فکری لغزش کا تعقب

0

 یومِ پیدائشِ آدم محض ہفتہ وار تکرار نہیں، بلکہ شعور کی ایک دستک ہے۔ اس دن معلومات کے انبار بڑھانا اصل مقصود نہیں ہوتا؛ اصل غرض دل کی بیداری اور ایمان کی تازگی ہے۔ مگر جب اسی موقع پر یہ کہا جائے کہ اللہ تعالیٰ ہم سے “چھوٹی چھوٹی باتوں” کا سوال نہیں کریں گے، اور مثال کے طور پر عقیدۂ علمِ غیب کو بھی انہی جزئیات میں شمار کر دیا جائے، تو عقل خود بخود توقف کرتی ہے اور پوچھتی ہے: آخر یہ تقسیم کس بنیاد پر ہے؟

اگر کسی صفت کو اللہ تعالیٰ نے اپنے لیے خاص فرمایا ہو اور پھر اسی کو کسی اور کے لیے ذاتی و مستقل طور پر مان لیا جائے، تو یہ محض ایک لفظی اختلاف نہیں رہتا، بلکہ توحیدِ صفات کے دائرے میں دراڑ ڈالنے کے مترادف ہو جاتا ہے۔ یہ کہنا کہ اس مسئلے میں ماننے والا اور نہ ماننے والا برابر ہے، دراصل بنیاد اور دیوار کو ایک درجہ دینا ہے۔ عقل اس مساوات کو قبول نہیں کرتی، کیونکہ عقیدہ دین کی جڑ ہے، اور جڑ کی صحت کے بغیر شاخوں کی شادابی بے معنی ہو جاتی ہے۔ اس لیے ایسے امور کو “چھوٹا اختلاف” کہہ کر نظر انداز کرنا دراصل اصل مسئلے کی سنگینی کو ہلکا کر دینا ہے۔ داعی کا منصب یہ نہیں کہ وہ اصولوں کو دھندلا دے، بلکہ یہ ہے کہ وہ توحید کو صاف اور بے آمیز انداز میں واضح کرے، خواہ اس کے لیے خاموشی کی سہولت ترک ہی کیوں نہ کرنی پڑے۔

اسی طرح جب اتحاد کے نام پر یہ کہا جائے کہ سحری کب بند کرنی ہے، اس میں نہ پڑو، تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ جس امر کا تعلق براہِ راست عبادت کی صحت سے ہو، وہ کیونکر غیر اہم ہو سکتا ہے؟ اگر مقررہ وقت کے بعد کھانا روزے کو متاثر کرتا ہے، تو وقت کی تعیین محض ایک نظری نزاع نہیں رہتی، بلکہ حکمِ شرعی کی حد بن جاتی ہے۔ رمضان کا پیغام اگر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو بروقت اور بلا چون و چرا مانا جائے، تو پھر اسی حکم کی حدود پر گفتگو سے گریز کیوں؟ حد کو تسلیم کرنا اور حد کو پہچاننا دونوں لازم ہیں؛ ورنہ اطاعت کا مفہوم مبہم ہو جاتا ہے۔

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ بڑے گناہوں سے بچو، چھوٹے گناہ اللہ معاف فرما دیں گے، کیونکہ وہ وسیع المغفرت ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت بے پایاں ہے، مگر اس حقیقت کو اس طرح پیش کرنا کہ گویا چھوٹی لغزشیں قابلِ اعتنا ہی نہیں، خود ایک بڑی فکری لغزش ہے۔ چھوٹا گناہ جب عادت بن جائے تو اس کی حیثیت بدل جاتی ہے، اور چھوٹا حکم جب شعوری طور پر ترک کیا جائے تو وہ محض جزئی بات نہیں رہتا، بلکہ رویے کی تشکیل کر دیتا ہے۔ دین چند بڑے عنوانات کا نام نہیں؛ یہ زندگی کا پورا دستور ہے۔ اگر ہم خود یہ طے کرنے لگیں کہ کون سی بات اہم ہے اور کون سی غیر اہم، تو دراصل ہم دین کو اپنی خواہش کے مطابق تراش رہے ہوتے ہیں، حالانکہ رمضان ہمیں خواہش کو دین کے تابع کرنے کی تربیت دیتا ہے، دین کو خواہش کے تابع کرنے کی نہیں۔

اصل تضاد اسی مقام پر جنم لیتا ہے: ایک طرف کامل اطاعت کا نعرہ، دوسری طرف بعض امور کو غیر اہم قرار دینے کی سہولت۔ عقل کہتی ہے کہ اگر اطاعت مطلوب ہے تو وہ کلی بھی ہوگی اور جزئی بھی؛ اگر اصول کی حفاظت ضروری ہے تو اس کی تفصیلات بھی اسی حصار کا حصہ ہیں۔ اعتدال یہ نہیں کہ ہر مسئلے کو معرکہ بنا دیا جائے، بلکہ یہ ہے کہ ہر مسئلے کو اس کے حقیقی وزن کے مطابق سمجھا جائے۔ جو بنیاد سے متعلق ہے اسے بنیاد کی طرح دیکھا جائے، اور جو عمل کی حد سے متعلق ہے اسے حد کی طرح۔

دین کی عمارت میں بعض اینٹیں بنیاد میں ہوتی ہیں اور بعض دیوار میں، مگر کوئی اینٹ بھی ایسی نہیں جسے یہ کہہ کر نکال دیا جائے کہ اس کے بغیر بھی عمارت کھڑی رہے گی۔ عقل کا تقاضا یہی ہے کہ ہم نہ افراط میں جائیں نہ تفریط میں، مگر اصول کو اصول اور حد کو حد سمجھ کر ہی اطاعت کا دعویٰ کریں۔ یہی ایمان کی تازگی ہے، یہی شعور کی بیداری ہے، اور یہی وہ پیغام ہے جو یومِ رواں دیتا ہے اور رمضان بھی۔

بہت سے مسائل اور بھی تھے جو فکر کو درشاتے ہیں بغیر ابھی وقت نہیں ہے ابھی اتنے پر اکتفا کرتے ہیں کبھی اور باتیں کرتے ہیں۔

شیخ عبد الماجد آفندی 

MK cash counter

0
MK Cash Counter

MK Cash Counter

₹0.00
₹0.00
₹0.00
₹0.00
₹0.00
₹0.00
₹0.00
₹0.00
₹0.00
₹0.00
₹0.00
Total: ₹0.00
In Words: Zero Rupees Only

MCQs of HAL

0

پریکٹس کوئز — MCQs

عثمانی دور: سقوطِ ممالیک اور علمی و ادبی زوال
یہ پریکٹس کوئز **20 سوالات** پر مشتمل ہے جو موضوع “عثمانی دور: سقوطِ ممالیک اور علمی و ادبی زوال” کے اہم تاریخی، علمی اور ادبی پہلوؤں پر مبنی ہیں۔ آپ اس کوئز کے ذریعے اپنے مطالعے کو مضبوط کر سکتے ہیں اور امتحانی تیاری کو بہتر بنا سکتے ہیں۔
MCQs پریکٹس شروع کریں

MCQ of today's lecture uslob e manfuloti

0

أسئلة اختيار من متعدد (MCQs)

خصائص أسلوب المنفلوطي والنقد الموجَّه إليه

المنفلوطي: خصائص الأسلوب والتنقیدات

تهدف هذه الأسئلة إلى بيان خصائص أسلوب مصطفى صادق المنفلوطي، مع التعرف على أبرز الملاحظات النقدية التي تناولها النقاد حول أسلوبه الأدبي، وذلك بما يخدم الدراسة الأكاديمية والتحضير للامتحانات.

عرض أسئلة MCQs

Mcqs of Modern Prose

0

أسئلة اختيار من متعدد (MCQs)

النثر العربي • القصة

قصة: حكاية وتحليلها

تتناول هذه الأسئلة الجوانب الأساسية للقصة من حيث الفكرة، والبناء الفني، والأسلوب، مع التركيز على عناصر التحليل الأدبي، وذلك بأسلوب يخدم الفهم والتحضير للامتحانات الأكاديمية.

ابدا أسئلة MCQs

Frist Sem MA Arabic Class

0

MK Arabic Academy

First Semester • Live Online Class

صرف و نحو — فرسٹ سمسٹر

یہ فرسٹ سمسٹر کی آن لائن لائیو کلاس ہے جس میں صرف و نحو کے بنیادی اور اہم قواعد کو سادہ اور تدریسی انداز میں سمجھایا جائے گا۔ یہ درس ابتدائی طلبہ کے لیے نہایت مفید ہے۔

MA Arabic third sem MCQs

0

MK Arabic Academy

Arabic • Third Semester • MCQs

سقوط الخلافة العباسية في بغداد

یہ معروضی سوالات (MCQs) عربی ادب کی تاریخ کے اہم موضوع سقوط الخلافة العباسية في بغداد سے متعلق ہیں۔ یہ سوالات امتحانی نقطۂ نظر سے نہایت مفید اور نصابی معیار کے مطابق تیار کیے گئے ہیں۔

📌 نمونہ سوالات:

  • سقوطِ بغداد کا بنیادی سبب کیا تھا؟
  • عباسی خلافت کے زوال میں کس خارجی طاقت کا کردار تھا؟
  • اس سانحے کے ادبی اثرات کن پہلوؤں سے نمایاں ہوئے؟

© 2023 جملہ حقوق بحق | اسلامی زندگی | محفوظ ہیں