تقویمِ ہند
ہجری و عیسوی تاریخیں — ہندوستان کے مقامی وقت کے مطابق
آجہجری تاریخ مقامی رؤیتِ ہلال کے مطابق ایک دن آگے یا پیچھے ہو سکتی ہے۔
ہجری تاریخ ہندوستان کے مقامی وقت (Asia/Kolkata) کے ساتھ ایک روزہ مقامی فرق کو ترجیح دیتی ہے؛ مقامی شرعی رؤیت کی صورت میں تاریخ ±۱ دن مختلف ہو سکتی ہے۔

سیرة النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مختصر خلاصہ 3

0

 سیرة النبی ﷺ کا مختصر خلاصہ 


آقائے مدنی آنحضرت ﷺ کی حیات مبارکہ کو مؤرخین نے تین ادوار میں تقسیم کیا ہے۔ پہلا دور پیدائش سے نبوت تک، دوسرا دور دعوی نبوت سے ہجرت تک اور تیسرا دور ہجرت سے وصال تک۔


قسط نمبر 3


بعثت سے ہجرت تک


بعثت کے پہلے دوسرے اور تیسرے سال: غار حرا میں آپ ﷺ پر پہلی وحی نازل ہوئی۔

حضرت خدیجہ آپ کو ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئی،ورقہ بن نوفل نے نبوت کی خبر دی،اس وقت آپ کی عمر مبارک 40 برس تھی۔


دعوت اسلام کے لیے پہلے ہی روز حضرت خدیجہ،حضرت ابوبکر صدیق،حضرت علی اور حضرت زید بن حارث رضی اللہ عنہم اجمعین آپ ﷺ پر ایمان لائے۔

حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کی ولادت ہوئی۔


بعثت کے چوتھے سوال: فَاصدَع بِما تُؤمَرُ وَأَعرِض عَنِ المُشرِكينَ ( الحجر ٩٤)

اس آیت کے نازل ہونے کے بعد آپ ﷺ نے علانیہ اسلام کی دعوت شروع کردی


بعثت کے پانچویں سال: حبشہ کے جانی پہلی ہجرت ہوئی، جس نے ١١ مرد اور ٤ عورتیں تھیں۔

حبشہ کی جانب دوسری ہجرت ہوئی،جس میں ٨٢ مرد اور ١٨ عورتيں تھیں۔

قسط نمبر 2

قسط نمبر 1

بے دینی کا ایک عبرت انگیز واقعہ | اولادوں کی تربیت کیوں ضروری ہے؟

0

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
بے دینی کا ایک عبرت انگیز واقعہ


بے دین اولاد کو باپ کی عزت بھی نہیں کرتی ۔ ناظم آباد میں میرے ایک دوست نے اپنی زمینیں بیچ بیچ کر اور بہت مصیبت اٹھا کر اپنے بیٹے کو امریکا سے بہت بڑی ڈگری دلوائی اور اس لالچ میں اس نے بیوی کے انتقال کے بعد دوسری شادی بھی نہیں کی کیونکہ سوچا کہ اگر شادی ہو جائے گی تو لڑکے کی تعلیم میں خلل آجائے گا، جب وہ لڑکا پڑھ کر بہت بڑی ڈگری لے کر آیا تو اس کی شادی کر دی ۔ ایک دن میں نے خیریت معلوم کرنے کے لیے ٹیلی فون کیا میں نے کہا کہ کیا کر رہے ہو؟ انہوں نے کہا کہ چولہا جھونک رہا ہوں روٹی پکار ہا ہوں ۔
میں نے کہا: بہو کہاں ہے؟ کہا: وہ دونوں مجھ سے لڑ کر بھاگ گئے۔
مرے تھے جن کے لئے وہ رہے وضو کرتے
مری    نماز   جنازہ    پڑھائی    غیروں    نے
 
بیٹا اور بہو دونوں لڑ کر چلے گئے اور بوڑھا باپ آخر عمر میں چولسے میں لکڑیاں جھونک رہا ہے اور روٹی پکار ہا ہے۔

اولاد کو دین نہ سکھانے کا وبال ص :(۲۲)

عارف باللہ حضرت مولاناشاہ حکیم محد اختر صاحب رحمہ اللہ

سیرة النبی ﷺ کا مختصر خلاصہ 2

2

 سیرة النبی ﷺ کا مختصر خلاصہ 


آقائے مدنی آنحضرت ﷺ کی حیات مبارکہ کو مؤرخین نے تین ادوار میں تقسیم کیا ہے۔ پہلا دور پیدائش سے نبوت تک، دوسرا دور دعوی نبوت سے ہجرت تک اور تیسرا دور ہجرت سے وصال تک۔


قسط نمبر 2


پیدائش سے بعثت تک


 ولادت کے بارویں سال: اپنے چچا ابو طالب کے ہمراہ ملک شام کا پہلا تجارتی سفر فرمایا۔

سفر میں آپ ﷺ مال کو بحیر اراہب نے دیکھا، نبوت کی پیشینگوئی کی کہ یہ سید العالمین ہیں ،رب العالمین کے رسول ہیں جن کو اللہ نے تمام عالم کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔


ولادت کے بیسویں سال: آپ ﷺ نے اپنے چچا کیساتھ حرب فجار میں شرکت کی مگر قتال نہیں کیا۔

آپ ﷺ نے اپنے چچاؤں کیساتھ حرب فجار کے چار ماہ بعد حلف الفضول میں شریک ہوئے۔


ولادت کے پچیسویں سال: حضرت خدیجہ کا مال لے کر آپ ﷺ نے شام کا سفر فرمایا۔ آپ ﷺ کا یہ دو سرا ملک شام کا سفر تھا۔


آپ ﷺ کا حضرت خدیجہ سے نکاح ہوا، آپ کی عمر ۴۰ سال تھی۔


ولادت کے اڑتیسویں سال: نبوت کے ابتدائی مراحل کا آغاز ہوا، آپ ﷺ نے غار حرا میں عبادت فرمانے لگے ۔ سچے خوابوں کے ذریعے نبوت کی بشارت ہوئی۔

اگلی قسط

پچھلی قسظ

سیرۃ النبی ﷺ کا مختصر خلاصہ 1

0

 سیرۃ النبیﷺ کا مختصر خلاصہ 


قسط نمبر 1


پیدائش سے بعثت تک

 آقائے مدنی آنحضرت ﷺ کی حیات مبارکہ کو مؤرخین نے تین ادوار میں تقسیم کیا ہے ۔ پہلا دور پیدائش سے نبوت تک، دوسر دور دعوی نبوت سے ہجرت تک اور تیسرا دور ہجرت سے وصال تک۔

ولادت والے سال: حضرت محمد ﷺ ان کے والد ماجد عبد اللہ بن عبد المطلب کا آپ کی پیدائش سے قبل انتقال ہو گیا ، وفات کے وقت ان کی عمر تقریباً ۲۵ برس تھی۔

(اراق الاول عام الفیل بمطابق ۱۳\اپریل ۵۷۱ء فجر کے وقت آپ کی ولادت ہوئی)

آپ کے دادا نے ساتویں دن عقیقہ کیا اور آپ کا نام محمد ﷺ کھا۔

ولادت کے چوتھے سال: قبیلہ بنی سعد کے محلے میں پہلا واقعہ شق صدر

ولادت کےچھٹے سال: آپ ﷺ نے اپنی والدہ ماجدہ حضرت آمنہ کیساتھ مدینہ کا پہلا سفر فرمایا۔
مدینہ سے واپسی پر مکہ ومدینہ کے درمیان ایک جگہ ابواء پر آپ کی والدہ کی وفات ہوئی۔

والدہ کی وفات کے بعد آپ کے دادا عبد المطلب نے آپ کی پرورش کی ۔

ولادت کے آٹھویں سال: آپ ﷺ کے دادا عبد المطلب کی وفات ہوئی۔

دادا کی وفات کے بعد اپنے چچا ابو طالب کی کفالت میں آئے۔

جب رشتہ ٹوٹتا ہے! | رشتے ٹوٹنے کی وجوہات اور ان سے کیسے بچا جائے

0




        ہمارے معاشرے میں مہینوں اور سالوں سے طے شدہ رشتوں کا اچانک ٹوٹ جانا عام بات ہے، رشتہ طے ہوجانے کے بعد نکاح کرنے میں تاخیر کی جاتی ہے، یہاں تک کہ مہینوں اور سالوں گزر جاتے ہیں، اس دوران دونوں خاندانوں کے درمیان باہمی ملاقات اور تحائف کے تبادلے کا سلسلہ جاری رہتا ہے، پھر اچانک کوئی غلط فہمی ہوتی ہے، یا کوئی بدخواہ ایسی بات کا انکشاف کرتا ہے، جس کے بعد آن کی آن میں طے شدہ رشتے ختم ہوجاتے ہیں، اور ایسی بدگمانی پیدا ہوتی ہے کہ دیے گئے تحائف تک لوٹا دیے جاتے ہیں۔

    پھر جب معاشرے میں بات پھیلتی ہے، تو دونوں ہی خاندانوں کی جانب سے صفائی اور وضاحت کی خاطر ہر صحیح اور غلط بات بیان کی جاتی ہے، اس کے بعد از سر نو رشتے کی تلاش کا عمل شروع ہوتا ہے، جو پہلے کی بہ نسبت زیادہ مشکل ثابت ہوتا ہے۔

    اس صورتحال کے پیش آنے کے مختلف اسباب ہوسکتے ہیں

    لڑکا یا لڑکی کی عمر، بیماری اور عیب کو چھپالینا ، جسے معاشرے میں معیوب سمجھا جاتا ہے، بعد میں کسی ذریعے سے جوں ہی فریق ثانی کو مذکورہ باتوں کا علم ہوتا ہے، وہ خود کو فریب زدہ محسوس کرتے ہیں اور ان کا اعتماد ختم ہو جاتا ہے، چنانچہ وہ رشتہ ختم کر لینا ہی بہتر سمجھتے ہیں۔ اس لئے ایسی باتوں کی اچھے انداز میں پہلے ہی وضاحت کردینا چاہیے۔

     کسی تیسرے فرد کا عاقدین یا ان کے اہل خانہ کو ایک دوسرے کے متعلق بد گمان کرنا، اور ایک فریق کے متعلق دوسرے فریق کے سامنے ایسی منفی باتیں کرنا کہ وہ خوفزدہ، پریشان یا مایوس ہوجائے اور رشتہ ختم کر دینے پر مجبور ہوجائے۔ بعض لوگوں کا یہ مشغلہ ہوتا ہے کہ وہ جہاں جاتے ہیں، کسی نہ کسی کی برائی ضرور بیان کرتے ہیں، کہاوت مشہور ہے: رشتہ بنانے والا ایک ہوتا ہے اور بگاڑنے والے بے شمار۔ اہلکار حضرات کا کہنا ہے کہ رشتوں کے طےہونے میں سب سے بڑی رکاوٹ ایسے کمینہ خصلت افراد کا یہ گھٹیا عمل ہے۔اللہ کی لعنت ہو ایسے جھوٹے اور کمینہ لوگوں پر یہ لوگ ہمارے دشمن بھی ہوسکتے ہیں اور رشتے دار اور پڑوسی بھی!اس لئے لڑکا اور لڑکی کے سرپرستوں کو چاہیے کہ رشتہ طے کرنے سے قبل اچھی طرح ایک دوسرے کے متعلق اطمینان کرلیں اور جب پوری طرح دل مطمئن ہوجائے اور ایک دوسرے پر اعتماد قائم ہوجائے، اس کے بعد ہی رشتے کی گفتگو کو حتمی شکل دیں۔اب اس کے بعد اپنے اعتماد کو برقرار رکھیں اور کسی بھی شخص کی بات سن کر اپنے اعتماد کو کمزور نہ ہونے دیں۔ اگر کسی کی بات میں حقیقت اور سچائی محسوس ہو تو حکمت کے ساتھ اس کی تحقیق کرلیں، تاکہ معلوم ہوسکےکہ بات کہنے والا ہمارا خیرخواہ ہے یا بد خواہ ؟

    افسوس کہ لوگوں کا مزاج یہ بن چکا ہے کہ اگر چار افراد کسی کی تعریف کریں تو ان کا دل مطمئن نہیں ہوتا، لیکن اگر ایک شخص بھی کسی کا عیب بیان کردے تو فورا اس پر یقین کر لیتے ہیں ۔یہ دراصل انسان کی منفی سوچ کا نتیجہ ہے ۔یاد رکھیں! ہر انسان کے دوست کے ساتھ کچھ دشمن بھی ہوتے ہیں، کسی شخص کو معاشرے کے سو فیصد افراد اچھا کہیں، یہ اعزاز تو خدا کے نیک اور برگزیدہ بندوں کو بھی نہیں مل سکا۔ بقول شاعر ؂

غالب برا نہ مان جو واعظ برا کہے

ایسا بھی کوئی ہے کہ سب اچھا کہیں جسے

    ایسے واقعات سے بچنے کا بہترین راستہ یہی ہے کہ رشتہ طے کرنے سے قبل مناسب طریقہ پر تحقیق کرلی جائے اور جب اطمینان ہوجائے تو رشتہ طے ہو جانے کے بعد نکاح میں اتنی تاخیر ہی نہ کی جائے کہ کسی کو بد خواہی اور شرارت کا موقع مل سکے، یوں بھی نکاح میں عجلت کا حکم دیا گیا ہے، جس میں بہت ساری حکمت و مصلحت پوشیدہ ہے۔ 

سوشل میڈیا ڈیسک آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

ڈریم 11 میں پیسے لگانا کیسا ہے ڈریم 11 کھیلنا جائز ہے ڈریم الیون حرام کیوں ہے ؟

0

  ڈریم 11 کی تاریخ۔

History of Dream 11




ڈریم الیون (11) ایک ہندوستانی خیالی ( فنتاسی) کھیلوں کا چبوترا (پلیٹ فارم) ہے۔ جس کا آغاز ورون پرموڈ داگا، بھاوت راجیش شیتھ اور ہرش آنند کمار جین، جو ان کے کاغذی شراکت دار ( Partner's) بھی ہیں۔ آؤٹ لک (OutLok) کے مطابق، ہرش جین کا  کہنا ہے کہ ہمارے ذہن میں یہ خیال 2008 کے آئی پی ایل (IPL) سے آیا۔

     اس کے دو بڑے مرکزی دفتر (Headquarters) ممبئی اور مہاراشٹر انڈیا میں ہے۔ ۲۰۱۲ میں یہ کمپنی عوامی متعارف ہوں گی۔ اوٹ لُک میں اشتہار آیا تھا کہ ۲۰۱۴ میں کمپنی کی طرف سے اطلاع دی گئی، ہمارے ایک ملین صارفین (Users) ہے جو کہ ۲۰۱۸ میں 45 میلن تک پہنچ گئے۔

     ۲۰۱۶ میں انڈین ہائی کورٹ میں کمپنی کے خلاف مقدمہ درج ہوا، کوٹ نے: آندھرا پردیش، اڑیسہ تلنگانہ وغیرہ میں پابندی عائد کی پھر سپریم کورٹ آف انڈیا نے Gambling Law کے موجودگی میں بھی اس کو جوابازی میں شریک نہیں کیا بلکہ یوں لکھا کہ کی یہ ہنر پر موقوف ہے۔ کیا یہ واقعی جوا نھیں ہے؟ اس تفصیل آگے آرہی ہے۔ مگر Google نے Google Play Store پر ڈریم 11 کی ایپ موجودگی کی اجازت نہیں دی۔


ڈریم 11 کمپنی کی انکم کتنی ہے۔

Income of Dream 11

اس کی انکم کی بات کرے تو عام انسان یہ تصور نہیں کر سکتا ہے کہ صرف ایک ایپ سے کمپنی 750 انکم کرتی ہے۔ کیسے؟  اس ایپ میں مقابلے contests ہوتے ہے تمثیلاً ایک مقابلے کی داخل فیس (Entry Fee) 49 روپے ہے اور اس مقابلے میں 1360544 صارفین داخل ہوسکتے ہے۔ اس مقابلے کی انعامات 5 لاکھ ہوتے ہے۔ اگر 49×1360544 کیا جائے تو ٹوٹل66666656 کرول ہوگا۔ اگر مان بھی جائے گی 5 لاکھ تقسیم کیا بھی گیا پھر بھی 66666656  بچ جاتے ہیں جب کہ ایسا ہوتا نہیں ہے کبھی کبھار اس سے زیادہ بھی بچت ہوتی ہوگی۔

  یہ تو صرف ایک مقابلے کی بات ہوتی ہیں اس طرح نہ جانے کتنی مقابلے ہوتے ہیں اور کتنی رقم کمپنی والوں کے پاس چلی جاتی ہے۔ ایک سروے کے مطابق ڈریم الیون نے FY19 میں 736Cr ریونیو جنریٹ کیا تھا جبکہ سال ۲۰۱۹ میں اس کے اتنے صارفین نہیں تھے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں ابھی اس کے آٹھ سو ملین صارفین ہیں ابھی یہ کتنی انکم کرتی ہوگی۔ اس طرح ایک اور مقابلے جو 35 کا ہے جس میں 2285714 صارفین داخل ہوسکتے ہے۔  

ڈریم الیون اسلام میں حرام کیوں ہے۔
 Why Dream 11 is prohibited in Islam


آدمی ہمیشہ اپنا فائدہ دیکھتا ہے جب کہ انسان کی فطرت انسانیت کا فائدہ دیکھتی ہے۔ چونکہ دینِ اسلام دینِ فطرت ہیں۔ اس لئے اس کا ہر عمل، حکم فطرت پر مبنی ہوتا ہے اور فطرت کا تقاضا ہے کہ وہ انسانیت کو فائدہ پہنچاتی ہے۔ اگر آپ نے غور و فکر کے ساتھ اوپر کی تحریر کا مطالعہ کیا ہوگا۔ آپ ایک بات ضرور سمجھ گئے ہونگے کہ حرام کام سے ہی مزید حرام کاموں کا خیال آتا ہے۔ جیسے  ہرش جین کو آئی پی ایل(IPL) کی وجہ سے اس ڈریم الیون کا خیال آیا تھا۔ ڈریم الیون میں مندرجہ ذیل خرابیاں پائی جاتی ہیں جس کی وجہ سے اس کو حرام قرار دیا گیا تھا۔ 

1۔ یہ جوے ایک تبدیلی شکل ہے: 

عام طور پر اس میں کرکٹ مقابلے ہوتے ہیں کرکٹ کو چونکہ ایک جوا ہی کی شکل کہا جاتا ہے۔ دونوں طرف کا پیسا لگایا جاتا ہے ہار جیت کا احتمال ہوتا ہے۔ اس میں تو اس سے زیادہ بھی احتمال ہوتا ہے کرکٹ میں تو صرف دو ٹیموں میں احتمال ہوتا ہے جبکہ یہاں پر دو ٹیمیں میں چنے گئے افرادوں کی کارکردگی پر احتمال ہوتا ہے۔ اس لے قمار کی شرط پائی جاتی ہے جس سے یہ حرم ہو جاتی ہے۔

2۔ استحصال سے پیسہ کمایا جاتا ہے: 

کمپنی جو انعامات رکھتی ہیں وہ مقابلے کی داخل فیس سے جمع کرتی ہے جو کہ دوسروں کی رقم ہوتی ہے، ایک شخص کو یہ رقم صرف بغیر محنت، صرف احتمال کی بناء پر ملتی ہے وہی استحصال ہے جو کہ کلام الٰہی قرآنِ مجید نے منع فرمایا ہے۔ ولا تاکلوا امواکم بینکم بالباطل: استحصال سے آپس میں مال مت کھاؤ۔ 

3۔ اسلامی تجارت کے قوانین کے خلاف:

اسلام میں پیسے کا حکم ہے کہ یہ مارکیٹ میں گردش کرتا رہے نہ کہ کسی ایک شخص کے پاس پیسہ جمع ہو جائیں۔ اوپر کی تفصیلات سے ہمیں یہ بات پتا چلتی پیسہ (ناجائز طریقہ سے) تقسیم بہت کم ہوتا ہے اور کمپنی کے پاس زیادہ جمع ہو جاتا ہے وہ بھی ناجائز طریقہ سے۔ 

اور فزوں خامیاں اس میں پائی جاتی ہے جس کی بنا پر دارالافتاؤں نے بھی اس پر ناجائز کا فتوی شائع کیا ہے۔

 جیسے دارالعلوم دیوبند کا فتویٰ نقل کیا جاتا ہے: 

یہ گیم ڈریم کھیلنا اور اس میں جیتے ہوئے پیسوں کا استعمال کرنا جائز نہیں، یہ ایک قسم کا جُوا ہے اور جوا کو اللہ نے قرآن پاک میں حرام فرمایا ہے۔


واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند 
(Fatwa::428-334/B=5/1441)

اسی طرح دارالافتاء جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن پاکستان سے فتویٰ شائع ہوا ملاحظہ فرمائیں:
 
ڈریم 11 کھیلنے کا حکم
سوال
کیا ڈریم 11 کھیلنا جائز ہے؟

جواب
 کسی بھی قسم کا کھیل جائز ہونے کے لیے مندرجہ ذیل شرائط کا پایا جانا ضروری ہے، ورنہ وہ کھیل لہو ولعب میں داخل ہو نے کی وجہ سے شرعاً ناجائز اور حرام ہوگا:

1۔۔ وہ کھیل بذاتِ خود جائز ہو، اس میں کوئی ناجائز بات نہ ہو۔

2۔۔ اس کھیل میں کوئی دینی یا دنیوی منفعت ہو مثلاً جسمانی ورزش وغیرہ ، محض لہو لعب یا وقت گزاری کے لیے نہ کھیلا جائے۔

3۔۔ کھیل میں غیر شرعی امور کا ارتکاب نہ کیا جاتا ہو، مثلاً جوا وغیرہ۔

4۔۔ کھیل میں اتنا غلو نہ کیا جائے کہ شرعی فرائض میں کوتاہی یا غفلت پیدا ہو۔

5۔۔وہ کھیل تصاویر اور ویڈیوز سے پاک ہو۔

حاصل یہ ہے کہ اگر کسی گیم میں مذکورہ خرابیاں پائی جائیں، یعنی اس میں غیر شرعی امور کا ارتکاب کیا جاتا ہو، مثلاً: جان دار کی تصاویر، موسیقی اور جوا وغیرہ ہوں، یا مشغول ہوکر شرعی فرائض اور واجبات میں کوتاہی اور غفلت برتی جاتی ہو، یا اسے محض لہو لعب کے لیے کھیلا جاتا ہو تو خود اس طرح کا گیم کا کھیلنا بھی جائز نہیں ہوگا۔ اور اگر یہ خرابیاں نہ ہوں تو بھی موبائل پر گیم کھیلنے میں نہ جسمانی ورزش ہے، نہ دینی یا بامقصد دنیوی فائدہ ہے، بلکہ وقت اور بعض اوقات پیسے کا ضیاع ہے؛ اس لیے بہر صورت اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ گیم کے بارے میں حاصل کردہ معلومات کے مطابق، یہ موبائل وغیرہ میں کھیلا جاتا ہے، اس میں تصاویر، کارٹون پائے جاتے ہیں، نیز اس کے کھیلنے سے کوئی دینی یا دنیوی منفعت بھی مقصود نہیں، لہذا اس کا کھیلنا جائز نہیں ہے، بلکہ وقت کا ضیاع ہے، لہٰذا اس سے اجتناب کیا جائے۔ فقط واللہ اعلم

فتوی نمبر : 144203201439

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

 مندرجہ بالا نقصانات، خامیوں اور شرطِ قمار کی وجہ سے ہمیں اسے اجتناب کرنا چاہیے اور اللہ تعالیٰ سے دعا گو رہنا چاہیے کہ حلال رزق کو کمانے کی توفیق عطا فرمائیں اور انسانیت خصوصاً اہلِ اسلام کو فہمائش کو جاری رکھنا چاہیے تاکہ ہماری دنیا و آخرت محفوظ رہیں۔ آمین 
 کتبہ: ماجد کشمیری 

حرمتِ سود: مختلف مذاہب کی روشنی میں

0

حرمتِ سود: مختلف مذاہب کی روشنی میں




سود کو عربی میں رباء اور انگریزی میں اس کے لیے انٹرسٹ(interest,Usury) کے الفاظ مستعمل ہیں۔ رباء ،یربوا، ربواً سے نکلا ہے جس کے معانی زیادتی،اضافہ کے ہے۔ قرآن مجید میں بھی اسی منعی سے استعمال ہوا ہے۔



ایک غلط فہمی اور اس کا ازالہ: 

سود لفظ جب بھی بولا جاتا ہے تو خالص بینک سے انٹریسٹ لینے کو سود تصور کیا جاتا ہے جبکہ ایسا نہیں ہیں ہر عقد چاہیے وہ سود کا کاروبار ہو، خرید وفروخت ہو یا کرایہ کے ذریعے یا وہ تمام نت نئے ذرائع جس سے پیسے سے پیسہ لیا جائے، سود ہی کہلایا جائے گا۔

سود ان جرائم میں سے ہے جس کو اس کے مضر اثرات اور منفی نتائج کی وجہ سے مختلف مذاہب و مکاتیبِ فکر نے نہ صرف جرم قرار دیا بلکہ غیر ضروری فعل قرار دیا ہے۔ مختلف مذہبی تعلیمات میں حرمتِ سود کا تذکرہ ملتا ہے۔جن میں اسلام، ہندومت،بدھ مت، یہودیت، عیسائیت سر فہرست ہیں۔

حرمتِ سود ہندومت میں :

جدید دَور کے ہندو اگرچہ سود لینے میں کوئی کراہت محسوس نہیں کرتے ہیں۔ جبکہ اِن کی مذہبی کتابوں میں سود حرام ہی قرار دیا گیا ہے، جیسے مہابھارت انوساسنا پروا سیکشن ٢٣ میں لکھا گیا ہے: 

They who betake themselves to improper conduct, they who take exorbitant rates of interest, and they who make unduly large profits on sales, have to sink in hell

وہ لوگ جو اپنے آپ کو غلط طرز عمل کی طرف راغب کرتے ہیں ، وہ جو بہت زیادہ شرح سود لیتے ہیں ، اور جو فروخت پر ناجائز منافع کماتے ہیں ، انہیں جہنم میں ڈوبنا پڑتا ہے۔


جبکہ یہاں تک  لکھا گیا ہے کہ ان برہمنوں کی گھروں میں کھانا مت کھاؤ جو سود لیتے ہیں۔

Boudhain rules that food should not be eaten in the house of Brahmans who receive usury (Prachin Bharat Ka Itihas)

  سوترا دور کے دوران علی زات کو سود لینے سے منع کرتے تھے۔


During the Sutra period in India (7th to 2nd centuries BC) there were laws prohibiting the highest caste from practicing usury (Indigenous Banking of India)

اور بھی مذہبی کتابوں میں اس کی ممانعت کا تذکرہ ملتا ہے جیسے ہندومت کی ایک مشہور کتاب مانوسمرتی میں سود کی مقرر شرح کو قانون کے خلاف کہا ہے۔

نوٹ: ہندو دھرم کی کچھ مذہبی کتابوں میں کم درجے کا سود لینے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے ہیں۔

حرمتِ سود عیسائیت و یہودیت میں:

عیسائیوں کے پاس بھی آسمانی کتابوں میں سے ایک کتاب ہے اگرچہ وہ اپنی اصلی شکل میں موجود نہیں ہیں۔ پھر بھی اُس کتاب میں سود کو ناجائز اور لا یعنی عمل کے حکم سے آمیز ہے۔ جیسے رومن کیتھولک چرچ نے فورتھ (4th) صدی میں سودی کاروبار کو حرام اور پھر آٹھویں سحری میں سودی کاروبار کو مجرمانہ قرار دیا پر سرمایہ داری نظام کی زد میں خود ساختہ قانون بنا کر سود کو جائز قرار دیا، عیسائیت اپنی مذہب کے ساتھ کمپرومائز (compromise) کرنا شروع کر دیے جس کا ثبوت حال ہی میں وائرل ہونے والی ایک کلپ دیتی ہے جس میں Andrew Tat( امریکہ کا مشہور باکسر) 

جس میں اینڈریو ٹیٹ بولتے ہیں کہ عیسائیت ہر ایک مسئلہ کے ساتھ کمپرومائز کرتی ہے، اور مجھے اسلام اس لیے ے بھی پسند ہے کہ یہ کمپرومائز نہیں کرتے ہیں۔

خیر Exddus, Deuteronomy میں بھی سودی کاروبار سے منع فرمایا ہے اور سود پر ایک دوسرے قرض کو دینے سے بھی منع فرمایا ہے۔ 


Jew are forbidden to lend at interest (usury) to one another (Edodus 22:25, Deuteronomy 23:19-20)

 جبکہ Leviticus میں کسی بھی شکل کا سودا قابلِ قبول نہیں ہے۔ اور سود لینے والے کو خدا کا خوف کی تلقین کی گئی۔(Leviticus 25:36)

یہودی اور عیسائی Exoddus اور Leviticus یہ دونوں تورات کی پرانی شکل مانی جاتی ہیں ، Deuteronomy جو کہ بائبل کی پانچویں کتاب ہے۔ یہاں بھی لکھا گیا ہے کہ خدا کا باغی بندہ ہی سود لیتا ہے (Ezekiel 18:10) جبکہ تلمود (Talmud) میں بھی سود کو ناجائز قرار دیا ہے۔


حرمتِ سود دین فطرت میں:

حرمت سود کے متعلق اسلام نے واضح بیان کیا ہے کہ سود حرام ہے اور تجارت کو حلال ہیں (البقرہ)۔ سود مضر اور  اپنی منفی نتائج سے لبریز ہے اور اتنا خطرناک فعل کہ اس کو اللہ سبحانہ و تعالا اور خاتم الانبیاء حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ کے مترادف ٹھہرایا ہے (البقرہ)

سود کو شیطانی عمل اور انسانیت کے لیے مہلک قرار دیا گیا ہے اور تجارت کو گھٹانے کا باعث سمجھا گیا ہے اور یہ حقیقت ہے اور اس سے یہ سمجھ میں آجاتا ہے کہ سود ایک جرمِ عظیم ہے۔ 

اختصار کے ساتھ مندرجہ بالا مذاہب سے یہ بات واضح ہو جاتی ہیں سود کہ ایک ناسور چیز ہے جسے کینسر کے ساتھ تشبیہ دی جاتی ہے۔ اس لئے اہلِ اسلام بلکہ تمام انسانیت کو اس جرمِ عظیم سے اپنے آپ کو بچانا چاہیے اور نہج کی تلاش ہمیشہ کرنی چاہیے اور تمام انسانیت خصوصاً اہلِ اسلام کو فہمائش کو جاری رکھنا چاہیے۔

ماجد کشمیری







© 2023 جملہ حقوق بحق | MK Arabic Accademy | محفوظ ہیں