بیوہ : زکات کا مصرف نہیں نکاح کا شرف ہے

0

 

 معاشروں کی نبض کبھی الفاظ سے نہیں، بلکہ اُن کی ترجیحات سے پہچانی جاتی ہے۔ کہیں ہمدردی کے چراغ روشن ہوتے ہیں مگر اُن کی روشنی راستہ نہیں دکھاتی، اور کہیں علاج کے نام پر مرہم تو رکھا جاتا ہے مگر زخم کی جڑ کو چھیڑا ہی نہیں جاتا۔ بعض اوقات رحم کے عنوان سے جو تدابیر اختیار کی جاتی ہیں، وہ دراصل ایک خاموش انحراف کی صورت ہوتی ہیں—ایسا انحراف جو مسئلے کو حل نہیں کرتا بلکہ اسے ایک نئے قالب میں برقرار رکھتا ہے۔

بیواؤں کے مسئلے کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی معاملہ درپیش ہے: ایک طرف شفقت کے نام پر سہارا دینے کی کوششیں، اور دوسری طرف اُن اصولی راستوں سے تغافل جو شریعت نے ان کے لیے مقرر کیے۔ سوال یہ نہیں کہ ہم کیا کر رہے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم کیا چھوڑ رہے ہیں—اور یہی وہ سوال ہے جو اس مضمون کے دروازے کھولتا ہے۔

بیوہ: ہمدردی نہیں، وقار کا عنوان

آج بیواؤں کے لیے مراکز قائم کرنے، وظائف جاری کرنے اور امدادی اسکیمیں چلانے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ بظاہر یہ اقدامات خیر خواہی کے آئینہ دار ہیں، مگر اگر ان کا تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ اکثر اصل حل سے توجہ ہٹا دیتے ہیں۔ اسلام نے بیوہ کو ایک مستقل محتاج طبقہ بنا کر پیش نہیں کیا، بلکہ اسے عزت و وقار کے ساتھ زندگی گزارنے کا حق دیا ہے۔

نکاح، جو انسانی زندگی کا فطری اور سماجی تقاضا ہے، بیوہ کے لیے بھی اسی طرح مشروع اور مطلوب ہے جیسے غیر شادی شدہ کے لیے۔ بلکہ اس کی ترغیب دی گئی، تاکہ وہ تنہائی، عدمِ تحفظ اور معاشی دباؤ سے نکل کر ایک متوازن زندگی کی طرف لوٹ آئے۔ یہی وہ راستہ ہے جس میں عفت بھی ہے، استحکام بھی اور معاشرتی وقار بھی۔

زکوٰۃ: استحقاق کا معیار بیوگی نہیں، احتیاج ہے

یہ تصور کہ ہر بیوہ لازماً زکات کی مستحق ہے، نہ نصوصِ شرعیہ سے ثابت ہے اور نہ فقہی اصولوں سے۔ قرآنِ کریم نے زکات کے مصارف کو “الفقراء والمساكين” کے عنوان سے بیان کیا ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ اصل معیار “حاجت” ہے، نہ کہ “محض بیوگی”۔

اگر کوئی بیوہ مالی طور پر مستحکم ہو، یا اس کے پاس کفایت کے اسباب موجود ہوں، تو وہ زکات کی مستحق نہیں رہتی۔ اس کے برعکس، اگر کوئی محتاج ہو تو وہ زکات کا مستحق ہوگا، خواہ وہ بیوہ ہو یا نہ ہو۔ اس سے معلوم ہوا کہ شریعت نے زکات کو ایک عارضی سہارا بنایا ہے، نہ کہ کسی طبقے کے لیے مستقل سہارا۔

وراثت: حق جو بھلا دیا گیا

بیوہ کے حقوق میں سب سے اہم حق “وراثت” ہے۔ شوہر کی وفات کے بعد اسے اس کا مقررہ حصہ دینا محض ایک قانونی تقاضا نہیں بلکہ ایک شرعی فریضہ ہے۔ افسوس کہ ہمارے معاشرے میں یہی حق اکثر پامال ہو جاتا ہے—کبھی رسم و رواج کے نام پر، کبھی خاندانی دباؤ کے تحت۔

اگر وراثت کے اس حق کو دیانت داری سے ادا کیا جائے تو بہت سی بیوائیں زکات کی محتاج ہی نہ رہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہم نے وراثت کے دروازے بند کر کے زکات کے دریچے کھول دیے ہیں، جبکہ شریعت کا منشا اس کے برعکس ہے۔

نکاح: اصل علاج، جسے نظر انداز کیا جا رہا ہے

بیوہ کے مسئلے کا سب سے مؤثر اور بنیادی حل نکاح ہے۔ یہ وہ راستہ ہے جسے اسلام نے نہ صرف جائز رکھا بلکہ اس کی حوصلہ افزائی کی۔ مگر ہمارے معاشرے میں نکاحِ بیوہ کو مختلف سماجی رکاوٹوں، غیر ضروری رسموں اور ذہنی تعصبات کی نذر کر دیا گیا ہے۔

نتیجہ یہ ہے کہ ہم بیوہ کو سہارا دینے کے نام پر اسے ایک مستقل محتاجی کے دائرے میں رکھتے ہیں، جبکہ نکاح اسے اس دائرے سے نکال کر ایک باوقار اور متوازن زندگی کی طرف لے جا سکتا ہے۔

اسلام کا مقصد محض پیٹ بھرنا نہیں، بلکہ انسان کو وقار کے ساتھ جینے کا حق دینا ہے۔ اسی لیے صدقہ کرنے میں بھی یہ تعلیم دی گئی کہ اسے اس انداز سے دیا جائے کہ لینے والے کی عزتِ نفس مجروح نہ ہو؛ حتیٰ کہ پوشیدہ طور پر دینا افضل قرار دیا گیا۔

اور جب کوئی واجب صدقہ یا زکات ادا کی جاتی ہے تو یہ تصور نہیں ہوتا کہ ہم کسی پر احسان کر رہے ہیں، بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے جس کی تعمیل کی جا رہی ہے۔ درحقیقت یہ لینے والے پر احسان نہیں، بلکہ دینے والے کے لیے ایک موقعِ خیر ہے کہ اسے اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی توفیق ملی۔

اسلام انسان کو یہ شعور دیتا ہے کہ وہ ضرورت پوری کرے، مگر عزت کے ساتھ؛ وہ کسی کا محتاج ہو تو بھی اپنی خودی نہ کھوئے، اور اگر دینے والا ہو تو اپنے اندر احسان کا غرور پیدا نہ ہونے دے۔ یہی وہ توازن ہے جس میں انسان جیتا بھی ہے اور اپنی عزتِ نفس کو بھی محفوظ رکھتا ہے—اور یہی وہ روح ہے جسے اسلام اپنے ماننے والوں میں پیدا کرنا چاہتا ہے۔

الشیخ عبد الماجد الکشمیری 

2 شوال 1447

23 مارچ 2026

معتکف و متاع

0

 مقامۂ معتکف و متاع


 ایک بار ایک جلیلُ القدر بادشاہ نے اپنے دو خاص ندیموں کو طلب کیا؛ وہ دونوں قربِ دربار کے خوگر، مگر مزاج میں ایک مشرق و مغرب تھے: ایک دور اندیش، دوسرا لذت اندیش؛ ایک کی نگاہ انجام پر، دوسرے کی زبان ہر وقت ذائقے کے تعاقب میں۔


بادشاہ نے کہا:

“میرے ایک نہایت وسیع خزانے کا دروازہ تمہارے لیے کھول دیا جاتا ہے۔ مدت بس چند روز کی ہے۔ جو شخص اندر جا کر جتنا سمیٹ سکتا ہو، سمیٹ لے؛ جو چاہے ہاتھ سے اُٹھائے، جو چاہے گاڑیوں پر لدوائے، جو چاہے اپنے گھر منتقل کرے۔ شرط فقط یہ ہے کہ مدت محدود ہے؛ ساعت گزری تو فرصت بھی گزری۔ پھر نہ در کھلے گا، نہ عرض سنی جائے گی، نہ حسرت کی فریاد کا کوئی مصرف ہوگا۔”


یہ سننا تھا کہ پہلا شخص، جو عقل کو زادِ راہ اور فرصت کو غنیمت جانتا تھا، ادب سے جھکا، اندر گیا، ایک نگاہ دائیں ڈالی، ایک بائیں، اور سمجھ گیا کہ یہاں اصل متاع کیا ہے: صندوق ہائے زر، سبیکۂ سیم، جواہرِ آبدار، اور وہ نادر اشیا جن سے بعد کی زندگی سنور سکتی تھی۔ چنانچہ اس نے نہ دیواروں کے نقش میں وقت کھپایا، نہ خوشبوؤں کے تعاقب میں سانس گنوائے، نہ نازک بحثوں میں عقل اٹکائی۔ فوراً باہر نکلا، مزدور بلائے، گاڑیاں منگوائیں، بوریاں کھلوائیں، صندوق اٹھوائے، اور پھر بھر بھر کر وہی متاع منتقل کرنے لگا جس سے گھر بھی آباد ہو اور کل بھی۔


مگر دوسرا صاحب!

اللہ اللہ، کیا طبعِ رنگیں پائی تھی! اندر داخل ہوئے تو دیکھا کہ ایک گوشے میں نایاب پھل سجے ہیں؛ کہیں انجیر ایسی کہ جیسے شکر نے صورت باندھ لی ہو، کہیں انگور ایسے کہ گویا موتی شاخوں پر آگئے ہوں، کہیں انار کہ دانے نہیں، یاقوت کے ٹکڑے ہوں۔

بس حضور وہیں جم گئے!

کہیں چکھا، کہیں چبایا، کہیں دانت آزمائے، کہیں زبان کو مصروفِ شکر گزاری کیا۔

اور اس شکر گزاری کا حال یہ تھا کہ پیٹ کی راہ کھلی رہی، مگر صندوقوں کی راہ بند!


پھر آگے بڑھے تو چند خدام و کنیزکان سے سامنا ہوا۔ اب اصل کام تو تھا متاع سمیٹنا، مگر موصوف نے وہاں ایک اور دریا بہا دیا:

کس تھال میں پھل زیادہ شیریں ہے؟

کس کمرے کی روشنی زیادہ دلکش ہے؟

کس پردے کا رنگ شاہانہ ہے؟

کس نے پہلے کس کی طرف دیکھا؟

کس جملے میں تعریض تھی اور کس میں تلویح؟

اور پھر ایسی بحث چھیڑی کہ نہ اس کا سرا ہاتھ آئے، نہ کنارا۔

ایک کہتا: “یہ تو محض آرائش ہے۔”

وہ فرماتے: “جناب، آرائش بھی متاع ہی کی ایک شاخ ہے!”

دوسرا عرض کرتا: “مگر اصل خزانہ تو ادھر ہے۔”

تو جواب آتا: “بھئی، حسنِ ترتیب کو بھی کچھ سمجھیے، یہ بھی کم سرمایہ نہیں!”


یوں وہ موصوف قشر کو مغز اور سایہ کو آفتاب سمجھتے رہے۔

ادھر گھڑی کی سوئیاں اپنا فرض نبھاتی رہیں، اُدھر حضرت ہر بے فائدہ مشغلے کو فائدہ ثابت کرنے میں لگے رہے۔

جب کبھی کسی نے کہا: “حضور! سونا چاندی بھی کچھ اٹھا لیجیے!”

تو بولے: “ارے ابھی کیا جلدی ہے؟ پہلے ذرا یہ طعامِ لطیف ختم ہو، پھر ان مسائلِ دقیقہ کا فیصلہ ہوجائے، پھر دیکھیں گے!”


اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ ساعت آپہنچی جس کے بعد “کاش” کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آتا۔


مدت ختم ہوئی۔ دروازے بند ہوئے۔

ایک باہر نکلا تو اس کے پیچھے گاڑیوں کی قطار تھی؛

دوسرا نکلا تو اس کے ساتھ صرف ڈکار، چند بے نتیجہ بحثوں کی گرد، اور ہاتھ میں ایک آدھ پھل کا چھلکا!


پہلے شخص نے کچھ دنوں بعد انہی خزانوں سے اپنا گھر سنوارا، مہینوں کا خرچ نکالا، آسودگی پائی، اور لوگوں نے کہا: “یہ وہ شخص ہے جس نے فرصت کی نبض پہچانی اور موقع کی زلف پکڑ لی۔”


اور دوسرا؟

سو پہلے دن تو پیٹ بھرے ہونے کا غرور رہا، مگر جب وہ عارضی لذت ہضم ہو گئی اور بحثوں کی بھاپ بھی ہوا ہو گئی، تب معلوم ہوا کہ جسے سرمایہ سمجھا تھا وہ تو ناشتۂ احساس بھی نہ تھا۔

بھوک نے دروازہ کھٹکھٹایا، حاجت نے آستین پکڑی، اور حسرت نے کان میں کہا:

“اے حضرتِ ذوق! اگر اس وقت ایک گاڑی بھی اصل خزانے کی بھر لیتے، تو آج زبان کو اپنے فیصلوں کی وکالت نہ کرنی پڑتی!”


یہ حکایت سن کر ایک صاحبِ دل نے فرمایا:

“اعتکاف بھی کچھ ایسا ہی شاہی اعلان ہے۔

چند دن کا درِ خاص کھلتا ہے؛

سامانِ قربت، خزائنِ مغفرت، جواہرِ دعا، سکّۂ ذکر، اور سونے چاندی سے بڑھ کر قبولیت کی دولت سامنے رکھی جاتی ہے۔

اب کوئی تو وہ ہے جو اندر جا کر تلاوت، دعا، استغفار، محاسبہ، ذکر، گریہ، توجہ اور اصلاحِ باطن کے صندوق بھر لیتا ہے؛

اور کوئی وہ بھی ہے جو مسجد میں آ کر کبھی افطار کے ذائقوں میں، کبھی تکیے کی نرمی میں، کبھی اِدھر کی بات اُدھر اور اُدھر کی اِدھر میں، کبھی ایسی بحثوں میں جن کا نہ دنیا میں وزن نہ آخرت میں نرخ، اپنا وقت یوں صرف کرتا ہے جیسے مدت لامحدود ہو اور فرصت ہمیشگی کی لونڈی!”


حالاں کہ اعتکاف کے یہ دن کھجوروں کے ذائقے ناپنے کے لیے نہیں،

بلکہ تقدیر کے خزانے سمیٹنے کے لیے ہیں۔

یہ ساعتیں اس لیے نہیں ملتیں کہ آدمی مسجد کی دیواروں کے اندر دنیا کی محفل دوبارہ آباد کر لے؛

بلکہ اس لیے کہ کچھ دیر کے لیے دنیا کو دروازے پر بٹھا کر دل کو رب کے حضور تنہا کر دے۔


ہاں، کھانا کھائیے، آرام بھی کیجیے، ضرورت کی بات بھی کہیے؛ شریعت نے رہبانیت نہیں سکھائی۔

مگر صاحب!

کہیں ایسا نہ ہو کہ دسترخوان یاد رہ جائے اور دستِ دعا بھول جائے،

نیند پوری ہو جائے اور ندامت ادھوری رہ جائے،

گفتگو کے پھول تو بہت چن لیے جائیں مگر مغفرت کے پھل شاخ ہی پر رہ جائیں۔


پس معتکف کے لیے دانائی یہی ہے کہ جب بادشاہِ حقیقی نے فرمایا ہے:

“آؤ، چند روز میرے گھر میں ٹھہرو، اور جتنا سمیٹ سکتے ہو سمیٹ لو”

تو پھر عقل مند وہی ہے جو اصل پنجی لے،

یعنی: توبہ، ذکر، دعا، قرآن، فکرِ آخرت، اصلاحِ نفس، اور شبِ قدر کی تلاش۔

ورنہ مدت گزر جائے گی، چاند رات آجائے گی، لوگ مبارک باد دیں گے،

اور کوئی دل ہی دل میں کہہ رہا ہوگا:

“ہم تو مسجد میں رہے، مگر شاید اعتکاف ہم میں نہ رہا!”


الشیخ عبد الماجد الکشمیری 

25 رمضان المبارک 1447

صدقة الفطر

0


تحميل ملف PDF

مواد دراسية للطلاب
يمكنكم تحميل ملف PDF من خلال الزر أدناه. يحتوي هذا الملف على مادة علمية مفيدة تساعدكم في الدراسة والمراجعة الأكاديمية.
تحميل PDF

صدقۂ فطر کے احکام

0

✦ تعریف: صدقۂ فطر

صدقۂ فطر اسلام کی ایک اہم مالی عبادت ہے جو عیدالفطر کے موقع پر ادا کی جاتی ہے۔ اس کا مقصد روزہ دار کی کوتاہیوں کی تلافی اور ضرورت مندوں کی مدد کرنا ہے تاکہ وہ بھی عید کی خوشیوں میں شریک ہوسکیں۔

✦ نصاب صدقۂ فطر

شریعت کی رو سے ہر اس مسلمان مرد و عورت پر صدقۂ فطر واجب ہے جس کے پاس قرض اور ضروری اسباب سے زائد اتنی مالیت کا مال یا سامان موجود ہو جو ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر یا اس سے زیادہ ہو۔ یہ مال خواہ تجارت کا ہو یا غیر تجارت کا، اور اس پر سال گزرنا بھی ضروری نہیں (یہی فرق ہے نصاب زکات اور نصاب صدقہ فطر میں)۔ ایسی صورت میں اس شخص پر عیدالفطر کے دن صدقۂ فطر ادا کرنا واجب ہوجاتا ہے۔ اس سے پہلے بھی ادا کر سکتا مگر ضروری نہیں، ہاں عید سے پہلے ادا نہیں کیا تو بھی اس کے ذمہ ادائیگیِ صدقۂ فطر باقی اور اس کو ادا کرنا ہی ہوگا بعدِ عید ہی سہی۔

جس طرح مال داری کی صورت میں مرد پر صدقۂ فطر واجب ہوتا ہے، اسی طرح اگر عورت صاحبِ نصاب ہو تو اس پر بھی اپنی طرف سے صدقۂ فطر ادا کرنا واجب ہے۔ تاہم مال دار عورت پر صرف اپنا صدقۂ فطر ادا کرنا واجب ہے، اس پر کسی اور کی طرف سے صدقۂ فطر ادا کرنا لازم نہیں، نہ بچوں کی طرف سے، نہ والدین کی طرف سے اور نہ شوہر کی طرف سے۔

البتہ مال دار مرد کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنی طرف سے بھی صدقۂ فطر ادا کرے اور اپنی نابالغ اولاد کی طرف سے بھی۔ اگر نابالغ اولاد خود صاحبِ نصاب ہو تو ان کے مال سے صدقۂ فطر ادا کیا جائے گا، اور اگر وہ صاحبِ نصاب نہ ہوں تو باپ اپنے مال سے ادا کرے گا۔ بالغ اولاد اگر صاحبِ نصاب ہو تو ان کی طرف سے صدقۂ فطر ادا کرنا باپ پر واجب نہیں، البتہ اگر وہ اپنی خوشی سے ادا کردے تو ادا ہوجائے گا۔

✦ مصارف صدقۂ فطر

صدقۂ فطر کے مصارف وہی ہیں جو زکات کے مصارف ہیں۔ یعنی جہاں زکات دی جاسکتی ہے وہاں صدقۂ فطر بھی دیا جاسکتا ہے اور جہاں زکوٰۃ دینا جائز نہیں وہاں صدقۂ فطر دینا بھی درست نہیں۔ اس لیے صدقۂ فطر کے اصل مستحق فقرا اور مساکین ہیں۔ صدقۂ فطر کی رقم سے مسجد، مدرسہ یا ہسپتال تعمیر کرنا درست نہیں، بلکہ اسے کسی مستحق شخص کو مالک بنا کر دینا ضروری ہے۔ اسی طرح سادات کو صدقۂ فطر دینا بھی درست نہیں اور مفتیٰ بہ قول کے مطابق غریب غیر مسلموں کو بھی صدقۂ فطر دینا جائز نہیں ہے۔

✦ جن کو صدقۂ فطر نہیں دے سکتے

یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ انسان اپنے ماں باپ، دادا دادی، نانا نانی اور اپنی اولاد یعنی بیٹوں، بیٹیوں، پوتوں، پوتیوں، نواسوں اور نواسیوں کو زکات یا صدقۂ فطر نہیں دے سکتا۔ اسی طرح میاں بیوی بھی ایک دوسرے کو زکات اور صدقۂ فطر نہیں دے سکتے۔ البتہ ان کے علاوہ خاندان کے وہ افراد جو مستحقِ ٰزکات ہوں انہیں صدقۂ فطر دینا نہ صرف جائز بلکہ افضل ہے، کیونکہ اس میں دوہرا اجر حاصل ہوتا ہے: ایک صدقۂ فطر ادا کرنے کا اور دوسرا صلہ رحمی کا۔

مستحق سے مراد وہ شخص ہے جس کے پاس ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی قیمت کے برابر مال موجود نہ ہو، یا اس کے پاس ضرورت سے زائد ایسا سامان نہ ہو جس کی مالیت اس مقدار تک پہنچتی ہو، اور وہ سید بھی نہ ہو۔ ایسا شخص زکات اور صدقۂ فطر دونوں کا مستحق ہوتا ہے۔


مزید متعلقہ مسائل کے لیے 9149525943 پر رابطہ کریں بہتر ہے سوال نوشت کیا جائے واٹس ایپ پر بایں وجہ کہ مجیب معتکف ہے۔


کتبہ : الشیخ عبد الماجد الکشمیری

الجواب الصحیح ( حضرت مولانامفتی ) طاہر مقبول الرحیمی

الجواب صحیح (۔حضرت مولانا مفتی  محمد عارف (قاسمی) عفی عنہ



چراغِ خاموش کی داستان: حاجی غلام حسن بن خلیل بٹؒ

0

 ایک چراغِ خاموش کی داستان: حاجی غلام حسن بن خلیل بٹؒ 



زندگی کے وسیع افق پر کچھ انسان ایسے بھی ہوتے ہیں جو شور و غوغا کے میناروں پر نہیں چڑھتے، مگر خاموشی کے دیے بن کر زمانے کے دلوں کو روشن کرتے رہتے ہیں۔ وہ نہ تاریخ کے بڑے عنوان بنتے ہیں اور نہ شہرت کے بازاروں میں ان کا چرچا ہوتا ہے، لیکن جن دلوں کو ان کی قربت نصیب ہو، وہاں ان کی یاد ایک ایسے چراغ کی طرح جلتی رہتی ہے جس کی لو کبھی مدھم نہیں پڑتی۔ میرے دادا حاجی غلام حسن بن خلیل بٹؒ بھی انہی خاموش چراغوں میں سے ایک تھے—وہ چراغ جو مٹی کے گھر میں جلتا ہے مگر روشنی آسمان تک پہنچ جاتی ہے۔

ان کی زندگی کی صبحیں عام انسانوں کی طرح فجر سے نہیں بلکہ تہجد کی خاموش ساعتوں سے طلوع ہوتی تھیں۔ جب رات کی سیاہ چادر ابھی پوری طرح لپٹی ہوتی اور ستارے آسمان پر بکھرے ہوئے موتیوں کی طرح جھلملا رہے ہوتے، وہ بیدار ہو جاتے۔ وضو کی ٹھنڈی بوندیں ان کے چہرے پر پڑتیں تو یوں لگتا جیسے شبنم کسی پرانے درخت کے پتوں کو تازگی بخش رہی ہو۔ پھر وہ اپنے رب کے حضور کھڑے ہوتے۔ ان کی نماز گویا ایک خاموش مکالمہ تھی—بندے کی عاجزی اور رب کی رحمت کے درمیان۔

دن نکلتا تو ان کی زندگی کا دوسرا منظر شروع ہو جاتا۔ زمین ان کے لیے محض کھیتی نہ تھی بلکہ ماں کی طرح تھی جس کی گود میں وہ اپنی محنت کے بیج بوتے تھے۔ وہ مویشی پالنے والے ایک تجربہ کار کسان تھے۔ کھیتوں کی مٹی ان کے ہاتھوں کو پہچانتی تھی اور مویشیوں کی آنکھیں ان کی شفقت سے مانوس تھیں۔ بٹ محلے کے لوگ جب کسی مشکل میں پڑتے تو ان کے دروازے کی دہلیز پر دستک دیتے۔ ان کا تجربہ کسی کتاب کی طرح تھا جس کے صفحات پر برسوں کی محنت کے حرف لکھے ہوئے تھے۔

سادگی ان کی زندگی کا لباس تھی۔ وہ دواؤں کی بوتلوں کے محتاج نہ تھے۔ معمولی بیماریوں کے لیے وہ پہاڑوں اور میدانوں کی جڑی بوٹیوں کو ہی اپنا طبیب سمجھتے۔ گویا فطرت ان کے لیے ایک کھلا ہوا دوا خانہ تھی۔ شہد کی مکھیاں پالنا ان کا ایک دل پسند مشغلہ تھا۔ ان کے گھر میں شہد کی خوشبو یوں بکھری رہتی جیسے بہار کی ہوا میں پھولوں کی مہک۔ وہ خود بھی شہد شوق سے کھاتے اور دوسروں کو بھی اس نعمت سے مستفید کرتے۔ شاید اسی مٹھاس نے ان کی صحت کو آخری عمر تک مضبوط رکھا۔

عبادت کے معاملے میں وہ نہایت محتاط تھے۔ اگرچہ دن بھر کام کی گرد ان کے کپڑوں پر جم جاتی، مگر نماز کے وقت وہ اس گرد کو جھاڑ دیتے۔ کپڑے بدلتے اور مسجد کا رخ کرتے۔ یہ گویا اس بات کا کنایہ تھا کہ بندہ دنیا کی مٹی میں جتنا بھی الجھ جائے، رب کے دربار میں حاضر ہوتے وقت خود کو پاکیزہ بنا کر ہی پیش ہونا چاہیے۔ اکثر وہ میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے بھی مسجد لے جاتے۔ اس وقت مجھے محسوس نہیں ہوتا تھا کہ وہ صرف مجھے مسجد تک نہیں بلکہ زندگی کے راستے تک لے جا رہے ہیں۔

خود داری ان کی شخصیت کا ایک روشن وصف تھا۔ اگرچہ ان کی اولاد اللہ کے فضل سے آسودہ حال تھی، مگر انہوں نے کبھی اپنے ہاتھ کو کسی کے آگے پھیلنے نہ دیا۔ وہ اپنے بازوؤں کی کمائی کو عزت کا تاج سمجھتے تھے۔ ان کی زندگی گویا اس بات کی زندہ مثال تھی کہ وقار ہمیشہ خود کفالت کے سائے میں پروان چڑھتا ہے۔

میری بچپن کی تربیت میں بھی ان کا کردار ایک معلم کی طرح تھا۔ کبھی وہ شفقت کے سائے بن جاتے اور کبھی ڈانٹ کی بجلی گرا دیتے، مگر اس ڈانٹ میں بھی محبت کا دریا بہتا تھا۔ قرآن کی تعلیم کی طرف متوجہ کرنا ہو یا کشمیری زبان سکھانا—یہ سب انہی کی صحبت کا فیض تھا۔ اسی زبان میں انہوں نے مجھے نعت اور درودِ نبوی ﷺ کے کئی اشعار یاد کروائے۔ جب وہ درود پڑھتے تو یوں محسوس ہوتا جیسے عقیدت کے پھول فضا میں بکھر رہے ہوں۔

بٹ محلے میں جب قربانی کا موسم آتا تو اکثر لوگ انہیں ہی آواز دیتے۔ وہ اپنی ایک چھوٹی سی دستی کتاب نکالتے اور بڑے انہماک سے نیت پڑھتے۔ وہ منظر آج بھی میرے حافظے کے دریچے میں محفوظ ہے—ایک چھوٹی سی کتاب، ایک بوڑھی آواز اور اخلاص کا ایک روشن لمحہ۔

شاید انہی لمحوں کو دیکھ کر میرے دل میں مطالعے کا شوق پیدا ہوا۔ دادا کے ہاتھ میں کتاب دیکھنے کی جو عادت پڑی، وہ میرے دل میں ایسی شمع بن گئی جس کی لو آج تک روشن ہے۔

زندگی کے ایک مرحلے پر انہوں نے فشری ڈیپارٹمنٹ میں ملازمت بھی اختیار کی، مگر جلد ہی اسے چھوڑ دیا۔ دفتری زندگی ان کے مزاج کے مطابق نہ تھی۔ ان کا دل کھیتوں کی ہوا میں زیادہ سکون پاتا تھا۔ چنانچہ انہوں نے ملازمت کے بجائے زمین اور مویشیوں کی رفاقت کو ترجیح دی۔

وقت کا پہیہ گھومتا رہا اور آخرکار وہ دن بھی آیا جب بیماری نے ان کے جسم کو کمزور کر دیا۔ مگر ان دنوں میں بھی ان کی محبت کم نہ ہوئی بلکہ اور گہری ہو گئی۔ جب میں ان کے پاس بیٹھتا تو وہ محبت بھری نگاہوں سے دیکھتے اور میرے لیے دعائیں کرتے۔ ان کی دعائیں گویا میرے لیے سایہ دار درخت کی طرح تھیں جن کے سائے میں آج بھی میری زندگی کی راہیں ٹھنڈی محسوس ہوتی ہیں۔

آج جب میں ان کی زندگی کے اوراق پلٹتا ہوں تو مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ ایک ایسا چراغ تھے جو خاموشی سے جلتا رہا۔ اس چراغ نے نہ صرف ایک گھر بلکہ کئی دلوں کو روشنی دی۔

اور اب جب کبھی رات کے سناٹے میں تہجد کا وقت آتا ہے تو مجھے یوں لگتا ہے کہ جیسے فضا میں ایک مانوس دعا کی خوشبو اب بھی تیر رہی ہو—

گویا وہ خاموش چراغ بجھا نہیں، بلکہ ہماری نگاہوں سے اوجھل ہو کر کسی اور جہان میں روشنی بانٹنے لگا ہے۔

اللہ تعالیٰ ان کی قبر و لحد کو نور سے بھر دے، اسے رحمت کے باغوں میں سے ایک باغ بنا دے، اور حساب و کتاب کے مراحل کو ان کے لیے آسان فرما دے۔

اور میں اپنے آپ کو ان کے لیے ایک ادنیٰ سا صدقۂ جاریہ سمجھتے ہوئے یہ دعا کرتا ہوں کہ میرے یہ قلیل اعمالِ صالحہ—جو کسی نہ کسی طرح ان کی تربیت اور صحبت کا فیض ہیں—اللہ تعالیٰ انہیں قبول فرمائے اور ان کے سبب میرے دادا کے درجات کو مزید بلند فرما دے۔ آمین 

Deen ko desire ke mutabik na banay

0


 Yawm-e paidaish-e Adam  mahz haftawar repetition nahi, balkeh shu‘oor ki ek dastak hai. Is din maloomat ke ambar mein izafa asal maqsad nahi hota; asal gharz iman ki renewal aur dil ki awakening hai. Magar jab isi mauqe par yeh kaha jaye ke Allah Ta‘ala hum se “chhoti chhoti baaton” ka sawal nahi karenge, aur misaal ke taur par aqeeda-e ilm-ul-ghaib ko bhi unhi juziyat mein shumar kar diya jaye, to ‘aql khud ba khud pause karti hai aur sawal uthati hai: aakhir yeh division kis basis par hai?

Agar kisi sifat ko Allah Ta‘ala ne apne liye exclusive qarar diya ho aur phir usi ko kisi aur ke liye zaati o mustaqil taur par accept kar liya jaye, to yeh mahz ek lafzi ikhtilaf nahi rehta, balkeh tauheed-e sifaat ke core structure mein crack dalne ke mutradif ho jata hai. Yeh kehna ke is masle mein maan ne wala aur na maan ne wala equal hain, darasal foundation aur wall ko ek level par rakh dena hai. ‘Aql is equality ko accept nahi karti, kyun ke aqeeda deen ki foundation hai, aur foundation kamzor ho to poori structure khatre mein aa jati hai. Is liye aise umoor ko “minor issue” keh kar ignore karna darasal asal masle ki seriousness ko underplay karna hai. Da‘i ka mission yeh nahi ke woh principles ko blur kar de, balkeh yeh hai ke woh tauheed ko clear aur uncompromised andaz mein present kare, khwah is ke liye convenience tark hi kyun na karni pare.

Isi tarah jab unity ke naam par yeh kaha jaye ke sehri kab band karni hai, is discussion mein na paro, to sawal paida hota hai ke jis amr ka direct ta‘alluq ibadat ki validity se ho, woh kaise irrelevant ho sakta hai? Agar muqarrar waqt ke baad khana rozay ko invalidate kar deta hai, to waqt ki determination mahz ek theoretical debate nahi rehti, balkeh hukm-e shar‘i ki boundary ban jati hai. Ramadan ka message agar yeh hai ke Allah Ta‘ala ke hukm ko on time aur bila choon o chira follow kiya jaye, to phir isi hukm ki limits par guftagu se gurez kyun? Boundary ko accept karna aur boundary ko identify karna dono zaroori hain; warna obedience ka concept vague ho jata hai.

Yeh bhi kaha jata hai ke baray gunahon se bacho, chhotay gunah Allah maaf farma denge, kyun ke woh Most Merciful hain. Is mein koi doubt nahi ke Allah Ta‘ala ki mercy infinite hai, magar is truth ko is andaz mein present karna ke goya chhoti laghzishein negligible hain, khud ek serious intellectual slip hai. “Minor sin” jab habit ban jaye to woh minor nahi rehta, aur “small command” jab consciously chhor diya jaye to woh mahz juzi baat nahi rehti, balkeh attitude ki formation kar deta hai. Deen chand major headlines ka naam nahi; yeh complete code of life hai. Agar hum khud decide karne lagen ke kaun si baat important hai aur kaun si optional, to darasal hum deen ko apni khwahish ke mutabiq reshape kar rahe hote hain, halan ke Ramadan humein yahi training deta hai ke desires ko deen ke subjugate karo, deen ko desires ke mutabik na karo.

Asal contradiction isi maqam par paida hota hai: ek taraf total obedience ka slogan, doosri taraf baaz umoor ko non-essential qarar dene ki sahulat. ‘Aql kehti hai ke agar obedience matloob hai to woh holistic hogi; agar principle ki hifazat zaroori hai to us ki details bhi usi framework ka hissa hain. Balance yeh nahi ke har masle ko controversy bana diya jaye, balkeh yeh hai ke har masle ko us ke haqiqi weightage ke mutabiq samjha jaye. Jo foundation se muta‘alliq hai use foundation ki tarah dekha jaye, aur jo practice ki hadd se muta‘alliq hai use boundary ki tarah.

Deen ki imarat mein kuch eentain foundation mein hoti hain aur kuch structure mein, magar koi brick bhi aisi nahi jise yeh keh kar nikaal diya jaye ke us ke baghair bhi building stable rahe gi. ‘Aql ka demand yahi hai ke na hum overreaction mein jayen na negligence mein, balkeh usool ko principle aur hadd ko limit samajh kar obedience ka da‘wa karein. Yahi iman ki renewal hai, yahi shu‘oor ki awakening hai, aur yahi woh message hai jo Jumu‘ah bhi deta hai aur Ramadan bhi.

فکری لغزش کا تعقب

0

 یومِ پیدائشِ آدم محض ہفتہ وار تکرار نہیں، بلکہ شعور کی ایک دستک ہے۔ اس دن معلومات کے انبار بڑھانا اصل مقصود نہیں ہوتا؛ اصل غرض دل کی بیداری اور ایمان کی تازگی ہے۔ مگر جب اسی موقع پر یہ کہا جائے کہ اللہ تعالیٰ ہم سے “چھوٹی چھوٹی باتوں” کا سوال نہیں کریں گے، اور مثال کے طور پر عقیدۂ علمِ غیب کو بھی انہی جزئیات میں شمار کر دیا جائے، تو عقل خود بخود توقف کرتی ہے اور پوچھتی ہے: آخر یہ تقسیم کس بنیاد پر ہے؟

اگر کسی صفت کو اللہ تعالیٰ نے اپنے لیے خاص فرمایا ہو اور پھر اسی کو کسی اور کے لیے ذاتی و مستقل طور پر مان لیا جائے، تو یہ محض ایک لفظی اختلاف نہیں رہتا، بلکہ توحیدِ صفات کے دائرے میں دراڑ ڈالنے کے مترادف ہو جاتا ہے۔ یہ کہنا کہ اس مسئلے میں ماننے والا اور نہ ماننے والا برابر ہے، دراصل بنیاد اور دیوار کو ایک درجہ دینا ہے۔ عقل اس مساوات کو قبول نہیں کرتی، کیونکہ عقیدہ دین کی جڑ ہے، اور جڑ کی صحت کے بغیر شاخوں کی شادابی بے معنی ہو جاتی ہے۔ اس لیے ایسے امور کو “چھوٹا اختلاف” کہہ کر نظر انداز کرنا دراصل اصل مسئلے کی سنگینی کو ہلکا کر دینا ہے۔ داعی کا منصب یہ نہیں کہ وہ اصولوں کو دھندلا دے، بلکہ یہ ہے کہ وہ توحید کو صاف اور بے آمیز انداز میں واضح کرے، خواہ اس کے لیے خاموشی کی سہولت ترک ہی کیوں نہ کرنی پڑے۔

اسی طرح جب اتحاد کے نام پر یہ کہا جائے کہ سحری کب بند کرنی ہے، اس میں نہ پڑو، تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ جس امر کا تعلق براہِ راست عبادت کی صحت سے ہو، وہ کیونکر غیر اہم ہو سکتا ہے؟ اگر مقررہ وقت کے بعد کھانا روزے کو متاثر کرتا ہے، تو وقت کی تعیین محض ایک نظری نزاع نہیں رہتی، بلکہ حکمِ شرعی کی حد بن جاتی ہے۔ رمضان کا پیغام اگر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو بروقت اور بلا چون و چرا مانا جائے، تو پھر اسی حکم کی حدود پر گفتگو سے گریز کیوں؟ حد کو تسلیم کرنا اور حد کو پہچاننا دونوں لازم ہیں؛ ورنہ اطاعت کا مفہوم مبہم ہو جاتا ہے۔

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ بڑے گناہوں سے بچو، چھوٹے گناہ اللہ معاف فرما دیں گے، کیونکہ وہ وسیع المغفرت ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت بے پایاں ہے، مگر اس حقیقت کو اس طرح پیش کرنا کہ گویا چھوٹی لغزشیں قابلِ اعتنا ہی نہیں، خود ایک بڑی فکری لغزش ہے۔ چھوٹا گناہ جب عادت بن جائے تو اس کی حیثیت بدل جاتی ہے، اور چھوٹا حکم جب شعوری طور پر ترک کیا جائے تو وہ محض جزئی بات نہیں رہتا، بلکہ رویے کی تشکیل کر دیتا ہے۔ دین چند بڑے عنوانات کا نام نہیں؛ یہ زندگی کا پورا دستور ہے۔ اگر ہم خود یہ طے کرنے لگیں کہ کون سی بات اہم ہے اور کون سی غیر اہم، تو دراصل ہم دین کو اپنی خواہش کے مطابق تراش رہے ہوتے ہیں، حالانکہ رمضان ہمیں خواہش کو دین کے تابع کرنے کی تربیت دیتا ہے، دین کو خواہش کے تابع کرنے کی نہیں۔

اصل تضاد اسی مقام پر جنم لیتا ہے: ایک طرف کامل اطاعت کا نعرہ، دوسری طرف بعض امور کو غیر اہم قرار دینے کی سہولت۔ عقل کہتی ہے کہ اگر اطاعت مطلوب ہے تو وہ کلی بھی ہوگی اور جزئی بھی؛ اگر اصول کی حفاظت ضروری ہے تو اس کی تفصیلات بھی اسی حصار کا حصہ ہیں۔ اعتدال یہ نہیں کہ ہر مسئلے کو معرکہ بنا دیا جائے، بلکہ یہ ہے کہ ہر مسئلے کو اس کے حقیقی وزن کے مطابق سمجھا جائے۔ جو بنیاد سے متعلق ہے اسے بنیاد کی طرح دیکھا جائے، اور جو عمل کی حد سے متعلق ہے اسے حد کی طرح۔

دین کی عمارت میں بعض اینٹیں بنیاد میں ہوتی ہیں اور بعض دیوار میں، مگر کوئی اینٹ بھی ایسی نہیں جسے یہ کہہ کر نکال دیا جائے کہ اس کے بغیر بھی عمارت کھڑی رہے گی۔ عقل کا تقاضا یہی ہے کہ ہم نہ افراط میں جائیں نہ تفریط میں، مگر اصول کو اصول اور حد کو حد سمجھ کر ہی اطاعت کا دعویٰ کریں۔ یہی ایمان کی تازگی ہے، یہی شعور کی بیداری ہے، اور یہی وہ پیغام ہے جو یومِ رواں دیتا ہے اور رمضان بھی۔

بہت سے مسائل اور بھی تھے جو فکر کو درشاتے ہیں بغیر ابھی وقت نہیں ہے ابھی اتنے پر اکتفا کرتے ہیں کبھی اور باتیں کرتے ہیں۔

شیخ عبد الماجد آفندی 

MK cash counter

0
MK Cash Counter

MK Cash Counter

₹0.00
₹0.00
₹0.00
₹0.00
₹0.00
₹0.00
₹0.00
₹0.00
₹0.00
₹0.00
₹0.00
Total: ₹0.00
In Words: Zero Rupees Only

MCQs of HAL

0

پریکٹس کوئز — MCQs

عثمانی دور: سقوطِ ممالیک اور علمی و ادبی زوال
یہ پریکٹس کوئز **20 سوالات** پر مشتمل ہے جو موضوع “عثمانی دور: سقوطِ ممالیک اور علمی و ادبی زوال” کے اہم تاریخی، علمی اور ادبی پہلوؤں پر مبنی ہیں۔ آپ اس کوئز کے ذریعے اپنے مطالعے کو مضبوط کر سکتے ہیں اور امتحانی تیاری کو بہتر بنا سکتے ہیں۔
MCQs پریکٹس شروع کریں

MCQ of today's lecture uslob e manfuloti

0

أسئلة اختيار من متعدد (MCQs)

خصائص أسلوب المنفلوطي والنقد الموجَّه إليه

المنفلوطي: خصائص الأسلوب والتنقیدات

تهدف هذه الأسئلة إلى بيان خصائص أسلوب مصطفى صادق المنفلوطي، مع التعرف على أبرز الملاحظات النقدية التي تناولها النقاد حول أسلوبه الأدبي، وذلك بما يخدم الدراسة الأكاديمية والتحضير للامتحانات.

عرض أسئلة MCQs

Mcqs of Modern Prose

0

أسئلة اختيار من متعدد (MCQs)

النثر العربي • القصة

قصة: حكاية وتحليلها

تتناول هذه الأسئلة الجوانب الأساسية للقصة من حيث الفكرة، والبناء الفني، والأسلوب، مع التركيز على عناصر التحليل الأدبي، وذلك بأسلوب يخدم الفهم والتحضير للامتحانات الأكاديمية.

ابدا أسئلة MCQs

Frist Sem MA Arabic Class

0

MK Arabic Academy

First Semester • Live Online Class

صرف و نحو — فرسٹ سمسٹر

یہ فرسٹ سمسٹر کی آن لائن لائیو کلاس ہے جس میں صرف و نحو کے بنیادی اور اہم قواعد کو سادہ اور تدریسی انداز میں سمجھایا جائے گا۔ یہ درس ابتدائی طلبہ کے لیے نہایت مفید ہے۔

MA Arabic third sem MCQs

0

MK Arabic Academy

Arabic • Third Semester • MCQs

سقوط الخلافة العباسية في بغداد

یہ معروضی سوالات (MCQs) عربی ادب کی تاریخ کے اہم موضوع سقوط الخلافة العباسية في بغداد سے متعلق ہیں۔ یہ سوالات امتحانی نقطۂ نظر سے نہایت مفید اور نصابی معیار کے مطابق تیار کیے گئے ہیں۔

📌 نمونہ سوالات:

  • سقوطِ بغداد کا بنیادی سبب کیا تھا؟
  • عباسی خلافت کے زوال میں کس خارجی طاقت کا کردار تھا؟
  • اس سانحے کے ادبی اثرات کن پہلوؤں سے نمایاں ہوئے؟

قبرستان عبرت کی سرزمین یا اخلاقی زوال کا آئینہ؟

0

 


قبرستان وہ مقام ہے جہاں قدم رکھتے ہی دل پر ایک خاموش ہیبت طاری ہو جایا کرتی تھی۔ یہ وہ جگہ تھی جہاں یا تو خوف انسان کو اپنی گرفت میں لے لیتا، یا عقل مند اس منظر سے عبرت کشید کر کے اپنی اصلاح کی طرف لوٹ آتا۔ قبریں بولتی نہیں، مگر بہت کچھ کہہ جاتی ہیں؛ وہ انسان کو اس کے انجام کی یاد دلاتی ہیں، اس کے غرور کو توڑتی ہیں اور اسے یہ احساس دلاتی ہیں کہ طاقت، دولت، حسن اور خواہشات سب یہیں آ کر مٹی میں مل جاتے ہیں۔

مگر افسوس! کچھ عرصے سے قبرستان، جو احترام، خاموشی اور عبرت کی علامت تھا، ہمارے بعض ناجائز اور غیر شرعی اعمال کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔ آئے دن قبروں میں تعویذ ملنا، جادو ٹونے کے آثار پائے جانا، یہ صرف ایک غلط عمل نہیں، بلکہ انسانی اخلاق کی بدترین گراوٹ ہے۔ یہ قبروں کے احترام کے منافی بھی ہے اور مردوں کی حرمت پامال کرنے کے مترادف بھی۔

اگر آج تم کسی اور کی قبر میں تعویذ رکھ رہے ہو، تو یہ سمجھ لو کہ تم گویا اپنے ہی لیے وہاں عذاب کی آگ بھرتے جا رہے ہو۔ آج تم کسی مدفون شخص کی قبر کو اپنی خباثت کا میدان بنا رہے ہو، تو بعید نہیں کہ کل تمہاری قبر بھی اسی بے حرمتی کا نشانہ بنے۔ آج اگر قبروں میں تعویذ رکھے جا رہے ہیں، تو کل ان ہی قبروں کے پاس بے حیائی، گندگی اور بدکاری کا دروازہ کھل جانا کوئی بعید بات نہیں—کیونکہ گناہ ایک حد پر نہیں رکتا، وہ بڑھتا ہے، پھیلتا ہے، اور معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔

سحر و جادو کرنا خود صریح حرام ہے، اور پھر اس حرام کو قبرستان جیسی مقدس اور عبرت ناک جگہ تک لے جانا—کیا ہمیں اپنی جنازے کی ڈولی نظر نہیں آتی؟ جس قبرستان میں آج تم اپنے ہاتھوں سے تعویذ پہنچا رہے ہو، کل تم خود کسی کے کندھوں پر سوار ہو کر وہیں پہنچائے جاؤ گے۔ آج تمہارے ہاتھ زندہ ہیں، کل وہی ہاتھ مٹی تلے بے جان ہوں گے۔ آج تمہارے قدم چل رہے ہیں، کل وہی قدم قبر کی تنگی میں سمٹ جائیں گے۔

">يا من يغره طول الأمل
أمامك القبر فانتبه واعتبر
یعنی اے بندہ الٰہی طویل امیدیں دھوکے میں ڈال رہ رہی ہیں تیرے سامنے قبر ہے ہوش میں آ، اور اس سے عبرت حاصل کر.

ہم روز انہی ہاتھوں اور انہی قدموں سے جنازے اٹھاتے ہیں، قبرستان کی طرف چلتے ہیں، مردوں کو دفن کر کے لوٹ آتے ہیں۔ پھر انہی فنا ہونے والے ہاتھوں اور قدموں سے ہم کیسے یہ جرات کر لیتے ہیں کہ اسی جگہ کسی کے لیے برائی، نقصان اور قہر کے منصوبے دفن کریں؟ کیا یہ شعور کی موت نہیں؟

کبھی اس سب کو نام نہاد “محبت” کا لبادہ پہنا دیا جاتا ہے۔ مگر ذرا سوچو! وہ محبت کیسی محبت ہے جو تعویذ، جادو اور دوسروں کے گھروں کو توڑ کر حاصل کی جائے؟ وہ محبت نہیں، نفس کی غلامی ہے۔ وہ محبت نہیں، بلکہ اپنے ہی والدین، اپنے ہی گھر والوں کے سکون پر وار ہے۔

باز آ جائیں خدا کے لیے باز آ جائیں، اس سے پہلے کہ قبرستان بھی ہمیں قبول کرنے سے انکار کر دے۔ ایک باہوش، با ایمان مسلمان اس طرح کے اعمال کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ ذرا اپنے آپ کو پرکھو: کیا ہم واقعی ایمان والوں کی اس فہرست میں باقی ہیں؟

ہم  دلی کی گہرائیوں سے التماس کرتے ہیں ایسے کاموں سے اجتناب کیجیے ورنہ وہاں عذاب ہم سے اجتناب نہیں ہوگا۔

شیخ عبد الماجد الکشمیری 
29 دیسمبر 2024


پروفیشنل استاد کیسے بنیں

0


پروفیشنل استاد کیسے بنیں 

تعلیم محض الفاظ کی منتقلی نہیں، بل کہ دلوں کی آبادکاری کا نام ہے۔ دل وہیں ٹھہرتے ہیں جہاں اخلاص کی خوشبو بسی ہو۔ جو ہاتھ تختۂ سیاہ پر لکھتا ہے، اگر اس کی نیت بھی روشن ہو تو وہ تحریر خود چراغ بن جاتی ہے۔ اسی لیے کامیاب معلم وہ ہے جو علم سے پہلے نیت کو سنوارتا ہے؛ کیوں کہ نیت کا اخلاص ہی عمل کو وزن دیتا ہے۔

اسی اخلاصِ نیت پر کامیاب تدریس کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔ جب معلم تعلیم کو محض ذریعۂ معاش نہیں بل کہ ایک امانت سمجھ کر انجام دیتا ہے، تو اس کا ہر لفظ اثر رکھتا ہے۔ اخلاص وہ پوشیدہ طاقت ہے جو معمولی بات کو بھی دل نشیں بنا دیتی ہے، اور یہی طاقت معلم کے عمل میں دوام پیدا کرتی ہے.

نیت کے بعد جو چیز سب سے پہلے شاگرد کے دل تک پہنچتی ہے، وہ استاد کی خاموش زبان ہے۔کلاس روم میں معلم کی پہلی زبان اس کی مسکراہٹ، اس کی بشاشت اور اس کا نرم لہجہ ہوتا ہے۔ جب چہرہ کشادہ ہو تو ذہن کھلتے ہیں، اور جب لہجہ ہلکا ہو تو بوجھل دل ہلکے ہو جاتے ہیں۔ سختی ذہن کے دروازے بند کر دیتی ہے، جب کہ نرمی علم کے لیے راستے کھول دیتی ہے۔

اسی نرمی کا فطری نتیجہ تواضع ہے، جو معلم کی عظمت کا ایک مضبوط ستون ہے۔ وہ جھکتا ہے تو قد بڑھتا ہے، وہ نرم ہوتا ہے تو اثر گہرا ہوتا ہے۔ جب شاگرد یہ دیکھتے ہیں کہ استاد علم کے باوجود انکسار کا پیکر ہے، تو ان کے دلوں میں احترام خود بخود جاگ اٹھتا ہے، اور یہی احترام سیکھنے کی فضا کو قائم اور زندہ رکھتا ہے۔

یہ احترام اس وقت مضبوط اعتماد میں بدل جاتا ہے جب استاد شاگرد کی بات غور سے سنتا ہے، اس کے سوال کو اہم سمجھتا ہے اور اس کی رائے کو وقعت دیتا ہے۔ احترام اعتماد کو جنم دیتا ہے، اور اعتماد علم کو زندگی بخشتا ہے۔ اس کے برعکس جو استاد طلبہ کو کمتر سمجھے، وہ دراصل علم کی توہین کرتا ہے۔

اسی اعتماد کی فضا میں نصیحت بھی مؤثر بنتی ہے۔ نصیحت اگر حکم بن جائے تو دل بند ہو جاتے ہیں، اور اگر محبت میں ڈھل جائے تو دل راستہ دے دیتے ہیں۔ کامیاب معلم نصیحت کو سختی نہیں بناتا بل کہ رہنمائی میں بدل دیتا ہے۔ وہ شاگرد کی لغزش میں بھی اصلاح کا پہلو تلاش کرتا ہے، اور کمزوری میں امکان کی شمع روشن کرتا ہے۔

یہی حکمت استاد کو عدل و مساوات کی طرف لے جاتی ہے۔ اور یہ عدل وہ میزان ہے جس پر معلم کا کردار تولا جاتا ہے۔ یکساں توجہ، منصفانہ رویہ اور علم کی منصفانہ ترسیل: یہ سب وہ اقدار ہیں جو کلاس روم کو اعتماد کا مرکز بناتی ہیں۔ امتیاز بدگمانی کو جنم دیتا ہے، جب کہ انصاف محنت اور صلاحیت کو بیدار کرتا ہے۔

کیوں کہ ہر طالب ایک الگ دنیا ہے؛ کسی کی قوت یادداشت میں، کسی کی بصیرت عمل میں، اور کسی کی پرواز تخلیق میں ہوتی ہے تو معلم کا کمال یہ ہے کہ وہ ہر متعلم کی صلاحیت پہچان لے اور اسی سمت اس کی رہنمائی کرے۔

زبردستی کی یکسانیت ذہن کو توڑتی ہے،جب کہ فہم و حکمت شخصیت کو نکھارتی ہے۔

یہ ساری خوبیاں حسنِ اخلاق کے بغیر ادھوری رہتی ہیں۔ سلام میں پہل، اچھے نام سے پکارنا، ہلکی سی مسکراہٹ اور شفقت بھرا رویہ۔ یہ سب وہ چھوٹے اعمال ہیں جو بڑے اثرات چھوڑتے ہیں۔ یہی اخلاقی حسن استاد اور شاگرد کے درمیان وہ پل بناتا ہے جس پر علم آسانی سے منتقل ہوتا ہے۔

اسی اخلاق کا تسلسل صبر و درگزر میں ظاہر ہوتا ہے۔ طلبہ کی لغزشیں، کمزوریاں اور ناپختگیاں تربیت کا فطری حصہ ہیں۔ کامیاب معلم وہ ہے جو جلد مشتعل نہ ہو بل کہ صبر کو اپنا ہتھیار بنائے۔ درگزر دلوں کو قریب کرتا ہے، اور یہی قربت اصلاح کی بنیاد بنتی ہے۔

آخرکار کامیاب معلم اپنی آنکھیں سیرت کے آئینے میں رکھتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ بہترین تربیت وہی ہے جو مثال بن کر بولے۔ جب استاد وہی جیتا ہے جو پڑھاتا ہے، تو اس کا علم محض الفاظ نہیں رہتا بل کہ کردار میں ڈھل جاتا ہے اور یہی حقیقی کامیابی ہے۔

شیخ عبد الماجد الکشمیری

24 دسمبر 2025 

Pophetic Biography Quiz Guidelines By Banat ul Islamiya

0





Every step forward is driven by a purpose, and likewise, every action has a reason behind it. It is the religious and moral duty of a Muslim to study the noble life of the Prophet Muhammad ﷺ and the wisdom it contains—and to convey that message to others as well—so that, by the grace of Allah, guidance may spread and success may be attained in both worlds.


With this goal in mind, Banāt al-Islāmiya is organizing a Quiz on the Seerah (Prophetic Biography). The following are the rules and guidelines for the event:


1. The primary aim of this competition is to spread the teachings of the Prophet ﷺ. While top performers will be awarded with certificates and prizes, the real purpose is to understand the message of the Prophet ﷺ and incorporate it into daily life with sincerity and devotion.


2. Entry will not be permitted without a roll number slip.


3. Participants must clearly write their full name and roll number on the answer sheet.


4. The quiz will consist of objective-type questions, each with four possible answers. The correct option must be fully shaded.


5. Negative marking will be applied: 0.25 marks will be deducted for each incorrect answer—equivalent to losing one full mark for every four wrong answers.


6. In case of a tie, a draw will be conducted in person.


7. If an Ālim/Ālimah or Fāḍil/Fāḍilah wins one of the top two positions, or if a participant has already secured 1st or 2nd place in a Seerah competition in previous years, they will instead be entered into a draw with third-place winners.


8. Anyone who has achieved a 1st or 2nd position in any state-level Seerah competition in the past four years—especially those held by Wahdat al-Makātib—will also fall under this same rule regarding prize eligibility.


For more information, contact:

📞 70517 95634 | 9149525943

WhatsApp 1 | WhatsApp 2


Guidelines in Urdu 

مسلمانوں کے دلوں میں رعب کہاں سے آیا!؟

0

شام کو دھوپ کمرے میں ختم ہونے کو آ رہی تھی۔ کلامِ الٰہی کی تلاوت جاری تھی۔ ہر آیت دل کو سہلاتی، کبھی جھنجھوڑتی، کبھی تسلی دیتی۔ یکایک زبان رُک گئی۔ نگاہ اس مقامِ جلال پر ٹھہر گئی:


 "سَنُلْقِي فِي قُلُوبِ الَّذِينَ كَفَرُوا الرُّعْبَ..."

(عنقریب ہم انکار کرنے والوں کے دلوں میں رعب ڈال دیں گے۔

خاموشی طاری ہو گئی۔ آواز رُک گئی، مگر قلبہو زبان آئی۔

مشامِ جاں نے کچھ محسوس کیا — کچھ لرز سا گیا۔

"رعب...؟"

"یہ کس کے دلوں میں ڈالا جائے گا؟"

زبان نے دل سے سوال کیا،

دل نے عقل کی منعطف کیا ،

اور عقل نے ضمیر کو پکارا۔


ایک مہیب سوال ابھرا:

"کیا صرف وہی منکر ہیں جو کہتے ہیں کہ کوئی خالق ہی نہیں؟"

"کیا انکار صرف زبان سے انکار کرنے کا نام ہے؟"

"اور ہم...؟"


ہم نے تو زبان سے رب کو مانا،

اس کے نبی ﷺ کو مانا،

کتاب کو بھی پڑھا،

تسبیح بھی کرتا رہا،

مگر جب رب نے جھکنے کو کہا، ہم اکڑ گئے۔

جب دینے کو کہا، ہم چھپ گئے۔

جب برائی سے روکنے کا حکم ہوا، ہم خاموش ہو گئے۔

جب نگاہیں نیچی رکھنے کو کہا، ہم نے آنکھیں اٹھا لیں۔

جب وعدے نبھانے کا کہا، ہم مکر گئے۔

جب صبر کا حکم دیا، ہم بے قابو ہو گئے۔


تو پھر بتاؤ...!

کیا یہ انکار نہیں؟

کیا ہم عملاً انکار کرنے والوں میں شمار نہیں ہو چکے؟

زبان بے آواز ہو گئی۔

دل نے چپ چاپ سر جھکا لیا۔

اور روح کے دروازے پر "رعب" نے دستک دی۔

کسی نے سرگوشی کی:

"تم مریعب ہو چکے ہو — تمہارے دل میں وہی رعب اُتر چکا ہے، جس کا وعدہ منکرین کے لیے کیا گیا تھا۔"


کیونکہ تم نے خالق کا انکار نہیں کیا،

مگر حکم خالق کا انکار کر بیٹھے۔

اور یہی انکار اصل رعب کی دہلیز ہے۔


ماجد کشمیری 

شرمگاہ کو ہاتھ لگانے سے وضو نہیں ٹوٹتا

0

شرمگاہ کو ہاتھ لگانے سے وضو نہیں ٹوٹتا۔ اس موقف کے دلائل یہ ہیں:

[1]: عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ عَنْ أَبِيْهِ قَالَ قَدِمْنَا عَلٰى نَبِىِّ اللهِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ رَجُلٌ كَاَنَّهُ بَدَوِىٌّ ، فَقَالَ: يَا نَبِىَّ اللهِ! مَا تَرٰى فِىْ مَسِّ الرَّجُلِ ذَكَرَهُ بَعْدَ مَا يَتَوَضَّأُ فَقَالَ: “هَلْ هُوَ إِلَّا مُضْغَةٌ مِنْهُ “. أَوْ قَالَ : “بَضْعَةٌ مِنْهُ .”

(سنن ابی داؤد: ج1 ص24 باب الرخصۃ فی ذلک)

ترجمہ: حضرت طلق بن علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ایک آدمی جو دیہاتی لگتا تھا اس نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم سے سوال کیا کہ اے اللہ کے نبی! اگر کوئی شخص وضو کرنے کے بعد اپنے عضو تناسل کو چھوئے تو کیا اسے دوبارہ وضو کرنا پڑے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: یہ اس کے جسم کا ایک ٹکڑا ہی تو ہے۔

 

یعنی جب یہ تمہارے جسم کا محض ایک ٹکڑا ہی ہے تو اس کو چھونا ایسا ہی جیسے بقیہ اعضائے جسم کو چھونا۔ انسان کا اپنے ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ کو چھونا ہے یا پھر اپنی ٹانگ، سر، ناک یا کسی بھی حصہ کو چھونا ایسا ہی ہے جیسے جسم کے کسی ایک حصہ کو چھو لینا ہو۔ تو جس طرح جسم کے کسی اور عضو کو چھونے سے وضو نہیں ٹوٹتا اسی طرح شرم گاہ کو چھونے سے بھی وضو نہیں ٹوٹتا۔

٭ یہ حدیث صحیح ہے۔

(الطحاوی- شرح معانی الآثار: ج1 ص 61 باب مس الفرج هل يجب فیہ الوضوء ام لا؟)

٭ ناصر الدین البانی صاحب نے اس روایت کو ”صحیح“ کہا ہے۔

(الالبانی- سنن النسائی باحکام الالبانی: تحت رقم الحدیث 165)

 

[2]: عَنْ أَرْقَمَ بْنِ شُرَحْبِيْلَ، قَالَ: حَكَكْتُ جَسَدِيْ ، وَأَنَا فِي الصَّلَاةِ، فَأَفْضَيْتُ إِلٰى ذَكَرِيْ ، فَقُلْتُ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ، فَقَالَ لِيْ:اِقْطَعْهُ وَهُوَ يَضْحَكُ ، أَيْنَ تَعْزِلُهُ مِنْكَ؟ إِنَّمَا هُوَ بَضْعَةٌ مِنْكَ.

(المعجم الکبیر للطبرانی: ج4 ص557 رقم الحدیث 9112)

ترجمہ: حضرت ارقم بن شرحبیل کہتے ہیں کہ میں نماز میں ہوتے ہوئے اپنے جسم میں خارش کرتا ہوں اور کبھی کبھی شرم گاہ کی خارش بھی کر لیتا ہوں۔ اس بات کاتذکرہ میں نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے کیا تو انہوں نے مسکرا کر مجھے فرمایا: (اگر یہ اتنا ہی نجس ہے تو) اسے کاٹ ہی ڈالو، اس کو اپنے آپ سے کہاں دور کرو گے؟ ارے یہ تمہارے جسم کا ایک ٹکڑا ہی تو ہے۔

٭ اس روایت کے راوی ثقہ ہیں۔ (نور الدین الہیثمی- مجمع الزوائد: ج1 ص244)


 وضو کا حکم ہے تو اس وضو سے مراد وضو لغوی ہے یعنی ”ہاتھ کا دھونا“، اس سے اصطلاحی وضو (نماز والا وضو) مراد نہیں۔ امام ابو جعفر احمد بن محمد بن سلامۃ الطحاوی (ت321ھ) نے اس توجیہہ پر صحابی رسول حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی یہ روایت بطور دلیل پیش کی ہے:

عن مصعب بن سعد قال : كنت آخذ على أبي المصحف فاحتككت فأصبت فرجي ، فقال: أصبت فرجك؟ قلت: نعم ، احتككت فقال: إغمس يدك في التراب ، ولم يأمرني أن أتوضأ.

(شرح معانی الآثار: ج1 ص62 باب مس الفرج ھل یجب فیہ الوضوء ام لا؟)

ترجمہ: حضرت مصعب بن سعد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو مصحف پکڑایا، پھر میں نے اپنے جسم کی کھجلی کی تو میرا ہاتھ میری شرم گاہ کو لگ گیا۔ میرے والد صاحب نے مجھ سے پوچھا: کیا تمہارا ہاتھ شرم گاہ کو لگا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، لگا ہے۔ والد صاحب نے فرمایا: اپنے ہاتھ کو مٹی سے صاف کرو! میرے والد صاحب نے مجھے وضو کا حکم نہیں دیا۔

اور ایک طریق میں یہ الفاظ ہیں:

قال: قم فاغسل يدک! (شرح معانی الآثار: ج1 ص62)

ترجمہ: میرے والد نے فرمایا: اٹھو اور اپنے ہاتھ کو جا کے دھو لو!

اس سے معلوم ہوا کہ سنن ابی داؤد والی روایت میں بھی وضو سے مراد محض ہاتھ دھونا ہے، وضو اصطلاحی (نماز والا وضو) مراد نہیں ہے۔

 

توجیہ نمبر۳: سنن ابی داؤد کی اس روایت کا معنی یہ ہے کہ اگر شرمگاہ کو چھونے سے شہوت پیدا ہو اور مذی خارج ہو جائے تب وضو ٹوٹے گا۔ اس معنی کی رو سے یہ روایت حضرت طلق بن علی رضی اللہ عنہ کی روایت سے متعارض بھی نہیں ہو گی۔

واللہ اعلم بالصواب

(مولانا) محمد الیاس گھمن




مرکزی بنات الاسلامیہ کے زیر اہتمام سیرتی مسابقے کے اصول اور چند ہدایات۔

1



ہر قدم کو رکھنے کے پیچھے آگے بڑھنے کا ایک مقصد ہوتا ہے، بعینہٖ ہر عمل کے پیچھے کوئی نہ کوئی سبب کار فرما ہوتا ہے۔ مسلمان کا دینی و اخلاقی فرض ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کی سیرتِ مبارکہ اور اس میں پنہاں اسرار و حکمتوں کو نہ صرف خود جانے بل کہ دوسروں تک بھی پہنچائے، تاکہ اللہ تعالیٰ اس عمل کے عوض ہدایت عطا فرمائے اور بندہ دونوں جہانوں میں کامیاب ہو جائے۔


اسی مقصد کے پیشِ نظر بناتُ الاسلامیہ ایک سیرتی مسابقے کا انعقاد کر رہی ہے۔ ذیل میں اس کے اصول و ضوابط اور چند رہنما ہدایات پیشِ خدمت ہیں:


۱۔ اس مقابلے کا بنیادی مقصد سیرتِ نبوی ﷺ کی تعلیمات کو عام کرنا ہے۔ اگرچہ نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلبہ کو انعامات اور اسناد سے نوازا جائے گا، تاہم اس مسابقے کا اصل مقصد اور نیت خالصتاً پیغمبرِ عالم ﷺ کے پیغام کو سمجھنا اور اسے اپنی عملی زندگی میں اپنانا ہے۔


۲۔ رول نمبر سلپ کے بغیر کسی بھی امیدوار کو امتحان میں شرکت کی اجازت نہیں دی جائے گی۔


۳۔ جوابی کاپی پر اپنا پورا نام اور رول نمبر واضح طور پر لکھنا ضروری ہے۔


۴۔ سوالات ابجیکٹو نوعیت کے ہوں گے۔ ہر سوال کے چار ممکنہ جوابات دیے جائیں گے۔ درست جواب کو مکمل طور پر پُر کریں۔


۵۔ منہائی مارکنگ کے تحت ہر غلط جواب پر 0.25 نمبر منہا کیا جائے گا؛ یعنی چار غلط جوابات کی صورت میں ایک مکمل نمبر کٹ جائے گا۔


۶۔ نمبرات میں برابری کی صورت میں بالمشافہ قرعہ اندازی کی جائے گی۔

۷. اگر کسی عالم/عالمہ یا فاضل/فاضلہ نے پہلی دو پوزیشنیں حاصل کی ہوں، یا اگر کوئی امیدوار سابقہ سالوں میں سیرتی مسابقہ میں شرکت کر کے پہلی یا دوسری پوزیشن حاصل کر چکا ہو، تو ایسے تمام امیدوار اس بار انعامات کے بجائے تیسری پوزیشن کے حامل امیدواروں کے ساتھ قرعہ اندازی میں شامل ہوں گے۔


۸۔ ریاستی سطح پر گزشتہ چار برسوں میں منعقد ہونے والے تمام سیرتی مسابقوں— بالخصوص وحدت المکاتب کے زیرِ اہتمام مقابلوں— میں اگر کسی امیدوار نے پہلی یا دوسری پوزیشن حاصل کی ہو، تو وہ بالا اصول کے مطابق ہی انعام کے مستحق ہوں گے۔


دیانت داری اس مقابلے کی اولین شرط ہے، اور آن لائن کے موجودہ دور میں ایسی معلومات کو چھپانا ممکن نہیں۔

اگر کسی بھی مرحلے پر— حتیٰ کہ امتحان کے بعد بھی— یہ ثابت ہو جائے کہ کسی امیدوار نے مذکورہ شرط کی خلاف ورزی کی ہے، تو اس کی رجسٹریشن منسوخ کر دی جائے گی۔



مزید جانکاری حاصل کرنے کے لیے

  70517 95634 9149525943

  WhatsApp 1 WhatsApp 2

عالمی یوم ماحولیات اور اسلام

0

صفائی کا خیال رکھنا اسلام میں ایک بدیہی حقیقت ہے۔ جب اسلام کا تذکرہ ہوتا ہے، تو پاکیزگی خودبخود ذہن میں آتی ہے۔


ساجد (سجدہ کرنے والا) سے لے کر جائے نماز تک، ہر چیز کی طہارت لازم ہے، کیونکہ ہر جگہ مسلمان کے لیے گویا سجادہ (نماز کی جگہ) ہے۔


اسی لیے مسلمان کو صفائی کی ترغیب دینا گویا اسے اس کی فطرت یاد دلانا ہے۔


ہمیں نہ صرف ماحول کو ظاہری میل کچیل سے پاک رکھنا چاہیے، بلکہ اسے کرپشن، رشوت، اور ان تباہ کن بیماریوں سے بھی پاک کرنے کا عزم کرنا چاہیے جو ہمارے باطن اور معاشرے دونوں کو گندہ کر رہی ہیں۔

© 2023 جملہ حقوق بحق | اسلامی زندگی | محفوظ ہیں