ہر نبی کو چالیس برس میں نبوت ملنے کی تحقیق : | ما من نبی نبی الا بعد الاربعین

0

 ہر نبی کو چالیس برس میں نبوت ملنے کی تحقیق


سلسلۃ تخریج الاحادیث نمبر: ٨


ما من نبی نبی الا بعد الاربعین 


[ (علی حسن علی الحبی مکتوب بہذہ المراجع فی موسوعۃ الحادیث والاثار الضعیفۃ والموضوعۃ) الاسرار المرفوعۃ  (٤٢١) ، اسنی المطالب ( ۱۲۸۹ ) ، التمییز ( ۱٥۰ ) ، الفوائد الموضوعۃ ( ۹۸ ) ، الدرر المنتشرۃ ( ۳۰۹ ) ، الشفرۃ (٨٤٤ ) ، الغماز ( ۲۰۰ ) ، الکشف الالہی ( ۸۷۰ ) ، کشف الخفاء ( ۲۲۹۸ ) ، اللؤلؤ المرصوع ( ٤٩٠) ، مختصر المقاصد (٩١١ ) ، المصنوع ( ۲۹۱ ) ، المقاصد الحسنۃ (۹۸٥ ) ، النخبۃ ( ۳۰٤)]



ترجمہ ہر نبی کو چالیس برس کے بعد نبوت ملی ہے۔

 اس حدیث کا معنی و مفہوم بھی لوگوں میں مشہور و معروف ہے کہ: ہر نبی کو چالیس برس کے بعد نبوت  عطا کی گئی ہے، حالانکہ محدثین نے اس کو موضوع اور نفس الامر کے خلاف قرار دیا ہے،

 چنانچہ علامہ سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کو موضوع قرار دیا ہے۔ [ الدرر المتثرۃ ،رقم:٣٦]

حافظ سخاوی رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث کے متعلق علامہ ابن الجوزی رحمۃ اللہ علیہ کے حوالے سے لکھتے  ہیں:

انہ موضوع ،الان عیسی علیہ السلام نبی ورفع الی السماء وہو ابن ثلاثۃ وثلاثین سنۃ، فاشتراط الاربعین فی حق الانبیاء لیس بشیء [المقاصد الحسنۃ رقم،٩٨٥،ص ٣٧٨]

ترجمہ: یہ روایت من گھڑت ہے،کیونکہ سیدنا عیسی علیہ السلام کو تینتیس برس کی عمر میں آسمان پر اٹھا لیا گیا تھا،جب کہ اس واقعے سے پہلے ان کو نبوت مل چکی تھی۔لہذا انبیاء کرام کی نبوت کے لئے چالیس برس کو شرط قرار دینا درست نہیں ۔


اس طرح ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ  نے بھی اس حدیث کو موضوع قرار دیا ہے اور اس کی وجہ یہ ذکر کی ہے کہ یہ حدیث قرآن کریم کی ان آیات کے خلاف ہے جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ سیدنا یحییٰ علیہ السلام کو بچپن ہی میں نبوت مل گئی تھی۔ [ الموضوعات الکبیری: رقم ٨٠٨،ص: ٢٠٥]

جیسے حضرت یوسف علیہ السلام، حضرت یحیی علیہ السلام، حضرت عیسی علیہ السلام .


 قال انی عبد اللہ آتانی الکتاب وجعلنی نبیا ۔

 (سورۃ مریم ) 

قال جل جلالہ : اِذ قالَتِ المَلائِکَۃُ یا مَریَمُ اِنَّ اللَّہَ یُبَشِّرُکِ بِکَلِمَۃٍ مِنہُ اسمُہُ المَسیحُ عیسَی ابنُ مَریَمَ وَجیہًا فِی الدُّنیا وَالآخِرَۃِ وَمِنَ المُقَرَّبینَ۔  وَیُکَلِّمُ النّاسَ فِی المَہدِ وَکَہلًا وَمِنَ الصّالِحینَ۔ (ال عمران٤٥-٤٦)

 قال جل شانہ :  اِذ قالَ اللَّہُ یا عیسَی ابنَ مَریَمَ اذکُر نِعمَتی عَلَیکَ وَعَلی والِدَتِکَ اِذ اَیَّدتُکَ بِروحِ القُدُسِ تُکَلِّمُ النّاسَ فِی المَہدِ وَکَہلًا (المائدہ.١١٠)


 اشارت الآیتان الی نزولہ ، وذلک بذکرہما انہ یکلم الناس بالدعوۃ الی اللہ ، وہو کہل ، وقد رفع الی السماء وہو ابن . ثلاث وثلاثین سنۃ علی الصحیح ، والکہولۃ فوق ہذہ السن الکہل : من جاوز الثلاثین وخطہ الشیب . وقیل : من جاوز الاربعین 

روی الطبری فی تفسیرہ عن ابی زید قال : کلمہم عیسی علیہ السلام فی المہد ، وسیکلمہم اذا قتل الدجال ، وہو . یومئذ کھل

فالظاہر انہ رفع وہو ابن ثلاثین او ابن ثلاث وثلاثین علی الراجح

 وہو فی السماء الثانیۃ علی الراجح والصحیح ایضا کما فی . حادثۃ الاسراء والمعراج وغیرہا من السنۃ ، واللہ اعلم 

وستجد ایضا تحدید وتصریح سن رفعہ فی سیرتہ فبکتاب قصص الانبیاء لابن کثیر وغیرہ ممن سردوا الاحادیث والآثار . فی ہذا ، واللہ اعلم


 وقال الحسن البصری : کان عمر عیسی علیہ السلام یوم رفع اربعا وثلاثین سنۃ ، وفی الحدیث : « ان اہل الجنۃ یدخلونہا . « جردا مردا مکحلین ابناء ثلاث وثلاثین 


وفی الحدیث الآخر علی میلاد عیسی وحسن یوسف . وکذا قال حماد بن سلمۃ ، عن علی بن زید ، عن سعید بن المسیب انہ .قال : رفع عیسی وہو ابن ثلاث وثلاثین سنۃ


 فاما الحدیث الذی رواہ الحاکم فی ( مستدرکہ ) ویعقوب بن سفیان الفسوی فی (تاریخہ ) عن سعید بن ابی مریم ، عن نافع بن یزید ، عن عمارۃ بن غزیۃ ، عن محمد بن عبد اللہ بن عمرو بن عثمان ان امہ فاطمۃ بنت الحسین حدثتہ : ان عائشۃ کانت  تقول:


 اخبرتنی فاطمۃ ان رسول اللہ اخبرہا : انہ لم یکن نبی کان بعدہ نبی الا عاش الذی بعدہ نصف عمر الذی کان قبلہ ، وانہ اخبرنی ان عیسی بن مریم عاش عشرین ومائۃ سنۃ ، فلا ارانی الا ذاہب علی راس ستین . ہذا لفظ الفسوی فہو حدیث .غریب.


 قال الحافظ ابن عساکر : والصحیح ان عیسی لم یبلغ ہذا العمر ، وانما اراد بہ مدۃ مقامہ فی امتہ ، کما روی سفیان بن عیینۃ ، عن عمرو بن دینار ، عن یحیی بن جعدۃ قال : قالت فاطمۃ : قال لی رسول اللہ : ان عیسی بن مریم مکث فی بنی .اسرائیل اربعین سنۃ . وہذا منقطع


 وقال جریر ، والثوری ، عن الاعمش : ان ابراہیم مکث عیسی فی قومہ اربعین عاما . ویروی عن امیر المؤمنین علی : ان عیسی علیہ السلام رفع لیلۃ الثانی والعشرین من رمضان ، .وتلک اللیلۃ فی مثلہا توفی علی بعد طعنۃ بخمسۃ ایام البدایہ والنھایہ

چالیس سال میں نبوت سے سرفراز ہونے کی بات کلی نہیں ؛ بلکہ اکثری ہے ، سیدنا حضرت عیسی ویحین علیہما السلام کے متعلق قرآن کریم میں صراحت ہے کہ انہیں بچپن میں نبوت سے سرفراز کردیا گیا تھا ، حضرت یحین علیہ السلام کے بارے میں ارشاد ہے { وآتیتاۃ الحکم صبیا } مریم : ۱۲ ]

اور حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام نے پیدائش کے بعد جب پہلا کلام کیا اس میں یہ بھی فریاما : { وجعلنی نبیا } لہذا ان دونوں حضرات کی نبوت پر کوئی اشکال نہ ہونا. چاہئے ۔

وآتیناہ الحکم صبیا ، اعلم ان فی الحکم اقوالا : الاول : انہ الحکمۃ ،والثانی : انہ العقل . والثالث : انہ النبوۃ . فان اللہ تعالی احکم عقلہ فی صباہ واوحی الیہ ، وذلک لان اللہ تعالی بعث یحیی وعیسی علیہما السلام وہما صبیان ، لا کما بعث موسی ومحمدا علیہما السلام ، وقد بلغا الاشد . ( تفسیر رازی بیروت ( ۲۱۵ ، ۱۹۲ ٫ ۱۱ وقیل : النبوۃ وعلیہ کثیر . قالوا : اوتیہا وہو ابن سبع سنین ، ولم ینبا اکثر الانبیاء علیہم السلام قبل الاربعین . ( تفسیر روح المعانی ۱۰۵ ٫ ۹ ، معارف القرآن ۶ , ۲۴ ، جلالین شریف مع الہامش ۲۵۴ ) فقط واللہ تعالی اعلم.

 

جمع و ترتیب : ماجد ابن فاروق کشمیری


لولاک ما خلفت الافلاک : والی روایت کا حکم | اگر آپ نہ ہوتے، تو میں اس کائنات کی تخلیق نہیں کرتا : والی حدیث کی تحقیق

0

  السلام علیکم ورحمت وبرکاتہ

سلسلۂ تخریج الاحادیث نمبر 7


”لولاک ما خلفت  الافلاک“ 


ترجمہ : اللہ تعالی کا ارشاد ہے کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ ہوتے، تو میں اس کائنات کی تخلیق نہیں کرتا۔

اس حدیث کو حضرت شاہ عبد العزیز دہلوی رحمۃ اللہ علیہ اور حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی نے موضوع قرار دیا ہے۔ 

[بالترتیب دیکھیں:

فتاوی عزیزی: ١/١٢٢

امداد الفتاوی:٧٩/٤]

تاہم اکثر محدثین اس حدیث کو معنی ومفہوم  کو درست اور ثابت کر دیا ہے، جن میں ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ حافظ عجلونی رحمۃ اللہ علیہ اور علامہ قاوقجی رحمۃ اللہ علیہ شامل ہے۔

[بالترتیب دیکھیں:

(الموضوعات الکبیری،١٩٤،رقم ٧٥٥)

(کشف الخفاء، ج٢،رقم :٢١٢٣،ص:١٩١)

(اللؤلؤ المرصوع  رقم:٤٥٢،ص١٥٤)]

ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس مفہوم کی ایک مرفوع روایت بھی ذکر کی ہے،چنانچہ وہ لکھتے ہیں:

" قال الصغانی انہ موضوع ، کذا فی الخلاصۃ ، لکن معناہ صحیح و فقد روی الدیلمی عن ابن عباس مرفوعۃ ، اتانی جبریل فقال یا محمد : لولاک ما خلقت الجنۃ ولولاک ما خلقت النار “[الموضوعات الکبیری:ص١٩٤،رقم ٧٥٥]


ترجمہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے پاس حضرت جبرئیل علیہ السلام تشریف لائیے،چنانچہ انہوں نے کہا کہ ( اللہ تعالی نے فرمایا) اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اگر آپ نہ ہوتے تو جنت اور جہنم پیدا نہ کرتا۔

اسی طرح ایک اور روایت حافظ شہردار بن شیرویہ دیلمی اپنی کتاب مسند الفردوس“ میں اس طرح سے ذکر فرماتے ہیں:


      "عبید اللہ بن موسی القرشی، حدثنا الفضیل بن جعفر بن سلیمان، عن عبد الصمد بن علی بن عبد اللہ بن عباس، عن ابیہ، عن ابن عباس: یقول اللہ عز وجل: وعزتی وجلالی، لولاک ما خلقت الجنۃ، ولولاک ما خلقت الدنیا“


ترجمہ : اللہ رب العزت نے فرمایا: میری عزت کی قسم ! میرے جلال کی قسم! اگر آپ (محمد صلی اللہ علیہ وسلم نہ ہوتے تو نہ میں جنت کو پیدا کرتا نہ دنیا کو۔

زیر بحث روایت عبد اللہ بن عباس موقوفا یا مرفوعاً بسند عبد الصمد بن علی کا متن سابقہ تمام سندوں کی طرح علامہ عبد الحی لکھنوی اور علامہ محمد بن خلیل المشیشی کے اقوال کے تناظر میں من گھڑت ہے، اس لئے یہ روایت مذکورہ سند سے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب منسوب کرنا درست نہیں ہے۔

 حضرت عمر بن الخطاب (مرفوع طر یق)۔ 

② حضرت سلمان فارسی (مرفوع طریق)۔

③ حضرت عبد اللہ ابن عباس (موقوفا دو مختلف سندوں سے)۔ 


      زیر بحث روایت مذکورہ تمام طرق کے ساتھ شدید ضعیف یا من گھڑت ہے، اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب اس روایت کو منسوب کرنا درست نہیں ہے۔


تتمہ: ذیل میں ان علماء کے نام لکھے جارہے ہیں، جنہوں نے مختلف سندوں سے یا سند ذکر کیے بغیر مطلقا زیر بحث روایت کو من گھڑت کہا ہے۔


 ①. حافظ صغانی

 حافظ صغانی کے قول کو ان حضرات نے اکتفاء نقل کیا ہے:

ملا علی قاری، علامہ طاہر پٹنی، علامہ عجلونی،  علامہ شوکانی، 

② حافظ ابن الجوزی

③ حافظ ابن تیمیہ

④ حافظ ذہبی 

⑤ حافظ ابن حجر (اکتفاء علی قول الذہبی )

⑥ حافظ سیوطی (اکتفاء علی قول ابن الجوزی)

⑦ حافظ ابن عراق

⑧ علامہ محمد بن خلیل بن ابراہیم 

⑨ المشیشی الطرابلسی

⑩ علامہ عبد الحی لکھنوی

جمع و ترتیب : خادم الاسلام ماجد ابن فاروق کشمیری 


تخریج آخری 

ایک تیری چاہت ایک میری چاہت ہے، والی روایت کی تخریج و تحقیق

0

السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ

سلسلۂ تخریج الاحادیث نمبر 6

ایک تیری چاہت ہے ایک میری چاہت ہے 


اس روایت کے متعلق بہت سے دار الافتاء نے تحقیق  کی ہے ان میں سے کچھ فتویٰ ملاحظہ فرمائیں۔

دار الافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن۔


حدیثِ قدسی  اللہ تعالیٰ کے اس کلام کو کہتے ہیں جو قرآن کا حصہ نہ ہو اور رسول اللہ ﷺ نے اس کو نقل فرمایا ہو، چنانچہ کسی بات کو حدیثِ قدسی کہنا اس وقت درست ہوگا جب اس بات کا اللہ تعالیٰ کے کلام  کے طور پر رسول اللہ ﷺ سے منقول ہونا ثابت ہو۔


جہاں تک سوال میں مذکورہ  روایت کی بات ہے تو کتب حدیث میں مذکورہ روایت صرف ایک کتاب ’’نوادر الاصول‘‘ للحکیم الترمذی (المتوفی بین ۲۸۵۔۔۲۹۰ھ  او نحو ۳۲۰ھ) میں ملتی ہے، جس کے الفاظ یہ ہیں:


"حدثنا عمر بن ابی عمر قال: حدثنا عبد الوہاببن نافع عن مبارک بن فضالۃ عن الحسن قال: قال اللہ تعالی: (لداود علیہ السلام) یا داؤد! ترید وارید ویکون ما ارید، فاذا اردت ماارید کفیتک ما ترید، ویکون ما ارید، واذا اردت غیر ما ارید عنیتک فیما ترید ویکون ما ارید".


(نوادر الاصول فی احادیث الرسول، الاصل الخامس و العشرون و المائۃ فی ان سعادۃ ابن آدم الاستخارۃ و الرضیٰ بالقضاء  (2/ 107)ط:دار الجیل، بیروت)


ترجمہ:حضرت حسن بصری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے  حضرت داؤد علیہ السلام سے فرمایا : اے داؤد ایک تیری چاہت ہے اور ایک میری چاہت ہے، ہوگا تو وہی جو میری چاہت ہے، پس اگر تم اپنی چاہت کو میری چاہت کے تابع کر دو تو میں تمہاری چاہت  کے لیے بھی کافی ہو جاؤں گا (یعنی تمہاری چاہت بھی پوری کر دوں گا)،  اور بہرحال ہوگا تو وہی جو میں چاہوں گا، اور اگر تمہاری چاہت میری مرضی کے خلاف ہو تو میں تمہیں تمہاری چاہت میں تھکا دوں گا (یعنی پوری کوشش کے باوجود تمہاری چاہت پوری نہیں ہوگی) اور ہوگا تو پھر بھی وہی جو میری چاہت ہے۔


لیکن مذکورہ روایت کو حدیثِ قدسی تسلیم کرنے سے دو باتیں مانع ہیں، ایک یہ کہ  اس روایت میں مذکورہ فقرہ رسول اللہﷺسے نقل نہیں کیا گیا ہے، بلکہ حضرت حسن بصری رحمہ اللہ سے منقول ہے؛ اس لیے اس فقرہ کو حدیثِ قدسی نہیں مانا جاسکتا، مزید یہ کہ اس روایت کی سند بھی انتہائی کمزور ہے؛  کیوں کہ حضرت حسن  بصری رحمہ اللہ تک کی سند میں مذکور تینوں راوی متکلم فیہ ہیں۔ (عمر ابن ابی عمر اور عبد الوھاب بن نافع انتہائی درجہ کے ضعیف راوی ہیں، جب کہ مبارک ابن فضالہ مدلس ہیں اور یہ روایت ان سے  ’’عن‘‘ کے ساتھ منقول ہے)، لہٰذا اس روایت کا خود حضرت حسن بصری رحمہ اللہ سے ثابت ہونا بھی محل نظر ہے۔


          البتہ اس روایت کو معنیً درست قرار دیا جاسکتا ہے، کیوں  کہ  یہ روایت سند کے بغیر بعض شروحِ حدیث اور زہد و تصوف کی کتب میں مذکور ہے۔ جیسے:    


   ۱)قوت القلوب(۲؍۱۴ )لابی طالب مکی (المتوفیٰ:۳۸۶ھ)

 ۲)احیاء علوم الدین(۴؍۳۴۶ )للامام الغزالی  (المتوفیٰ:۵۰۵ھ)

۳)مرقاۃ المفاتیح شرح المشکوٰۃ (۴؍۱۵۶۶ )ملا علی القاری ( المتوفیٰ:۱۰۱۴ھ)


لیکن ان کتب میں مذکور ہونے کے باوجود روایت کے الفاظ کا ضعف ختم نہیں ہوگا، کیوں کہ ایک تو ان کتب میں یہ روایت سند کے بغیر مذکور ہے، دوسری بات یہ بھی ہے کہ یہ مصنفین حضرات  حکیم ترمذی رحمہ اللہ سے متاخر ہیں، اس لیے  ظاہر یہی ہے کہ انہوں نے حکیم ترمذی ہی کی روایت کو سند اور حوالہ کے بغیر نقل کیا ہے۔


          خلاصہ یہ ہوا کہ  چوں کہ اس روایت میں حدیثِ قدسی ہونے کی شرائط بھی مکمل نہیں ہیں، اور سند بھی انتہائی درجے کی ضعیف ہے،اس لیے اس روایت کو حدیثِ قدسی کہنا اور حدیثِ قدسی کے عنوان سے آگے نقل کرنا درست نہیں ہے، البتہ مذکورہ مشائخؒ  کا اس عبارت کو ذکر کرنا، اس کے معنی اور مضمون کے درست ہونے کی علامت ہے، چنانچہ اس عبارت یا جملوں کو انہی حضرات کی طرف منسوب کرکے ان کے حوالہ سے ذکر کیا جائے تو اس میں حرج نہیں ، لیکن حدیثِ قدسی کہہ کر نقل کرنا جائز نہیں۔


منہج النقد فی علوم الحدیث (ص: 323):


"الحدیث القدسی: ہو ما اضیف الی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واسندہ الی ربہ عز وجل. مثل: "قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واسندہ الی ربہ عز وجل، مثل: "قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فیما یروی عن ربہ"، او"قال اللہ تعالی فیما رواہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم". ویقال لہ ایضاً: الحدیث الالہی، او الربانی.


ومناسبۃ تسمیتہ "قدسیاً" ہی التکریم لہذہ الاحادیث من حیث اضافتہا الی اللہ تعالی، کما انہا واردۃ فی تقدیس الذات الالہیۃ، قلما تتعرض لاحکام الحلال والحرام، انما ہی من علوم الروح فی الحق سبحانہ وتعالی".


 حاشیۃ نوادر الاصول ( ص:۳۴۶ )


(ایک حدیث  قدسی مشہور ہے:  "ایک میری چاہت ہے، ایک تیری چاہت ہے، ہوگا وہی جو میری چاہت ہے، پس اگر تو  نے خود کو سپرد کردیا  اس کے جو میری چاہت ہے تو میں تجھے دوں گا وہ جو تیری چاہت ہے، اور اگر تو نے مخالفت کی اس کی جو میری چاہت ہے تو میں تھکا دوں گا تجھے اس میں جو تیری چاہت ہے، پھر بھی ہوگا وہی جو میری چاہت ہے"۔ کیا یہ حدیث مستند ہے؟


جواب

یہ روایت حکیم ترمذی رحمہ اللہ  [ یہاں پر یہ بات واضح ہونی چاہیے ۔حکیم ترمذی کا نام سن کر یا پڑھ کر بعض حضرات کو اس سے شبہ لگ جاتا ہوگا کہ اس سے مراد مشہور محدث امام ترمذی ہے جن کی کتاب ”الجامع السنن“ پڑھی پڑھائی جاتی ہے لیکن واضح رہے کہ یہ دونوں شخصیات الگ الگ ہیں مشہور محدث کا نام ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ الترمذی ہے اور جن حکیم ترمذی کا نام ابو عبد اللہ محمد بن علی بن الحسن الحکیم الترمذی ہے ان کا انتقال سن: ۲۸۵ھ اور ۲۹۰ھ کے درمیان ہوا ہے۔(ملاحظہ ہو:لسان المیزان ۷/۳۸۷ ] کی کتاب "نوادر الاصول" میں درج ہے، لیکن محدثین نے اسے موضوع (من گھڑت) قرار دیا ہے، لہذا اس کو حدیث کی حیثیت سے بیان کرنا درست نہیں۔ فقط  واللہ اعلم )


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن

فتوی نمبر :143811200008

جمع و ترتیب : خادم الاسلام ماجد ابن فاروق کشمیری 

     اگلا سلسلۂ تخریج الاحادیث نمبر 7

اللہ تعالی کا اپنے بندوں سے ستر ماؤں سے زیادہ محبت کرتے پیں۔

0

السلام علیکم ورحمت وبرکاتہ

سلسلۃ تخریج الاحادیث نمبر ٥

اللہ تعالی کا اپنے بندوں سے ستر ماؤں سے زیادہ محبت کرنا۔

 اللہ تعالی کی شفقت و رحمت بیان کرتے ہوئے عوماً یہ بات بطور حدیث بیان کی جاتی ہے کہ اللہ تعالی اپنے بندوں سے ستر ماؤں زیادہ محبت کرتے ہیں۔

 اگرچہ اپنے معنی اور مفہوم کے اعتبار سے یہ درست ہے تاہم یہ بات کسی حدیث سے ثابت نہیں


اللہ تعالی کی رحمت اور اپنے بندوں سے محبت ہر چیز سے زیادہ ہے۔ چنانچہ ارشاد باری تعالی ہے : وَرَحمَتی وَسِعَت کُلَّ شَیءٍ [الاعراف ١٥٦]

اسی طرح صحیح مسلم حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی ایک روایت ہے جس حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

حدثنا محمد بن عبد اللہ بن نمیر حدثنا ابی حدثنا عبد الملک عن عطاء عن ابی ہریرۃ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال ان للہ مائۃ رحمۃ انزل منہا رحمۃ واحدۃ بین الجن والانس والبہائم والہوام فبہا یتعاطفون وبہا یتراحمون وبہا تعطف الوحش علی ولدہا واخر اللہ تسعا وتسعین رحمۃ یرحم بہا عبادہ یوم القیامۃ.

 [ صحیح مسلم، باب فی سعۃ رحمۃ اللہ تعالی ،رقم الحدیث ٢٧٥٤]

ترجمہ:اللہ تعالیٰ کی سو رحمتیں ہیں ، ان میں سے ایک رحمت اس نے جن و انس ، حیوانات اور حشرات الارض کے درمیان نازل فرما دی ، اسی ( ایک حصے کے ذریعے ) سے وہ ایک دوسرے پر شفقت کرتے ہیں ، آپس میں رحمت کا برتاؤ کرتے ہیں ، اسی سے وحشی جانور اپنے بچوں پر شفقت کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ننانوے رحمتیں مؤخر کر کے رکھ لی ہیں ، ان سے قیامت کے دن اپنے بندوں پر رحم فرمائے گا ۔


خلاصہ یہ ہیں اللہ تعالی کی رحمت اور اپنے بندوں سے محبت کی کوئی انتہا نہیں ہے اور اللہ تعالی کی اپنے بندوں سے اور ماؤں اپنی اولادو سے محبت میں کوئی تناسب نہیں ہے لہذا اس بات کو بطور حدیث بیان کرنا درست نہیں۔


جمع و ترتیب : خادم الاسلام ماجد ابن فاروق کشمیری 

اگلی تخریخِ حدیث 

ما وسعنی ارضی ولا سمائی ولکن و سعنی قلب عبدی المؤمن کی تخریج

0

 السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ

 سلسلۃ تخریج الاحادیث نمبر: ٤

ما وسعنی ارضی ولا سمائی ولکن و سعنی  قلب عبدی المؤمن.

اس روایت کے بارے میں ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ ،زرکشی رحمۃ اللہ علیہ کے حوالے سے لکھتے ہیں:

وضعتہ الملاحدہ۔

یعنی یہ ملحدین کی گھڑی ہوئی  روایت ہے۔

 [ بالترتیب دیکھیں:

الموضوعات الکبیری:رقم ٨١٠، ص٢٠٥

المصنوع فی معرفۃ الحدیث الموضوع :١٦٤،ص ٢٩٣]


علامہ سخاوی رحمۃ اللہ علیہ یہ حدیث عوام کے سامنے علی بن وفا نامی شخص اپنی اغراض کے حصول اور باطل مقاصد کی تکمیل کے لیے روایت کرتا تھا اور جب وہ وجد میں آکر رقص شروع کرتا تو اپنے دل کی طرف اشارہ کر کے کہتا کہ اپنے رب کے گھر کا طواف کرو۔

[القاصد الحسنہ:٣٨،رقم ٩٩] 


تاہم علامہ سخاوی فرماتے ہیں کہ اس مفہوم سے ملتی جلتی یہ روایت مجم طبرانی میں موجود ہے ۔

ان اللہ آنیۃ من اہل الارض وآنیۃ ربکم قلوب عبادہ الصالحین واحبہا الیہ الینہا وارقہا [المقاصد الحسنہ:ص٣٨،رقم ٩٩]

ترجمہ : بلا شبہ زمین میں اللہ تعالی کے کچھ ٹھکانے ہیں ۔ اور اللہ تعالی کے یہ ٹھکانے اس کے نیک بندوں کے دل ہیں ۔ اور ان میں بھی اللہ تعالی کو زیادہ پسند ، وہ دل ہیں جو زیادہ نرم اور رقیق ہیں ۔

 الحامل یہ مفہوم تو ثابت ہے کہ دل اللہ تعالی کا مسکن ہے ، تاہم مندرجہ بالا الفاظ جو عوام میں معروف ہیں وہ من گھٹرت اور موضوع ہیں۔


جمع و ترتیب : خادم الاسلام ماجد ابن فاروق کشمیری 

    اگلا سلسلۂ تخریج 5

میں ایک چھپا ہوا خزانہ تھا بس میں نے چاہا کی اپنا تعارف کرواؤں تو میں نے مخلوقات پیدا کیں: کی تخریج

0

 السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ

 سلسلۃ تخریج الاحادیث نمبر: ٣

کنت کنزا محمیاً فاجیت ان اعرف فحلقت خلقا.

ترجمہ: (اللہ تعالی کا ارشاد ہے) میں ایک چھپا ہوا خزانہ تھا بس میں نے چاہا کی اپنا تعارف کرواؤں تو میں نے مخلوقات پیدا کیں۔

یہ حدیث شہرہ آفاق مفسر قرآن علامہ آلوسی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی تفسیر روح المعانی میں آیت ( وَما خَلَقتُ الجِنَّ وَالاِنسَ اِلّا لِیَعبُدونِ ) [51:56] - الذاریات.

کے تحت ذکر کی ہے اور اس روایت کو ائمہ حدیث حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ، امام زرکشی رحمۃ اللہ علیہ اور حافظ ابنِ تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ کے حوالے سے موضوع اور من گھڑت قرار دیا ہے۔ چناچہ وہ لکھتے ہیں:

وقد جاء ” کنت کنزا مخفیا فاحببت ان اعرف فخلقت الخلق لاعرف ذکرہ بہذا اللفظ سعد الدین سعید الفرغانی فی منتہی المدارک ... وتعقبہ الحفاظ فقال ابن تیمیہ انہ لیس من کلام النبی ﷺ ولا یعرف لہ سند صحیح ولا ضعیف ، وکذا قال الزرکشی والحافظ ابن حجر وغیرہما ۔[ روح المعانی ٢٧/٢١]

علامہ آلوسی رحمۃ اللہ علیہ مزید لکھتے ہیں کہ یہ روایت جن صوفیاء کرام نے نقل کی ہے، وہ خود بھی اس کے معترف ہیں کہ یہ روایت آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول نہیں ہے ، بلکہ یہ ان کا کشف ہے [ روح المعانی ٢٧/٢١] اس کے علاوہ دیگر ائمہ حدیث مثلاً: ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ ، حافظ سخاوی رحمۃ اللہ علیہ ، علامہ ابن عراق  رحمۃ اللہ علیہ اور حافظ عجلونی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اس حدیث کو موضوع اور من گھڑت قرار دیا ہے[ بالترتیب دیکھیں:

المصنوع فی معرفۃ الحدیث الموضوع رقم ٢٣٢،ص ١٤١.

القاصد الحسنہ ص ٣٣٤،رقم ٨٣٨.

تنریہ السریع المرفوعہ ١/١٤٨.

کشف الخفاء٢/١٥٥،رقم ٢٠١٦.]

مرعی بن یوسف بن ابی بکر الکرمی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:

لا اصل لہ۔ [الفوائد الموضوعۃ فی الاحادیث الموضوعۃ ١٠٢]


محمد ناصر الدین الالبانی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں۔

لا اصلہ اتفاقا۔

[سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ والموضوعۃ واثرہا السیء فی الامۃ: ٦٠٢٣)


جمع و ترتیب : ماجد ابن فاروق  کشمیری غفرلہ

من عرف نفسہ فقد عرف ربہ : جس نے اپنے نفس کو پہچانا اس نے اپنے رب کو پہچانا ۔

0

السلام علیکم ورحمت وبرکاتہ

سلسلہ تخریج الاحادیث نمبر_٢

من عرف نفسہ فقد عرف ربہ


ترجمہ: جس نے اپنے نفس کو پہچانا اس نے اپنے رب کو پہچانا ۔


اس روایت کے بارے میں حافظ سخاوی رحمہ اللہ علیہ ،ابن السمعانی رحمہ اللہ علیہ کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ یہ روایت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث نہیں ہے ۔بلکہ یہ درحقیقت یحییٰ بن معاذرازی کا قول ہے۔[ المقصد الحسنہ رقم:١١٤٩،ص ٤٦٦]


اسی طرح مشہور محدث ملا علی قاری رحمہ اللہ عليہ،علامہ نووی رحمۃ اللہ علیہ کے حوالے سے لکھتے ہیں۔


انه ليس بثابت -يعني النبي صلى الله عليه وسلم [الموضوعات الكبيري  ص ٢٣٨،رقم ٩٣٧]


یعنی یہ روایت نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ہے۔


اس کے علاوہ دیگر محدثین مثلاً علامہ عجلونی رحمہ اللہ علیہ، علامہ جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ علیہ  اور شیخ القاو قجی رحمہ اللہ علیہ نے بھی اس حدیث کو موضوع قرار دیا ہے۔


[بالترتیب دیکھیں۔
کشف الحفاء جلد:٢ رقم ٢٥٣٢،ص ٣٠٩
لترربب الراوی ھاد ٢/١٧٥
اللؤالؤالمرصوع، رقم ٧٥٩٤ ص ١٩١]


يحيى بن شرف الدين النووي المحقق رحمة الله عليه لکھتے:۔

ليس هو بثابت ( المنثورات وعيون المسائل المهمات: ٢٨٦)

محمد بن الحسن رحمة الله عليه( أبو الفضائل الصغاني، الفقيه الحنفي الشيخ الإمام العلامة المحدث إمام اللغة) لکھتے ہیں یہ حدیث موضوع ہے۔[موضوعات الصغاني ٣٥ ]

المحدث الزرقاني رحمة الله عليه (محمد بن عبدالباقي بن يوسف، أبو عبدالله الزرقاني المالكي) لکھتے ہیں:-


لیس بحدیث یعنی یہ حدیث نہیں ہے۔[مختصر المقاصد الحسنة في بيان الأحاديث المشتهرة على الألسنة ١٠٥٢)


محمد ناصر الدين الألباني رحمة الله عليه لکھتے ہیں:-
لا اصل له


[سلسلة الأحاديث الضعيفة والموضوعة وأثرها السيء في الأمة: ٦٦]

لکتمیل بحث 

القول الأشبہ فی حدیث من عرف نفسہ فقد عرف ربہ للسیوطی


جمع و ترتیب :خادم الاسلام ماجد ابن فاروق غفرلہ

اگلا سلسلۂ تخریج 

© 2023 جملہ حقوق بحق | اسلامی زندگی | محفوظ ہیں