الحمد للہ وحدہ لا شریک لہ والصلاۃ والسلام علی من لا نبی بعد و علی اٰلہٖ وأصحابہ الذین وعوفوا وحدہ
ہم اپنے عقائد کو، اپنے اعمال کو دلائل کے ساتھ، اعتدال کے ساتھ، اخلاص کے ساتھ بیان کرتے رہے۔ بلا وجہ کسی پر تنقید کی ضرورت نہیں ہے اور جو لوگ تنقید کرنے والے ہیں، میں ان کی خدمت میں گزارش کروں گا، یا دوسروں پر تنقید نہ کریں اور اگر دوسروں پر تنقید کرنی ہے، تو اپنے اوپر ہونے والی تنقید کو برداشت بھی کریں۔ لوگ دوسروں پر تنقید کر لیتے ہے جب تنقید ہوتی ہے تو برداشت نہیں کرتے ہیں۔
میں اس پر ایک جملہ کہا کرتا ہوں کہ جو اپنے اوپر ہونے والی تنقید کو سہنے کی ہمت اور طاقت نہیں رکھتا اور دوسروں پر تنقید کرنے کی حماقت ہرگز نہ کرے۔
میری بات توجہ سے سنیں! جو شخص اپنے اوپر تنقید سننے کی ہمت، طاقت اور برداشت نہیں رکھتا وہ دوسروں پر تنقید کرنے کی حماقت کبھی نہ کرے۔ جب آپ نے کسی پر تنقید کرنی ہے، تو آپ پر تنقید ہونی ہے، یا تنقید کرنی چھوڑ دیں اور یا تنقید شوق سے برداشت بھی کرے۔ ہم اپنے عقائد کو دلائل سے، اعتدال سے، للہ تعالیٰ توفیق عطا فرمائیں، اخلاص سے کر رے ہیں، مسلسل لگے ہیں اور ان شاء اللہ العزیز، اللہ تعالی نے توفیق عطا فرمائے تو موت تک ہم اس کام میں لگے رہیں گے، اللہ تعالی لگے رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔
متکلم اسلام مولانا محمد الیاس گھمن حفظہ اللہ
مرتب ماجد کشمیری
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
ویب گاہ کی بہتری کے لیے آپ کی قیمتی رائے ہمارے لیے اہم اور اثاثہ ہے۔