جیسے ہی بہار کی آمد ہوتی ہے اور کشمیر کی سرسبز وادیاں برف کا سفید لباس اتار کر ہری چادر اوڑھ لیتی ہیں تو دل بےاختیار ان مقامات کی طرف کھنچنے لگتا ہے جہاں قدرت نے اپنے حسن کی سب سے قیمتی دولت لٹا رکھی ہو؛ جہاں پہاڑ سب سے زیادہ سرسبز لباس پہنے کھڑے ہوں اور وادیاں اپنی پوری رعنائی کے ساتھ انسان کا استقبال کرتی ہوں۔
ہماری ہمیشہ سے یہی کوشش رہی ہے کہ صرف ان مقامات تک نہ جائیں جہاں گاڑیاں پہنچ جاتی ہیں، کیونکہ اصل حسن تو وہاں سے شروع ہوتا ہے جہاں سڑک ختم ہوتی ہے اور انسان کے قدم اپنا سفر آغاز کرتے ہیں۔ اس سے پہلے ہم دودھ پتھری، پیر پنجال کی بلند چوٹیاں، کوثر ناگ، کونگ وٹن اور کئی دوسرے دشوار گزار مگر دلکش مقامات کی سیر کر چکے تھے۔
اس سال ارادہ "ہون ہنگ (Dog's Horn)" جانے کا تھا۔ یہ جگہ اپنی دورافتادگی کی وجہ سے اتنی مشہور ہے کہ کشمیر میں جب کسی انتہائی دور مقام کا ذکر کرنا ہو تو لوگ محاورۃً کہتے ہیں: "ایسے بات کر رہے ہو جیسے ہون ہنگ میں رہتے ہو۔" مگر اللہ تعالیٰ کو کچھ اور ہی منظور تھا، اس لیے کسی مجبوری کے باعث یہ منصوبہ نہ بن سکا۔
چند دن بعد ایک ساتھی نے تجویز دی کہ کیوں نہ چھر سر ناگ کا سفر کیا جائے۔ بات آئی گئی ہوتی رہی، مگر ایک رات ہم کیمپنگ ٹینٹ میں بیٹھے تھے کہ اچانک فیصلہ ہو گیا: "چلتے ہیں!" بس پھر کیا تھا، جو کچھ کھانے پینے کا سامان میسر تھا جمع کیا گیا، بستے باندھے گئے اور سفر کا آغاز ہو گیا۔
کچھ دوست کولگام کے ایک علاقے میں موجود تھے، انہیں ساتھ لیا اور مختلف دیہات سے گزرتے ہوئے دمحال پہنچے۔ وہاں سے بائیکوں پر ورڑن تک سفر کیا، جہاں گاڑیاں پارک کر کے اصل امتحان، یعنی پیدل سفر، شروع ہوا۔
ابھی ایک دو کلومیٹر ہی چلے تھے کہ قدرت کی خوبصورتی نے ہمیں اپنا گرویدہ بنانا شروع کر دیا، مگر ہمارے ایک ساتھی، جن کا یہ پہلا پہاڑی پیدل سفر تھا، جلد ہی تھکن محسوس کرنے لگے۔ کبھی بیٹھ جاتے، کبھی لیٹ جاتے اور بار بار آرام کی خواہش ظاہر کرتے۔
ہم نے بھی کچھ دیر آرام کیا، ساتھ لایا ہوا ہلکا پھلکا کھانا کھایا اور دوبارہ سفر شروع کر دیا۔ سامنے ایک بلند پہاڑ تھا، جسے مقامی لوگ گامی مال کہتے ہیں۔ ہمیں بتایا گیا کہ بس یہ پہاڑ عبور کر لیں، اس کے بعد راستہ نسبتاً آسان ہے۔
اگرچہ اس پہاڑ نے ہماری طاقت کا خوب امتحان لیا، مگر اس نے ہمارے دلوں کو ایک عجیب سکون بھی عطا کیا، کیونکہ اس مقام پر پہنچتے ہی موبائل فون کا رابطہ مکمل طور پر منقطع ہو گیا۔ کبھی کبھی انسان دنیا سے کٹ کر ہی اپنے آپ سے جڑتا ہے، اور شاید یہی حقیقی سکون ہوتا ہے۔
چوٹی پر پہنچے تو ہمارے ایک ساتھی کے چند عزیز اور دوست وہاں موجود تھے۔ انہوں نے نہایت محبت سے دیسی گھی میں چپڑی ہوئی گرم گرم روٹیاں اور خوشبودار گرم چائے ہمارے سامنے رکھ دی۔ یقین مانیے! اس وقت دنیا کی سب سے میٹھی نعمت وہی روٹی اور وہی چائے محسوس ہو رہی تھی۔ سخت تھکن کے بعد جب خلوص سے پیش کیا گیا کھانا نصیب ہو تو اس کا ذائقہ صرف زبان ہی نہیں بلکہ روح بھی محسوس کرتی ہے۔
ہم نے ان کا شکریہ ادا کیا اور اپنی استطاعت کے مطابق چند معمولی تحفے پیش کیے، حالانکہ ہم جانتے تھے کہ ان کے خلوص کا بدلہ کسی چیز سے ادا نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے دور ایک سفید سی لکیر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: "جہاں تمہیں دودھ جیسی سفیدی نظر آ رہی ہے، تمہیں اس سے بھی آگے جانا ہے۔"
یہ سن کر اگرچہ تھکے ہوئے جسم نے ہمت ہارنے کی کوشش کی، مگر حسین مناظر اور چند لمحوں کے آرام نے ہمارے اندر نئی جان ڈال دی، اور ہم دوبارہ روانہ ہو گئے
راستہ زیادہ دشوار نہ تھا، لیکن ایک مقام پر ہم راستہ بھٹک گئے، یا یوں کہیے کہ ہم نے ایک شارٹ کٹ اختیار کر لیا، جو ہمیں کافی مہنگا پڑا۔ ڈھلوان اتنی خطرناک تھی کہ قدم رکھنے کے لیے بھی مناسب جگہ نہیں مل رہی تھی۔
آخرکار نیچے ایک برفانی ندی تک پہنچے۔ اس کا پانی اس قدر ٹھنڈا تھا کہ جیسے برف بھی اس کے سامنے گرم محسوس ہو۔ ہم نے جب وہ پانی پیا تو یوں لگا جیسے جسم میں نئی زندگی دوڑ گئی ہو۔
پھر جب نگاہیں بلند کیں تو محسوس ہوا جیسے بلند پہاڑ ایک دوسرے سے سرگوشیاں کر رہے ہوں اور ہمیں اپنی طرف بلا رہے ہوں۔ دل میں خیال آیا کہ اگر انسان کے پر ہوتے تو ان پہاڑوں کی آغوش میں ایک رات ضرور گزارتا۔
راستے میں جو کچھ کھانے کو مل جاتا، وہی کھا لیتے۔ اوپر سے دیکھنے پر میدان بہت وسیع دکھائی دیتے تھے، لیکن جب ان میں اترتے تو معلوم ہوتا کہ وہ بھی پہاڑوں کی ہی ایک شکل ہیں۔
ان مناظر کی خوبصورتی ایسی تھی کہ دنیا و مافیہا سب کچھ نگاہوں سے اوجھل ہو جاتا تھا۔ انسان کو صرف اپنے رب کی قدرت یاد رہ جاتی تھی، اور زبان پر بےاختیار یہ آیت جاری ہو جاتی: ﴿وَلَا تَمْشِ فِي الْأَرْضِ مَرَحًا ۖ إِنَّكَ لَن تَخْرِقَ الْأَرْضَ وَلَن تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُولًا﴾
ترجمہ: "اور زمین میں اکڑ کر مت چلو، یقیناً نہ تم زمین کو پھاڑ سکتے ہو اور نہ ہی بلندی میں پہاڑوں کو پہنچ سکتے ہو۔" (سورۃ الإسراء: 37)
واقعی، پہاڑ انسان کو عاجزی سکھاتے ہیں۔ جتنا وہ بلند ہوتے ہیں، اتنا ہی انسان کو اپنی حیثیت کا احساس دلاتے ہیں۔اگلا حصہ بھیج دیجیے، میں اسی اسلوب، اسی روانی اور بغیر غیر ضروری تبدیلی کے پورا سفرنامہ مرتب کر دوں گا۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
ویب گاہ کی بہتری کے لیے آپ کی قیمتی رائے ہمارے لیے اہم اور اثاثہ ہے۔