے۔ جبکہ تمھارے مندرجہ بالا تینوں مصنفوں کے مفہوم کیمطابق ولا الضالین کے بعد والی قراءت کے وقت خاموشی کا حکم ہے ۔ اب تم حدیث والا مفہوم مانو گے یا اپنے مصنفوں والا مفہوم؟


غیر مقلد : ہمارے شیخ الحدیث جانباز صاحب اور شیخ الحدیث اسماعیل صاحب نے اس حدیث کا ایک اور جواب لکھا ہے کہ حدیث وإذا قرأ فأنصتوا کا بھی یہی مطلب ہے کہ جب امام پڑھ رہا ہو تو مقتدی کو بلند آواز سے نہیں پڑھنا چاہیے۔ ( صلاۃ المصطفی ﷺ ۱۶۲) نیز ( رسول اکرم   ؐ کی نماز صفحہ: ۷۰ ) پر بھی یونہی لکھا ہے ۔


سنی: مندرجہ بالا دونوں حضرات چونکہ شیخ الحدیث میں لہذا انہیں اچھی طرح پتہ تھا کہ یہ حدیث سابقہ تین مصنفوں والے مفہوم کی متحمل نہیں لہذا انہوں نے اس مفہوم کو نظر انداز کر کے ایک اور ہوم بیان کیا لیکن کہیں حدیث شریف کا لفظ واذا قرأ فأنصتوا  اس معنی و مطلب کا متحمل بیان کیا، لیکن کیا حدیث شریف کا واذاقرا فانصتوا کا یہ یعنی دکھا دو کہ جب امام قرات شروع کرے تو تم بلند آواز سے نہ پڑھو۔


سنی: تم عجیب قوم ہو کبھی تو صحیح مسلم کی حدیث کو ضعیف قرار دیتے ہو۔ یہ تیر نہ چلے تو اپنے پاس سے اضافہ کرتے ہو کہ اس سے مراد فاتحہ کے بعد والی قرأت ہے اور کبھی فأنصتوا ‘‘ کا معنی ہی الٹ دیتے ہو۔ یوں تم تیر تکےّ چلاتے ہو۔

اس لیے ہم آپ لوگوں کو نصیحت کرتے ہیں کہ حکیم سیالکوٹی اور ان جیسے دوسرے مصنفین کی تحریر میں پڑھ کر اور کم علم ومتعصب واعظوں کی تقریر میں سن کر اتنے بڑے بڑے مسلکی فیصلہ نہ کیا کرو۔ اور لوگوں پر فتویٰ جاری نہ کیا کرو۔ یہ قیامت کے دن تمہیں کوئی نفع نہیں پہنچا سکیں گے۔


غیرمقلد: اچھا تو ایک اور حدیث ہے: لاصلاۃ لمن لم یقرأ بفاتحۃ الکتاب مولانا صلاح الدین یوسف مدّظلہ لکھتے ہیں: اِس حدیث میں مَن کا لفظ عام ہے جو ہر نمازی کو شامل ہے، (در) ہو یا امام، یا امام کے پیچھے مقتدی سرّی نماز ہو یا جہری ،فرش نماز ہو یا نفل ، ہر نمازی کے لئے سورۃ فاتحہ پڑھنا ضروری ہے ۔ (احسن البیان ص ۱)


سنی: آپنے موصوف مدّظلہ کا دعویٰ تو نقل کر دیا، انہوں نے اس دعوے پر کوئی دلیل دی ہے کہ من کا لفظ عام ہے .... ؟


غیر مقلد: یقیناً دلیل دی ہوگی چونکہ یہ تو ہماری بڑی معتبر تفسیر ہے ، لیکن یہاں تو اس دعوے کی کوئی دلیل نہیں ہے ۔ البتہ چونکہ وہ مفسر میں اسلئے وہ خود بھی تو دلیل ہیں۔


سنی: تم عجیب قوم ہوا ایک طرف تو صحابہ کرام  ؓ  کو دلیل نہیں مانتے اور دوسری طرف پندرھویں صدی کے موصوف مدّظلہ کو اور انکے قول کو دلیل مان لیتے ہو؟


غیر مقلد: چلیں آپ دلیل سے بتا دیں کہ یہ حدیث کس کے بارے میں ہے؟

سنی: ملاحظہ ہو۔اوّلاً:

محدثانہ مفہوم : مشہور محدّث کے امام تر ندی نے اپنی سنن ترمذی میں بخاری کے استاذ اور مشہور محدث امام احمد رحمہ اللہ نقل کیا ہے کہ لاصلاۃ لمن لم یقرأ بفاتحۃ الکتاب کا مفہوم یہ ہے کہ جب کوئی شخص اکیلا نمار پڑھ رہا ہو تو سورۃ فاتحہ پڑھے بغیر اس کی نماز نہیں ہوگی۔۔۔۔۔جاری 

اگلا صفحہ

غیر مقلد اور سنی کے درمیان گفتگو| فاتحہ خلف الامام| رد غیر مقلدیت|

0

سلسلہ رد غیر مقلدیت نمبر ۱۸


 سنی: ۔۔۔۔آئے میں آپ کو دلیل پیش کرنے کا ڈھنگ سکھاؤں ۔ ہمارا موقف ہے کہ امام کے پیچھے مقتدی چپ رہے ۔ اس کی دلیل ملاحظہ ہو: حضرت جریر رضی اللہ عنہ کی روایت بطریق حضرت قتادہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ جب تم نماز پڑھنے لگو تو صفوں کو سیدھا کر لیا کرو پھر تم میں سے کوئی ایک شخص امامت کرائے ، جب امام تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو، جب وہ قرآن پڑھنے لگے تو تم خاموش ہو جاؤ اور جب وہ غیر المغضوب علیہم ولاالضالین کہہ لے تو تم آمین کہو۔ (صحیح مسلم، التشھد فی الصلاۃ ،حدیث ۴۰۴ ) ۔

آپ نے ملاحظہ کیا:


(۱) اس میں نماز با جماعت کا ذکر ہے۔


(۲) امام اور مقتدی کی ذمہ داریاں متعین کر دی گئیں ۔ جس چیز میں امام اور مقتدی شریک ہیں اس کی وضاحت کر دی گئی کہ امام تکبیر کہے تو تم مقتدی بھی تکبیر کہو۔

(۳) جس کام میں امام اور مقتدی شریک نہیں بلکہ ہر ایک کی علیحدہ ڈیوٹی ہے اس کا بھی تعین کر دیا گیا ۔


(۴) کہ جب امام پڑھے تو تم مقتدی چپ رہو ، اور جب امام ولا الضالین کہے تو تم مقتدی آمین کہو ، اور جب امام تکبیر کہہ کر رکوع کرے تو تم مقتدی بھی تکبیر کہہ کر رکوع کرو۔

(۵) آ گے پھر ڈیوٹی مختلف ہے کہ جب امام سمع اللہ لمن حمدہ کہے تو تم مقتدی ربنا لک الحمد کہو۔

(۲) آ گے پھر امام اور مقتدی شریک ہیں، تو حکم ہوا کہ جب امام تکبیر کہہ کر سجدہ کرے تو تم مقتدی بھی تکبیر کہہ کر سجدہ کرو۔


الغرض آپ نے دیکھا کہ ہم اپنے دعوے کے مطابق دلیل پیش کرتے ہیں جس میں باجماعت نماز اور امام و مقتدی کا واضح ذکر ہے ۔ جس میں ہمارے پیارے نبی ﷺ کا یہ ارشاد گرامی ہمارے سر آنکھوں پر ہے کہ جب امام قراءت کرے تو تم چپ رہو ۔ جبکہ تم کہتے ہو کہ امام پڑھے تو مقتدی بھی پڑھے۔ اب میں اپنے پیارے نبی ﷺ کی بات مانوں یا تمہاری؟ بہر حال اب تم بھی صحیح بخاری ومسلم سے ایسی واضح دلیل پیش کرو جس میں ارشاد نبوی ہو کہ امام فاتحہ پڑھے تو تم مقتدی بھی پڑھو۔

غیر مقلد: خوشی سے پھولے نہیں سماتے ہو جسے بہت بڑا تیر مارا ہے ۔ پہلے بھی معلوم کر لیتے کہ یہ حدیث صحیح بھی ہے کہ نہیں۔ دیکھئے یہ ہماری نمائند تفسیر احسن البیان‘‘میں سورۃ فاتحہ کی تفسیر میں اسی روایت واذا قرأ فانصتوا کے بعد بریکٹ میں لکھا ہے:

بشرط صحت‘‘ (ص :۲) اگر یہ حدیث صحیح ہوتی تو ہمارے صحافی مفسر کو بشرط صحت کہنے کی کیا ضرورت تھی؟ نیز نواب نور الحسن صاحب نے بھی اس کی سند میں کمزوری کی وجہ سے اس حدیث کو ناقابل استدلال قرار دیا ہے ( عرف الجادی ۳۸ ) ہماری کتاب امتیازی مسائل میں بھی اس کو ضعیف قرار دیا گیا ہے(۳۹) پھر ہمارے مشہور عالم مولانا جئے پوری نے حقیقۃ الفقہ‘‘ میں اسی حدیث کی طرف متعین اشارہ کر کے لکھا ہے کہ اذا تکبر الامام فکبروا والی حدیث ضعیف ہے ( حقیقت الفقہ ص ۲۵۱ ) بلکہ یہاں تک لکھا ہے کہ امام کے پیچھے فاتحہ نہ پڑھنے کی احادیث ضعیف ہیں ۔(ص ۲۵۱)۔


سنی: ویسے آپ دل پر ہاتھ رکھ کر بتائے کہ یہ حدیث ،مقتدی کے خاموش رہنے اور فاتحہ نہ پڑھنے پر بالکل واضح ہے کہ نہیں؟


غیر مقلد: ہے تو بالکل واضح لیکن اصل مسئلہ تو اس حدیث کے صحیح ہونے کا ہے،آخر ہمارے علماء کا بھی بڑا گہرا مطالعہ ہے، انہوں نے اسی ضعف کی وجہ سے اس حدیث کو نظر انداز کیا ہے ۔


سنی: آپ کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ یہ حدیث میں مسلم کی ہے۔

غیر مقلد: کیا کہا؟ صحیح مسلم میں؟ یا تم نیند میں ہو کہ ہم سور ہے ہیں؟


سنی: نہ ہم نیند میں ہیں نہ تم سور ہے ہو ۔ یہ لیجے میں مسلم حدیث نمبر ۴۰۴


غیر مقلد : ہاں بھئی حدیث تو صحیح مسلم میں موجود ہے ۔ پھر بھی ہمارے علماء نے اسے ( بشرط صحت ) کیوں لکھا ؟ اور ضعیف کیوں قرار دیا؟

سنی: یہ تو آپ اپنے علماء سے پوچھیں کہ وہ اہل حدیث کہلا کر لوگوں کو باور کراتے ہیں کہ ہم حدیث پر عمل کرتے ہیں لیکن جب اس صحیح حدیث سے ان کے مسلکی موقف پر واضح زد پڑی تو تمہارے علما نے ہم مسلک عام لوگوں پر اپنی گرفت قائم رکھنے کے لئے انہیں تأثر دیا کہ یہ ضعیف ہے ۔ صبح شام صحیح بخاری و صحیح مسلم کا راگ الاپنے والوں کا یہ طرز عمل انتہائی افسوناک ہے۔

غیر مقلد: عجیب معاملہ ہمارے سیالکوٹی صاحب نے اپنی صلوٰۃ الرسول ؐ میں اس حدیث کو نہیں لکھا، نہ ہی ہمارے علماء نے کبھی اس حدیث کو اپنی تقریر میں بیان کیا۔۔۔۔۔۔جاری 

اگلا صفحہ

رد غیر مقلدیت|غیر مقلد گمراہ کیوں| فاتحہ خلف الامام کا مسئلہ

0

ردِ غیر مقلدیت نمبر ۱۷

 بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

ابتدائی

اہل حدیث حضرات امام کے پیچھے فاتحہ پڑھنے کی بابت اپنے سخت موقف کا اظہاربڑی جرات سے کرتے ہیں لیکن جب ان سے انکے موقف کے مطابق دلیل کا مطالبہ کیا جاتا ہے تو نقشہ بدلنے لگتا ہے، اور سائے سمٹنے لگتے ہیں ۔ نیز جب ان سے سوال کیا جا تا ہے کہ مقتدی فاتحہ کب پڑھے؟ امام سے پہلے ، امام کے ساتھ ، امام کے بعد یا فاتحہ کے وقفوں میں تو کوئی تسلی بخش حتمی جواب نہیں ملتا ۔


بہر حال آئندہ صفحات میں اس مسئلہ کے بعض اہم پہلوؤں کو اجاگر کر نے کی کوشش کی گئی ہے تا کہ واضح ہو سکے کہ ان حضرات کے اپنے دامن میں کیا کچھ ہے؟


اہل حدیث حضرات کے ہاں اونچی آمین کا جو تصور ہے اسکی تصدیق دلائل سے ہوتی ہے یا نہیں ؟ نیز آمین کے کچھ اہم پہلو جو اہل حدیث عوام کی نظروں سے اوجھل رکھے گئے ہیں انہیں واضح کر نے کی کوشش کی گئی ہے ۔


اہل حدیث حضرات کے ہاں مقتدی بعض آیات کا جواب دیتے ہیں اسکی دلیل دل کوا پیل کرتی ہے یا نہیں ؟ نیز خود علماء اہل حدیث نے اس موقف کی کمزوری اور بے ثبوتی پر جو آخری تحقیق پیش کی ہے اسکی ایک جھلک آئندہ تحریر میں پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ اگر اُنکی تمام مساجد میں اس کے مطابق عمل شروع ہو گیا تو ٹھیک ہے ورنہ واضح ہو جائے گا کہ وہ دلائل کی دنیا سے بے نیاز ایسے موقف سے چمٹے ہوئے ہیں جو حد یث سے ثابت نہیں ہے ۔


اور یہ سب کچھ انکی اپنی ہی کتابوں اور تحریروں کی روشنی میں۔

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم


فاتحہ خلف الامام


غیر مقلد : یہ ہے نماز کا معرکۃ الآراء مسئلہ،اب آپ کو پتہ چلے گا کہ ایک طرف دلائل و احادیث کے انبار ہیں اور دوسری طرف تمہارے امام کا قول ہے ۔ ایک طرف بخاری ومسلم ہے اور دوسری طرف ضعیف حدیثیں ہیں ۔


سنی: محترم جب آپ اپنی نماز کی بسم اللہ ہی دلائل سے ثابت نہیں کر سکے تو آ گے کیا کر یں گے؟ تو فرمایئے سورۃ فاتحہ کی بابت آپ کا کیا موقف ہے؟


غیر مقلد: ہما را دعوی ہے کہ سرّی اور جہری ہر نماز میں امام کے پیچھے مقتدی کے لیے سورۃ فاتحہ پڑھنا فرض اور رکن ہے ۔ اس کے بغیر نماز نہیں ہوتی ۔ ہم اس مسئلہ کو قرآت فاتحہ خلف الامام کا عنوان دیتے ہیں۔ دیکھئے : (فتاوی ستاریہ ۱۲۶/۴)۔ ( صلاۃ المصطفیٰ ص۱۶۱) ۔ ( رسول اکرم ﷺ کی نمازی ۲۷ ) ۔ ( خاتمہ اختلاف ص ۳۴)؟

 سنی: آپ اپنے اس دعوے کے مطابق کوئی دلیل پیش کر یں گے ۔؟ غیر مقلد : جی ہاں دلائل کا انبار لگا دوں گا ۔ دیکھیئے صحیح بخاری میں ہے لاصلوۃ لمن لم یقرأ بفاتحۃ الکتاب ، جس شخص نے سورۃ فاتحہ نہیں پڑھی اسکی نماز نہیں۔


سنی: جناب آپ دلائل کے انبار نہ لگائے بس اپنے دعوے کے ثبوت میں صرف ایک حدیث صحیح بخاری ومسلم سے پیش کر دیجئے ۔ چونکہ آپ کے دعوے میں خلف الامام اور با جماعت نماز کا تذکرہ ہے جبکہ مندرجہ بالا دلیل میں باجماعت کا تذکرہ نہیں ۔ آپ کے دعوے میں ہے کہ باجماعت نماز میں مقتدی بھی سورۃ فاتحہ پڑھے جبکہ اس حدیث میں با جماعت نماز اور مقتدی کی صراحت نہیں ۔ آئے میں آپ کو دلیل پیش کرنے کا ڈھنگ سکھاؤں ۔ ہمارا موقف ہے کہ امام کے پیچھے مقتدی جب رہے ۔اس کی دلیل ملاحظہ ہو: حضرت جریر رضی اللہ عنہ کی روایت بطریق۔۔۔۔۔۔جاری 


اگلا صفحہ

ماں کی لازوال محبت| والدین کے حقوق |ماں کی اہمیت

0


ماں: کا لفظ جب تلفظ و تصور میں آ جاتا ہے، تو محبت کی لہریں، آپ کے ذہن کو لبریز کرتی ہے۔ ماں انسان کی شکل میں وہ فرشتہ ہے۔ جو انسان کیلئے عیاں ہے۔ لبرل ازم (مغربیت) کو چھوڑ کر باقیہ تمام مذاہب و مکاتبِ فکر میں ماں کی عظمت کا اعتراف کیا ہے۔ ماں اُن عظیم نعمتوں میں سے ہیں۔ جس کا احترام کر کے، جنت کی مفتاح حاصل کر سکتے ہیں۔ ماں وہ شخصیت ہے، جو اپنا دورِ زرین  کو بچے کی تربیت و پرورش پر نچھاور کرتی ہیں۔ اِن کا رتبہ اتنا سرفراز ہیں، خود مالکِ کائنات نے اس کا اعتراف کروایا ہیں۔ جیسے اللہ تبارک و تعالی کا ارشاد ہے ۔ وَقَضَی رَبُّکَ أَلاَّ تَعْبُدُواْ إِلاَّ إِیَّاہُ وَبِالْوَالِدَیْْنِ إِحْسَاناً إِمَّا یَبْلُغَنَّ عِندَکَ الْکِبَرَ أَحَدُہُمَا أَوْ کِلاَہُمَا فَلاَ تَقُل لَّہُمَا أُفٍّ وَلاَ تَنْہَرْہُمَا وَقُل لَّہُمَا قَوْلاً کَرِیْما وَاخْفِضْ لَہُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَۃ وَقُل رَّبِّ ارْحَمْہُمَا کَمَا رَبَّیَانِیْ صَغِیْراً رَّبُّکُمْ أَعْلَمُ بِمَا فِیْ نُفُوسِکُمْ إِن تَکُونُواْ صَالِحِیْنَ فَانَّہُ کَانَ لِلأَوَّابِیْنَ غَفُوراً․


ترجمہ : اور تیرے رب نے یہ حکم دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت مت کرو اور اپنے ماں باپ کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آو ، اگر وہ یعنی ماں، باپ تیری زندگی میں بڑھاپے کو پہنچ جائیں ، چاہے ان میں ایک پہنچے یا دونوں (اور ان کی کوئی بات تجھے ناگوار گزرے تو ) ان سے کبھی ”ہوں “ بھی مت کہنا اور نہ انھیں جھڑکنا اور ان سے خوب ادب سے بات کر نا ، اور ان کے سامنے شفقت سے انکساری کے ساتھ جھکے رہنا اور یوں دعا کر تے رہنا :اے ہمارے پروردگار ! تو ان پر رحمت فرما، جیسا کہ انھوں نے بچپن میں مجھے پالا ہے(صرف ظاہر داری نہیں، دل سے ان کا احترام کرنا ) تمھارا رب تمھارے دل کی بات خوب جانتا ہے اور اگر تم سعادت مند ہو تو وہ توبہ کرنے والے کی خطائیں کثرت سے معاف کرنے والا ہے۔

قرآن مجید کی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت یہ ہیں کہ جب اللہ تعالا حکمِ عبادت کے ساتھ کسی اور امر کی تاکید کرتا ہے، تو مؤیَد حکم کسی توثیق کا مستمد نہیں رہتا ہے۔ اس کا اندازہ آپ بلا آیات سے لگا سکتے ہیں کہ اللہ تعالٰی نے اپنی عبادت کے حکم کے بعد صراحت کے ساتھ نقشہ کھینچا ہے۔

ماں کی تکلیفات: ہمارے حروف کتنے ہی وسیع و بسیط کیوں نہ ہو ہم ماں کے اٹھائے ہوئے تکلیفات کا نقشہ نہیں کھینچ سکتے ہیں۔ اس کا اندازہ آپ اس سے لگا سکتے ہیں کہ دور نبوت میں،  نبی صلی اللہ علیہ اور صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کو کتنے تکلیفات سہنے پڑے ہیں۔ واحد شخصیت ماں ہے، جس کی تکلیفات کی صراحت قرآن مجید میں ملتی ہیں۔


ماں کے تکلیفات کا ذکر قرآن میں: وَوَصَّیْْنَا الْإِنسَانَ بِوَالِدَیْْہِ إِحْسَاناً حَمَلَتْہُ أُمُّہُ کُرْہاً وَوَضَعَتْہُ کُرْہاً

ترجمہ : اس ماں نے تکلیف جھیل کر اسے پیٹ میں رکھا اور تکلیف برداشت کر کے اسے جنا ۔حمل کے نوماہ کی تکلیف اور اس سے بڑھ کر وضع حمل کی تکلیف، یہ سب ماں برداشت کرتی ہے۔

اللہ تعالی نے جب ”اف“ کرنے سے گریز کرنے کا حکم بھی وارد کیا۔ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے اس کے بارے میں فرمایا اگر والدین کی بے ادبی میں ”اف“ سے کم درجہ ہوتا تو اللہ جلہ شانہ اسے بھی حرام فرما دیتے۔(الدالمنثور: ۵/ ۲۲۴)


والدین کا ادب واحترام کا تذکرہ: حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے مروی ہے، وہ فرماتی ہیں: رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں شخص حاضر ہوا، ان کے ساتھ ایک بوڑھا آدمی تھا، نبی برحق صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا یہ بوڑھا کون ہے؟ اس شخص نے جواب عرض کیا یہ میرے والد ہے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا: لا تمش امامہ، ولاتقعد قبلہ، ولاتدعہ باسمہ ولاتستب لہ (معجم الأوسط، للطبرانی:۴/۲۶۷) یعنی ان کے آگے مت چلو، مجلس میں ان سے پہلے مت بیٹھنا، ان کا نام لے کر مت پکارنا، ان کو گالی مت دینا۔


ادب سے بات کرنا، انسان کی پہچان ہیں، پر اللہ تعالیٰ قرآن میں خصوصاً ذکر فرمایا ہے وقل لہما قولاً کریما یعنی ان کا ساتھ ادب و احترام سے بات کرنا۔ قول کریم کے بارے میں حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے فرمایا: خطا کار اور زر خرید غلام سخت مزاج اور ترش روی آقا سے جس طرح با ت کر تا ہے، اس طرح بات کر نا قول کریم ہے (الدر المنثور: ۵/۲۲۵)




اختصار کے ساتھ، دور حاضر میں امت رشتوں کے ساتھ، رشتوں کے حقوق کو فقدان کر کے پر سکون زندگی سے عاری ہے۔ اس لیے انسانیت خصوصاً اہلِ اسلام کو رشتوں کے واجبات کو بھولنا نہیں چاہیے۔ اللہ سبحانہ و تعالی ہم سب کو رشتوں کے ساتھ، رشتوں کے حقوق خصوصاََ ماں، باپ کے حقوق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین یا رب العالمین۔


ماجد کشمیری

غیر مقلد اور سنی درمیان مناظرے کا اتمام فیصلہ کمیٹی، غیر مقلد گمراہ کیوں

0

ردِ غیر مقلدیت نمبر ۱۶


 فیصلہ کمیٹی: جانبین کی گفتگو سننے کے بعد ہم متفقہ طور پر اس نتیجہ تک پہنچے ہیں کہ:

(۱) اہل حدیث ساتھی نے مولانا ثناء اللہ امرتسری پر اعتماد کرتے ہوئے دعوی کیا کہ سینے پر ہاتھ باندھنے کی روایات بخاری ومسلم میں ہیں لیکن صحغ بخاری ومسلم میں سے وہ ایسی کوئی روایت نہیں دکھا سکا۔

(۲) ہم نے خصوصی گنجائش دی کہ چلوکسی اور کتاب سے کوئی صحیح حدیث پیش کر دو تو اس نے ابن خزیمہ کی ایک روایت پیش کی جس کی سند کو اسی کتاب کے

حاشیہ نگار نے ضعیف قرار دیا۔

(۳) حکیم سیالکوٹی نے حضرت بلب کی روایت کا جو حشر کیا اس پر ہمیں انتہائی دکھ اور افسوس ہوا۔ نیز اس کی سند میں بھی ساک بن حرب کمزور ہے ۔

(۴) پھر حضرت ابن عباس کی روایت کے استدلال کیا گیا ہے جبکہ خود اہل حدیث حضرات قول صحابی کو حجت نہیں سمجھتے، نیز اس میں واردمفہوم پر ان کا اپناعمل

بھی نہیں نیز اس کی سند میں تین راوی بہت ہی کمزور ہیں ۔

الغرض ’’صلاۃ الرسول " ‘‘میں بیان کردہ پانچ حدیثوں کی سند کی حیثیت دیکھنے کے بعد واضح ہوا کہ سینے پر ہاتھ باندھتے کا مدعی صحیح بخاری ومسلم کی حدیث تو کجا کوئی ایک روایت بھی پیش نہیں کر سکا جس کی سند صحیح ہو۔

(۵) غیر مقلد مدعی نے آخر میں مولانا اسماعیل سلفی صاحب کی جو عبارت پیش کی ہے اگر یہ شروع میں پیش ہو جاتی تو ہمیں اس موضوع پر بی طویل گفتگو سننے کی ضرورت ہی نہ پڑتی کہ جب دونوں طرح نماز ہو جاتی ہے اور ان کے بقول صحابہ کا عمل دونوں طرح ہے تو پھر ایک دوسرے پر اعتراض کی گنجائش ہی نہیں۔


اگلا صفحہ

غیر مقلد اور سنی کے درمیان مناظرے، صلاۃ الرسول ؐ جو ہمارے مسلک کی مرکزی کتاب تھی اس کی تقریباً ایک سو پچپن حدیثوں کو ضعیف مان لیا

0

سلسلہ رد غیر مقلدیت نمبر ۱۵


 غیر مقلد: یہ جو آپ نے ابن خزیمہ میں حضرت وائل بن حجر ؓ کی حدیث پر جرح کی ہے تو واقعی اس کی سند ضعیف ہے لیکن دیگر احادیث ضعیفہ اس کی شاہد ہیں ۔لہذا ان کی تائید کی وجہ سے یہ حدیث بھی صحیح ہو جائے گی ۔


سنی: ایک دفعہ ریل گاڑی میں چند نوجوان بغیر ٹکٹ سوار ہو گئے ، کچھ دیر بعد ٹکٹ چیکر کرنے والا آفیسر آ گیا اور چیکنگ کرتے ہوئے ان میں سے ایک نوجوان کے پاس پہنچا تو اس نے اشارہ کیا کہ ٹکٹیں وہ پچھلے ساتھیوں کے پاس ہیں ۔ جب چیکر پچھلے نوجوان تک پہنچا تو اس نے اپنے سے پیچھے والے نوجوان کی طرف اشارہ کیا۔ یوں ہر نوجوان بڑی سنجیدگی اور متانت سے اپنے سے پچھلے والے ساتھی کا اشارہ کرتا رہا۔ جب چیکر ڈبہ کے آخر میں پہنچا تو ان نوجوانوں کا اسٹاپ آ چکا تھا وہ سب اتر گئے اور چیکر بیچارا ان کا منہ تکتارہ گیا۔

غیر مقلد: یہ علمی گفتگو کی مجلس ہے یا لطیفوں کی؟

سنی: محترم ! حضرت وائل بن حجر ؓ   کی حدیث کو صحیح قرار دینے گچھیا یہی کچھ ہوا ہے ۔ اس کی سند کو تو تم بھی ضعیف مانتے ہوں۔ رہا دیگر شواہد کی وجہ سے اس کو صحیح قرار دینا تو اس کی تفصیل ملاحظہ ہو :


مولانا صادق سیالکوٹی صاحب، نے سینہ پر ہاتھ باندھنے گچھیا پانچ دلیلیں پیش کی ہیں ۔


(۱) حضرت وائل بن حجر  ؓ  کی ابن خزیمہ والی روایت۔


اس کی بابت صلاۃ الرسول کا حاشیہ نگار لکھتا ہے: یہ سند ضعیف ہے لیکن بعد میں آنے والی احادیث اس کی مؤید ہیں جن کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے ۔(القول المقبول ۳۴۰)


(۲) اس کے بعد سیالکوٹی صاحب نے طاؤس کی مرسل روایت ذکر کی۔ اور خود اہل حدیث مرسل کی ضعیف کہتے۔ملاحظہ ہو: (نماز نبوی ص ۲۷۳﴾

(۳) پھر حضرت ہلب  ؓ کی روایت سیالکوٹی صاحب نے ذکر کی اس کی بانت اسی کتاب صلاۃ الرسول کا حاشیہ نگار لقمان سلفی لکھتا ہے: اس حدیث کی سند اگرچہ ضعیف ہے مگر شواہد میں یہ قابل ذکر ہے (ص:۱۱۵) اسی کتاب صلاۃ الرسول کا دوسرا حاشیہ نگار بھی یہی لکھتا ہے کہ: اس حدیث کی سند اگرچہ ضعیف ہے مگر شواہد میں یہ قابل ذکر ہے ( القول المقبول ص: ۳۴۱) 

(۴) پھر سیالکوٹی صاحب نے حضرت وائل بن حجر ؓ   روایت بحوالہ طبرانی نقل کی ہے جس کی بانت صلاۃ الرسول کا حاشیہ نگار لکھتا ہے: یہ سند بھی ضعیف ہے لیکن اس کے بعد میں آنے والی احادیث اس کی مؤید ہیں جن بناء پر یہ حدیث صحیح ہے (القول المقبول ص۳۴۰)

پھر سیالکوٹی صاحب ؒ نے حضرت ابن عباسؓ کی عند النحر والی روایت ذکر کی جو کہ نوجوان حاشیہ نگاروں کے مسلسل اشاروں کی آخری کڑی تھی ۔ یوں اچانک وہ اسٹاپ پر اتر کر اپنے بھولے قارئین ومقلدین و معتمدین کی سادگی پر مسکراتے ہوئے چل دیئے ۔ جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے جن یہ تکیہ تھا وہی پتے لگے ۔ چونکہ اس روایت کی بابت تو صلاۃ الرسول کے یہ تینوں حاشیہ نگار بالا جماع لکھ چکے تھے کہ یہ ضعیف ہے۔ ملاحظہ ہو :


صلاة الرسول ؐ حاشیہ لقمان سلفی : ضعیف (ص:۱۱۶) 

صلاة الرسول ؐ حاشیہ تسہیل الوصول میں ہے :ضعیف ( ص:۱۵۴) 

صلاة الرسول ؐ حاشیہ القول المقبول میں ہے:ضعیف (ص:۳۴۲)

 ان پانچوں دلائل کی علمی حیثیت واضح ہو جانے کے بعد ایک غیر مقلد منصف کا یہ خطیبانہ جملہ ذکر کرنا دلچسپی سے خالی نہ ہوگا کہ ’الغرض از روئے دلائل ساطعہ و براہین قاطعہ یہ بات مسلّم ہے کہ سینہ پر ہاتھ باندھنا موثق اور صحیح (صلاۃ مصطفی ﷺ ص: ۱۴۵) نعر تکبیر...مسلک اہل حدیث


 غیر مقلد : میرا دل خون کے آنسو رو رہا ہے جی چاہتا ہے کہ ان نوجوانوں کے غیر ملکی دولت سے بنے ہوئے ایوانوں کو جلا کر خاکستر کر دوں جنہوں نے اپنے علم کی دھاک بٹھانے کے لیے صلاۃ الرسول ؐ پر یہ حاشیے لکھ کر چورا ہے میں مسلکی دلائل کا بھانڈا پھوڑ دیا ۔ یہ صلاۃ الرسول ؐ جو ہمارے مسلک کی مرکزی کتاب تھی اس کی تقریباً ایک سو پچپن حدیثوں کو ضعیف مان لیا۔ پھر باقی ہمارے پلے رہ ہی کیا گیا ؟ کل تک ہم جس کتاب کو بڑے فخر سے پیش کر تے تھے آ ج اس کتاب کے ان حاشیوں کی وجہ سے ہمارا سر ندامت سے جھکا ہوا ہے۔


سنی: مجھے آپ کے جذبات کی قدر ہے میں بھی ایک شعر سنائے دیتا ہوں پھر فیصلہ کمیٹی کو دعوت فیصلہ دیتے ہیں ۔


دل کے بھپو لے جل اٹھے سینے کے داغ سے

اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے


آپ نے نواب نورالحسن خان صاحب ؒ کی کتاب عرف الجادی میں اس موضوع کو پڑھا ہے؟


غیر مقلد: دراصل عرف الجادی فارسی زبان میں ہے۔ ہمیں تو عربی نہیں آتی فارسی سے کیا استفادہ کریں گے؟ کوئی علم دوست اس کا اردو ترجمہ کر دے تو ہمیں اس سر چشمہ علم سے فیضیاب ہو۔

سنی: تو لیجئے میں آپ کو ترجمہ کر کے بتاتا ہوں: دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھے چا ہے ناف کے اوپر باندھے یا ناف کے نیچے، یا دونوں کے درمیان اور اس بارے میں تقریباً بیس حدیثیں وارد ہیں اور کسی اہل علم نے ان پر جرح نہیں کی، اور بچے شک ان کا انکار کرنا آخری زمانہ کی علامت ہے اور قیامت کے قریب ہونے کی علامت ہے ۔(عرف الجادی ۲۵)


گویا نواب نورالحسن خان صاحب ؒ تک اہل حدیث تو تینوں جگہ ہاتھ باندھنے کو سمجھتے تھے ان کے بعد کے غیر مقلدوں نے اس مسئلہ کو تنگ نظری چھیڑ کر نواب صاحب کی پیشنگوئی کو ثابت کر دیا کہ قیامت آنے والی ہے۔

فیصلہ کمنٹی:۔۔۔۔جاری 

اگلا صفحہ

غیر مقلد اور سنی کے درمیان مناظرے، ناف کے نیچے ہاتھ باندھنا

0



سلسلہ رد غیر مقلدیت نمبر ۱۴


 غیر مقلد: یار واقعی بھائی پھیرو تک سفر کا سوال بڑا معنی خیز تھا۔

بہر حال ایک اور دلیل پیش کرتا ہوں کہ مولانا سیالکوٹی صاحب نے حضرت ابن عباسؓ کی جو روایت نقل کی ہے وہ تو بڑی واضح اور فیصلہ کن ہے: کہ دایاں ہاتھ اپنے بائیں ہاتھ پر رکھ کر سینے پر باندھ۔


سنی: (۱) صحابی کا قول تو آپ کے نزدیک دلیل نہیں پھر یہاں استدلال کیسا ؟


(۲) اس روایت پر تمہارا عمل بھی نہیں چونکہ نجر سے مراد سینے کا وہ بالائی حصہ ہے جو گلے سے متصل ہے اور تم لوگ تو اس سے تقریبا ایک بالشت نیچے اپنے سینے پر ہاتھ باندھتے ہو۔


(۳) اس کی سند پر نظر ڈالیں تو اس میں : (۱) یحییٰ بن ابی طالب ہے جس کی بابت موسی بن ہارون فرماتے ہیں کہ اسے جھوٹ بولنے کی عادت تھی ۔ نیز امام ابوداؤد نے اس سے نقل کردہ احادیث پر قلم پھیر دیا تھا۔ میزان الاعتدال ( ۲۲۳٫۳)۔


(ب) اس کی سند میں ایک راوی ہے جس کے بابت علامہ ابن عدی ؒ   کہتے ہیں اس کی بیان کردہ روایت منکر ہوتی ہے۔ جوہر النتقی (۳۰٫۲)


(ج) اس کی سند میں ایک راوی روح ہے، جس کی بابت ابن حبان کہتے ہیں : وہ من گھڑت روایتیں نقل کرتا ہے اس سے روایت کرنا حلال نہیں ہے ۔

(د) صلاۃ الرسول ؐ کے حاشیہ نگارلقمان سلفی نے بھی اس کے ضعیف ہونے کا اعتراف کیا ہے۔ باقی دو حاشیہ نگاروں نے بھی اسے ضعیف قرار دیکر اس کے ضعیف ہونے پر اجتماع منعقد کر دیا ملاحظہ ہو ۔ (تسہیل الوصول ۱۵۴۔القول مقبول ۳۴۲)


تم تو صحیح بخاری ومسلم سے اپنا مسلک ثابت کرنے کے دعویدار تھے اور اب اس طرح کی ضعیف روایت کا سہارا لے رہے ہو؟


دعویٰ ہے بخاری مسلم کا دیتے ہیں حوالے اوروں کے

ہے قول وعمل میں ٹکراؤ یہ کام ہیں اہل حدیثوں کے




آپ مزید کچھ پیش کرنا چاہیں گے یا ہم کمیٹی کو فیصلے کی دعوت دیں۔


غیر مقلد : ذرہ ٹھہریں مولانا سیالکوٹی نے طاؤس کی روایت نقل کی ہے ۔لیکن میں وہ پیش نہیں کرنا چاہتا چونکہ مولانا نے خود ہی لکھا ہے کہ ’’یہ مرسل ہے لیکن دوسری مستند احادیث سے ملکر قوی ہوگئی ہے“ ۔اب آپ نے جو حقائق پیش کیئے ہیں اس سے یہ واضح ہو گیا کہ دوسری احادیث بھی مستند نہیں ۔ لہذا یہ کمزور کی کمزور ہی رہی ، نیز ہم خود بھی مرسل کو حجت نہیں مانتے ۔البتہ میں موقر کمیٹی کی توجہ ایک اہم تحریر کی طرف دلانا چاہتا ہوں کہ مولانا اسمعیل سلفیؒ نے قبیصہ بن ہلب اور ابن خزیمہ والی روایت ذکر کرنے کے بعد بڑا معتدل اور صلح صفائی والا موقف اختیار کیا ہے کہ:

ان احادیث سے ظاہر ہے کہ صحیح راجح اور سنت یہی ہے کہ نماز میں ہاتھ سینہ پر باندھے جائیں تا ہم نماز ہر طرح ہو جاتی ہے صحابہ ؓ کا عمل دونوں طرح ہے ۔ ( رسول اکرم ﷺ کی نماز ص:۶۷)


الغرض جب نماز ہرطرح ہو جاتی ہے اور صحابہ ؓ کاعمل بھی دونوں طرح ہے تو پھر ہمیں بلاوجہ جھگڑوں میں نہیں پڑنا چاہیئے اور دوسرے پر اعتراض نہیں کرنا چاہیئے ۔


سنی: مولانا اسماعیل سلفی ؒ صاحب کا یہ جملہ غیر مقلد حلقہ کے عمومی مزاج کے اعتبار سے واقعی وسعت ظرفی کا حامل ہے کہ جب فروعی مسائل میں اختلاف ہوا اور دونوں طرف دلائل موجود ہوں تو مدّ مقابل کی نفی نہ کی جائے ۔اگر غیر مقلد حضرات اس نہج پر اپنی اصلاح کر لیں تو باہمی احترام کی بناء پر ماحول خوشگواری ہو جائے گا۔ البتہ مولانا اسماعیل سلفی ؒ   صاحب کے اس پیراگراف کی۔ ابن میں یہ گزارش کرنا چاہوں گا۔


(۱) جن احادیث کی بناء پر انہوں نے سینہ پر ہاتھ باندھنے کو صحیح راجح اور سنت قرار دیا ہے وہ تو قبیضہ بن ہلب اور ابن خزیمہ والی روایت ہے، جس کی محدّثانہ حیثیت گزشتہ سطور میں۔ بیان ہوچکی۔

(۲) ان کا یہ کہنا کہ صحابہ ؓ  کا عمل بھی دونوں طرح ہے، تو واضح رہے کہ امام ترمذیؒ   نے سنن ترمذی میں دونوں چیزوں پر صحابہ ؓ  کا عمل نقل کیا ہے نہ کی نیچے ہاتھ باندھنا اور ناف کے اوپر ہاتھ باندھنا۔ جبکہ تیسرے موقف سینہ پر ہاتھ باندھنے کا سرے سے ذکر ہی نہیں کیا۔ ملاحظہ ہو۔ رأی بعضھم أن بضعھا قوق السرۃ ورأی بعضھم أن یضعھا تحت السرۃ وکل ذلک واسع عندھم (جامع ترمذی۔باب وضع الیمین علی الشمال)۔

  کہ بعض حضرات ناف پر اور بعض حضرات ناف کے نیچے ہاتھ باندھنے کے قائل ہیں، اور ان کے نزدیک دونوں طرح کرنے کی گنجائش ہے۔۔۔۔۔جاری 


اگلا صفحہ

غیر مقلد اور سنی کے درمیان مناظرے غیر مقلد کی حدیث سازی غیر مقلد گمراہ کیوں

0

سلسلہ رد غیر مقلدیت نمبر ۱۳

سنی: یہ مسند احمد لیں اور اس میں سے وہ عربی الفاظ کھائیں جو انہوں نے اپنی کتاب میں ذکر کیئے ہیں۔


غیر مقلد : دراصل یہ مسند احمد تو ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے اور حکیم صاحب نے جلد نمبر اور صفحہ نمبر بھی نہیں لکھا ۔لہذا میرے لیے تلاش کرنا بہت مشکل ہے۔لیکن مجھے یقین ہے کہ مولانا نے یہ حدیث بڑی تحقیق و جستجو کے بعد لکھی ہو گی ۔


سنی: بس یونہی ان کے اندھے مقلد بنے پھرتے ہو اور بلاتحقیق ان کی ہر بات کی تقلید کیئے جار ہے ہو ۔ چلو میں تمہیں متعلقہ حوالہ نکال دیتا ہوں یہ جلد نمبر ۵ کا صفحہ ۲۲۶ ہے، بس تم مجھے یہ الفاظ دکھا دو۔


غیر مقلد: یہاں تو لکھا ہے:عن قبيصة بن هلب عن أبيه قال رأيت النبی ﷺ ينصرف عن يمينه وعن يساره ورأيته قال يضع هذه على صدره.


سنی: اب آپ حکیم صاحب کی بیان کردہ حدیث کے الفاظ دیکھیں اور مسند احمد کے الفاظ میں واضح فرق ملاحظہ کر میں : عـن هـلـب قال رأيت النبی ﷺ هـذه علی صدرہ ۔ آپ بتائیں کہ چودھویں صدی میں حکیم صاحب کو حدیث نبوی کے الفاظ میں ردو بدل کا اختیار کس نے دیا ہے؟


ع     خود بد لتے نہیں الفاظ بدل دیتے ہو



اچھا اب آپ علی صدرہ کے بعد والے الفاظ پڑھو۔


غیر مقلد: وصف يحيى اليمنى على اليسرى فوق المفصل -


سنی: تمہاے مصنف اور واعظ روایت کے اس حصے کو بیان نہیں کرتے ۔ آخر کیوں؟! چونکہ تم لوگ دایاں ہاتھ بائیں کلائی پر رکھتے ہو جبکہ یہاں دایاں ہاتھ بائیں کے جوڑ پر رکھنے کا ذکر ہے ۔ اب تم بتاؤ کہ ایک ہی روایت کا آدھا حصہ قابل استدلال نہیں اور دوسرا حصہ نا قابل عمل! آخر کیوں؟


غیر مقلد: یہ صورتحال تو میرے لئے بالکل نیا انکشاف ہے۔

 

سنی: اب آپ اس کی سند پر غور کر میں تـفـرد بـه سماک بن حرب ولينه غير واحد وقال النسائي: إذا تفرد بأصل لم يكن حجة اس روایت میں سماک بن حرب نے تفرد اختیار کیا ہے جس کو بہت سے محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے اور امام نسائی فرماتے ہیں: جب سماک تفرد اختیار کرے تو اس کی روایت دلیل نہیں بن سکتی ۔


غیر مقلد : ہمارے علماء چونکہ حدیث فہمی میں ایک خاص مزاج رکھتے ہیں لہذاد یکھئے انہوں نے سینہ پر ہاتھ باندھنے کے لئے کتنا زبردست استدلال کیا ہے : حضرت وائل بن حجر فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے اپنا دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ کی ہتھیلی کی پشت اور کلائی پر رکھا۔ شیخ البانی فرماتے ہیں کہ اس کیفیت پر عمل کرنے سے لازماً ہاتھ سینہ پر آئنگے ۔ تجربہ کیجیئے ۔(القول المقبول ۳۴۱ نیز صلوۃ الرسول حاشیہ لقمان سلفی ۱۱۶)


سنی: آپ نے کبھی لاہور سے بھائی پھیرو تک بس کا سفر کیا ہے؟


غیر مقلد: یہ کیا موضوع سے ہٹ کر غیر متعلق بات کی ہے؟ بہر حال جاتا رہتا ہوں ۔


سنی: پھر آپ نے اکثر دیکھا ہوگا کہ اپنی کمپنی کی مشہوری کے لئے دوائیں بیچنے والے آتے ہیں اور ایک زور دار تقریر کے بعد آخر میں کہتے ہیں کہ تجربہ کیجئے۔ بعض بھولے لوگ ان کی اس گفتگو سے متاثر ہو کر دوا خرید لیتے ہیں اور دوا فروش اگلے سٹاپ پرا تر جاتا ہے۔


بعینہ اسی طرح آپ نے مندرجہ بالا عبارت سے سینہ پر ہاتھ باندھنے کا استدلال کر کے اس میں قوت ڈالنے کے لئے کہا ہے کہ تجربہ کیجئے ، بھولے لوگوں اور خصوصاً غیر مقلدوں میں اتنا شعور کہاں؟ وہ تو تجربہ والے چیلنج سے ہی متاثر ہو جائیں گے۔


اطلاعاً عرض ہے کہ دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ کی ہتھیلی کی پشت اور کلائی پر رکھ کر ہی تو احناف اسے ہاتھ ناف کے نیچے باندھتے ہیں ۔ پھر بھی یہ دعویٰ کرنا کہ اس کیفیت پر عمل کرنے سے لازماً ہاتھ سینے پر آئینگے، سینہ زوری نہیں تو اور کیا ہے؟

نیز یہ کہ آپ آج غیر مقلدوں کو مسجد میں نماز پڑھتے ہوئے نوٹ کریں کہ وہ دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ کی ہتھیلی کی پشت اور کلائی پر رکھتے ہیں یا کی دائیں ہاتھ کو بائیں کلائی پر رکھتے ہیں۔ بس آپ کو خود ہی اندازہ ہو جائے گا کہ تجربہ کیجیے والے چیلنج میں کتنی جان ہے؟اور اس حدیث وہ دلیل پر کتنے لوگوں کا عمل ہے۔ 


غیر مقلد: یار واقعی بھائی پھیروتک سفر کا سوال بڑا معنی خیز تھا۔۔۔۔۔ جاری 


اگلا صفحہ

غیر مقلد اور سنی درمیان گفتگو، سنی کیا حکیم سیالکوٹی صاحب دواسازی کے ساتھ ساتھ حدیث سازی بھی کرتے تھے

0

سلسلہ ردِ غیر مقلدیت نمبر ۱۲


 سنی: جناب کیا ماجرا ہے؟ پہلے آپ نے دعویٰ کیا کہ سینے پر ہاتھ باندھنے کی روایت صحیح بخاری و مسلم میں ہے جو کہ اس میں نہیں ہے پھر دیگر صحاح ستہ میں سے آپ کو کوئی حدیث نہ ملی تو ابن خزیمہ کی روایت نقل کی اور دعویٰ کر دیا کہ ابن خزینہ نے اسے صحیح کہا ہے لیکن ان کا یہ قول اس میں نہیں دکھا سکے۔ بلکہ الٹا لینے کے دینے پڑ گئے کہ تمہارے اپنے ہی عالم البانی نے اس کی سند کو ضعیف قرار دیدیا۔ یوں لگتا ہے کہ تمہارے جد ید مصنف بھی اپنے قدیم مصنفین کی روش پر چل پڑے ہیں اور ماڈرن طریقہ سے غلط حوالہ جات پیش کرتے ہیں کہ کچھ سال اور نکل جائیں۔


 غیر مقلد :(اپنے ہونٹ بھچنتے ہوئے ڈھیمی آواز میں ) پتہ نہیں ہمارے علماء غلط بیانی کیوں کرتے ہیں؟ مجھے یاد آیا کہ ایک محفل میں اس موضوع پر بات چلی تھی تو یہ طے پایا کہ ابن خزیمہ نے اپنی کتاب کا نام صحیح ابن خزیمہ رکھا ہے لہذا اس کی ہر حدیث کے بارے میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ ابن خزیمہ نے اسے صحیح کہا ہے۔ القول مقبول ص ۴۴ پر بھی یہ وضاحت میری نظر سے گذری ہے۔ غالباً اسی وجہ سے ”نماز نبوی“ میں جگہ جگہ یہ کہا گیا ہے۔


 سنی: یقیناً یہ جدید مصنفین کی ماڈرن ڈپلومیسی ہے تاکہ تم جیسے لوگوں کو نئے جال میں پھنسایا جائے، میں بڑی سادہ سی گزارش کروں گا کہ چند منٹ فارغ کر کے صحیح ابن خزیمہ کے صفحات پلٹتے جاؤ اور حاشیہ میں گنتے جاؤ کہ کتاب کہ حاشیہ نگار نے اس کی کتنی حدیثوں پر ضعیف کا حکم لگایا ہے تو یہ تعداد ممسک وں میں نکلے گی ۔اب آپ خود ہی فیصلہ کر لیں کہ غیر مقلدین کی نجی محفل میں جود فائی ہارٹ لائین قائم کی گئی تھی وہ کتنی کمزور ہے؟


 غیر مقلد: (صحیح ابن خزیمہ کے چند صفحات پلٹ کر) آپ کی بات صحیح ہے ، یہ چند صفحات میں دسیوں حدیثیں ضعیف قرار دی گئی ہیں۔


سنی: آپ اپنے بدلتے ہوئے پمیار نے دیکھیں اور داد دیں، نماز نبوی کا یہ حاشیہ نگار جس نے پوری کتاب کا اکثر حاشہ یہ لکھ کر سیاہ کہا ہے کہ اب اختر محمد نے اس روایت کو صحیح کہا ہے ابن حبان نے صحیح کہا ہے اس کا ساتھی غ م تسہیل الوصول ص ۱۷۸ پر ابن خزیمہ اور ابن حبان کی اس روایت کو ضعیف قرار دیتا ہے۔ جس میں ارشاد نبوی ہے کہ جس نے امام کو رکوع میں اٹھنے سے پہلے رکوع میں پالیا اس نے وہ رکعت پالی۔ ایمانداری سے بتاؤ یہاں ابن خزیمہ کی تصحیح والا پیمانہ کیوں بدل گیا؟  ابن خزیمہ کی روایت کو ضعیف کیوں کہہ دیا ؟ صرف اس لیے کہ اس کی وجہ سے تمہارے فاتحہ خلف الامام والے مسلک پر زد پڑتی ہے کہ اس نمازی نے فاتحہ نہیں پڑھی پھر بھی اس کی وہ رکعت ہوگئی اس تسہیل الوصول کے صفحہ ۴۵ ،۲۱۲ پر بھی ابن خزیمہ کا ذکر کر کے ان روایات کو ضعیف قرار دیا ہے۔اور صفحہ ۳۶۶,۱۸۱,۱۰۵ پر ابن حبان کا ذکر کر کے ان روایات کو ضعیف کہا ہے۔


غیر مقلد : میں تو کتاب نماز نبوی سے بڑا متاثر تھا کہ اس میں ابن خزیمہ وابن حبان کی تصحیح پر اکثر اعتماد کیا گیا ہے لیکن مندرجہ بالا حوالہ جات سے تو نماز نبوی کے حاشیہ کی ساری عمارت دھڑام گر گئی۔ چونکہ خود ہمارے ہی لوگ ابن خزیمہ و ابن حبان کی روایات کو ضعیف قرار دیتے ہیں۔


چلیں مولانا سیالکوٹی نے ایک اور حدیث نقل کی ہے ۔ ہلب صحابی فرماتے ہیں کہ : میں نے رسول اللہ ﷺ کو سینے پر ہاتھ رکھے ہوئے دیکھا۔(مسند احمد )


سنی: کیا حکیم سیالکوٹی صاحب دواسازی کے ساتھ ساتھ حدیث سازی بھی کرتے تھے؟


غیر مقلد: اس کا کیا مطلب؟

سنی: وہ حدیث کے عربی الفاظ میں اپنی طرف سے کمی بیشی کیا کرتے تھے؟


غیر مقلد: یہ کیسے ہوسکتا ہے؟


سنی: حضرت ہلب ؓ کی طرف منسوب حدیث میں یہی کچھ ہوا ہے۔


غیر مقلد : قطعاً ایسا نہیں ہوسکتا چونکہ مولانا سیالکوٹی نے تو مسند احمد کے حوالے سے یہ حدیث نقل کی ہے۔


 سنی:۔۔۔۔۔ جاری

 اگلا صفحہ

ایک مزدور کی کہانی - آخر رب کی ہی نافرمانی کیوں؟

0

     قارئین کرام! ایک مزدور کا واقعہ اس کے زبان سے ملاحظہ ہوکہ: میں کام پر گیا میرے ساتھ ہم عمر کے کچھ افراد بھی شامل تھے۔ میں نے وہاں پر عجیب اور انوکھا منظر دیکھا کہ مالک کی کتنی فرمابرداری کی جا رہی ہے۔ میرے ساتھی گانے سننے والوں میں سے تھے، پر جوہی مالک آ جاتے تھے تو وہ گانے بند کر دیتے تھے۔ مالک جو کام کرنے کو بولتیں تھیں، ہم اس کام کو جرح کرے بغیر کرنے کے لئے آمادہ ہوتے تھے۔ وہ کام کے بیچوں بیچ اگر یہ کہتے کہ اب اس کام کو چھوڑ دو یہ کام کروں تو ہم اسے انجام دیتے۔ الغرض جو بھی وہ کہتے تھے ہم اس کے لیے تیار رہتے تھے۔ پر کیوں؟ میرے ذہن میں یہ بات گردش کر رہی تھیں کہ مالک کی بات تو ماننی چاہیے ہم پر فرض ہے۔ پر ایک سوچ مجھے ستا رہی تھی کہ ہماری سرگزشت اتنی فرمانبردار تو نہیں ہے پھر کیوں ہم اسے اتنے خوف سے تسلیم کرتے ہیں۔ آخر کیوں؟ میں نے ساتھیوں سے سوال پوچھا، حیرت انگیز جواب ملا یہ ہمیں دن کا معاوضہ 600 دیتے ہیں اس لیے۔ 

    بس پھر کیا میں سوچ میں ڈوب گیا۔ صرف 600 روپے کے لیے ہم مالک اتنی فرمانبرداری کرتے ہیں۔ ہمارا رب اللہ تعالی ہمیں دن کا کتنا دیں رہیں ہیں پر کیا ہم اس کی اتباع کرتے ہیں؟ میں حساب کرنے لگا۔

    جب میں صبح اٹھتا ہوں اللہ تعالی روح پھونک کر پھر سے مجھے زندہ کرتا ہے۔ ارے اس روح کی تو کوئی قیمت ہی نہیں ہے؟۔۔۔ ہے کیا؟ نہیں!۔ اس کا حساب لگانا ہمارے بس میں نہیں، چلیں چھوڑے آگے حساب کرتے ہیں، دن بھر اللہ تعالی کا آکسیجن استعمال کرتے ہیں، تحقیق سے پتا چلا کہ انسان ایک منٹ میں 8 لیٹر آکسیجن استعمال کرتا ہے۔ وہ چوبیس گھنٹوں کا 11500 ہو جاتا ہے۔ وہ لگ بھگ 13 لاکھ کے اوپر اوپر ہے۔ کہاں چھے سو میں مالک کی فرمانبرداری اور کہاں تیرہ لاکھ میں رب کی نا فرمانی! 

    اگر ہوا، پانی،زمین، ہفت خلیفہ، خوب صورت قالب، لقبِ اشرف المخلوقات، عنایتِ منصبِ خلیفۃ اللہ، اور شرفِ امتِ محمدی وغیرہ ہیں۔ جامع الفاظ وہیں: فبای الاء ربکما تکذبان، جس کا حساب کیا جائیں، اگر تمام نعمتوں کا حساب کیا جائے جن کا استعمال دن بر انسان کرتا ہے۔ یہ تو لاتعداد ہے۔

پھر للہ کی نافرمانی کیوں؟۔۔۔العاقل تکفیہ الاشارہ. 

    لہذا اہلِ اسلام سے ہماری دردمندانہ درخواست ہے کہ اپنے فرائض سے ایسی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ نہ کریں، ہوش کے ناخن لیں، اپنے آپ کو پہچانیں کہ آپ کسی مقصد کے لیے مبعوث کیے گئے ہیں۔ اللہ تعالی ہمیں عقل سلیم عطا فرمائیں اور اپنے حفظ و امان میں رکھیں آمین یا رب العالمین۔


ماجد کشمیری

غیر مقلد اور سنی کے درمیان گفتگو، غیر مقلد سینہ پر ہاتھ باندھنا سنت ہے

0

سلسلہ رد غیر مقلدیت نمبر ۱۱

موضوع: سینہ پر ہاتھ باندھ


سنی: تکبیر تحریہ کے بعد ہاتھ کہاں باندھنے چاہئیں؟

غیر مقلد: ہمارے نزدیک سینہ پر ہاتھ باندھنا سنت ہے۔

سنی: اس موقف پر آپ کی دلیل کیا ہے؟

غیر مقلد : ہماری دلیل صحیح بخاری شریف میں ہے ۔ جیسا کہ ہمارے شیخ الاسلام مولانا ثناء اللہ امرتسری صاحب نے لکھا ہے کہ: سینہ پر ہاتھ باندھنے اور رفع یدین کرنے کی روایات بخاری ومسلم میں ہیں ۔ فتاوی ثنائی (۴۴۳٫۱ ) الغرض ہمارے دلائل بڑے مضبوط ہوتے ہیں ۔ آپ لوگوں کی طرح کمزور نہیں ۔

سنی: اچھا تو صحیح بخاری شریف میں سینہ پر ہاتھ باندھنے کی روایت دکھا دبیجئے۔

غیر مقلد: یا یکھئے نا جی ! فتاوی ثنائیہ میں لکھا ہوا ہے ہمارے مولانا ثناء اللہ صاحب مناظرے اسلام اور شیخ الاسلام تھے۔ وہ حوالہ بڑی ذمہ داری سے دیتے تھے، ہمیں تو ان برپور اعتماد ہے ۔ اصل بات تو یہ ہے کہ آپ حنفی لوگ صحیح بخاری کی اس روایت پر عمل کیوں نہیں کرتے۔؟

سنی: آپ ہمیں بھی اعتماد میں لیں اور صحیح بخاری میں سے بھی حوالہ نکال کر دکھاد میں۔

غیر مقلد: آپ زیادہ مجبور کرتے ہیں تو نکال کر دکھا دیتا ہوں ۔۔

سنی: آپ تیسری دفعہ صحیح بخاری کی ورق گردانی کر رہے ہیں اور ہر دفعہ آپ کی پریشانی میں اضاف محسوس ہو رہا ہے۔ آخر راز کیا ہے؟

غیر مقلد: دراصل میری صحیح بخاری میں تو ایسی کوئی روایت نہیں مل رہی ۔

سنی: جناب آپ مولانا امرتسری صاحب کے ذاتی نسخہ صحیح بخاری میں بھی ڈھونڈ میں تو قیامت تک آپ کو یہ روایت نہیں ملے گی۔ چلیں دوسری کتاب صحیح مسلم میں سے سینہ پر ہاتھ باندھنے کا مسئلہ نکال دیں۔

غیر مقلد : ضرور ہی ضرور ۔ دراصل ہمارے قول عمل میں چونکہ صحیح بخاری ومسلم کا ہی تذکرہ چلتا ہے اس لئے کبھی کبھی زبان وقلم پر صحیح مسلم سے پہلے روانی میں صحیح بخاری کا نام خود ہی آ جا تا ہے ۔ شیخ الاسلام امرتسری صاحب کی مندرجہ بالاعبارت میں بھی ایسا ہی ہوگا ابھی میں آپ کو صحیح مسلم میں سے یہ حدیث نکال کر دکھاتا ہوں۔

سنی: محترم آپ نے صحیح مسلم میں کتاب الصلاۃ کے تمام صفحات تو پلٹ لیئے ان میں تو آپ کو سینہ پر ہاتھ باندھنے والی حدیث نہیں ملی اب تو آپ ”کتاب فضل المساجد کے صفحات پلٹ رہے ہیں ۔ یہاں اس حدیث کی کیا مناسبت ہے؟

غیر مقلد : تم جلد بازی نہ کرو ۔ آخر "کتاب فضل المساجد صحیح مسلم سے باہر تو نہیں ہے۔ نیز ہم سینہ پر ہاتھ باندھ کر مسجد میں نماز پڑھتے ہیں ۔لہذا ہوسکتا ہے اس باب میں یہ حدیث مل جائے .... مگر اس میں بھی نہیں ملی ۔

سنی: جب موجود ہی نہیں تو ملیگی کیسے؟

غیر مقلد: آخر مولانا ثناءاللہ صاحب نے یہ کیسے اور کیوں لکھ دیا؟

سنی: شاید اپنے اندھے مقلد اعتمادیوں پر اپنے مسلک کی دھاک بٹھا نے گچھیا اور ایک آپ بھولے لوگ ہیں کہ ان کی اس طرح کی تحریروں سے متاثر ہوکر لوگوں کو چیلنج کرنے لگ جاتے ہیں اور ان پرفتوی لگانے شروع کر دیتے ہیں ۔لیکن یہ طریقہ واردات کب تک چلے گا ؟ آخرایک دن جھوٹ پکڑ ا جائے گا۔

ع     جو شاخ نازک پہ آشیانہ ہنی گا نا پائیدار ہوگا

غیر مقلد : چلیں یہ دیکھیں ابن خزیمہ میں حضرت وائل بن حجر کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی تو آپ نے دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھ کر سینے پر رکھا۔(۲۴۳٫۱) امام ابن خزیمہ نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے ۔

سنی: یہ لیجئے صحیح ابن خزیمہ اس میں سے دکھائیں کہ ابن خزیمہ نے اس حدیث کو صحیح کہا ہو۔

غیر مقلد : یہ یکھئے میرے پاس بڑے بڑے اہل حدیث علماء کی مل جل کر تصنیف کردہ ۱۹۹۸ء کی کتاب ہے’’ نماز نبوی‘‘ اس کے صفحہ ۱۴۴ پر حاشیہ نمبر ۵ میں اس حدیث کی بانت لکھا ہے کہ : امام ابن خزیمہ نے صحیح کہا ہے۔

سنی: تو کیا حرج ہے کہ آپ ابن خزیمہ کی اصل کتاب میں ان کا یہ قول دکھا دیں غیر مقلد: یقیناً جلد ۱ ص ۲۴۳ اور حدیث نمبر ۴۷۹۔۔۔؟؟؟

سنی: ص ۲۴۳پر حدیث نمبر ۴۷۹اپ کے سامنے ہے پھر تاخیر کیوں ہور ہی پے؟ اور آپ بار بار اس صفحہ کے حاشیہ میں دیکھتے ہیں؟ 

غیر مقلد: یہاں تو ابن خزیمہ کا یہ قول نہیں ملا کہ یہ حدیث صحیح نہیں بلکہ اس حدیث کے حاشیہ میں تو ہمارے عالم شیخ البانی کا قول اس کے الٹ لکھا ہوا۔ اسنادہ ضعیف، اس کی سند ضعیف ہے۔

سنی: جناب یہ کیا ماجرا ہے۔۔۔۔۔۔جاری

اگلا صفحہ


ہندوؤں کی دیوالی سے پہلے مسلمانوں کی دیوالی

0

قارئین کرام ! کچھ دیر پہلے یکے بعد دیگرے کئی مرتبہ کانوں میں پٹاخوں کی تیز آواز گونجی تو حیرت ہوئی کہ ابھی کیا بات ہوگئی کہ نیاپورہ جیسے مسلم علاقے میں پٹاخوں کی آواز آرہی ہے؟ روڈ پر نکلا تو چند نوجوانوں سے پوچھنے پر معلوم ہوا کہ آئی پی ایل کا آج فائنل تھا جس میں چنئی نامی ٹیم فتحیاب ہوئی ہے۔ چونکہ بندے کو کرکٹ میں ذرا بھی دلچسپی نہیں ہے اس لیے ذہن اس طرف گیا ہی نہیں۔

خیر جیسے ہی معلوم ہوا کہ ہمارے نوجوان کرکٹ ٹیم کی فتح کا جشن پٹاخے جلا کر منا رہے ہیں تو دل بالکل بیٹھ سا گیا کہ یہ سب کیا ہورہا ہے؟ اگر بات ورلڈ کپ میں ہندوستان کی جیت کی ہوتی تو کچھ سمجھا بھی جاسکتا تھا، اگرچہ اس وقت بھی آتش بازی ناجائز ہی تھی، لیکن یہ کیا بات ہوئی کہ آئی پی ایل جیسی انتہائی فضول سیریز جو سراسر فضول خرچی اور فحاشی کا اڈا بنی ہوئی ہے، اس میں ہمارے نوجوانوں کی دلچسپی وہ بھی اس حد تک کہ اس میں اپنی پسندیدہ ٹیم کی جیت پر یوں ناجائز اور حرام طریقے پر اس کا جشن منایا جائے؟ وہ بھی ایسے حالات میں جبکہ مسلمان معاشی، سماجی اور سیاسی ہر اعتبار سے کمزور ہوتے جارہے ہیں۔ کیا انہیں اس بات کا علم نہیں کہ پٹاخے  پھوڑنا اور آتش بازی کرنا درج ذیل وجوہات کی بنا پر ناجائز اور حرام ہے۔

اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا ۔

قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں :

وَاَنۡفِقُوۡا فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَلَا تُلۡقُوۡا بِاَيۡدِيۡكُمۡ اِلَى التَّهۡلُةِ ۖ  ۛۚ وَاَحۡسِنُوۡا  ۛۚ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الۡمُحۡسِنِيۡنَ‏  ۔(سورہ بقرہ، آیت : 195)

ترجمہ : اللہ کے راستے میں مال خرچ کرو، اور اپنے آپ کو خود اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ ڈالو اور نیکی اختیار کرو، بیشک اللہ نیکی کرنے والوں سے محبت کرتا ہے ۔  (سورہ بقرہ، آیت : 195)

آتش بازی میں اکثر جان کی ہلاکت و زخمی ہونے کے واقعات پیش آتے ہیں۔

فضول خرچی، اور وقت کا ضیاع ۔

دوسری جگہ اللہ تعالٰی ارشاد فرماتے ہیں :

إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيَاطِينِ وَكَانَ الشَّيْطَانُ لِرَبِّهِ كَفُورًا۔ (سورہ بنی اسرائیل، آیت : 27)

ترجمہ : بلاشبہ جو لوگ بےہودہ کاموں میں مال اڑاتے ہیں، وہ شیطان کے بھائی ہیں، اور شیطان اپنے پروردگار کا بڑا ناشکرا ہے۔ 


اسی طرح آتش بازی میں غیروں سے مشابَہت پائی جاتی ہے جس کے بارے میں حدیث شریف میں آیا ہے کہ جو جس قوم کی مشابہت اختیار کرے گا اس کا حشر اسی کے ساتھ ہوگا، نیز اس میں دوسروں کو تکلیف دینا بھی پایا جاتا ہے جو ایک الگ اور مستقل ناجائز اور حرام کام ہے۔


لہٰذا ہماری اپنے نوجوانوں سے انتہائی دردمندانہ درخواست ہے کہ اللہ کے لیے ایسی غیرذمہ داری کا مظاہرہ نہ کریں، حالات کے رُخ کو دیکھیں، ہوش کے ناخن لیں، اپنے آپ کو پہچانیں کہ آپ قوم وملت کا قیمتی سرمایہ ہیں، اپنی جوانی اور اپنے حلال مال کو یوں ان بت پرستوں اور پیسے کے پجاریوں کے پیچھے ضائع نہ کریں۔ اور یہ بات اچھی طرح سے سمجھ لیں کہ آپ کی اس غیرشرعی حرکت کا کسی کا کوئی فائدہ نہیں ہونے والا ہے بلکہ صرف اور صرف آپ کی آخرت برباد ہونے والی ہے، اس لیے ابھی سچی پکی توبہ کریں اور پختہ عزم کرلیں کہ آئندہ ایسی چیزوں سے مکمل طور پر دور رہیں گے۔


اللہ تعالٰی ہمارے نوجوانوں کو عقل سلیم عطا فرمائے، فضولیات اور منکرات سے ان کی حفاظت فرمائے اور انہیں قوم وملت کے لیے نفع بخش بنائے۔ آمین یا رب العالمین


 محمد عامرعثمانی ملی 

(امام وخطیب کوہ نور مسجد) 


سیرة النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مختصر خلاصہ 3

0

 سیرة النبی ﷺ کا مختصر خلاصہ 


آقائے مدنی آنحضرت ﷺ کی حیات مبارکہ کو مؤرخین نے تین ادوار میں تقسیم کیا ہے۔ پہلا دور پیدائش سے نبوت تک، دوسرا دور دعوی نبوت سے ہجرت تک اور تیسرا دور ہجرت سے وصال تک۔


قسط نمبر 3


بعثت سے ہجرت تک


بعثت کے پہلے دوسرے اور تیسرے سال: غار حرا میں آپ ﷺ پر پہلی وحی نازل ہوئی۔

حضرت خدیجہ آپ کو ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئی،ورقہ بن نوفل نے نبوت کی خبر دی،اس وقت آپ کی عمر مبارک 40 برس تھی۔


دعوت اسلام کے لیے پہلے ہی روز حضرت خدیجہ،حضرت ابوبکر صدیق،حضرت علی اور حضرت زید بن حارث رضی اللہ عنہم اجمعین آپ ﷺ پر ایمان لائے۔

حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کی ولادت ہوئی۔


بعثت کے چوتھے سوال: فَاصدَع بِما تُؤمَرُ وَأَعرِض عَنِ المُشرِكينَ ( الحجر ٩٤)

اس آیت کے نازل ہونے کے بعد آپ ﷺ نے علانیہ اسلام کی دعوت شروع کردی


بعثت کے پانچویں سال: حبشہ کے جانی پہلی ہجرت ہوئی، جس نے ١١ مرد اور ٤ عورتیں تھیں۔

حبشہ کی جانب دوسری ہجرت ہوئی،جس میں ٨٢ مرد اور ١٨ عورتيں تھیں۔

قسط نمبر 2

قسط نمبر 1

بے دینی کا ایک عبرت انگیز واقعہ | اولادوں کی تربیت کیوں ضروری ہے؟

0

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
بے دینی کا ایک عبرت انگیز واقعہ


بے دین اولاد کو باپ کی عزت بھی نہیں کرتی ۔ ناظم آباد میں میرے ایک دوست نے اپنی زمینیں بیچ بیچ کر اور بہت مصیبت اٹھا کر اپنے بیٹے کو امریکا سے بہت بڑی ڈگری دلوائی اور اس لالچ میں اس نے بیوی کے انتقال کے بعد دوسری شادی بھی نہیں کی کیونکہ سوچا کہ اگر شادی ہو جائے گی تو لڑکے کی تعلیم میں خلل آجائے گا، جب وہ لڑکا پڑھ کر بہت بڑی ڈگری لے کر آیا تو اس کی شادی کر دی ۔ ایک دن میں نے خیریت معلوم کرنے کے لیے ٹیلی فون کیا میں نے کہا کہ کیا کر رہے ہو؟ انہوں نے کہا کہ چولہا جھونک رہا ہوں روٹی پکار ہا ہوں ۔
میں نے کہا: بہو کہاں ہے؟ کہا: وہ دونوں مجھ سے لڑ کر بھاگ گئے۔
مرے تھے جن کے لئے وہ رہے وضو کرتے
مری    نماز   جنازہ    پڑھائی    غیروں    نے
 
بیٹا اور بہو دونوں لڑ کر چلے گئے اور بوڑھا باپ آخر عمر میں چولسے میں لکڑیاں جھونک رہا ہے اور روٹی پکار ہا ہے۔

اولاد کو دین نہ سکھانے کا وبال ص :(۲۲)

عارف باللہ حضرت مولاناشاہ حکیم محد اختر صاحب رحمہ اللہ

سیرة النبی ﷺ کا مختصر خلاصہ 2

2

 سیرة النبی ﷺ کا مختصر خلاصہ 


آقائے مدنی آنحضرت ﷺ کی حیات مبارکہ کو مؤرخین نے تین ادوار میں تقسیم کیا ہے۔ پہلا دور پیدائش سے نبوت تک، دوسرا دور دعوی نبوت سے ہجرت تک اور تیسرا دور ہجرت سے وصال تک۔


قسط نمبر 2


پیدائش سے بعثت تک


 ولادت کے بارویں سال: اپنے چچا ابو طالب کے ہمراہ ملک شام کا پہلا تجارتی سفر فرمایا۔

سفر میں آپ ﷺ مال کو بحیر اراہب نے دیکھا، نبوت کی پیشینگوئی کی کہ یہ سید العالمین ہیں ،رب العالمین کے رسول ہیں جن کو اللہ نے تمام عالم کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔


ولادت کے بیسویں سال: آپ ﷺ نے اپنے چچا کیساتھ حرب فجار میں شرکت کی مگر قتال نہیں کیا۔

آپ ﷺ نے اپنے چچاؤں کیساتھ حرب فجار کے چار ماہ بعد حلف الفضول میں شریک ہوئے۔


ولادت کے پچیسویں سال: حضرت خدیجہ کا مال لے کر آپ ﷺ نے شام کا سفر فرمایا۔ آپ ﷺ کا یہ دو سرا ملک شام کا سفر تھا۔


آپ ﷺ کا حضرت خدیجہ سے نکاح ہوا، آپ کی عمر ۴۰ سال تھی۔


ولادت کے اڑتیسویں سال: نبوت کے ابتدائی مراحل کا آغاز ہوا، آپ ﷺ نے غار حرا میں عبادت فرمانے لگے ۔ سچے خوابوں کے ذریعے نبوت کی بشارت ہوئی۔

اگلی قسط

پچھلی قسظ

غیر مقلد اور سنی کے درمیان مناظرے کا اتمام، اور کمنٹی کا فیصلہ

0

سلسلہ رد غیر مقلدیت نمبر ١٠

 

اگر تم واقعی صلح پسند ہوتے تو تم اور تمہارے جیسے لوگ اہل سنت کو اختلافی مسائل میں نہ الجھاتے اور خود حکیم سالکوٹی صاحب اور ان جیسے دوسرے مصنفین اور حاشیہ نگار اپنی کتابیں لکھ کر فروعی اختلافی مسائل کو نہ اچھالتے ۔ اور یہ آخر میں تم نے بسم اللہ اونچی اور آہستہ پڑھنے کی بابت اپنے علما کا موقف ذکر کیا ہے تو اس موقعہ پر مولانا سیالکوٹی کی صلاۃ الرسول کے دو حاشیہ نگاروں کا تبصرہ دلچسپی سے خالی نہ ہوگا:


خـانہ جنگی : صلاۃ الرسول  ؐ “ کا ایک حاشیہ نگار تسہیل الوصول میں لکھتا ہے کہ حکیم محمد صادق رحمۃ اللہ علیہ و دیگر علما سے حدیث کا یہ فیصلہ بالکل صحیح ہے کہ بسم اللہ الرحمن الرحیم آ ہستہ اور پکار کر پڑھنا دونوں طرح جائز ہے (ص:۱۵۸) جبکہ صلاۃ الرسول کا دوسرا حاشیہ نگار القول المقبول میں لکھتا ہے:

” علامہ صنعانی ؒ  کا کہنا کہ آپ بھی جہراً پڑھتے اور کبھی سراً ‘‘ مگر ان کے اس دعوے پر کوئی صریح صحیح دلیل نہیں غالباً انہوں نے مختلف روایات کو جمع کرنے کی خاطر یہ کہا، جبکہ بسم اللہ جہراً پڑھنے کے بارے میں کوئی صحیح صریح دلیل نہیں‘‘۔ (ص:٣٥٦)

ایک ہی کتاب اور ایک ہی مسلک کے دو حاشیہ نگار جو پندرھویں صدی میں بقید حیات میں انہوں نے اپنے مقلدین و قارئین کو نماز کی بسم اللہ ہی میں الجھا دیا تو نماز کے بقیہ مسائل میں وہ ان کی کیا رہنمائی کر میں گئے؟ دونوں میں سے کون سی ہے اور کون غلط؟


رہ حیات میں جو بھٹک رہے ہیں ہنوز

بزعمِ خویش وہ اٹھے میں رہبری کیلئے




اور غیر مقلدین کے مقلد عوام تو بے بس و بے کس میں ان پر تو ہمیں ترس آتا ہے۔


 ع         الہی یہ تیرے سادہ دل بندے کدھر جائیں؟


میں موقّر فیصلہ کمیٹی سے درخواست کرتا ہوں کہ اس مسئلہ میں اپنا فیصلہ صادر فرمائیں۔



کمیٹی کا فیصلہ


گذشتہ گفتگو کو سن کر ہم اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ اہل حدیث مدّعی باجماعت جہری نماز میں امام کے اونچی بسم اللہ پڑھنے پر صیح بخاری و مسلم سے کوئی دلیل پیش نہیں کر سکا، بلکہ وہاں اس کے موقف کے خلاف دلیلیں موجود ہیں حتی کہ مدّ مقابل نے اسے سہولت دی کہ حدیث کی کسی بھی کتاب سے صحیح حدیث پیش کر دے لیکن وہ پیش نہ کر سکا۔


(۱) مدّعی نے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ کا عمل پیش کیا، جبکہ اپنے ہی طے شدہ اصول کے مطابق وہ صحابہ کے قول و عمل کو دلیل نہیں مانتا پھر یہ دلیل پیش کرنا کیسا؟


(۲) حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ کی عربی روایت کو دیکھ کر واضح ہو گیا کہ اس کے ترجمہ میں’’یعنی جہر سے‘‘ کے الفاظ اصل روایت میں نہیں۔


مدّعی کو خود بھی اعتراف ہے کہ اونچی بسم اللہ پڑھنے کی تمام روایات ضعیف اور من گھڑت ہیں۔


آخر میں مدّعی نے بسم اللہ اونچی اور آہستہ دونوں طرح پڑھنے کو درست کہہ کر اختلاف میں نہ پڑنے کی تلقین کی ہے تو یہ اس کی شاطرانہ چال ہے ۔ اگر یہ واقعی اتنے ہی روادار ہوتے تو امت کو فروعی مسائل میں الجھا کر کمزور و پریشان نہ کرتے ۔


نیز صلاۃ الرسول کے دو حاشیہ نگاروں کی خانہ جنگی نے اس چال کو بھی کمزور ومشکوک بنا دیا۔ نیز جہاں مدّعی کا موقف کمزور ہو وہاں و وه اتفاق و اتحاد کا داؤ استعمال کرتا ہے ۔


لہذا ہم اتفاق رائے سے فیصلہ کرتے ہیں کہ مدّعی اپنے موقف کو ثابت کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا۔


سنی: شکریہ، میں موقر فیصلہ کمیٹی کی اجازت سے ایک دلچسپ بات پیش کرنا چاہوں گا۔


 بسم اللہ اونچی پڑھنے کی بابت مدّعی کے دلائل کی کیا حیثیت ہے؟ وہ گذشتہ صفحات میں سامنے آ گئی۔ اس کے باوجود غیر مقلد مصنف کس جرات سے اپنے دلائل کی حقیقت چھپا کر عام لوگوں پر جعلی رعب جماتے ہیں اس کا ایک نمونہ ملاحظہ ہو:

مشہور غیر مقلد مولا نا عبداللہ روپڑی اپنی کتاب ’’امتیازی مسائل‘‘ کے ص ۳۶ پر مولانا تھانوی ؒ  پر رد کرتے ہوئے لکھتے ہیں : ” کم سے کم جو جہر کی حدیث ہے اس کو رد کرنا چاہئے تھا لیکن مولوی اشرف علی نے ایسا نہیں کیا بلکہ صرف نہ پکار کر پڑھنے کی حدیث ذکر کر کے چلتے ہے۔ باقی اللہ اللہ خیر صلّا ، خیر ہم بھی اس کو نہیں چھوڑ کر ساتواں مسئلہ لکھتے ہیں ۔


 غیر مقلد: ابھی تو آغاز ہے آگے چل کر جب ہمارے مشہور زمانہ مسائل شروع ہونگے تو دلائل کا پتہ چلے گا۔


سنی: جو لوگ اپنی نماز کی بسم اللہ ہی صحیح دلیل سے ثابت نہ کر سکے وہ آگے چل کر کیا کریں گے؟


فیصلہ کمیٹی اس گفتگو کو روک کر اگلے مسئلے پر گفتگو شروع کی جائے۔


اگلا صفحہ

سیرۃ النبی ﷺ کا مختصر خلاصہ 1

0

 سیرۃ النبیﷺ کا مختصر خلاصہ 


قسط نمبر 1


پیدائش سے بعثت تک

 آقائے مدنی آنحضرت ﷺ کی حیات مبارکہ کو مؤرخین نے تین ادوار میں تقسیم کیا ہے ۔ پہلا دور پیدائش سے نبوت تک، دوسر دور دعوی نبوت سے ہجرت تک اور تیسرا دور ہجرت سے وصال تک۔

ولادت والے سال: حضرت محمد ﷺ ان کے والد ماجد عبد اللہ بن عبد المطلب کا آپ کی پیدائش سے قبل انتقال ہو گیا ، وفات کے وقت ان کی عمر تقریباً ۲۵ برس تھی۔

(اراق الاول عام الفیل بمطابق ۱۳\اپریل ۵۷۱ء فجر کے وقت آپ کی ولادت ہوئی)

آپ کے دادا نے ساتویں دن عقیقہ کیا اور آپ کا نام محمد ﷺ کھا۔

ولادت کے چوتھے سال: قبیلہ بنی سعد کے محلے میں پہلا واقعہ شق صدر

ولادت کےچھٹے سال: آپ ﷺ نے اپنی والدہ ماجدہ حضرت آمنہ کیساتھ مدینہ کا پہلا سفر فرمایا۔
مدینہ سے واپسی پر مکہ ومدینہ کے درمیان ایک جگہ ابواء پر آپ کی والدہ کی وفات ہوئی۔

والدہ کی وفات کے بعد آپ کے دادا عبد المطلب نے آپ کی پرورش کی ۔

ولادت کے آٹھویں سال: آپ ﷺ کے دادا عبد المطلب کی وفات ہوئی۔

دادا کی وفات کے بعد اپنے چچا ابو طالب کی کفالت میں آئے۔

غیر مقلد اور سنی کے درمیان گفتگو، مولانا سیالکوٹی اور اسماعیل نے اپنی تحریر میں لفظ بھی اور عموماً سے لوگوں غلط میں تاثر کیون دیا

0

 سلسلہ رد غیر مقلدیت نمبر ٩


دوسری ملاقات   

السلام علیکم        وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ 

 

 سنی: کیا نئی معلومات لائے ہیں؟ 


غیر مقلد: جس روایت میں بھی آنحضور ﷺ کے بسم اللہ اونچی آواز میں پڑھنے کا تذکرہ ہے تو جب میں نے اس کی سند کی جانچ پھٹک کی تو وہ ضعیف بلکہ بہت ہی ضعیف نکلی


(۱) امام ابن تیمیہ ؒ پر ہمارے حضرات کافی اعتماد کرتے ہیں انہوں نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ : اہل علم کا اتفاق ہے کہ بسم اللہ اونچی پڑھنے کے بارے میں کوئی صحیح حدیث موجود ہیں اور جن میں اونچی پڑھنے کا ذکر ہے وہ موضوع اور من گھڑت ہیں ۔ (مختصر فتاوی ابن تیمیہ (٤٨،٤٦)


(٢) پھر ان کے شاگرد علامہ ابن قیم ؒ کی تحقیق پر ہمارے لوگ اعتماد کرتے ہیں ۔ وہ لکھتے ہیں کہ صحیح احادیث میں بسم اللہ اونچی پڑھنے کا ذکر نہیں اور جن میں اونچا پڑھنے کا ذکر ہے وہ صحیح نہیں ۔(زادالمعاد ٢٠٧/١)


(۳) حتی کہ ہمارے فرقے کے کرتا دھرتا نواب صدیق حسن خان صاحب ؒ نے بھی اعتراف کرلیا کہ نماز کو الحمد للہ سے شروع کرنا اور بسم اللہ کو اونچی نہ پڑھنا ہی آنحضرت سے صحیح طور پر ثابت ہے (مسک الختام ٣٧٩/١)

(۴) نیز ہمارے شیخ الحدیث مولانا جانباز صاحب نے لکھا ہے کہ بسم اللہ جہر سے پڑھنے کے بارے میں بعض ضعیف اور متعدد سخت ضعیف اور من گھڑت قسم کی روایات سنن دارقطنی وغیرہ میں موجود ہیں ۔(صلاۃ المصطفی ؐ (ص ۱۵۹ نیز القول المقبول ۳۵۵)


(۵) ہمارے سندھو صاحب القول المقبول صفحہ ۳۵۳ پر لکھتے ہیں: ” راحج اور قوی مذہب کے مطابق بسم اللہ الرحمن الرحیم کو سراً ہی پڑھنا چاہیے“۔

مجھے تعجب اور حیرت ہے کہ ایسی صورتحال میں ہمارے مولانا سیالکوٹی صاحب نے اپنی تحریر میں لفظ ’’بھی‘‘ اور شیخ الحدیث مولانا اسماعیل صاحب نے اپنی تحریر میں ’’عموماً ‘‘ کا لفظ لکھ کر اپنے مسلک کے لوگوں کو غلط تاثر کیوں دیا ؟ ہاں البتہ ہمارے مولانا سیالکوٹی صاحب نے اس بحث میں بڑی خوبصورت بات کی ہے کہ ”پس اگر جہری نمازوں میں کوئی امام بسم اللہ پکار کر پڑھے تو انکار نہ کر میں اور نہ ہی اس چیز کو بحث کا موضوع بنائیں‘‘ ( صلاۃ الرسول ص۱۹۴)


نیز شیخ الحدیث مولانا جانباز صاحب لکھتے ہیں: بسم اللہ آہستہ یا بلند دونوں طرح جائز ہے پڑھنے والے کو اختیار ہے خواہ آہستہ پڑھے خواہ جہر سے ۔ (صلاۃ المصطفی ص ۱۵۵)


ہمارے فتاوی اہل حدیث ۱۳٨/۲ پر بھی ہے کہ بسم اللہ دونوں طرح درست ہے خواہ سرّی پڑھے یا جہری۔


مولانا اسماعیل سلفی لکھتے ہیں: آنحضرت ﷺ کا عام معمول تو وہی ہے کہ بسم اللہ آہستہ پڑھتے تھے لیکن کبھی جہر بھی فرماتے ۔(رسول اکرم ﷺ کی نماز ۷۴ )


مولانا عبداللہ روپڑی لکھتے ہیں : نماز میں بسم اللہ پکار کر نہ پڑھے شافعی پکار کر پڑھتے ہیں اہل حدیث کا دونوں پرمل ہے کیونکہ دونوں طرف احادیث ہیں ۔ ( امتیازی مسائل ۷۶)


لہذا میرے پیارے دوست ہمیں ان فروعی اختلافات میں الجھنا نہیں چاہیے، آپ اپنی جگہ صحیح ہم اپنی جگہ صحیح ۔


 سنی: بڑے ہوشیار بنتے ہو! جب دیکھا کہ صحیح بخاری ومسلم سے تمہارا دعویٰ ثابت نہ ہوسکا بلکہ تم کوئی بھی صحیح وصریح اور مرفوع حدیث پیش کرنے سے عاجز آ گئے تو تمہارا فرض تھا کہ صحیح بخاری ومسلم کی حدیث کے مطابق نظریہ کوقبول کرو۔


 تعصب کو بالائے طاق رکھ کر اپنے گروہی نظریہ سے برأت کا اعلان کرو اور بسم اللہ آہستہ پڑھو اور تسلیم کرلو کہ نماز کی جن اردو کتابوں کو پڑھ کر اور پنجابی واعظوں کی تقریر میں سنکر تم اچھلتے کودتے ہو ان مصنفوں اور واعظوں نے اپنے مسلک کے لوگوں کو حقیقت واقعہ سے اوجھل رکھا ہے، لیکن دلائل سے عاجز آنے کے بعد تم صلح پسند بن گئے ہو اور پھر بھی اصرار کر تے ہو کہ بلا دلیل ہی تمہارا موقف بھی میچ ہو جائے۔


جو چاہیں حدیث صحیح چھوڑ جائیں

ضعیف اور موضوع گلے سے لگائیں




 اگر تم واقعی صلح پسند ہوتے تو تم اور تمہارے جیسے لوگ اہل سنت کو اختلافی مسائل میں نہ الجھاتے اور خود حکیم سالکوٹی صاحب اور ان جیسے دوسرے مصنفین اور۔۔۔


اگلا صفحہ


غیر مقلد اور سنی درمیان گفتگو، سورة فاتحہ سے پہلے بسم اللہ...اونچی یا آہستہ؟ غیر مقلد نے مناظرہ سے اجازت لی

0

 


سلسلہ رد غیر مقلدیت نمبر ٨


غیر مقلد: ہمارے مایہ ناز شیخ الحدیث مولانا محمد اسماعیل سلفی ؒ اپنی کتاب” رسول اکرم ﷺ کی نماز کے ص۷۳ پر لکھتے ہیں’’آنحضرت ﷺ جہری نمازوں میں بسم اللہ عموماً آہستہ پڑھتے تھے قرأت عموماً الحمد للہ رب العالمین سے شروع فرماتے ۔ اس عموماً والی بات سے معلوم ہوا کے آپ کبھی کبھی بسم اللہ اونچی بھی پڑھتے تھے، جیسا کہ مولانا مزید لکھتے ہیں: آنحضرت ﷺ کا عام معمول تو وہی تھا کہ بسم اللہ آہستہ پڑھتے تھے لیکن کبھی جہر بھی فرماتے اس لیے بھی درست ہے ۔ (ص۷۴)

سنی: حضرت شیخ الحدیث لوگوں کو یہی باور کرانا چاہتے ہیں۔ لیکن کیا کوئی ایک صحیح حدیث دکھا سکیں گے جس میں عموماً والی بات کا ثبوت ہو؟

غیر مقلد: مندرجہ بالا کتاب میں مصنف موصوف نے اس کا حوالہ تو نہیں دیا،لیکن وہ شیخ الحدیث تھے ان کے پاس اس کا کوئی حوالہ تو ہوگا۔


 سنی: محترم ہم یہاں ہوا میں گھوڑے دوڑانے کے لئے نہیں بیٹھے، آپ دلیل کی زبان میں بات کریں ،اور زبانی جمع خرچ کرتے ہوئے، آپ میرے سامنے چودھویں صدی کے حکیم سیالکوٹی صاحب کے اضافہ شدہ بریکٹ اور مولانا اسماعیل صاحب کی تحریر میں سے لفظ کبھی سے استدلال کرنے کی بجائے یہ صحیح بخاری وصحیح مسلم لیں اور اس سے اپنائی دعویٰ ثابت کریں۔

 

غیر مقلد: یہ عر بی والی صحیح بخاری ومسلم اپنے پاس رکھیں، میرے پاس اردو ترجمہ والے نسخے میں ابھی آپ کو دلیل نکال کر دکھاتا ہوں چونکہ ہمارے مسلک کی بنیاد ہی بخاری و مسلم پر ہوتی ہے۔۔۔(پھر منہ میں کچھ کہتے ہوئے) صحیح بخاری میں تو کچھ نہیں ملا اب صحیح مسلم میں ڈھونڈتا ہوں۔


سنی: آپ صحیح بخاری و مسلم کئی بار بار ورق گردانی کرتے ہوئے جب ایک حدیث پر پہنچے تو آپ کا رنگ فق ہو جاتا ہے اور اب جھٹ سے اس کو ہاتھ سے چھپا لیتا ہے اور سرقہ پلٹ دیتے ہیں، اس میں کیا راز ہے؟ کچھ ہے جس کی پردہ داری ہے۔

غیر مقلد: آپ کو غلط فہمی ہورہی ہے ایسی کوئی بات نہیں۔


سنی: محترم یہ صحیح بخاری کے باب م یقول التکبیر اور  صحیح مسلم حجۃ من لایجھر بالبسملۃ کے ذیل میں کیا لکھا ہے؟ ذرہ اوچی آواز سے پڑھیں۔


غیر مقلد: یہاں تو لکھا ہے کہ:

حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ رسول حضرت ابوبکر ؓ اور عمر ؓ

نماز الحمد للہ رب العالمین سے شروع کرتے تھے۔ (صحیح بخاری٧٤٣)

 حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ رسول الله ﷺ  حضرت ابوبکر ؓاور عمر ؓ وعثمان ؓ  کے پیچھ نماز پڑھی اُنمیں کسی ایک سے بھی بسم اللہ الرحمٰن الرحیم نہیں سنی۔(صحیح مسلم حدیث٨٩٠)

سنی: لیجئے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو گیا کہ پیارے پیغمبر ﷺ سے سورۃ فاتحہ سے پہلے اونچی بسم اللہ پڑھنا ثابت نہیں ہے۔ 


   اب ایک طرف صحیح بخاری و مسلم ہے اور دوسری طرف آپ کا مسلک ہے،صحیح بخاری و مسلم کی طرف آؤ تو تمہارا مسلک جاتا ہے، مسلک پر قائم رہوگے تو صحیح بخاری و مسلم کے سائے شفقت سے محروم ہوتے ۔اب میں دیکھا تا ہوں کہ تم کدھر جاتے ہو؟ 

عجب الجھن میں ہےدرزی جو کف ٹانکا تو چاک ادھڑا

ادھر ٹانکا ادھر ادھڑا ادھر ٹانکا ادھر ادھڑا


غیر مقلد: حکیم صادق صاحب صلاۃ الرسول ص ۱۹۴ کے حاشیہ میں لکھتے ہیں کہ بسم اللہ آہستہ پڑھنے کی بھی کئی صحیح حدیثیں ہیں‘‘ اس عبارت میں ’’ بھی‘‘ کے لفظ سے پتا چلتا ہے کہ اصل دلائل تو اونچی بـسم اللہ پڑھنے کے ہیں ،البتہ آہستہ پڑھنے کے بھی کچھ ہیں اگر صحیح بخاری ومسلم میں نہیں تو دوسری حدیث کی کتابوں میں ہوں گے ان کود یکھ لیتے ہیں۔


سنی: (۱) صحیح بخاری ومسلم سے آپ اونچی بسم اللہ کا ثبوت نہیں دے سکے اب آجا کے لفظ بھی اور لفظ بھی کو بطور دلیل پیش کر رہے ہو۔

(٢ن) صحیح بخاری ومسلم میں آپ کے اس دعوے کے خلاف احادیث موجود ہیں جو ابھی آپ نے میرے کہنے پر پڑھ کر سنائیں.


(۲) آپ کے طے شدہ اصول کے مطابق آپ کو صحیح مسلم و بخاری کے سامنے سر تسلیم خم کر دینا چاہیے تھا۔ چونکہ آپ لوگوں کو یہ باور کراتے ہیں کہ بخاری مسلم کی روایت ایک طرف ہو اور دوسری کتابوں کی روایت دوسری طرف ہوتو بخاری مسلم والی روایت پر عمل کریں گے، اس لئے کہ وہ زیادہ قوی ہے ،لیکن اب آپ انہیں خود ہی نظر انداز کر کے دوسری حدیث کی کتابوں میں دلیل ڈھونڈ نا چاہتے ہیں۔ 


اب اگر فیصلہ کمیٹی کی منظوری ہو تو میں آپ کو ڈھیل دیتا ہوں کہ چلیں آپ بقیہ کتابوں سے ہی کوئی صحیح حدیث مرفوع پیش کردیں جس میں بسم اللہ اونچی پڑھنے کی صراحت ہو۔


آقا ﷺ آہستہ پڑھتے تھے بسم اللہ فاتحہ سے پہلے

    من گھڑت حدیث اپناتے ہیں ٹھکرا کے بخاری کی باتیں




    اس کوشش کے بعد آپ کو صادق صاحب کی صداقت کا اندازہ ہو جائے گا جس کی طرف انہوں نے ’’ بھی‘‘ کے لفظ سے اشارہ کیا ہے۔ اب فرمائے حدیث کی کونسی کتاب پیش کروں؟


    غیر مقلد: آپ کے پاس تو کتب حدیث کے عربی نسخے ہیں ۔ میں اردو نسخوں سے مطالعہ کرنا چاہتا ہوں، نیز اپنے علماء سے بھی استفادہ کر کے آئندہ نشست میں آپ کو جواب دوں گا ۔ آپ مجھے ایک دن کی مہلت دیں۔


    فیصلہ پينل : آپ نے جن اصولوں پر دستخط کیے ہیں نام تو ان اصولوں کے مطابق فیصلہ کے پابند ہیں اور اس کے مطابق صورت حال بالکل واضح ہے کہ مدعی اپنے موقف پر سیح بخاری و مسلم کی کوئی حدیث پیش نہ کر سکا ۔ پھر بھی ہم نے مدعی کو ڈھیل دے کر ان کے طے شدہ معیار سے کم درجہ کے دلائل پیش کر نے کا موقع دیا لیکن وہ کوئی صحیح حدیث پیش نہ کر سکا، اب اگر آپ انہیں مزید ڈھیل دینا چاہتے ہیں تو ہمیں بھی کوئی اعتراض نہیں تا کہ واضح ہو جائے کہ ان کے دامن کی کل پونی کیا کچھ ہے؟


    غیر مقلد: آپ کا بہت شکریہ اور اجازت


    اگلا صفحہ

    © 2023 جملہ حقوق بحق | اسلامی زندگی | محفوظ ہیں