✦ تعریف: صدقۂ فطر
صدقۂ فطر اسلام کی ایک اہم مالی عبادت ہے جو عیدالفطر کے موقع پر ادا کی جاتی ہے۔ اس کا مقصد روزہ دار کی کوتاہیوں کی تلافی اور ضرورت مندوں کی مدد کرنا ہے تاکہ وہ بھی عید کی خوشیوں میں شریک ہوسکیں۔
✦ نصاب صدقۂ فطر
شریعت کی رو سے ہر اس مسلمان مرد و عورت پر صدقۂ فطر واجب ہے جس کے پاس قرض اور ضروری اسباب سے زائد اتنی مالیت کا مال یا سامان موجود ہو جو ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر یا اس سے زیادہ ہو۔ یہ مال خواہ تجارت کا ہو یا غیر تجارت کا، اور اس پر سال گزرنا بھی ضروری نہیں (یہی فرق ہے نصاب زکات اور نصاب صدقہ فطر میں)۔ ایسی صورت میں اس شخص پر عیدالفطر کے دن صدقۂ فطر ادا کرنا واجب ہوجاتا ہے۔ اس سے پہلے بھی ادا کر سکتا مگر ضروری نہیں، ہاں عید سے پہلے ادا نہیں کیا تو بھی اس کے ذمہ ادائیگیِ صدقۂ فطر باقی اور اس کو ادا کرنا ہی ہوگا بعدِ عید ہی سہی۔
جس طرح مال داری کی صورت میں مرد پر صدقۂ فطر واجب ہوتا ہے، اسی طرح اگر عورت صاحبِ نصاب ہو تو اس پر بھی اپنی طرف سے صدقۂ فطر ادا کرنا واجب ہے۔ تاہم مال دار عورت پر صرف اپنا صدقۂ فطر ادا کرنا واجب ہے، اس پر کسی اور کی طرف سے صدقۂ فطر ادا کرنا لازم نہیں، نہ بچوں کی طرف سے، نہ والدین کی طرف سے اور نہ شوہر کی طرف سے۔
البتہ مال دار مرد کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنی طرف سے بھی صدقۂ فطر ادا کرے اور اپنی نابالغ اولاد کی طرف سے بھی۔ اگر نابالغ اولاد خود صاحبِ نصاب ہو تو ان کے مال سے صدقۂ فطر ادا کیا جائے گا، اور اگر وہ صاحبِ نصاب نہ ہوں تو باپ اپنے مال سے ادا کرے گا۔ بالغ اولاد اگر صاحبِ نصاب ہو تو ان کی طرف سے صدقۂ فطر ادا کرنا باپ پر واجب نہیں، البتہ اگر وہ اپنی خوشی سے ادا کردے تو ادا ہوجائے گا۔
✦ مصارف صدقۂ فطر
صدقۂ فطر کے مصارف وہی ہیں جو زکات کے مصارف ہیں۔ یعنی جہاں زکات دی جاسکتی ہے وہاں صدقۂ فطر بھی دیا جاسکتا ہے اور جہاں زکوٰۃ دینا جائز نہیں وہاں صدقۂ فطر دینا بھی درست نہیں۔ اس لیے صدقۂ فطر کے اصل مستحق فقرا اور مساکین ہیں۔ صدقۂ فطر کی رقم سے مسجد، مدرسہ یا ہسپتال تعمیر کرنا درست نہیں، بلکہ اسے کسی مستحق شخص کو مالک بنا کر دینا ضروری ہے۔ اسی طرح سادات کو صدقۂ فطر دینا بھی درست نہیں اور مفتیٰ بہ قول کے مطابق غریب غیر مسلموں کو بھی صدقۂ فطر دینا جائز نہیں ہے۔
✦ جن کو صدقۂ فطر نہیں دے سکتے
یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ انسان اپنے ماں باپ، دادا دادی، نانا نانی اور اپنی اولاد یعنی بیٹوں، بیٹیوں، پوتوں، پوتیوں، نواسوں اور نواسیوں کو زکات یا صدقۂ فطر نہیں دے سکتا۔ اسی طرح میاں بیوی بھی ایک دوسرے کو زکات اور صدقۂ فطر نہیں دے سکتے۔ البتہ ان کے علاوہ خاندان کے وہ افراد جو مستحقِ ٰزکات ہوں انہیں صدقۂ فطر دینا نہ صرف جائز بلکہ افضل ہے، کیونکہ اس میں دوہرا اجر حاصل ہوتا ہے: ایک صدقۂ فطر ادا کرنے کا اور دوسرا صلہ رحمی کا۔
مستحق سے مراد وہ شخص ہے جس کے پاس ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی قیمت کے برابر مال موجود نہ ہو، یا اس کے پاس ضرورت سے زائد ایسا سامان نہ ہو جس کی مالیت اس مقدار تک پہنچتی ہو، اور وہ سید بھی نہ ہو۔ ایسا شخص زکات اور صدقۂ فطر دونوں کا مستحق ہوتا ہے۔
مزید متعلقہ مسائل کے لیے 9149525943 پر رابطہ کریں بہتر ہے سوال نوشت کیا جائے واٹس ایپ پر بایں وجہ کہ مجیب معتکف ہے۔
کتبہ : الشیخ عبد الماجد الکشمیری
الجواب الصحیح ( حضرت مولانامفتی ) طاہر مقبول الرحیمی
الجواب صحیح (۔حضرت مولانا مفتی محمد عارف (قاسمی) عفی عنہ


