توحید کی عظمت اور تثلیث کی حقیقت: ایک علمی تجزیہ

0

 عید کی اصل حقیقت اور اس کی خوشی خالقِ کائنات کی رضا و خوشنودی میں مضمر ہے۔ عید وہ مسرت ہے جو بندے کی طرف سے اپنے رب کی وحدانیت کے اعتراف اور اس کی نعمتوں کے شکرانے کے طور پر منائی جاتی ہے۔ لیکن جب عقائد میں اختلاف اور توحید کی صاف اور سیدھی راہ کو چھوڑ کر خدا کی وحدت کو بانٹنے کی کوشش کی جاتی ہے، تو ایسی حالت میں خوشی کا مفہوم بھی بدل جاتا ہے۔

تثلیث کا عقیدہ، جسے بہت سے لوگ خدا کی ذات کی تقسیم کے طور پر دیکھتے ہیں، اس قسم کے عقیدے کی پیچیدگی نے ہمیشہ اس کے پیروکاروں کو مشکلات میں مبتلا رکھا ہے۔ تثلیث کے ماننے والوں کی مذہبی و فلسفیانہ تشریحات اکثر فہم و عقل سے پرے معلوم ہوتی ہیں، اور ان کے دل بھی کبھی اطمینان کو نہیں پہنچ پاتے۔ نتیجتاً، اس عقیدے کے ساتھ وابستگی خوشی کے بجائے دلوں میں شک اور اضطراب پیدا کر دیتی ہے۔ اس عدمِ اطمینان کی آخری حالت وہ ہے جو خدا کے غضب اور دخولِ جہنم کی وعید بن سکتی ہے۔

اس کے برعکس، توحید، جسے اسلام نے بڑے واضح اور مضبوط دلائل کے ساتھ پیش کیا ہے، ہر لحاظ سے قابلِ فہم اور منطقی ہے۔ توحید کے اصول نہ صرف آسانی سے سمجھے جا سکتے ہیں بلکہ دلائل اور فلسفے کی نظر میں بھی مضبوط اور مستحکم ہیں۔ یہ عقیدہ دلوں کو سیراب کرتا ہے اور انہیں نورِ ایمان سے منور کر دیتا ہے، جو خالص حقیقت کی علامت ہے۔

توحید کی عظمت یہ ہے کہ یہ انسانی فکر اور عقل کو مطمئن کرتی ہے۔ اس کی بنیاد ایسی سادہ حقیقتوں پر ہے جو علم و فلسفہ کی باریکیوں میں بھی اپنی صداقت کو برقرار رکھتی ہیں۔ اگر تثلیث کے ماننے والوں کی آنکھیں حقیقت کی روشنی دیکھنے کے قابل ہو جائیں تو وہ بھی تسلیم کریں گے کہ وحدانیت کا نور ہی وہ سچائی ہے جسے دل تسلیم کرتا ہے اور عقل پروان چڑھاتی ہے۔

تثلیث کے عقیدے میں دکھائی دینے والی پیچیدگیوں کے مقابلے میں توحید کی سادگی، اس کی عقلی قوت، اور اس کی فلسفیانہ پختگی ایک غیر متزلزل حقیقت ہے۔ یہ وہ ایمان ہے جو انسان کی فطرت کے عین مطابق ہے اور اسے ابدی سکون فراہم کرتا ہے۔

توحید محض ایک عقیدہ نہیں بلکہ انسان کی روح کا قرار، عقل کا سکون اور فطرت کی تکمیل ہے۔ جب بندہ وحدہٗ لا شریک پر ایمان لاتا ہے تو اس کے دل سے ہر قسم کا خوف، شک اور اضطراب مٹ جاتا ہے۔ یہی حقیقی عید کی خوشی ہے — کہ بندہ اپنے رب کی رضا میں سرشار ہو، اور اسی کی بندگی میں اپنی زندگی کا لطف پائے۔

تثلیث کی تاریکیوں میں الجھنے کے بجائے، توحید کا نور ہی وہ چراغ ہے جو انسان کو رب تک پہنچاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ دینِ فطرت سے دور ہونے والوں کو راہِ ہدایت پر لائیں، اور ہمیں استقامت کے ساتھ فہم و تدبر کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین۔


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

ویب گاہ کی بہتری کے لیے آپ کی قیمتی رائے ہمارے لیے اہم اور اثاثہ ہے۔

© 2023 جملہ حقوق بحق | اسلامی زندگی | محفوظ ہیں