ساتویں جماعت کی اردو ٹیکسٹ بک میں بعض غلطیاں

0


السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ 

کچھ دن قبل ساتویں جماعت کی نصابی کتاب میں ایک واقعہ منسوب کیا گیا تھا نبی برحق ﷺ سے، جس میں ایک "عجوز" کا ذکر تھا۔ تاہم، ہم نے اس پر تفصیلی بحث کی اور یہ ثابت کیا کہ یہ انتساب درست نہیں بلکہ من گھڑت ہے۔ (تیسرے سبق: اخلاق نبوی ﷺ میں) 


انہی دنوں نصابی کتاب کا پہلا سبق، جسے "ترانہ وحدت" کے عنوان سے موسوم کیا گیا ہے، تلوک چند محرومؔ سے منسوب پایا گیا۔ چونکہ اردو ادب کی کتب سے واقفیت رکھتے ہیں، اس میں شبہ ہوا کہ ان کے اشعار اور کتب میں مذکورہ اشعار سے خاصا فرق ہے، مگر اس وقت ثبوت فراہم کرنا ممکن نہ تھا۔

آج، اسکول سے فراغت عام دنوں کی نسبت جلدی ہوئی تو موقع ملا کہ اس پر تحقیق کی جائے کہ آیا یہ واقعی ان کے الفاظ ہیں یا نہیں۔

پہلے مرحلے میں "گنجِ معانی" (تلوک چند محرومؔ کا شعری مجموعہ) کا مطالعہ کیا گیا۔ معلوم ہوا کہ یہ نظم "ترانہ وحدت" کے نام سے موسوم نہیں بلکہ "زمزمہ توحید" کے عنوان سے شائع ہے۔ مزید برآں، "ترانہ وحدت" کے عنوان سے ایک دوسری نظم موجود ہے، جس کا آغاز اس شعر سے ہوتا ہے:

ہے نظارہ محوِ حیرت کہ جہاں میں تو ہی تو ہے

کہیں آب ہے گہر میں، کہیں گل میں رنگ و بو ہے


تحقیق کے دوران درسی کتاب اور اصل متن (گنجِ معانی) میں نمایاں فرق سامنے آیا۔ بطور مثال چند اشعار پیش ہیں:


1. درسی کتاب:

کہتی ہے کلی کلی زبان سے

میری بہن یہ چٹک تیری ہے


(یہ بہن کہاں سے آئی عجیب ہے نا نیز اس کا تو وزن ہی نہیں ملتا ہے)

 

گنجِ معانی:

کہتی ہے کلی کلی زبان سے

میری یہ نہیں چٹک تیری ہے


2. درسی کتاب:

ہر ذرے میں ظہور تیرا 

ہے برق و شرر میں نور تیرا 


گنجِ معانی:

ہر ذرے میں ظہور تیرا 

خورشید و قمر میں نور تیرا 


( نور کی مثل چاند سورج ہی ہو سکتے ہیں بجلی وغیرہ تو نہیں۔ برق و شرر بعید ہے۔ اس لیے یہ استعارہ اور کنایہ درست نہیں) 


ایسے ہی دیگر اشعار میں بھی املا اور معانی کے لحاظ سے واضح فرق پایا گیا۔ 

انتباہ: گر کسی اور جگہ اس کلام مذکورہ سے موافق ان کا کوئی کلام موجود ہو تو برائے اصلاح ہمیں آگاہ ضروری کریں۔


ماجد کشمیری 

9149525943

DNA The creation of Allah

0

اللہ تعالیٰ کی قدرت اور جدید ٹیکنالوجی

DNA The creation of Allah

جدید دور میں ٹیکنالوجی کی ترقی حیران کن ہے۔ ہر روز نئی ایجادات، تیز رفتار کمپیوٹرز، اور انٹرنیٹ کی وسعت کو دیکھتے ہوئے ترقی کی عظمت کو مانتے ہیں۔ ہمارے موبائل فونز میں موجود ڈیٹا اسٹوریج سے لے کر پوری دنیا کے انٹرنیٹ ڈیٹا سنٹرز تک، یہ سب کچھ تعجب انگیز ہے۔ آج ایک عام موبائل فون میں 256 جی بی یا اس سے بھی زیادہ اسٹوریج ہوتی ہے، اور پوری دنیا میں ڈیٹا اسٹوریج کا تخمینہ سینکڑوں زٹا بائٹس )Zettabytes) میں ہے۔


تمثیلا، دنیا کی سب سے بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں جیسے گوگل، ایمازون، اور مائیکروسافٹ ایسے ڈیٹا سنٹرز چلاتی ہیں جہاں ایک ہی مرکز میں ہزاروں پیٹا بائٹس کا ڈیٹا محفوظ ہوتا ہے۔ صرف گوگل کے ڈیٹا مراکز میں ہر دن ایک کروڑ گیگا بائٹ سے زیادہ ڈیٹا پراسیس ہوتا ہے۔ یہ اعداد و شمار دیکھ کر ہم حیران رہ جاتے ہیں، مگر یہ سب کچھ محدود ہے اور کسی نہ کسی خارجی طاقت، یعنی بجلی، انسانی وسائل اور مشینری کے محتاج ہیں۔


اللہ تعالیٰ کی قدرت ان تمام مادی وسائل سے کہیں بالا تر ہے۔ ایک طرف اگر ہم جدید دنیا کے انٹرنیٹ اور ڈیٹا سٹوریج کی بات کریں تو یہ تمام کمپیوٹر، سرورز اور ڈیٹا سنٹرز بجلی اور مخصوص مشینری کے بغیر چند منٹ بھی کام نہیں کر سکتے۔ دوسری طرف اللہ تعالیٰ کی تخلیق کردہ دنیا میں ایسے نظام موجود ہیں جو نہ تو کسی خارجی طاقت کے محتاج ہیں اور نہ ہی کبھی ختم ہونے والے ہیں۔


ایک اہم مثال ڈی این اے کی ہے۔ ڈی این اے کا ہر خلیہ، ہر مخلوق کے جسم میں موجود معلومات کا خزانہ ہے۔ ہر جاندار کے جسم کے خلیات میں ڈی این اے کے ذریعے نسلوں کی معلومات محفوظ رہتی ہیں، اور یہ ڈی این اے بغیر کسی ایکسٹرنل پاور یا وسائل کے اربوں سالوں سے منتقل ہوتا آ رہا ہے۔ حتیٰ کہ لاکھوں سال پہلے کے ڈائنوسارز کے ڈی این اے کا مطالعہ آج ممکن ہو چکا ہے۔


یہ تمام معلومات جو مخلوقات کے وجود میں ہزاروں، بلکہ لاکھوں سالوں سے منتقل ہو رہی ہیں، اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں ہیں۔ آج کے دور کی جدید ترین ٹیکنالوجی لاکھوں کمپیوٹرز کو اکٹھا کرنے کے باوجود وہ کام نہیں کر سکتی جو ایک ننھے خلیے کا ڈی این اے بلا روک ٹوک کر رہا ہے۔ نہ صرف یہ، بلکہ دنیا کا ہر چیز اپنے اندر اللہ تعالیٰ کی عظمت و قدرت کا شاہکار لئے پھرتا ہے۔


مزید یہ کہ اللہ تعالیٰ کی تخلیقات کے سامنے انسان کی کوششیں حقیر ہیں۔ انسان کی بنائی ہوئی ٹیکنالوجی بجلی اور محدود وسائل پر منحصر ہے، جبکہ اللہ تعالیٰ کی تخلیقات بغیر کسی خارجی ضرورت کے موجود ہیں اور رہیں گی۔


یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ بار بار اپنی تخلیقات کی طرف توجہ دلاتے ہیں۔ فرمایا:


"لَخَلْقُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ أَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ" (سورۃ غافر: 57)


ترجمہ: "بیشک آسمانوں اور زمین کا بنانا لوگوں کے پیدا کرنے سے بڑا ہے، لیکن اکثر لوگ نہیں سمجھتے۔"


یہ آیت انسان کو اللہ کی بے پایاں قدرت کے سامنے جھکنے کی دعوت دیتی ہے۔ ہم اپنی مادی ترقی اور ٹیکنالوجی پر فخر کر سکتے ہیں، مگر جب ہم اللہ کی تخلیقات کو دیکھتے ہیں تو یہ سب کچھ ہیچ دکھائی دیتا ہے۔


جدید ٹیکنالوجی : انسان کی بنائی ہوئی ہر چیز محدود، عارضی، اور کسی نہ کسی خارجی طاقت کی محتاج ہے، جبکہ اللہ تعالیٰ کی تخلیقات ازلی و ابدی ہیں اور کسی بھی انسانی اختراع سے زیادہ پیچیدہ اور حیران کن ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی عظمت کا اقرار کرتے ہوئے عاجزی اختیار کر کے اس کی طرف غور کرنا کیا یہ دلیل توحید نہیں ہے۔ جی ہاں ہے۔ فقط تفکر کی حاجت ہے۔

ماجد کشمیری 

14 Dec 2024

کیا کسی کو فون کرنے یا ملاقات کے بجائے مسیج بھیجنا توہین کے زمرے میں آتا ہے؟

0

کیا کسی کو فون کرنے یا ملاقات کے بجائے مسیج بھیجنا توہین کے زمرے میں آتا ہے؟


ہرگز نہیں! پیغام (Message) درحقیقت ایک مکتوب (خط) ہی کی جدید صورت ہے، بلکہ آج کے دور میں باضابطہ اور مہذب تحریری رابطے کا ذریعہ ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ بادشاہوں، امراء اور معزز شخصیات سے براہِ راست ملاقات کی ہر ایک کو اجازت نہ ہوتی، لہٰذا ان تک اپنی گزارشات پہنچانے کے لیے خطوط ارسال کیے جاتے تھے۔ آج بھی اعلیٰ عہدے داران کو عرضداشتیں (Applications) تحریری شکل میں ہی بھیجی جاتی ہیں، کیونکہ یہ رسمی، باضابطہ اور باوقار طریقۂ اظہار ہے۔


اس کے برعکس، جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ پیغام بھیجنا ان کی توہین ہے، وہ درحقیقت مصنوعی انا کے اسیر ہوتے ہیں۔ حقیقی عزت دار اور سنجیدہ فکر افراد ہمیشہ تحریری مراسلت کو فوقیت دیتے ہیں، کیونکہ یہ الفاظ کو ضبط و ترتیب کے ساتھ پیش کرنے، احترام کو ملحوظ رکھنے اور رابطے کی سنجیدگی کو برقرار رکھنے کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔


مزید برآں، تحریر کی ایک امتیازی خوبی یہ بھی ہے کہ یہ فوری ردعمل کے جذباتی دباؤ سے آزاد ہوتی ہے۔ زبانی گفتگو میں بسااوقات جذبات غالب آ جاتے ہیں، جبکہ تحریری پیغام میں انسان کو موقع ملتا ہے کہ وہ اپنے خیالات کو نکھار کر اور ترتیب دے کر مؤثر انداز میں بیان کرے۔ یہی وجہ ہے کہ دانشمند اور معاملہ فہم افراد ہمیشہ تحریری رابطے کو ترجیح دیتے ہیں، کیونکہ اس میں سنجیدگی، غور و فکر اور عزت و وقار سبھی کچھ شامل ہوتا ہے۔

 

کیا مولوی پروفیشن ہے؟

0

 کیا مولوی پروفیشن ہے؟

دین اسلام دستور حیات ہے، ہر زندہ شخص کے لیے ہے۔ اس کو سمجھنے کے لیے اس کو پڑھنا ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پیغمبر اسلام ﷺ نے علم شرعی من باب المبادی فرض قرار دیا اور فرمایا: ہر مسلم اور مسلمہ پر علم حاصل کرنا فرض ہے۔ اس لیے ہر مسلمان اس قابل ہونا چاہیے کہ نماز پڑھا سکے۔ اور ہونا بھی چاہیے کہ ہر مسلم امامت کی اہلیت رکھے۔


پھر کہا جاتا ہے یہ مولوی پروفیشن کیوں بنایا گیا! دین میں کوئی مولوی پروفیشن نہیں ہے۔


اولا "مولوی" پروفیشن نہیں ہے۔ یہ تعظیماً کہا جاتا تھا ان کو جو علوم اسلامیہ پر مکمل دسترس رکھتے تھے۔

سمجھ لیں، مولویت امامت سے پرے کی چیز ہے بلکہ مولویت اماموں کو تیار کرنے کا مصدر اور سرچشمہ ہے۔ اب مولوی اس شخص کو کہا جاتا ہے جو کسی مستند اساتذہ یا ارادے سے علوم دین پڑھتا ہے۔

اس لیے جامعات میں جو طالب دوم سوم میں ہوتے ہیں، انہیں معلمین مولوی کہتے ہیں اور جو فارغ التحصیل ہوں، انہیں مولانا کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔


طب کے ماہر کو ڈاکٹر کہنا، ریاضی کے ماہر کو میتھمیٹیشن کہنا اور ہندسہ کے ماہر کو انجینئر کہنا، کیا یہ بدقسمتی ہے؟ کون اسے شقاوت سمجھتا ہے؟ کوئی نہیں۔


بلکہ یہ تو خوش قسمتی ہے کہ جب کوئی فراڈی انجینئر کوئی غلط کام کرتا ہے تو عوام اس کی تباہ کاریاں دیکھ کر اس کو کوستے ہیں۔ وہ حق ادا نہیں کرتا ہے۔


اگر ہر فرد کامل علم رکھتا تو کیا نبی ﷺ انتخاب نہ کرتے کہ قرآن ان سے سیکھیں؟ اگر سب اہل ہوتے تو "وضع الشی فی غیر محلہ" کا قانون نہ ہوتا۔


اگر وراثتِ نبی کے لیے صرف امتی ہونا کافی ہوتا تو علم وراثت کی شرط نہ بنتی (العلماء ورثة الأنبياء)۔


یہ کلاسفیکیشن ہے بس۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ مولوی بننا فرض ہے۔ مگر مبادیات کا جاننے والا بھی مولانا نہیں کہلائے گا۔ اور اگر یہ پروفیشن ہوتا، چونکہ دنیا کی سب سے بڑی آبادی کا منصب اور ترجمان ہے، تو یہ سب سے زیادہ معاوضے والی جاب ہوتی۔ مگر ایسا بالکل بھی نہیں ہے، جو اس بات کی دلیل ہے کہ مولویت لوگوں کی نظر میں پروفیشن ہو سکتی ہے مگر اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ نہ ہی مولویت کے سند یافتہ افراد اس کو منصب و پروفیشن سمجھتے ہیں۔


بلکہ مولویت (مستندیت ) دفاع اسلام اور نسلوں تک میراثِ نبوت ﷺ کے انتقالی کا نام ہے۔

گھرانہ میں عورت کی احتیاج

0

عورت نسلِ انسانی کا وہ ناگزیر حصہ ہے جس کے بغیر زندگی کی افزائش اور معاشرے کی ترقی ممکن نہیں۔ یہی دستورِ الٰہی ہے کہ افراد سے مل کر گھرانے بنتے ہیں، اور ان کو جنت بنانے کے لیے فطرت کے اصولوں کے مطابق منظم کیا جانا ضروری ہے۔


گھر کی تعمیر و بقا کی ذمہ داری جہاں افرادِ نرینہ پر عائد کی گئی ہے، وہیں نظامِ گھرانہ کی تنظیم میں عورت کی شفقت، ایثار اور ہنر کو بنیادی حیثیت دی گئی ہے۔ وہ گھر کی روح ہے، جس کے بغیر یہ نظام ادھورا ہے۔


ہم اکثر اپنے توہمات کی بنا پر یہ سوچتے ہیں کہ عورت کا گھرانے میں کوئی خاص کردار نہیں، مگر اس کی اہمیت کا ادراک تب ہوتا ہے جب ماں یا بہن جیسے کردار وقتی طور پر اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہو جاتے ہیں۔ تب یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ وہ کس ہنر مندی اور اخلاص کے ساتھ، بغیر کسی تعریف یا صلے کی توقع کے، اپنی خدمات انجام دیتی ہیں۔


جس طرح جسم کے ہر عضو کی اہمیت ہے، اسی طرح عورت کی موجودگی اور کردار بھی ناگزیر ہے۔ اس کی قدر کرنا، اس کے جذبات کو سمجھنا، اور الفاظ و اعمال کے ذریعے اس کا احترام کرنا نہ صرف لازم ہے بلکہ زندگی کے سکون اور گھر کے امن کا ضامن بھی ہے۔


عورت وہ چراغ ہے جس کی روشنی سے گھر روشن ہوتا ہے، اور وہ بنیاد ہے جس پر گھر کا سکون قائم رہتا ہے۔ اس کی اہمیت کو تسلیم کرنا درحقیقت اپنے وجود کی تکمیل کو تسلیم کرنا ہے۔


دل دہلانے والی کہانی گھر کی ویرانی

0

ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر تصور کریں، ایک ایسا شخص جو خوشحال زندگی کے ہر پہلو سے نوازا گیا تھا۔ والدین کی دعاؤں کے سائے، دو بیٹے جو جوان ہوکر کمانے کے قابل ہوگئے، ایک خوبصورت بیوی جو محبت کا مجسمہ تھی، اور ایک معصوم شیر خوار بچہ جس کی ہنسی گھر کو جنت بناتی تھی۔ تجارت میں برکت ایسی کہ زندگی خوشیوں سے بھرپور تھی۔


پھر اچانک، سہ پہر میں ایک پیغام آتا ہے۔ کاروبار میں ایسا نقصان ہونے کی خبر کہ چائے پینے کے پیسے تک میسر نہ رہیں۔ یہ خبر سنتے ہی دل خوف اور اضطراب سے بھر جاتا ہے۔ اپنے آپ کو سنبھالنے کی کوشش میں وہ والدین کے کمرے کی طرف بڑھتا ہے، کہ شاید ان کی دعائیں دل کو قرار دیں۔ لیکن دروازہ کھولتے ہی ایک دل دہلا دینے والا منظر سامنے آتا ہے: والدین وفات پا چکے ہیں۔


اس غم سے نڈھال، وہ روتا ہوا بیٹوں کے کمرے کی طرف جاتا ہے کہ شاید یہاں سے کچھ سکون ملے۔ مگر یہاں بھی قیامت کا منظر دیکھتا ہے: دونوں بیٹے زندگی کی بازی ہار چکے ہیں۔


اب وہ دل تھامے، آنکھوں میں آنسو اور زبان پر اللہ کا نام لیے، آخری سہارا یعنی اپنی بیوی اور معصوم بچے کے کمرے کی طرف بڑھتا ہے۔ دروازے کے قریب پہنچ کر قدم لرز رہے ہیں، سانسیں رک رہی ہیں۔ لیکن جیسے ہی دروازہ کھولتا ہے، اس کا دل چیخ اٹھتا ہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ بیوی اور شیر خوار بچہ بھی اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں۔


یہ شخص ایک ویران گھر میں، تنہائی اور بے بسی کے عالم میں، زمین پر گر کر رو رہا ہے۔ ہر چیز ختم ہو چکی ہے، ہر نعمت چھن چکی ہے، اور ہر سہارا چھوٹ چکا ہے۔ اس کی چیخ و پکار آسمان تک پہنچتی ہے، لیکن سب کچھ ختم ہو چکا ہے۔


پیارے بھائی! اگر یہ منظر تمہیں رلا رہا ہے، اگر یہ غم تمہارے دل کو چیر رہا ہے، تو سنو! رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"جس شخص کی عصر کی نماز فوت ہو جائے، وہ ایسا ہے جیسے اس کا گھر، اس کے اہل و عیال، اور اس کا سارا مال و متاع چھین لیا گیا ہو۔"


آج ہم اپنی غفلت میں نماز کو ترک کرتے ہیں، وقت پر ادا نہیں کرتے، اور اس کی اہمیت کو نہیں سمجھتے۔ لیکن جان لو، نماز وہ واحد خزانہ ہے جو تمہیں دنیا اور آخرت کی تمام مصیبتوں سے بچا سکتی ہے۔ اللہ ہمیں اپنی نمازوں کی حفاظت کرنے والا بنائے اور ہماری غفلتوں کو معاف کرے۔ آمین! 


ماجد کشمیری 

توحید کی عظمت اور تثلیث کی حقیقت: ایک علمی تجزیہ

0

 عید کی اصل حقیقت اور اس کی خوشی خالقِ کائنات کی رضا و خوشنودی میں مضمر ہے۔ عید وہ مسرت ہے جو بندے کی طرف سے اپنے رب کی وحدانیت کے اعتراف اور اس کی نعمتوں کے شکرانے کے طور پر منائی جاتی ہے۔ لیکن جب عقائد میں اختلاف اور توحید کی صاف اور سیدھی راہ کو چھوڑ کر خدا کی وحدت کو بانٹنے کی کوشش کی جاتی ہے، تو ایسی حالت میں خوشی کا مفہوم بھی بدل جاتا ہے۔

تثلیث کا عقیدہ، جسے بہت سے لوگ خدا کی ذات کی تقسیم کے طور پر دیکھتے ہیں، اس قسم کے عقیدے کی پیچیدگی نے ہمیشہ اس کے پیروکاروں کو مشکلات میں مبتلا رکھا ہے۔ تثلیث کے ماننے والوں کی مذہبی و فلسفیانہ تشریحات اکثر فہم و عقل سے پرے معلوم ہوتی ہیں، اور ان کے دل بھی کبھی اطمینان کو نہیں پہنچ پاتے۔ نتیجتاً، اس عقیدے کے ساتھ وابستگی خوشی کے بجائے دلوں میں شک اور اضطراب پیدا کر دیتی ہے۔ اس عدمِ اطمینان کی آخری حالت وہ ہے جو خدا کے غضب اور دخولِ جہنم کی وعید بن سکتی ہے۔

اس کے برعکس، توحید، جسے اسلام نے بڑے واضح اور مضبوط دلائل کے ساتھ پیش کیا ہے، ہر لحاظ سے قابلِ فہم اور منطقی ہے۔ توحید کے اصول نہ صرف آسانی سے سمجھے جا سکتے ہیں بلکہ دلائل اور فلسفے کی نظر میں بھی مضبوط اور مستحکم ہیں۔ یہ عقیدہ دلوں کو سیراب کرتا ہے اور انہیں نورِ ایمان سے منور کر دیتا ہے، جو خالص حقیقت کی علامت ہے۔

توحید کی عظمت یہ ہے کہ یہ انسانی فکر اور عقل کو مطمئن کرتی ہے۔ اس کی بنیاد ایسی سادہ حقیقتوں پر ہے جو علم و فلسفہ کی باریکیوں میں بھی اپنی صداقت کو برقرار رکھتی ہیں۔ اگر تثلیث کے ماننے والوں کی آنکھیں حقیقت کی روشنی دیکھنے کے قابل ہو جائیں تو وہ بھی تسلیم کریں گے کہ وحدانیت کا نور ہی وہ سچائی ہے جسے دل تسلیم کرتا ہے اور عقل پروان چڑھاتی ہے۔

تثلیث کے عقیدے میں دکھائی دینے والی پیچیدگیوں کے مقابلے میں توحید کی سادگی، اس کی عقلی قوت، اور اس کی فلسفیانہ پختگی ایک غیر متزلزل حقیقت ہے۔ یہ وہ ایمان ہے جو انسان کی فطرت کے عین مطابق ہے اور اسے ابدی سکون فراہم کرتا ہے۔

توحید محض ایک عقیدہ نہیں بلکہ انسان کی روح کا قرار، عقل کا سکون اور فطرت کی تکمیل ہے۔ جب بندہ وحدہٗ لا شریک پر ایمان لاتا ہے تو اس کے دل سے ہر قسم کا خوف، شک اور اضطراب مٹ جاتا ہے۔ یہی حقیقی عید کی خوشی ہے — کہ بندہ اپنے رب کی رضا میں سرشار ہو، اور اسی کی بندگی میں اپنی زندگی کا لطف پائے۔

تثلیث کی تاریکیوں میں الجھنے کے بجائے، توحید کا نور ہی وہ چراغ ہے جو انسان کو رب تک پہنچاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ دینِ فطرت سے دور ہونے والوں کو راہِ ہدایت پر لائیں، اور ہمیں استقامت کے ساتھ فہم و تدبر کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین۔


© 2023 جملہ حقوق بحق | اسلامی زندگی | محفوظ ہیں