مدرسے اور ہم | مدرسے کی اہمیت و فضیلت| مدراس و عامۃ الناس کی ذمہ داریاں

0



 وہ خطۂِ زمین آباد ہوتی ہے، آغوش میں مدرسہ ہو جس سے۔ ہماری سر زمین پر اللہ کی عاطفت ہوئی ایسی، ملا مکین مدرسے کو یہی۔ گرچہ عنفوان میں ہے مگر قلیل مدت میں توسیع ہونا، اس کے عزم آوری کا ثبوت ہے۔ اللہ کی عاطفت و عافیت سے وہ صحیح معنوں میں اسلام کے خدمات انجام دے گا۔ 

مدارس کی اہمیت و فضیلت کا تذکرہ ہی نہیں۔ کیوں کہ یہ تاباں ہے کہ مدارس ریڈ کی ہڈی ہے۔ یہ بھی درخشاں ہے مدارس کے نصاب سے آج کی مترقی یونیورسٹیاں ہم سری نہیں کر سکتیں ہیں۔ یہ الفاظ میں ہیجانی نہیں بل کہ تحقیقی طور پر نوشت کیا ہیں۔ نہ صرف علومِ دینیہ اور اس کی تحصیل کے لیے استعمال شدہ زبانوں میں بل کہ انگریزی میں فاغلین وہ کمال حاصل کر چکیں ہیں جس کی مثال باقیہ یونیورسٹیوں میں ملانا عدم کے برابر ہے۔ زبان گرچہ ہر فن کے اکتساب کے لیے واجب ہے، ان کے ورے ہر ہنر میں مفلح نظر آنے والے طلبۂ مدارس ہوتیں ہیں۔ یہاں یہ وضاحت کرنی بھی رو سمجھتے ہوں، کہ کچھ مدارس میں نصاب و نظام میں، وہ اضحلال آشنا ہوتی ہے جس سے وہ عصر حاضر کے تقاضوں اور اس سے مساوات نہیں کر سکتے ہیں۔ ان میں تغیر لانے کی اشد ضرورت ہے ( پر ہر کلیہ کے لیے تنوع تخصصات ہونے بھی لازم ہیں۔)

عصرِ حاضر جن کا متقاضی ہے، ان کو پورا کرنے مدارس کی ثقافت اور اسلاف کی میراث ہے۔ اگر ہم اس میں اضمحلال کا مظاہرہ کریں گے تو اسلام کو خاصا نقصان ہو سکتا ہے۔ یہ جمود بھی نظر آنے لگا ہے کہ علومِ قرآنیہ اور علومِ حدیث کو ہی علوم شرعیہ تصور کیا جاتا ہے جب کہ دینِ فطرت ہر پہلو میں رہنمائی کرتا ہے جو کہ اس کی خصوصیت ہے۔ اس لیے تمام علوم نافع علوم شرعیہ کہلائے گیں۔

 مدارس اسلامیہ جمار، فروغ دین کے لیے اعیان کے ساتھ ساتھ تبلیغ و تفہیمِ شریعت کے لیے مواد بھی تیار کرتے رہتے ہیں۔ اسی کام کو عہدِ نبوت میں، ہر چیز پر ترجیح دی جاتی تھی۔ پر اب کیوں نہیں؟ بسببِ بُعدِ عہدِ نبوت ہم ہر طرح سے دانشکدۂ اسلام سے دوری اختیار کرتے رہیتے ہیں، جب کہ تعلیمِ نبی برحق صلی اللہ علیہ وسلم یوں تھی؛ 

حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے یہاں جب حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی ولادت ہوئی تو اس موقع سے انھوں نے آپ میں سے فرمایا کہ کیا میں اپنے بیٹے کا عقیقہ کر لوں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ نہیں ؛ بلکہ تم یہ کام کرو کہ اس کے سر کے بال کاٹ لو اور اس کے وزن کے برابر چاندی غرباء اور اوفاض (وہ صحابہ کرام مراد ہیں جو تعلیم کے لئے بے سروسامانی کی حالت میں مسجد نبوی میں پناہ گزیں تھے ، یعنی اصحاب صفہ ) پر صدقہ کرلو؛ چنانچہ حضرت فاطمہ نے اس موقع سے اور حضرت حسین کی ولادت کے موقع پر بھی یہی کام کیا۔

عقیقہ کی خوشی کے موقع پر ہر انسان کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ اپنے اعزاوا قارب اور دوست و احباب کو اس مسرت کے حوالے سے مدعو کرے اور رسم دنیا بھی یہی ہے ، لیکن اس کے باوجود آپ کسی کا یہ مال اصحاب صفہ پر صدقہ کرنے کی ترغیب دینا یہ اس بات کا غماز ہے کہ طالبان علوم نبوت پر خرچ کرنا عام مسلمانوں پر صدقہ کرنے سے بدر جہاں بہتر ہیں ( مولانا محمد فرقان پالن پوری دامت برکاتہم العالیہ)

انہیں طالبان علوم نبوت کے بارے میں قرآن میں اشارہ ہیں، بل کہ اکثر مفسرین کے نزدیک ہے کہ انہیں ہی متعلق نازل ہوئی ہے مندرجہ آیت:  

اصل حق ان ضرورت مندوں کا ہے جو اللہ کے راستے میں گھرے ہوئے ہیں ، وہ زمین میں چل پھر نہیں سکتے ، دست سوال نہ پھیلانے کی وجہ سے ناواقف لوگ ان کو مالدار سمجھتے ہیں، تم ان کو ان کے چہرے سے پہچان سکتے ہو ، وہ لوگوں سے نرمی کے ساتھ مانگا نہیں کرتے ، تم جو بھی مال خرچ کرو گے، اللہ تعالی اس سے واقف ہیں ۔( آسان ترجمہ قرآن: مولانا خالد سیف اللہ حفظہ اللہ تعالیٰ)

اب قرآن و حدیث و فقہاءِ اسلام نے ان کے لیے متعین مصارف رکھیں ہے۔ 

جیسے حضرت ابن نجیم مصری البحر الرائق میں فرماتے ہیں :


التصدق علی العالم الفقیر أفضل۔ 

محتاج عالم دین پر خرچ کرنا اور اسے زکوۃ کا مال دینا عام لوگوں پر صدقہ کرنے سے اور ان کو زکوۃ کا مال دینے سے بہتر ہے۔

اسی طرح علامہ ابن عابدین شامی نے رد المحتار میں یہ بات نقل فرمائی ہے : أن من مصارف بیت المال کفایۃ العلماء ، وطلاب العلم المتفرغین للعلم الشرعی

بیت المال کے مصارف میں سے ایک مصرف علماء کی مالی اعانت کرنا ہے اور ان لوگوں کی جنھوں نے اپنے آپ کو علوم شرعیہ کے حصول کے لئے فارغ کر رکھا ہے۔

احتصارا، باہم، طالبان علوم شرعیہ و عامۃ الناس اپنی ذمہ داریاں سمجھیں اور ان فرائضہ کو ادا کرنے میں جد و جہد کریں، تاکہ وہ علمی میراث زندہ جاوداں رہیں۔ وہ عدہ پورا ہو جس کی بشارت رب العالمین نے دی تھی: کہ تم ہی غالب رہو گے!





بیوی کی پرایویسی

0



حضرت مولانا مفتی طارق مسعود صاحب مدظلہ 

  ایک بات خوب سمجھ لو کہ شرعی اعتبار سے نہ بیوی اپنے کسی رشتہ دار کو شوہر کی اجازت کے بغیر گھر میں رکھ سکتی ہے۔ اور نہ شوہر اپنے کسی رشتہ دار کو بیوی کی اجازت کے بغیر اسکے گھر میں رکھ سکتا ہے۔

کسی بھی اعتبار سے آپکی بیوی کی پرائویسی میں دخل اندازی ہورہی ہے تو شوہر بیوی کی اجازت کے بغیر کسی بھی رشتہ دار کو گھر میں نہیں رکھ سکتے۔ والدین ساتھ رہیں گے لیکن والدین اُس صورت میں ساتھ رہیں گے کہ آپکی بیوی کا مکمل الگ ایک کمرہ ہو اور اسکے لیے باقاعدہ ایک ایسا انتظام ہو کہ اسکی پرایئویسی میں آپکے والدین بھی ذبردستی کی مداخلت نہ کرسکیں۔

والدین بھی بہو کے ساتھ اس صورت میں رہ سکتے ہیں کہ اگر والدین اپنی بہو کو بلاوجہ ٹارچر نہ کرتے ہوں۔ اگر شوہر کو یہ اندازہ ہوگیا کہ میں نے بیوی کو گھر میں الگ کمرہ لیکر دیا ہوا ہے اسکے باوجود میری اماں بار بار میری بیوی کو ٹینشن دیتی ہے تو پھر شوہر پر لازم ہے کہ آپ اپنی بیوی کو اپنی اماں سے الگ رکھیں۔

کیوں کہ عورت جب شادی کرکے آئی ہے تو وہ ٹینشن لینے کے لیے نہیں آئی وہ لائف کو انجواۓ کرنے کے لیے آئی ہے۔ اللہ نے نکاح خوشیوں کے لیے رکھا ہے۔ ٹینشنوں کے لیۓ اللہ نے نکاح نہیں رکھا۔

مسئلہ درحقیقت یہی ہے کہ بیوی کو الگ گھر میں رکھا جاۓ اور والدین کو الگ گھر میں رکھا جاۓ۔ جوائنٹ فیملی کے جو فائدے ہیں وہ بہت زیادہ ہیں۔ اکٹھے رہنے میں جو برکتیں ہوتی ہیں وہ الگ رہنے سے نہیں ملتیں۔ لیکن یاد رکھو کہ اکٹھے رہنے کے بھی کچھ اصول ہیں۔ دل کو بڑا کرنا پڑتا ہے برداشت پیدا کرنی پڑتی ہے۔ اور یہ برداشت آج کل مارکیٹ میں شارٹ چل رہی ہے۔

اس لیے ہم لوگوں کو آج کل یہی مشورہ دیتے ہیں کہ جب تم شادی کرو تو بیوی کو الگ گھر میں لیکر آؤ۔ اماں ابا کے گھر میں مت لیکر آؤ۔ میں ہمیشہ لوگوں کو مشورہ دیتا ہوں کہ شادی سے پہلے الگ گھر کا انتظام کرو پھر شادی کرو۔

پھر کبھی اماں ابا کو بہو سے ملوانے لے آؤ اور کبھی بہو کو اماں ابا سے ملوانے لے جاؤ اور اپنی بیوی کے سر پر ہاتھ رکھواؤ۔

والدین غصہ کرتے ہیں کہ ہم نے پال پوس کر بچے کو جوان کیا اور ہم سے ہمارا بیٹا الگ ہوگیا۔ ارے بھئی وہ قیامت تک کے لیے الگ نہیں ہورہا وہ روزانہ آۓ گا اور آپ سے ملاقات کرے گا آپکی خدمت بھی کرے گا۔ اگر سب اکٹھے رہتے تو ہم سب وہیں رہتے جہاں حضرت آدم علیہ السلام اور اماں حوا رہا کرتے تھے۔ اب وہ تو پتہ نہیں دنیا میں کہاں آۓ تھے۔ لیکن پوری دنیا اللہ نے بھردی۔ اسی لیے تو بھری ہے کہ شادی کر کرکے الگ ہوتے گۓ۔ اگر انہی کے گھر میں رہ رہے ہوتے تو آج کتنا بڑا بنگلہ ہوتا حضرت آدم علیہ السلام کا۔

تو اس لیے میرے بھائی افضل یہی ہے بہتر یہی ہے کہ اگر فساد سے بچنا چاہتے ہو تو الگ گھر کا انتظام پہلے کرو اور شادی بعد میں کرو۔ اس میں اگر اماں ابا غیرت کے طعنے دیتے ہیں تو اماں ابا کا دل سے احترام کرو لیکن بعد میں جب لڑ کر نکلو گے نا تو اس وقت جو بیغیرتی کے طعنے ملیں گے اس سے بہتر ہے کہ تھوڑے سے طعنے برداشت کرکے الگ ہوجاؤ۔

ہاں اگر اپکا بہت ہی اچھا اعلی اخلاق والا خاندان ہے آپکی اماں بڑی برداشت والی ہیں بہت پیاری اماں ہیں نیک اماں جو بہو کو اپنی سگی بیٹیوں سے بھی زیادہ عزیز سمجھتی ہو اور بہو بھی ایسی مل جاۓ جو زبان پر ایلفی لگا کر رکھتی ہو تو پھر ساتھ رہنا چاہیے ساتھ رہنے کی برکتیں بہت زیادہ ہیں۔

انتخاب و پیشکش : اسلامی زندگی (ماجد کشمیری)

قربانی: بت شکن کے اٹھائے ہوئیں تکلیفات کا ثمر ہے ۔

0


لفظِ قربان میں تارید کر کے جو کلمہ قربانی مؤخذ ہے اس کے معنی وہی ہے جس کی کمی آج ہماری قربانیوں میں پائی جاتی ہے یعنی وہ عمل جس سے للہ کا قرب حاصل کیا جاتا ہے۔ اس میں "ی" کا اضافہ دیکھ کر کے اس سے خود کی قربانی (تناولِ گوشت کا عمل) سمجھنے لگیں گویا کہ اس میں خدا کا قرب ہی نہیں رہا۔ جب کہ یہ وہ قربانی تھی جس سے ابوت کی فطرت میں تغیر آیا تھا۔ اس کا احتمام و احترام علامتِ زہد و تقویٰ ہے۔ اس کی ادائگی ہر نذر و نیاز و قول و عمل و محبت و نفرت، الٰہی کے لئے ہونے کا ثبوت دینا ہے.


 نسک (قربانی)، قتنۂ مال سے محفوظ رکھتا ہے۔ خوفِ باطل کے لیے مزیل ہے۔ اسلاف کی سقافت کی حفاظت کی ذکریٰ( یاد) ہے۔ بت شکن کے اٹھائے ہوئیں تکلیفات کا ثمر ہے۔ ولدِ عنفوان کے صبر کا ثمر ہے۔ سہارے کا مستمد ( ضرورت مند) کی محبت کی آزمائش کا ثمر ہے، اک اشارے پر مر مٹنے والے شخص کے عمل کا ثمر ہے۔ اس کردار کی عکاسی کا طلب گار، کی عمل ہے۔ والدین کی فرماں برداری کا ثمر ہے۔

اس کی افادیت کا تذکرہ حدیث میں یوں وارد ہوا ہے: خون کا پہلا قطرہ گرنے سے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔ پر ہم اخلاص سے محروم بھی تو ہیں، پر لاتعداد قطرات پر کسی ایک پر بھی اخلاص محتقق ( ثابت) ہوا تو ہم سرفراز ہوئیں اور اگر ہر قطرے پر اخلاض ہوا تو؟ ہر بوند پر اہل خانہ کو ایصال ثواب کیا!، تو ہم ان کے حق میں بھی صحیح ثابت ہوگیں۔

 اس کو مختصر الفاظ میں بیان کرنا چاہیں تو یوں کہا جاسکتا ہے: جانور کا ذبح کرنا صرف زاویہ ہے، اس کی حقیقت اِیثارِ نفس کا جذبہ پیدا کرنا ہے اور تقرب الٰہی ہے۔ بس یہ جذبات حاصل ہوگئیں وہ رافع ہوا دنیا و آخرت میں، اس کی مالیاتی زندگی میں مال کی کمی ہوگی اور نہ اخروی زندگی میں مکافاتوں کی۔ ان شاءاللہ تعالیٰ۔

 اللہ ہمیں ان کے حصول کی تڑپ پیدا کریں اور کونین میں کامیاب بنائیں۔ امین 


ماجد کشمیری 

© 2023 جملہ حقوق بحق | اسلامی زندگی | محفوظ ہیں