تقویمِ ہند
ہجری و عیسوی تاریخیں — ہندوستان کے مقامی وقت کے مطابق
آجہجری تاریخ مقامی رؤیتِ ہلال کے مطابق ایک دن آگے یا پیچھے ہو سکتی ہے۔
ہجری تاریخ ہندوستان کے مقامی وقت (Asia/Kolkata) کے ساتھ ایک روزہ مقامی فرق کو ترجیح دیتی ہے؛ مقامی شرعی رؤیت کی صورت میں تاریخ ±۱ دن مختلف ہو سکتی ہے۔

تنقید کے متعلق اصول یاد رکھیں|متکلم اسلام مولانا محمد الیاس گھمن حفظہ اللہ

0

الحمد للہ وحدہ لا شریک لہ والصلاۃ والسلام علی من لا نبی بعد و علی اٰلہٖ وأصحابہ الذین وعوفوا وحدہ 


 ہم اپنے عقائد کو، اپنے اعمال کو دلائل کے ساتھ، اعتدال کے ساتھ، اخلاص کے ساتھ بیان کرتے رہے۔ بلا وجہ کسی پر تنقید کی ضرورت نہیں ہے اور جو لوگ تنقید کرنے والے ہیں، میں ان کی خدمت میں گزارش کروں گا، یا دوسروں پر تنقید نہ کریں اور اگر دوسروں پر تنقید کرنی ہے، تو اپنے اوپر ہونے والی تنقید کو برداشت بھی کریں۔ لوگ دوسروں پر تنقید کر لیتے ہے جب تنقید ہوتی ہے تو برداشت نہیں کرتے ہیں۔


 میں اس پر ایک جملہ کہا کرتا ہوں کہ جو اپنے اوپر ہونے والی تنقید کو سہنے کی ہمت اور طاقت نہیں رکھتا اور دوسروں پر تنقید کرنے کی حماقت ہرگز نہ کرے۔

میری بات توجہ سے سنیں! جو شخص اپنے اوپر تنقید سننے کی ہمت، طاقت اور برداشت نہیں رکھتا وہ دوسروں پر تنقید کرنے کی حماقت کبھی نہ کرے۔ جب آپ نے کسی پر تنقید کرنی ہے، تو آپ پر تنقید ہونی ہے، یا تنقید کرنی چھوڑ دیں اور یا تنقید شوق سے برداشت بھی کرے۔ ہم اپنے عقائد کو دلائل سے، اعتدال سے، للہ تعالیٰ توفیق عطا فرمائیں، اخلاص سے کر رے ہیں، مسلسل لگے ہیں اور ان شاء اللہ العزیز، اللہ تعالی نے توفیق عطا فرمائے تو موت تک ہم اس کام میں لگے رہیں گے، اللہ تعالی لگے رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ 


متکلم اسلام مولانا محمد الیاس گھمن حفظہ اللہ

مرتب ماجد کشمیری

اسلام دین فطرت ہے | کیا اسلام فطرت کے تقاضوں کو پورا کرتا ہے؟

0


بسم الله الرحمٰن الرحیم
اسلام دینِ فطرت ہے ۔ براہین
     ألحمد لله ألذي وحده وألصلأه وألسلأم علي من لأ نبي بعده أمأ بعد أعوذ بألله من ألشيطأن ألرجيم بسم ألله ألرحمن ألرحيم قأل تبأرك وتعألي في سورة ألروم فِطرت ألله ألتي فَطَرَ ألنَّأسَ عليها
اسلام میں مذہب کے لیے دین کا لفظ مستعمل ہے۔ ان الدین عند اللہ الاسلام (سورۃ آلِ عمران ۱۹)۔ اصولاً قرآن کی تفسیر پر قلم اٹھانا ہو تو اولاً رجوع الی القرآن کرنا چاہیے۔ مذکورہ آیت میں قرآن شرح ورا: یقینا دین تو اللہ کے نزدیک صرف اسلام ہی ہے۔ اللہ کا پسندیدہ اور اللہ کے یہاں منظور شدہ دین ایک ہی دین ہے اور وہ اسلام ہے۔ دین اسلام بہتر ین دین ہے، تو کیا باقی ادیان باطلہ قابل قبول ہیں؟ قرآن کہتا ہے:
وَمَن يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَن يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ (سورہ آلِ عمران۸۵آیت )
ترجمہ:جو کوئی شخص اسلام کے سوا کوئی اور دین اختیار کرنا چاہے گا، تو اس سے وہ دین قبول نہیں کیا جائے گا، اور آخرت میں وہ ان لوگوں میں شامل ہوگا جو سخت نقصان اٹھانے والے ہیں۔
اس آیت کریمہ سے توضیح ہو جاتی ہے کہ اگر اسلام کے بغیر کوئی اور دین اختیار کرنا چاہیں، تو وہ ہرگز درخورِ اعتنا نہیں اور اس میں کوئی کامیابی نہیں ہوگی۔ صرف اس آیت کریمہ سے اس کا اثبات نہیں پایا جاتا ہے بلکہ کثیر التعداد آیات، جن کے نصوص سے اسکا ثبوت ملتا ہے ۔ جیسے سورہ آل عمران میں اللہ تعالیٰ کے ارشاد ہیں:
 أَفَغَيۡرَ دِيۡنِ أللّٰهِ يَبۡغُوۡنَ وَ لَه أَسۡلَمَ مَنۡ فِي ألسَّمٰوٰتِ وَ ألۡأَرۡضِ طَوۡعًأ وَّ كَرۡهًأ وَّ أِلَيۡهِ يُرۡجَعُوۡنَ ﴿۸۳﴾
ترجمہ:اب کیا یہ لوگ اللہ کے دین کے علاوہ کسی اور دین کی تلاش میں ہیں؟ حالانکہ آسمانوں اور زمین میں جتنی مخلوقات ہیں ان سب نے اللہ ہی کے آگے گردن جھکا رکھی ہے، ( کچھ نے ) خوشی سے اور ( کچھ نے ) ناچار ہوکر، اور اسی کی طرف وہ سب لوٹ کر جائیں گے۔
آپ کے ذہن میں یہ سوال بن سکتا ہے کہ آپ اس دین کو مانتے ہو جس کو صرف 1441سال ہوئے۔ آپ کا دعوٰی تو یہ ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ ، حضرت اسمعٰیلؑ، حضرت اسحاق ؑ ، حضرت یعقوبؑ، حضرت موسیؑ تا آدم ، انبیاءؑ پہلے آئے ہے، کیا وہ اس دین پہ نہیں تھےآپ اُس دین کو مانتے ہو جس کوصرف 1441سال ہوئے۔ میرے عزیز بھائیو! شاندنے کی ضرورت، ان تمام انبیاء علیہم السلام کا دین ایک ہی تھا، قرآن کریم کا ارشاد ہے:
قُلۡ أٰمَنَّأ بِأللّٰهِ وَ مَأۤ أُنۡزِلَ عَلَيۡنَأ وَ مَأۤ أُنۡزِلَ عَلٰۤي أِبۡرٰهِيۡمَ وَ أِسۡمٰعِيۡلَ وَ أِسۡحٰقَ وَ يَعۡقُوۡبَ وَ ألۡأَسۡبَأطِ وَ مَأۤ أُوۡتِيَ مُوۡسٰي وَ عِيۡسٰي وَ ألنَّبِيُّوۡنَ مِنۡ رَّبِّهِمۡ ۪ لَأ نُفَرِّقُ بَيۡنَ أَحَدٍ مِّنۡهُمۡ ۫وَ نَحۡنُ لَه مُسۡلِمُوۡنَ  ﴿سورہ آل عمران۸۴﴾
ترجمہ:کہہ دو کہ : ہم ایمان لائے اللہ پر اور جو ( کتاب ) ہم پر اتاری گئی اس پر، اور اس ( ہدایت ) پر جو ابراہیم ، اسماعیل، اسحاق، یعقوب اور ( ان کی ) اولاد پر ان کے پروردگار کی طرف سے اتاری گئی، اور ان باتوں پر جو موسیٰ، عیسیٰ اور (دوسرے) پیغمبروں کو عطا کی گئیں ۔ ہم ان ( پیغمبروں ) میں سے کسی کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتے، اور ہم اسی ( ایک اللہ ) کے آگے سر جھکائے ہوئے ہیں۔  
خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے جو بھی انبیاء علیہ الصلاۃ والسلام آئے ان کا دین خالص اسلام تھا۔ نبی برحق صلی اللہ علیہ وسلم سے لوگوں نے سوال کیا، جواباً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جس سے یہ اشکال رفع ہو جاتا ہے۔ 
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَألَ قَألُوأ يَأ رَسُولَ أللَّهِ مَتَى وَجَبَتْ لَكَ ألنُّبُوَّةُ قَألَ وَآدَمُ بَيْنَ ألرُّوحِ وَألْجَسَدِ۔ (جامع ألترمذي: أَبْوَأبُ ألْمَنَأقِبِ عَنْ رَسُولِ أللَّهِ ﷺ: رقم ألحديث 3609
ترجمہ: ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول ! نبوت آپ کے لیے کب واجب ہوئی؟ تو آپ نے فرمایا:
جب آدم روح اور جسم کے درمیان تھے۔( یعنی ان کی پیدائش کی تیاری ہور ہی تھی)۔ 
عرباض بن ساریہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں اللہ کے نزدیک ضرور اس وقت نبی تھا آدم  اپنے مٹی کے بدن میں پڑے تھے۔ (یعنی ابھی روح نہیں ڈالی گئی تھی) بیہقی۔احمد ۔حاکم ۔بحوالہ سیرت محمدیہ اردو ترجمہ مواہب المدینہ ۱۳۴۲ھ صــ۷ (بحوالہ اگر اب بھی نہ جاگے تو۔۔۔۔۔!)
حضرت انصبی سے روایت ہے کہ انھوں نے کہا کہ میں نے پوچھا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کب نبی تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اس وقت ضرور نبی تھا کہ آدم روح اور جسم کے درمیان تھے  (امام احمد : بحوالہ اگر اب بھی نہ جاگے تو۔۔۔!) اس صحیح احادیث پر اگر غور کیا جائے، تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت آدم علیہ الصلاۃ السلام سے پہلے مل گئی تھی تو کیا آدم علیہ الصلاۃ والسلام کا دین اسلام کے سوا کوئی اور ہو سکتا ہے۔ نہیں ! اسلام میں جتنے انبیاء علیہ السّلام آئے ہیں ان سب کا دین اسلام ہی تھا ۔
(تنبیہ: عمیم بلا شریعتوں میں سب سے اولی و اعلی شریعت، شریعتِ محمدی ہے اور باقیہ عمیم شریعتیں منسوخ ہے اور نبی آخرالزماں والمکاں والمرتبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت ہمیشہ ناسخ ہے۔)
دین کی اصولی تعلیمات اور بنیادی عقائد تو آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت خاتم النّبیین محمد صلی اللہ علیہ وسلم تک ایک طرح کے ہیں، صرف احکامِ شرعیہ میں فرق رہا ہے اور باعتبار عقائد اسلام کا وجود آدم علیہ السلام کے زمانہ ہی سے رہا ہے، خواہ اسے اسلام کے نام سے موسوم نہ کیا جاتا ہو( فتویٰ دارالعلوم دیوبند)
اسلام دین ِفطرت ہے
(Islam is the DEEN of nature)
الحمد للہ اسلام کی حقانیت اور جنابِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی صداقت کے بے شمار اور لا تعداد دلائل ہیں: تاہم درج ذیل دلائل کسی منصف ، عاقل اور مکمل دل جمعی و اخلاص کے ساتھ تلاش حق میں مگن شخص کو قائل کرنے کیلیے کافی ہیں۔
اول فطری دلائل: اسلام فطرتِ سلیمہ سے مکمل مطابقت رکھتا ہے، اسی کی جانب اللہ تعالی کا فرمان ہے:
فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا فِطْرَةَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ ذَلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ۔
ترجمہ: لہذا یکسو ہو کر اپنا رخ دین پر مرتکز کر دو۔ یہی فطرت الٰہی ہے جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے۔ اللہ کی اس خلقت میں کوئی رد و بدل نہیں ہو سکتا یہی درست دین ہے۔ لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ [الروم:30 ]
اسلام فطرت کے خلاف نہیں ہے بلکہ فطرت ہی اسلام ہے۔ آگے اس کی وضاحت آئے گی اور اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
(کوئی بھی نومولود [دینِ ]فطرت پر پیدا ہوتا ہے، لیکن اس کے والدین اسے یہودی، عیسائی یا مجوسی بنا دیتے ہیں، بالکل اسی طرح جیسے کہ جانور سے صحیح سالم جانور پیدا ہوتا ہے ،کیا ان میں سے کوئی کان کٹا بھی ہوتا ہے!) (بخاری و مسلم 1358،2658) 
حدیث شریفہ کے الفاظ: " تُنْتَجُ الْبَهِيمَةُ بَهِيمَةً جَمْعَاءَ " کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح جانور سلیم الاعضاء اور مکمل پیدا ہوتا ہے اس میں کوئی عیب نہیں ہوتا ، اور کان وغیرہ کاٹنے کے مراحل اس کی پیدائش کے بعد ہوتے ہیں۔
بالکل اسی طرح ہر انسان فطری طور پر مسلمان پیدا ہوتا ہے، اس کا اسلام سے کسی بھی قسم کا انحراف درحقیقت فطرت سے انحراف پیدا کرتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اسلامی تعلیمات میں ایسا کوئی بھی عمل نہیں پایا جاتا ہے، جو کہ فطرت سے متصادم ہو، بلکہ اسلام کے عقائد، عملی عبادات سب کچھ فطرتِ سلیمہ سے مکمل مطابقت رکھتے ہیں، جبکہ اسلام کے علاوہ دیگر مذاہب میں ایسے نظریات اور عقائد موجود ہیں جو کہ فطرت سے یکسر متصادم ہیں، یہ غور و فکر کرنے والوں کیلیے بالکل عیاں ہے۔
 دوُم عقلی دلائل: شرعی نصوص نے عقل کو بہت زیادہ مخاطب کیا ہے، اور عقل کی رہنمائی کی ہے کہ وہ عقلی دلائل و براہین پر غور و فکر کریں، اسلام کی حقانیت پر دلالت کرنے والے قطعی دلائل پر غورو فکر کرنے کی دعوت قرآن مجید میں کئی بار دی گئی ہے جیسے کہ فرمانِ باری تعالی ہے:
 كِتَابٌ أَنْزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِيَدَّبَّرُوا آَيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ۔
ترجمہ: ہم نے بابرکت کتاب آپ کی جانب نازل کی ہے تاکہ اس کی آیات پر عقل والے غور و فکر کریں اور نصیحت حاصل کریں۔[ص:29]
یہی وجہ ہے کہ کتاب و سنت کے اندر ایسا کوئی معاملہ نہیں ہے، جسے عقل ناممکن سمجھے یا مسلَم نہ کرتی ہو۔ اس  کے ادراک کے لیے ذیل کا واقعہ نکتۂ فکر ہے:
حضرت مولانا سجاد نعمانی دامت برکاتہم العالیہ کا سائنس دان سے ملاقات کا واقعہ: بیان فرماتے ہیں۔ ایک امریکن سائنسدان اِس دور میں گزرے ہیں، بہت بڑے بائیو کیمسٹری کے سائنسدان رہے ہیں ۔ دنیا کے بڑے سا ئنسدانوں میں ایک سائنسدان ہیں۔ اس وقت مجھے اُن کا ایک واقعہ یاد آگیا بہت عرصے پہلے لکھنؤ میں جو  Central Drug Research Institute (CDRI) ، اس کی ایک انٹرنیشنل سا ئٹیفِک کانفرنس ہوئی تھی، اس میں آپ جیسے مسلم ریسرچ اسکالرس جو اس ریسرچ انسٹیٹیوٹ میں تھے، ان سے انہوں نے کہا کہ میں اسلام کے بارے میں جانکاری حاصل کرنا چاہتا ہوں۔
آپ مجھے کسی اسلامک اسکالر(عالم ) سے ملائیں، تب اُنہوں نے مجھ سے تذکرہ کیا کہ پروفیسر آپ سے ملنا چاہتے ہیں، خوشی کی بات تھی پھر وقت مقرر ہوا اور وہ آئے لیکن جب وہ آئے، میں ذہنی طور پرتیار ہوا تھا کہ ایک سائنسدان سے میری ملاقات ہونی والی ہے۔ تو میں سائنس کے راستے سے ان کو اسلام کے بارے میں کچھ بات کرونگا، پر جب وہ آئے تو وہ پیلا لباس زیبِ تن کئے تھے، سرمنڈوا ہوا تھا اور سائیں بابا بنگلور والے، وہ تو دوسرے جہاں میں منتقل ہوگئے ہیں۔ اس وقت وہ زندہ نہ تھے، اس کی ایک تصویر لٹکائی تھی۔
 تو جب ان سے تعارف کیا تو انہوں نے کہا کہ اصل  میں چار مہینوں سے وئدان(سائیں بابا) کا فلسفہ پڑھ رہا ہوں اور میں بہت متاثر ہو گیا، میں نے اسے قبول کیا لیکن میں ساتھ ساتھ دوسرے مذاہب کا بھی مطالعہ کرتا ہوں، اس لئے میں اسلام کے بارے میں جانکاری حاصل کرنا چاہتا ہوں۔ تو جو کہ میں اس وئدان یعنی سائیں بابا کے فلسفے سے واقف تھا، تو مجھے اندازہ ہوا یہ کس عالم میں ہے، تو میں نے ان سے پوچھا آپ نے جو سیکھا ہے ،اس کا خلاصۃ چندجملوں میں سمجھا دیجئے۔
انھوں نے کہا اس فلسفے کا خلاصہ یہ ہے کہ جب تک ایک انسان اپنی فطری خواہشات نش نہ کردیں، ختم نہ کر دیں تب تک وہ کامیاب نہیں ہوگا۔  جہاں تک میری محدود معلومات کا تعلق ہے، تو میں نے اُن سے پوچھا پروفیسر جان کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ آپ کس اِسٹیٹ میں رہتے ہیں؟ انہوں کہا کہ میں شِکاگو(Chicago) میں رہتا ہوں۔ تو میں نے ان سے کہا کہ کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ آپ کےاسٹیٹ میں کتنے لوگ ایسے ہیں جو اس فلسفہ پر عمل کر سکتے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ ایک بندہ بھی نہیں  
(not a single man or woman)۔ تب میں نے ان سے پوچھا کہ آپ اتنے بڑے سائنسدان، آپ نے یہ بات کیسے قبول کی، آپ خود ہی کہہ رہے ہیں، جی کوئی نہیں کر سکتا، اس کا مطلب کوئی نہیں کر سکتا لہذا کوئی کامیاب نہیں ہوگا۔ تو انہوں نے کہا ہاں لوگ کہاں کہاں بھٹک جاتے ہیں!
 آپ نے مجھے واقعی پریشانی میں ڈال دیا۔ میں نے ان سے کہا میرا ارادہ پریشانی میں ڈالنے کا نہیں، پریشانی سے نکالنے کا ہے، آپ مجھ پر بھروسا کریں، لیکن اس وقت میں آپ کو واقعی ایپریشیٹ (appreciate) کرتا ہوں کہ، آپ مجھے حقیقت سے آگاہ کریں!
 پلیز! آپ اس پر غور کریں۔ ہاں میں غور کروں گا، پر مصیبت یہ ہے کہ مجھے پرسوں واپس جانا ہے، میرے پاس صرف ایک دن ہے۔ تو آپ مجھے اسلام کے بارے میں جانکاری دیجئے۔ میں نے ان کے ہاتھ میں ایک ڈائری دیکھی، تو میں نے کہا آپ دو کالم بنائیں ایک کالم میں اپنی فطری خواہشات ( natural desire) ہیں، ان کولکھیں اور مجھے نہ بتائیں خود لکھیں آپ کی فطرت کن چیزوں کو پسند کرتے ہے اور کن چیزوں کو نا پسند کرتے ہیں یعنی like , dis-like ، کے کالم بنا لیں ۔ تقریبا ََچالیس منٹ کے بعد انہوں نے کہا جتنی چیزیں یاد آئیں ان کو میں نے لکھ دیا ہے۔
 میں نے ان سے کہا اب ایک ایک کرکے مجھے بتائیں، میں آپ کو بتاتا ہوں کہ اسلام کس کو ناپسندکرتا ہے اور کس کو پسند کرتا ہے ۔ جب وہ پورا لکھ چکے تھے، تو میں نے ان سے کہا اب آپ cross check کیجیے کہیں پر کوئی چیز ہے جو آپ کی فطرت لائیک likeکرتی ہے اور اسلام اسے ڈس لائکdis-like کرتا ہے۔ تو انہوں نے کہا آپ کیا بتانا چاہتے ہیں مولانا نعمان صاحب! (What did you mean? )
تو میں نے ان سے کہا میں یہ بتلانا چاہتا ہوں:
 Islam is nothing but pure natural way of life
 یعنی اسلام خالص فطری طرز زندگی کے سوا کچھ نہیں ہے۔
یہ تو انسان کےباطن کی آواز ہے۔ یہ تو اس مالک کا کرم ہے کہ انسان کے باطن کی آواز کو انہوں نے الفاظ دیے، اس نے ہمیں کوئی چیز باہر سے نہیں دی ما سوائے مظاہرِفطرت کے جو کہ چہار سُو موجود ہے۔
فطرت أللّٰهِ ألَّتِيۡ فَطَرَ ألنَّأسَ عَلَيۡهَأ ، لَأ تَبۡدِيۡلَ لِخَلۡقِ أللّٰهِ، ذٰلِكَ ألدِّيۡنُ ألۡقَيِّمُ  (سورۃ الروم ۳۰)
ترجمہ: لہذا تم یک سو ہو کر اپنا رخ اس دین کی طرف قائم رکھو ۔ اللہ کی بنائی ہوئی اس فطرت پر چلو ،جس پر اس نے تمام لوگوں کو پیدا کیا ہے، اللہ کی تخلیق میں کوئی تبدیلی نہیں لائی جاسکتی، یہی بالکل سیدھا راستہ ہے، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔
کیا مطلب ہےاس کا؟  اُدۡعُ اِلٰی سَبِیلِ رَبِّکَ بِالۡحکمة (سورۃ النحل ۱۲۵) اپنے رب کے راستے کی طرف لوگوں کو حکمت کے ساتھ دعوت دو ۔ آپ کو خوشی ہوگی یہ سن کر، آپ کی پیشانی سے ایمان کا نور چھلکتا ہے اس وقت تو وہ بندہ چلا گیا پر تقریبا دو ماہ کے بعد اس شخص کا فون آیا اور انہوں نے کہا میں اس وقت شکاگو کے اسلامک ریسرچ سنٹر سے بات کر رہا ہوں اور میں نے ابھی کلمہ شہادت کو قبول کرلیا۔ اللہ اکبر یہ ہے اسلام کی طاقت،  اس دنیا میں ایسے لوگ موجود ہیں جو سچائی کی تلاش میں ہے۔
ہمیں سو گئے داستاں کہتے کہتے 
ہم ہی نے اپنا قومی فریضہ، ہم ہی نے اپنے اصل مشن کو چھوڑ کر، ہم ہی نے انسانوں کو ترچھی نظر سے دیکھنا شروع کیا ۔۔۔۔۔۔ 
اسلام دینِ فطرت ہے تو کچھ فطری اعمال کا تذکرہ تمثیل کے لیے ملاحظہ فرمائیں تاکہ آپ پہ واضح ہو جائے کہ اسلام دین فطرت ہے، انسان کی فطرت اسے تسلیم کرے گی کہ میں جھوٹ بولوں؟نہیں! ۔فطرت کبھی یہ قبول نہیں کر سکتی اور اسلام اسی کو پسند کرتا ہے جیسا کہ قرآن مجید کے دوسرے صفحے پر ہی اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ 
ولهم عذاب الیم بماکانوا یکذبون (سورہ البقرہ ۱۰) 
ترجمہ: اور ان کے جھوٹ بولنے کی وجہ سے ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔ ایک اور جگہ پر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے:
إِنَّ اللَّهَ لا يَهدي مَن هُوَ مُسرِفٌ كَذّابٌ(سورہ المومن ۲۸) 
ترجمہ:اللہ کسی ایسے شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو حد سے گذر جانے والا ( اور ) جھوٹ بولنے کا عادی ہو۔ دینِ اسلام میں جھوٹ بولنے کی گنجائش نہیں ہے۔
 کیا انسان کی فطرت اسے محبوب رکھ سکتی ہے؟ کہ میں  ایفائے عہدکرے اور پھر اُس کے خلاف جائے؟ ہرگز نہیں، انسان کی فطرت ہمیشہ پسند کرتی ہے کہ وعدے نبھانا چاہیے۔ اسلام بھی اسی کو پسند کرتا ہے۔ اللہ تبارک وتعالٰی مسلمان کو مخاطب کر کے مسلمان کی صفات بیان کرتے ہے، اس میں ایک صفت وعدہ پورا کرنا بھی شامل ہے۔ جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ 
وَالَّذينَ هُم لِأَماناتِهِم وَعَهدِهِم راعونَ (سورۃ المومنون ۱۰، سورہ معارج ۳۲)
ترجمہ : اور وہ جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کا پاس رکھنے والے ہیں۔ 
انسان کی فطرت پسند کرتی ہے کہ لوگوں کو گالیاں دیتے پھرے!، نہیں فطرت یہ بھی پسند نہیں کرتی اور اسلام بھی اسی کو پسند کرتا ہےکہ ۔۔۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے
 وَالَّذينَ هُم عَنِ اللَّغوِ مُعرِضونَ (سورہ المومنون)
اور جو لغو چیزوں سے منہ موڑے ہوئے ہیں، یعنی مسلمان گالیاں نہیں دیتے ہے۔ 
دوسری جگہ پر قرآن کریم میں ارشاد ہے:
وَقُل لِعِبادي يَقولُوا الَّتي هِيَ أَحسَنُ إِنَّ الشَّيطانَ يَنزَغُ بَينَهُم إِنَّ الشَّيطانَ كانَ لِلإِنسانِ عَدُوًّا مُبينً ﴿سورہ بنی اسرائیل۵۳﴾
ترجمہ:میرے ( مسلمان ) بندوں سے کہہ دو کہ وہی بات کہا کریں جو بہترین ہو ۔ درحقیقت شیطان لوگوں کے درمیان فساد ڈالتا ہے ۔ شیطان یقینی طور پر انسان کا کھلا دشمن ہے ۔
 حدیث مبارکہ میں ہے: اللہ تعالٰی اس شخص سے عداوت رکھتا ہے، جو فحش گوئی َکرتا ہے۔
أَنَّ ألنَّبِيَّ صَلَّى أللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَألَ مَأ شَيْءٌ أَثْقَلُ فِي مِيزَأنِ ألْمُوْمِنِ يَوْمَ ألْقِيَأمَةِ مِنْ خُلُقٍ حَسَنٍ وَإِنَّ أللَّهَ لَيُبْغِضُ ألْفَأحِشَ ألْبَذِيء جامع الترمذی: رقم الحدیث ۲۰۰۲) 
ترجمہ: نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:' قیامت کے دن مومن کے میزان میں اخلاقِ حسنہ سے بھاری کوئی چیز نہیں ہو گی اوراللہ تعالیٰ بے حیا بدزبان سے نفرت کرتا ہے۔
ایک اور حدیث مبارکہ میں ہے
(من حسن إسلام المرء تركه ما لا يعنيه وفي رواية إن من حسن إسلام المرء قلة الكلام فيما لا يعنيه)
فطرت زناکاری پسند کرتی کر سکتی؟ ہرگز نہیں چاہے وہ کوئی بھی مذہب ہو زناکاری کو پسند نہیں کرتا ہے۔ اسلام میں تو اسے گناہ کبیرہ کہا گیاہے ۔
جیسے اللہ تبارک و تعالی کا ارشاد ہے ۔ 
 وَلا تَقرَبُوا الزِّنا إِنَّهُ كانَ فاحِشَةً وَساءَ سَبيلًا (سورہ بنی اسرائیل ۳۲) 
 ترجمہ: اور زنا کے پاس بھی نہ پھٹکو ۔ وہ یقینی طور پر بڑی بے حیائی اور بےراہ روی ہے۔ 
امثال تو بے شمار دی جا سکتی ہیں پر منصف انسان کے خاصہ ہے، اختصاراً کچھ مزید تمثیلات کا تذکرہ کرتے تاکہ اشتباہ کی گنجائش نہ رہے: ماں باپ کی عزت ، اللہ تعالیٰ نےان کی عزت و احترام  کرنے کا حکم اپنی تتبع کے ساتھ ذکر کیا جس کے بعد ھذا کسی تائید کے مستمد نہیں رہتا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نےجامع الفاظ کے ساتھ اس کی تائید کرتے ہوئے فرمایااللہ کی رضا، والدین کی رضامندی میں ہے۔ بترتیب دیکھیں:
وَقَضى رَبُّكَ أَلّا تَعبُدوا إِلّا إِيّاهُ وَبِالوالِدَينِ إِحسانًا إِمّا يَبلُغَنَّ عِندَكَ الكِبَرَ أَحَدُهُما أَو كِلاهُما فَلا تَقُل لَهُما أُفٍّ وَلا تَنهَرهُما وَقُل لَهُما قَولًا كَريمًا (الاسراء)
رضي الرب في رضا الوالد وسخط الرب في سخط الوالد (ترمذي)
آپس میں امتزاج کے ساتھ رہنے کی تلقین، غیر مسلم بھائیوں کے ساتھ بھی عدل وانصاف اور آمیزش کے ساتھ رہنا اسلام کا تقاضا ہے، ظلم کرنے سے، ناحق قتل کرنے سے، شراب نوشی سے، بلکہ جانوروں سے حسن سلوک سے پیش آنے کی تلقین اسلام کرتا ہے۔ (أفضل الصدقة أن تشبع كبدًا جائعًا: بیہقی)
خلاصہ یہ ہے کہ ہر کوئی چیز جو فطرت کو پسند ہے۔اسلام کو بھی وہی پسند  ہیں ۔ اسلام تو نام ہی ہے دینِ فطرت کا تو دینِ اسلام فطرت کے خلاف کیسے ہو سکتا ہے۔ کوئی بھی بات فطری ترازو میں تولیں، اسلام کے بر خلاف نہیں ہوگی۔ 
اگر ہم غور و فکر کریں گے۔ تو ہمیں وہ فطری راستہ مل ہی جائیں گا۔ جس سے ہم سب کامیاب و کامران اس دنیا اور اس کے بعد کی زندگی میں بھی ہوسکتے ہیں۔ انسانیت کی رہنمائی کے لیے واحد راستہ ہے وہ ہے فطری راستہ یعنی راہِ اسلام۔ جو چیز فطرت کے خلاف ہو بلا اسے انسانیت کامیاب و کامران کیسے ہو سکتی ہے،
 اس لیے ہمیں دینِ فطرت کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ اس کے بعد ہی اپنی زندگی اُس کے حوالے بلا خوف کردینی چاہیے۔
یہی وجہ ہے کہ نبی برحق ﷺ نے سالم ضمیر کو سب سے بڑا قاضی اور مفتی یعنی فیصلہ کرنے والا بتایا ہے۔
کما قالَ رسول اللہ ﷺ " الاثم ما حاک فی صدرک و کرھت ان یطلع علیہ الناس۔
اسلام ایک دینِ فطرت اور مکمل ضابطہ حیات ہے۔ قدرت کے قانون اٹل اور غیر متبدل ہیں ۔ انسان خود کے بنائے قوانین میں طبقاتی تقسیم کا خیال رکھتا ہے جب کہ اللہ کے بنائے قوانین تمام انسانوں کے لیے یکساں و مساوی حثیت رکھتے ہیں ۔ بلا شبہ اس ذات باری تعالیٰ کے نظام ِ قدرت میں ساری مخلوق کے لیے بغیر کسی امتیازی سلوک کے مفادِ عامہ اور نشونما شامل ہے ۔
اللہ تبارک و تعالی سے دعا کرتےہیں۔ اے انسان کو پیدا کرنے والے رب ، ہمیں اس راستے کو دریافت (کھوج) کرنے کی توفیق عطا فرما اور پھر دریافت ہونے کے بعد اس پر عمل کرنے کی بھی توفیق عطا فرما ۔ آمین
واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔
ماجد کشمیری

جاب یا تجارت| کاروبار یا ملازمت

2

 اس دور معشوق میں نوجوانِ قوم پر جو معاصرانہ دباؤ ہے اس سے نہ انفرادی نہ قومی کامیابی حاصل ہوسکتی ہے۔ ہر ملک میں سب سے زیادہ نوجوانوں سے پوچھا گیا سوال یہی ہو سکتا ہے کہ پڑھو، تعلیم حاصل کرو۔ ہر نوجوان کا ولی ناقص التحقیق سے تنبیہ کرتا ہے تاکہ اس کا بیٹا اچھی سی نوکری کر سکیں۔ میں اس بات سے متفق ہوں کہ جاب ( نوکری) کرنا برا کام نہیں ہے پر میں ضرور کہہ سکتا ہوں کہ کمزور دل اور ایک ہی راستہ کو متعین کرنے والا ناقص الفہم شخص ضرور ہو سکتا ہے۔ اس پہلو کو اگر اسلامی نظریے سے دیکھا جائے تو اسلام میں غلامی کو چھوڑ کر کاروبار کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔ اگر تجارت پر تحقیقی روشنی ڈالی جائے تو یہ عیاں ہو جاتا ہے میران تجارت سے ہی بنے ہوئے ہیں۔ عرب کے میران تاجروں سے آپ بہت زیادہ واقف نہ ہوں گے اس لیے میں آپ کو اپنے ملک کے کچھ امیر اشخاص کا تذکرہ کرتا ہوں۔ ہندوستان کے سب سے امیر شخص مکیش امبانی کا نام آپ نے سنا ہی ہوگا جو امیروں کی فہرست میں صف اول میں شمار کیے جاتے ہیں۔ یہاں ایک نوکری کرنے والے شخص کی جتنی سالوں کی بچت لاکھوں میں ہوتی ہے۔ مکش امبانی کو اتنے کروڑ کی بچت  ہوتی جیسے ایک رپورٹ سے پتہ چلا کہ ان کو 613500 کروڑ بچت ہے ۔میں نے ایک رپوٹ پڑی جو ہندوستان کے سب سے امیر ترین لوگوں کی تھی جس میں کہیں پر غلطی سے بھی نوکری کرنے والے شخص کا تذکرہ نہیں ملتا۔ صرف یہ ایک نہیں ہے 142 کروڑ پتی رواں سال میں شمار کیے گئے ہیں۔ تمام ذی شعور انسان اس بات کو تسلیم کرتیں ہے نوکری سے بہتر تجارت ہے۔ پر کہیں رسموں میں الجھے ہے، کہیں فیملی کے دباؤ، کہیں اپنی اضمحلال میں ہے۔ بس عامیانہ ذہن بن چکا ہے کرنی ہے تو بس نوکری۔ بڑی عجیب بات ہے نا جو کام آپ دوسروں کے لئے کر سکتی ہوں آپ خود کے لیے کیوں نہیں کر سکتے ہو۔


تجارت کرنے کے لئے ہمیں رقم کی ضرورت ہے؟

تجارت کو یک طرفہ رکھیں آپ ہمیں بتائیں کہ کون سے چیز ہے جس کے لیے پیسے نہیں لگتے ہیں۔ کیا نوکری کرنے کے لیے رقم خرچ نہیں ہوتی؟ کیا تعلیم حاصل کرنے کے لیے پیسے خرچ نہیں ہوتیں؟ آپ اس مضمون کا مطالعہ کر رہیں ہیں اس کے لئے بھی آپ پیسے خرچ کر چکے ہیں۔ آپ ذرا غور کریں صرف تجارت کرنے پر ہی کیوں سوال اٹھایا جاتا ہے۔ دراصل راز کچھ اور ہے۔ کمزور اشخاص جس چیز سے ڈر رہے ہیں وہ نقصان ہے ۔ وہ یہ تصور کرتے ہیں کی تجارت کرنے میں نقصان بھی اٹھانا پڑتا ہے۔ پر نقصان وہی اٹھاتے ہیں جو حلال تجارت اور بہترین طریقہ (اسلامی قوانین) سے تجارت کو انجام نہیں دیتے ہیں۔ 


اب سوال ہے کہ تجارت کے لیے رقم لگانی پڑتی ہیں۔ یہ بات بالکل صحیح ہے۔ میں یہاں پر ضرور اس بات کی طرف اشارہ کرنا چاہتا ہوں کہ پیسے دو طریقے سے کمائے جا سکتے ہیں۔ اولاً پیسے تجارت میں لگائے جائے اور اس سے منافع حاصل کیا جائے۔ ثانیاً دوسروں کو منافع کما کے دے دینا اور اپنی مزدوری لینا۔ دونوں طرف کچھ نہ کچھ خرچ ہو جاتا ہے تجارت میں آپ کے لگائے ہوئے پیسے منافعے کے ساتھ واپس آتے ہیں۔ اور جاب( نوکری) میں آپ جنسی رقم خرچ کر کے تھوڑی بہت مزدوری حاصل کر لیتے ہیں۔ بہترین اور معزز طریقہ کوسا ہے آپ جود متعین کیجیے۔ 


اس تلخ حقیقت سے کون انحراف کر سکتا ہے کہ کوشاں کبھی ناکامیاب ہو سکتا ہے۔ آج جس دور سے ہم گزر رہے ہیں وہ دورِ تجاریت ہے۔ پر ہم مغربیت سے آلودہ ہے ہمارا ذہن ابھی غلامیت سے انکار نہیں کرتا ہے۔ یہ مغربیت کی روش ہے کہ ہم غلامیت کے عادی بن چکے ہے۔ مغربیت کے مکر و فریب میں اکثر افراد شکار ہوتے ہیں وہ لوگوں کے ذہنوں میں نوکری، غلامی کی حسرت کو اجاگر کرتے ہے اور خود تجارت میں بے حد مصروف ہے۔ وہ تجارت کی طاقت سے آشنا ہے۔ پر ہم اسے دور بھاگتے ہیں۔ للہ تعالا ہمیں تفہیم کی توفیق عطا کریں اور کونین میں کامیاب فرمائیں۔ امین 

ماجد کشمیری

نیٹ ورک مارکیٹنگ کے متعلق چند سوالات کے جوابات| نیٹ ورک مارکیٹنگ حرام یا حلال

0

نیٹ ورک مارکیٹنگ کے متعلق چند سوالات کے جوابات۔

سوال ۱: نیٹ ورک مارکیٹنگ حلال ہے یا حرام؟


جواب: نیٹ ورک مارکیٹنگ اپنے اندر منفی اور مضر اثرات کی وجہ سے حرام قرار دیا گیا ہے نیز اس میں استحصال سے پیسہ آ جاتا ہے۔ قرآن میں واضح ہیں ولا تأکلوا اموالکم بینکم بالباطل: یعنی استحصال سے آپس میں مال مت کھاؤ۔ 


سوال۲: نیٹ ورک مارکیٹنگ کیسے حلال بن (ہو) سکتی ہے۔


جواب: اگر آپ نیٹ ورک مارکیٹنگ کے طرزِ عمل سے واقف ہوں گے۔اس میں مصنوعات (پروڈکٹس) کی قیمت حد سے زیادہ ہوتی ہیں۔ جس کے باعث کمپنی کو بہت سارا استحصال کردہ پیسہ بچ جاتا ہے۔ جس کا قلیل حصہ یہ اپنے ڈسٹری بیوٹرس (دالالوں) میں ناجائز طریقے سے تقسیم کرتے ہے۔ اس لئے مصنوعات کی قیمت زیادہ نہ ہو گئی اور لوگوں سے پیسے سے پیسہ لینا نہ پایا جائے تو قلیل رقم بھی تقسیم نہیں ہوگی۔ جس کے باعث لوگ نہیں جھوڑیں گے ظاہرہے کمپنی بند، نیٹ ورک مارکیٹنگ کاروبار نا مکمل بیلنس ماڈل ہیں۔ جس کی وجہ سے اس کی کوئی بھی شکل حلال نہیں ہو سکتی۔ واللہ اعلم۔


سوال ۳: کن وجوہات سے نیٹ ورک مارکیٹنگ حرام ہے۔

جواب: جن وجوہ سے کاروبار حرام کے دائرے میں داخل ہوتا ہے اُن سے نیٹ ورک مارکیٹنگ لبریز ہے۔ جیسے استحصال سے پیسہ آ جانا، پیسے سے پیسہ سرقہ کرنا، اور ان گنت  وجوہ ہے جن کی وجہ سے یہ حرام میں داخل ہوتی ہے۔ مزید معلومات کے لیے بندے کے مضامین کا مطالعہ کریں۔ 

نیٹ ورک مارکیٹنگ حرام کیوں ہے

نیٹ ورک مارکیٹنگ اور عظیم شخصیات اور دارالافتاؤں کے فتویٰ


Is Network Marketing halah in Islam

ماں کی لازوال محبت| والدین کے حقوق |ماں کی اہمیت

0


ماں: کا لفظ جب تلفظ و تصور میں آ جاتا ہے، تو محبت کی لہریں، آپ کے ذہن کو لبریز کرتی ہے۔ ماں انسان کی شکل میں وہ فرشتہ ہے۔ جو انسان کیلئے عیاں ہے۔ لبرل ازم (مغربیت) کو چھوڑ کر باقیہ تمام مذاہب و مکاتبِ فکر میں ماں کی عظمت کا اعتراف کیا ہے۔ ماں اُن عظیم نعمتوں میں سے ہیں۔ جس کا احترام کر کے، جنت کی مفتاح حاصل کر سکتے ہیں۔ ماں وہ شخصیت ہے، جو اپنا دورِ زرین  کو بچے کی تربیت و پرورش پر نچھاور کرتی ہیں۔ اِن کا رتبہ اتنا سرفراز ہیں، خود مالکِ کائنات نے اس کا اعتراف کروایا ہیں۔ جیسے اللہ تبارک و تعالی کا ارشاد ہے ۔ وَقَضَی رَبُّکَ أَلاَّ تَعْبُدُواْ إِلاَّ إِیَّاہُ وَبِالْوَالِدَیْْنِ إِحْسَاناً إِمَّا یَبْلُغَنَّ عِندَکَ الْکِبَرَ أَحَدُہُمَا أَوْ کِلاَہُمَا فَلاَ تَقُل لَّہُمَا أُفٍّ وَلاَ تَنْہَرْہُمَا وَقُل لَّہُمَا قَوْلاً کَرِیْما وَاخْفِضْ لَہُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَۃ وَقُل رَّبِّ ارْحَمْہُمَا کَمَا رَبَّیَانِیْ صَغِیْراً رَّبُّکُمْ أَعْلَمُ بِمَا فِیْ نُفُوسِکُمْ إِن تَکُونُواْ صَالِحِیْنَ فَانَّہُ کَانَ لِلأَوَّابِیْنَ غَفُوراً․


ترجمہ : اور تیرے رب نے یہ حکم دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت مت کرو اور اپنے ماں باپ کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آو ، اگر وہ یعنی ماں، باپ تیری زندگی میں بڑھاپے کو پہنچ جائیں ، چاہے ان میں ایک پہنچے یا دونوں (اور ان کی کوئی بات تجھے ناگوار گزرے تو ) ان سے کبھی ”ہوں “ بھی مت کہنا اور نہ انھیں جھڑکنا اور ان سے خوب ادب سے بات کر نا ، اور ان کے سامنے شفقت سے انکساری کے ساتھ جھکے رہنا اور یوں دعا کر تے رہنا :اے ہمارے پروردگار ! تو ان پر رحمت فرما، جیسا کہ انھوں نے بچپن میں مجھے پالا ہے(صرف ظاہر داری نہیں، دل سے ان کا احترام کرنا ) تمھارا رب تمھارے دل کی بات خوب جانتا ہے اور اگر تم سعادت مند ہو تو وہ توبہ کرنے والے کی خطائیں کثرت سے معاف کرنے والا ہے۔

قرآن مجید کی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت یہ ہیں کہ جب اللہ تعالا حکمِ عبادت کے ساتھ کسی اور امر کی تاکید کرتا ہے، تو مؤیَد حکم کسی توثیق کا مستمد نہیں رہتا ہے۔ اس کا اندازہ آپ بلا آیات سے لگا سکتے ہیں کہ اللہ تعالٰی نے اپنی عبادت کے حکم کے بعد صراحت کے ساتھ نقشہ کھینچا ہے۔

ماں کی تکلیفات: ہمارے حروف کتنے ہی وسیع و بسیط کیوں نہ ہو ہم ماں کے اٹھائے ہوئے تکلیفات کا نقشہ نہیں کھینچ سکتے ہیں۔ اس کا اندازہ آپ اس سے لگا سکتے ہیں کہ دور نبوت میں،  نبی صلی اللہ علیہ اور صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کو کتنے تکلیفات سہنے پڑے ہیں۔ واحد شخصیت ماں ہے، جس کی تکلیفات کی صراحت قرآن مجید میں ملتی ہیں۔


ماں کے تکلیفات کا ذکر قرآن میں: وَوَصَّیْْنَا الْإِنسَانَ بِوَالِدَیْْہِ إِحْسَاناً حَمَلَتْہُ أُمُّہُ کُرْہاً وَوَضَعَتْہُ کُرْہاً

ترجمہ : اس ماں نے تکلیف جھیل کر اسے پیٹ میں رکھا اور تکلیف برداشت کر کے اسے جنا ۔حمل کے نوماہ کی تکلیف اور اس سے بڑھ کر وضع حمل کی تکلیف، یہ سب ماں برداشت کرتی ہے۔

اللہ تعالی نے جب ”اف“ کرنے سے گریز کرنے کا حکم بھی وارد کیا۔ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے اس کے بارے میں فرمایا اگر والدین کی بے ادبی میں ”اف“ سے کم درجہ ہوتا تو اللہ جلہ شانہ اسے بھی حرام فرما دیتے۔(الدالمنثور: ۵/ ۲۲۴)


والدین کا ادب واحترام کا تذکرہ: حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے مروی ہے، وہ فرماتی ہیں: رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں شخص حاضر ہوا، ان کے ساتھ ایک بوڑھا آدمی تھا، نبی برحق صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا یہ بوڑھا کون ہے؟ اس شخص نے جواب عرض کیا یہ میرے والد ہے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا: لا تمش امامہ، ولاتقعد قبلہ، ولاتدعہ باسمہ ولاتستب لہ (معجم الأوسط، للطبرانی:۴/۲۶۷) یعنی ان کے آگے مت چلو، مجلس میں ان سے پہلے مت بیٹھنا، ان کا نام لے کر مت پکارنا، ان کو گالی مت دینا۔


ادب سے بات کرنا، انسان کی پہچان ہیں، پر اللہ تعالیٰ قرآن میں خصوصاً ذکر فرمایا ہے وقل لہما قولاً کریما یعنی ان کا ساتھ ادب و احترام سے بات کرنا۔ قول کریم کے بارے میں حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے فرمایا: خطا کار اور زر خرید غلام سخت مزاج اور ترش روی آقا سے جس طرح با ت کر تا ہے، اس طرح بات کر نا قول کریم ہے (الدر المنثور: ۵/۲۲۵)




اختصار کے ساتھ، دور حاضر میں امت رشتوں کے ساتھ، رشتوں کے حقوق کو فقدان کر کے پر سکون زندگی سے عاری ہے۔ اس لیے انسانیت خصوصاً اہلِ اسلام کو رشتوں کے واجبات کو بھولنا نہیں چاہیے۔ اللہ سبحانہ و تعالی ہم سب کو رشتوں کے ساتھ، رشتوں کے حقوق خصوصاََ ماں، باپ کے حقوق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین یا رب العالمین۔


ماجد کشمیری

ایک مزدور کی کہانی - آخر رب کی ہی نافرمانی کیوں؟

0

     قارئین کرام! ایک مزدور کا واقعہ اس کے زبان سے ملاحظہ ہوکہ: میں کام پر گیا میرے ساتھ ہم عمر کے کچھ افراد بھی شامل تھے۔ میں نے وہاں پر عجیب اور انوکھا منظر دیکھا کہ مالک کی کتنی فرمابرداری کی جا رہی ہے۔ میرے ساتھی گانے سننے والوں میں سے تھے، پر جوہی مالک آ جاتے تھے تو وہ گانے بند کر دیتے تھے۔ مالک جو کام کرنے کو بولتیں تھیں، ہم اس کام کو جرح کرے بغیر کرنے کے لئے آمادہ ہوتے تھے۔ وہ کام کے بیچوں بیچ اگر یہ کہتے کہ اب اس کام کو چھوڑ دو یہ کام کروں تو ہم اسے انجام دیتے۔ الغرض جو بھی وہ کہتے تھے ہم اس کے لیے تیار رہتے تھے۔ پر کیوں؟ میرے ذہن میں یہ بات گردش کر رہی تھیں کہ مالک کی بات تو ماننی چاہیے ہم پر فرض ہے۔ پر ایک سوچ مجھے ستا رہی تھی کہ ہماری سرگزشت اتنی فرمانبردار تو نہیں ہے پھر کیوں ہم اسے اتنے خوف سے تسلیم کرتے ہیں۔ آخر کیوں؟ میں نے ساتھیوں سے سوال پوچھا، حیرت انگیز جواب ملا یہ ہمیں دن کا معاوضہ 600 دیتے ہیں اس لیے۔ 

    بس پھر کیا میں سوچ میں ڈوب گیا۔ صرف 600 روپے کے لیے ہم مالک اتنی فرمانبرداری کرتے ہیں۔ ہمارا رب اللہ تعالی ہمیں دن کا کتنا دیں رہیں ہیں پر کیا ہم اس کی اتباع کرتے ہیں؟ میں حساب کرنے لگا۔

    جب میں صبح اٹھتا ہوں اللہ تعالی روح پھونک کر پھر سے مجھے زندہ کرتا ہے۔ ارے اس روح کی تو کوئی قیمت ہی نہیں ہے؟۔۔۔ ہے کیا؟ نہیں!۔ اس کا حساب لگانا ہمارے بس میں نہیں، چلیں چھوڑے آگے حساب کرتے ہیں، دن بھر اللہ تعالی کا آکسیجن استعمال کرتے ہیں، تحقیق سے پتا چلا کہ انسان ایک منٹ میں 8 لیٹر آکسیجن استعمال کرتا ہے۔ وہ چوبیس گھنٹوں کا 11500 ہو جاتا ہے۔ وہ لگ بھگ 13 لاکھ کے اوپر اوپر ہے۔ کہاں چھے سو میں مالک کی فرمانبرداری اور کہاں تیرہ لاکھ میں رب کی نا فرمانی! 

    اگر ہوا، پانی،زمین، ہفت خلیفہ، خوب صورت قالب، لقبِ اشرف المخلوقات، عنایتِ منصبِ خلیفۃ اللہ، اور شرفِ امتِ محمدی وغیرہ ہیں۔ جامع الفاظ وہیں: فبای الاء ربکما تکذبان، جس کا حساب کیا جائیں، اگر تمام نعمتوں کا حساب کیا جائے جن کا استعمال دن بر انسان کرتا ہے۔ یہ تو لاتعداد ہے۔

پھر للہ کی نافرمانی کیوں؟۔۔۔العاقل تکفیہ الاشارہ. 

    لہذا اہلِ اسلام سے ہماری دردمندانہ درخواست ہے کہ اپنے فرائض سے ایسی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ نہ کریں، ہوش کے ناخن لیں، اپنے آپ کو پہچانیں کہ آپ کسی مقصد کے لیے مبعوث کیے گئے ہیں۔ اللہ تعالی ہمیں عقل سلیم عطا فرمائیں اور اپنے حفظ و امان میں رکھیں آمین یا رب العالمین۔


ماجد کشمیری

ہندوؤں کی دیوالی سے پہلے مسلمانوں کی دیوالی

0

قارئین کرام ! کچھ دیر پہلے یکے بعد دیگرے کئی مرتبہ کانوں میں پٹاخوں کی تیز آواز گونجی تو حیرت ہوئی کہ ابھی کیا بات ہوگئی کہ نیاپورہ جیسے مسلم علاقے میں پٹاخوں کی آواز آرہی ہے؟ روڈ پر نکلا تو چند نوجوانوں سے پوچھنے پر معلوم ہوا کہ آئی پی ایل کا آج فائنل تھا جس میں چنئی نامی ٹیم فتحیاب ہوئی ہے۔ چونکہ بندے کو کرکٹ میں ذرا بھی دلچسپی نہیں ہے اس لیے ذہن اس طرف گیا ہی نہیں۔

خیر جیسے ہی معلوم ہوا کہ ہمارے نوجوان کرکٹ ٹیم کی فتح کا جشن پٹاخے جلا کر منا رہے ہیں تو دل بالکل بیٹھ سا گیا کہ یہ سب کیا ہورہا ہے؟ اگر بات ورلڈ کپ میں ہندوستان کی جیت کی ہوتی تو کچھ سمجھا بھی جاسکتا تھا، اگرچہ اس وقت بھی آتش بازی ناجائز ہی تھی، لیکن یہ کیا بات ہوئی کہ آئی پی ایل جیسی انتہائی فضول سیریز جو سراسر فضول خرچی اور فحاشی کا اڈا بنی ہوئی ہے، اس میں ہمارے نوجوانوں کی دلچسپی وہ بھی اس حد تک کہ اس میں اپنی پسندیدہ ٹیم کی جیت پر یوں ناجائز اور حرام طریقے پر اس کا جشن منایا جائے؟ وہ بھی ایسے حالات میں جبکہ مسلمان معاشی، سماجی اور سیاسی ہر اعتبار سے کمزور ہوتے جارہے ہیں۔ کیا انہیں اس بات کا علم نہیں کہ پٹاخے  پھوڑنا اور آتش بازی کرنا درج ذیل وجوہات کی بنا پر ناجائز اور حرام ہے۔

اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا ۔

قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں :

وَاَنۡفِقُوۡا فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَلَا تُلۡقُوۡا بِاَيۡدِيۡكُمۡ اِلَى التَّهۡلُةِ ۖ  ۛۚ وَاَحۡسِنُوۡا  ۛۚ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الۡمُحۡسِنِيۡنَ‏  ۔(سورہ بقرہ، آیت : 195)

ترجمہ : اللہ کے راستے میں مال خرچ کرو، اور اپنے آپ کو خود اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ ڈالو اور نیکی اختیار کرو، بیشک اللہ نیکی کرنے والوں سے محبت کرتا ہے ۔  (سورہ بقرہ، آیت : 195)

آتش بازی میں اکثر جان کی ہلاکت و زخمی ہونے کے واقعات پیش آتے ہیں۔

فضول خرچی، اور وقت کا ضیاع ۔

دوسری جگہ اللہ تعالٰی ارشاد فرماتے ہیں :

إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيَاطِينِ وَكَانَ الشَّيْطَانُ لِرَبِّهِ كَفُورًا۔ (سورہ بنی اسرائیل، آیت : 27)

ترجمہ : بلاشبہ جو لوگ بےہودہ کاموں میں مال اڑاتے ہیں، وہ شیطان کے بھائی ہیں، اور شیطان اپنے پروردگار کا بڑا ناشکرا ہے۔ 


اسی طرح آتش بازی میں غیروں سے مشابَہت پائی جاتی ہے جس کے بارے میں حدیث شریف میں آیا ہے کہ جو جس قوم کی مشابہت اختیار کرے گا اس کا حشر اسی کے ساتھ ہوگا، نیز اس میں دوسروں کو تکلیف دینا بھی پایا جاتا ہے جو ایک الگ اور مستقل ناجائز اور حرام کام ہے۔


لہٰذا ہماری اپنے نوجوانوں سے انتہائی دردمندانہ درخواست ہے کہ اللہ کے لیے ایسی غیرذمہ داری کا مظاہرہ نہ کریں، حالات کے رُخ کو دیکھیں، ہوش کے ناخن لیں، اپنے آپ کو پہچانیں کہ آپ قوم وملت کا قیمتی سرمایہ ہیں، اپنی جوانی اور اپنے حلال مال کو یوں ان بت پرستوں اور پیسے کے پجاریوں کے پیچھے ضائع نہ کریں۔ اور یہ بات اچھی طرح سے سمجھ لیں کہ آپ کی اس غیرشرعی حرکت کا کسی کا کوئی فائدہ نہیں ہونے والا ہے بلکہ صرف اور صرف آپ کی آخرت برباد ہونے والی ہے، اس لیے ابھی سچی پکی توبہ کریں اور پختہ عزم کرلیں کہ آئندہ ایسی چیزوں سے مکمل طور پر دور رہیں گے۔


اللہ تعالٰی ہمارے نوجوانوں کو عقل سلیم عطا فرمائے، فضولیات اور منکرات سے ان کی حفاظت فرمائے اور انہیں قوم وملت کے لیے نفع بخش بنائے۔ آمین یا رب العالمین


 محمد عامرعثمانی ملی 

(امام وخطیب کوہ نور مسجد) 


© 2023 جملہ حقوق بحق | MK Arabic Accademy | محفوظ ہیں