التصریح بما تواتر فی نزول المسیح - ایک تعارف

0


التصریح بما تواتر فی نزول المسیح  - ایک تعارف

( قسط 1)


تمہید: 

کتابِ ہذا عالَمِ اسلام کے مایہ ناز فقیہ ' محدث ' ادیب' مصنف ' عربی کے بلند پایہ شاعر ' صوفی ' زاہد امام انور شاہ المسعودی الکشمیری رحمہ اللہ کی تصنیف ہے - اس پر تحقیق ' تخریج اور تعلیق کا کام عالَمِ عرب کے معروف ربانی عالِم ' محدث' ادیب شیخ عبد الفتاح ابو غدہ رحمہ اللہ نے انجام دیا ہے اور اس کو مفتی اعظم پاکستان اور امام انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ کے شاگردِ رشید مفتی محمد شفیع عثمانی رحمہ اللہ نے مرتب کیا ہے - میرے خیال میں کتاب کے استناد کےلئے اتنے بڑے علماء کی نسبت کافی ہے - کتاب عربی میں ہے لہذا اَولی تو یہی تھا کہ اس کا تعارف بھی عربی میں دیا جاتا لیکن اس سے میرے پیشِ نظر مقصود پورا نہیں ہوتا - اول تو ہمارے دیار میں عربی زبان سمجھنے والوں کی تعداد خاصی کم ہے - دوم یہ کہ عامۃ المسلمین کو کتاب کے نفسِ موضوع سے روشناس کرانے کے لیے اردو زبان کا انتخاب مناسب سمجھ میں آیا - اس سے یہ فائدہ بھی متوقع ہے کہ عوام کتاب سے اجمالاً متعارف ہو جائیں تو اہلِ علم اس کے مضامین کو جستہ جستہ مقامی زبان میں لوگوں تک پہنچا سکتے ہیں جس کی فی زماننا اشد ضرورت ہے - 

اس کتاب کا مرکزی موضوع سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے بارےمیں قرآن و حدیث میں وارد نصوص کا بیان ہے لیکن اس میں دیگر علاماتِ قیامت جیسے خروجِ دجّال ' یاجوج ماجوج ' دابّۃ الارض ' دخّان وغیرہ پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے - 

سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی حیات اور آخری زمانے میں نزول پر جہاں قرآن کریم میں واضح اشارات پائے جاتے ہیں وہیں پر اس بارےمیں اتنی کثرت سے احادیث وارد ہوئی ہیں کہ علماء نے ان احادیث کے نفسِ مضمون پر تواتر کا حکم لگایا ہے -

برصغیر میں جب قادیانی فتنہ نمودار ہوا جس کی پشت پناہی اُس زمانے میں برطانوی حکومت کررہی تھی (اور آج بھی کرتی ہے) تو مرزا قادیانی نے اپنے خسیس مقاصد کے حصول کے لیے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات اور نزول کا انکار کردیا - قرآن کی آیات میں انہوں نے باطل تاویلات سے کام لے کر اپنے تئیں نفس کو مطمئن تو کرلیا لیکن احادیث میں یہ مسئلہ اتنے وضوح کے ساتھ وارد ہوا تھا کہ اس میں باطل اور رکیک تاویلات کی گنجائش نہ تھی لہٰذا قادیانیوں نے احادیث کی حجیت ہی کا انکار کردیا - اس کے بعد منکرینِ حدیث کا فرقہ ظاہر ہوگیا - اس نے انکارِ حدیث کی لَے کو مزید آگے بڑھایا - کتبِ حدیث کو بے اعتبار قرار دیا - فقہاء ومحدثین پر زبانِ طعن دراز کی - سیدنا ابوھریرہ رضی اللہ عنہ اور ابن شہاب زہری رحمہ اللہ کی شان میں دل آزار اور گستاخانہ جملے کہے - علماء پر کیچڑ اچھالنے کی مذموم کوششیں کیں - ان مکروہ کاوشوں اور سازشوں سے مسلمانوں کا ایک طبقہ متاثر ہوگیا - اس میں زیادہ تر وہ لوگ تھے جنہوں نے مسیحی دانش گاہوں میں تعلیم حاصل کی تھی - قرآن ' حدیث ' فقہ ' اصولِ حدیث ' اصولِ شریعت ' اصولِ دین ' عقائد ' عربی زبان اور اس کے نحوی ' صرفی ' بلاغی امتیازات کا انہیں مبتدیانہ علم بھی حاصل نہیں تھا (اور نہ آج حاصل ہے) لہٰذا انہوں نے اپنی کچی فہم سے اہلِ باطل کی ان رکیک تاویلات اور مسلماتِ علم و معرفت سے انکار پر ایمان لایا پھر اس کی تبلیغ بھی شروع کردی - علمائے دین نے بروقت ان فاسد خیالات و نظریات کا سنجیدہ نوٹس لیا اور اس فتنے کو قلع قمع کرنے کے لیے ایک سے ایک مدلل و مفصل کتابوں کے ڈھیر لگا دیے اور منکرینِ حق کے مزعومہ دلائل کے تارو پود بکھیر دیے - انہی کتابوں میں امام انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ کی زیرِ تبصرہ کتاب بھی شامل ہے - چونکہ یہ باطل فرقے آج بھی موجود ہیں اور اپنے کچے علم ' ناقص فہم سلف بیزار مزاج ' باطل تاویلات ' فکری اضمحلال ' تقویٰ و خشیت سے عاری پن ' اصولِ دین سے عدمِ آگہی ' عقائد میں انحراف ' تقلیدِ فرنگ کے زیرِ اثر اپنے نظریات کی تبلیغ بھی کرتے رہتے ہیں اور سوشل میڈیا کے ذریعے قادیانی گمرہی اور انکارِ حدیث کی ضلالت کو اہل ایمان کے حلقوں میں پھیلانے کی بھی مذموم کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں لہذا اس کتاب کی اور اس موضوع پر لکھی گئیں دوسری کتابوں کی اشاعت ' ترویج ' تعارف اور تبلیغ وقت کا اہم تقاضا ہے۔

                                    (جاری)

(شکیل شفائی) 

سلسلہ اسلامی عقائد و معلومات

0

سلسلہِ اسلامی عقائد و معلومات

قسط 3 

سوال ۱۰۔ رسول و نبی کسے کہتے ہیں؟

 جواب۔ انسانوں میں سے اللہ تعالیٰ کے وہ خاص بندے جن کو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں تک اپنے احکامات پہنچانے کے لیے بھیجتا ہے ان کو نبی اور رسول کہا جاتا ہے۔


سوال ۱۱. مسلمان کو کن چیزوں پر ایمان رکھنا ضروری ہے؟ جواب۔ ہر مسلمان کو سات چیزوں پر ایمان لانا ضروری ہے (۱) خدا پر (۲) اس کے فرشتوں پر (۳) اس کی کتابوں پر (۴) اس کے تمام رسولوں پر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری نبی ہونے پر اس حیثیت سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی پیدا نہ ہو گا (۵) آخرت کے دن پر (۶) اور اس بات پر کہ بھلی یا بری تقدیر اللہ کی طرف سے ہے۔ (۷) مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے پر۔


سوال ۱۲۔ تقدیر کے کہتے ہیں؟


جواب۔ ہر بات اور اچھی بری چیز کے لیے اللہ تعالیٰ کے علم میں ایک اندازہ مقرر ہے اور ہر چیز کے پیدا کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ اس سے جانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اس مقرر کیے ہوئے اندازہ کو تقدیر کہتے ہیں۔


 سوال ۱۳۔ دنیا میں سب سے پہلے اور سب سے آخری نبی کون ہیں؟


جواب۔ سب سے پہلے حضرت آدم علیہ السلام نبی بن کر آئے اور سب سے آخری نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ 

سلسلہِ اسلامی عقائد و معلومات

0

سلسلہِ اسلامی عقائد و معلومات

قسط 2 از اسلامی زندگی / Majid Kashmiri 

سوال ۵. اللہ تعالی کے بارے میں اسلامی عقیدہ کیا ہے؟

جواب۔ اللہ تعالی اس تنہا ویکتا پاک و بے عیب ہستی کا نام ہے جو ہمیشہ سے ہیں اور ہمیشہ رہے گا، اس کا کوئی مثل و شریک نہیں، وہ تمام صفاتِ کمالیہ کا جامع ہے۔ 


سوال ۶. اللہ تعالی کی صفات کمالیہ کیا کیا ہیں؟جن پر ایمان لانا ضروری ہے۔

جواب۔ حیات، علم، سمع، بصر، قدرت، ارداہ، کلام اور خلق و تکوین۔ 

سوال۷. خدا تعالیٰ کے لیے بیٹا یا بیٹی ہونا ممکن ہے؟

جواب۔ خدا تعالیٰ نہ کسی کا باپ ہو سکتا ہے اور نہ بیٹا کیونکہ توالد و تناسل خاصہِ جسمانیت ہے اور اللہ تعالیٰ جسمانیت سے پاک ہے۔


سوال ۸: فرشتوں کے بارے میں اسلامی عقیدہ کیا ہے؟

 جواب۔ اسلامی عقیدہ یہ ہے کہ فرشتے اللہ کے معصوم و مکرم بندے ہیں۔ جن کو اللہ تعالیٰ نے نور سے پیدا کیا اور ہماری نگاہوں سے ان کو پوشیدہ رکھا، ان کی تعداد صرف خدا کو معلوم ہے۔


 سوال ۹۔ مشہور اور مقرب فرشتے کون ہیں؟ اور ان کی ذمہ داریاں کیا ہیں؟

 جواب۔ چار فرشتے مشہور و مقرب ہے (۱) جبرئیل علیہ السلام جو خدا تعالیٰ کی کتابیں اور احکام پیغمبروں تک لاتے تھے۔ (۲) اسرافیل علیہ السلام جو قیامت میں صور پھونکیں گے۔ (۳) میکائیل علیہ السلام جو بارش کا انتظام کرنے اور مخلوق کو روزی پہنچانے پر مقرر ہیں. (۴) عزرائیل علیہ السلام جو مخلوق کی روح نکالنے پر مقرر ہیں۔


قسط سوم 

اسلامی عقائد و معلومات

0

سلسلہِ اسلامی عقائد و معلومات 

قسم 1 از اسلامی زندگی/ ماجد کشمیری 


سوال ۱. ایمان کیا ہے؟ 

جواب: خدا اور اس کے بھیجے ہوئے رسول پر دل سے یقین اور زبان سے اقرار کرنے کا نام ہے۔ 


سوال ۲. اسلام کیا یے؟

جواب: اسلام ایک سچا دین ہے جو یہ سکھاتا ہے کہ خدا ایک ہے حضرت محمد ﷺ اس کے بندے اور آخری رسول ہیں قرآن شریف خدا کی آخری کتاب ہے دنیا و آخرت اخرت کی تمام بھلی باتیں اسلام میں ہیں۔ 

سوال ۳. اسلام کی بنیاد کن چیزوں پر ہے؟

جواب: اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے ان میں سے اول نمبر پر ایمان ہے یقیہ بر چیزیں اعمال ہیں۔ نماز، روزہ ، حج ، زکات۔

سوال ۴. عقیدہ اور عمل کا باہم کیا تعلق ہے؟۔

جواب: ایمان کہ دو اجزا ہیں : (۱) عقیدہ جس کا تعلق دل سے ہیں (۲) عمل جس کا تعلق ظاہری اعضا سے ہیں ایمان میں عقیدہ اصل اور بنیاد کی حیثیت رکھتا ہے جبکہ عمل کی حیثیت اس کے بعد ہے. صحیح عقیدہ کے بغیر کوئی عمل مقبول نہیں۔

قسط دوم

کشمیر میں پاسپورٹ بنانے کا طریقہ| What is the procedure for making a passport in Kashmir?

0

پاسپورٹ کیا ہے؟



پاسپورٹ ایک ایسی دستاویز ہے جو اپ کو بیرون ملک جانے کے لیے درکار ہوتی ہے۔ اس کی اہمیت تبھی اشکار ہوتی ہے جب اس کی ضرورت ہوتی ہے۔

کشمیر میں پاسپورٹ بنانے کا طریقہ کار کیا ہے؟

کسی بھی کامن سروس سینٹر یا خود آن لائن پاسپورٹ کے لیے آپلائی کریں۔ جس کی فِی گر چہ 1500 ہے، مگر سروس چارجوں سمیت 1600 سے 1700 کا خرچہ ہوگا۔ 

اسی فائل میں آپ کا اپوائمنٹ ڈیٹ ہوگی۔ یاد رہیں کہ اس کی ہاڈ کاپی نکالنے کی ضرورت نہیں ہے۔ موبائل میں جو محفوظ ہوگی وہ آپ کے لیے کافی ہوگی۔ 


جس دن آپ کو پاسپورٹ آفس جانا ہوگا: جو ڈل لیک (جھیل ڈل سری نگر) کے بغل میں واقع ہے۔ اس وقت آپ اپنے ساتھ :

1۔ آدھار کارڑ، 

2۔کوالیفیکیشن سرٹیفکیٹ( یعنی اگر اپ 12ویں میں پڑھ رہے ہیں تو دسویں کی یا اگر گریجویشن کر رہے ہیں تو بارویں کی۔ بلکہ ساتھ رکھیں تمام مناسب ہوگا۔

3 ڈی او بی 

ڈی او بی، دسویں کی مارسک شیٹ کا زراکس (فوٹو سٹیٹ) ساتھ رکھیں نیز ان پر اپنے دستخط بھی کریں۔

جیسے ہی آپ پاسپورٹ آفس میں داخل ہوں گے اگر آپ کو انتظار کرنا پڑے تو آپ کو انتظار گاہ کی طرف اشارہ کیا جائے گا، اگر نہیں تو آپ سیدھے جائیں گے، آگے دریا نہیں کنٹین ملے گا: وہ فوٹو سٹیٹ بھی کرتا ہے، وہاں پر بھی آپ یہ سب کام کر سکتے ہیں مگر وقت لیتا ہے۔


آگے سے بائیں طرف، جب آپ پہنچیں گے، تو دفترِ تصدیقچی میں داخل ہوگے۔ وہاں ان کو آئی ڈی نمبر (جو آپ کے ریسپٹ پر ہوگی، وہ) دیکھائیں گے اور دستاویزات جن کا ذکر بالا میں ہوا۔ ۔۔۔ بعد از توثیق وہ آپ کو دائیں طرف جانے کا اشارہ کریں گے۔ اب وہاں پر آپ کو ایک اور صاحبہ ملیں گی جو سیریل نمبر دیں گی۔ 


جب آپ کا نمبر آئے گا تو آپ دوسری منزل پر تشریف لیجئے، وہاں پر پھر سے آئی ڈی اور دستاویزات کو دیکھائیں گے۔ ۔۔۔وہ تصدیق اور آپ کا ایک فوٹو لیں گے اور آخر میں آپ کو ایک پرچی تھما دیں گے، وہ لے کر گھر آئیں اور انتظار کرنا ہے کہ کب مجھے تھانے (پولیس ٹیشن) کی طرف سے ایک کال آئی گی۔۔۔ 


ایڈمنسٹریشن کی جتنی رفتار ہوگی، اسی کے موافق سمے لگتا ہے کم از کم دس سے پندرہ دن۔۔۔ ان دونوں میں آپ ایک اور کام مکمل کریں کہ نمبردار (مگدم ) کا تصدیق نامہ لیئے کر رکھیں۔

جیسے آپ کو تھانہ سے کال آئی، آپ تصدیق نامہ لیئے کر وہاں پہنچ جائیں۔۔۔۔ روکیں! 60 روپے کا خرچہ اور کرنا ۔۔۔۔کسی سروس سینٹر سے پاسپورٹ فائل ساتھ لیے کر تھانے میں داخل ہو جائے جیسے کہ اپ کوئی مایہ ناز شخصیت ہیں۔ 

کلیرک کی دفتر میں جائیں گے، وہ اپنی کارؤائی کریں گے، پھر سی آئی ڈی کی کال کا منتظر ہونا ہوگا۔ ۔۔۔۔ ۔۔۔ 


آپ پڑھتے پڑھتے بور ہو گئے ہوں گے اور آپ نے تھان لی ہوگی کہ میں تو بناؤں گا ہی نہیں پرنتو سن لیجیے، تب تک ایک اور کام کر کے رکھ لیجئے والد صاحب سے کہیں کہ عدالت میں جائیں، ایفی ڈیوٹ بنام پاسپورٹ ویری فکیشن بتصدیقِ جج لائیں۔ ذرا دیکھو ان کی جانب! والدہ کو بول رہیں ہیں! خیر احتراما ان کو بولیں، ایک فوٹو گرافر ساتھ لی جائیں۔ اور اگر ہو سکے تو 150 فی دیں۔ ارے ارے کنجوسی کیوں کر رہیں ہوں کچھ اور بھی دیں۔ 

یہ ضروری نہیں ہے شکل دیکھ کے وہ بتلاتے ہیں کہ لانا ہے یا نہیں سمجھ گئے نا۔ 


جب سی ائی ڈی کی طرف سے کال آئی گی تو وہ لے کر آپ وہاں جائیں گے تو یوں آپ کی تمام کاروائی مکمل ہو جائے گی پرنتو  پھر بھی راقب ہونا ہوگا۔ مگر یہ انتظار بے وفا بیوی کی پیار کی مانند ہوتا ہے۔ جو آخر کار آپ کے پاس ہی لوٹ کے آتا ہے، یعنی پاسپورٹ آپ گھر میں پہنچ جائے گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ۔ 


دنیا کی پہلی استانی والدہ

0

والدین مربی ہوتیں ہیں، ایسے مربی کہ ہر فن کو سیکھنے کے لئے ان کی ضرورت ہے۔ آپ کی لنکتی زبان میں تیزی لاتیں ہیں۔ چھوٹے جسم کو توانائی عطا کرتیں ہیں۔ آپ جو باہر کی دنیا سے سیکھتے ہیں وہ ٹہنیاں پر پھل آنا ہے مگر والدین زمین ہیں۔

والدہ سے آپ نے کیا سیکھا جو آپ انہوں استانی کہتیں ہیں؟

سنیں: چپ چاپ ایک ہی جگہ پر اعنی مطبخ میں اپنا کام کرتے رہنا سکھایا یعنی خاموشی کے ساتھ لائبری میں مطالعہ کرتے رہنا۔ 


باورچی خانے میں سب کے لیے کھانا تیار کرنا اعنی مطالعہ کر کے سب کے لیے مواد جمع کرنا۔


ضرورت محسوس کرتے ہی نظم الطعام کرنا اعنی جس مسئلے کی ضرورت محسوس ہو اس کی تفسیر کرنا۔


کھانے میں نمک زیادہ ہو تو ہر ایک کا طنز سہ لیتی ہے اور پھر اسے ٹھیک کرنے کی پوری کوشش کرنا اعنی مواد میں جامعیت نہ ہو اس کو جامع بنانے کی کوشش کرنا۔

اس کا نام ہے معرفتِ الہٰی جو علم کی انتہا ہے۔ 

                  من ھو علم ھذا الا امی

لاپتہ فوجی جاوید احمد وانی کی فائل فوٹو

0

معدوم فوجی جاوید احمد وانی کی فائل فوٹو







سری نگر- جموں و کشمیر پولیس نے متعدد افراد سے پرسش کی اور ساپہی جاوید احمد وانی کی کال کی تفصیلات کی جانچ پڑتال کی، جو کچھ دن قبل اپنے آبائی ضلع کولگام سے چھٹی کے دوران لاپتہ ہو گئے تھے، ذرائع سے ہہی خبر ملی۔

لداخ کے علاقے میں تعینات سپاہی کو اتوار کو حاضری دینی تھی ۔ اس کی گاڑی استھل میں لاوارث پائی گئی۔

حکام نے بتایا کہ درجن سے زائد افراد سے استفسار کیا گیا اور کال ریکارڈوں کی جانچ کی جا رہی ہے کیوں کہ معدوم فوجی کی تتبع کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔

سپاہی کے والد نے ان لوگوں سے اپیل کی ہے جنہوں نے ان کے بیٹے کو اغوا کیا ہیں، وہ انہیں زندہ رہا  کردیں گر چہ وہ اس شرط سے مشروط کر دیں کہ یہ فوجی اہل کاری چھوڑ دیں ۔۔۔ وہ خاندان کا واحد فعال ہے

"میں تمام بھائیوں سے اپیل کرتا ہوں کہ اسے زندہ چھوڑ دیں۔ اگر اس نے کسی کو تکلیف پہنچائی ہے تو میں اس کے لیے معذرت خواہ ہوں۔ محمد ایوب وانی نے اتوار کو نامہ نگاروں کو بتایا کہ اگر وہ چاہیں تو میں اسے بھی نوکری چھوڑ دوں گا۔ 

© 2023 جملہ حقوق بحق | اسلامی زندگی | محفوظ ہیں