علامہ انور شاہ کشمیری کی شان میں ایک نظم:

0



علامہ انور شاہ کی عظمت کا نہیں جواب،

حق کے علمبردار، تھے علم کے آفتاب۔


کادیانیت کے خلاف کھڑی کی دیوارِ کمال،

حق و باطل کے بیچ کھینچی ایسی مثال۔


علم و حکمت میں تھے وہ بے مثال،

حافظے کی قوت تھی ان کی بے زوال۔


عدالت میں کہیں جو بات نرالی،

انگاروں پر دکھانے کی دھمکی کمالی۔


یاد رکھے گئے دنیا، وہ عظیم انسان 

علامہ کی روشنی دے گئیں ایمان


ان کی علمیت، ان کی فصاحت و بلاغت 

اسماء الرجال میں تھی ایسی کمال مہارت۔


کادیانیت کے خلاف وہ جرات کی مثال،

حق و باطل میں کھینچی واضح لکیرِ کمال۔


ان کی باتوں میں تھا سچ کا جمال،

علم و ادب میں رہے ہمیشہ بے مثال۔ 


ماجد کشمیری 

ابن ماجہ کتاب الفتن کے راوی روایت کی تحقیق

0

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ


سنن ابن ماجه کتاب الفتن، باب حرمة دم المؤمن، میں ایک حدیث ہے: رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يطوف بالكعبة وهو يقول ما أطيبك وأطيب ريحك ... الحديث

 اس حدیث کی روایت کرنے والے صحابی کا نام ہندوستان سے چھپے ہوئے پرانے اور متداول نسخوں، نیز پرانے عرب ممالک میں شائع ہونے والے نسخوں میں : ( عبد اللہ بن عمرو) لکھا ہے ، واو کے ساتھ ۔ یعنی عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ۔

جبکہ درست یہ ہے کہ یہ حدیث بروایتِ عبد اللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہا ہے۔ محقق مطبوعہ نسخوں میں یہی ہے ، جیسے شعیب ارناؤط ، دار التاصیل، دار الصدیق وغیرہ کے مطبوعہ نسخوں میں۔

اور امام رازی نے بھی تحفہ الاشراف میں برقمِ 7284 پر اس کو مسند ابن عمر میں لکھا ہے۔


عبد اللہ بن ابی قیس النصری جو ابن عمر کے شاگرد ہیں، اور اس حدیث کی سند میں ان کا نام ہے، ان کا ترجمہ تھذیب الکمال میں ملاحظہ فرمائیں کہ ان کے مشایخ میں ابن عمر کا تو نام ہے اور اس کے آگے ابن  ماجہ کار مز (ق) لکھا ہے، مگر ابن عمرو کا ذکر نہیں ہے۔


ابن ماجہ کے پرانے قلمی نسخے بھی ابن عمر پر متفق ہیں، سوائے سلیمیہ والے نسخے کے کہ اس میں ابن عمرو ہے، جیسا کہ دار التاصیل کے محقق نسخے میں حاشیہ میں دیا ہے۔


الحاصل: ابن ماجہ کی سند میں ابن عمر ہیں۔


البتہ حافظ ابن کثیر نے مسند الفاروق میں موقوفًا اس روایت کی نسبت ابن عمرو وغیرہ کی طرف کی ہے، قال ابن کثیر :


لكن روي مثله عن ابن عمر وابن عباس وعبد الله بن عمرو : أن كلاً منهم نظر إلى الكعبة، فقال: ما أعظم حرمتك والمؤمن أعظم حرمة منك۔ اہ


لیکن ابن ماجہ والی مرفوع روایت تو ابن عُمر ہی کی ہے۔

واللہ اعلم

کتبہ العاجز : محمد طلحہ بلال احمد منیار، 22 رمضان


ترمذی شریف میں ایسی ہی روایت ابن عمر  ؓ کی سند سے ہی ہے۔


وَمَنْ تَتَبَّعَ اللَّهُ عَوْرَتَهُ يَفْضَحْهُ وَلَوْ فِي جَوْفِ رَحْلِهِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَنَظَرَ ابْنُ عُمَرَ يَوْمًا إِلَى الْبَيْتِ أَوْ إِلَى الْكَعْبَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ مَا أَعْظَمَكِ وَأَعْظَمَ حُرْمَتَكِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْمُؤْمِنُ أَعْظَمُ حُرْمَةً عِنْدَ اللَّهِ مِنْكِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ السَّمَرْقَنْدِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ حُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، ‏‏‏‏‏‏نَحْوَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَرُوِي عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوُ هَذَا.

تجارت میں حلال و حرام کی تمیز نہ کر پانے کی وجوہات۔

0

تجارت میں حلال و حرام کی تمیز نہ کر پانے کی وجوہات۔

تجارت میں حلال و حرام کی تمیز نہ کر پانے کی وجوہات۔


شقاوتًا یہ تسلیم کرنا پڑا ہے کہ تجارت میں دور حاضر و زمانۂ قریب کے مسلمان کسی اچھی پوزیشن پر نہیں ہیں۔ ہمارے لاشعوری حصے میں یہ بات مسلط کی گئی ہے کہ شعبہ جات کی فلاحی کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد، غیروں کے ہی شعبہ جات کو ترقی کے عرش پر پہنچانا ہے، جس کے عوض وہ ہمیں گھٹلی دیں گے اور خود آم کھائیں گئے۔


‎معروف رصافی نے کیا ہی گہری بات کی ہے۔


ناموا ولا تستيقظوا، ما فاز إلاّ النُوَّم ۔ خوابِ علفت میں ہی رہوں! جاگنا مت!، کامیابی کا راز یہی ہے


‎غلامی بھلا کیوں کر مسلمان کی طبعیت میں رکھی گئی ہوگئی؟ آپ اس گھٹلی کو لے کر اپنا شعبہ تو قائم کر سکتے ہی ہیں۔ نیز رزاق تعالی نے ہمیں زمین کا وارث تو بنایا ہی ہے، جس طرح دنیاوی مفلحین کو بنایا ہے ۔ جب وہ بزنس کر سکتے ہیں تو جن مسلمانوں کو ان کے دین نے تجارت کی ترغیب دی ہے اور قواعدِ تجارت اور اس کے ذرائع سے بھی آگاہ کیا گیا ہے، جس سے وہ کامیاب ہو جائیں۔ وہ بھلا کاروبار سے کس دلیل سےبھاگتے ہیں۔


مجھے اس کی افادیت پر کلام نہیں لکھنا ہے، کیوں کہ مخاطبین اس کے منفعت بخش ہونے کو تسلیم کرتے ہیں اور وہ میران کی فہارس میں انٹرپرنروں (تاجروں ) کو دیکھتے ہیں۔ مگر خود اس غریبی مکت اور نبوی کام کو کرنے سےکتراتے ہیں۔ اس کی بہت وجوہات ہوتی ہیں؛ کچھ کا ذکر کرکے جانبِ مقصود لب کشائی کرتا ہوں ۔ سب سے بڑی رکاوٹ جو بن جاتی ہے، وہ یہ ہے کہ ہاتھ میں انویسٹمنٹ (سرمایہ) نہیں ہوتا ہے۔ سرمایہ رقمِ غفیر کا نام نہیں ہے۔ بل کہ یہ وہ رقم ہے جو اپ کو دلاسا دیتی ہے۔ اس لیے آپ دیکھتے ہوں گیے کہ لون ( جو خود کی رقم نہیں ہوتی، بس بہانے) سے کاروبار شروع ہوتا ہے۔


 ہمیں کون رقم دے گا؟ جب آپ کا کردار و عزم اور پریزنٹیشن ایسی نہ ہو کہ آپ پر کوئی ساہوکار (قرض دہندہ ) بھروسا کرنے سے قبل سوچیں، تو پہلے خود کو تیار کریں ۔


‎ان قرض دہندگان یا سرمایہ کاروں سے رابطے کریں، جو آپ کے ساتھ منافعے میں شریک ہو کر آپ کو رقم و تجربہ دیں۔ اور باقی جو آج کل رائج طریقے ہیں، جیسے سرمایہ کسی کا اور محنت کسی اور کی، اور منفعت مقدارًا تقسیم وغیرہ ۔


 یہ سب تدبیرات تب کام آ سکتی ہے، جب آپ کے اندر کی غلامیت دم توڑ چکی ہو اور عزم آوری اور پلان اچھا اور تجربہ کاروں کے مشوروں کے ساتھ چلانے کی ایسی وسعت و ہمت جو خالی از کبر و نخوت ہوں۔


‎اب اس کی جانب مراجعت کرتے ہیں، جو مقصود ہے اعنی تجارت میں حلال و حرام کی تمیز کیوں نہیں رکھی جار رہی ہے؟ اس کی مضبوط اور پہلی وجہ تو یہ ہےکہ جو بزنس مین ہمارا رول ماڈل ہے یعنی جاگیردار ، ان کے ناقص و حرام کاروباری اصول میں حلت و حرمت کا کوئی باب ہے ہی نہیں، اور ہم انہی کی تقلید کرتے ہیں، جس کے باعث ہماری طبیعت بھی مادی، خود غرض بن چکی ہے، یعنی جو تقاضاءِ تجارت کے منافی ہے اور یہی سوءِ فہم گھر کر چکی کہ جاگیرداری کے ورے دھندا نہیں چل سکتا ہے، نہ فائدہ ہے۔ جب کہ حقیقی و صحیح کاروبار کی شرط اول ہے، اپنے اور دوسروں کی ادائیگی کا پورا صلہ دیا جائے۔ اور یہی ہے وہ جس کو برانڈنگ کہا جاتا ہے، یعنی جہاں خرچ ہونے والی رقم ضائع و فضول نہ لگے۔


دوسری وجہ : اس کی طرف ، ہمیں متنبہ کرنے والے بہت کم بل کہ کمترین دھیان دیتے ہیں۔ اپنی عمر میں نے بابِ اقتصادیات کے تبیان میں مسائل زکات کے ورے کچھ نہیں پایا ہے۔ جب کہ پیت کو سیراب کرنے والی چیزوں کا حرامی ہونا، بہیمیت کو تقویت اور ملکیت کو کمزور کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتی ہے اور یہی بہیمیت ہمیں باقی اعمال صالحہ کو نہ کرنے اور اعمال طالحہ کرنے پر آمادہ کرتی ہے۔ لہذا، اولین ترجیح والی ابواب میں، اس کو بھی شمار کرنا چاہیے۔ اللہ توفیق دے۔


تیسرا سبب مع حل: جیسے اسٹارٹ اپ پلان کو تشکیل دیا جاتا ہے اور اس میں کاروباری تصور، مارکیٹ کا تجزیہ، عملی منصوبہ اور مالی منصوبہ و تخمینہ ضروری ہے۔ بعینہ قوانین شریعہ کو پلان کا سرتاج بنانا چاہیں، یعنی اس کی حدود میں انتخابِ راہِ رزق اعنی حلال انڈسٹری کو منتخب کر کے قانون عمر ؓ کا پالن کرنے کی پوری کوشش کرنی چاہیے، یعنی بیع اور ربا میں تفریق کا مبادی علم ہونا چاہیے اور وقتًا فوقتًا اور خصوصًا مشکوک صورت پر متنبہ کرنے والے کی طرف رجوع کرنا چاہیے تاکہ فلاح دارین مل جائیں ، جو مقصودِ ازلی ہے۔


 چوتھی بمعیت حل کے: ہمیں نہیں ملتا راسخ العمل نمونے جن کی ہم اقتدا کرتے مگر قلیل، رفعِ ھذا کے لیے شائقین علما کو اپنے اقتصادی علوم کے داعیہ کے موافق تجارت کرنی چاہی تاکہ وہ نمونہ شرعی قرار پائیں۔


آخری مگر لازمی : مادیت دلوں میں سیرات نہ کر پائے، یہ قوی وجہ ہے کہ جب یہ اندر گھس جائیں تو ہمیں مجبور کر دیتی ہے یہ کہنے پر: بیع مثلِ ربا ہے یعنی حلال و حرام تو یکساں ہے، اس میں کچھ فرق نہیں، اور ہر جگہ یہی ہوا ہے، زبان اضطرارًا ایسے تاویلی جملے کہنے پر آمادہ ہو جاتی ہے۔


خلاصۂ کلام : تجارت کو فروغ محراب و ممبروں سے دیا جائے، معیشت و اقتصادیت کے بابوں کی تشریح و توضیح بھی اپنی شرعی ذمہ داری سمجھیں جیسے کہ یہ ہے۔ اور جس طرح ہر سال صلات و صوم کی ترغیب اور فضائل بیان کیے جاتے ہیں، تاکہ وہ طبیعت بن جائے بعنیہ تجارت کے اصول بھی دہرائیں تاکہ وہ فطرت بن جائے اور عمل کرنا تن آسان ہو جائیں ۔


نیز ، عوام کو اس کی اہمیت سمجھتے ہوئے اپنی عقلی اصولوں کے بجائے شرعی اصولوں کی پابندی کرنی چاہیے۔ واللہ اعلم۔


 نہیں قدرت ہے ہمیں اس پر، گر وہ دلوں کو پھیرنے والا اس مقناطیسی میلان سے متنفر نہ کر دے، ہم طالبِ رحمت و رزق و توفیق ہے ۔ رب العالمین ہمیں نوازے، آمین۔


ماجد کشمیری

٢١ شوال المکرم ١٤٢٥

پی ڈی ایف حاصل کریں۔


© 2023 جملہ حقوق بحق | اسلامی زندگی | محفوظ ہیں