کاف اور نون کے آپس میں ملنے سے پہلے وہ کام ہوجاتا ہے ۔

0

السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ 


سلسلہ تخریج الاحادیث نمبر ١


سمعت الله من فوق العرش يقول للشيء ” كن فيكون ، فلا تبلغ الكاف النون إلا يكون الذي يكون ۔

 جب اللہ تعالی کسی چیز کا حکم  ہو جا تو لفظ ” کن“ کے کاف اور نون کے آپس میں ملنے سے پہلے وہ کام ہوجاتا ہے ۔

یہ روایت موضوع اور من گھڑت ہے،اس روایت کے بارے میں مشہور محدث ملا علی قاری رحمہ اللہ لکھتے ہیں ۔

موضوع بلا شک (یعنی یہ روایت بلاشک و شبہ من گھڑت ہے)

[المصنوع فی معرفۃ الحدیث الموضوع ، ص ۱۴۰ ، رقم : ۲۰۲]

اس کے علاوہ حافظ جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ، علامہ اسماعیل عجلونی رحمہ اللہ اور علامہ شوکانی رحمہ اللہ نے بھی اس حدیث کو موضوع قرار دیا ہے [بالترتیب دیکھیں: ذیل اللالی المصنوعۃ،ص:٣

کشف الخفاء ومزیل الالباس،رقم: ١/٥١٨،١٤٨٥

الفوائد المجموعۃ فی الاحادیث الصعیفۃ والموضوعۃ ،رقم ٢٠\١٢٨٣]

علامہ ذہنی رحمہ اللہ اس حدیث کو سند کے ساتھ ہاتھ نکل کرنے کے بعد لکھتے ہیں۔

هذا حديث باطل،واحمد المکی کذاب،رؤیتہ للتذیرمنہ.[تنزیہ الشریعہ المرفوعہ۔١/١٤٨]

محمد بن أحمد بن عثمان الذھبی المحقق رحمہ الله اپنی کتاب میں اس میں اس سند کے ساتھ لکھتے ہیں یہ حدیث باطل ہے ہیں ۔

حدثني رسول الله صلى الله عليه وسلم - ويده على كتفي – قال : حدثني عن الصادق الناطق رسول رب العالمين وأمينه على وحيه جبرائيل – ويده على كتفي – سمعت إسرافيل سمعت القلم سمعت اللوح يقول سمعت الله من فوق العرش يقول للشيء كن فيكون فلا يبلغ الكاف النون حتى يكون ما يكون (العلو للعلي الغفار في صحيح الأخبار وسقيمها (ص 54)



جمع و ترتیب :  ماجد کشمیری 


سلسلہ تخریج الاحادیث نمر 2

رات تمہاری ہے تو کیا صبح ہماری ہوگی | مسلمانانِ ہند کی حالت حاضرہ

0

رات تمہاری ہے تو کیا صبح ہماری ہوگی

قسط اول


ہمارے وطن عزیز کی تازہ ترین صورت حال کے پیش نظر ہمیں اپنے اند ر حوصلہ پیدا کرنا ہوگا،اپنے اندرعزم تازہ پیدا کرناہوگا کہ ہمیں اسی ملک میں رہنا ہے،اپنے دین وایمان کے ساتھ،توحید کی امانت کے ساتھ، ملک کی حفاظت اور سالمیت کی کوششوں کے ساتھ،سخت سے سخت ترین حالات میں بھی ہمیں امید کی شمع جلائے رکھنی ہے اور اس حقیقت کو ذہن میں رکھناہے کہ ؂


دل ناامید تو نہیں ناکام ہی تو ہے

لمبی ہےغم کی شام مگر شام ہی توہے


مسلمانان ہند کواپنا احتساب کرتے ہوئے،اعمال صالحہ کے راستے پرآگے بڑھتے ہوئے٬صبر واستقامت کے ہتھیار سے لیس ہو کر ملک وملت کی تعمیر وترقی کے لیے آگے آنا چاہئے،اور خوف اوربزدلی کی ہر رمق کو دل سے نکال کر زبردست غالب اور طاقت و قوت کے مالک ﷲ پربھروسہ کرناچاہئے کہ وہی ظلمت شب کے پردوں کوچاک کر کے صبح روشن طلوع کرتاہے اور جو چاہے جب چاہے کرنے کی قدرت رکھتاہے۔؂

نورکی یہ ایک کرن ظلمات پہ بھاری ہوگی

رات تمہاری ہے تو کیا صبح ہماری ہوگی


✍🏻 حضرت مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی صاحب دامت برکاتہم

      (سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ)


پیشکش: اسلامی زندگی 

Evaluation status of BG 5th semester

0








Evaluation status of BG 5th semester: Regular and Backlog batches of 2019/18 & 16. Check the details below. 



It's predicted that the evaluation status of the BG 5th semester will be announced tonight or tomorrow before 5 pm. stay connected, we will share the evaluation status link where you can check your evaluation status.


After the Declaration of the Result of BG 3rd semester regular and backlog batch 2020/18/19. it is hoped that the evaluation status of BG 5th semester regular and backlog batch 2019/18/&16 will be asserted within a few days as for as sources are concerned. stay connected with the Islami Zindagi online platform we will update you on time.

Click the link below, some students are checked. Try and stay connected. 
 



یونیورسٹی آف کشمیر کی درسی کتاب میں موضوع حدیث: چلیں کریں اسے اجتناب

0

السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ۔ کشمیر یونی ورسٹی : اسلامک اسٹیڈیز (6th semester) کی نصابی کتاب میں درج کی گئی ایک حدیث (روایت) ، جو نظر سے گزری تو معلوم ہوا کہ یہ حدیث موضوع ہے ۔۔لہذا اس کو بیان کرنے سے اجتناب و پرہیز کریں۔ اور مستقل میں اس موضوع سے متعلق مستند و صحیح احادیث کا انتخاب کیا جائیں۔ چوں کہ درس نظامی کا مسئلہ، اس میں زیادہ مستند ہونا چاہیے اور ضروری بھی، طلبہ اس کو ازبر کرتے ہیں، پھر اشاعت تو کرنی ہے، تو ہوگی اس کی جو موضوع حدیث ہے۔ ان جیسے غیر مستند روایات کو بیان کرنے کی سزا حدیثِ نبوی میں: اپنا گھر جہنم میں بنوانے کے جیسا ہے۔ جو کہ کوئی نہ چاہیں گا۔ 

إن کذبا علی لیس ککذب علی أحد من کذب علی متعمدا فلیتبوَّأ مقعَدہ من النار (بخاری شریف: ۱۲۰۹)




أريد أن أعرف صحة هذا الحديث والذي يستدل به كثير من المؤلفين اليوم لإثبات العلم الحديث: عن ابن عباس أن النبي صلى الله عليه وسلم سُئل: أين تغرب الشمس ومن أين تطلع؟ فأجاب النبي صلى الله عليه وسلم " إنها في دوران دائم، لا تتوقف ولا تختفي. فإذا غربت في مكان أشرقت في مكان أخر ، وإذا أشرقت في مكان غابت في مكان آخر وهكذا... " حتى إن أناساً في مكان ما يقولون: إنها للتو أشرقت ويقول آخرون في مكان آخر في نفس الوقت إنها للتو غربت. رواه أبو إسحاق الهمداني في مسنده.

الجواب

الحمد لله.


هذا الحديث لا يعرف من كلام النبي صلى الله عليه وسلم ، لا بسند صحيح ولا ضعيف ، ولا يشبه كلام النبوة ، بل ولا السلف السابقين .


قال ابن القيم رحمه الله :


" الأحاديث الموضوعة عليها ظلمة وركاكة ومجازفات باردة تنادي على وضعها واختلاقها على رسول الله صلى الله عليه وسلم " انتهى .


"المنار المنيف" (ص 50)


 وقد ذكر رحمه الله أمورا كلية يعرف بها كون الحديث موضوعا ، فذكر منها مناقضة الحديث لما جاءت به السنة الصريحة ، ومنها : أن يكون كلامه لا يشبه كلام الأنبياء فضلا عن كلام رسول الله صلى الله عليه وسلم الذي هو وحي يوحى ، فيكون الحديث مما لا يشبه الوحي بل لا يشبه كلام الصحابة .


راجع : "المنار المنيف" (ص 56- 62)


وهذا الحديث من ذاك عند التأمل ، وهو بقول الفلكيين والجغرافيين أشبه .


ثم إن قوله فيه " إنها للتو أشرقت .." يدل على أنه وضع متأخراً ، فلا يعرف في مشهور اللغة ، ولا فصيح الكلام استعمال " للتو " في هذا السياق ، بل هي أشبه بكلام العوام .


قال الزبيدي رحمه الله : " والتوة – بهاء - : الساعة من الزمان ، يقال مضت تَوّة من الليل والنهار ، أي : ساعة ..


ومنه قول العامة : توّةَ قام ، أي : الساعة .


ثم إنه لا يعرف أحد من العلماء الذين صنفوا كتباً في السنة ممن يسمى : " أبو إسحاق الهمداني".


والله تعالى أعلم


ماجد کشمیری 

مؤمن کا عوضِ اخروی و ملحدین کی غارتِ دنیاوی| ملحدین کی سزا

0

 ایمان اسلام کا مترادف ہے۔ اسلام مذہبِ منتخب اللہ ہے۔ اس کے ورے کوئی درخور اعتنا بھی نہیں ہے۔ محلدین کی غارتِ دنیاوی، فاصدِ نکاح و محرومِ استحقاقِ میراث اور اخروی سزا ابدی دوزخی ہے۔ ایمانِ مجمل و مفصل کے متواتر و منافقانہ منکرین کو مہرِ خدا لگ جاتی ہے۔ انہیں کے لیے جنہم مشتعل ہے اور مسلمانون کے لیے ابدی جائے بہشت اور گنجان سائے ہیں۔


ارضی تکالیف پر جو قانع ثابت ہوؤ وہی عیش و چین کا حامل ہوگا اور خدا نخواستہ جو منکرِ اسلام ہو وہ عالمی عیش و عشرت بھول جائیگا جب عنفوانِ تکالیفِ ابدی ہوگی۔ جو عاقل ہوں گیں وہ ہرگز ایسا نہ کریں گیں، چاہیں انہیں بادشاہی کیوں نہ چھوڑنی پڑے۔ وہ اموراتِ الہی کے منکر نہ ہوں گیں۔ اللہ ہمیں ہدایت دیں اور عقل سلیم عطا کریں۔


ماجد کشمیری 

ہم مطالعہ کیسے کریں| غیر عالم مطالعہ کیسے کریں

0

 تحصیل و تعلیمِ علم دین کی افادیت سے کون آشنا نہیں ہے۔ جہاں اس کی فرضیت کا ثبوت وہی صدقہ جاریہ ہونے کے آثار ،انمول رتن دیا جائے تو علم و ادب، وہی سببِ وجوب جنت۔ اصل تحصیل و تعلیم مستند عالم بنا ہی ہے پر ہر شخص کو ہمت و فرصت نہیں ۔ اس لیے مندرج طرق مذکور ہیں۔

 خواندہ: متعبر کتب کو سبقاً پڑھیں، نہ ملیں موقع تو شبہات پر معتبر عالم سے رجوع کریں۔

ناخواندہ: ولی اللہ سے مشورہ لیں کر تنخواہ پر ہی کیوں نہ کسی واعظ کو مقرر کریں۔

کسلان: مشہد و جمعہ پر ہی بغور وعظ سماعت فرمائیں۔

 بطور پرہیز: کافروں کے اور گمراہوں کے جلسوں میں ہرگز نہ جاویں۔ کفر و ضلالت کی باتیں اذن میں پڑنے سے ہی دل میں اندھیرا پیدا ہوتا ہے۔ بحث و مباحثہ نہ کریں نہ سنیں، ان میں اکثر کفر و ضلال کی باتیں کان میں پڑ جاتی ہے۔ جس سے خود میں بھی شائبہ پیدا ہوتا ہے اور ہمارے پاس اتنا علم نہیں جو اس شبہ کو دور کریں۔ اس لیئے اس سے اجتناب کریں اور پرہیز میں ہمیشہ دین کے تندرست رہوگے۔

ماجد کشمیری 

مدرسے اور ہم | مدرسے کی اہمیت و فضیلت| مدراس و عامۃ الناس کی ذمہ داریاں

0



 وہ خطۂِ زمین آباد ہوتی ہے، آغوش میں مدرسہ ہو جس سے۔ ہماری سر زمین پر اللہ کی عاطفت ہوئی ایسی، ملا مکین مدرسے کو یہی۔ گرچہ عنفوان میں ہے مگر قلیل مدت میں توسیع ہونا، اس کے عزم آوری کا ثبوت ہے۔ اللہ کی عاطفت و عافیت سے وہ صحیح معنوں میں اسلام کے خدمات انجام دے گا۔ 

مدارس کی اہمیت و فضیلت کا تذکرہ ہی نہیں۔ کیوں کہ یہ تاباں ہے کہ مدارس ریڈ کی ہڈی ہے۔ یہ بھی درخشاں ہے مدارس کے نصاب سے آج کی مترقی یونیورسٹیاں ہم سری نہیں کر سکتیں ہیں۔ یہ الفاظ میں ہیجانی نہیں بل کہ تحقیقی طور پر نوشت کیا ہیں۔ نہ صرف علومِ دینیہ اور اس کی تحصیل کے لیے استعمال شدہ زبانوں میں بل کہ انگریزی میں فاغلین وہ کمال حاصل کر چکیں ہیں جس کی مثال باقیہ یونیورسٹیوں میں ملانا عدم کے برابر ہے۔ زبان گرچہ ہر فن کے اکتساب کے لیے واجب ہے، ان کے ورے ہر ہنر میں مفلح نظر آنے والے طلبۂ مدارس ہوتیں ہیں۔ یہاں یہ وضاحت کرنی بھی رو سمجھتے ہوں، کہ کچھ مدارس میں نصاب و نظام میں، وہ اضحلال آشنا ہوتی ہے جس سے وہ عصر حاضر کے تقاضوں اور اس سے مساوات نہیں کر سکتے ہیں۔ ان میں تغیر لانے کی اشد ضرورت ہے ( پر ہر کلیہ کے لیے تنوع تخصصات ہونے بھی لازم ہیں۔)

عصرِ حاضر جن کا متقاضی ہے، ان کو پورا کرنے مدارس کی ثقافت اور اسلاف کی میراث ہے۔ اگر ہم اس میں اضمحلال کا مظاہرہ کریں گے تو اسلام کو خاصا نقصان ہو سکتا ہے۔ یہ جمود بھی نظر آنے لگا ہے کہ علومِ قرآنیہ اور علومِ حدیث کو ہی علوم شرعیہ تصور کیا جاتا ہے جب کہ دینِ فطرت ہر پہلو میں رہنمائی کرتا ہے جو کہ اس کی خصوصیت ہے۔ اس لیے تمام علوم نافع علوم شرعیہ کہلائے گیں۔

 مدارس اسلامیہ جمار، فروغ دین کے لیے اعیان کے ساتھ ساتھ تبلیغ و تفہیمِ شریعت کے لیے مواد بھی تیار کرتے رہتے ہیں۔ اسی کام کو عہدِ نبوت میں، ہر چیز پر ترجیح دی جاتی تھی۔ پر اب کیوں نہیں؟ بسببِ بُعدِ عہدِ نبوت ہم ہر طرح سے دانشکدۂ اسلام سے دوری اختیار کرتے رہیتے ہیں، جب کہ تعلیمِ نبی برحق صلی اللہ علیہ وسلم یوں تھی؛ 

حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے یہاں جب حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی ولادت ہوئی تو اس موقع سے انھوں نے آپ میں سے فرمایا کہ کیا میں اپنے بیٹے کا عقیقہ کر لوں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ نہیں ؛ بلکہ تم یہ کام کرو کہ اس کے سر کے بال کاٹ لو اور اس کے وزن کے برابر چاندی غرباء اور اوفاض (وہ صحابہ کرام مراد ہیں جو تعلیم کے لئے بے سروسامانی کی حالت میں مسجد نبوی میں پناہ گزیں تھے ، یعنی اصحاب صفہ ) پر صدقہ کرلو؛ چنانچہ حضرت فاطمہ نے اس موقع سے اور حضرت حسین کی ولادت کے موقع پر بھی یہی کام کیا۔

عقیقہ کی خوشی کے موقع پر ہر انسان کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ اپنے اعزاوا قارب اور دوست و احباب کو اس مسرت کے حوالے سے مدعو کرے اور رسم دنیا بھی یہی ہے ، لیکن اس کے باوجود آپ کسی کا یہ مال اصحاب صفہ پر صدقہ کرنے کی ترغیب دینا یہ اس بات کا غماز ہے کہ طالبان علوم نبوت پر خرچ کرنا عام مسلمانوں پر صدقہ کرنے سے بدر جہاں بہتر ہیں ( مولانا محمد فرقان پالن پوری دامت برکاتہم العالیہ)

انہیں طالبان علوم نبوت کے بارے میں قرآن میں اشارہ ہیں، بل کہ اکثر مفسرین کے نزدیک ہے کہ انہیں ہی متعلق نازل ہوئی ہے مندرجہ آیت:  

اصل حق ان ضرورت مندوں کا ہے جو اللہ کے راستے میں گھرے ہوئے ہیں ، وہ زمین میں چل پھر نہیں سکتے ، دست سوال نہ پھیلانے کی وجہ سے ناواقف لوگ ان کو مالدار سمجھتے ہیں، تم ان کو ان کے چہرے سے پہچان سکتے ہو ، وہ لوگوں سے نرمی کے ساتھ مانگا نہیں کرتے ، تم جو بھی مال خرچ کرو گے، اللہ تعالی اس سے واقف ہیں ۔( آسان ترجمہ قرآن: مولانا خالد سیف اللہ حفظہ اللہ تعالیٰ)

اب قرآن و حدیث و فقہاءِ اسلام نے ان کے لیے متعین مصارف رکھیں ہے۔ 

جیسے حضرت ابن نجیم مصری البحر الرائق میں فرماتے ہیں :


التصدق علی العالم الفقیر أفضل۔ 

محتاج عالم دین پر خرچ کرنا اور اسے زکوۃ کا مال دینا عام لوگوں پر صدقہ کرنے سے اور ان کو زکوۃ کا مال دینے سے بہتر ہے۔

اسی طرح علامہ ابن عابدین شامی نے رد المحتار میں یہ بات نقل فرمائی ہے : أن من مصارف بیت المال کفایۃ العلماء ، وطلاب العلم المتفرغین للعلم الشرعی

بیت المال کے مصارف میں سے ایک مصرف علماء کی مالی اعانت کرنا ہے اور ان لوگوں کی جنھوں نے اپنے آپ کو علوم شرعیہ کے حصول کے لئے فارغ کر رکھا ہے۔

احتصارا، باہم، طالبان علوم شرعیہ و عامۃ الناس اپنی ذمہ داریاں سمجھیں اور ان فرائضہ کو ادا کرنے میں جد و جہد کریں، تاکہ وہ علمی میراث زندہ جاوداں رہیں۔ وہ عدہ پورا ہو جس کی بشارت رب العالمین نے دی تھی: کہ تم ہی غالب رہو گے!





© 2023 جملہ حقوق بحق | اسلامی زندگی | محفوظ ہیں