مستندیت ہی ہمارا عنفوان ہے
میں منافق تو نہیں؟!
عام تعریف جو ”منافقت“ کی، کی جاتی ہے : ظاہر اور باطن میں یکسانیت نہ ہونا۔ پر یہ جامع تعریف نہیں ہے، کیوں ہمارے ید کے طرفین متخالف ہے اور یہ فطرت ہے۔اور ایسا ہونا فطری ہے، تو تعریف ہوگی: اندر کی حقیقت کو جھٹلانا اور باہر کو مزین کر کے دکھلانا ”منافقت“ ہے۔
ظاہر داری کے قرائن: ایۃ المنافق ثلاث: اذا حدث کذب، واذا وعد اخلف ،واذا اؤتمن خان.
یہ علامتیں اس لیے نہیں ہیں کہ آپ ان کو دوسروں میں تتبع کر کے، ان پر منافقت کی لیبل یعنی فتویٰ دیں۔ بل کہ اپنا محاسبہ کرنے کے لیے ہیں۔ ، تاکہ مقبل وعید ہمارے لیئے متحقق نہ ہو جائیں۔ ان المنافقین فی الدرک الاسفل النار.
علامتِ ثلاثہ: 1: کذاب، 2: مخالف اور 3: خائن۔ اب ان کو سمجھتیں ہیں۔
تشریحِ کذاب: اذان ہو رہی ہے، مؤذن ”اللہ اکبر ، اللہ اکبر، اللہ اکبر ، اللہ اکبر “ کہ رہیں ہیں۔ ہم نے جواباً عرض کیا۔ میں صلات کے لیے نہیں آؤ گا۔ تو میں نے جھٹلایا خداوند کی کبریائی کو تو ہم سے بڑا کو دروغ گو ہے ہی نہیں۔
تفسیرِ مخالف: اللہ وعدہ لیں رہیں ہیں : کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں۔ ہم جواب دیں رہیں ہیں: بلا کیوں نہیں۔، مگر ہم آستانوں پر ماتھا رگڑتیں ہیں، منسٹروں کے سامنے جھکتیں ہیں، تعظیمی سجدہ کرتیں ہیں۔ کوئی ہے جو ہم سے عظیم بر خلاف ہے۔
صراحتِ خائن: ہماری روح و جسد کا ہر حصہ، اللہ کی امانت ہے۔ حقوق و حدود اللہ کے موافق عمل نا کرنا خیانت ہے : جیسے : اپنی بیوی کے ورے کسی دوسری کی طرف دیکھنا۔ قوتِ یدین اور نطق کو حق کو مغلوب کرنے کے لیئے مستعمل کرنا، فریبی ہونا کا ثبوت ہے۔
ہم حساب کرنے میں ماہر ہے۔ دکان دار سے ایک درہم کی کمی کی بھی تفہیم رکھتیں ہیں۔ تو امروز بل کہ ہر روز محاسبی چھوڑ کر متحاسب بن کر ان کا جائزہ لیتے ہیں کہ یہ روح و جسم میں متضمن تو نہیں ہے۔ گر ایقان ہو جائیں تو برخواست کریں نہیں تو خائف و مفکر بنیں کہ کہیں شامل نہ ہو جاؤں ۔
✍️: ماجد کشمیری
دوسروں کی تباہی کا ذریعہ مت بنیں
امابعد! لوگوں کی باتوں کی پرواہ نہ کریں، اپنی بنیاد اتنی مضبوط کریں کہ کوئی اسے تباہ نہ کرسکے۔ اپنی زندگی کو دوسروں کے اثرات سے آزاد رکھیں۔ لوگ آپ سے کہیں گے کہ پیچھے ہٹ جاؤ، ہمارا ساتھ دو، ہم اہلِ حق ہیں۔ لیکن آپ تحقیق کریں، ثبوت کے پیچھے جائیں اور حق کے متلاشی بنیں۔ جنہیں معیارِ الٰہی پر پرکھا گیا ہو، ان کی پیروی کریں۔ اپنے آپ کو دوسروں کی تباہی کا ذریعہ نہ بنائیں اور نہ دوسروں کو اپنی تباہی کا سبب بننے دیں۔ ڈریں اس قہرِ الٰہی سے، جس کی پناہ زمین و آسمان مانگتے ہیں، اور اس عذاب سے جس کے آگے قارون بھی سرِ تسلیم خم کر گیا تھا۔
جب ہم اپنی شرم و حیا کھو دیتے ہیں تو اپنی بربادی کے ساتھ دوسروں کی تباہی کا باعث بھی بن جاتے ہیں۔ جیسے اگر کسی دریا یا نہر کے پانی کو روک دیا جائے تو وہ زرخیز زمینوں تک نہیں پہنچ سکے گا، جس سے فصلیں خراب ہو جائیں گی، کھانے کی قلت ہو جائے گی، اور معیشت پر برا اثر پڑے گا۔ بعینہ، جب گناہ کیا جاتا ہے تو اس کا اثر صرف فرد تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب گناہ اجتماعی صورت اختیار کر لیتے ہیں تو ان کی سزا بھی شدت اختیار کر جاتی ہے۔
جہالت میں رہنا بہتر ہے بنسبت اس کے کہ انسان خود کو اَجہل بنا لے، کیونکہ کم از کم جہالت کا نقصان خود تک محدود رہتا ہے۔ لیکن اگر آپ اچھے معاشرے کی خواہش رکھتے ہیں جہاں اخلاقی، فلاحی، سیاسی، اور معاشی ترقی ممکن ہو، تو ہمیں تنہائی اور خفیہ طور پر گناہوں سے بچنا ہوگا۔ اور دوسروں کو بھی گناہوں سے بچنے کی نصیحت کرنی ہوگی۔
وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين۔
حجاب حکمِ الہیٰ ہے تو بس کر لو عمل
حجاب خواتین کے لیئے مخصوص نہیں ہے، بل کہ حجاب اپنے آپ کو خطرات سے اور دوسروں کو بھی مخطورات سے بچانے کا نام ہے، اور خطرہ دونوں پر لائق ہوتا ہے۔ بلا تمیز الجنس، عورت کے حجاب کو مقدم اس لیئے کیا جاتا ہے کیوں کہ یہ مرد کے باحجاب رہنے کے باوجود بھی اس سے بے حجاب کرتا ہے۔ اس لیئے جب بھی پردے کا تذکرہ ہوتا ہے، تب ذہن منعطف ہوتا ہے عورت کے پردے کی طرف، پر صرف اس کی طرف ذہن کا جانا اور یہ سمجھنا کہ فقط حجاب عورت کے لیئے ہے تو یہ غلط فہمی کے ورے کچھ نہیں، گر عورت کے ستر کو حجب کرنا لازم ہے، وہیں مرد کے لیے متعین جسم کا اخفا بھی لازم ہے۔ گویا نگاہوں کو نیچے کرنے کا حکم مشترک ہے، کلام میں اجنبی کے لیے مٹھاس نہ رکھنا مشترکہ طور پر حکم ہے۔ ناورا تعلقات کے سدِباب سے بھی خود کو محفوظ کرنا امرِ یکساں ہے۔عرض حجاب کرنا دونوں کے لئے لازمی ہے۔ جس سے یہ اعتراض بھی رفع ہوتا ہے کہ صرف خواتین کو حجاب کیوں ہے، جب ہے ہی نہیں مختص، بل کہ ہے مشترک، اعتراض کبھی من میں ہوتا، کبھی غیر قوم کے افراد کرتے ہے، پر بنتا نہیں ہے۔
حکمِ حجاب اور ہم: مرد کا ستر ناف کے متصل نیچے سے لے کر گھٹنے تک ہے، گھٹنے ستر میں شامل ہیں، پر اگر اسے ہی رجل ڈھانپ لیں تو عرف میں وہ ننگا ہی سمجھا جاتا ہے۔ کیوں کہ تقاضائے تلبیس ہے پورے، جسم کی پوشیدنی۔ بعینہ عورت کی تلبیس کا مسئلہ ہے، عورت کا پورا بدن سوائے تین اعضا کے ستر ہے، ان ہی اعضاء ثلاثہ کا حجاب ہے اجنبیوں سے ۔ ہم اس سے ہی غفلت بھرتے ہیں جو کہ صحیح نہیں ہے۔
حکمِ قرآن ،اعضاء ثلاثہ پر: حجاب ہے اجانب سے ( جس میں متضمن ہے بسسبِ عافیت محارم سے بھی حجب) تو کیوں ہم اکتفا کریں ستر پر ہی، جب کہ وارد ہوا ہے قرآن مجید میں: یدنین علیهن من جلابیبهن۔ ہم سے زیادہ بہتر سمجھتے ہے قرآن مجید کو، اس کے اولین مخاطبین رضوان اللہ علیہم اجمعین، تو روایت ملتی :
’’ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہ جب عورتیں کسی ضرورت کے تحت اپنے گھروں سے نکلیں تو انہیں اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا ہے کہ وہ بڑی چادروں کے ذریعہ اپنے سروں کے اوپر سے اپنے چہروں کو ڈھانپ لیں اور صرف ایک آنکھ کھلی رکھیں اور محمد بن سیرین ؒ فرماتے ہیں کہ میں نے عبیدۃ السلمانی سے اللہ تعالیٰ کے ارشاد : {یدنین علیهن من جلابیبهن} کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے اپنے سر اور چہرہ کو ڈھانپ کر اور بائیں آنکھ کھول کر ا س کا مطلب بتلایا‘
یہ عہدِ صحاب کا زمانہ تھا جس میں فتنہ کا اندیشہ بہت کم ہوتا تھا، اس کے برعکس آج کے پر فتنہ درو میں خواتین اس پر عمل کرنا کی کوشش کرنی چاہیے: کہ وہ اپنی گھروں میں ہی رہیں صرف ضروریات کے لیئے مع حجاب نکالیں۔
حجاب کی ضرورت کیا ہے؟ کوہِ نور کو چھپانے کی کیا ضرورت ؟ وہیں عورت کو چھپانے کی حاجت ہے۔ میٹھائی پر احاطہ (کاور) نہ ہو تو مکھیاں اس پر حصار کر لیتی ہے۔ بعینہ عورت پردہ نہ کریں تو عریاں مرد کی خبیث نظروں کا شکار ہوتی ہے۔ شیطانی وسوسہ آ سکتا ہے کہ رجال اپنی نگاہوں کو پاک کریں تو پردے کی حاج نہیں۔ مٹھائی نہ خود اور نہ اس کا مالک اس پر مکھیاں برداشت کرسکتا ہے نہ مناسب سمجھتا ہے۔ پر برہنہ ہوگئی تو مکھیاں بیٹھ ہی جاتی ہے۔ اس سے حصارِ ناساز کے تحفظ کے لیے۔
اسلام کی ثقافت میں مندرجہ ذیل واقعات کی نظیریں بہتات ملتی ہے جیسے: ابودائود۱ کی روایت میں ہے: ایک عورت کا لڑکا جنگ میں شہید ہوگیا، تو تحقیق کے لیے اس کی والدہ برقع کے ساتھ پورے پردے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، مجلس میں موجود صحابۂ کرام تعجب سے کہنے لگے کہ اس پریشانی میں بھی نقاب نہیں چھوڑا، صحابیہ عورت (رضی اللہ عنہا )نے جواب دیا کہ میرا بیٹا گم ہوگیا میری شرم وحیا تو نہیں گم ہوئی۔ (ابودائود۱/۳۳۷)
ان عظیم الشان ماں کی عظَمت پر فجر ہے اور سبق ہے کہ کوئی بھی حالت ہو حکمِ خداوندی کو پال نہیں کیا جاسکتا ہے۔ یہ فکر تھی انہیں اپنی آخرت کی، فکر تھی انہیں کہ کہیں میں سماج کی تباہی کا سبب نہ بن جاؤ۔ جس ماحول میں میرے اولاد پناہ گزین ہے، جس سوسائٹی میں میری بیٹی کل ان نجس و مہلک نظروں سے آتش زدہ ہوگئی۔
م بھی فکر و عزم کریں کہ ہم باحیا والدین اور اخلاف بنے۔ اول خویش بعد درویش، آپ حجاب کریں آپ کے ساتھ آپ کی سہیلی اور اس سے،اس کی دوشیزہ، ضرب کے عمل کے ساتھ، یہ سلسلہ کاروان بنتا چلا جائے گا۔ اور اس کے مصدر یعنی آپ کو اس کا اجر و ثواب کونین میں ملتا رہے گا، فقط آپ آغاز کریں عزمِ مصمم سے کہ اب صرف مجھے کرنا اس کارِ خیر کا عنفوان اور بن جائیں حضرت سیدہ فاطمتہ الزہرا رضی اللہ عنہا کے ساتھ جنت کے باشندوں میں سے۔ بس عمل کے لیئے الفاظ کی ضرورت نہیں عشقِ الہیٰ اور توفیق من جانب اللہ ہونی چاہئے، چہ جائے کہ نعمت و عافیت عامیانہ حاصل نہیں ہوتی ہے۔ اللہ، اس بات کو اعنی حکمِ ربی کو سمجھنے کی صلاحیت دیں، پھر اس پر مع دوام عمل کرنے کی توفیق دیں۔ آمین یا رب العالمین۔
ماجد ابن فاروق کشمیری
فرشتے کی دو پلکوں کی مابین پانچ سو سال کی مسافت کی حقیقت و تحقیق
السلام_علیکم_ورحمۃ_وبرکاتہ
سلسلۃ_تخریج_الاحادیث_نمبر_١٩
بسم_اللہ_الرحمن_الرحیم
أن ألله ملكأ مأبين شفري عينيه مسيرة خمس مأئة عأم۔
ترجمہ: اللہ تعالیٰ کا ایک فرشتہ اتنا بڑا ہے کہ اس کی دونوں آنکھوں کے پلکوں کے مابین سو سال کی مسافت کے برابر فاصلہ ہے۔
اس حدیث کے بارے میں ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں :-
لم یوجد لہ اصل
[المصنوع فی معرفۃ الحدیث الموضوع: ص:٦٧،رقم:٦٣]
نیز امام عجلونی رحمۃ اللہ علیہ اور علامہ قاو قجی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اس روایت کو موضوع قرار دیا ہے ہیں۔
[بالترتیب دیکھیں:
(کشف الخفاء ١/٢٢٨،رقم:٧٧٣.)
(اللؤلؤالمرصوع:رقم:١١١)
ألشيخ عثمأن أبن ألمكي ألتوزري ألزبيدي يكتب في كتأبه[ ألقلأئد ألعنبرية علي ألمنظومة ألبقونية]
مثأله : أن لله ملكأ مأ بين شفري عينيه مسيرة خمس مأئة عأم . قأل ألقأري : لم يوجد له أصل . ومنه : أن شيطأنأ بين ألسمأء وألأرض ، يقأل له : ألولهأن ، معه ثمأنية أمثأل ولد آدم من ألجنود وله خليفة يقأل له : خنزب ، قأل أبن ألجوزي : موضوع . أنظر : ألمصنوع في معرفة ألحديث ألموضوع ، ص 65 و 67
اسی طرح امام الغزالی نے اس روایت کو نقل کرکے فرمایا۔
لم ارہ بھذا اللفظ۔
[احیاء علوم الدین ص ٥٠١]
الامام ابی عبد اللہ الحارث بن اسد المحاسبی اپنی کتاب میں اس سند کے ساتھ لکھتے ہیں:- سبق تخریجہ
حدثني يحيي بن غيلأن قأل : حدثنأ رشدين بن ألسمع ، عن أبن عبأس بن ميمون أللخمي ، عن أبي قبيل ، عن عبد ألله بن عمرو بن ألعأص ، عن ألنبي أنه قأل : ألله عز وجل ملك مأ بين شفري عينيه مأئة عأمة .
عبد الرحیم بن الحسین العراقی المحقق نے بھی اس روایت کو من گھڑت قرار دیا ہے، لکھتے ہیں ۔لم ارہ بھذا اللفظ ( فی تخریج الاحیاء ٢٧٦/٥)
لہذا اس روایت کو بطور حدیث اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نسبت کرکے بیان کرنا درست نہیں ہے۔
جمع و ترتیب : ماجد ابن فاروق کشمیری
سجدہ سہو کا طریقہ اور اس کے دلائل
باب ما جاء فی سجدتی السہو قبل السلام
عن عبد اللہ ابن بحینہ الاسدی بحینہ ان کے والد کا نام ہے (قبل اسم ابیہ) اور والد کا نام مالک ہے، لہذا عبداللہ ابن بحینہ (رضی اللہ عنہ) میں ابن کا ہمزہ لکھنا ضروری ہے، کیونکہ الف صرف اس صورت میں ساقط ہوتا ہے جبکہ علمین متناسلین کے درمیان ہو،
فلما اتم صلوتہ سجد سجدتین یکبر فی کل سجدۃ وہو جالس قبل ان یستم، اس مسئلہ میں اختلاف ہے کہ سجدہ سہو سلام سے پہلے ہونا چاہئے یا بعد میں، حنفیہ کے نزدیک سجدہ سہو مطلقاً بعد السلام ہے، اور امام شافعی (رحمہ اللہ) کے نزدیک مطلقا قبل السلام،
جبکہ امام مالک ( رحمہ اللہ) کے نزدیک یہ تفصیل ہو کہ اگر سجدہ سہو نماز میں کسی نقصان کی وجہ سے واجب ہوا ہے تو سجدۂ سہو قبل السلام ہو گا، اور اگر کسی زیادتی کی وجہ سے واجب ہوا ہے تو بعد السلام ہو گا۔ ان کے مسلک کو یاد رکھنے کے لئے اس طرح تعبیر کیا جاتا ہے کہ ”القاف بالقاف والدال بالدال“ یعنی ”القبل بالنقصان والبعد بالزیادۃ " امام احمد ( رحمہ اللہ) کا مسلک یہ ہو کہ آنحضرت صلی علیہ وسلم سے سہو کی جن صورتوں میں سجود قبل السلام ثابت ہے وہاں قبل السلام پر عمل کیا جائے گا، مثلاً حدیثِ باب میں قعدہ اولیٰ کے ترک پر، اور جہاں آپ سے بعد السلام ثابت ہے، ان صورتوں میں بعد السلام پر عمل ہوگا، مثلاً چار رکعت والی نماز میں دو رکعت پر سلام پھیر دینے کی صورت میں کما فی حدیث ذی الیدین ( جامع ترمذی ( ج ۱،ص ۷۸) باب ما جاء فی الرجل یسلم فی الرکعتین الظہر و العصر) اور جن صورتوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ ثابت نہیں وہاں امام شافعی ( رحمہ اللہ) کے مسلک کے مطابق قبل السلام سجود ہو گا، امام اسحق (رحمہ اللہ) کا مسلک بھی یہی ہے، البتہ جس صورت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ ثابت نہ ہو وہاں وہ امام مالک ( رحمہ اللہ کے مسلک کے مطابق ”القاف بالقاف و الدال بالدال“ پر عمل کرتے ہیں ، بہر حال ائمہ ثلاثہ کسی نہ کسی صورت میں سجدہ سہو قبل السلام کے قائل ہیں، جبکہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ ہر صورت میں بعد السلام پر عمل کرتے ہیں، یہاں یہ ذہن میں رہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل السلام اور بعد السلام دونوں طریقے ثابت ہیں، اور یہ اختلاف محض افضلیت میں ہے، ائمہ ثلاثہ کا استدلال حضرت عبداللہ ابن بحینہ رضی اللہ عنہ کی حدیثِ باب سے ہے، جس میں آپ نے قعدہ اولیٰ چھوٹ جانے کی وجہ سے قبل اسلام سجدہ فرمایا،
اس کے برخلاف حنفیہ کے دلائل مندرجہ ذیل ہیں:-
۱۔ اگلے باب (باب ماجاء فی سجدتی السہو بعد السلام والکلام) میں حضرت عبد اللہ بن مسعود کی حدیث آرہی ہے، ”ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم صلی الظہر خمسا فقیل لہ ازید فی الصلوۃ ام نسیت فسجد سجدتین بعد ما سلم “ قال ابو عیسی ہذا حدیث حسن صحیح،
٢. ترمذی کے سوا تمام صحاح میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے:
واذا شک احدکم فی صلاتہ فلیتحرّ الصواب فلیتم علیہ ثم یسلم ثم یسجد سجدتین {( اللفظ للبخاری) انظر الصحیح البخاری ج ۱ ص ۵۷و ۵۸ ، کتاب الصلاۃ باب التوجہ نحو القبلۃ حیث کان، والصحیح مسلم (ج ۱ ص (۲۱۱و۲۱۲) باب السہو فی الصلوۃ والسجود لہ و السنن للنسائی (ج ۱ (ص ۱۸۴) کتاب السہو باب التحری، سنن لابی داؤد ( ج ۱، ۱۴۶) باب اذا اصلے خمسا و سنن لابن ماجہ (ص۸۵) باب ماجاء فیمن سجد ہما بعد السلام ۱۲رشید اشرف نفعہ اللہ بما علمہ و علمہ ما ینفعہ،}
(۳) ابو داؤد {(ج ۱ ص۱۴۸ و ۱۴۹) باب من نسی ان یتشہد و ہو جالس} اور ابن ماجہ {(ص۸۵) باب ما جاء فیمن سجدھا بعد السلام} میں حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے :- ” لکل سہو سجدتان بعد ما یسلم“ اس پر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ اس حدیث کا مدار اسمٰعیل بن عیاش پر ہے، جو ضعیف ہے،
اس کا جواب یہ ہے کہ اسماعیل بن عیاش حفاظِ شام میں سے ہیں، اور ان کے بارے میں پیچھے یہ قول فیصل گزر چکا ہے کہ ان کی روایات اہلِ شام سے مقبول ہیں، غیر اہلِ شام سے نہیں، اور یہ حدیث انھوں نے عبداللہ بن عبید اللہ الکلاعی سے روایت کی ہے ، جو اہلِ شام سے ہیں، لہذا یہ حدیث مقبول ہے،
(۴) سنن نسائی {(ج ۱ ص۱ ۸۵)، باب التحری ، کتاب السہو و سنن ابو داؤد {( ج ۱ ص ۱۴۸) باب من قال بعد التسلیم) میں حضرت عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ علیہ وسلم کی روایت مروی ہیں: ” قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من شک فی صلاتہ فلیسجد سجدتین بعد ما یسلم،
(۵) ترمزی (ص(۷۳) میں پیچھے باب ماجاء فی الامام ینہض فی الرکعتین ناسیا“ کے تحت حضرت شعبی کی روایت گزر چکی ہے ، ”قال صلی بنا المغیرۃ بن شعبۃ فنہض فی الرکعتین فسبخ بہ القوم وسبح بہم فلما قضی صلوٰتہ ملم ثم سجد سجدتی السہو، وہو جالس ثم حدثہم ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فعل بہم مثل الذی فعل ..... اس روایت میں بھی سجدہ سہو بعد السلام کی تصریح ہے،
(۶) حضرت ذوالیدین کے واقعہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ سلم کا عمل سجدۂ سہو بعد السلام بتلایا گیا ہے، چناں چہ اس واقعہ میں یہ الفاظ مروی ہے: فصلی اثنتین اخریین ثم سلم ثم کبر فسجد الخ { ترمذی (ج ۱ ص ۷۸) باب ما جاء فی الرجل یسلم فی الرکعتین من الظہر و العصر}
حنفیہ کے ان دلائل میں قولی احادیث بھی ہیں اور فعلی احادیث بھی، اس کے بر خلاف ائمۂ ثلاثہ کے پاس صرت فعلی احادیث ہیں، (جو جواز پر محمول ہیں) لہذا حنفیہ کے دلائل راجع ہوں گے ، اور حضرت عبداللہ ابن بحینہ کی حدیثِ باب کا جواب یہ ہے کہ وہ بیانِ جواز محمول ہے، نیز یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس میں قبل السلام سے مراد وہ سلام ہو جو سجدہ سہو کے بعد تشہد پڑھ کر آخر میں کیا جاتا ہے،
”ویقول (ای الشافعی) ہذا الناسخ لغیرہ من الاحادیث و یذکر ان آخر فعل النبی صلی اللہ علیہ وسلم کان علی ہذا “ اس کا مطلب یہ ہے کہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک بعد السلام کی روایات منسوخ ہیں، اور وہ اُن کے لئے حضرت عبداللہ ابن بحینہ رضی اللہ عنہ کی حدیثِ باب کو ناسخ مانتے ہیں،
لیکن نسخ کا دعویٰ صحیح نہیں اور محتاجِ دلیل ہے جبکہ یہاں کوئی دلیل نہیں، اگر چہ امام شافعی رحمہ اللہ نے نسخ کی دلیل میں امام زہری کا قول¹ نقل کیا ہے کہ سجود قبل السلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری عمل تھا“ ، لیکن امام زہری کا یہ قول منقطع ہے ، علاوہ ازیں یحییٰ ابن سعید قطان کے بیان کے مطابق امام زہری کی مراسیل شبہ لاشی²“ ہیں، لہذا اس سے نسخ پر استدلال نہیں کیا جا سکتا،
¹ عن الزہری قال سجد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سجدتی السہو قبل السلام وبعدہ و آخر الامرین قبل السلام، لیکن خود علامہ ابوبکر حازمی شافعی ” کتاب الاعتبار فی بیان الناسخ والمنسوخ من الآثار“ (ص ۱۱۵) باب سجود السہو بعد السلام والاختلاف فیہ کے تحت امام زہری کے مذکورہ قول کو نقل کرنے کے بعد آگے چل کر فرماتے ہیں ”طریق الانصاف ان نقول اما حدیث الذی فیہ دلالۃ علی النسخ ففیہ انقطاع فلا یقع معارض اللاحادیث الثابتۃ واما بقیۃ الاحادیث فی الجود قبل السلام و بعدہ قولاً وفعلاً فی ان کانت ثابتۃ صحتہ فیہا نوع تعارض غیر ان تقدیم بعضہا علی بعض غیر معلوم بروایۃ موصولۃ مسحۃ والاشیہ جمل الاحادیث علی التوسع وحواز الامرین “ احقر الورٰی رشید اشرف غفر اللہ ۔۔۔۔
² کذا فی معارف السنن (ج ۳ ص (۴۹۱) نقد من الخطیب فی الکفایۃ ۱۲ مرتب عفی عنہ
درس ترمذی: ص۱۴۳و۱۴۶
للتفصيل رجوع للكتاب المذكوره
برقی جمع و ترتیب ماجد ابن فاروق کشمیری
ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر تصور کریں، ایک ایسا شخص جو خوشحال زندگی کے ہر پہلو سے نوازا گیا تھا۔ والدین کی دعاؤں کے سائے، دو بیٹے جو جوان ہوکر کما...
|
ہر قدم کو رکھنے کے پیچھے آگے بڑھنے کا ایک مقصد ہوتا ہے، بعینہٖ ہر عمل کے پیچھے کوئی نہ کوئی سبب کار فرما ہوتا ہے۔ مسلمان کا دینی و اخلاقی فر...
|
|
Every step forward is driven by a purpose, and likewise, every action has a reason behind it. It is the religious and moral duty of a Muslim...
|
|
ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر تصور کریں، ایک ایسا شخص جو خوشحال زندگی کے ہر پہلو سے نوازا گیا تھا۔ والدین کی دعاؤں کے سائے، دو بیٹے جو جوان ہوکر کما...
|
|
اسوہِ نبوی کی ذمہ داریاں استاذ: وہ شخص ہے جس کی پوری زندگی متعلم کے لیئے صرف ہوتی ہے۔ گر ان کا متعلم فراغت حاصل کر بھی لے تب بھی تلمذیت سے ک...
|
|
رقص،موسیقی اور ثقافتِ اسلام Dance, Music and the Civilization of Islam رقص اور موسیقی آپس میں اس طرح لازم و ملزوم ہیں جیسے پانی اور مچھلی۔ ج...
|
|
حالتِ ناگفتہ سے مجبور نہیں مجھے وفورِ زنبور نہیں ہوں میں بے قصور نہیں بنا میں خالق کا مزدور نہیں مجھے کوئی سندور میں کیسے بناؤ گ...
|
|
السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ کچھ دن قبل ساتویں جماعت کی نصابی کتاب میں ایک واقعہ منسوب کیا گیا تھا نبی برحق ﷺ سے، جس میں ایک "عجوز...
|
|
علامہ انور شاہ کی عظمت کا نہیں جواب، حق کے علمبردار، تھے علم کے آفتاب۔ کادیانیت کے خلاف کھڑی کی دیوارِ کمال، حق و باطل کے بیچ کھینچی ایسی مث...
|
|
اعتکاف: خلوت میں جلوت کا راز اسے کیسے گزاریں! اے اہلِ اعتکاف! خوش نصیبی کے دیپ جلا لو کہ تمہیں وہ لمحے میسر آئے ہیں، جن میں رحمتیں برستی ہیں...
|
|
اللہ تعالیٰ کی قدرت اور جدید ٹیکنالوجی DNA The creation of Allah جدید دور میں ٹیکنالوجی کی ترقی حیران کن ہے۔ ہر روز نئی ایجادات، تیز رفتار ک...
|
© 2023 جملہ حقوق بحق | اسلامی زندگی | محفوظ ہیں