ڈریم الیون (11) ایک ہندوستانی خیالی ( فنتاسی) کھیلوں کا چبوترا (پلیٹ فارم) ہے۔ جس کا آغاز ورون پرموڈ داگا، بھاوت راجیش شیتھ اور ہرش آنند کمار جین، جو ان کے کاغذی شراکت دار ( Partner's) بھی ہیں۔ آؤٹ لک (OutLok) کے مطابق، ہرش جین کا کہنا ہے کہ ہمارے ذہن میں یہ خیال 2008 کے آئی پی ایل (IPL) سے آیا۔
اس کے دو بڑے مرکزی دفتر (Headquarters) ممبئی اور مہاراشٹر انڈیا میں ہے۔ ۲۰۱۲ میں یہ کمپنی عوامی متعارف ہوں گی۔ اوٹ لُک میں اشتہار آیا تھا کہ ۲۰۱۴ میں کمپنی کی طرف سے اطلاع دی گئی، ہمارے ایک ملین صارفین (Users) ہے جو کہ ۲۰۱۸ میں 45 میلن تک پہنچ گئے۔
۲۰۱۶ میں انڈین ہائی کورٹ میں کمپنی کے خلاف مقدمہ درج ہوا، کوٹ نے: آندھرا پردیش، اڑیسہ تلنگانہ وغیرہ میں پابندی عائد کی پھر سپریم کورٹ آف انڈیا نے Gambling Law کے موجودگی میں بھی اس کو جوابازی میں شریک نہیں کیا بلکہ یوں لکھا کہ کی یہ ہنر پر موقوف ہے۔ کیا یہ واقعی جوا نھیں ہے؟ اس تفصیل آگے آرہی ہے۔ مگر Google نے Google Play Store پر ڈریم 11 کی ایپ موجودگی کی اجازت نہیں دی۔
ڈریم 11 کمپنی کی انکم کتنی ہے۔
Income of Dream 11
اس کی انکم کی بات کرے تو عام انسان یہ تصور نہیں کر سکتا ہے کہ صرف ایک ایپ سے کمپنی 750 انکم کرتی ہے۔ کیسے؟ اس ایپ میں مقابلے contests ہوتے ہے تمثیلاً ایک مقابلے کی داخل فیس (Entry Fee) 49 روپے ہے اور اس مقابلے میں 1360544 صارفین داخل ہوسکتے ہے۔ اس مقابلے کی انعامات 5 لاکھ ہوتے ہے۔ اگر 49×1360544 کیا جائے تو ٹوٹل66666656 کرول ہوگا۔ اگر مان بھی جائے گی 5 لاکھ تقسیم کیا بھی گیا پھر بھی 66666656 بچ جاتے ہیں جب کہ ایسا ہوتا نہیں ہے کبھی کبھار اس سے زیادہ بھی بچت ہوتی ہوگی۔
یہ تو صرف ایک مقابلے کی بات ہوتی ہیں اس طرح نہ جانے کتنی مقابلے ہوتے ہیں اور کتنی رقم کمپنی والوں کے پاس چلی جاتی ہے۔ ایک سروے کے مطابق ڈریم الیون نے FY19 میں 736Cr ریونیو جنریٹ کیا تھا جبکہ سال ۲۰۱۹ میں اس کے اتنے صارفین نہیں تھے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں ابھی اس کے آٹھ سو ملین صارفین ہیں ابھی یہ کتنی انکم کرتی ہوگی۔ اس طرح ایک اور مقابلے جو 35 کا ہے جس میں 2285714 صارفین داخل ہوسکتے ہے۔
ڈریم الیون اسلام میں حرام کیوں ہے۔ Why Dream 11 is prohibited in Islam
آدمی ہمیشہ اپنا فائدہ دیکھتا ہے جب کہ انسان کی فطرت انسانیت کا فائدہ دیکھتی ہے۔ چونکہ دینِ اسلام دینِ فطرت ہیں۔ اس لئے اس کا ہر عمل، حکم فطرت پر مبنی ہوتا ہے اور فطرت کا تقاضا ہے کہ وہ انسانیت کو فائدہ پہنچاتی ہے۔ اگر آپ نے غور و فکر کے ساتھ اوپر کی تحریر کا مطالعہ کیا ہوگا۔ آپ ایک بات ضرور سمجھ گئے ہونگے کہ حرام کام سے ہی مزید حرام کاموں کا خیال آتا ہے۔ جیسے ہرش جین کو آئی پی ایل(IPL) کی وجہ سے اس ڈریم الیون کا خیال آیا تھا۔ ڈریم الیون میں مندرجہ ذیل خرابیاں پائی جاتی ہیں جس کی وجہ سے اس کو حرام قرار دیا گیا تھا۔
1۔ یہ جوے ایک تبدیلی شکل ہے:
عام طور پر اس میں کرکٹ مقابلے ہوتے ہیں کرکٹ کو چونکہ ایک جوا ہی کی شکل کہا جاتا ہے۔ دونوں طرف کا پیسا لگایا جاتا ہے ہار جیت کا احتمال ہوتا ہے۔ اس میں تو اس سے زیادہ بھی احتمال ہوتا ہے کرکٹ میں تو صرف دو ٹیموں میں احتمال ہوتا ہے جبکہ یہاں پر دو ٹیمیں میں چنے گئے افرادوں کی کارکردگی پر احتمال ہوتا ہے۔ اس لے قمار کی شرط پائی جاتی ہے جس سے یہ حرم ہو جاتی ہے۔
2۔ استحصال سے پیسہ کمایا جاتا ہے:
کمپنی جو انعامات رکھتی ہیں وہ مقابلے کی داخل فیس سے جمع کرتی ہے جو کہ دوسروں کی رقم ہوتی ہے، ایک شخص کو یہ رقم صرف بغیر محنت، صرف احتمال کی بناء پر ملتی ہے وہی استحصال ہے جو کہ کلام الٰہی قرآنِ مجید نے منع فرمایا ہے۔ ولا تاکلوا امواکم بینکم بالباطل: استحصال سے آپس میں مال مت کھاؤ۔
3۔ اسلامی تجارت کے قوانین کے خلاف:
اسلام میں پیسے کا حکم ہے کہ یہ مارکیٹ میں گردش کرتا رہے نہ کہ کسی ایک شخص کے پاس پیسہ جمع ہو جائیں۔ اوپر کی تفصیلات سے ہمیں یہ بات پتا چلتی پیسہ (ناجائز طریقہ سے) تقسیم بہت کم ہوتا ہے اور کمپنی کے پاس زیادہ جمع ہو جاتا ہے وہ بھی ناجائز طریقہ سے۔
اور فزوں خامیاں اس میں پائی جاتی ہے جس کی بنا پر دارالافتاؤں نے بھی اس پر ناجائز کا فتوی شائع کیا ہے۔
جیسے دارالعلوم دیوبند کا فتویٰ نقل کیا جاتا ہے:
یہ گیم ڈریم کھیلنا اور اس میں جیتے ہوئے پیسوں کا استعمال کرنا جائز نہیں، یہ ایک قسم کا جُوا ہے اور جوا کو اللہ نے قرآن پاک میں حرام فرمایا ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
(Fatwa::428-334/B=5/1441)
اسی طرح دارالافتاء جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن پاکستان سے فتویٰ شائع ہوا ملاحظہ فرمائیں:
ڈریم 11 کھیلنے کا حکم
سوال
کیا ڈریم 11 کھیلنا جائز ہے؟
جواب
کسی بھی قسم کا کھیل جائز ہونے کے لیے مندرجہ ذیل شرائط کا پایا جانا ضروری ہے، ورنہ وہ کھیل لہو ولعب میں داخل ہو نے کی وجہ سے شرعاً ناجائز اور حرام ہوگا:
1۔۔ وہ کھیل بذاتِ خود جائز ہو، اس میں کوئی ناجائز بات نہ ہو۔
2۔۔ اس کھیل میں کوئی دینی یا دنیوی منفعت ہو مثلاً جسمانی ورزش وغیرہ ، محض لہو لعب یا وقت گزاری کے لیے نہ کھیلا جائے۔
3۔۔ کھیل میں غیر شرعی امور کا ارتکاب نہ کیا جاتا ہو، مثلاً جوا وغیرہ۔
4۔۔ کھیل میں اتنا غلو نہ کیا جائے کہ شرعی فرائض میں کوتاہی یا غفلت پیدا ہو۔
5۔۔وہ کھیل تصاویر اور ویڈیوز سے پاک ہو۔
حاصل یہ ہے کہ اگر کسی گیم میں مذکورہ خرابیاں پائی جائیں، یعنی اس میں غیر شرعی امور کا ارتکاب کیا جاتا ہو، مثلاً: جان دار کی تصاویر، موسیقی اور جوا وغیرہ ہوں، یا مشغول ہوکر شرعی فرائض اور واجبات میں کوتاہی اور غفلت برتی جاتی ہو، یا اسے محض لہو لعب کے لیے کھیلا جاتا ہو تو خود اس طرح کا گیم کا کھیلنا بھی جائز نہیں ہوگا۔ اور اگر یہ خرابیاں نہ ہوں تو بھی موبائل پر گیم کھیلنے میں نہ جسمانی ورزش ہے، نہ دینی یا بامقصد دنیوی فائدہ ہے، بلکہ وقت اور بعض اوقات پیسے کا ضیاع ہے؛ اس لیے بہر صورت اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔
صورتِ مسئولہ میں مذکورہ گیم کے بارے میں حاصل کردہ معلومات کے مطابق، یہ موبائل وغیرہ میں کھیلا جاتا ہے، اس میں تصاویر، کارٹون پائے جاتے ہیں، نیز اس کے کھیلنے سے کوئی دینی یا دنیوی منفعت بھی مقصود نہیں، لہذا اس کا کھیلنا جائز نہیں ہے، بلکہ وقت کا ضیاع ہے، لہٰذا اس سے اجتناب کیا جائے۔ فقط واللہ اعلم
فتوی نمبر : 144203201439
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
مندرجہ بالا نقصانات، خامیوں اور شرطِ قمار کی وجہ سے ہمیں اسے اجتناب کرنا چاہیے اور اللہ تعالیٰ سے دعا گو رہنا چاہیے کہ حلال رزق کو کمانے کی توفیق عطا فرمائیں اور انسانیت خصوصاً اہلِ اسلام کو فہمائش کو جاری رکھنا چاہیے تاکہ ہماری دنیا و آخرت محفوظ رہیں۔ آمین
سود کو عربی میں رباء اور انگریزی میں اس کے لیے انٹرسٹ(interest,Usury) کے الفاظ مستعمل ہیں۔ رباء ،یربوا، ربواً سے نکلا ہے جس کے معانی زیادتی،اضافہ کے ہے۔ قرآن مجید میں بھی اسی منعی سے استعمال ہوا ہے۔
ایک غلط فہمی اور اس کا ازالہ:
سود لفظ جب بھی بولا جاتا ہے تو خالص بینک سے انٹریسٹ لینے کو سود تصور کیا جاتا ہے جبکہ ایسا نہیں ہیں ہر عقد چاہیے وہ سود کا کاروبار ہو، خرید وفروخت ہو یا کرایہ کے ذریعے یا وہ تمام نت نئے ذرائع جس سے پیسے سے پیسہ لیا جائے، سود ہی کہلایا جائے گا۔
سود ان جرائم میں سے ہے جس کو اس کے مضر اثرات اور منفی نتائج کی وجہ سے مختلف مذاہب و مکاتیبِ فکر نے نہ صرف جرم قرار دیا بلکہ غیر ضروری فعل قرار دیا ہے۔ مختلف مذہبی تعلیمات میں حرمتِ سود کا تذکرہ ملتا ہے۔جن میں اسلام، ہندومت،بدھ مت، یہودیت، عیسائیت سر فہرست ہیں۔
حرمتِ سود ہندومت میں :
جدید دَور کے ہندو اگرچہ سود لینے میں کوئی کراہت محسوس نہیں کرتے ہیں۔ جبکہ اِن کی مذہبی کتابوں میں سود حرام ہی قرار دیا گیا ہے، جیسے مہابھارت انوساسنا پروا سیکشن ٢٣ میں لکھا گیا ہے:
They who betake themselves to improper conduct, they who take exorbitant rates of interest, and they who make unduly large profits on sales, have to sink in hell
وہ لوگ جو اپنے آپ کو غلط طرز عمل کی طرف راغب کرتے ہیں ، وہ جو بہت زیادہ شرح سود لیتے ہیں ، اور جو فروخت پر ناجائز منافع کماتے ہیں ، انہیں جہنم میں ڈوبنا پڑتا ہے۔
جبکہ یہاں تک لکھا گیا ہے کہ ان برہمنوں کی گھروں میں کھانا مت کھاؤ جو سود لیتے ہیں۔
Boudhain rules that food should not be eaten in the house of Brahmans who receive usury (Prachin Bharat Ka Itihas)
سوترا دور کے دوران علی زات کو سود لینے سے منع کرتے تھے۔
During the Sutra period in India (7th to 2nd centuries BC) there were laws prohibiting the highest caste from practicing usury (Indigenous Banking of India)
اور بھی مذہبی کتابوں میں اس کی ممانعت کا تذکرہ ملتا ہے جیسے ہندومت کی ایک مشہور کتاب مانوسمرتی میں سود کی مقرر شرح کو قانون کے خلاف کہا ہے۔
نوٹ: ہندو دھرم کی کچھ مذہبی کتابوں میں کم درجے کا سود لینے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے ہیں۔
حرمتِ سود عیسائیت و یہودیت میں:
عیسائیوں کے پاس بھی آسمانی کتابوں میں سے ایک کتاب ہے اگرچہ وہ اپنی اصلی شکل میں موجود نہیں ہیں۔ پھر بھی اُس کتاب میں سود کو ناجائز اور لا یعنی عمل کے حکم سے آمیز ہے۔ جیسے رومن کیتھولک چرچ نے فورتھ (4th) صدی میں سودی کاروبار کو حرام اور پھر آٹھویں سحری میں سودی کاروبار کو مجرمانہ قرار دیا پر سرمایہ داری نظام کی زد میں خود ساختہ قانون بنا کر سود کو جائز قرار دیا، عیسائیت اپنی مذہب کے ساتھ کمپرومائز (compromise) کرنا شروع کر دیے جس کا ثبوت حال ہی میں وائرل ہونے والی ایک کلپ دیتی ہے جس میں Andrew Tat( امریکہ کا مشہور باکسر)
جس میں اینڈریو ٹیٹ بولتے ہیں کہ عیسائیت ہر ایک مسئلہ کے ساتھ کمپرومائز کرتی ہے، اور مجھے اسلام اس لیے ے بھی پسند ہے کہ یہ کمپرومائز نہیں کرتے ہیں۔
خیر Exddus, Deuteronomy میں بھی سودی کاروبار سے منع فرمایا ہے اور سود پر ایک دوسرے قرض کو دینے سے بھی منع فرمایا ہے۔
Jew are forbidden to lend at interest (usury) to one another (Edodus 22:25, Deuteronomy 23:19-20)
جبکہ Leviticus میں کسی بھی شکل کا سودا قابلِ قبول نہیں ہے۔ اور سود لینے والے کو خدا کا خوف کی تلقین کی گئی۔(Leviticus 25:36)
یہودی اور عیسائی Exoddus اور Leviticus یہ دونوں تورات کی پرانی شکل مانی جاتی ہیں ، Deuteronomy جو کہ بائبل کی پانچویں کتاب ہے۔ یہاں بھی لکھا گیا ہے کہ خدا کا باغی بندہ ہی سود لیتا ہے (Ezekiel 18:10) جبکہ تلمود (Talmud) میں بھی سود کو ناجائز قرار دیا ہے۔
حرمتِ سود دین فطرت میں:
حرمت سود کے متعلق اسلام نے واضح بیان کیا ہے کہ سود حرام ہے اور تجارت کو حلال ہیں (البقرہ)۔ سود مضر اور اپنی منفی نتائج سے لبریز ہے اور اتنا خطرناک فعل کہ اس کو اللہ سبحانہ و تعالا اور خاتم الانبیاء حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ کے مترادف ٹھہرایا ہے (البقرہ)
سود کو شیطانی عمل اور انسانیت کے لیے مہلک قرار دیا گیا ہے اور تجارت کو گھٹانے کا باعث سمجھا گیا ہے اور یہ حقیقت ہے اور اس سے یہ سمجھ میں آجاتا ہے کہ سود ایک جرمِ عظیم ہے۔
اختصار کے ساتھ مندرجہ بالا مذاہب سے یہ بات واضح ہو جاتی ہیں سود کہ ایک ناسور چیز ہے جسے کینسر کے ساتھ تشبیہ دی جاتی ہے۔ اس لئے اہلِ اسلام بلکہ تمام انسانیت کو اس جرمِ عظیم سے اپنے آپ کو بچانا چاہیے اور نہج کی تلاش ہمیشہ کرنی چاہیے اور تمام انسانیت خصوصاً اہلِ اسلام کو فہمائش کو جاری رکھنا چاہیے۔
ایم وے نامی کمپنی کے ساتھ تجارت تعارف طریقہء کار، جائزہ اور شرعی حکم
کچھ عرصہ بلکہ تقریبا دو سال ہوئے کہ ایم وے نامی کمپنی کا نام سننے میں آیا، اور پچھلے ایک سال سے زائد عرصہ گزر رہا ہے کہ مختلف مقامات سے اس کمپنی میں شرکت کرنے اور اس کے متعلق شرعی حکم جاننے کے لیے، بے شمار حضرات سوالات پوچھتے رہے، اور اب جب کہ ہزاروں افراد اس میں شریک ہو چکے ہیں اور ہزاروں شریک ہونے کے لیے متردد اور ہزاروں مسلسل استفسارات کرتے رہتے ہیں ، اس لیے قدرے تفصیل سے اس کے متعلق لکھا جانا ضروری ہے۔
بے شمار مسلمان سطحی طور پر اس کے جائز ہونے کا گمان قائم کر کے اور بے شمار اس کے کارکنان کی چرب زبانی اور مستقبل کے سبز باغ دکھانے کے نتیجے میں، اس کو جائز کہہ کر اس میں شریک ہو چکے ہیں، اور اس طرح یہ کمپنی صرف جموں وکشمیر سے کروڑوں روپے اب تک لے چکی ہے
اس کمپنی کا طریقہ کا رقدرے الگ نوعیت کا ہے ،اور ایک حد تک پر پیچ بھی ہے، اس لیے اس کا لٹریچر ( جو بہت مفصل انداز کا شائع شدہ ہے) کا مطالعہ کرنا اس کارکنوں سے تفصیل کے ساتھ سنا اور پھر شرعی ضوابط کے مطابق اس پر غور کر نا ضروری ہے ۔ ذیل میں اس کا تعارف طریقہء کار اور پھر اس کمپنی کے متعلق عموی جائزہ اور آخر میں بصورت فتوی شرعی حکم لکھا جا تا ہے:
تعارف: یہ کمپنی ایم وے (Amway)نام کی ہے ،امریکن کمپنی ہے اور عرصہء طویل سے دنیا کے مختلف ممالک میں اپنی مصنوعات اپنے مخصوص انداز میں فروخت کر رہی ہے،اب یہ ایم وے کار پوزیشن سے ہندوستان میں آئی ہے اور یہاں کی اکثر ریاستوں اور صوبوں میں سرگرم ہے۔
طریقہ کار: اس کمپنی کا طریقہء کار یہ ہے کہ جو شخص اس میں شریک ہونا چاہتا ہے وہ ایک مخصوص رقم مثلا ۴۴۰۰ یا ٦٣٠٠ روپے کمپنی کو دیتا ہے ، اس کے بدلے میں اسے ۲٦۰۰ روپے کی کمپنی کی مصنوعات ملتی ہیں ، یہ مصنوعات بہت معیاری قسم کی ہیں ،خریدار یہ مصنوعات چاہے خود استعمال کرے یا کسی اور کو فروخت کرے ،ساتھ ہی اس کو مزید خریدار مہیا کرنے کے لیے کچھ فارم ملتے ہیں،اور کمپنی کا تعارفیل ٹریچر۔ یہ سب ایک کٹ(Kit) میں دیا جا تا ہے۔ بقیہ رقم کمپنی رجسٹریشن فیس کے نام سے لے لیتی ہے۔اب یہ خریدار مزید خریدار مہیا کرتا رہے گا ، اور ان مزید خریداروں کو بھی اس طرح کا طریقہء کار انجام دینا ہوتا ہے، یہ شحض مزید حتنے خریدار مہیا کرے گا ان خریداروں کی دی ہوئی رقم سے اس پہلے والے شخص کو کمیشن ملتا رہے گا یہ شخص نئے خریدار مہیا کرنے کا ایجنٹ ہوتا ہے،اگرچہ کمپنی اس کا نام ایجنٹ نہیں بلکہ ڈسٹری بیوٹر رکھتی ہے۔مثلا الف نام کے شخص نے ایم وے میں شرکت کی اور مخصوص رقم دی ،اس کو مصنوعات مل گئیں ،اور اب یہ مزید خریدار مہیا کرنے کے لئے سرگرم ہو گیا ۔فرض کریں میں اس نے چھ مزید خریدار کمپنی کے ساتھ جوڑ دئے، اور ان چھ میں سے ہر شخص نے مزید چھ چھ افراد کو ایم وے کمپنی کے ساتھ جوڑ دے تو اب یہ ٣٦ افراد پر مشتمل گروپ بن گیا ،ان چھتیس افراد کا کمیشن اس پہلے والے شخص الف کو بھی ملے گا، اور اس الف کے ذریعہ مسلک ہونے والے چھ افراد کو بھی۔ جس شخص کا قائم کردہ سلسلہ جتنا بڑھتا جائے گا اسے اتنا ہی زیادہ کمیشن ملتا ہی جائے گا۔
کمیشن کی شرح کا ایک نظام بنا ہوا ہے جو تین فیصد سے لے کر اکیس فیصد تک، اسی طرح بعض کمیشن لینے والے ہر ماہ دس ہزار، بعض چالیس ہزار اور کچھ اس سے زائد حتی کہ لاکھ روپے ماہانہ تک کما سکتے ہیں۔کمپنی کی مصنوعات معیاری ہیں لیکن بہت زیادہ قیمتی ہیں ،اور اتنی قیمتی کہ اس درجہ کی قیمت کی یہ مصنوعات یہاں کے بازاروں میں نہیں ہیں کمپنی شریک ہو نے والے فرو کو ڈسٹری بیوٹر قرار دیتی ہے،اور اس سے لائسنس کا فیس بھی وصول کرتی ہے۔ آ ج کل یہ کمپنی کم از کم ۴۴۰۰ روپے لیتی ہے ،اس میں۔ ٢٦٠٠ روپئے کا سامان ٤٤٠٠ روپئے کا لٹریچر١٨٠٠ روپئے رجسٹریشن فیس ہے۔ یہ ہے کمپنی کا تعارف اور طریقہء کار۔
اس تجارت کے متعلق شرعی فیصلہ کرنے سے پہلے اگر اختصار کے ساتھ اس کا جائزہ لیا جائے،تو سراسر استحصال کا نظام ہے،اس میں شریک ہونے والا شخص اس کی مصنوعات کا ضرورت مند ہونے کی بناء پر نہیں،بلکہ صرف اس کمیشن کی لالچ میں شریک ہوتا ہے جس کا اس کو خواب دکھایا جاتا ہے۔ اس کی مصنوعات جو بھی اب تک یہاں کے لوگوں کو دی گئیں ان میں سے تمام چیزیں یہاں کے عام انسانوں کے لئے غیر مفید ہیں۔گاڑیوں کو صاف کرنے کے لئے کارواش (CARWASH) ظاہر ہے صرف کسی گاڑی والے لے لئے استعمال کی چیز ہوسکتی ہے، لیکن جس کے پاس گاڑی نہ ہو وہ اسے یا تو پھینکنے پر مجبور ہے یا کسی اور کو فروخت کرے گا لیکن کوئی دوسرا شخص اتنا مہنگا کارواش کیوں لے گا ؟ جب کہ وہ اب تک اس کے بغیر اس سے نہایت کم خرچ پر صاف کراتا رہا۔ اسی طرح جو عام انسان ٹوتھ پیسٹ استعمال کرنے کا نہ عادی ہے نہ اس کی آمدنی اس کا تحمل کر سکتی ہے ،اسے تقر یا سو۱۰۰ روپے کا یہ پیسٹ جو ایم وے اسے تھما دیتی ہے کس کام کا ہے؟
یہ کمپنی اپنی مصنوعات کی قیمت بھی وصول کرتی ہے اور پھر مزید ہر شخص سے اٹھارہ سو روپے بھی، اب یہ رقم دینے والا مزید خریدار مہیا کرے تو اس سے بھی کمپنی اپنی مصنوعات کی قیمت بھی وصول کر لیتی ہے اور مزید اٹھارہ سو روپے بھی۔ اس رقم میں سے بہت معمولی رقم پہلے والے شخص کو بطور کمیشن تھما دے گی، اور اس طرح کمپنی بہر حال نفع ہی نفع میں ہے۔
اس کمپنی کی مصنوعات میں کسی شخص کو انتخاب اور رد و قبول کا بھی حق نہیں ہے۔ بس ہر شخص کو رقم دینی ہے، پھر کمپنی اپنے فائدہ اور منصوبہ کے مطابق کٹ روانہ کر دیتی ہے اس کٹ ( اشیاء کا ڈبہ ) میں کیسی کیسی چیزیں ہیں یہ جانے بغیر خریدنے والے کو تمام چیز میں لینی لازم ہیں، واپس کر نا چاہے تو کمپنی تیس (۳۰) فی صد رقم وضع کر لیتی ہے۔
خریدار کو جو کمیشن ملتا ہے وہ یا تو اٹھارہ سو روپیے جو کمپنی لے لیتی ہے پر ملنے والا اضافہ ہے اگر یہی تسلیم کیا جائے تو یہ سراسر سود ہے، اور اگر اس اٹھارہ سو روپے پر یہ اضافہ نہ مانا جائے بلکہ یہ کہا جائے یہ رقم خریدار مہیا کرنے پر موقوف ہے تو ظاہر ہے اس صورت میں یہ مسئلہ ہے کہ اگر خریدار مل گئے تو ماہانہ کمیشن ملتا رہے گا ، نہ ملے تو اٹھارہ سو کمپنی نے ہڑپ کر لیے۔
کمپنی یہ کہتی ہے کہ ہمارا نہ کوئی بروکر ہے نہ ھول سیلر ، نہ رٹائیلر ، نہ پبلسٹی کا خرچہ
ان تمام خرچوں کو بچا کر ہم خریداروں میں ہی تقسیم کر دیتے ہیں ، حالاں کہ فی ہفتہ سیمینار وہ بھی فائیو اسٹار ہوٹلوں میں نہایت اونچے اخبارات میں اشتہارات، مثلا ”OUTLUK‘‘اور’’انڈین ایکسپریس‘‘ میں ، اور ان اشتہارات میں آنے والا صرفہ ظاہر ہے خریدران سے حاصل شدہ رقوم سے ہی حاصل کیا جا تا ہے۔
کمپنی لائسنس فیس جس کو رجسٹریشن فیس بھی کہتے ہیں،اس کا کہیں کوئی حساب نہیں،اور وہ بہر حال کمپنی کی ایسی حاصل شدہ رقم ہوتی ہے کی ہر خریدار کو دینی لازم ہے، اور اس کے نتیجے میں ہر شخص سر خریدار ہو کر بھی یہ فیس دینے پر مجبور ہے، ورنہ خریدار بھی نہیں بن سکتا،اور اس کا کوئی فائدہ نہیں،اگر اس کو آئندہ کوئی فائدہ اٹھانا ہے تو مزید خریدار مہیا کرتا رہے،یعنی دوسروں کو اس میں جوڑ کر خود کے استحصال کا شکار ہونے پر ان کا استحصال کرے۔
در حقیقت میں سارا نظام تجارت”پھننسو اور پھنساؤ‘‘ پرمشتمل ہے ۔ اسی صورت حاں میں علماء اور ارباب افتاء کے سامنے یہ سوال آیا کہ اس کے جائز یا ناجائز ہونے کا فیصلہ کریں۔ چنانچہ دارالعلوم دیوبند‘‘اور’’ندوۃ العلماء لکھنؤ ‘‘ان دو جگہوں سے اس کے ناجائز ہونے کا فتوی جاری ہوا جب کہ مظاہر العلوم‘‘ کی طرف سے جواز کا فتوی دیا گیا ( بعد میں رجوع فرمالیا اور عدمِ جواز کا فتوی جاری کیا ، جیسا کہ اس سے قبل ہی حضرت مفتی طاہر صاحب دامت برکاتہم کا فتوی موجود ہے )۔
وادی کشمیر میں چونکہ یہ فتاوی اشاعت پذیر نہ ہوئے اس لئے بکثرت لوگ اس کے متعلق سوالات کرتے رہتے ہیں ، اس لئے دارالعلوم رحیمیہ بانڈی پورہ سے درج ذیل فتوی جاری ہوا اور یہاں کے اخبارات میں شائع ہوا اس کی نقل درج ذیل ہے:
حامد أمصلیا ومسلما : ایم وے نامی کمپنی میں ایک مخصوص رقم ( ۴۴۰۰ ) روپے (٦٣٠٠ ) روپے جب کوئی شخص دیتا ہے تو کمپنی کچھ رقم کے عوض رقم دینے والے کو کچھ مصنوعات دیتی ہے اور بقیہ رقم کمپنی خود رکھ کر اس شخص کو مزید خریدار مہیا کرنے کا ایجنٹ بناتی ہے ، گویا رقم دینے والا بیک وقت خریدار بھی ہوتا ہے اور اس کمپنی کے لئے مزید خریدار مہیا کرنے والا دلال بھی ، اور یہ دونوں معاملے ایک ہی معاہدہ میں طے ہوتے ہیں اور یہی کمپنی کا طریقہ کار ہے ۔ اس کو شرعی اصطلاح میں یوں کہا جا تا ہے کہ عقد واحد میں دو امور ( دو عقد ) متحقق ہوئے: شراء اور اجارہ مصنوعات لینے کے نتیجہ میں یہ شخص خریدار یعنی مشتری بنتا ہے اور مزید خریدار مہیا کرنے کی بناء پر اجیر یعنی ایجنٹ یعنی دلال بنتا ہے اس طرح عقد واحد میں دو عقد پائے گئے ۔ جب کہ حدیث میں ایسا کرنے سے منع کیا گیا ہے، چنانچہ ترمذی شریف ۲/ ۱۴۷ میں حدیث اس طرح آئی ہے عن ابی ھریرہ (رضی اللہ عنہ) ان النبی ﷺ نھی عن بیعتین فی بیعۃ اسی طرح مسند احمد میں ایک حدیث اس طرح آئی ہے عن ابن مسعود (رضی اللہ عنہ) قال نھی النبی ﷺ عن صفقتین فی صفقۃ امام ترمذی نے اس حدیث کو حدیث صحیح کہا ہے ملاحظہ ہوا بواب البیوع ما جاء فی النھی عن بیعتین فی بیعۃ اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک بیع میں دو بیع میں لینی ایک معاملہ میں دو معاملہ جمع کرنے سے منع فرمایا۔ زیر بحث مسئلہ میں یہی صورت حال ہے کہ ایک ہی معاملہ میں دو معاملے قرار پاتے ہیں ، ایک معاملہ بیع اور ایک معاملہ اجارہ ۔ یعنی ایک ہی عقد کے نتیجہ میں ایک شخص خریدار بھی بنتا ہے اور اجیر بھی اور اسی کو حدیث میں منع کیا گیا ہے لہذا یہ طریقہ تجارت ناجائز ہے۔
یہ اس لیے بھی ناجائز ہے کہ اشیاء کی خرید موقوف مشروط ہے رجسٹریشن فیس دینے پر ، یعنی دلال بننے پر ، اور دلال بنا موقوف ہے اشیاء کی خرید پر تو یہی مشروط بھی ہوئی اور بیع مشروط کے متعلق حدیث میں فرمایا نھی النبی ﷺ عن بیع وشرط (زیلعی بحوالہ طبرانی ) اور حضرات فقہاء نے ایسی بیچ کو فاسد قرار دیا ہے جو ایسی شرائط سے مشروط ہو جو مقتصی عقد نہ ہو۔ چنانچہ البحر الرائق میں ہے ومنھا خلوہ عن شرط مفسد۔۔ ومنہ شرط لا یقتضیع العود وفیہ منفعۃ لا حدھما ( البحر الرائق ۲۸١/٥) نیز ملا حظہ ہو ہدایہ باب بیع الفاسد۔
ایم وے میں بیع مشروط ہوتی ہے اور اس میں صرف کمپنی کا فائدہ ہے کہ اسے رجسٹریشن فیس مل جاتی ہے جب کہ مشتری کو اس پر کوئی فائدہ نہیں۔
اس کے ناجائز ہونے کی دوسری وجہ یہ ہے کہ جو شخص اس کمپنی میں شریک ہوتا ہے وہ اس کی مصنوعات کی ضرورت مند ہونے کی بناء پر یا ان سے منتفع ہونے کی تمنا پر نہیں، بلکہ اس کمیشن کے لالچ میں جو مزید خریدار مہیا کرنے کی صورت میں اس کو ملنے والے ہیں ، اب اگر مزید خریدار مہیا ہو گئے تو یہ شخص ہر ماہ ہزاروں روپے (جس کی مقدار ہر ماہ۴۰٫۰۰۰۰ اور کمپنی کی اصطلاح میں دائمنڈ بننے کی صورت میں لاکھ تک ہوتی ہے لیتا رہے گا اگر نہ مل سکے تو اس کی دی ہوئی وہ رقم جور جسٹریشن فیس کے نام پر اس نے دی تھی وہ ہڑپ کر لیتی ہے ، اس کو شریعت میں جوا، سٹہ کہا گیا ہے کہ کوئی شخص کم رقم دے کر دے رقم کا امیدوار ہے اب یا تو بڑی رقم مل جائے گی اور یا پھر کم دی ہوئی رقم بھی ہڑپ ہوگی اس موہوم نفع کی بناء پر اس کو قمار کہا گیا ہے اور یہی لاٹری یا سٹہ کہلاتا ہے ، چنانچہ جوا بازی کو حرام قرار دیا گیا ،لہذا ایم وے کا تجارتی طریقہ کار جب جوے کی طرح ہے تو اس لئے بھی میں شرعا ناجائز ہے ان وجوہات کی بناء پر کمپنی کے ساتھ تجارت جائز نہیں ایک یہ کہ اس میں صفقتين فی صفقۃ ہے جو حدیث کی رو سے ناجائز ہے ، دوسرے یہ بیع مشروط بشرط فاسد ہے اور یہ بھی ناجائز ہے اور تیسرے اس میں قمار ہے اس لیے بھی یہ ناجائز ہے۔
جن افراد نے اس میں شرکت کی ہے وہ اپنی دی ہوئی رقم کا وہ حصہ لے سکتے ہیں ، جو مصنوعات کی قیمت کے علاوہ ( رجسٹریشن فیس ) ہے ، اور جو مصنوعات کمپنی سے لی گئیں ان مصنوعات پر چونکہ قبضہ پایا اور بھائی فاسد میں قبض مفید ملک ہوتا ہے،جیسے کہ فقہ اسلامی کا مشہور اصول ہے،لہذا وہ اشیاء استعمال کرنا جائز ہوگا،اور ان کو فروخت کرنا چاہے تو یہ بھی جائز ہوگا، یہ اشیاء کمپنی کو واپس کرنا چونکہ مشکل ہے اس لیے خرید کر وہ اشیاء پر بر بنائے وجود قبضہ استعمال درست ہے، ملاحظہ ہو ہدایہ ” باب احکام بیع الفاسد“ لیکن اس کمپنی کے ساتھ تجارت کرنا دوسروں کو اس میں شرکت ہونے کی ترغیب دینا جائز نہیں۔ واللہ تعالی اعلم
العبد نذیر عفی عنہ
مفتی دارالعلوم رحیمیہ بانڑی پورہ
نوٹ: مفتی موصوف کے پاس ایم وے نامی کمپنی کے متعلق سوال پوچھا گیا تھا اس لیے فتاویٰ میں صرف ایم وے کا نام ہے،جبکہ مفتی موصوف نے اپنے بیان میں تمام نیٹ ورک مارکیٹنگ اور اس کے طرز پر کام کرنے والی کمپنیوں کے متعلق عدمِ جواز کا فتوی نشر کیا۔
اللہ تعالی نے سود کو حرام قرار دیا ہے۔ آپ خود سوچئے کہ جب ایک چیز کو اللہ تعالی جیسی حکیم و خبیر ذات خود حرام قرار دے رہی ہو تو اس میں کس قدر نقصانات ہوں گے ؟ سود کبیرہ گناہوں میں سے ایک ہے ۔ اللہ کی ناراضگی کا سبب ہے بلکہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اعلان جنگ ہے ۔ سود کھانا اپنی ماں سے زنا کرنے سے بھی بڑا گناہ ہے ۔ اللہ کے عذاب کا سبب ہے ۔ انسان کے جہنم میں جانے کا باعث ہے ۔ اللہ کی رحمت سے دوری کا ذریعہ ہے ۔ انسانوں کے حق میں مفید معیشت کے لیے زہر قاتل ہے۔ سود کی قرآن وسنت میں بہت سخت قباحتیں اور وعیدیں مذکور ہیں۔
سود سابقہ شریعتوں میں:
یہودیوں کے بارے قرآن کریم میں ہے: وأخذهم الربوا و قد نهوا عنه (سورۃ النساء، رقم الآیۃ: 161) ترجمہ: اور یہودیوں کے سود لینے کی وجہ سے (عذاب آیا) حالانکہ انھیں اس سے روکا گیا تھا۔
فائدہ: اس آیت کے تحت مفسرین کرام نے لکھا ہے کہ شریعت محمدیہ کی طرح سود سابقہ شریعتوں میں بھی حرام تھا۔
ترجمہ: سود کھانے والے لوگ جب قیامت والے دن قبروں سے اٹھیں گے تو اس شخص کی طرح اٹھیں گے جسے شیطان نے چھو کر مخبوط الحواس ( پاگل) بنا دیا ہو یہ (عذاب ) اس لیے ہوگا کہ دنیا میں یہ لوگ کہا کرتے تھے کہ بیع بھی تو سود کی طرح ہوتی ہے حالانکہ اللہ تعالی نے بیع کو حلال جبکہ سود کو حرام قرار دیا ہے ۔ لہذا جس شخص کے پاس اس کے رب کی طرف سے نصیحت (سود کی واضح حرمت) آ گئی ہو اور وہ اس کی وجہ سے سودی معاملات سے آئندہ کے لیے باز آ گیا تو گزشتہ زمانے میں جو کچھ سودی معاملہ ہو چکا، سو وہ ہو چکا۔ اس کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے ۔ اور جو شخص دوبارہ سود والے حرام کام کی طرف لوٹا وہ جہنمی ہے وہ ہمیشہ اسی میں رہےگا۔
فائدہ: ہمارا عقیدہ اور نظریہ یہ ہے کفر و شرک کے علاوہ کبیرہ گناہ کرنے والا ہمیشہ جہنم میں نہیں رہے گا بلکہ اپنے گناہوں کی سزا پالینے کے بعد بالآخر جہنم سے نکال لیا جائے گا۔ مذکورہ بالا آیت کریمہ سے بظاہر یوں لگتا ہے کہ سود کھانے والا ہمیشہ جہنم میں رہے گا حالانکہ ایسا نہیں ۔ آیت مبارکہ میں جس شخص کا ذکر ہے وہ وہ شخص ہے جو سرے سے سود کی حرمت کا قائل نہیں ہے بلکہ کہتا ہے کہ سود بھی تو بیع کی طرح ہے ایسا شخص سود کو حرام نہ ماننے کی وجہ سے کافر ہے اور کافر ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔
سود کو اللہ گھٹاتے ہیں:
يمحق الله الربوا و يربي الصدقت (سورة البقرۃ، رقم الآيۃ: 276)
ترجمہ: اللہ تعالی سود کے مال کو گھٹاتے ہیں اور صدقہ کے مال کو بڑھاتے ہیں۔
عن ابن مسعود رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: الربا وإن كثر فإن عافيته تصير إلى قل (مسند احمد ،رقم الحدیث:3754)
حضرت عبد اللہ بن مسعود ر ضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ یہ و سلم نے فرمایا: سود اگرچہ دیکھنے کے اعتبار سے زیادہ ہی دکھائی دے لیکن انجام کے اعتبار سے کم ہی ہوتا ہے۔
سودی معاملات فی الفور چھوڑ دیے:
أَيُّهَا الَّذينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَروا ما بَقِيَ مِنَ الرِّبا إِن كُنتُم مُؤمِنينَ. (سورۃ البقرة، رقم الآیۃ:278)
ترجمہ: اے ایمان والو!اگر تم واقعی پکے سچے مومن ہو تو اللہ سے ڈرو اور سود کے (سابقہ) معاملات چھوڑ دو۔
حجة الوداع پر اعلان:
عن سليمان بن عمرو بن الأحوص رضي الله عنه قال: حدثنا أبي رضي الله عنه أنه شهد حجة الوداع مع رسول الله صلى الله عليه وسلم، فحمد الله وأثنى عليه، وذكر ووعظ، ثم قال:...... ألا وإن كل ربًا في الجاهلية موضوع، لكم رؤوس أموالكم لا تظلمون ولا تظلمون، غير ربا العباس بن عبد المطلب فإنه موضوع كله. (جامع الترمذی، رقم الحدیث:3087)
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ججۃ الوداع کے موقع پر ہوئے فرمایا: تمام لوگ اس بات کو اچھی طرح ذہن نشین کر لو کہ زمانہ جاہلیت کا ہر قسم کا سود ختم ہو چکا ہے لہذ تہارے لیے اب تمہارا اصل مال ( باقیی ہے نہ تم خود کسی پر ظلم کرو اور نہ ہی کسی اور کے ظلم کا شکار بنو۔ عباس بن عبد المطلب کا سود سارے کا سارا ختم ہے۔
فائدہ: سود کی حرمت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی آخری سالوں میں ہوئی اس لیے حجۃ الوداع کے موقع پر تمام لوگوں کے سامنے اس کی حرمت کو عملی شکل دی گئی۔
سود خور سے اللہ کا اعلان جنگ:
فَإِن لَم تَفعَلوا فَأذَنوا بِحَربٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسولِهِ وَإِن تُبتُم فَلَكُم رُءوسُ أَموالِكُم لا تَظلِمونَ وَلا تُظلَمونَ ( سورة البقرة رقم الايۃ ٢٧٩)
ترجمہ: پھر اگر تم نے ایسا نہ کیا (یعنی سودی معاملات کو نہ چھوڑا) تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے تمہارے خلاف اعلان جنگ ہے اور اگر تم توبہ کرلو (سودی معاملات کو یکسر چھوڑ دو) تو تمہارا اصل سرمایہ تمہارا حق ہے وہ تم لے لو۔ نہ تم کسی پر ظلم کرو نہ تم پر کوئی ظلم کرے۔
فائدہ: قرآن و سنت سے معلوم ہوتا ہے کہ دیگر کبیرہ گناہوں کی سزا میں اس قدر شدت بیان نہیں کی گئی جتنی سود کی سزا میں بیان کی گئی ہے۔یعنی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اعلان جنگ۔جب اللہ کی طرف سے اعلان جنگ ہو تو خود سوچے کہ بندہ کا کیا بچے گا؟اللہ کریم ہم سب کی حفاظت فرمائے۔
امیر شریعت متکلم اسلام مولانا محمد الیاس گھمن حفظہ اللہ۔
ملٹی لیول مارکیٹنگ کے طریقہ کار پر جو کمپنیاں کام کر رہی ہیں عام طور پر ان کمپنیوں کا اصل مقصد مصنوعات کی خرید وفروخت نہیں ہوتا، بلکہ کمپنی کوئی چیز حیلہ کے طور پر فروخت کرنے کیلئے درمیان میں رکھ دیتی ہے، اور پھر کم قیمت کی چیز زیادہ قیمت میں فروخت کرتی ہے ، اور ساتھ ساتھ آگے مزید ممبر بنا کر اس پرکمیشن دینے کی پیشکش کرتی ہے، چنانچہ لوگ اس کمیشن کی لالچ میں کم قیمت کی چیز زیادہ قیمت میں خرید لیتے ہیں، یہ شرعاً قمار (جوئے) کی ایک شکل ہے۔ اس کے علاوہ مذکورہ سسٹم میں مزید متعدد شرعی خرابیاں بھی پائی جاتی ہیں، جس کی بناء پر ایسی کمپنیوں کے معاملات عام طور پر شرعی اعتبار سے جائز نہیں ہوتے ۔ نیز نیٹ ورک مارکیٹنگ کے طریقہ کار کو حکومت پاکستان کے ذمہ دار (ریگولیٹی اتھارٹیSECP) کی طرف سے غیر قانونی قرار دیا گیا ہے اور اس طریقہ کار پر کام کرنے والی کمپنیوں پر پابندی عائد کی ہے ، لہذا اس پابندی کی بناء پر بھی مذکورہ کاروبار میں شریک ہونا یا کمیشن ایجنٹ بنا شرعاً جائز نہیں ہے۔ (مآخذہ تیویب ٢٧٤//٧٩)
حاشية ابن عابدين -(٤٢٢/٥) وفي ط عن الحموي أن صاحب البحر ذكر ناقلا عن أئمتنا أن طاعة الإمام في غير معصية واجبة۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ والله سبحانه وتعالى اعلم بالصواب محمد حذیفہ عفا اللہ عنہ دار الافتاء جامعہ دار العلوم کراچی ۱۶/ جمادی الثانیہ۔۱۴۳۸ھ ۱۲/مارچ ۲۰۱۷ء الجواب صحیح احقیر محمد اشرف عفا اللہ پی ڈی ایف میں ڈاؤنلوڈ کریں
ا . سوال میں تحریر کردہ” گولڈ مائن انریکل کمیٹی‘‘ کے طریقہ کار پرغور کیا گیا، آج کل اس نوعیت کا کاروبار کرنے والی بہت سی ایسی کمپنیاں آئی ہیں جو کم قیمت کی چیز مہنگے دام میں فروخت کرتی ہیں ، اور ساتھ ساتھ آگے ممبر بنا کر اس پر کمیشن دینے کی پیشکش کرتی ہیں ،لوگ کمیشن کے لالچ میں آ کر کم قیمت کی چیز مہنگے داموں میں خرید لیتے ہیں ، جو شرعاً قمار یعنی جوئے کی ہی ایک شکل ہے۔
چنانچہ” گولڈ مائن انٹرنیشنل کمپنی‘‘ کی مصنوعات اگر عام بازاری قیمت سے زیادہ پر فروخت کی جاتی ہیں تو یہ کاروبار بھی ناجائز ہے، اور اس کے معلوم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اگر کمپنی کی مصنوعات مارکیٹ میں نہیں ہیں تو اس چیز کو عام مارکیٹ میں فروخت کرے ،لوگ جس قیمت پر خریدنے کے لئے تیار ہوں وہ اس کی بازاری قیمت ہے ، اب اگر کمپنی کی قیمت پر لوگ خریدنے کے لئے تیار ہیں تو اس کی قیمت بازاری قیمت کے برابر ہے ،اور اگر اس قیمت پر لوگ خریدنے کےلئے تیارنہیں ہیں تو یہ علامت ہے کہ اسکی قیمت بازاری قیمت سے زیادہ ہے ،اور زیادہ قیمت داؤ پرلگی ہوئی ہے کہ اگر شخص مہر بنانے میں کامیاب ہوگیا تو ٹھیک ہے ،اور اگر ممبر بنانے میں کامیاب نہ ہوسکا تو اس صورت میں اس کی زائد رقم ڈوب جائے گی۔
لیکن اگر کمپنی کی مصنوعات کی قیمتیں عام بازاری قیمت کے برابر ہوں یا بہت معمولی فرق ہوتو بھی اس کمپنی کے طریقہ کار میں درج ذیل خرابیاں پائی جاتی ہیں:
(۱) یہ بات جوکہی جاتی ہے کہ کمپنی کا اصل مقصد کمپنی کی مصنوعات کو فروخت کرنا ہی ہے محض حیلہ بنا کرسرمایہ کی گردش نہیں ہوتی تو یہ بات درست نہیں ہے، کیونکہ اگر کوئی شخص بغیر ممبر اس کمپنی کی مصنوعات کو خریدنا چاہیے اور اس زنجیر میں شامل نہ ہو تو کمپنی اس کو یہ مصنوعات فروخت نہیں کرتی ۔
(۲) کسی شخص کا کمپنی کے طریقہ کار میں کمیشن کا حقدار بنے کے لئے دونوں طرف ممبر بنانا شرط ہے، چنانچہ اگر کوئی شخص ایک طرف ممبر بنائے اور دوسری طرف نہ بنائے یا مطلوبہ تعداد سے کم بنائے تو اس کو اس کی محنت کا صلہ نہیں ملتا۔
شرعی اعتبار سے یہ شرط لگانا جائز نہیں ، کیونکہ اس میں ایک تو کسی شخص کی محنت بیکار جاتی ہے اور اس کا صلہ اس کو کچھ اس صورت میں اس کو ملنے والا میشن وجود وعدم کے درمیان معلق ہے ، گویا اس طرح معاملہ ہوا کہ اگر دونوں طرف ممبر
بنانے تو اتنا کمیشن ملے گا ، اور اگر اس سے کم بنائے تو کچھ بھی کمیشن نہیں ملے گا ،اور شرعا یہ درست نہیں ہے ،ہاں اگر یہ ہوتا کہ ایک طرف مبر بنانے پر کمیشن کم ملے گا ،اور مطلوبہ تعداد کے مطابق بنانے پریکمل کمیشن ملے گا تو اس کی شرعاً گنجائش تھی۔
لہٰذا اس موجودہ طریقہء کار میں جو خرابیاں ہے ان کے ساتھ اس کاروبار میں شرکت کرنا جائز نہیں،اس سے خود بھی بچیں اور دوسروں کو بھی بچائیں (مآخذ تبویب ٣٧/١١١٥)
٢. جو لوگ اس موجودہ طریقہ کار کے مطابق اس کاروبار میں شامل ہیں ان کو چاہئے اس کاروبار کو چھوڑ دیں اور جو غلطی ہوئی اس پر توبہ استغفار کریں،اور اس کاروبار سے حاصل ہونے والی آمدنی کو استعمال کرنے سے اجتناب کریں۔
الحمدللہ رب العالمین والصلاۃ والسلام علی قادۃ الدنیا والآخرۃ امابعد
ٹیکنالوجی کے دور میں جہاں انسانوں کی جگہ مشینیں لے رہی ہیں اور وہیں آئی ٹی سیکشن جس تیزی سے ترقی کے اور گامزن ہو رہا ہے۔ اور یہ بات طے ہے جتنا آئی ٹی سیکشن ترقی کرے گا اتنی ہی تیزی سے مِین فورس کی ضرورت کم ہوتی جائے گی اور یہی اَن ایمپلائمنٹ (بے روزگاری) کی اہم وجہ بن جاتی ہے۔ بے روزگاری کیسی بھی فرد بل کہ کسی بھی ملک کی اقتصادی حالات (اِکنامِکل کنڈیشن) کو بری طرح سے خراب کرتی ہے۔ اسے بہتر بنانے کے لئے سب سے بہترین بلکہ واحد طریقہ کاروبار ہے۔ پر بدقسمتی سے عامیانہ یہ ذہن بن چکا ہے کہ بزنس کرنا ہر کسی کا کام نہیں ہے اور ہر ایک جاب (نوکری) کے پیچھے لگا ہوا ہے۔ جو کہ ایک ناقص خیال ہے۔ اگر انسان کو کامیاب ہونا ہے تو بزنس سے بہترین اور کوئی طریقہ نہیں ہے۔ اسلام مکمل نظام زندگی ہے۔ اس لئے اسلام نے کاروبار کرنے کو ایک فرض قرار دیا گیا ہے۔ جیسے فرمان مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ طلب كسب الحلال فريضة بعد الفريضة ( البیہقی) حلال کمانا دیگر فرائض کے بعد ایک فرض ہے ۔اس لیے رہبانیت کو حرام کر کے دنیا کو آباد و معمور کرنے کی ترغیب دی گئی۔ اسلامی مزاج یہ ہے کہ انسان کو اپنے آنے والی نسلوں کو قلاش و فقیر چھوڑنے کے بجائے آباد و معمور کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ شرعی پاس و لحاظ کے ساتھ دنیا کمانے کو بھی عبادت قرار دیتا ہے۔بلکہ یہ تحریر ہوگی ہے کہ کاروبار قیامِ زندگی کا ذریعہ ہے (النساء)
قرآن مجید نے معیشت پر بھی شرح و بسط کے ساتھ روشنی ڈالی ہے اور ایمان والوں کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ آپس میں ایک دوسرے کا مال ناجائز طریقہ سے نہ کھائو اور نہ حاکموں کے آگے ان کو اس غرض کے لیے پیش کور کہ تمہیں دوسروں کے مال کو کوئی حصہ قصداً ظالمانہ طریقے سے کھانے کا موقعہ مل جائے (البقرہ) ۔ مذکورہ باتوں سے اسلام میں کاروبار کی اہمیت ظاہر ہوتی ہے۔کیونکہ معاش کی عدمِ موجودگی میں زندگی کا تصور ہی ممکن نہیں ہے۔ اگر انسان کی معاشی زندگی ناکام ہو اور اقتصادی اعتبار سے اتنی کمزور ہو کہ اس کی دو وقت کی روٹی بھی میسر نہ ہو رہی ہو تو یہ بات عیاں ہے کہ اس کی دینی زندگی بھی مشکلات کا شکار ہوگئی۔ معاشی خوشحالی اللہ تعالی کی نعمت ہے ایک مسلم کے لئے لازم قرار دیا گیا ہے کہ وہ حلال کمائی کے لئے سعِی کرے۔
ترقی یافتہ دَور میں جہاں ہر شئی اپنی شکل میں تغیر کرتی ہوئی نظر آرہی ہیں ماسوا دینِ فطرت کے ۔ ان مبدل شکلوں میں زنا ریلیشن شپ (گرل فرینڈ بوائے فرینڈ کا ناجائز تعلق) میں،سود، بینکنگ میں ،سود اور جوا کی تبدیلی شکل اِنشورنس میں نظر آرہی ہے وہی جوئے کی ایک اور شکل نیٹ ورک مارکیٹینگ کے روپ میں سامنے آ چکی ہیں۔ لیکن ان شکلوں کے بنیادی عناصر کو دیکھا جائے تو ان کی اصلیت کھل کر سامنے آجاتی ہے۔ عام فہم بل کہ تعلیم یافتہ لوگ بھی اس دھوکے میں ہے کہ یہ جوا، سود کی تبدیل ہوئی شکلیں نہیں ہے۔
نیٹ ورک مارکیٹنگ جوا کیسے ہیں: نیٹ ورک مارکیٹنگ کے پروسس (طرز) سے کون واقف نہیں ہے۔پھر بھی یہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس کو تھوڑا بہت ڈسکرائب (بیان) کیا جائیں تو۔ نیٹ ورک مارکیٹنگ کو سمجھنے سے پہلے ہمیں جوئے کو سمجھنا ضروری ہے۔ جو ا'' جسے عربی زبان میں’’قمار،میسر“ کہا جاتا ہے در حقیقت ہر وہ معاملہ ہے جس میں’’مخاطرہ ہو‘‘، یعنی قمار کی حقیقت یہ ہے کہ ایسا معاملہ کیا جائے جو نفع ونقصان کے خطرے کی بنیاد پر ہو۔ ایک سوال ضرور آپ کے لئے میں لکھنا چاہوں گا اگر ہمیں کوئی ظریفانہ بھی شیطان بولیں تو ہمیں غصہ آ جاتا ہے اگر ہمارا کام شیطانوں والا بھی ہو پھر بھی ہمیں غصہ آ ہی جاتا ہے پر اگر اللہ تعالی ہمیں یہ بتا دے کہ آپ کے کام شیطان والے ہیں تو کیا اللہ کی بات جھوٹی ہو سکتی ہیں؟ نہیں ،ایسا سوچنا آپ کے ایمان بل کہ انسان کی فہرست سے بھی آپ کو نکال دیتا ہے۔ تو پڑھ لیجئے سورہ مائدہ آیت نمبر 90: يا ايها الذين آمنواإِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ
الحمد للہ رب العالمین الصلاہ والسلام علی من لانبی بعدہ اما بعد
دینِ اسلام اپنے اندر ایک وسیع معنیٰ رکھتا ہے۔اس لئے تمام مذاہب میں خالص اسلام کو تمام معاملات میں رہنمائی کرنے کا شرف حاصل ہے۔ جہاں اسلام روحانیت پر عمیق زور دیتا ہے وہی اپنے معلومات درست کرنے پر بھی بے حد زور دیتا ہے۔ آج کل کے ترقی یافتہ دَور میں معاملات میں مسلمان کو بے حد تکلیف ہوتی ہیں اگر وہ ذہنی طور پر اسلام کے قوانین کو مکمل قبول نہیں کریں۔ کیونکہ نبیِ برحق صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ پورے دین اپنے اندر جذب کرنے میں ہی کامیابی ہے۔ جس سے قرآن نے اپنے لفظوں میں یوں فرمایا ہیں:
”ادخلوا فی السلم کافہ“
دین میں پورے کے پورے داخل ہو جاؤ۔
معاملات بندوں کے مابین ہوتے ہیں اس لیے اگر اس میں کوتاہی رہتی ہے اس کو دُور کرنے تک اللہ کے دربار میں گناہ گار ہی رہتے ہیں اس لئے ان میں اِحتیاط کرنا ضروری ہوتا ہے کیونکہ یہ حقوق العباد میں آتے ہیں۔ نبی برحق صلی اللہ علیہ وسلم نے جس سے بہترین شخص بتایا اسی کے بارے میں مسلم شریف کی حدیث شریفہ وارد ہیں: ”یغفر للشهید کل ذنب إلا الدین“، شہید کا ہر گناہ معاف کیا جائے گا لیکن دَین اور قرض نہیں، اس لے اللہ تعالی حقوق العباد کی تب تک بخشش نہیں کرے گا جب تک اصحاب حقوق خود نہ بخش دیں ، معاملات میں بھی ایک نازک معاملہ ہے وہ کاروبار، بزنس ہے، جس میں اکثر اسلام کے قوانین کے انحراف پایا جاتا ہے۔ اس پُرفِتن دور میں نئے نئے بزنس ماڈلز وجود میں آتے رہتے ہے، جن میں کئی بزنس ماڈلز کو عدمِ جواز کا فتویٰ شائع ہو چکا ہے۔ ان میں سے نیٹ ورک مارکیٹنگ بھی ایک ہے۔
نیٹ ورک مارکیٹنگ کے بارے میں تخمیناً تمام اسلامی ممالک میں عدمِ جواز کا فتویٰ شائع ہو چکا ہے۔ جیسے عرب ممالک ،پاکستان، ہندوستان، بالخصوص ہمارے کشمیر سے بھی عدمِ جواز کا فتویٰ نشر کیا گیا۔ پر ہماری شقاوت مسلمانوں کے کچھ طبقے اس میں شمولیت حاصل کرتے رہتے ہے، ہماری شفاوت اس قدر بڑھ گئی ہے، ہمارے ہندوستان میں ایک مسلمان نے 2016 میں ڈریسنگ گائیڈ لائنز کو پاس کروایا، جب کہ یہ ایک ناقص بزنس ماڈل ہے جس میں فزوں خرابیاں پائی جاتی ہے، جس کی وجہ سے مسلم ممالک نے اس پر عدمِ جواز، حرام کا فتویٰ صادر ہوا ہے، ہمارے ایمانی اِضمحلال سے تب بھی مسلمان اس میں جائن ہوتے جا رہے ہے اور کچھ افراد اس میں آگے بھی بڑھ چکے ہے، جن کی اچھی خاصی حرام چکس بھی آتی ہے وہ اس تذبذب میں ہے کہ میں نے اب تک اتنی محنت کی، اب میں اسے چھوڑ نھیں سکتا ہوں اور اس کے بارے میں سوالات کرتے ہیں اور اپنا ذہن بنا لیا ہے کہ یہ جائز ہے۔ جبکہ یہ باطل خیال ہے۔
ناقص خیال باندھ ہے جائز ہے وہ
حرام سے لبریز ہے پھر جائز ہے وہ!
بالخصوص مسلمان کو اس بات کا یقین ہونا چاہیے اسلام دینِ فطرت ہے اور فطرت کبھی انسان کو تکلیف نھیں دے سکتی، اسلام کی استعداد خصوصیت، جس پر باقیہ عمیم مذاہب رشک کرتے ہے کہ ہمارے مذہب میں یہ بات لکھی ہوئی چاہیے: اليوم أكملت لكم دينكم وأتممت عليكم نعمتي ورضيت لكم الإسلام دِينا، آج میں نے تمہارا دین مکمل کردیا اور اپنی نعمتیں تم پر پوری کر دی اور اسلام کو تمھارے لیے بطور دین پسند کیا، اور اسی دین کا معلم بنا کر دونوں جہانوں کا رہنما صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا گیا تھا اور انھیں کے فرمان سے ہمیں معلوم ہو جاتا ہیں کہ العلماء ورثة الانبياء، انبیائوں کے ورثا علما ہی ہیں اور یہی علما جب اِسی کامل دین پر تفکر و تدبر کرتے ہیں اور کسی معاملے پر عدمِ جواز یا جواز کا فتویٰ صادر کرتے ہیں اور ہم اس کے کافر بن کے انکار کرتے ہیں تو نہ یہ صرف علما کی توہین ہے (جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو منظور نہیں) بل کہ اللہ کے کلام اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کا بھی انحراف ہے۔ کیونکہ جن قوانین سے نیٹ ورک مارکیٹنگ پر عدمِ جواز کا فتویٰ صادر ہوا ہے وہ قرآن و حدیث سے نکالے گئے اصول ہیں۔ مسلمان ہونے کی حیثیت سے بظاہر ہمارے لیے نیٹ مارکیٹنگ کتنی ہی مفید کیوں نہ ہو، ہمیں بظاہر کتنا ہی نقصان کیوں نہ ہو قرآن و حدیث کے منحرف نھیں بن سکتے ہیں کیونکہ اس میں ہماری عزت ہے تمثلاً سمجھیں ہم نے سود کو ہلکا سمجھا جبکہ یہ کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔ جس پر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہیں:
ترجمہ: اللہ سے ڈرو اور اگر تم واقعی مومن ہو تو اب تک جو بھی حصہ کسی کے ذمہ دار کے رہ گیا ہو اسے چھوڑ دو۔
گویا ان كنتم مؤمنين اس بات کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے کہ سود کھانے سے ایمان جانے کا بھی خطرہ ہے۔ آگے فرماتے ہیں فإن لم تفعلوا فأذنوا بحرب من الله ورسوله (ایضاً) پھر بھی اگر تمہیں ایسا ( سود کھانا بند) نہ کرو گے تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے اِعلانِ جنگ سن لو۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کی وعیدین ہیں جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ترجمہ: سود کے ستر گناہ ہے ان میں سے سب سے ادنیٰ گناہ ایسا ہے کہ جیسے اپنی ماں کے ساتھ زنا کرنا
باقیہ کا حال کیا ہوگا، میں خود اندازہ لگا ہی نہیں سکتا ہوں کہ اس سے زیادہ نیچ کوئی اور کام کیا ہو سکتا، پھر سود کا اول درجہ کیا ہوگا؟
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہیں:
”ولا تقربوا الزنا“
ترجمہ: زنا کے آس پاس بھی مت بھٹکو۔
زنا کی وعیدین کیا ہے اس سے آپ واقف ہوگئیں پر چھتیس گنا زیادہ سود کھانے والا کا گناہ زیادہ سخت ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہیں: درهم ربًا يأكله الرجل وهو يعلم، أشد من ستة وثلاثين زنيةً.( مشکوٰۃ المصابیح ) اور اللہ تعالٰی اس آیت میں ارشاد فرماتے ہیں: ولا تاكلوا اموالكم بينكم بالباطل، ناحق طریقے سے ایک دوسرے کا مال مت کھاؤ علماء کرام فرماتے ہیں کہ یہاں صرف کھانا سے مراد صرف کھانا نہیں بلکہ کسی بھی طریقے سے دوسرے کے مال کو اپنا بنا لینا ہے، چاہے پہننے میں استعمال ہو، چاہے یا گھر خریدنے میں استعمال ہو، چاہیے اپنی پیسے بنانے میں استعمال ہوں ،اور یہ دونوں چیزیں نیٹ ورک مارکیٹ میں بھرمار پائی جاتی ہیں۔ علماء کرام نے سود کو حرام ہونے کی ایک عقلی دلیل پیش کی ہے کہ اس سے پیسہ ایک کے پاس ہی جمع ہو جاتا ہے۔ نیٹ ورک مارکیٹنگ میں تو واضح طور پر کچھ افرادوں کے پاس ہی پیسا جاتا ہے باقی ڈاؤن لائنز محروم ہی رہ جاتے ہیں اس لئے اس کے حرام ہونے کی ایک اور وجہ یہ ہے بھی ہے۔
جھوٹی قسم کھا کر سودا بھیجنے والوں کے لیے اللہ نے چار قسم کے عذاب رکھا ہیں۔
١.اللہ تعالیٰ بات نھیں فرمائیں گے۔
٢.اللہ تعالیٰ رحمت سے نھیں دیکھیں گے۔
٣.تزکیہ نھیں فرمائیں گے۔
٤. دردناک عذاب دے گے۔
جھوٹی قسمیں،جھوٹی وعدے، جھوٹے باتیں جیسے آپ جوائن کیجیے میں آپ کو ٹیم دوں گا، میری طرف سے بھی آپ کو مدد ہوگی، نوبت اس پر آتی ہیں نیٹ ورک مارکیٹنگ میں ٹریننگ کے نام پر جھوٹ کیسے بولا جاتا ہے، یہ سکھا دیا جاتا ہے!۔ اس لئے اس وجہ سے بھی یہ حرام ہے کیونکہ جھوٹی قسم کھانے والے کے دل میں قیامت تک کیلئے ایک داغ لگا دیا جاتا ہے ایک روایت میں ہے: وما حلف حالف بالله يمينًا صبرًا، فأدخل فيها مثل جناح بعوضة، إلا جعله الله نكتةً في قلبه إلى يوم القيامة. ( مشکوٰۃ المصابیح ) کہ جھوٹی قسم کھانے والا قسم کھائے اور اس میں مچھر کے پر کے برابر بھی گڑبڑ کر یعنی ذرا برابر بھی جو خیانت شامل کرے تو اللہ کی طرف سے اس کے دل میں قیامت تک کے لئے ایک داغ بنا دیا جاتا ہے یعنی اس کا وبال قیامت میں ظاہر ہوگا۔ اور بھی کثیر التعداد وجوہ ہیں جن سے نیٹ ورک مارکیٹنگ کے عدمِ جواز ثابت ہو جاتی ہے۔
ہمیں نیٹ ورک مارکیٹنگ سے کوسوں دُور ہی رہنے چاہیں تاکہ ہم آپ اپنے آپ کو حقیقی معانی میں کامیاب و کامران ہو جائیں یہ سلسلہ جاری رہے گا، اگلے مضامین میں ہم ان شاءاللہ نیٹ ورک مارکیٹنگ کے بغیر نئے اور حلال بزنس ماڈلز آپ کے سامنے متعارف کرائیں گے کیونکہ کامیاب ہونے کے لئے کھانے میں حلال کا اہتمام ضروری ہے ایک روایت میں آتا ہے: اور قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے،بندہ جب اپنے پیٹ میں حرام لقمہ ڈالتا ہے تو چالیس روز تک اس کا کوئی عمل قبول نہیں ہوتا،اور جس شخص کا گوشت حرام مال سے بنا ہو،اس گوشت کے لئے تو جہنم کی آگ ہی لائق ہے۔ (طبرانی ) اللہ ہم سب کو جہنم کی آگ سے بچائے اور توبہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین یا رب العالمین۔
Assalamu alaikum wa rahmatullahi wa barakatuh. Wa baàd
Network Marketing aur Islam
Islam Jahan behtarin zindagi guzarne ka Tarika batata hai. Vahi galat Tariiqoo se zindagi guzarne se Mana bhi karta hai. Islam din-e-fitrat hai, aur fitrat se Insan kabhi taklif mein nahin pad sakta hai. Network marketing suud ki tra hai, vo Suud jis per Allah SWT Ki viidain Hai, jis par Allah SWT, Lene walon se elan-e-Jung Kiya Hai (Al-Quran). Main adban aapke liye yah baat likhane ja raha hun. Kya aap apni man ke sath zinaa karte Hain. To kya aapko yah baat qubhul ho sakti hain.Nahin Shayad, hargiz nahin.