یومِ پیدائشِ آدم محض ہفتہ وار تکرار نہیں، بلکہ شعور کی ایک دستک ہے۔ اس دن معلومات کے انبار بڑھانا اصل مقصود نہیں ہوتا؛ اصل غرض دل کی بیداری اور ایمان کی تازگی ہے۔ مگر جب اسی موقع پر یہ کہا جائے کہ اللہ تعالیٰ ہم سے “چھوٹی چھوٹی باتوں” کا سوال نہیں کریں گے، اور مثال کے طور پر عقیدۂ علمِ غیب کو بھی انہی جزئیات میں شمار کر دیا جائے، تو عقل خود بخود توقف کرتی ہے اور پوچھتی ہے: آخر یہ تقسیم کس بنیاد پر ہے؟
اگر کسی صفت کو اللہ تعالیٰ نے اپنے لیے خاص فرمایا ہو اور پھر اسی کو کسی اور کے لیے ذاتی و مستقل طور پر مان لیا جائے، تو یہ محض ایک لفظی اختلاف نہیں رہتا، بلکہ توحیدِ صفات کے دائرے میں دراڑ ڈالنے کے مترادف ہو جاتا ہے۔ یہ کہنا کہ اس مسئلے میں ماننے والا اور نہ ماننے والا برابر ہے، دراصل بنیاد اور دیوار کو ایک درجہ دینا ہے۔ عقل اس مساوات کو قبول نہیں کرتی، کیونکہ عقیدہ دین کی جڑ ہے، اور جڑ کی صحت کے بغیر شاخوں کی شادابی بے معنی ہو جاتی ہے۔ اس لیے ایسے امور کو “چھوٹا اختلاف” کہہ کر نظر انداز کرنا دراصل اصل مسئلے کی سنگینی کو ہلکا کر دینا ہے۔ داعی کا منصب یہ نہیں کہ وہ اصولوں کو دھندلا دے، بلکہ یہ ہے کہ وہ توحید کو صاف اور بے آمیز انداز میں واضح کرے، خواہ اس کے لیے خاموشی کی سہولت ترک ہی کیوں نہ کرنی پڑے۔
اسی طرح جب اتحاد کے نام پر یہ کہا جائے کہ سحری کب بند کرنی ہے، اس میں نہ پڑو، تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ جس امر کا تعلق براہِ راست عبادت کی صحت سے ہو، وہ کیونکر غیر اہم ہو سکتا ہے؟ اگر مقررہ وقت کے بعد کھانا روزے کو متاثر کرتا ہے، تو وقت کی تعیین محض ایک نظری نزاع نہیں رہتی، بلکہ حکمِ شرعی کی حد بن جاتی ہے۔ رمضان کا پیغام اگر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو بروقت اور بلا چون و چرا مانا جائے، تو پھر اسی حکم کی حدود پر گفتگو سے گریز کیوں؟ حد کو تسلیم کرنا اور حد کو پہچاننا دونوں لازم ہیں؛ ورنہ اطاعت کا مفہوم مبہم ہو جاتا ہے۔
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ بڑے گناہوں سے بچو، چھوٹے گناہ اللہ معاف فرما دیں گے، کیونکہ وہ وسیع المغفرت ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت بے پایاں ہے، مگر اس حقیقت کو اس طرح پیش کرنا کہ گویا چھوٹی لغزشیں قابلِ اعتنا ہی نہیں، خود ایک بڑی فکری لغزش ہے۔ چھوٹا گناہ جب عادت بن جائے تو اس کی حیثیت بدل جاتی ہے، اور چھوٹا حکم جب شعوری طور پر ترک کیا جائے تو وہ محض جزئی بات نہیں رہتا، بلکہ رویے کی تشکیل کر دیتا ہے۔ دین چند بڑے عنوانات کا نام نہیں؛ یہ زندگی کا پورا دستور ہے۔ اگر ہم خود یہ طے کرنے لگیں کہ کون سی بات اہم ہے اور کون سی غیر اہم، تو دراصل ہم دین کو اپنی خواہش کے مطابق تراش رہے ہوتے ہیں، حالانکہ رمضان ہمیں خواہش کو دین کے تابع کرنے کی تربیت دیتا ہے، دین کو خواہش کے تابع کرنے کی نہیں۔
اصل تضاد اسی مقام پر جنم لیتا ہے: ایک طرف کامل اطاعت کا نعرہ، دوسری طرف بعض امور کو غیر اہم قرار دینے کی سہولت۔ عقل کہتی ہے کہ اگر اطاعت مطلوب ہے تو وہ کلی بھی ہوگی اور جزئی بھی؛ اگر اصول کی حفاظت ضروری ہے تو اس کی تفصیلات بھی اسی حصار کا حصہ ہیں۔ اعتدال یہ نہیں کہ ہر مسئلے کو معرکہ بنا دیا جائے، بلکہ یہ ہے کہ ہر مسئلے کو اس کے حقیقی وزن کے مطابق سمجھا جائے۔ جو بنیاد سے متعلق ہے اسے بنیاد کی طرح دیکھا جائے، اور جو عمل کی حد سے متعلق ہے اسے حد کی طرح۔
دین کی عمارت میں بعض اینٹیں بنیاد میں ہوتی ہیں اور بعض دیوار میں، مگر کوئی اینٹ بھی ایسی نہیں جسے یہ کہہ کر نکال دیا جائے کہ اس کے بغیر بھی عمارت کھڑی رہے گی۔ عقل کا تقاضا یہی ہے کہ ہم نہ افراط میں جائیں نہ تفریط میں، مگر اصول کو اصول اور حد کو حد سمجھ کر ہی اطاعت کا دعویٰ کریں۔ یہی ایمان کی تازگی ہے، یہی شعور کی بیداری ہے، اور یہی وہ پیغام ہے جو یومِ رواں دیتا ہے اور رمضان بھی۔
بہت سے مسائل اور بھی تھے جو فکر کو درشاتے ہیں بغیر ابھی وقت نہیں ہے ابھی اتنے پر اکتفا کرتے ہیں کبھی اور باتیں کرتے ہیں۔
شیخ عبد الماجد آفندی
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
ویب گاہ کی بہتری کے لیے آپ کی قیمتی رائے ہمارے لیے اہم اور اثاثہ ہے۔