پروفیشنل استاد کیسے بنیں

0


پروفیشنل استاد کیسے بنیں 

تعلیم محض الفاظ کی منتقلی نہیں، بل کہ دلوں کی آبادکاری کا نام ہے۔ دل وہیں ٹھہرتے ہیں جہاں اخلاص کی خوشبو بسی ہو۔ جو ہاتھ تختۂ سیاہ پر لکھتا ہے، اگر اس کی نیت بھی روشن ہو تو وہ تحریر خود چراغ بن جاتی ہے۔ اسی لیے کامیاب معلم وہ ہے جو علم سے پہلے نیت کو سنوارتا ہے؛ کیوں کہ نیت کا اخلاص ہی عمل کو وزن دیتا ہے۔

اسی اخلاصِ نیت پر کامیاب تدریس کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔ جب معلم تعلیم کو محض ذریعۂ معاش نہیں بل کہ ایک امانت سمجھ کر انجام دیتا ہے، تو اس کا ہر لفظ اثر رکھتا ہے۔ اخلاص وہ پوشیدہ طاقت ہے جو معمولی بات کو بھی دل نشیں بنا دیتی ہے، اور یہی طاقت معلم کے عمل میں دوام پیدا کرتی ہے.

نیت کے بعد جو چیز سب سے پہلے شاگرد کے دل تک پہنچتی ہے، وہ استاد کی خاموش زبان ہے۔کلاس روم میں معلم کی پہلی زبان اس کی مسکراہٹ، اس کی بشاشت اور اس کا نرم لہجہ ہوتا ہے۔ جب چہرہ کشادہ ہو تو ذہن کھلتے ہیں، اور جب لہجہ ہلکا ہو تو بوجھل دل ہلکے ہو جاتے ہیں۔ سختی ذہن کے دروازے بند کر دیتی ہے، جب کہ نرمی علم کے لیے راستے کھول دیتی ہے۔

اسی نرمی کا فطری نتیجہ تواضع ہے، جو معلم کی عظمت کا ایک مضبوط ستون ہے۔ وہ جھکتا ہے تو قد بڑھتا ہے، وہ نرم ہوتا ہے تو اثر گہرا ہوتا ہے۔ جب شاگرد یہ دیکھتے ہیں کہ استاد علم کے باوجود انکسار کا پیکر ہے، تو ان کے دلوں میں احترام خود بخود جاگ اٹھتا ہے، اور یہی احترام سیکھنے کی فضا کو قائم اور زندہ رکھتا ہے۔

یہ احترام اس وقت مضبوط اعتماد میں بدل جاتا ہے جب استاد شاگرد کی بات غور سے سنتا ہے، اس کے سوال کو اہم سمجھتا ہے اور اس کی رائے کو وقعت دیتا ہے۔ احترام اعتماد کو جنم دیتا ہے، اور اعتماد علم کو زندگی بخشتا ہے۔ اس کے برعکس جو استاد طلبہ کو کمتر سمجھے، وہ دراصل علم کی توہین کرتا ہے۔

اسی اعتماد کی فضا میں نصیحت بھی مؤثر بنتی ہے۔ نصیحت اگر حکم بن جائے تو دل بند ہو جاتے ہیں، اور اگر محبت میں ڈھل جائے تو دل راستہ دے دیتے ہیں۔ کامیاب معلم نصیحت کو سختی نہیں بناتا بل کہ رہنمائی میں بدل دیتا ہے۔ وہ شاگرد کی لغزش میں بھی اصلاح کا پہلو تلاش کرتا ہے، اور کمزوری میں امکان کی شمع روشن کرتا ہے۔

یہی حکمت استاد کو عدل و مساوات کی طرف لے جاتی ہے۔ اور یہ عدل وہ میزان ہے جس پر معلم کا کردار تولا جاتا ہے۔ یکساں توجہ، منصفانہ رویہ اور علم کی منصفانہ ترسیل: یہ سب وہ اقدار ہیں جو کلاس روم کو اعتماد کا مرکز بناتی ہیں۔ امتیاز بدگمانی کو جنم دیتا ہے، جب کہ انصاف محنت اور صلاحیت کو بیدار کرتا ہے۔

کیوں کہ ہر طالب ایک الگ دنیا ہے؛ کسی کی قوت یادداشت میں، کسی کی بصیرت عمل میں، اور کسی کی پرواز تخلیق میں ہوتی ہے تو معلم کا کمال یہ ہے کہ وہ ہر متعلم کی صلاحیت پہچان لے اور اسی سمت اس کی رہنمائی کرے۔

زبردستی کی یکسانیت ذہن کو توڑتی ہے،جب کہ فہم و حکمت شخصیت کو نکھارتی ہے۔

یہ ساری خوبیاں حسنِ اخلاق کے بغیر ادھوری رہتی ہیں۔ سلام میں پہل، اچھے نام سے پکارنا، ہلکی سی مسکراہٹ اور شفقت بھرا رویہ۔ یہ سب وہ چھوٹے اعمال ہیں جو بڑے اثرات چھوڑتے ہیں۔ یہی اخلاقی حسن استاد اور شاگرد کے درمیان وہ پل بناتا ہے جس پر علم آسانی سے منتقل ہوتا ہے۔

اسی اخلاق کا تسلسل صبر و درگزر میں ظاہر ہوتا ہے۔ طلبہ کی لغزشیں، کمزوریاں اور ناپختگیاں تربیت کا فطری حصہ ہیں۔ کامیاب معلم وہ ہے جو جلد مشتعل نہ ہو بل کہ صبر کو اپنا ہتھیار بنائے۔ درگزر دلوں کو قریب کرتا ہے، اور یہی قربت اصلاح کی بنیاد بنتی ہے۔

آخرکار کامیاب معلم اپنی آنکھیں سیرت کے آئینے میں رکھتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ بہترین تربیت وہی ہے جو مثال بن کر بولے۔ جب استاد وہی جیتا ہے جو پڑھاتا ہے، تو اس کا علم محض الفاظ نہیں رہتا بل کہ کردار میں ڈھل جاتا ہے اور یہی حقیقی کامیابی ہے۔

شیخ عبد الماجد الکشمیری

24 دسمبر 2025 

Pophetic Biography Quiz Guidelines By Banat ul Islamiya

0





Every step forward is driven by a purpose, and likewise, every action has a reason behind it. It is the religious and moral duty of a Muslim to study the noble life of the Prophet Muhammad ﷺ and the wisdom it contains—and to convey that message to others as well—so that, by the grace of Allah, guidance may spread and success may be attained in both worlds.


With this goal in mind, Banāt al-Islāmiya is organizing a Quiz on the Seerah (Prophetic Biography). The following are the rules and guidelines for the event:


1. The primary aim of this competition is to spread the teachings of the Prophet ﷺ. While top performers will be awarded with certificates and prizes, the real purpose is to understand the message of the Prophet ﷺ and incorporate it into daily life with sincerity and devotion.


2. Entry will not be permitted without a roll number slip.


3. Participants must clearly write their full name and roll number on the answer sheet.


4. The quiz will consist of objective-type questions, each with four possible answers. The correct option must be fully shaded.


5. Negative marking will be applied: 0.25 marks will be deducted for each incorrect answer—equivalent to losing one full mark for every four wrong answers.


6. In case of a tie, a draw will be conducted in person.


7. If an Ālim/Ālimah or Fāḍil/Fāḍilah wins one of the top two positions, or if a participant has already secured 1st or 2nd place in a Seerah competition in previous years, they will instead be entered into a draw with third-place winners.


8. Anyone who has achieved a 1st or 2nd position in any state-level Seerah competition in the past four years—especially those held by Wahdat al-Makātib—will also fall under this same rule regarding prize eligibility.


For more information, contact:

📞 70517 95634 | 9149525943

WhatsApp 1 | WhatsApp 2


Guidelines in Urdu 

مسلمانوں کے دلوں میں رعب کہاں سے آیا!؟

0

شام کو دھوپ کمرے میں ختم ہونے کو آ رہی تھی۔ کلامِ الٰہی کی تلاوت جاری تھی۔ ہر آیت دل کو سہلاتی، کبھی جھنجھوڑتی، کبھی تسلی دیتی۔ یکایک زبان رُک گئی۔ نگاہ اس مقامِ جلال پر ٹھہر گئی:


 "سَنُلْقِي فِي قُلُوبِ الَّذِينَ كَفَرُوا الرُّعْبَ..."

(عنقریب ہم انکار کرنے والوں کے دلوں میں رعب ڈال دیں گے۔

خاموشی طاری ہو گئی۔ آواز رُک گئی، مگر قلبہو زبان آئی۔

مشامِ جاں نے کچھ محسوس کیا — کچھ لرز سا گیا۔

"رعب...؟"

"یہ کس کے دلوں میں ڈالا جائے گا؟"

زبان نے دل سے سوال کیا،

دل نے عقل کی منعطف کیا ،

اور عقل نے ضمیر کو پکارا۔


ایک مہیب سوال ابھرا:

"کیا صرف وہی منکر ہیں جو کہتے ہیں کہ کوئی خالق ہی نہیں؟"

"کیا انکار صرف زبان سے انکار کرنے کا نام ہے؟"

"اور ہم...؟"


ہم نے تو زبان سے رب کو مانا،

اس کے نبی ﷺ کو مانا،

کتاب کو بھی پڑھا،

تسبیح بھی کرتا رہا،

مگر جب رب نے جھکنے کو کہا، ہم اکڑ گئے۔

جب دینے کو کہا، ہم چھپ گئے۔

جب برائی سے روکنے کا حکم ہوا، ہم خاموش ہو گئے۔

جب نگاہیں نیچی رکھنے کو کہا، ہم نے آنکھیں اٹھا لیں۔

جب وعدے نبھانے کا کہا، ہم مکر گئے۔

جب صبر کا حکم دیا، ہم بے قابو ہو گئے۔


تو پھر بتاؤ...!

کیا یہ انکار نہیں؟

کیا ہم عملاً انکار کرنے والوں میں شمار نہیں ہو چکے؟

زبان بے آواز ہو گئی۔

دل نے چپ چاپ سر جھکا لیا۔

اور روح کے دروازے پر "رعب" نے دستک دی۔

کسی نے سرگوشی کی:

"تم مریعب ہو چکے ہو — تمہارے دل میں وہی رعب اُتر چکا ہے، جس کا وعدہ منکرین کے لیے کیا گیا تھا۔"


کیونکہ تم نے خالق کا انکار نہیں کیا،

مگر حکم خالق کا انکار کر بیٹھے۔

اور یہی انکار اصل رعب کی دہلیز ہے۔


ماجد کشمیری 

شرمگاہ کو ہاتھ لگانے سے وضو نہیں ٹوٹتا

0

شرمگاہ کو ہاتھ لگانے سے وضو نہیں ٹوٹتا۔ اس موقف کے دلائل یہ ہیں:

[1]: عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ عَنْ أَبِيْهِ قَالَ قَدِمْنَا عَلٰى نَبِىِّ اللهِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ رَجُلٌ كَاَنَّهُ بَدَوِىٌّ ، فَقَالَ: يَا نَبِىَّ اللهِ! مَا تَرٰى فِىْ مَسِّ الرَّجُلِ ذَكَرَهُ بَعْدَ مَا يَتَوَضَّأُ فَقَالَ: “هَلْ هُوَ إِلَّا مُضْغَةٌ مِنْهُ “. أَوْ قَالَ : “بَضْعَةٌ مِنْهُ .”

(سنن ابی داؤد: ج1 ص24 باب الرخصۃ فی ذلک)

ترجمہ: حضرت طلق بن علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ایک آدمی جو دیہاتی لگتا تھا اس نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم سے سوال کیا کہ اے اللہ کے نبی! اگر کوئی شخص وضو کرنے کے بعد اپنے عضو تناسل کو چھوئے تو کیا اسے دوبارہ وضو کرنا پڑے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: یہ اس کے جسم کا ایک ٹکڑا ہی تو ہے۔

 

یعنی جب یہ تمہارے جسم کا محض ایک ٹکڑا ہی ہے تو اس کو چھونا ایسا ہی جیسے بقیہ اعضائے جسم کو چھونا۔ انسان کا اپنے ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ کو چھونا ہے یا پھر اپنی ٹانگ، سر، ناک یا کسی بھی حصہ کو چھونا ایسا ہی ہے جیسے جسم کے کسی ایک حصہ کو چھو لینا ہو۔ تو جس طرح جسم کے کسی اور عضو کو چھونے سے وضو نہیں ٹوٹتا اسی طرح شرم گاہ کو چھونے سے بھی وضو نہیں ٹوٹتا۔

٭ یہ حدیث صحیح ہے۔

(الطحاوی- شرح معانی الآثار: ج1 ص 61 باب مس الفرج هل يجب فیہ الوضوء ام لا؟)

٭ ناصر الدین البانی صاحب نے اس روایت کو ”صحیح“ کہا ہے۔

(الالبانی- سنن النسائی باحکام الالبانی: تحت رقم الحدیث 165)

 

[2]: عَنْ أَرْقَمَ بْنِ شُرَحْبِيْلَ، قَالَ: حَكَكْتُ جَسَدِيْ ، وَأَنَا فِي الصَّلَاةِ، فَأَفْضَيْتُ إِلٰى ذَكَرِيْ ، فَقُلْتُ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ، فَقَالَ لِيْ:اِقْطَعْهُ وَهُوَ يَضْحَكُ ، أَيْنَ تَعْزِلُهُ مِنْكَ؟ إِنَّمَا هُوَ بَضْعَةٌ مِنْكَ.

(المعجم الکبیر للطبرانی: ج4 ص557 رقم الحدیث 9112)

ترجمہ: حضرت ارقم بن شرحبیل کہتے ہیں کہ میں نماز میں ہوتے ہوئے اپنے جسم میں خارش کرتا ہوں اور کبھی کبھی شرم گاہ کی خارش بھی کر لیتا ہوں۔ اس بات کاتذکرہ میں نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے کیا تو انہوں نے مسکرا کر مجھے فرمایا: (اگر یہ اتنا ہی نجس ہے تو) اسے کاٹ ہی ڈالو، اس کو اپنے آپ سے کہاں دور کرو گے؟ ارے یہ تمہارے جسم کا ایک ٹکڑا ہی تو ہے۔

٭ اس روایت کے راوی ثقہ ہیں۔ (نور الدین الہیثمی- مجمع الزوائد: ج1 ص244)


 وضو کا حکم ہے تو اس وضو سے مراد وضو لغوی ہے یعنی ”ہاتھ کا دھونا“، اس سے اصطلاحی وضو (نماز والا وضو) مراد نہیں۔ امام ابو جعفر احمد بن محمد بن سلامۃ الطحاوی (ت321ھ) نے اس توجیہہ پر صحابی رسول حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی یہ روایت بطور دلیل پیش کی ہے:

عن مصعب بن سعد قال : كنت آخذ على أبي المصحف فاحتككت فأصبت فرجي ، فقال: أصبت فرجك؟ قلت: نعم ، احتككت فقال: إغمس يدك في التراب ، ولم يأمرني أن أتوضأ.

(شرح معانی الآثار: ج1 ص62 باب مس الفرج ھل یجب فیہ الوضوء ام لا؟)

ترجمہ: حضرت مصعب بن سعد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو مصحف پکڑایا، پھر میں نے اپنے جسم کی کھجلی کی تو میرا ہاتھ میری شرم گاہ کو لگ گیا۔ میرے والد صاحب نے مجھ سے پوچھا: کیا تمہارا ہاتھ شرم گاہ کو لگا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، لگا ہے۔ والد صاحب نے فرمایا: اپنے ہاتھ کو مٹی سے صاف کرو! میرے والد صاحب نے مجھے وضو کا حکم نہیں دیا۔

اور ایک طریق میں یہ الفاظ ہیں:

قال: قم فاغسل يدک! (شرح معانی الآثار: ج1 ص62)

ترجمہ: میرے والد نے فرمایا: اٹھو اور اپنے ہاتھ کو جا کے دھو لو!

اس سے معلوم ہوا کہ سنن ابی داؤد والی روایت میں بھی وضو سے مراد محض ہاتھ دھونا ہے، وضو اصطلاحی (نماز والا وضو) مراد نہیں ہے۔

 

توجیہ نمبر۳: سنن ابی داؤد کی اس روایت کا معنی یہ ہے کہ اگر شرمگاہ کو چھونے سے شہوت پیدا ہو اور مذی خارج ہو جائے تب وضو ٹوٹے گا۔ اس معنی کی رو سے یہ روایت حضرت طلق بن علی رضی اللہ عنہ کی روایت سے متعارض بھی نہیں ہو گی۔

واللہ اعلم بالصواب

(مولانا) محمد الیاس گھمن




مرکزی بنات الاسلامیہ کے زیر اہتمام سیرتی مسابقے کے اصول اور چند ہدایات۔

1



ہر قدم کو رکھنے کے پیچھے آگے بڑھنے کا ایک مقصد ہوتا ہے، بعینہٖ ہر عمل کے پیچھے کوئی نہ کوئی سبب کار فرما ہوتا ہے۔ مسلمان کا دینی و اخلاقی فرض ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کی سیرتِ مبارکہ اور اس میں پنہاں اسرار و حکمتوں کو نہ صرف خود جانے بل کہ دوسروں تک بھی پہنچائے، تاکہ اللہ تعالیٰ اس عمل کے عوض ہدایت عطا فرمائے اور بندہ دونوں جہانوں میں کامیاب ہو جائے۔


اسی مقصد کے پیشِ نظر بناتُ الاسلامیہ ایک سیرتی مسابقے کا انعقاد کر رہی ہے۔ ذیل میں اس کے اصول و ضوابط اور چند رہنما ہدایات پیشِ خدمت ہیں:


۱۔ اس مقابلے کا بنیادی مقصد سیرتِ نبوی ﷺ کی تعلیمات کو عام کرنا ہے۔ اگرچہ نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلبہ کو انعامات اور اسناد سے نوازا جائے گا، تاہم اس مسابقے کا اصل مقصد اور نیت خالصتاً پیغمبرِ عالم ﷺ کے پیغام کو سمجھنا اور اسے اپنی عملی زندگی میں اپنانا ہے۔


۲۔ رول نمبر سلپ کے بغیر کسی بھی امیدوار کو امتحان میں شرکت کی اجازت نہیں دی جائے گی۔


۳۔ جوابی کاپی پر اپنا پورا نام اور رول نمبر واضح طور پر لکھنا ضروری ہے۔


۴۔ سوالات ابجیکٹو نوعیت کے ہوں گے۔ ہر سوال کے چار ممکنہ جوابات دیے جائیں گے۔ درست جواب کو مکمل طور پر پُر کریں۔


۵۔ منہائی مارکنگ کے تحت ہر غلط جواب پر 0.25 نمبر منہا کیا جائے گا؛ یعنی چار غلط جوابات کی صورت میں ایک مکمل نمبر کٹ جائے گا۔


۶۔ نمبرات میں برابری کی صورت میں بالمشافہ قرعہ اندازی کی جائے گی۔

۷. اگر کسی عالم/عالمہ یا فاضل/فاضلہ نے پہلی دو پوزیشنیں حاصل کی ہوں، یا اگر کوئی امیدوار سابقہ سالوں میں سیرتی مسابقہ میں شرکت کر کے پہلی یا دوسری پوزیشن حاصل کر چکا ہو، تو ایسے تمام امیدوار اس بار انعامات کے بجائے تیسری پوزیشن کے حامل امیدواروں کے ساتھ قرعہ اندازی میں شامل ہوں گے۔


۸۔ ریاستی سطح پر گزشتہ چار برسوں میں منعقد ہونے والے تمام سیرتی مسابقوں— بالخصوص وحدت المکاتب کے زیرِ اہتمام مقابلوں— میں اگر کسی امیدوار نے پہلی یا دوسری پوزیشن حاصل کی ہو، تو وہ بالا اصول کے مطابق ہی انعام کے مستحق ہوں گے۔


دیانت داری اس مقابلے کی اولین شرط ہے، اور آن لائن کے موجودہ دور میں ایسی معلومات کو چھپانا ممکن نہیں۔

اگر کسی بھی مرحلے پر— حتیٰ کہ امتحان کے بعد بھی— یہ ثابت ہو جائے کہ کسی امیدوار نے مذکورہ شرط کی خلاف ورزی کی ہے، تو اس کی رجسٹریشن منسوخ کر دی جائے گی۔



مزید جانکاری حاصل کرنے کے لیے

  70517 95634 9149525943

  WhatsApp 1 WhatsApp 2

عالمی یوم ماحولیات اور اسلام

0

صفائی کا خیال رکھنا اسلام میں ایک بدیہی حقیقت ہے۔ جب اسلام کا تذکرہ ہوتا ہے، تو پاکیزگی خودبخود ذہن میں آتی ہے۔


ساجد (سجدہ کرنے والا) سے لے کر جائے نماز تک، ہر چیز کی طہارت لازم ہے، کیونکہ ہر جگہ مسلمان کے لیے گویا سجادہ (نماز کی جگہ) ہے۔


اسی لیے مسلمان کو صفائی کی ترغیب دینا گویا اسے اس کی فطرت یاد دلانا ہے۔


ہمیں نہ صرف ماحول کو ظاہری میل کچیل سے پاک رکھنا چاہیے، بلکہ اسے کرپشن، رشوت، اور ان تباہ کن بیماریوں سے بھی پاک کرنے کا عزم کرنا چاہیے جو ہمارے باطن اور معاشرے دونوں کو گندہ کر رہی ہیں۔

Dance, Music and the Civilization of Islam

0

رقص،موسیقی اور ثقافتِ اسلام


Dance, Music and the Civilization of Islam


رقص اور موسیقی آپس میں اس طرح لازم و ملزوم ہیں جیسے پانی اور مچھلی۔ جس طرح مچھلی پانی کے بغیر زیادہ دیر زندہ نہیں رہ سکتی، اسی طرح رقص موسیقی کے بغیر اپنی حقیقت کھو دیتا ہے۔ جدید رقص کو تب تک مکمل اور بہترین نہیں سمجھا جاتا جب تک وہ موسیقی کے سُروں کے مطابق نہ ہو۔ یعنی موسیقی جو حکم دے، اس پر عمل کرنا ہوگا، تب جا کر ایک اچھے رقاص کی حیثیت سے تسلیم کیا جائے گا۔

اب بعض لوگ رقص کو ورزش قرار دے کر اس کے جواز کی دلیل پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ورزش صرف کلبوں اور اسٹیج پر ہی کی جا سکتی ہے؟ جو اسے محض ورزش سمجھتا ہے، وہ حقیقت سے ناواقف ہے، کیونکہ ہر ذی شعور جانتا ہے کہ اس کا مقصد ورزش نہیں بلکہ جذباتی اشتعال انگیزی اور تفریحِ محض ہے۔ اگر واقعی ورزش مقصود ہو تو کیا روزمرہ کے کام، چلنا پھرنا، اور دیگر جسمانی مشقتیں کافی نہیں؟ درحقیقت، یہ محض شیطانی وسوسہ ہے، جو نہ کوئی معتبر دلیل رکھتا ہے اور نہ ہی عقل و فطرت کے مطابق ہے۔ اس کے برعکس، اللہ کی عبادت میں مصروف رہنا انسان کے لیے سب سے زیادہ نفع بخش عمل ہے، جس میں وضو سے لے کر معیشت و معاملات تک ہر پہلو شامل ہے۔


شرعی حیثیت

اب اگر رقص و موسیقی کی شرعی حیثیت کا جائزہ لیا جائے تو درج ذیل براہین سامنے آتی ہیں:

دلائل کے چار بنیادی مصادر ہیں، جن میں اجماع ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔ علامہ ابن الجوزی رحمہ اللہ (م ٥٩٧ھ) لکھتے ہیں : وقد انعقد اجتماع العلماء أنّ من ادّعی الرّقص قربه إلی اللّٰہ تعالیٰ فقد کفر : اس بات پر علماء کرام کا اتفاق و اجماع واقع ہوچکا ہے کہ جو شخص رقص کو قربِ الٰہی کا ذریعہ قرار دے ، وہ کافر ہے ۔

(صید الخاطر لابن الجوزی : ص ١٥٤)

علامہ احمد طحطاوی حنفی (م ١٢٣٣ھ) لکھتے ہیں : وأمّا الرّقص والتّصفیق والصّریخ وضرب الأوتار والضّجّ والبوق الّذی یفعلہ بعض من یدّعی التّصوّف ، فإنّہ حرام بالإجماع ، لأنّھا زیّ الکفّار ۔ ”رہا رقص کرنا ، تالیاں پیٹنا ، شور شرابا ، ہارمونیم بجانا ، چیخ وپکار اور بِگل بجانا ، جو کہ صوفیت کے بعض دعویداروں کا معمول ہے ، یہ بالاجماع حرام ہے ، کیونکہ یہ کفار کا طور طریقہ ہے ۔(حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح ص ١٧٤، صفۃ الاذکار)

حصکفی حنفی لکھتے ہیں : من یستحلّ الرّقص قالوا بکفرہ ، ولا سیّما بالدّفّ یلھو ویزمر ۔جو رقص کو حلال سمجھتا ہے ، وہ ان (علماء کرام )کے بقول کافر ہے ، خصوصاً جو ساتھ ساتھ کھیل تماشا کرتا اور ساز بجاتا ہے۔(الدر المختار : ٤/٤٤٦)



 قرآن کی نصوص کی طرف رجوع کریں تو وارد ہوا ہے: وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَشْتَرِیْ لَھْوَ الْحَدِیْثِ لِیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّیَتَّخِذَھَا ھُزُوًا أُولٰئِکَ لَھُمْ عَذَابٌ مُّھِیْنٌ۔ (لقمان : ٣١/٦)

”اور کچھ لوگ بے ہودہ باتیں خریدتے ہیں تاکہ بغیر علم کے لوگوں کو اللہ کے راستے سے گمراہ کریں اور اسے مذاق بنائیں ۔ یہی لوگ ہیں کہ ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔ 

بے ہودہ باتوں کی سب سے واضح مثال موسیقی اور گانے بجانے کی محفلیں ہیں، جن میں رقص و سرود کی لت شامل ہے۔ لہٰذا، یہ عمل ممنوع اور حرام ہے۔


گانا سنا نفاق کی کھیتی کرنا ہے، جس طرح ایک کچھ بیچوں سے پوری سال کی فصل تیار ہوتی ہے، اسی طرح گانا سے نقاق کی فصل تیار ہوتی ہے۔ جو ایمان کے سبز باغ کو اس طرح جکڑتی ہے کہ وہ بھوسے کے ورے کچھ نہیں رہتا، اس لیے پھر اس کی مقعد جہنم کی نچلی تحت بن جاتی ہے۔ جیسے حدیث و قرآن میں وارد ہوا ہے۔ الغناء ينبت النفاق في القلب كما ينبت الماء الزرع"

(گانا دل میں نفاق کو اس طرح اگاتا ہے جیسے پانی گھاس کو اگاتا ہے۔)


اور نفاق کے بارے قرآن میں آیا ہے کہ یہ سبب بنانے گا فرشِ جنہم کے ٹھکانے کا۔ إن المنافقين في الدرك الأسفل من النار. (بے شک منافق جہنم کے سب سے نچلے درجے میں ہوں گے۔)

مسلمان کا شیوہ یہی ہے کہ وہ خود کو اور اپنے عزیزوں کو ہر اُس راہ سے دور رکھے جو جہنم کی طرف لے جائے۔ رقص و موسیقی جیسے امور وقتی لذت ضرور دیتے ہیں، مگر انجام کے اعتبار سے مہلک ہیں۔ عقل و دین کا تقاضا یہی ہے کہ انسان اپنی اور اپنوں کی آخرت سنوارنے کی فکر کرے، نہ کہ شیطانی وسوسوں کے جواز تراشے۔

عقل مند وہی ہے جو دنیا کی سراب نما لذتوں پر نہ فریفتہ ہو، بلکہ اپنی اور اپنوں کی آخرت کی حقیقی کامیابی کی فکر کرے۔


ماجد کشمیری 

۲۶ رمضان المبارک ۲۰۲۵

مسجد شریف

© 2023 جملہ حقوق بحق | اسلامی زندگی | محفوظ ہیں