ردِ غیر مقلدیت نمبر ۱۶
فیصلہ کمیٹی: جانبین کی گفتگو سننے کے بعد ہم متفقہ طور پر اس نتیجہ تک پہنچے ہیں کہ:
(۱) اہل حدیث ساتھی نے مولانا ثناء اللہ امرتسری پر اعتماد کرتے ہوئے دعوی کیا کہ سینے پر ہاتھ باندھنے کی روایات بخاری ومسلم میں ہیں لیکن صحغ بخاری ومسلم میں سے وہ ایسی کوئی روایت نہیں دکھا سکا۔
(۲) ہم نے خصوصی گنجائش دی کہ چلوکسی اور کتاب سے کوئی صحیح حدیث پیش کر دو تو اس نے ابن خزیمہ کی ایک روایت پیش کی جس کی سند کو اسی کتاب کے
حاشیہ نگار نے ضعیف قرار دیا۔
(۳) حکیم سیالکوٹی نے حضرت بلب کی روایت کا جو حشر کیا اس پر ہمیں انتہائی دکھ اور افسوس ہوا۔ نیز اس کی سند میں بھی ساک بن حرب کمزور ہے ۔
(۴) پھر حضرت ابن عباس کی روایت کے استدلال کیا گیا ہے جبکہ خود اہل حدیث حضرات قول صحابی کو حجت نہیں سمجھتے، نیز اس میں واردمفہوم پر ان کا اپناعمل
بھی نہیں نیز اس کی سند میں تین راوی بہت ہی کمزور ہیں ۔
الغرض ’’صلاۃ الرسول " ‘‘میں بیان کردہ پانچ حدیثوں کی سند کی حیثیت دیکھنے کے بعد واضح ہوا کہ سینے پر ہاتھ باندھتے کا مدعی صحیح بخاری ومسلم کی حدیث تو کجا کوئی ایک روایت بھی پیش نہیں کر سکا جس کی سند صحیح ہو۔
(۵) غیر مقلد مدعی نے آخر میں مولانا اسماعیل سلفی صاحب کی جو عبارت پیش کی ہے اگر یہ شروع میں پیش ہو جاتی تو ہمیں اس موضوع پر بی طویل گفتگو سننے کی ضرورت ہی نہ پڑتی کہ جب دونوں طرح نماز ہو جاتی ہے اور ان کے بقول صحابہ کا عمل دونوں طرح ہے تو پھر ایک دوسرے پر اعتراض کی گنجائش ہی نہیں۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
ویب گاہ کی بہتری کے لیے آپ کی قیمتی رائے ہمارے لیے اہم اور اثاثہ ہے۔