تقویمِ ہند
ہجری و عیسوی تاریخیں — ہندوستان کے مقامی وقت کے مطابق
آجہجری تاریخ مقامی رؤیتِ ہلال کے مطابق ایک دن آگے یا پیچھے ہو سکتی ہے۔
ہجری تاریخ ہندوستان کے مقامی وقت (Asia/Kolkata) کے ساتھ ایک روزہ مقامی فرق کو ترجیح دیتی ہے؛ مقامی شرعی رؤیت کی صورت میں تاریخ ±۱ دن مختلف ہو سکتی ہے۔

جاب یا تجارت| کاروبار یا ملازمت

2

 اس دور معشوق میں نوجوانِ قوم پر جو معاصرانہ دباؤ ہے اس سے نہ انفرادی نہ قومی کامیابی حاصل ہوسکتی ہے۔ ہر ملک میں سب سے زیادہ نوجوانوں سے پوچھا گیا سوال یہی ہو سکتا ہے کہ پڑھو، تعلیم حاصل کرو۔ ہر نوجوان کا ولی ناقص التحقیق سے تنبیہ کرتا ہے تاکہ اس کا بیٹا اچھی سی نوکری کر سکیں۔ میں اس بات سے متفق ہوں کہ جاب ( نوکری) کرنا برا کام نہیں ہے پر میں ضرور کہہ سکتا ہوں کہ کمزور دل اور ایک ہی راستہ کو متعین کرنے والا ناقص الفہم شخص ضرور ہو سکتا ہے۔ اس پہلو کو اگر اسلامی نظریے سے دیکھا جائے تو اسلام میں غلامی کو چھوڑ کر کاروبار کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔ اگر تجارت پر تحقیقی روشنی ڈالی جائے تو یہ عیاں ہو جاتا ہے میران تجارت سے ہی بنے ہوئے ہیں۔ عرب کے میران تاجروں سے آپ بہت زیادہ واقف نہ ہوں گے اس لیے میں آپ کو اپنے ملک کے کچھ امیر اشخاص کا تذکرہ کرتا ہوں۔ ہندوستان کے سب سے امیر شخص مکیش امبانی کا نام آپ نے سنا ہی ہوگا جو امیروں کی فہرست میں صف اول میں شمار کیے جاتے ہیں۔ یہاں ایک نوکری کرنے والے شخص کی جتنی سالوں کی بچت لاکھوں میں ہوتی ہے۔ مکش امبانی کو اتنے کروڑ کی بچت  ہوتی جیسے ایک رپورٹ سے پتہ چلا کہ ان کو 613500 کروڑ بچت ہے ۔میں نے ایک رپوٹ پڑی جو ہندوستان کے سب سے امیر ترین لوگوں کی تھی جس میں کہیں پر غلطی سے بھی نوکری کرنے والے شخص کا تذکرہ نہیں ملتا۔ صرف یہ ایک نہیں ہے 142 کروڑ پتی رواں سال میں شمار کیے گئے ہیں۔ تمام ذی شعور انسان اس بات کو تسلیم کرتیں ہے نوکری سے بہتر تجارت ہے۔ پر کہیں رسموں میں الجھے ہے، کہیں فیملی کے دباؤ، کہیں اپنی اضمحلال میں ہے۔ بس عامیانہ ذہن بن چکا ہے کرنی ہے تو بس نوکری۔ بڑی عجیب بات ہے نا جو کام آپ دوسروں کے لئے کر سکتی ہوں آپ خود کے لیے کیوں نہیں کر سکتے ہو۔


تجارت کرنے کے لئے ہمیں رقم کی ضرورت ہے؟

تجارت کو یک طرفہ رکھیں آپ ہمیں بتائیں کہ کون سے چیز ہے جس کے لیے پیسے نہیں لگتے ہیں۔ کیا نوکری کرنے کے لیے رقم خرچ نہیں ہوتی؟ کیا تعلیم حاصل کرنے کے لیے پیسے خرچ نہیں ہوتیں؟ آپ اس مضمون کا مطالعہ کر رہیں ہیں اس کے لئے بھی آپ پیسے خرچ کر چکے ہیں۔ آپ ذرا غور کریں صرف تجارت کرنے پر ہی کیوں سوال اٹھایا جاتا ہے۔ دراصل راز کچھ اور ہے۔ کمزور اشخاص جس چیز سے ڈر رہے ہیں وہ نقصان ہے ۔ وہ یہ تصور کرتے ہیں کی تجارت کرنے میں نقصان بھی اٹھانا پڑتا ہے۔ پر نقصان وہی اٹھاتے ہیں جو حلال تجارت اور بہترین طریقہ (اسلامی قوانین) سے تجارت کو انجام نہیں دیتے ہیں۔ 


اب سوال ہے کہ تجارت کے لیے رقم لگانی پڑتی ہیں۔ یہ بات بالکل صحیح ہے۔ میں یہاں پر ضرور اس بات کی طرف اشارہ کرنا چاہتا ہوں کہ پیسے دو طریقے سے کمائے جا سکتے ہیں۔ اولاً پیسے تجارت میں لگائے جائے اور اس سے منافع حاصل کیا جائے۔ ثانیاً دوسروں کو منافع کما کے دے دینا اور اپنی مزدوری لینا۔ دونوں طرف کچھ نہ کچھ خرچ ہو جاتا ہے تجارت میں آپ کے لگائے ہوئے پیسے منافعے کے ساتھ واپس آتے ہیں۔ اور جاب( نوکری) میں آپ جنسی رقم خرچ کر کے تھوڑی بہت مزدوری حاصل کر لیتے ہیں۔ بہترین اور معزز طریقہ کوسا ہے آپ جود متعین کیجیے۔ 


اس تلخ حقیقت سے کون انحراف کر سکتا ہے کہ کوشاں کبھی ناکامیاب ہو سکتا ہے۔ آج جس دور سے ہم گزر رہے ہیں وہ دورِ تجاریت ہے۔ پر ہم مغربیت سے آلودہ ہے ہمارا ذہن ابھی غلامیت سے انکار نہیں کرتا ہے۔ یہ مغربیت کی روش ہے کہ ہم غلامیت کے عادی بن چکے ہے۔ مغربیت کے مکر و فریب میں اکثر افراد شکار ہوتے ہیں وہ لوگوں کے ذہنوں میں نوکری، غلامی کی حسرت کو اجاگر کرتے ہے اور خود تجارت میں بے حد مصروف ہے۔ وہ تجارت کی طاقت سے آشنا ہے۔ پر ہم اسے دور بھاگتے ہیں۔ للہ تعالا ہمیں تفہیم کی توفیق عطا کریں اور کونین میں کامیاب فرمائیں۔ امین 

ماجد کشمیری

نیٹ ورک مارکیٹنگ کے متعلق چند سوالات کے جوابات| نیٹ ورک مارکیٹنگ حرام یا حلال

0

نیٹ ورک مارکیٹنگ کے متعلق چند سوالات کے جوابات۔

سوال ۱: نیٹ ورک مارکیٹنگ حلال ہے یا حرام؟


جواب: نیٹ ورک مارکیٹنگ اپنے اندر منفی اور مضر اثرات کی وجہ سے حرام قرار دیا گیا ہے نیز اس میں استحصال سے پیسہ آ جاتا ہے۔ قرآن میں واضح ہیں ولا تأکلوا اموالکم بینکم بالباطل: یعنی استحصال سے آپس میں مال مت کھاؤ۔ 


سوال۲: نیٹ ورک مارکیٹنگ کیسے حلال بن (ہو) سکتی ہے۔


جواب: اگر آپ نیٹ ورک مارکیٹنگ کے طرزِ عمل سے واقف ہوں گے۔اس میں مصنوعات (پروڈکٹس) کی قیمت حد سے زیادہ ہوتی ہیں۔ جس کے باعث کمپنی کو بہت سارا استحصال کردہ پیسہ بچ جاتا ہے۔ جس کا قلیل حصہ یہ اپنے ڈسٹری بیوٹرس (دالالوں) میں ناجائز طریقے سے تقسیم کرتے ہے۔ اس لئے مصنوعات کی قیمت زیادہ نہ ہو گئی اور لوگوں سے پیسے سے پیسہ لینا نہ پایا جائے تو قلیل رقم بھی تقسیم نہیں ہوگی۔ جس کے باعث لوگ نہیں جھوڑیں گے ظاہرہے کمپنی بند، نیٹ ورک مارکیٹنگ کاروبار نا مکمل بیلنس ماڈل ہیں۔ جس کی وجہ سے اس کی کوئی بھی شکل حلال نہیں ہو سکتی۔ واللہ اعلم۔


سوال ۳: کن وجوہات سے نیٹ ورک مارکیٹنگ حرام ہے۔

جواب: جن وجوہ سے کاروبار حرام کے دائرے میں داخل ہوتا ہے اُن سے نیٹ ورک مارکیٹنگ لبریز ہے۔ جیسے استحصال سے پیسہ آ جانا، پیسے سے پیسہ سرقہ کرنا، اور ان گنت  وجوہ ہے جن کی وجہ سے یہ حرام میں داخل ہوتی ہے۔ مزید معلومات کے لیے بندے کے مضامین کا مطالعہ کریں۔ 

نیٹ ورک مارکیٹنگ حرام کیوں ہے

نیٹ ورک مارکیٹنگ اور عظیم شخصیات اور دارالافتاؤں کے فتویٰ


Is Network Marketing halah in Islam

ماں کی لازوال محبت| والدین کے حقوق |ماں کی اہمیت

0


ماں: کا لفظ جب تلفظ و تصور میں آ جاتا ہے، تو محبت کی لہریں، آپ کے ذہن کو لبریز کرتی ہے۔ ماں انسان کی شکل میں وہ فرشتہ ہے۔ جو انسان کیلئے عیاں ہے۔ لبرل ازم (مغربیت) کو چھوڑ کر باقیہ تمام مذاہب و مکاتبِ فکر میں ماں کی عظمت کا اعتراف کیا ہے۔ ماں اُن عظیم نعمتوں میں سے ہیں۔ جس کا احترام کر کے، جنت کی مفتاح حاصل کر سکتے ہیں۔ ماں وہ شخصیت ہے، جو اپنا دورِ زرین  کو بچے کی تربیت و پرورش پر نچھاور کرتی ہیں۔ اِن کا رتبہ اتنا سرفراز ہیں، خود مالکِ کائنات نے اس کا اعتراف کروایا ہیں۔ جیسے اللہ تبارک و تعالی کا ارشاد ہے ۔ وَقَضَی رَبُّکَ أَلاَّ تَعْبُدُواْ إِلاَّ إِیَّاہُ وَبِالْوَالِدَیْْنِ إِحْسَاناً إِمَّا یَبْلُغَنَّ عِندَکَ الْکِبَرَ أَحَدُہُمَا أَوْ کِلاَہُمَا فَلاَ تَقُل لَّہُمَا أُفٍّ وَلاَ تَنْہَرْہُمَا وَقُل لَّہُمَا قَوْلاً کَرِیْما وَاخْفِضْ لَہُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَۃ وَقُل رَّبِّ ارْحَمْہُمَا کَمَا رَبَّیَانِیْ صَغِیْراً رَّبُّکُمْ أَعْلَمُ بِمَا فِیْ نُفُوسِکُمْ إِن تَکُونُواْ صَالِحِیْنَ فَانَّہُ کَانَ لِلأَوَّابِیْنَ غَفُوراً․


ترجمہ : اور تیرے رب نے یہ حکم دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت مت کرو اور اپنے ماں باپ کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آو ، اگر وہ یعنی ماں، باپ تیری زندگی میں بڑھاپے کو پہنچ جائیں ، چاہے ان میں ایک پہنچے یا دونوں (اور ان کی کوئی بات تجھے ناگوار گزرے تو ) ان سے کبھی ”ہوں “ بھی مت کہنا اور نہ انھیں جھڑکنا اور ان سے خوب ادب سے بات کر نا ، اور ان کے سامنے شفقت سے انکساری کے ساتھ جھکے رہنا اور یوں دعا کر تے رہنا :اے ہمارے پروردگار ! تو ان پر رحمت فرما، جیسا کہ انھوں نے بچپن میں مجھے پالا ہے(صرف ظاہر داری نہیں، دل سے ان کا احترام کرنا ) تمھارا رب تمھارے دل کی بات خوب جانتا ہے اور اگر تم سعادت مند ہو تو وہ توبہ کرنے والے کی خطائیں کثرت سے معاف کرنے والا ہے۔

قرآن مجید کی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت یہ ہیں کہ جب اللہ تعالا حکمِ عبادت کے ساتھ کسی اور امر کی تاکید کرتا ہے، تو مؤیَد حکم کسی توثیق کا مستمد نہیں رہتا ہے۔ اس کا اندازہ آپ بلا آیات سے لگا سکتے ہیں کہ اللہ تعالٰی نے اپنی عبادت کے حکم کے بعد صراحت کے ساتھ نقشہ کھینچا ہے۔

ماں کی تکلیفات: ہمارے حروف کتنے ہی وسیع و بسیط کیوں نہ ہو ہم ماں کے اٹھائے ہوئے تکلیفات کا نقشہ نہیں کھینچ سکتے ہیں۔ اس کا اندازہ آپ اس سے لگا سکتے ہیں کہ دور نبوت میں،  نبی صلی اللہ علیہ اور صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کو کتنے تکلیفات سہنے پڑے ہیں۔ واحد شخصیت ماں ہے، جس کی تکلیفات کی صراحت قرآن مجید میں ملتی ہیں۔


ماں کے تکلیفات کا ذکر قرآن میں: وَوَصَّیْْنَا الْإِنسَانَ بِوَالِدَیْْہِ إِحْسَاناً حَمَلَتْہُ أُمُّہُ کُرْہاً وَوَضَعَتْہُ کُرْہاً

ترجمہ : اس ماں نے تکلیف جھیل کر اسے پیٹ میں رکھا اور تکلیف برداشت کر کے اسے جنا ۔حمل کے نوماہ کی تکلیف اور اس سے بڑھ کر وضع حمل کی تکلیف، یہ سب ماں برداشت کرتی ہے۔

اللہ تعالی نے جب ”اف“ کرنے سے گریز کرنے کا حکم بھی وارد کیا۔ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے اس کے بارے میں فرمایا اگر والدین کی بے ادبی میں ”اف“ سے کم درجہ ہوتا تو اللہ جلہ شانہ اسے بھی حرام فرما دیتے۔(الدالمنثور: ۵/ ۲۲۴)


والدین کا ادب واحترام کا تذکرہ: حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے مروی ہے، وہ فرماتی ہیں: رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں شخص حاضر ہوا، ان کے ساتھ ایک بوڑھا آدمی تھا، نبی برحق صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا یہ بوڑھا کون ہے؟ اس شخص نے جواب عرض کیا یہ میرے والد ہے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا: لا تمش امامہ، ولاتقعد قبلہ، ولاتدعہ باسمہ ولاتستب لہ (معجم الأوسط، للطبرانی:۴/۲۶۷) یعنی ان کے آگے مت چلو، مجلس میں ان سے پہلے مت بیٹھنا، ان کا نام لے کر مت پکارنا، ان کو گالی مت دینا۔


ادب سے بات کرنا، انسان کی پہچان ہیں، پر اللہ تعالیٰ قرآن میں خصوصاً ذکر فرمایا ہے وقل لہما قولاً کریما یعنی ان کا ساتھ ادب و احترام سے بات کرنا۔ قول کریم کے بارے میں حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے فرمایا: خطا کار اور زر خرید غلام سخت مزاج اور ترش روی آقا سے جس طرح با ت کر تا ہے، اس طرح بات کر نا قول کریم ہے (الدر المنثور: ۵/۲۲۵)




اختصار کے ساتھ، دور حاضر میں امت رشتوں کے ساتھ، رشتوں کے حقوق کو فقدان کر کے پر سکون زندگی سے عاری ہے۔ اس لیے انسانیت خصوصاً اہلِ اسلام کو رشتوں کے واجبات کو بھولنا نہیں چاہیے۔ اللہ سبحانہ و تعالی ہم سب کو رشتوں کے ساتھ، رشتوں کے حقوق خصوصاََ ماں، باپ کے حقوق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین یا رب العالمین۔


ماجد کشمیری

ایک مزدور کی کہانی - آخر رب کی ہی نافرمانی کیوں؟

0

     قارئین کرام! ایک مزدور کا واقعہ اس کے زبان سے ملاحظہ ہوکہ: میں کام پر گیا میرے ساتھ ہم عمر کے کچھ افراد بھی شامل تھے۔ میں نے وہاں پر عجیب اور انوکھا منظر دیکھا کہ مالک کی کتنی فرمابرداری کی جا رہی ہے۔ میرے ساتھی گانے سننے والوں میں سے تھے، پر جوہی مالک آ جاتے تھے تو وہ گانے بند کر دیتے تھے۔ مالک جو کام کرنے کو بولتیں تھیں، ہم اس کام کو جرح کرے بغیر کرنے کے لئے آمادہ ہوتے تھے۔ وہ کام کے بیچوں بیچ اگر یہ کہتے کہ اب اس کام کو چھوڑ دو یہ کام کروں تو ہم اسے انجام دیتے۔ الغرض جو بھی وہ کہتے تھے ہم اس کے لیے تیار رہتے تھے۔ پر کیوں؟ میرے ذہن میں یہ بات گردش کر رہی تھیں کہ مالک کی بات تو ماننی چاہیے ہم پر فرض ہے۔ پر ایک سوچ مجھے ستا رہی تھی کہ ہماری سرگزشت اتنی فرمانبردار تو نہیں ہے پھر کیوں ہم اسے اتنے خوف سے تسلیم کرتے ہیں۔ آخر کیوں؟ میں نے ساتھیوں سے سوال پوچھا، حیرت انگیز جواب ملا یہ ہمیں دن کا معاوضہ 600 دیتے ہیں اس لیے۔ 

    بس پھر کیا میں سوچ میں ڈوب گیا۔ صرف 600 روپے کے لیے ہم مالک اتنی فرمانبرداری کرتے ہیں۔ ہمارا رب اللہ تعالی ہمیں دن کا کتنا دیں رہیں ہیں پر کیا ہم اس کی اتباع کرتے ہیں؟ میں حساب کرنے لگا۔

    جب میں صبح اٹھتا ہوں اللہ تعالی روح پھونک کر پھر سے مجھے زندہ کرتا ہے۔ ارے اس روح کی تو کوئی قیمت ہی نہیں ہے؟۔۔۔ ہے کیا؟ نہیں!۔ اس کا حساب لگانا ہمارے بس میں نہیں، چلیں چھوڑے آگے حساب کرتے ہیں، دن بھر اللہ تعالی کا آکسیجن استعمال کرتے ہیں، تحقیق سے پتا چلا کہ انسان ایک منٹ میں 8 لیٹر آکسیجن استعمال کرتا ہے۔ وہ چوبیس گھنٹوں کا 11500 ہو جاتا ہے۔ وہ لگ بھگ 13 لاکھ کے اوپر اوپر ہے۔ کہاں چھے سو میں مالک کی فرمانبرداری اور کہاں تیرہ لاکھ میں رب کی نا فرمانی! 

    اگر ہوا، پانی،زمین، ہفت خلیفہ، خوب صورت قالب، لقبِ اشرف المخلوقات، عنایتِ منصبِ خلیفۃ اللہ، اور شرفِ امتِ محمدی وغیرہ ہیں۔ جامع الفاظ وہیں: فبای الاء ربکما تکذبان، جس کا حساب کیا جائیں، اگر تمام نعمتوں کا حساب کیا جائے جن کا استعمال دن بر انسان کرتا ہے۔ یہ تو لاتعداد ہے۔

پھر للہ کی نافرمانی کیوں؟۔۔۔العاقل تکفیہ الاشارہ. 

    لہذا اہلِ اسلام سے ہماری دردمندانہ درخواست ہے کہ اپنے فرائض سے ایسی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ نہ کریں، ہوش کے ناخن لیں، اپنے آپ کو پہچانیں کہ آپ کسی مقصد کے لیے مبعوث کیے گئے ہیں۔ اللہ تعالی ہمیں عقل سلیم عطا فرمائیں اور اپنے حفظ و امان میں رکھیں آمین یا رب العالمین۔


ماجد کشمیری

ہندوؤں کی دیوالی سے پہلے مسلمانوں کی دیوالی

0

قارئین کرام ! کچھ دیر پہلے یکے بعد دیگرے کئی مرتبہ کانوں میں پٹاخوں کی تیز آواز گونجی تو حیرت ہوئی کہ ابھی کیا بات ہوگئی کہ نیاپورہ جیسے مسلم علاقے میں پٹاخوں کی آواز آرہی ہے؟ روڈ پر نکلا تو چند نوجوانوں سے پوچھنے پر معلوم ہوا کہ آئی پی ایل کا آج فائنل تھا جس میں چنئی نامی ٹیم فتحیاب ہوئی ہے۔ چونکہ بندے کو کرکٹ میں ذرا بھی دلچسپی نہیں ہے اس لیے ذہن اس طرف گیا ہی نہیں۔

خیر جیسے ہی معلوم ہوا کہ ہمارے نوجوان کرکٹ ٹیم کی فتح کا جشن پٹاخے جلا کر منا رہے ہیں تو دل بالکل بیٹھ سا گیا کہ یہ سب کیا ہورہا ہے؟ اگر بات ورلڈ کپ میں ہندوستان کی جیت کی ہوتی تو کچھ سمجھا بھی جاسکتا تھا، اگرچہ اس وقت بھی آتش بازی ناجائز ہی تھی، لیکن یہ کیا بات ہوئی کہ آئی پی ایل جیسی انتہائی فضول سیریز جو سراسر فضول خرچی اور فحاشی کا اڈا بنی ہوئی ہے، اس میں ہمارے نوجوانوں کی دلچسپی وہ بھی اس حد تک کہ اس میں اپنی پسندیدہ ٹیم کی جیت پر یوں ناجائز اور حرام طریقے پر اس کا جشن منایا جائے؟ وہ بھی ایسے حالات میں جبکہ مسلمان معاشی، سماجی اور سیاسی ہر اعتبار سے کمزور ہوتے جارہے ہیں۔ کیا انہیں اس بات کا علم نہیں کہ پٹاخے  پھوڑنا اور آتش بازی کرنا درج ذیل وجوہات کی بنا پر ناجائز اور حرام ہے۔

اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا ۔

قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں :

وَاَنۡفِقُوۡا فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَلَا تُلۡقُوۡا بِاَيۡدِيۡكُمۡ اِلَى التَّهۡلُةِ ۖ  ۛۚ وَاَحۡسِنُوۡا  ۛۚ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الۡمُحۡسِنِيۡنَ‏  ۔(سورہ بقرہ، آیت : 195)

ترجمہ : اللہ کے راستے میں مال خرچ کرو، اور اپنے آپ کو خود اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ ڈالو اور نیکی اختیار کرو، بیشک اللہ نیکی کرنے والوں سے محبت کرتا ہے ۔  (سورہ بقرہ، آیت : 195)

آتش بازی میں اکثر جان کی ہلاکت و زخمی ہونے کے واقعات پیش آتے ہیں۔

فضول خرچی، اور وقت کا ضیاع ۔

دوسری جگہ اللہ تعالٰی ارشاد فرماتے ہیں :

إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيَاطِينِ وَكَانَ الشَّيْطَانُ لِرَبِّهِ كَفُورًا۔ (سورہ بنی اسرائیل، آیت : 27)

ترجمہ : بلاشبہ جو لوگ بےہودہ کاموں میں مال اڑاتے ہیں، وہ شیطان کے بھائی ہیں، اور شیطان اپنے پروردگار کا بڑا ناشکرا ہے۔ 


اسی طرح آتش بازی میں غیروں سے مشابَہت پائی جاتی ہے جس کے بارے میں حدیث شریف میں آیا ہے کہ جو جس قوم کی مشابہت اختیار کرے گا اس کا حشر اسی کے ساتھ ہوگا، نیز اس میں دوسروں کو تکلیف دینا بھی پایا جاتا ہے جو ایک الگ اور مستقل ناجائز اور حرام کام ہے۔


لہٰذا ہماری اپنے نوجوانوں سے انتہائی دردمندانہ درخواست ہے کہ اللہ کے لیے ایسی غیرذمہ داری کا مظاہرہ نہ کریں، حالات کے رُخ کو دیکھیں، ہوش کے ناخن لیں، اپنے آپ کو پہچانیں کہ آپ قوم وملت کا قیمتی سرمایہ ہیں، اپنی جوانی اور اپنے حلال مال کو یوں ان بت پرستوں اور پیسے کے پجاریوں کے پیچھے ضائع نہ کریں۔ اور یہ بات اچھی طرح سے سمجھ لیں کہ آپ کی اس غیرشرعی حرکت کا کسی کا کوئی فائدہ نہیں ہونے والا ہے بلکہ صرف اور صرف آپ کی آخرت برباد ہونے والی ہے، اس لیے ابھی سچی پکی توبہ کریں اور پختہ عزم کرلیں کہ آئندہ ایسی چیزوں سے مکمل طور پر دور رہیں گے۔


اللہ تعالٰی ہمارے نوجوانوں کو عقل سلیم عطا فرمائے، فضولیات اور منکرات سے ان کی حفاظت فرمائے اور انہیں قوم وملت کے لیے نفع بخش بنائے۔ آمین یا رب العالمین


 محمد عامرعثمانی ملی 

(امام وخطیب کوہ نور مسجد) 


سیرة النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مختصر خلاصہ 3

0

 سیرة النبی ﷺ کا مختصر خلاصہ 


آقائے مدنی آنحضرت ﷺ کی حیات مبارکہ کو مؤرخین نے تین ادوار میں تقسیم کیا ہے۔ پہلا دور پیدائش سے نبوت تک، دوسرا دور دعوی نبوت سے ہجرت تک اور تیسرا دور ہجرت سے وصال تک۔


قسط نمبر 3


بعثت سے ہجرت تک


بعثت کے پہلے دوسرے اور تیسرے سال: غار حرا میں آپ ﷺ پر پہلی وحی نازل ہوئی۔

حضرت خدیجہ آپ کو ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئی،ورقہ بن نوفل نے نبوت کی خبر دی،اس وقت آپ کی عمر مبارک 40 برس تھی۔


دعوت اسلام کے لیے پہلے ہی روز حضرت خدیجہ،حضرت ابوبکر صدیق،حضرت علی اور حضرت زید بن حارث رضی اللہ عنہم اجمعین آپ ﷺ پر ایمان لائے۔

حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کی ولادت ہوئی۔


بعثت کے چوتھے سوال: فَاصدَع بِما تُؤمَرُ وَأَعرِض عَنِ المُشرِكينَ ( الحجر ٩٤)

اس آیت کے نازل ہونے کے بعد آپ ﷺ نے علانیہ اسلام کی دعوت شروع کردی


بعثت کے پانچویں سال: حبشہ کے جانی پہلی ہجرت ہوئی، جس نے ١١ مرد اور ٤ عورتیں تھیں۔

حبشہ کی جانب دوسری ہجرت ہوئی،جس میں ٨٢ مرد اور ١٨ عورتيں تھیں۔

قسط نمبر 2

قسط نمبر 1

بے دینی کا ایک عبرت انگیز واقعہ | اولادوں کی تربیت کیوں ضروری ہے؟

0

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
بے دینی کا ایک عبرت انگیز واقعہ


بے دین اولاد کو باپ کی عزت بھی نہیں کرتی ۔ ناظم آباد میں میرے ایک دوست نے اپنی زمینیں بیچ بیچ کر اور بہت مصیبت اٹھا کر اپنے بیٹے کو امریکا سے بہت بڑی ڈگری دلوائی اور اس لالچ میں اس نے بیوی کے انتقال کے بعد دوسری شادی بھی نہیں کی کیونکہ سوچا کہ اگر شادی ہو جائے گی تو لڑکے کی تعلیم میں خلل آجائے گا، جب وہ لڑکا پڑھ کر بہت بڑی ڈگری لے کر آیا تو اس کی شادی کر دی ۔ ایک دن میں نے خیریت معلوم کرنے کے لیے ٹیلی فون کیا میں نے کہا کہ کیا کر رہے ہو؟ انہوں نے کہا کہ چولہا جھونک رہا ہوں روٹی پکار ہا ہوں ۔
میں نے کہا: بہو کہاں ہے؟ کہا: وہ دونوں مجھ سے لڑ کر بھاگ گئے۔
مرے تھے جن کے لئے وہ رہے وضو کرتے
مری    نماز   جنازہ    پڑھائی    غیروں    نے
 
بیٹا اور بہو دونوں لڑ کر چلے گئے اور بوڑھا باپ آخر عمر میں چولسے میں لکڑیاں جھونک رہا ہے اور روٹی پکار ہا ہے۔

اولاد کو دین نہ سکھانے کا وبال ص :(۲۲)

عارف باللہ حضرت مولاناشاہ حکیم محد اختر صاحب رحمہ اللہ

© 2023 جملہ حقوق بحق | MK Arabic Accademy | محفوظ ہیں