حجاب حکمِ الہیٰ ہے تو بس کر لو عمل

0

 

حجاب حکمِ الہیٰ ہے تو بس کر لو عمل



حجاب خواتین کے لیئے مخصوص نہیں ہے، بل کہ حجاب اپنے آپ کو خطرات سے اور دوسروں کو بھی مخطورات سے بچانے کا نام ہے، اور خطرہ دونوں پر لائق ہوتا ہے۔ بلا تمیز الجنس، عورت کے حجاب کو مقدم اس لیئے کیا جاتا ہے کیوں کہ یہ مرد کے باحجاب رہنے کے باوجود بھی اس سے بے حجاب کرتا ہے۔ اس لیئے جب بھی پردے کا تذکرہ ہوتا ہے، تب ذہن منعطف ہوتا ہے عورت کے پردے کی طرف، پر صرف اس کی طرف ذہن کا جانا اور یہ سمجھنا کہ فقط حجاب عورت کے لیئے ہے تو یہ غلط فہمی کے ورے کچھ نہیں، گر عورت کے ستر کو حجب کرنا لازم ہے، وہیں مرد کے لیے متعین جسم کا اخفا بھی لازم ہے۔ گویا نگاہوں کو نیچے کرنے کا حکم مشترک ہے، کلام میں اجنبی کے لیے مٹھاس نہ رکھنا مشترکہ طور پر حکم ہے۔ ناورا تعلقات کے سدِباب سے بھی خود کو محفوظ کرنا امرِ یکساں ہے۔عرض حجاب کرنا دونوں کے لئے لازمی ہے۔ جس سے یہ اعتراض بھی رفع ہوتا ہے کہ صرف خواتین کو حجاب کیوں ہے، جب ہے ہی نہیں مختص، بل کہ ہے مشترک، اعتراض کبھی من میں ہوتا، کبھی غیر قوم کے افراد کرتے ہے، پر بنتا نہیں ہے۔

حکمِ حجاب اور ہم: مرد کا ستر ناف کے متصل نیچے سے لے کر گھٹنے تک ہے، گھٹنے ستر میں شامل ہیں، پر اگر اسے ہی رجل ڈھانپ لیں تو عرف میں وہ ننگا ہی سمجھا جاتا ہے۔ کیوں کہ تقاضائے تلبیس ہے پورے، جسم کی پوشیدنی۔ بعینہ عورت کی تلبیس کا مسئلہ ہے، عورت کا پورا بدن سوائے تین اعضا کے ستر ہے، ان ہی اعضاء ثلاثہ کا حجاب ہے اجنبیوں سے ۔ ہم اس سے ہی غفلت بھرتے ہیں جو کہ صحیح نہیں ہے۔

حکمِ قرآن ،اعضاء ثلاثہ پر: حجاب ہے اجانب سے ( جس میں متضمن ہے بسسبِ عافیت محارم سے بھی حجب) تو کیوں ہم اکتفا کریں ستر پر ہی، جب کہ وارد ہوا ہے قرآن مجید میں: یدنین علیهن من جلابیبهن۔ ہم سے زیادہ بہتر سمجھتے ہے قرآن مجید کو، اس کے اولین مخاطبین رضوان اللہ علیہم اجمعین، تو روایت ملتی :

 ’’ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہ جب عورتیں کسی ضرورت کے تحت اپنے گھروں سے نکلیں تو انہیں اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا ہے کہ وہ بڑی چادروں کے ذریعہ اپنے سروں کے اوپر سے اپنے چہروں کو ڈھانپ لیں اور صرف ایک آنکھ کھلی رکھیں اور محمد بن سیرین ؒ فرماتے ہیں کہ میں نے عبیدۃ السلمانی سے اللہ تعالیٰ کے ارشاد : {یدنین علیهن من جلابیبهن} کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے اپنے سر اور چہرہ کو ڈھانپ کر اور بائیں آنکھ کھول کر ا س کا مطلب بتلایا‘

یہ عہدِ صحاب کا زمانہ تھا جس میں فتنہ کا اندیشہ بہت کم ہوتا تھا، اس کے برعکس آج کے پر فتنہ درو میں خواتین اس پر عمل کرنا کی کوشش کرنی چاہیے: کہ وہ اپنی گھروں میں ہی رہیں صرف ضروریات کے لیئے مع حجاب نکالیں۔

حجاب کی ضرورت کیا ہے؟ کوہِ نور کو چھپانے کی کیا ضرورت ؟ وہیں عورت کو چھپانے کی حاجت ہے۔ میٹھائی پر احاطہ (کاور) نہ ہو تو مکھیاں اس پر حصار کر لیتی ہے۔ بعینہ عورت پردہ نہ کریں تو عریاں مرد کی خبیث نظروں کا شکار ہوتی ہے۔ شیطانی وسوسہ آ سکتا ہے کہ رجال اپنی نگاہوں کو پاک کریں تو پردے کی حاج نہیں۔ مٹھائی نہ خود اور نہ اس کا مالک اس پر مکھیاں برداشت کرسکتا ہے نہ مناسب سمجھتا ہے۔ پر برہنہ ہوگئی تو مکھیاں بیٹھ ہی جاتی ہے۔ اس سے حصارِ ناساز کے تحفظ کے لیے۔

 اسلام کی ثقافت میں مندرجہ ذیل واقعات کی نظیریں بہتات ملتی ہے جیسے: ابودائود۱ کی روایت میں ہے: ایک عورت کا لڑکا جنگ میں شہید ہوگیا، تو تحقیق کے لیے اس کی والدہ برقع کے ساتھ پورے پردے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، مجلس میں موجود صحابۂ کرام تعجب سے کہنے لگے کہ اس پریشانی میں بھی نقاب نہیں چھوڑا، صحابیہ عورت (رضی اللہ عنہا )نے جواب دیا کہ میرا بیٹا گم ہوگیا میری شرم وحیا تو نہیں گم ہوئی۔ (ابودائود۱/۳۳۷)

ان عظیم الشان ماں کی عظَمت پر فجر ہے اور سبق ہے کہ کوئی بھی حالت ہو حکمِ خداوندی کو پال نہیں کیا جاسکتا ہے۔ یہ فکر تھی انہیں اپنی آخرت کی، فکر تھی انہیں کہ کہیں میں سماج کی تباہی کا سبب نہ بن جاؤ۔ جس ماحول میں میرے اولاد پناہ گزین ہے، جس سوسائٹی میں میری بیٹی کل ان نجس و مہلک نظروں سے آتش زدہ ہوگئی۔ 

م بھی فکر و عزم کریں کہ ہم باحیا والدین اور اخلاف بنے۔ اول خویش بعد درویش، آپ حجاب کریں آپ کے ساتھ آپ کی سہیلی اور اس سے،اس کی دوشیزہ، ضرب کے عمل کے ساتھ، یہ سلسلہ کاروان بنتا چلا جائے گا۔ اور اس کے مصدر یعنی آپ کو اس کا اجر و ثواب کونین میں ملتا رہے گا، فقط آپ آغاز کریں عزمِ مصمم سے کہ اب صرف مجھے کرنا اس کارِ خیر کا عنفوان اور بن جائیں حضرت سیدہ فاطمتہ الزہرا رضی اللہ عنہا کے ساتھ جنت کے باشندوں میں سے۔ بس عمل کے لیئے الفاظ کی ضرورت نہیں عشقِ الہیٰ اور توفیق من جانب اللہ ہونی چاہئے، چہ جائے کہ نعمت و عافیت عامیانہ حاصل نہیں ہوتی ہے۔ اللہ، اس بات کو اعنی حکمِ ربی کو سمجھنے کی صلاحیت دیں، پھر اس پر مع دوام عمل کرنے کی توفیق دیں۔ آمین یا رب العالمین۔

ماجد ابن فاروق کشمیری


پی ڈی ایف میں حاصل کریں


فرشتے کی دو پلکوں کی مابین پانچ سو سال کی مسافت

0

 فرشتے کی دو پلکوں کی مابین پانچ سو سال کی مسافت کی حقیقت و تحقیق

السلام_علیکم_ورحمۃ_وبرکاتہ

سلسلۃ_تخریج_الاحادیث_نمبر_١٩


بسم_اللہ_الرحمن_الرحیم


أن ألله ملكأ مأبين شفري عينيه مسيرة خمس مأئة عأم۔

ترجمہ: اللہ تعالیٰ کا ایک فرشتہ اتنا بڑا ہے کہ اس کی دونوں آنکھوں کے پلکوں کے مابین سو سال کی مسافت کے برابر فاصلہ ہے۔ 

اس حدیث کے بارے میں ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں :-

لم یوجد لہ اصل 

[المصنوع فی معرفۃ الحدیث الموضوع: ص:٦٧،رقم:٦٣] 

نیز امام عجلونی رحمۃ اللہ علیہ اور علامہ قاو قجی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اس روایت کو موضوع قرار دیا ہے ہیں۔

 [بالترتیب دیکھیں:

(کشف الخفاء ١/٢٢٨،رقم:٧٧٣.)

(اللؤلؤالمرصوع:رقم:١١١)

 ألشيخ عثمأن أبن ألمكي ألتوزري ألزبيدي يكتب في كتأبه[ ألقلأئد ألعنبرية  علي ألمنظومة ألبقونية]  


 مثأله : أن لله ملكأ مأ بين شفري عينيه مسيرة خمس مأئة عأم . قأل ألقأري : لم يوجد له أصل . ومنه : أن شيطأنأ بين ألسمأء وألأرض ، يقأل له : ألولهأن ، معه ثمأنية أمثأل ولد آدم من ألجنود وله خليفة يقأل له : خنزب ، قأل أبن ألجوزي : موضوع . أنظر : ألمصنوع في معرفة ألحديث ألموضوع ، ص 65 و 67

اسی طرح امام الغزالی نے اس روایت کو نقل کرکے فرمایا۔

لم ارہ بھذا اللفظ۔

[احیاء علوم الدین ص ٥٠١]

الامام ابی عبد اللہ  الحارث بن اسد المحاسبی اپنی کتاب میں اس سند کے ساتھ لکھتے ہیں:- سبق تخریجہ


حدثني يحيي بن غيلأن قأل : حدثنأ رشدين بن ألسمع ، عن أبن عبأس بن ميمون أللخمي ، عن أبي قبيل ، عن عبد ألله بن عمرو بن ألعأص ، عن ألنبي  أنه قأل : ألله عز وجل ملك مأ بين شفري عينيه مأئة عأمة .

عبد الرحیم بن الحسین العراقی المحقق نے  بھی اس روایت کو من گھڑت قرار دیا ہے، لکھتے ہیں ۔لم ارہ بھذا اللفظ (  فی تخریج الاحیاء  ٢٧٦/٥)


لہذا اس روایت کو بطور حدیث اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نسبت کرکے بیان کرنا درست نہیں ہے۔


جمع و ترتیب : ماجد ابن فاروق کشمیری 

سجدہ سہو کا طریقہ اور اس کے دلائل

0

سجدہ سہو کا طریقہ اور اس کے دلائل  

باب ما جاء فی سجدتی السہو  قبل السلام




عن عبد اللہ ابن بحینہ الاسدی بحینہ ان کے والد کا نام ہے (قبل اسم ابیہ) اور والد کا نام مالک ہے، لہذا عبداللہ ابن بحینہ (رضی اللہ عنہ) میں ابن کا ہمزہ لکھنا ضروری ہے، کیونکہ الف صرف اس صورت میں ساقط ہوتا ہے جبکہ علمین متناسلین کے درمیان ہو،


فلما اتم صلوتہ سجد سجدتین یکبر فی کل سجدۃ وہو جالس قبل ان یستم،  اس مسئلہ میں اختلاف ہے کہ سجدہ سہو سلام سے پہلے ہونا چاہئے یا بعد میں، حنفیہ کے نزدیک سجدہ سہو مطلقاً بعد السلام ہے، اور امام شافعی (رحمہ اللہ) کے نزدیک مطلقا قبل السلام،


جبکہ امام مالک ( رحمہ اللہ) کے نزدیک یہ تفصیل ہو کہ اگر سجدہ سہو نماز میں کسی نقصان کی وجہ سے واجب ہوا ہے تو سجدۂ سہو قبل السلام ہو گا، اور اگر کسی زیادتی کی وجہ سے واجب ہوا ہے تو بعد السلام ہو گا۔ ان کے مسلک کو یاد رکھنے کے لئے اس طرح تعبیر کیا جاتا ہے کہ ”القاف بالقاف والدال بالدال“ یعنی ”القبل بالنقصان والبعد بالزیادۃ " امام احمد ( رحمہ اللہ) کا مسلک یہ ہو کہ آنحضرت صلی علیہ وسلم سے سہو کی جن صورتوں میں سجود قبل السلام ثابت ہے وہاں قبل السلام پر عمل کیا جائے گا، مثلاً حدیثِ باب میں قعدہ اولیٰ کے ترک پر، اور جہاں آپ سے بعد السلام ثابت ہے، ان صورتوں میں بعد السلام پر عمل ہوگا، مثلاً چار رکعت والی نماز میں دو رکعت پر سلام پھیر دینے کی صورت میں کما فی حدیث ذی الیدین ( جامع ترمذی ( ج ۱،ص ۷۸) باب ما جاء فی الرجل یسلم فی الرکعتین الظہر و العصر)  اور جن صورتوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ ثابت نہیں وہاں امام شافعی ( رحمہ اللہ) کے مسلک کے مطابق قبل السلام سجود ہو گا، امام اسحق (رحمہ اللہ) کا مسلک بھی یہی ہے، البتہ جس صورت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ ثابت نہ ہو وہاں وہ امام مالک ( رحمہ اللہ کے مسلک کے مطابق ”القاف بالقاف و الدال بالدال“ پر عمل کرتے ہیں ، بہر حال ائمہ ثلاثہ کسی نہ کسی صورت میں سجدہ سہو قبل السلام کے قائل ہیں، جبکہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ ہر صورت میں بعد السلام پر عمل کرتے ہیں، یہاں یہ ذہن میں رہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل السلام اور بعد السلام دونوں طریقے ثابت ہیں، اور یہ اختلاف محض افضلیت میں ہے، ائمہ ثلاثہ کا استدلال حضرت عبداللہ ابن بحینہ رضی اللہ عنہ کی حدیثِ باب سے ہے، جس میں آپ نے قعدہ اولیٰ چھوٹ جانے کی وجہ سے قبل اسلام سجدہ فرمایا،


اس کے برخلاف حنفیہ کے دلائل مندرجہ ذیل ہیں:-

۱۔  اگلے باب (باب ماجاء فی سجدتی السہو بعد السلام والکلام) میں حضرت عبد اللہ بن مسعود کی حدیث آرہی ہے، ”ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم صلی الظہر خمسا فقیل لہ ازید فی الصلوۃ ام نسیت فسجد سجدتین بعد ما سلم “ قال ابو عیسی ہذا حدیث حسن صحیح، 

٢.  ترمذی کے سوا تمام صحاح میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے: 

 

واذا شک احدکم فی صلاتہ فلیتحرّ الصواب فلیتم علیہ ثم یسلم ثم یسجد سجدتین {( اللفظ للبخاری)  انظر الصحیح البخاری ج ۱ ص ۵۷و ۵۸ ،  کتاب الصلاۃ باب التوجہ نحو القبلۃ حیث کان، والصحیح مسلم (ج ۱ ص (۲۱۱و۲۱۲) باب السہو فی الصلوۃ والسجود لہ و السنن للنسائی (ج ۱ (ص ۱۸۴) کتاب السہو باب التحری، سنن  لابی داؤد ( ج ۱،  ۱۴۶) باب اذا اصلے خمسا و سنن لابن ماجہ (ص۸۵) باب ماجاء فیمن سجد ہما بعد السلام ۱۲رشید اشرف نفعہ اللہ بما  علمہ و علمہ ما ینفعہ،}



(۳) ابو داؤد {(ج ۱ ص۱۴۸ و ۱۴۹) باب من نسی ان یتشہد و ہو جالس} اور ابن ماجہ {(ص۸۵) باب ما جاء فیمن سجدھا بعد السلام} میں حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے :-  ” لکل سہو سجدتان بعد ما یسلم“ اس پر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ اس حدیث کا مدار اسمٰعیل بن عیاش پر ہے، جو ضعیف ہے، 



اس کا جواب یہ ہے کہ اسماعیل بن عیاش حفاظِ شام میں سے ہیں، اور ان کے بارے میں پیچھے یہ قول فیصل گزر چکا ہے کہ ان کی روایات اہلِ شام سے مقبول ہیں، غیر اہلِ شام سے نہیں، اور یہ حدیث انھوں نے عبداللہ بن عبید اللہ الکلاعی سے روایت کی ہے ، جو اہلِ شام سے ہیں، لہذا یہ حدیث مقبول ہے،


(۴)  سنن نسائی {(ج ۱ ص۱ ۸۵)، باب التحری ، کتاب السہو و سنن ابو داؤد {( ج ۱ ص ۱۴۸) باب من قال بعد التسلیم)  میں حضرت عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ علیہ وسلم کی روایت مروی ہیں: ” قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من شک فی صلاتہ فلیسجد سجدتین بعد ما یسلم،


(۵) ترمزی (ص(۷۳) میں پیچھے باب ماجاء فی الامام ینہض فی الرکعتین ناسیا“ کے تحت حضرت شعبی کی روایت گزر چکی ہے ، ”قال صلی بنا المغیرۃ بن شعبۃ فنہض فی الرکعتین فسبخ بہ القوم وسبح بہم فلما قضی صلوٰتہ ملم ثم سجد سجدتی السہو، وہو جالس ثم حدثہم ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فعل بہم مثل الذی فعل .....  اس روایت میں بھی سجدہ سہو بعد السلام کی تصریح ہے، 

(۶) حضرت ذوالیدین کے واقعہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ سلم کا عمل سجدۂ سہو بعد السلام بتلایا گیا ہے، چناں چہ اس واقعہ میں یہ الفاظ مروی ہے: فصلی اثنتین اخریین ثم سلم ثم کبر فسجد الخ { ترمذی (ج ۱ ص ۷۸) باب ما جاء فی الرجل یسلم فی الرکعتین من الظہر و العصر}

حنفیہ کے ان دلائل میں قولی احادیث بھی ہیں اور فعلی احادیث بھی، اس کے بر خلاف  ائمۂ  ثلاثہ کے پاس صرت فعلی احادیث ہیں، (جو جواز پر محمول ہیں) لہذا حنفیہ کے دلائل راجع ہوں گے ، اور حضرت عبداللہ ابن بحینہ کی حدیثِ باب کا جواب یہ ہے کہ وہ بیانِ جواز محمول ہے، نیز یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس میں قبل السلام سے مراد وہ سلام ہو جو سجدہ سہو کے بعد تشہد پڑھ کر آخر میں کیا جاتا ہے،


”ویقول (ای الشافعی) ہذا الناسخ لغیرہ من الاحادیث و یذکر ان آخر فعل النبی صلی اللہ علیہ وسلم کان علی ہذا “ اس کا مطلب یہ ہے کہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک بعد السلام کی روایات منسوخ ہیں، اور وہ اُن کے لئے حضرت عبداللہ ابن بحینہ رضی اللہ عنہ کی حدیثِ باب کو ناسخ مانتے ہیں،


لیکن نسخ کا دعویٰ صحیح نہیں اور محتاجِ دلیل ہے جبکہ یہاں کوئی دلیل نہیں، اگر چہ امام شافعی رحمہ اللہ نے نسخ کی دلیل میں امام زہری کا قول¹ نقل کیا ہے کہ سجود قبل السلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری عمل تھا“ ، لیکن امام زہری کا یہ قول منقطع ہے ، علاوہ ازیں یحییٰ ابن سعید قطان کے بیان کے مطابق امام زہری کی مراسیل شبہ لاشی²“ ہیں، لہذا اس سے نسخ پر استدلال نہیں کیا جا سکتا،

 

¹ عن الزہری قال سجد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سجدتی السہو قبل السلام وبعدہ و آخر الامرین قبل السلام، لیکن خود علامہ ابوبکر حازمی شافعی ” کتاب الاعتبار فی بیان الناسخ والمنسوخ من الآثار“ (ص ۱۱۵) باب سجود السہو بعد السلام والاختلاف فیہ کے تحت امام زہری کے مذکورہ قول کو نقل کرنے کے بعد آگے چل کر فرماتے ہیں ”طریق الانصاف ان نقول اما حدیث الذی فیہ دلالۃ علی النسخ ففیہ انقطاع فلا یقع معارض اللاحادیث الثابتۃ واما بقیۃ الاحادیث فی الجود قبل السلام و بعدہ قولاً وفعلاً فی ان کانت ثابتۃ صحتہ فیہا نوع تعارض غیر ان تقدیم بعضہا علی بعض غیر معلوم بروایۃ موصولۃ مسحۃ والاشیہ جمل الاحادیث علی التوسع وحواز الامرین “ احقر الورٰی رشید اشرف غفر اللہ ۔۔۔۔ 


² کذا فی معارف السنن (ج ۳ ص (۴۹۱) نقد من الخطیب فی الکفایۃ ۱۲ مرتب عفی عنہ


درس ترمذی: ص۱۴۳و۱۴۶ 

للتفصيل رجوع للكتاب المذكوره

برقی جمع و ترتیب ماجد ابن فاروق کشمیری 

فرشتوں کا حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مشاورت میں ٹاٹ کا لباس پہنا کی حقیقت و تحقیق

1




السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ 

سلسلہ تخریج الاحادیث نمبر 18


ہبط علی جبریل علیہ السلام وعلیہ طنفسۃ وہو متخلل بہا فقلت : یا جبریل ! ما نزلت الی فی مثل ہذا الزی ؟ قال : ان اللہ تعالی امر الملائکۃ ان تتخلل فی السماء کتخلل ابی بکر فی الارض

ترجمہ : آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے ) مجھ پر جبرائیل علیہ السلام اس حال میں اترے کہ وہ ٹاٹ کالباس اوڑھے ہوئے تھے ، تو میں نے کہا : ” اے جبرائیل ! تم تو پہلے بھی اس حلیہ میں نہیں اترے ؟ “ اس قسم کے لباس پہنے کی کیا خاص وجہ ہے ؟ ) تو حضرت جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا بے شک اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا ہے کہ وہ آسان میں وہ لباس پہنیں جو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے زمین میں پہنا ہوا ہے ۔


یہ حدیث بھی زبان زد عام ہے ، حالانکہ اس حدیث کو علامہ جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ ، امام این عراق رحمۃ اللہ علیہ اور دیگر محدثین نے موضوع اور من گھڑت قرار دیا ہے ۔ 

[بالتریب دیکھیں: 

الآلی المؤضوعہ ١/٢٩٣

تنزیۃ الشریہ المرفوعۃ ١/٣٤٣

الفوائد المجموعۃ ص ٤١٩ : رقم الحدیث ٦/١٠٤٣]

علامہ ابن الجوزی رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث کے بارے میں لکھتے ہیں :۔

 یہ حدیث ثابت آشنانی نے اپنی طرف سے گھڑی ہوئی ہے اور اس حدیث گھڑنے کے ساتھ ساتھ نقلِ حدیث اور معرفتِ حدیث سے بھی جاہل تھا۔

[کتاب الموضوعات ٢/٥٥]


یہاں قارئین کے سامنے یہ وضاحت ضروری ہے کہ احادیث پر علم لگانے میں علامہ ابن جوزی رحمۃ اللہ علیہ وسلم کا تشدد مشہور ہے ، تاہم اس میں اس حدیث پر ان کے علم کو اصولی اور بنیادی حیثیت سے ذکر نہیں کیا گیا بلکہ ان کا قول کی تائیدی طور پر ذکر کیا گیا ہے ۔ دیگر معتدل ائمہ حدیث و  اہل تحقیق کی رائے کوئی بنیاد بنا کر احادیث پر حکم لگایا گیا ہے۔

لہذا یہ حدیث موضوع ہے، حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کے مستند مناقب و فضائل اتنے زیادہ ہیں کہ جن میں انبیا کے علاوہ کوئی ان میں شریک نہیں۔ لہٰذا ان کے مناقب و فضائل بیان کرنے میں مستند روایات کو ہی بیان کیا جائے۔

برقی جمع و ترتیب : ماجد کشمیری 

قافلے کو دین کی دعوت دینے کے لیے سخت بارش میں جانا

0

 آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک قافلے کو دین کی دعوت دینے کے لیے جانا کی تحقیق۔

السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ 

سلسلہ تخریج الاحادیث نمبر 18




یہ روایت بھی عموماً بیان کی جاتی ہے کہ ایک مرتبہ سخت آندھی اور گرج چمک والی رات میں ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو کہیں تشریف لے جاتے ہوئے دیکھا تو اس صحابی رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ آپ اتنی سخت رات میں کہاں تشریف لے جار ہے ہیں ؟ آپ نے فرمایا کہ پہاڑ کے اس پار ایک قافلہ رات کے لیے ٹھہرا ہوا ہے ، اسے اپنی دعوت دینے کے لیے جا رہا ہوں ۔ اس صحابی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اتنی سخت رات میں جانے کی کیا ضرورت ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صبح تشریف لے جائیں ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مجھے ڈر ہے کہ کہیں صبح ہونے سے پہلے یہ قافلہ چلا جائے اس لیے ابھی جارہا ہوں۔

یہ روایت تلاش بسیار کے باوجود کہیں نہیں مل سکی۔

(چند مشہور لیکن غیر مستند احادیث: از مفتی صداقت علی)

ابوجہل کو دین اسلام کی دعوت سو بار دی گئی

0

 آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ابوجہل کو دین اسلام کی دعوت دینا کی تحقیق۔

السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ 

سلسلۃ تخریج الاحادیث نمبر ١٦



اس بارے میں دو روایتیں عموماً گردش کرتی ہیں۔

 ایک یہ کہ آپ نے ابوجہل کو ننانوے یا سو مرتبہ دین کی دعوت دی۔

 دوسری یہ کہ آپ نے ایک مرتبہ سخت بارش اور سردی میں ابوجہل کے گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا تو ابوجہل نے کہا کہ اتنی سخت بارش اور سردی میں ضرور کوئی بہت ہی حاجت مند شخص میرے گھر کادروازہ کھٹکھٹا ہے، میں ضرور اس کی حاجت پوری کروں گا ۔ چنانچہ جب اس نے دروازہ کھولا تو آپ صلی اللہ علیہ کو سامنے کھڑا تھے لیکن ابوجہل نے پھر بھی آپ کی دعوت کوٹھکرا دیا

یہ دونوں روایتیں ذخیرۂ احادیث میں بہت تلاش کے باوجود کہیں نہیں ملی، حدیث کی انسائیکلوپیڈیا میں بھی یہ حدیث نہیں مل پائے۔اور جب تک اس کی کوئی معتبر سند نہ ملے، اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتساب سے بیان کرنا موقوف رکھا جائے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ کی جانب صرف ایسا کلام و واقعہ ہی منسوب کیا جاسکتا ہے، جو معتبر سند سے ثابت ہو۔

ذیل میں زیر بحث واقعہ سے ملتی جلتی دو روایات لکھی جائیں گی،

 علامہ ابن عراق نے ”تنزیہ الشریعۃ“ میں حافظ ذہبی کے حوالے سے ٭رتن ہندی کذاب٭ کی سند سے کیا ہے، آپ لکھتے ہیں:

حدثنا رتن بن نصر بن کربال الہندی........... "قال صلی اللہ علیہ وسلم: لو ان للیہودی حاجۃ الی ابی جہل وطلب منی قضاء ہا، لترددت الی باب ابی جہل مائۃ مرۃ"[ تنزیۃ الشریہ المرفوعۃ :ص ٣٩]

       آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر کسی یہودی کا بھی حق ابو جہل پر ہو اور وہ میرے ذریعے سے طلب کرے، تو میں ابو جہل کے دروازے پر حصول حق کے لئے سو مرتبہ بھی جاؤں گا۔


        آگے علامہ ابن عراق [لابی الحسن علی بن محمد بن عراق الکنانی] مذکورہ روایت اور اس جیسی دوسری روایت کے متعلق حافظ ذھبی کا کلام لکھتے ہیں: 

"قال الذہبی: فاظن ان ہذہ الخرافات من وضع موسی ہذا الجاہل، او وضعہا لہ من اختلق ذکر رتن، وہو شیء لم یخلق، ولئن صححنا وجودہ و ظہورہ بعد سنۃ ستمائۃ، فہو اما شیطان تبدی فی صورۃ بشر، فادعی الصحبۃ وطول العمر المفرط، وافتری ہذہ الطامات، او شیخ ضال اسس لنفسہ بیتا فی جہنم بکذبہ علی النبی صلی اللہ علیہ وسلم"[ تنزیۃ الشریہ المرفوعۃ:ص، ٣٩]

حافظ ذہبی بیان فرماتے ہیں: میرا گمان یہ ہے کہ یہ خرافات اس جاہل موسی [سند میں موجود راوی] نے گھڑی ہیں، یا اس شخص نے گھٹری ہے جس نے رتن کا نام ایجاد کیا ہے، اور رتن ایسی چیز ہے جو پیدا ہی نہیں ہوئی [ اس نام کے شخص کی طرف منسوب روایات خود ساختہ ہونے کے ساتھ ساتھ، یہ رتن بھی خود ساختہ فرد ہے جس کا کوئی وجود حقیقت میں نہیں ہے] اگر اس کا وجود اور چھ سو سال کے بعد اس کا ظاہر ہونا مان لیا جائے، پھر یا تو وہ شیطان تھا جو انسانی صورت میں ظاہر ہوا، اور صحابیت ، طویل عمر کا دعوی کیا اور ان بے اصل باتوں کو گھڑا، یا وہ گمراہ سٹیایا ہوا شخص تھا جس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ بول کر اپنے لیے جہنم میں گھر بنایا۔

[سلیمان بن موسی الدمشقی الاموی پر امام بخاری کی جرح میں کفایت اللہ صاحب کا تعاقب :

امام بخاری رحمۃ اللہ نے کہا:

عندہ مناکیر (الضعفاء للبخاری: ۱۴۸)]

ان کے حوالے سے منکر روایات منقول ہیں۔

علامہ ابن ہشام نے ”السیرۃ النبویۃ" میں "محمد بن اسحاق عن عبد الملک بن عبد اللہ ثقفی" کی سند سے ایک واقعہ نقل کیا ہے: 

 ایک اراشی شخص نے ابو جہل کے ہاتھ اپنا مال فروخت کیا ابوجہل اس کا حق دینے میں ٹال مٹول کرنے لگا، وہ شخص قریش کے سرداروں کے پاس گیا اور ابو جہل کی شکایت کی، انہوں نے استہزاء آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اشارہ کیا اور کہا یہ تمہارا حق دلوائے گا، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور حق دلوانے کا کہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے لے کر ابو جہل کے دروازے پر گئے، ابو جہل باہر آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اراشی کا حق دینے کے لئے کہا، وہ فور اندر گیا اور اراشی کا حق دے دیا، سرداران قریش نے ابو جہل کو اس پر ملامت کیا، تو اس نے کہا: اللہ کی قسم !جب انہوں نے میرا دروازہ کھٹکھٹایا تو ایک رعب دار آواز آئی، جب میں باہر آیا تو سامنے ایک بڑا اونٹ کھڑا تھا، اگر میں حق دینے سے انکار کر دیتا تو وہ اونٹ مجھے کھا جاتا۔

علامہ ابن ہشام کی مذکورہ سند میں موجود راوی محمد بن اسحاق کے بارے میں حافظ ذہبی "دیوان الضعفاء“ میں لکھتے ہیں: 


”ثقۃ - ان شاء اللہ - صدوق، احتج بہ خلف من الائمۃ، ولاسیما فی المغازی..


       ان شاء اللہ ثقہ ہیں، صدوق ہیں، متقدمین ائمہ نے ان کی روایات سے استدلال کیا ہے، خاص طور پر مغاری کے باب میں ....“۔

  البتہ واضح رہے کہ بعض محدثین نے محمد بن اسحاق پر خاص جہت سے جرح بھی کی ہے.

 سند میں مذکور "عبد الملک بن عبد اللہ بن ابی سفیان ثقفی" کو حافظ ابن حبان نے '’ثقات “ میں لکھا ہے، البتہ سند منقطع ہے،


جمع و ترتیب: ماجد ابن فاروق کشمیری 

بے نمازی کی نحوست کا واقعہ، من گھڑت ہے۔

0

 بے نمازی کی نحوست کے واقعہ کی تحقیق


السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ 

 سلسلۃ تخریج الاحادیث نمبر 16





 یہ روایت بھی مشہور ہے کہ ایک صحابی  ؓ  نے حضور ﷺ گھر کی بے برکتی کی شکایت کی آپ ﷺ نے اس کو اپنے گھر پر پردہ لٹکانے  کا حکم دیا تعمیل ارشاد کے کچھ دن بعد وہ  صحابی ؓ  تشریف لائے اور انہوں نے حضور ﷺ سے فرمائے کی اس پردہ لٹکانے کے بعد میرے گھر کی بے برکتی ختم ہوگئی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس راستے سے ایک بے نمازی گزرا تھا اور تمہارے گھر پر پردہ نہ ہونے کی وجہ سے اس کی نظر تمہارے گھر کے اندر پڑجاتی تھی جس کی وجہ سے تمہارے گھر میں بے برکتی تھی۔ اب پردے کی وجہ سے اس کی نظر تمہارے گھر کے اندر پڑھنے سے رک گئی۔اس لیے بے برکتی ختم ہوگئی۔


یہ روایت بھی خود ساختہ اور من گھڑت ہے۔اس لے کہ اس مبارک اور پاکیزہ زمانے میں اس قسم کی بے نمازیوں کا کوئی تصور نہیں تھا۔ 


چنانچہ حضرت عبداللہ بن مسعود  ؓ فرماتے ہیں:۔


 وَلَقَدْ رَاَیْتُنَا وَمَا یَتَخَلَّفُ عَنْہَا ( ای الجماعۃ) اِلَّا مُنَافِقٌ مَعْلُومُ النِّفَاقِ۔


[ (صحیح مسلم بحوالہ فضائل نماز ص ٥١)

(صحیح مسلم:رقم الحدیث: ٦٥٤)

( سنن النسائی : رقم الحدیث: ٨٥٠)

( سنن ابن ماجہ :  رقم الحدیث:٧٧٧)


کہ ہم تو اپنا حال یہ دیکھتے  تھے کہ جو شخص کھلم کھلا منافق ہوتا تو وہ جماعت کی نماز سے رہ جاتا ورنہ کسی کو جماعت چھوڑنے کی ہمت بھی نہ ہوتی۔

لہذا اس روایت کو بیان کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔

(نوٹ: موضوع حدیث کی نشان دہی، اس سے ہوتی کہ وہ عقائدِ صحیحہ و صریح احادیث کے خلاف ہوتی، پش جو ہو، موضوع ہے)

جمع و ترتیب : ماجد ابن فاروق کشمیری 


آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک بوڑھی عورت کی گھٹڑی اٹھانا والا واقعہ

0

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک بوڑھی عورت کی گھٹڑی اٹھانا والے واقعہ کی تحقیق۔




 السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ 

سلسلۃ تخریج الاحادیث نمبر 15


یہ واقعہ مشہور ہے کہ ایک مرتبہ ایک بوڑھی یہودی عورت سر پر گھٹڑی اٹھا کر ”مکہ مکرمہ“ سے جاری تھی ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے اس کو دیکھا تو اس سے گھٹڑی لے کر خود اپنے سر پر رکھ لیا ۔ جب اسے منزل پر پہونچایا تو اس بڑھیا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نصیحت کی کہ ”مکہ“ میں ایک شخص ہے جو لوگوں کو ان کے کوئی دین سے پھیر کر ایک نئے دین کی دعوت دیتا ہے اور اسی کا نام محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ہے ۔ تم اس سے بچے رہنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ میں ہی ہوں، تو وہ بڑھیا آپ کے حسنِ اخلاق سے متاثر ہو کر ایمان لے آئیں ۔


 یہ واقعہ بھی خود ساختہ ہے ۔ تخریج حدیث کے جدید مکتبہ ” الدرر السنیۃ " نے اس واقعہ کو بے بنیاد اور من گھڑت قرار دیا ہے۔


 نیز اس قصے کے من گھڑت ہونے کی وجہ یہ بھی ہے کہ اس قصے میں یہودی عورت کا واقعہ ”مکہ“ میں بیان کیا گیا ہے، حالانکہ ”مکہ مکرمہ“ میں یہود نہیں تھے وہ تو مدینہ منورہ میں آباد تھے ۔ 

(نبی کریم صلی اللہ علیہ پر بوڑھی کا کوڑا پھینکنے واقعہ) 

اس کے ساتھ ایک اور واقعہ بھی بیان کیا جاتا ہے۔ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر کوڑا پھینکتی تھی ۔۔۔۔۔۔الخ ۔اس واقعے کے تو بہت سارے طریقے مشہور ہیں۔ جو کہ من گھڑت ہے۔

اور ان دونوں واقعات کو دارالعلوم دیوبند، جامعۃ علوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن نے بھی من گھڑت قرار دیا ہے۔


[بالترتیب دیکھیں:

Fatwa:134-136/B=3/1439)


یہ دونوں واقعات کسی حدیث میں ہماری نظر سے نہیں گذرے کسی اچھے مورخ کی طرف رجوع فرمائیں۔)


(صورتِ مسئولہ میں جو واقعہ تعلیمی نصاب کی کتب میں منقول ہے وہ بے اصل قصہ ہے، مستند کتبِ احادیث میں ایسا کوئی واقعہ نہیں ملتا، لہذا رسولِ اَکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاقِ کریمہ بیان کرنے کے لیے ایسے من گھڑت واقعات کا سہارہ لینے کی چنداں ضرورت نہیں، اور مذکورہ قصہ کی نسبت رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کرنا جائز نہیں۔)


(فتویٰ نمبر : 144004201397

دار الافتاء: جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن)


جمع و ترتیب : ماجد ابن فاروق کشمیری  

لڑکی کو پیغام کیسے بھیجیں

0




اب مستر نہیں ہے یہ دینا سے کہ ہر کام کے پیچھے کرنے کا مقصد عورت کی طلب ہے۔ طلب گرچہ تھی فطرتی پر اختراعیت اور تجاوز ہر شئی کا زوال ہے اور اس سی زوال نے ہمیں پسماندگی میں دھکیل دیا جو کہ ہماری ثقافت نہ تھی۔ جب کہ ہر کام حدود کے اندر کرنا بجا ہے، تو کیوں نا طلبِ نسا کو حدود کے اندر مظہر کیا جائیں۔ 


مطلوب کی حد : انسان جب اس قابل ہو جائیں کہ تفریق مرد و زن میں کمال کو پہنچ جائیں تو جو پہلا اظہارِ محبت ہو انہیں پیغامِ نکاح بھیجیں، گر نعم ہوا، تو تکمیل از حود ہوگی، گر ناگوار انکار سنے کو مل جائیں، تو دل کو دلاسا دیں کر اللہ کہ وسیع مخلوق نسا پر پھر طبع آزمائی کریں گئیں۔ ان شاءاللہ جب تک اقرار نہ آئیں تب تلک کوشاں رہیں۔ ہاں! اسی اثنا میں جان جوان راہِ مستقیم سے ہٹ کر راہِ باطلہ کو اختیار کرتے ہیں، اعنی وہ ریلیشن شپ میں وقت ضائع کرتے ہیں، نہ صرف لمحاتِ غالی بل کہ وہ تجوید ہنر، سرمایہ کاری سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ جن کے بغیر وہ نہیں ملتی۔


نفس کو درخورِ اعتنا بنائیں تاکہ انکار سننا ہی نہ پڑے، اس کے لیئے سیرت و صورت اخلاق و کردار اور حلال سرمایہ سے خود کو تزئین کریں۔ بعد ازاں آپ ایک برینڈ بن جائیں گئیں، جس کے شائقین ہوتے ہیں۔ بس پیشترِ وقت مرسل نہ بنے بل کہ بلوغ کا انتظار کریں۔ 


یہی وہ سر ہے، جس سے مفلح (کامیاب) شخصیات اپنے مستقبل کو محفوظ کرتے ہیں۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آگ پہ پانی ڈالنے والا پرندے کا نام

2

 حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آگ پہ پرندے کا پانی ڈالنا کی تحقیق۔


السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ 

سلسلۃ تخریج الاحادیث نمبر ١٤



یہ روایت مشہور ہے کہ جب نمرود نے سیدنا ابراہیم علیہ السلا کو آگ میں ڈالا تو ایک پرندہ  ابابیل  اپنی  چونچ میں پانی بھر کر ان پر ڈالتا رہا تاکہ آگ بجھ جائے جبکہ گرگٹ اس آگ پر پھونک مارتا رہا تاکہ وہ آگ مزید بھڑک اٹھے ۔

 یہ روایت درست نہیں نہ ہی کسی حدیث میں اس کا ذکر ہے ۔اس کی جگہ آپ صلی اللہ سلم کی حدیث میں ابابیل کی بجائے مینڈک کا ذکر ہے اور گرگٹ کی بجائے چھپکلی کا ذکر ہے ۔

وفی مصنف عبد الرزاق: عن معمر، عن الزہری، عن عروۃ، عن عائشۃ، ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: کانت الضفدع تطفئ النار عن ابراہیم، وکان الوزغ ینفخ فیہ، فنہی عن قتل ہذا، وامر بقتل ہذا ( رقم الحدیث ٨٣٩٢)


ترجمہ : حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ مینڈک حضرت ابراہیم علیے السلام کی آگ کو بجھاتارہ اور چھپکلی اس آگ میں پھونک پارتی رہی ۔ چنانچہ آپ نے مینڈک کومارنے سے منع فرمایا اور چھپکلی کو مارنے کاحکم دیا ۔

اس طرح بخاری شریف ، مسلم ،ترمزی،ابو داؤد، اور نسائی  میں بھی چھپکلی کا لفظ آیا ہے ۔

 النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ :  لِلْوَزَغِ الْفُوَیْسِقُ وَلَمْ اَسْمَعْہُ اَمَرَ بِقَتْلِہِ وَزَعَمَ سَعْدُ بْنُ اَبِی وَقَّاصٍ اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَمَرَ بِقَتْلِہِ ( بخاری :رقم الحدیث ٣٣٠٦)


عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ اَبِیہِ، اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ «اَمَرَ بِقَتْلِ الْوَزَغِ وَسَمَّاہُ فُوَیْسِقًا( مسلم :٥٨٤٤ )

عَنْ اَبِی ہُرَیْرَۃَ،‌‌‌‏ اَنَّ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:‌‌‌‏    مَنْ قَتَلَ وَزَغَۃً بِالضَّرْبَۃِ الْاُولَی،‌‌‌‏ کَانَ لَہُ کَذَا وَکَذَا حَسَنَۃً،‌‌‌‏ فَاِنْ قَتَلَہَا فِی الضَّرْبَۃِ الثَّانِیَۃِ،‌‌‌‏ کَانَ لَہُ کَذَا وَکَذَا حَسَنَۃً،‌‌‌‏ فَاِنْ قَتَلَہَا فِی الضَّرْبَۃِ الثَّالِثَۃِ،‌‌‌‏ کَانَ لَہُ کَذَا وَکَذَا حَسَنَۃً  ( ترمزی ١٤٨٢)


حَدَّثَنَا اَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ،‌‌‌‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ،‌‌‌‏ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ،‌‌‌‏ عَنْ الزُّہْرِیِّ،‌‌‌‏ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ،‌‌‌‏ عَنْ اَبِیہِ،‌‌‌‏ قَالَ:‌‌‌‏   اَمَرَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِ الْوَزَغِ،‌‌‌‏ وَسَمَّاہُ فُوَیْسِقًا۔( سنن ابی داؤد رقم الحدیث ٥٢٦٢)


 عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ عَنْ اُمِّ شَرِیکٍ قَالَتْ اَمَرَنِی رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِ الْاَوْزَاغِ (سنن النسائی رقم الحدیث ٢٨٨٨)


لہذا اس روایت میں ابابیل اور گرگٹ کو ذکر کرنا درست نہیں ۔


جمع و ترتیب : ماجد ابن فاروق کشمیری 

حضرت نوح علیہ السلام سے منسوب مٹی کے کھلونے کا واقعہ

0

 حضرت نوح علیہ السلام کو طوفان کے بعد اللہ تعالی کی طرف سے مٹی کے کھلونے بنانے اور بعد ازاں توڑنے کا حکم دینا کی تحقیق۔






السلام علیکم ورحمت اللہ

سلسلہ تخریج الاحادیث نمبر 13


” جب حضرت نوح علیہ السلام نے اپنے قوم کے لیے بد دعا فرمائی ، جس کے نتیجے میں اللہ تعالی نے طوفان بھیج کر سارے نافرمانوں کو ہلاک کر دیا تو کچھ عرصہ بعد اللہ تعالی نے حضرت نوح علیہ السلام کو حکم دیا کہ مٹی کے چند کھلونے بناؤ ، حضرت نوح علیہ السلام نے تعمیل ارشاد میں مٹی کے چند کھلونے بنا لیے ، پھر اللہ تعالی نے حکم دیا کہ اس کو توڑ دو تو حضرت نوح علیہ السلام نے علم خداوندی کو بجا لاتے ہوئے ان کو توڑ ڈالا ، لیکن ان کھلونوں کو توڑتے ہوئے حضرت نوح علیہ السلام رنجیدہ ہوئے کہ میں نے کتنی مشقت سے ان کھلونوں کو بنایا تھا اور اب ان کو توڑنے کا حکم دیا جارہا ہے ۔ ان کی اس دلی کیفیت پر اللہ تعالی نے ان کو مخاطب کر کے ارشاد فرمایا کہ اے نوح ! ان معمولی بے جان کھلونوں کو توڑنے سے آپ کے دل کو آئی ٹھیس پہنچی ہے تو آپ کی پر بددعا کی وجہ سے نے جن لوگوں کو ہلاک کر ڈالا کیا مجھے اپنے ان بندوں سے محبت نہیں تھی کہ آپ نے ان کی ہلاکت کی بد دعا کی کی ؟ “

 یہ قصہ مواعظ اور بیانات میں عام طور پر بیان کیا جاتا ہے ، لیکن یہ واقعہ بھی انبیاء کرام علیہم السلام کی شان کے خلاف ہے ، کیونکہ حضرات انبیا کرام علیہم السلام نے اپنی امت کے لیے بھی جذبات سے مغلوب ہو کر کوئی بددعا نہیں کی بلکہ عظیم ہستیاں ہر لحظہ انسانیت کی ہدایت حریص اور ان پر مشفق اور مہربان ہوا کرتی تھیں ۔

 حضرت نوح علیہ السلام کا اپنی امت کے لیے بد دعا کرنا بھی کسی قسم کی جذباتیت کی بنا پر نہیں تھا اور نہ ہی اپنے امت کے سینکڑوں سالوں کے اعراض و تکذیب اور مسلسل انکار سے تنگ آ کر اگر انہوں نے بد دعا کی تھی ، بلکہ ان کی بددعا کے پیچھے بھی ان لوگوں کے لیے شفقت اور مہربانی کا جذبہ کار فرما تھا جو ایمان قبول کر چکے تھے ، کہ یا الہ ! یہ کفار اگر زندہ رہیں گے تو یہ ان لوگوں کو گمراہ کر دیں گے جو ایمان قبول کر چکے ہیں ۔

چنانچہ قرآن کریم میں حضرت نوح علیہ السلام کی بد دعا کی یہ غرض مذکور ہے ۔ اللہ تعالی حضرت نوح علیہ السلام کے واقعہ کی حکایت کے طور پر ارشاد فرماتے ہیں :۔

وَقالَ نوحٌ رَبِّ لا تَذَر عَلَى الأَرضِ مِنَ الكافِرينَ دَيّارًا . إِنَّكَ إِن تَذَرْهُمْ يُضِلُّوا عِبَادَكَ وَلَا يَلِدُوا إِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًا .[٢٧/٢٦]

ترجمہ:اور نوح نے کہا اے میرے رب ! زمین پر ان کافروں میں سے کوئی رہنے والا نہ چھوڑ۔


صاحب معارف القرآن اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں ۔

وقال نوح رب لاتذر…: یہاں سے نوح ؑ کی دعا کا بقیہ حصہ ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ نوح ؑ کو کیسے سے معلوم ہوا کہ اگر یہ لوگ زندہ رہے تو ان کی پشت سے کافر ہی پیدا ہوں گے ؟ جواب یہ ہے کہ یہ بات ؓ نے خود نوح ؑ کو بتا ید تھی کہ آپ کی قوم میں سے جو لوگ ایمان لا چکے ہیں ان کے علاوہ اب کوئی شخص ایمان قبول نہیں کرے گا۔ 

(دیکھیے ہود : ٣٦ اس آیت کریمہ کو بھی ملاحظہ فرمائیں:)

وأوحِيَ إِلى نوحٍ أَنَّهُ لَن يُؤمِنَ مِن قَومِكَ إِلّا مَن قَد آمَنَ فَلا تَبتَئِس بِما كانوا يَفعَلونَ۔

ترجمہ:اور نوح کی طرف وحی کی گئی کہ بیشک حقیقت یہ ہے کہ تیری قوم میں سے کوئی ہرگز ایمان نہیں لائے گا مگر جو ایمان لا چکا، پس تو اس پر غمگین نہ ہو جو وہ کرتے رہے ہیں۔)

  یہ بات معلوم ہونے کے بعد نوح ؑ نے دعا کی کہ یا اللہ ! زمین پر ان کافروں میں سے ایک ”’ یار“ بھی باقی نہ چھوڑو۔ ”’ یارا“ ’ فیعال“ کے وزن پر ہے، یہ ”’ دار یدور دوراً“ (گھومنا) سے ہو تو معنی ہوگا، ایک پھرنے والا بھی نہ چھوڑ اور اگر ”’ دار“ (گھر) سے مشتق ہو تو معنی ہے، گھر میں بسنے والا ایک فرد بھی باقی نہ چھوڑ۔

 بلکہ مشہور مفسر علامہ قرطبی رحمہ اللہ علیہ نے تو یہاں تک لکھا ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام کی بددعا کرنے کی وجہ یہ تھی کہ ان کو اللہ تعالی کی طرف سے حکم دیا گیا تھا چنانچہ وہ لکھتے ہیں:

قلت: وإن كان لم يؤمر بالدعاء نصا فقد قيل له: أنه لن يؤمن من قومك إلا من قد آمن. فأعلم عواقبهم فدعا عليهم بالهلاك؛ كما دعا نبينا ﷺ على شيبة وعتبة ونظرائهم فقال: " اللهم عليك بهم " لما أعلم عواقبهم؛ وعلى هذا يكون فيه معنى الأمر بالدعاء. والله أعلم.([71:26] - نوح - القرطبي)

ترجمہ : ” اگر چہ نوح علیہ السلام کو اپنی قوم کے لیے بددعا کا علم صراحتا تو نہیں دیا گیا تھا ، البتہ ان سے یہ کہا گیا کہ آپ کی قوم میں سے اب کوئی بھی ہرگز ایمان نہیں لائے گا سوائے ان کے جو ایمان لا چکے ہیں ۔ تو اس آیت سے ان کو اپنی قوم کا انجام معلوم ہو چکا تھا تب انہوں نے ان کے لیے ہلاکت کی بددعا کی ۔ جیسا کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ نے عقبہ و شیبہ کا انجام معلوم ہو جانے پر ان کے لیے بددعا فرمائی تھی،

تو اس طرح ( اگر چہ حضرت نوح علیہ السلام کو صراحتا تو دعا کرنے کا حکم نہیں دیا گیا تھا لیکن ) معنوی طور پر ان کو دعا کرنا کا حکم دیا گیا تھا ۔ “

 لہذا اسی روایات بیان کری کی طرح سے بھی درست نہیں ، جن سے یہ ظاہر ہوتا ہو کہ اللہ تعالی نے نوح علیہ السلام کی بددعا پر کسی قسم کی ناراضگی کا اظہار کیا تھا ۔ (چند معروف لیکن غیر مستند احادیث) 

جمع و ترتیب : ماجد ابن فاروق کشمیری 

حضرت ایوب علیہ السلام کے بیماری کی روایت کی تحقیق .

0

حضرت ایوب علیہ السلام کے بیماری کی روایت کی تحقیق .



السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ 

سلسلہ تخریج الاحادیث نمبر ١٢


حضرت ایوب علیہ السلام اللہ تعالی کے برگزیدہ پیغمبر تھے ، جن کے اوپر بطور آزمائش ایک لمبے عرصے تک پیاری آئی تھی ۔ ان کی بیماری کے واقعے میں عموماً یہ بات بیان کی جاتی ہے کہ اس بیماری سے ان کا بدن گل سڑ گیا تھا اور ان کے مبارک جسم میں کیڑے پڑ گئے تھے کہ یہ بھی بیان کیا جاتا ہے۔ کہ اگر کوئی کیڑا ان کے بدن سے گر جاتا تو وہ ان کو اٹھا کر دوبارہ اپنی جگہ پر رکھ دیتے۔

انبیاء کرام علیہم السلام کے متعلق اس قسم کی روایات سے قبل یہ اصول زہن نشین کر لینا چاہیے کہ انبیاء کرام علیہم السلام پر صحت و مرض کے حالات آتے رہے ہیں ، تاہم اللہ تعالی نے انبیاء کرام علیھم السلام کو ہراس بیماری اور عیب سے محفوظ رکھا ہے جس سے لوگ کین یا کراہت محسوس کریں ، اور اس کی وجہ ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام کا مقصد بعثت لوگوں کو اللہ تعالی کی طرف بلانا اور ان میں رہتے ہوئے ، ان کو حق بات کی تلقین کرتے رہتا تھا ، جب کہ اس قسم کی باریاں لوگوں کے تنفر اور دوری کا باعث ہیں ، نیز اس قسم کی بیماریاں لوگوں میں تنفر اور دوری کا باعث ہیں نیز اس قسم کی بیماری شانِ  نبوت منصبِ نبوت  کے بھی منافی ہے ۔چنانچہ حضرت مفتی شفیع صاحب نور اللہ مرقدہ لکھتے ہیں :۔

 بعض آثار سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے جسم کے ہر حصے پر پھوڑے نکل آئے تھے یہاں تک کہ لوگوں نے گھن کی وجہ سے آپ کو ایک کوڑی پر ڈال دیا تھا لیکن بعض محققین مفسرین نے ان آثار کو درست تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے ، ان کا کہنا ہے کہ انبیاء کرام علیھم السّلام پر بیماریاں تو سکتی ہیں ، لیکن انہیں ایسی بیماری میں مبتلا نہیں کیا جاتا ، جن سے لوگ گھن کرنے  لگیں ۔ حضرت ایوب علیہ السلام کی بماری بھی اسی نہیں ہوسکتی ، بلکہ یہ کوئی عام قسم کی پیاری تھی ، لہذا وہ آثار جن میں حضرت ایوب علیہ السلام کی طرف پھوڑے پھنسیوں کی نسبت کی گئی ہے یا جن میں کہا گیا ہے کہ آپ کو کوڑی پر ڈال دیا گیا تھا۔

 روایۃ اور درایۃ قابلِ اعتماد نہیں ہیں ۔ [معارف القرآن جلد ٧/٥٢٢ ] 

نیز جمہور متعلقین مثلاً حافظ ابن حجر، علامہ آلوسی نے بھی حضرت ایوب علیہ السلام کی باری کی تفصیل والی روایت کی صحت سے انکا کیا ہے اور اس کو انبیاء کا علیھم السّلام اکی وجاہت (جو کہ بہت کا خاصہ ہے ) کے منافی قرار دی اہے ۔

تفصیل کے لیے دیکھیں:


 فتح الباری : جلد ٦/٢٢٦

 ۔ روح المعانی : جلد ٢٣/٢٠٨) ۔

 الاسرائیلیات واثرہا فی کتب الحدیث : ص ۳۳۳۰ ، ۳۳٤ -

 تفسیر المراغی : ۲۳ / ١٢٥

 ۔ فتاوی حقانیہ : ۲/۱٥۳ 

۔

الغرض امراض کا عارض ہوتا ہے بیشک انبیاء کرام علیہم السلام کے ساتھ بھی پیش آتا رہا ہے لیکن صرف اس حد تک کہ وہ لوگوں کے لیے باعثِ نفرت اور سببِ تکدر نہ ہو اور نہ ہی وہ عیب کے درجے میں ہو ، لہذا حضرت ایوب علیہ السلام پر اللہ تعالی کی طرف سے بیماری یا تکلیف تو یقیناً آئی تھی ، لیکن اس کی تفصیل بیان کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے ۔


مزید اس کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کےلیے نیچے والے مسیج کو مطالعہ فرما لیں ۔


وَاَیّوبَ اِذ نادی رَبَّہُ اَنّی مَسَّنِیَ الضُّرُّ وَاَنتَ اَرحَمُ الرّاحِمینَ ﴾ [21:83] - الانبیاء

ترجمہ:

اور ایوب کو جس وقت پکارا اس نے اپنے رب کو کہ مجھ پر پڑی ہے تکلیف اور تو ہے سب رحم والوں سے رحم والا

تفسیر:

خلاصہ تفسیر 

اور ایوب (علیہ السلام کے قصے کا تذکرہ کیجئے جب کہ انہوں نے (مرض شدید میں مبتلا ہونے کے بعد) اپنے رب کو پکارا کہ مجھ کو یہ تکلیف پہنچ رہی ہے اور آپ سب مہربانوں سے زیادہ مہربان ہیں (تو اپنی مہربانی سے میری یہ تکلیف دور کر دیجئے) تو ہم نے ان کی دعا قبول کی اور ان کو جو تکلیف تھی اس کو دور کردیا اور (بغیر ان کی درخواست کے) ہم نے ان کا کنبہ (یعنی اولاد جو ان سے غائب ہوگئے تھے (قالہ الحسن کذا فی الدار المنثور) یا مر گئے تھے (کما قال غیرہ) عطا فرمایا (اس طرح سے کہ وہ اس کے پاس آگئے یا بایں معنی کہ اتنے ہی اور پیدا ہوگئے، قالہ عکرمہ کما فی فتح المنان) اور ان کے ساتھ (گنتی میں) ان کے برابر اور بھی (دیئے، یعنی جتنی اولاد پہلے تھی اس کے برابر اور بھی دے دیے خواہ خود اپنی صلب سے یا اولاد کی اولاد ہونے کی حیثیت سے) (کذا فی فتح المنان من کتاب ایوب) اپنی رحمت خاصہ کے سبب سے اور عبادت کرنے والوں کے لئے ایک یادگار رہنے کے سبب سے۔

معارف و مسائل 

قصہ ایوب ؑ

حضرت ایوب ؑ کے قصہ میں اسرائیلی روایات بڑی طویل ہیں، ان میں سے جن کو حضرات محدثین نے تاریخی درجہ میں قابل اعتماد سمجھا ہے وہ نقل کی جاتی ہیں۔ قرآن کریم سے تو صرف اتنی بات ثابت ہے کہ ان کو کوئی شدید مرض پیش آیا جس پر وہ صبر کرتے رہے بالآخر اللہ تعالیٰ سے دعا کی تو اس سے نجات ملی اور یہ کہ اس بیماری کے زمانے میں ان کی اولاد اور احباب سب غائب ہوگئے خواہ موت کی وجہ سے یا کسی دوسری وجہ سے، پھر حق تعالیٰ نے ان کو صحت و عافیت دی اور جتنی اولاد تھی وہ سب ان کو دے دی بلکہ اتنی ہی اور بھی زیادہ دیدی، باقی حصے کے اجزاء بعض تو مستند احادیث میں موجود ہیں اور زیادہ تر تاریخی روایات ہیں حافظ ابن کثیر نے اس قصے کی تفصیل یہ لکھی ہے کہ

ایوب ؑ کو حق تعالیٰ نے ابتداء میں مال و دولت اور جائیداد اور شاندار مکانات اور سواریاں اور اولاد اور حشم و خدم بہت کچھ عطا فرمایا تھا پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو پیغمبرانہ آزمائش میں مبتلا کیا یہ سب چیزیں ان کے ہاتھ سے نکل گئی اور بدن میں بھی ایسی سخت بیماری لگ گئی جیسے جذام ہوتا ہے کہ بدن کا کوئی حصہ بجز زبان اور قلب کے اس بیماری سے نہ بچا وہ اس حالت میں زبان و قلب کو اللہ کی یاد میں مشغول رکھتے اور شکر ادا کرتے رہتے تھے۔ اس شدید بیماری کی وجہ سے سب عزیزوں، دوستوں اور پڑوسیوں نے ان کو الگ کر کے آبادی سے باہر ایک کوڑا کچرہ ڈالنے کی جگہ پر ڈال دیا۔ کوئی ان کے پاس نہ جاتا تھا صرف ان کی بیوی ان کی خبر گیری کرتی تھی جو حضرت یوسف ؑ کی بیٹی یا پوتی تھی جس کا نام لیّا بنت میشا ابن یوسف ؑ بتلایا جاتا ہے (ابن کثیر) مال و جائیداد تو سب ختم ہوچکا تھا ان کی زوجہ محترمہ محنت مزدوری کر کے اپنے اور ان کے لئے رزق اور ضروریات فراہم کرتی اور ان کی خدمت کرتی تھیں۔ ایوب ؑ کا یہ ابتلاء و امتحان کوئی حیرت و تعجب کی چیز نہیں، نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ اشد الناس بلاء الانبیاء ثم الصالحون ثم الامثل فالامثل، یعنی سب سے زیادہ سخت بلائیں اور آزمائشیں انبیاء (علیہم السلام) کو پیش آتی ہیں ان کے بعد دوسرے صالحین کو درجہ بدرجہ۔ اور ایک روایت میں ہے کہ ہر انسان کا ابتلاء اور آزمائش اس کی دینی صلابت اور مضبوطی کے اندازے پر ہوتا ہے جو دین میں جتنا زیادہ مضبوط ہوتا ہے اتنی اس کی آزمائش و ابتلاء زیادہ ہوتی ہے (تاکہ اسی مقدار سے اس کے درجات اللہ کے نزدیک بلند ہوں) حضرت ایوب ؑ کو حق تعالیٰ نے زمرہ انبیاء (علیہم السلام) میں دینی صلابت اور صبر کا ایک امتیازی مقام عطا فرمایا تھا (جیسے داؤد ؑ کو شکر کا ایسا ہی امتیاز دیا گیا تھا) مصائب و شدائد پر صبر میں حضرت ایوب ؑ ضرب المثل ہیں۔ یزید بن میسرہ فرماتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے ایوب ؑ کو مال و اولاد وغیرہ سب دنیا کی نعمتوں سے خالی کر کے آزمائش فرمائی تو انہوں نے فارغ ہو کر اللہ کی یاد اور عبادت میں اور زیادہ محنت شروع کردی اور اللہ تعالیٰ سے عرض کیا کہ اے میرے پروردگار میں تیرا شکر ادا کرتا ہوں کہ تو نے مجھے مال جائیداد اور دولت دنیا اور اولاد عطا فرمائی جس کی محبت میرے دل کے ایک ایک جزء پر چھا گئی پھر اس پر بھی شکر ادا کرتا ہوں کہ تو نے مجھے ان سب چیزوں سے فارغ اور خالی کردیا اور اب میرے اور آپ کے درمیان حائل ہونے والی کوئی چیز باقی نہ رہی۔

حافظ ابن کثیر یہ مذکورہ روایات نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ وہب بن منبہ سے اس قصہ میں بڑی طویل روایات منقول ہیں جن میں غرابت پائی جاتی ہے اور طویل ہیں اس لئے ہم نے ان کو چھوڑ دیا ہے۔

حضرت ایوب ؑ کی دعا صبر کے خلاف نہیں

حضرت ایوب ؑ اس شدید بلاء میں کہ سب مال و جائیداد اور دولت و دنیا سے الگ ہو کر ایسی جسمانی بیماری میں مبتلا ہوئے کہ لوگ پاس آتے ہوئے گھبرائیں، بستی سے باہر ایک کوڑے کچرے کی جگہ پر سات سال چند ماہ پڑے رہے کبھی جزع و فزع یا شکایت کا کوئی کلمہ زبان پر نہیں آیا۔ نیک بی بی لیّا زوجہ محترمہ نے عرض بھی کیا کہ آپ کی تکلیف بہت بڑھ گئی ہے اللہ سے دعا کیجئے کہ یہ تکلیف دور ہوجائے تو فرمایا کہ میں نے ستر سال صحیح تندرست اللہ کی بیشمار نعمت و دولت میں گزارے ہیں کیا اس کے مقابلے میں سات سال بھی مصیبت کے گزرنے مشکل ہیں۔ پیغمبرانہ عزم و ضبط اور صبر و ثبات کا یہ عالم تھا کہ دعا کرنے کی بھی ہمت نہ کرتے تھے کہ کہیں صبر کے خلاف نہ ہوجائے (حالانکہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا اور اپنی احتیاج و تکلیف پیش کرنا بےصبری میں داخل نہیں) بالآخر کوئی ایسا سبب پیش آیا جس نے ان کو دعا کرنے پر مجبور کردیا اور جیسا کہ اوپر لکھا گیا ہے یہ دعا دعا ہی تھی کوئی بےصبری نہیں تھی حق تعالیٰ نے ان کے کمال صبر پر اپنے کلام میں مہر ثبت فرما دی ہے فرمایا اِنَّا وَجَدْنٰہُ صَابِرًا اس سبب کے بیان میں روایات بہت مختلف اور طویل ہیں اس لئے ان کو چھوڑا جاتا ہے۔

ابن ابی حاتم نے حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت کیا ہے کہ (جب ایوب ؑ کی دعا قبول ہوئی اور ان کو حکم ہوا کہ زمین پر ایڑ لگائیے یہاں سے صاف پانی کا چشمہ پھوٹے گا اس سے غسل کیجئے اور اس کا پانی پیجئے تو یہ سارا روگ چلا جائے گا۔ حضرت ایوب نے اس کے مطابق کیا تمام بدن جو زخموں سے چور تھا اور بجز ہڈیوں کے کچھ نہ رہا تھا اس چشمہ کے پانی سے غسل کرتے ہی سارا بدن کھال اور بال یکایک اپنی اصلی حالت پر آگئے تو) اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے جنت کا ایک لباس بھیج دیا وہ زیب تن فرمایا اور اس کوڑے کچرے سے الگ ہو کر ایک گوشہ میں بیٹھ گئے۔ زوجہ محترمہ حسب عادت ان کی خبر گیری کے لئے آئی تو ان کو اپنی جگہ پر نہ پا کر رونے لگی۔ ایوب ؑ جو ایک گوشہ میں بیٹھے ہوئے تھے ان کو نہیں پہچانا کہ حالت بدل چکی تھی، انہیں سے پوچھا کہ اے خدا کے بندے (کیا تمہیں معلوم ہے کہ) وہ بیمار مبتلا جو یہاں پڑا رہتا تھا کہاں چلا گیا، کیا کتوں یا بھیڑیوں نے اسے کھالیا ؟ اور کچھ دیر تک اس معاملے میں ان سے گفتگو کرتی رہی۔ یہ سب سن کر ایوب ؑ نے ان کو بتلایا کہ میں ہی ایوب ہوں مگر زوجہ محترمہ نے اب تک بھی نہیں پہچانا۔ کہنے لگی اللہ کے بندے کیا آپ میرے ساتھ تمسخر کرتے ہیں تو ایوب ؑ نے پھر فرمایا کہ غور کرو میں ہی ایوب ہوں اللہ تعالیٰ نے میری دعا قبول فرما لی اور میرا بدن ازسرنو درست فرما دیا۔ ابن عباس فرماتے ہیں کہ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کا مال و دولت بھی ان کو واپس دے دیا اور اولاد بھی، اور اولاد کی تعداد کے برابر مزید اولاد بھی دے دی (ابن کثیر)

ابن مسعود نے فرمایا کہ حضرت ایوب ؑ کے سات لڑکے سات لڑکیاں تھیں اس ابتلاء کے زمانے میں یہ سب مر گئے تھے، جب اللہ نے ان کو عافیت دی تو ان کو بھی دوبارہ زندہ کردیا اور ان کی اہلیہ سے نئی اولاد بھی اتنی ہی اور پیدا ہوگئی جس کو قرآن میں وَمِثْلَہُمْ مَّعَہُمْ فرمایا ہے۔ ثعلبی نے کہا کہ یہ قول ظاہر آیت قرآن کے ساتھ اقرب ہے۔ (قرطبی)


بعض حضرات نے فرمایا کہ نئی اولاد خود اپنے سے اتنی ہی مل گئی جتنی پہلے تھی اور ان کے مثل اولاد سے مراد اولاد کی اولاد ہے۔ واللہ اعلم

ترجمہ:اور یاد کر ہمارے بندے ایوب کو جب اس نے پکارا اپنے رب کو کہ مجھ کو لگا دی شیطان نے ایذا اور تکلیف۔

خلاصہ تفسیر 

اور آپ ہمارے بندہ ایوب ؑ کو یاد کیجئے جبکہ انہوں نے اپنے رب کو پکارا کہ شیطان نے مجھ کو رنج اور آزار پہنچایا ہے۔ اور یہ رنج و آزار بعض مفسرین کے مطابق وہ ہے جو امام احمد نے کتاب الزہد میں ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ حضرت ایوب ؑ کی بیماری کے زمانے میں ایک بار شیطان ایک طبیب کی شکل میں حضرت ایوب کی بیوی کو ملا تھا۔ اسے انہوں نے طبیب سمجھ کر علاج کی درخواست کی، اس نے کہا اس شرط سے کہ اگر ان کو شفا ہوجائے تو یوں کہہ دینا کہ تو نے ان کو شفا دی، میں اور کچھ نذرانہ نہیں چاہتا۔ انہوں نے ایوب ؑ سے ذکر کیا، انہوں نے فرمایا کہ بھلی مانس وہ تو شیطان تھا۔ میں عہد کرتا ہوں کہ اگر اللہ تعالیٰ مجھ کو شفا دے دے تو میں تجھ کو سو قمچیاں ماروں گا۔ پس آپ کو سخت رنج پہنچا اس سے کہ میری بیماری کی بدولت شیطان کا یہاں تک حوصلہ بڑھا کہ خاص میری بیوی سے ایسے کلمات کہلوانا چاہتا ہے۔ جو ظاہراً موجب شرک ہیں۔ گو تاویل سے شرک نہ ہوں اگرچہ حضرت ایوب ازالہ مرض کے لئے پہلے بھی دعا کرچکے تھے۔ مگر اس واقعہ سے اور زیادہ ابہال اور تضرع سے دعا کی، پس ہم نے ان کی دعا قبول کرلی اور حکم دیا کہ) اپنا پاؤں (زمین پر) مارو۔ (چنانچہ انہوں نے زمین پر پاؤں مارا تو وہاں سے ایک چشمہ پیدا ہوگیا۔ (رواہ احمد) 

پس ہم نے ان سے کہا کہ۔ یہ (تمہارے لئے) نہانے کا ٹھنڈا پانی ہے اور پینے کا۔ (یعنی اس میں غسل کرو اور پیو بھی۔ چناچہ نہائے اور پیا بھی، اور بالکل اچھے ہوگئے) اور ہم نے ان کو ان کا کنبہ عطا فرمایا اور ان کے ساتھ (گنتی میں) ان کے برابر اور بھی (دیئے) اپنی رحمت خاصہ کے سبب سے اور اہل عقل کے لئے یادگار رہنے کے سبب سے (یعنی اہل عقل یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ صابروں کو کیسی جزا دیتے ہیں اور اب ایوب ؑ نے اپنی قسم پوری کرنے کا ارادہ کیا۔ مگر چونکہ ان کی بیوی نے ایوب ؑ کی خدمت بہت کی تھی۔ اور ان سے کوئی گناہ بھی صادر نہ ہوا تھا۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے ان کے لئے ایک تخفیف فرمائی) اور (ارشاد فرمایا کہ اے ایوب) تم اپنے ہاتھ میں ایک مٹھا سینکوں کا لو (جس میں سو سینکیں ہوں) اور (اپنی بیوی کو) اس سے مار لو اور (اپنی) قسم نہ توڑو (چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ آگے ایوب ؑ کی تعریف کی ہے کہ) بیشک ہم نے ان کو (بڑا) صابر پایا، اچھے بندے تھے کہ (خدا کی طرف) بہت رجوع ہوتے تھے۔

معارف و مسائل 

حضرت ایوب ؑ کا واقعہ یہاں آنحضرت محمد ﷺ کو صبر کی تلقین کرنے کے لئے لایا گیا ہے یہ واقعہ تفصیل کے ساتھ سورۃ انبیاء میں گزر چکا ہے، یہاں چند باتیں قابل ذکر ہیں۔

مَسَّنِیَ الشَّیْطٰنُ بِنُصْبٍ وَّعَذَابٍ۔ (شیطان نے مجھ کو رنج اور آزار پہنچایا ہے) بعض حضرات نے شیطان کے رنج و آزار پہنچانے کی تفصیل یہ بیان کی ہے کہ حضرت ایوب ؑ جس بیماری میں مبتلا ہوئے وہ شیطان کے تسلط کی وجہ سے آئی تھی۔ اور ہوا یہ تھا کہ ایک مرتبہ فرشتوں نے حضرت ایوب ؑ کی بہت تعریف کی جس پر شیطان کو سخت حسد ہوا اور اس نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ مجھے ان کے جسم اور مال واولاد پر ایسا تسلط عطا کردیا جائے جس سے میں ان کے ساتھ جو چاہوں سو کروں، اللہ تعالیٰ کو بھی حضرت ایوب ؑ کی آزمائش مقصود تھی، اس لئے شیطان کو یہ حق دے دیا گیا اور اس نے آپ کو اس بیماری میں مبتلا کردیا۔

لیکن محقق مفسرین نے اس قصے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ قرآن کریم کی تصریح کے مطابق انبیاء ؑ پر شیطان کو تسلط حاصل نہیں ہو سکتا۔ اس لئے یہ ممکن نہیں ہے کہ اس نے آپ کو بیمار ڈال دیا ہو۔ 

بعض حضرات نے شیطان کے رنج وآزار پہنچانے کی یہ تشریح کی ہے کہ بیماری کی حالت میں شیطان حضرت ایوب ؑ کے دل میں طرح طرح کے وسوسے ڈالا کرتا تھا، اس سے آپ کو اور زیادہ تکلیف ہوتی تھی، یہاں آپ نے اسی کا ذکر فرمایا ہے۔ لیکن اس آیت کی سب سے بہتر تشریح وہ ہے جو حضرت تھانوی نے بیان القرآن میں اختیار کی ہے اور جو خلاصہ تفسیر میں اوپر لکھی گئی ہے۔ 


حضرت ایوب کے مرض کی نوعیت۔


قرآن کریم میں اتنا تو بتایا گیا ہے کہ حضرت ایوب ؑ کو ایک شدید قسم کا مرض لاحق ہوگیا تھا، لیکن اس مرض کی نوعیت نہیں بتائی گئی۔ احادیث میں بھی اس کی کوئی تفصیل آنحضرت محمد ﷺ سے منقول نہیں ہے۔ البتہ بعض آثار سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے جسم کے ہر حصے پر پھوڑے نکل آئے تھے۔ یہاں تک کہ لوگوں نے گھن کی وجہ سے آپ کو ایک کوڑی پر ڈال دیا تھا۔ لیکن بعض محقق مفسرین نے ان آثار کو درست تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) پر بیماریاں تو آسکتی ہیں، لیکن انہیں ایسی بیماریوں میں مبتلا نہیں کیا جاتا جن سے لوگ گھن کرنے لگیں۔ حضرت ایوب ؑ کی بیماری بھی ایسی نہیں ہو سکتی، بلکہ یہ کوئی عام قسم کی بیماری تھی، لہٰذا وہ آثار جن میں حضرت ایوب ؑ کی طرف پھوڑے پھنسیوں کی نسبت کی گئی ہے یا جن میں کہا گیا ہے کہ آپ کو کوڑی پر ڈال دیا گیا تھا، روایۃً ودرایۃً قابل اعتماد نہیں ہیں۔

(مخلص از روح المعانی و احکام القرآن)


جمع و ترتیب : ماجد ابن فاروق کشمیری 


0

درسگاہ خلفائے راشدین چولگام از مکتبِ ہواند

اہتمام کندہ ماجد کشمیری 

سوال نمبر 1 : فرائض وضو کی تعریف لکھیں اور مستحباتِ وضو کتنے ہیں۔


سوال نمبر 2: غسل میں سنت کا کیا حکم ہے، نیز غسل کی کتنی سنتیں ہیں؟


سؤال نمبر 3: نواقضِ وضو سے کیا مراد ہے اور ان کی تعداد کتنی ہے؟ 


سوال نمبر 4: نواقضِ وضو اور مکروہاتِ وضو قلم بند کریں؟ 


سوال نمبر 5 : فرائض غسل کتنے ہیں اور کیا کیا ہے۔


ایک لفظ میں جواب لکھیں 


سوال نمبر 6: اگر بدن کے کسی جگہ سے خون یا پیپ آئیں تو وضو ٹوٹ جائے گا یا نہیں؟


سوال نمبر 7:  وضو میں مسواک کرنا فرض ہے؟


سؤال نمبر 8 : دونوں ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھونا؟ 


سوال نمبر 9: غسل میں زیادہ پانی استعمال کرنا؟ 


سوال نمبر 10: وضو یا غسل میں خلافِ سنت کام کرنا کیسا ہے۔


موت کے وقت کلمہ زبان پر جاری نہ ہونا

2


سوال :ایک


واقعہ بیان کیا جاتا ہے کہ ایک صحابی حضرت علقمہ رضی اللہ عنہ کی موت کے وقت ان کی زبان پر کلمہ جاری نہیں ہو رہا تھا تو آپ علیہ السلام نے ان کی ماں کو بلوا کر دریافت فرمایا تو معلوم ہوا کہ وہ ماں کا نافرمان ہے اور ماں اسکو معاف کرنے پر راضی نہیں، لیکن جب آپ علیہ السلام نے اسکو جلانے کا کہا تو ماں نے معاف کردیا …کیا یہ واقعہ درست ہے؟

الجواب باسمہ تعالی

یہ روایت اگر چہ امام احمد رحمہ اللہ نے ابتداء اپنی کتاب “مسند احمد”  میں ذکر کی لیکن بعد میں اس روایت کو اپنی کتاب سے نکال دیا کیوں کہ اس کی سند انتہائی کمزور ہے.


ﻗﺎﻝ ﺃﺑﻮ ﻋﺒﺪﺍﻟﺮﺣﻤﻦ: ﻭﻛﺎﻥ ﻓﻲ ﻛﺘﺎﺏ ﺃﺑﻲ: ﺣﺪﺛﻨﺎ ﻳﺰﻳﺪ ﺑﻦ ﻫﺎﺭﻭﻥ، ﺃﺧﺒﺮﻧﺎ ﻓﺎﺋﺪ ﺑﻦ ﻋﺒﺪﺍﻟﺮﺣﻤﻦ ﻗﺎﻝ: ﺳﻤﻌﺖ ﻋﺒﺪﺍﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﺃﻭﻓﻰ ﻳﻘﻮﻝ:‏ ﺟﺎﺀ ﺭﺟﻞ ﺇﻟﻰ ﺍﻟﻨﺒﻲ ﺻﻠﻲ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻓﻘﺎﻝ: ﻳﺎﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﻪ! ﺇﻥ ﻫﺎﻫﻨﺎ ﻏﻼﻣﺎً ﻗﺪ ﺍﺣﺘﻀﺮ؛ ﻳﻘﺎﻝ ﻟﻪ: ﻗﻞ ﻻ ﺇﻟﻪ ﺇﻻ ﺍﻟﻠﻪ، ﻓﻼ ﻳﺴﺘﻄﻴﻊ ﺃﻥ ﻳﻘﻮﻟﻬﺎ. ﻗﺎﻝ: ﺃﻟﻴﺲ ﻗﺪ ﻛﺎﻥ ﻳﻘﻮﻟﻬﺎ ﻓﻲ ﺣﻴﺎﺗﻪ؟ ﻗﺎﻝ: ﺑﻠﻰ، ﻗﺎﻝ: ﻓﻤﺎ ﻣﻨﻌﻪ ﻣﻨﻬﺎ ﻋﻨﺪ ﻣﻮﺗﻪ؟ (ﻓﺬﻛﺮ ﺍﻟﺤﺪﻳﺚ ﺑﻄﻮﻟﻪ) ﻟﻢ ﻳﺤﺪﺙ ﺃﺑﻲ ﺑﻬﺬﻳﻦ ﺍﻟﺤﺪﻳﺜﻴﻦ (ﺣﺪﻳﺜﻴﻦ ﻣﻦ ﻃﺮﻳﻖ ﻓﺎﺋﺪ ﻋﻦ ﺍﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﺃﻭﻓﻰ) ﺿﺮﺏ ﻋﻠﻴﻬﻤﺎ ﻣﻦ ﻛﺘﺎﺑﻪ؛ ﻷﻧﻪ ﻟﻢ ﻳﺮﺽ ﺣﺪﻳﺚ ﻓﺎﺋﺪ ﺑﻦ ﻋﺒﺪﺍﻟﺮﺣﻤﻦ، ﻭﻛﺎﻥ ﻋﻨﺪﻩ ﻣﺘﺮﻭﻙ ﺍﻟﺤﺪﻳﺚ… ﺍﻧﺘﻬﻰ ﺍﻟﻨﻘﻞ ﻣﻦ “ﺍﻟﻤﺴﻨﺪ”…

ﻭﺃﻣﺎ ﺑﻘﻴﺔ ﺍﻟﺤﺪﻳﺚ، ﻛﻤﺎ ﺟﺎﺀﺕ ﻓﻲ ﺍﻟﻤﺼﺎﺩﺭ ﺍﻷﺧﺮﻯ ﺍﻟﺘﻲ ﺫﻛﺮﺗﻪ، ﻓﻬﻲ ﻛﺎﻟﺘﺎﻟﻲ:

ﻗﺎﻝ: ‏ﻓﻨﻬﺾ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﻪ ﺻﻠﻲ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻭﻧﻬﻀﻨﺎ ﻣﻌﻪ ﺣﺘﻰ ﺃﺗﻰ ﺍﻟﻐﻼﻡ ﻓﻘﺎﻝ: ﻳﺎ ﻏﻼﻡ! ﻗﻞ ﻻ ﺇﻟﻪ ﺇﻻ ﺍﻟﻠﻪ. ﻗﺎﻝ: ﻻ ﺃﺳﺘﻄﻴﻊ ﺃﻥ ﺃﻗﻮﻟﻬﺎ، ﻗﺎﻝ: ﻭﻟﻢ؟ ﻗﺎﻝ: ﻟﻌﻘﻮﻕ ﻭﺍﻟﺪﺗﻲ، ﻗﺎﻝ: ﺃﺣﻴﺔ ﻫﻲ؟ ﻗﺎﻝ: ﻧﻌﻢ، ﻗﺎﻝ: ﺃﺭﺳﻠﻮﺍ ﺇﻟﻴﻬﺎ، ﻓﺄﺭﺳﻠﻮﺍ ﺇﻟﻴﻬﺎ؛ ﻓﺠﺎﺀﺕ، ﻓﻘﺎﻝ ﻟﻬﺎ النبی ﺻﻠﻲ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ: ﺍﺑﻨﻚ ﻫﻮ؟ ﻗﺎﻟﺖ: ﻧﻌﻢ. ﻗﺎﻝ: ﺃﺭﺃﻳﺖ ﻟﻮ ﺃﻥ ﻧﺎﺭﺍً ﺃﺟﺠﺖ؛ ﻓﻘﻴﻞ ﻟﻚ: ﺇﻥ ﻟﻢ ﺗﺸﻔﻌﻲ ﻟﻪ ﻗﺬﻓﻨﺎﻩ ﻓﻲ ﻫﺬﻩ ﺍﻟﻨﺎﺭ. ﻗﺎﻟﺖ: ﺇﺫﻥ ﻛﻨﺖ ﺃﺷﻔﻊ ﻟﻪ، ﻗﺎﻝ: ﻓﺄﺷﻬﺪﻱ ﺍﻟﻠﻪ، ﻭﺃﺷﻬﺪﻳﻨﺎ ﻣﻌﻚ ﺑﺄﻧﻚ ﻗﺪ ﺭﺿﻴﺖ. ﻗﺎﻟﺖ: ﻗﺪ ﺭﺿﻴﺖ ﻋﻦ ﺍﺑﻨﻲ، ﻗﺎﻝ: ﻳﺎ ﻏﻼﻡ! ﻗﻞ ﻻ ﺇﻟﻪ ﺇﻻ ﺍﻟﻠﻪ. ﻓﻘﺎﻝ: ﻻ ﺇﻟﻪ ﺇﻻ ﺍﻟﻠﻪ. ﻓﻘﺎﻝ ﺻﻠﻲ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ: ﺍﻟﺤﻤﺪ ﻟﻠﻪ ﺍﻟﺬﻱ ﺃﻧﻘﺬﻩ ﻣﻦ ﺍﻟﻨﺎﺭ‏.

اس روایت کو نقل کرنے والے دیگر محدثین کرام:

١ . امام عقیلی: ﺃﺧﺮﺟﻪ ﺍﻟﻌﻘﻴﻠﻲ ﻓﻲ “ﺍﻟﻀﻌﻔﺎﺀ ﺍﻟﻜﺒﻴﺮ” ‏3/461

٢ . ابن جوزی: ﻭﻣﻦ ﻃﺮﻳﻘﻪ ﺍﺑﻦ ﺍﻟﺠﻮﺯﻱ ﻓﻲ “ﺍﻟﻤﻮﺿﻮﻋﺎﺕ” 3/87

٣ . طبرانی: ﻭﻋﺰﺍﻩ ﻏﻴﺮ ﻭﺍﺣﺪ ﻟﻠﻄﺒﺮﺍﻧﻲ.

٤ . خرائطی: ﻭﺭﻭﺍﻩ ﺍﻟﺨﺮﺍﺋﻄﻲ ﻓﻲ “ﻣﺴﺎﻭﺉ ﺍﻷﺧﻼﻕ” ﺭﻗﻢ:251

٥ . بیہقی: ﻭﺍﻟﺒﻴﻬﻘﻲ ﻓﻲ “ﺷﻌﺐ ﺍﻹﻳﻤﺎﻥ”6/197 ﻭﻓﻲ “ﺩﻻﺋﻞ ﺍﻟﻨﺒﻮﺓ” 6/205

٦ . قزوینی: ﻭﺍﻟﻘﺰﻭﻳﻨﻲ ﻓﻲ “ﺍﻟﺘﺪﻭﻳﻦ ﻓﻲ ﺗﺎﺭﻳﺦ ﻗﺰﻭﻳﻦ” 2/369

ان تمام محدثین نے اس روایت کو فائد بن عبد الرحمن کی سند سے نقل کیا ہے.

ﺟﻤﻴﻌﻬﻢ ﻣﻦ ﻃﺮﻳﻖ ﻓﺎﺋﺪ ﺑﻦ ﻋﺒﺪﺍﻟﺮﺣﻤﻦ، ﻋﻦ ﻋﺒﺪﺍﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﺃﻭﻓﻰ.

فائدبن عبدالرحمن  اس راوی کے بارے میں محدثین کرام کے اقوال:

١.  امام احمد کہتے ہیں کہ یہ متروک الحدیث ہے.

ﻗﺎﻝ ﻓﻴﻪ ﺍﻹﻣﺎﻡ ﺃﺣﻤﺪ: ﻣﺘﺮﻭﻙ ﺍﻟﺤﺪﻳﺚ

٢.  ابن معین کہتے ہیں کہ یہ کسی قابل نہیں۔

ﻭﻗﺎﻝ ﺍﺑﻦ ﻣﻌﻴﻦ: ﻟﻴﺲ ﺑﺸﻲﺀ

٣.  ابن ابی حاتم کہتے ہیں کہ میرے والد کہتے تھے کہ یہ گیا گذرا راوی ہے،  اس کی روایات نہ لکھی جائیں،  ابن ابی اوفی سے اس کی نقل کردہ روایات باطل ہیں جن کی کوئی اصل نہیں۔۔۔۔ اگر اس کی روایات کے جھوٹ ہونے پر قسم کھائی جائے تو غلط نہ ہوگا۔

ﻭﻗﺎﻝ ﺍﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﺣﺎﺗﻢ: ﺳﻤﻌﺖ ﺃﺑﻰ ﻳﻘﻮﻝ: ﻓﺎﺋﺪ ﺫﺍﻫﺐ ﺍﻟﺤﺪﻳﺚ، ﻻ ﻳﻜﺘﺐ ﺣﺪﻳﺜﻪ، ﻭﺃﺣﺎﺩﻳﺜﻪ ﻋﻦ ﺍﺑﻦ ﺃﺑﻰ ﺃﻭﻓﻰ ﺑﻮﺍﻃﻴﻞ ﻻ ﺗﻜﺎﺩ ﺗﺮﻯ ﻟﻬﺎ ﺃﺻﻼ، ﻛﺄﻧﻪ ﻻ ﻳﺸﺒﻪ ﺣﺪﻳﺚ ﺍﺑﻦ ﺃﺑﻰ ﺃﻭﻓﻰ، ﻭﻟﻮ ﺃﻥ ﺭﺟﻼ ﺣﻠﻒ ﺃﻥ ﻋﺎﻣﺔ ﺣﺪﻳﺜﻪ ﻛﺬﺏ ﻟﻢ ﻳﺤﻨﺚ.

٤ . امام بخاری کہتے ہیں کہ یہ منکر الحدیث ہے.

ﻭﻗﺎﻝ ﺍﻟﺒﺨﺎﺭﻱ:  ﻣﻨﻜﺮ ﺍﻟﺤﺪﻳﺚ. ﺍﻧﻈﺮ: “ﺗﻬﺬﻳﺐ ﺍﻟﺘﻬﺬﻳﺐ” 8/256

٥. ابن حبان نے ان کی روایات کو ناقابل اعتماد قرار دیا.

ﻭﻗﺎﻝ ﺍﺑﻦ ﺣﺒﺎﻥ: ﻛﺎﻥ ﻣﻤﻦ ﻳﺮﻭﻯ ﺍﻟﻤﻨﺎﻛﻴﺮ ﻋﻦ ﺍﻟﻤﺸﺎﻫﻴﺮ، ﻭﻳﺄﺗﻲ ﻋﻦ ﺍﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﺃﻭﻓﻰ ﺑﺎﻟﻤﻌﻀﻼﺕ، ﻻ ﻳﺠﻮﺯ ﺍﻻﺣﺘﺠﺎﺝ ﺑﻪ. [“ﺍﻟﻤﺠﺮﻭﺣﻴﻦ” ‏(2/203)]

٦. امام حاکم کہتے ہیں کہ یہ ابن ابی اوفی سے من گھڑت روایات نقل کرتا ہے۔

ﻭﻗﺎﻝ ﺃﺑﻮ ﻋﺒﺪﺍﻟﻠﻪ ﺍﻟﺤﺎﻛﻢ ﺭﺣﻤﻪ ﺍﻟﻠﻪ: ﻳﺮﻭﻱ ﻋﻦ ﺍﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﺃﻭﻓﻰ ﺃﺣﺎﺩﻳﺚ ﻣﻮﺿﻮﻋﺔ. (ﺍﻟﻤﺪﺧﻞ ﺇﻟﻰ ﺍﻟﺼﺤﻴﺢ:‏155)

خلاصہ کلام

اس روایت کی اسنادی حیثیت انتہائی کمزور اور ناقابل اعتبار ہے،  لہذا اس واقعے کو آپ علیہ السلام کی طرف منسوب کرنا یا اسکو بیان کرنا درست نہیں.


واللہ اعلم بالصواب

کتبہ: عبد الباقی اخونزادہ


دارالعلوم دیوبند و بنوریہ ٹاون سے بھی یہی حکم صادر کیا ہے۔ 

اللہ تعالی کو سب سے زیادہ محبوب کون ہے میں یا دین، یا قرآن

0

 اللہ تعالی کو سب سے زیادہ محبوب کون ہے میں یا دین؟




السلام علیکم ورحمت اللہ 

 سلسلہ تخریج الاحادیث نمبر ۱١

 حضرت جبرئیل علیہ السلام نے پوچھا کہ اللہ کو آپ زیادہ محبوب ہیں یا عرش ؟آپ نے فرمایا کہ میں۔ پھر سوال کیا کہ اللہ کو میں زیادہ محبوب ہوں یا آپ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کو میں زیادہ محبوب ہوں۔ پھر پوچھا کہ اللہ کو آپ زیادہ محبوب ہیں یا دین؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ دین“کیونکہ دین کی خاطر مجھے بھیجا گیا  اور دین کی خاطر سارے انبیاء نے تکلیف برداشت کی ہے۔

یہ حدیث بیانات وغیرہ میں کثرت سے بیان کی جاتی ہے ، بہت تلاش کے باوجود اس کی بنیاد یا اس کے اصل ماخذ کا پتہ نہ چل سکا ، از اختلف دار الافتاء سے اس روایت کے سلسلے میں رجوع کیا گیا توان کی طرف سے اس حدیث کے ثبوت کی نفی کی گئی ، چنانچہ ہفت روزہ ضرب مومن “ کے شرعی مسائل میں اس حدیث کی صحت کے بارے میں سوال کیا گیا ، تو اس کا جواب " دار الافتاء والارشاد کراچی کی طرف سے یوں دیاگیا ہے ۔ یہ بات ہم نے حدیث کی کتابوں میں کہیں نہیں پڑھی اور نہ ہی کسی معتمد عالم دین سے کیا ہے ، اس مضمون سے ملتی جلتی کوئی حدیث بھی ہماری نظر سے نہیں گزری ، اس لیے اس بات کو بطور حدیث بیان کرنے والے پر لازم ہے کہ وہ اس کا معتبر حوالہ پیش کرے ، بغیر معتبر حوالہ کے ہرگز اس کو آگے بیان نہ کرے ۔

[آپ کے مسائل کا حل،مندرجہ ضرب مؤمن ،جلد ١٧،شمارہ ٢،جمعہ ٧ تا جمعرات ١٣ صفر ١٤٣٤ء]

اسی طرح دارالعلوم دیوبند سے جاری ہونے والے جدید فتاوی جات میں اس حدیث کے متعلق لکھا ہے :۔ ہماری نظر سے ایسی کوئی حدیث نہیں گزری ۔

[دار الافتاء دیوبند (جواب نمبر: 31553 28-Aug-2020)]

فتویٰ دیکھیں 



لہذا اس حدیث کو بیان کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے

جمع و ترتیب : ماجد ابن فاروق کشمیری 

بچے کا نام محمد رکھنا کی نیت کرنے سے لڑکا پیدا ہونے کی تحقیق۔

0

 بچے کا نام محمد رکھنا کی نیت کرنے سے لڑکا پیدا ہونے کی تحقیق۔

    السلام  علیکم  ورحمۃ  وبرکاتہ

    سلسلۃ تخریج الاحادیث نمبر  ١٠

ما من مسلم دنا من زوجتہ وہو ینوی ان حبلت منہ ان یسمی محمدا الا رزقہ اللہ ولدا ذکرا۔۔۔

ترجمہ : جو مسلمان اپنی بیوی سے صحبت کرے اور یہ نیت کرے کہ اگر اس محبت سے حمل ٹہر گیا ، تو اس کا نام محمد رکھے گا ، تو اللہ تعالی اس کو نرینہ اولاد عطا فرمائیں گے ۔

اس روایت کو ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ اور علامہ محمد بن خلیل القاء قجی الطرابلسی رحمۃ اللہ علیہ  نے موضوع قرار دیا ہے.

[ بالترتیب دیکھیں:

 الموضوع  الکبیری:ص ٣١، رقم ١١٩٣ 

اللؤلؤ المرصوع : ص ١٦٤ رقم ٤٨٨]

حافظ ذہنی  رحمۃ اللہ علیہ  اس روایت کے بارے میں لکھتے ہیں :۔ 

حدیث موضوع وسندہ مظلم [ تنزیۃ الشریہ الموفوعۃ، ١/١٧٤]


 نیز علامہ جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ اس روایت کو نقل کرنے کے بعد

 لا یصح [اللالی المصنوعۃ ١/١٠٦]

 یعنی یہ حدیث  نہیں ہے.

واضح رہے  کہ ایسی کتب جن میں مصنفین نے صرف موضوع یا ضعیف روایات جمع کرنے کا التزام کیا ہو ، ان میں جب کسی حدیث پر لا یصح کا حکم لگایا جاتا ہے ، تو ہاں  صحیح سے مراد اصطلاحی صحیح نہیں ہوتا ، جو کہ حسن اور ضیف کے مقابلے میں آتا ہے ، بلکہ اس کا مطلب یہ ہوا کرتا ہے کہ اس حدیث کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ کی طرف صحیح نہیں اور یہ حدیث موضوع ہے ۔ اور عصر حاضر کے محقق عالم و محدث شیخ عبد الفتاح ابو غدہ رحمۃ اللہ علیہ لکھتے  ہیں :۔

فقولہم فی الحدیث ”لا یصح “ او " لایثبت “ او ” لم یصح او لم یثبت “ او ” او  یثبت “ او  لیس  بصحیح  او لیس الثابت"  غیر ثابت او لا یثبت فیہ شی ونحو ہذہ التعابیر ، اذا قالوہ فی کتب الضعفاء او الموضوعات فالمراد بہ ان الحدیث المذکور موضوع ، لا یتصف بشیء من الصحۃ ( مقدمۃ ، المصنوع فی معرفۃ الحدیث الموضوع ، رقم : ۲۷ ، ص : ۳۵)

 ترجمہ : محدثین کا کسی حدیث کے بارے میں یہ کہنا کہ " یہ صحیح نہیں ہے یا ثابت نہیں ہے " ( اس سے کتے جلتے الفاظ ) جب کسی حدیث کے بارے میں محدثین یہ الفاظ ضعیف یا موضوع روایات پر مشتمل کتابوں میں استعمال کریں ، تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ یہ حدیث من گھڑت ہے اور اس میں صحت کی کوئی چیز نہیں ہے ۔ 

لہذا علامہ سیوطی رحمۃ اللہ علیہ کا مندرجہ بالا حدیث پر ’ لا یصح کا حکم لگانا اس حدیث کے موضوع اور من گھڑت ہونے کی دلیل ہے ۔

جمع و ترتیب : ماجد ابن فاروق کشمیری 


عقل کے سو حصوں میں سے ننانوے حصے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیئے گئے ہیں والی روایت کی تحقیق

0

 السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ 

سلسلۃ تخریج الاحادیث نمبر: ٩

عقل کے سو حصوں میں سے ننانوے حصے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیئے گئے۔

 خلق اللہ العقل ، فقال لہ ادبر “ فادبر ثم قال لہ : اقبل فاقبل ، ثم قال : ما خلقت خلقا احب الی منک ، فاعطی اللہ محمدا تسعۃ وتسعین جزءا ، ثم قسم بین العباد جزءا واحدا۔

ترجمہ : اللہ تعالی نے عقل کی تخلیق کی ، پھر اس کو حکم دیا کہ پیچھے ہوجا ، وہ پیچھے ہوگئی ، پھر اس کو حکم دیا : اگے ہو جاؤ وہ آگے ہوگئی ، پھر اللہ تعالی نے اس میں سے ننانوے حصے حضرت محمد صلی اللہ علیہ کو عطا کیے اور ایک حصہ باقی بندوں میں تقسیم کیا ۔

اس حدیث کے بارے میں مشہور محدث ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ  لکھتے ہیں:-


 انہ کذب موضوع اتفاقا [ المصنوع فی معرفۃ الحدیث الموضوع،رقم:٤٨،ص:٦٢]


یعنی یہ حدیث بلا اتفاق موضوع اور من گھڑت ہے۔

ان کے علاوہ حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ اور ان کے شاگرد علامہ سخاوی رحمۃ اللہ علیہ نیز حافظ جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ،حافظ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ اور علامہ عجلونی جیسے بلند پایہ محدثین نے بھی اس حدیث کو موضوع قرار دیا ہے۔

[بالترتیب دیکھیں:فتح الباری :٦/۳٣٤ 

المقاصد الحسنۃ ، رقم : ۲۳۳ ، ص : ١٢٥ 

اللالی المصنوعۃ : ۱/۱۲۹ ، المنار المنیف ، رقم : ١٢٠ ، ص : ٦٦ ، کشف الخفاء ، رقم : ٧٢٣ ، ص : ۲۷۱]


یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ مندرجہ بالا ائمہ حدیث نے اس روایت کا پہلا حصہ یعنی ” لماخلق اللہ العقل “ سے لے کر ” احب الی منک نقل کر کے اس حصے کو موضوع قرار دیا ہے ، جبکہ روایت مذکورہ کا وہ حصہ جو زیادہ مشہور ہے ( یعنی عقل کے سو حصوں میں سے نانوے ھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کو دیئے گئے اور ایک حصہ باقی لوگوں پر تقسیم کیا گیا ) حدیث کے اس ٹکڑے کو مندرجہ بالا ائمہ میں سے کسی نے بھی ذکر نہیں کیا ۔ حتی کہ علامہ سیوطی نے اس روایت کے تمام طریق ذکر کیے ہیں ، لیکن کی طریق میں بھی یہ دوسرا حصہ مذکور نہیں ہے ، روایت کا یہ حصہ صرف مشہور شیعہ مصنف باقر علی نے اپنی سند کے ساتھ نقل کیا ہے  اس کی سند کو ملاحظہ فرمائیں: 

(5 - المحاسن: علی بن الحکم، عن ہشام، قال: قال ابو عبد اللہ (علیہ السلام): لما خلق اللہ العقل قال لہ اقبل فاقبل، ثم قال لہ ادبر فادبر، ثم قال: وعزتی وجلالی ما خلقت خلقا ہو احب الی منک، بک آخذ، وبک اعطی، وعلیک اثیب.

6 - المحاسن: ابی، عن عبد اللہ بن الفضل النوفلی، عن ابیہ، عن ابی عبد اللہ (علیہ السلام) قال قال رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ): خلق اللہ العقل فقال لہ ادبر فادبر، ثم قال لہ اقبل فاقبل، ثم قال: ما خلقت خلقا احب الی منک، فاعطی اللہ محمدا (صلی اللہ علیہ وآلہ) تسعۃ وتسعین جزءا، ثم قسم بین العباد جزءا واحدا.

7 - غوالی اللئالی: قال النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ): اول ما خلق اللہ نوری.

8 - وفی حدیث آخر انہ (صلی اللہ علیہ وآلہ) قال: اول ما خلق اللہ العقل.

9 - وروی بطریق آخر ان اللہ عز وجل لما خلق العقل قال لہ اقبل فاقبل، ثم قال لہ ادبر فادبر، فقال تعالی: وعزتی وجلالی ما خلقت خلقا ہو اکرم علی منک، بک اثیب وبک اعاقب، وبک آخذ وبک اعطی**  [بحار الانوار - العلامۃ المجلسی - ج ١ - الصفحۃ ٩٧] 

 تاہم روایت کا یہ حصہ بھی پہلے حصے کی طرح موضوع اور من گھڑت ہے کیوں کہ عقل کے بارے میں جتنی بھی روایات ہے  ان جملہ روایت کے بارے میں ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:- 

احادیث العقل کلہا کذب [الموضوعات الکبیری،ص:١٧]

یعنی عقل والے تمام روایات جھوٹی ہیں ۔

نیز اگر چہ باقر مجلسی نے اس ٹکڑے کو اپنی سند کے ساتھ نقل بھی کیا ہے۔لیکن باقر مجلسی کاغو پر مبنی رفض و تشیع بھی قطعاً ان سے روایت لینے کی اجازت نہیں دیتا۔چناچہ علامہ شبیر احمد عثمانی رحمۃ اللہ علیہ روافض کی روایت کے بارے میں حافظ سیوطی رحمۃ اللہ علیہ کے حوالے سے لکھتے ہیں :- 

واما البدعۃ الکبری کالرفض الکامل ، والغلو فیہ والحط عن الشیخین . ابی بکر وعمر رضی اللہ عنہما- فلا . ولا کرامۃ . لا سیما ولست استحضر الآن من ہذا الضرب رجلا صادقا ولا مامونا ، بل الکذب شعارہم والنفاق والتقیۃ دثارہم فکیف یقبل من ہذا حالہ 

[(مقدمۃ فی فتح الملہم روایت اہل المبدع والاہواء ص ١٧٢) 

فتح المعیث ج ٢،ص:٦٣ بحوالہ: المیزان ٤/١ ،ولسانہ٩/١ ]


ترجمہ: اگر کسی راوی میں بدعتِ کبریٰ پائی جائے جیسے کوئی راوی غالی رافضی اور شیعہ ہو اور حضرات شیخین بین حضرت ابوبکر صدی اور حضرت عمر فاروق کو ان کے مقام سے نچے دکھانے کی کوشش کرتا ہوں تو ان کی روایت قابل قبول نہیں ، کیونکہ ابھی تک میں نے اس قبیل کے لوگوں میں کسی کو صادق اور امین نہیں پایا جبکہ جھوٹ،منافقت اور تقیہ ان کا اوڑھنا بچھونا ہے تو ایسے شخص کی روایت کیونکر قبول کی جاسکتی ہے ؟ 

لہذا محض اس سند سے مروی اس روایت کو بیان کرنا درست نہیں بالخصوص جب کہ دیگر محدثین اس کو موضوع بھی قرار دے چکے ہیں۔


جمع و ترتیب : ماجد ابن فاروق کشمیری 

ہر نبی کو چالیس برس میں نبوت ملنے کی تحقیق : | ما من نبی نبی الا بعد الاربعین

0

 ہر نبی کو چالیس برس میں نبوت ملنے کی تحقیق


سلسلۃ تخریج الاحادیث نمبر: ٨


ما من نبی نبی الا بعد الاربعین 


[ (علی حسن علی الحبی مکتوب بہذہ المراجع فی موسوعۃ الحادیث والاثار الضعیفۃ والموضوعۃ) الاسرار المرفوعۃ  (٤٢١) ، اسنی المطالب ( ۱۲۸۹ ) ، التمییز ( ۱٥۰ ) ، الفوائد الموضوعۃ ( ۹۸ ) ، الدرر المنتشرۃ ( ۳۰۹ ) ، الشفرۃ (٨٤٤ ) ، الغماز ( ۲۰۰ ) ، الکشف الالہی ( ۸۷۰ ) ، کشف الخفاء ( ۲۲۹۸ ) ، اللؤلؤ المرصوع ( ٤٩٠) ، مختصر المقاصد (٩١١ ) ، المصنوع ( ۲۹۱ ) ، المقاصد الحسنۃ (۹۸٥ ) ، النخبۃ ( ۳۰٤)]



ترجمہ ہر نبی کو چالیس برس کے بعد نبوت ملی ہے۔

 اس حدیث کا معنی و مفہوم بھی لوگوں میں مشہور و معروف ہے کہ: ہر نبی کو چالیس برس کے بعد نبوت  عطا کی گئی ہے، حالانکہ محدثین نے اس کو موضوع اور نفس الامر کے خلاف قرار دیا ہے،

 چنانچہ علامہ سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کو موضوع قرار دیا ہے۔ [ الدرر المتثرۃ ،رقم:٣٦]

حافظ سخاوی رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث کے متعلق علامہ ابن الجوزی رحمۃ اللہ علیہ کے حوالے سے لکھتے  ہیں:

انہ موضوع ،الان عیسی علیہ السلام نبی ورفع الی السماء وہو ابن ثلاثۃ وثلاثین سنۃ، فاشتراط الاربعین فی حق الانبیاء لیس بشیء [المقاصد الحسنۃ رقم،٩٨٥،ص ٣٧٨]

ترجمہ: یہ روایت من گھڑت ہے،کیونکہ سیدنا عیسی علیہ السلام کو تینتیس برس کی عمر میں آسمان پر اٹھا لیا گیا تھا،جب کہ اس واقعے سے پہلے ان کو نبوت مل چکی تھی۔لہذا انبیاء کرام کی نبوت کے لئے چالیس برس کو شرط قرار دینا درست نہیں ۔


اس طرح ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ  نے بھی اس حدیث کو موضوع قرار دیا ہے اور اس کی وجہ یہ ذکر کی ہے کہ یہ حدیث قرآن کریم کی ان آیات کے خلاف ہے جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ سیدنا یحییٰ علیہ السلام کو بچپن ہی میں نبوت مل گئی تھی۔ [ الموضوعات الکبیری: رقم ٨٠٨،ص: ٢٠٥]

جیسے حضرت یوسف علیہ السلام، حضرت یحیی علیہ السلام، حضرت عیسی علیہ السلام .


 قال انی عبد اللہ آتانی الکتاب وجعلنی نبیا ۔

 (سورۃ مریم ) 

قال جل جلالہ : اِذ قالَتِ المَلائِکَۃُ یا مَریَمُ اِنَّ اللَّہَ یُبَشِّرُکِ بِکَلِمَۃٍ مِنہُ اسمُہُ المَسیحُ عیسَی ابنُ مَریَمَ وَجیہًا فِی الدُّنیا وَالآخِرَۃِ وَمِنَ المُقَرَّبینَ۔  وَیُکَلِّمُ النّاسَ فِی المَہدِ وَکَہلًا وَمِنَ الصّالِحینَ۔ (ال عمران٤٥-٤٦)

 قال جل شانہ :  اِذ قالَ اللَّہُ یا عیسَی ابنَ مَریَمَ اذکُر نِعمَتی عَلَیکَ وَعَلی والِدَتِکَ اِذ اَیَّدتُکَ بِروحِ القُدُسِ تُکَلِّمُ النّاسَ فِی المَہدِ وَکَہلًا (المائدہ.١١٠)


 اشارت الآیتان الی نزولہ ، وذلک بذکرہما انہ یکلم الناس بالدعوۃ الی اللہ ، وہو کہل ، وقد رفع الی السماء وہو ابن . ثلاث وثلاثین سنۃ علی الصحیح ، والکہولۃ فوق ہذہ السن الکہل : من جاوز الثلاثین وخطہ الشیب . وقیل : من جاوز الاربعین 

روی الطبری فی تفسیرہ عن ابی زید قال : کلمہم عیسی علیہ السلام فی المہد ، وسیکلمہم اذا قتل الدجال ، وہو . یومئذ کھل

فالظاہر انہ رفع وہو ابن ثلاثین او ابن ثلاث وثلاثین علی الراجح

 وہو فی السماء الثانیۃ علی الراجح والصحیح ایضا کما فی . حادثۃ الاسراء والمعراج وغیرہا من السنۃ ، واللہ اعلم 

وستجد ایضا تحدید وتصریح سن رفعہ فی سیرتہ فبکتاب قصص الانبیاء لابن کثیر وغیرہ ممن سردوا الاحادیث والآثار . فی ہذا ، واللہ اعلم


 وقال الحسن البصری : کان عمر عیسی علیہ السلام یوم رفع اربعا وثلاثین سنۃ ، وفی الحدیث : « ان اہل الجنۃ یدخلونہا . « جردا مردا مکحلین ابناء ثلاث وثلاثین 


وفی الحدیث الآخر علی میلاد عیسی وحسن یوسف . وکذا قال حماد بن سلمۃ ، عن علی بن زید ، عن سعید بن المسیب انہ .قال : رفع عیسی وہو ابن ثلاث وثلاثین سنۃ


 فاما الحدیث الذی رواہ الحاکم فی ( مستدرکہ ) ویعقوب بن سفیان الفسوی فی (تاریخہ ) عن سعید بن ابی مریم ، عن نافع بن یزید ، عن عمارۃ بن غزیۃ ، عن محمد بن عبد اللہ بن عمرو بن عثمان ان امہ فاطمۃ بنت الحسین حدثتہ : ان عائشۃ کانت  تقول:


 اخبرتنی فاطمۃ ان رسول اللہ اخبرہا : انہ لم یکن نبی کان بعدہ نبی الا عاش الذی بعدہ نصف عمر الذی کان قبلہ ، وانہ اخبرنی ان عیسی بن مریم عاش عشرین ومائۃ سنۃ ، فلا ارانی الا ذاہب علی راس ستین . ہذا لفظ الفسوی فہو حدیث .غریب.


 قال الحافظ ابن عساکر : والصحیح ان عیسی لم یبلغ ہذا العمر ، وانما اراد بہ مدۃ مقامہ فی امتہ ، کما روی سفیان بن عیینۃ ، عن عمرو بن دینار ، عن یحیی بن جعدۃ قال : قالت فاطمۃ : قال لی رسول اللہ : ان عیسی بن مریم مکث فی بنی .اسرائیل اربعین سنۃ . وہذا منقطع


 وقال جریر ، والثوری ، عن الاعمش : ان ابراہیم مکث عیسی فی قومہ اربعین عاما . ویروی عن امیر المؤمنین علی : ان عیسی علیہ السلام رفع لیلۃ الثانی والعشرین من رمضان ، .وتلک اللیلۃ فی مثلہا توفی علی بعد طعنۃ بخمسۃ ایام البدایہ والنھایہ

چالیس سال میں نبوت سے سرفراز ہونے کی بات کلی نہیں ؛ بلکہ اکثری ہے ، سیدنا حضرت عیسی ویحین علیہما السلام کے متعلق قرآن کریم میں صراحت ہے کہ انہیں بچپن میں نبوت سے سرفراز کردیا گیا تھا ، حضرت یحین علیہ السلام کے بارے میں ارشاد ہے { وآتیتاۃ الحکم صبیا } مریم : ۱۲ ]

اور حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام نے پیدائش کے بعد جب پہلا کلام کیا اس میں یہ بھی فریاما : { وجعلنی نبیا } لہذا ان دونوں حضرات کی نبوت پر کوئی اشکال نہ ہونا. چاہئے ۔

وآتیناہ الحکم صبیا ، اعلم ان فی الحکم اقوالا : الاول : انہ الحکمۃ ،والثانی : انہ العقل . والثالث : انہ النبوۃ . فان اللہ تعالی احکم عقلہ فی صباہ واوحی الیہ ، وذلک لان اللہ تعالی بعث یحیی وعیسی علیہما السلام وہما صبیان ، لا کما بعث موسی ومحمدا علیہما السلام ، وقد بلغا الاشد . ( تفسیر رازی بیروت ( ۲۱۵ ، ۱۹۲ ٫ ۱۱ وقیل : النبوۃ وعلیہ کثیر . قالوا : اوتیہا وہو ابن سبع سنین ، ولم ینبا اکثر الانبیاء علیہم السلام قبل الاربعین . ( تفسیر روح المعانی ۱۰۵ ٫ ۹ ، معارف القرآن ۶ , ۲۴ ، جلالین شریف مع الہامش ۲۵۴ ) فقط واللہ تعالی اعلم.

 

جمع و ترتیب : ماجد ابن فاروق کشمیری


لولاک ما خلفت الافلاک : والی روایت کا حکم | اگر آپ نہ ہوتے، تو میں اس کائنات کی تخلیق نہیں کرتا : والی حدیث کی تحقیق

0

  السلام علیکم ورحمت وبرکاتہ

سلسلۂ تخریج الاحادیث نمبر 7


”لولاک ما خلفت  الافلاک“ 


ترجمہ : اللہ تعالی کا ارشاد ہے کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ ہوتے، تو میں اس کائنات کی تخلیق نہیں کرتا۔

اس حدیث کو حضرت شاہ عبد العزیز دہلوی رحمۃ اللہ علیہ اور حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی نے موضوع قرار دیا ہے۔ 

[بالترتیب دیکھیں:

فتاوی عزیزی: ١/١٢٢

امداد الفتاوی:٧٩/٤]

تاہم اکثر محدثین اس حدیث کو معنی ومفہوم  کو درست اور ثابت کر دیا ہے، جن میں ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ حافظ عجلونی رحمۃ اللہ علیہ اور علامہ قاوقجی رحمۃ اللہ علیہ شامل ہے۔

[بالترتیب دیکھیں:

(الموضوعات الکبیری،١٩٤،رقم ٧٥٥)

(کشف الخفاء، ج٢،رقم :٢١٢٣،ص:١٩١)

(اللؤلؤ المرصوع  رقم:٤٥٢،ص١٥٤)]

ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس مفہوم کی ایک مرفوع روایت بھی ذکر کی ہے،چنانچہ وہ لکھتے ہیں:

" قال الصغانی انہ موضوع ، کذا فی الخلاصۃ ، لکن معناہ صحیح و فقد روی الدیلمی عن ابن عباس مرفوعۃ ، اتانی جبریل فقال یا محمد : لولاک ما خلقت الجنۃ ولولاک ما خلقت النار “[الموضوعات الکبیری:ص١٩٤،رقم ٧٥٥]


ترجمہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے پاس حضرت جبرئیل علیہ السلام تشریف لائیے،چنانچہ انہوں نے کہا کہ ( اللہ تعالی نے فرمایا) اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اگر آپ نہ ہوتے تو جنت اور جہنم پیدا نہ کرتا۔

اسی طرح ایک اور روایت حافظ شہردار بن شیرویہ دیلمی اپنی کتاب مسند الفردوس“ میں اس طرح سے ذکر فرماتے ہیں:


      "عبید اللہ بن موسی القرشی، حدثنا الفضیل بن جعفر بن سلیمان، عن عبد الصمد بن علی بن عبد اللہ بن عباس، عن ابیہ، عن ابن عباس: یقول اللہ عز وجل: وعزتی وجلالی، لولاک ما خلقت الجنۃ، ولولاک ما خلقت الدنیا“


ترجمہ : اللہ رب العزت نے فرمایا: میری عزت کی قسم ! میرے جلال کی قسم! اگر آپ (محمد صلی اللہ علیہ وسلم نہ ہوتے تو نہ میں جنت کو پیدا کرتا نہ دنیا کو۔

زیر بحث روایت عبد اللہ بن عباس موقوفا یا مرفوعاً بسند عبد الصمد بن علی کا متن سابقہ تمام سندوں کی طرح علامہ عبد الحی لکھنوی اور علامہ محمد بن خلیل المشیشی کے اقوال کے تناظر میں من گھڑت ہے، اس لئے یہ روایت مذکورہ سند سے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب منسوب کرنا درست نہیں ہے۔

 حضرت عمر بن الخطاب (مرفوع طر یق)۔ 

② حضرت سلمان فارسی (مرفوع طریق)۔

③ حضرت عبد اللہ ابن عباس (موقوفا دو مختلف سندوں سے)۔ 


      زیر بحث روایت مذکورہ تمام طرق کے ساتھ شدید ضعیف یا من گھڑت ہے، اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب اس روایت کو منسوب کرنا درست نہیں ہے۔


تتمہ: ذیل میں ان علماء کے نام لکھے جارہے ہیں، جنہوں نے مختلف سندوں سے یا سند ذکر کیے بغیر مطلقا زیر بحث روایت کو من گھڑت کہا ہے۔


 ①. حافظ صغانی

 حافظ صغانی کے قول کو ان حضرات نے اکتفاء نقل کیا ہے:

ملا علی قاری، علامہ طاہر پٹنی، علامہ عجلونی،  علامہ شوکانی، 

② حافظ ابن الجوزی

③ حافظ ابن تیمیہ

④ حافظ ذہبی 

⑤ حافظ ابن حجر (اکتفاء علی قول الذہبی )

⑥ حافظ سیوطی (اکتفاء علی قول ابن الجوزی)

⑦ حافظ ابن عراق

⑧ علامہ محمد بن خلیل بن ابراہیم 

⑨ المشیشی الطرابلسی

⑩ علامہ عبد الحی لکھنوی

جمع و ترتیب : خادم الاسلام ماجد ابن فاروق کشمیری 


تخریج آخری 

© 2023 جملہ حقوق بحق | اسلامی زندگی | محفوظ ہیں